65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 17)

Junoniyat By Areej Shah

پتا ہے آج بی اے اور بی ایس سی والوں کے پیپرز آئے ہیں کالج میں اور وہ لوگ نہ سیدھا پیپر سیکریٹ روم لے گئے ہیں۔

اور اس طرف کسی کو بھی جانے کی اجازت نہیں ہے کوئی بھی وہاں نہیں جا سکتا یہاں تک کہ اس کالج کے ٹیچرز تک نہیں کیونکہ پچھلی دفعہ ٹیچرز نے بےایمانی کی تھی کچھ پیپرز لیک ہو گئے تھے

اس دفعہ وہ لوگ کسی بھی چیز پر رسک نہیں لیں گے یہاں تک کہ ٹیچرز اسٹاف کو اس طرف جانے کی پرمیشن نہیں ہے وہ دونوں ساری کلاسز لینے کے بعد باہر آ کر بیٹھیں تو میشہ اسے بتانے لگی وہ بھی کافی دلچسپی سے سن رہی تھی

مطلب کے پیچھے سال پیپرز کسی ٹیچر نے کیے تھے اسے جتنا سمجھ میں آیا تھا اتنا ہی اس نے سوال کر لیا تھا لیکن میشہ نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اس کے شک کی تصدیق کر دی تھی

ہاں یار سننے میں تو یہی آیا ہے کہ ٹیچرز نے بھی ساتھ مل کر بے ایمانی کی تھی ان کو بہت سارے پیسے ملے تھے جنہوں نے پیپر لیک کیے تھے

لیکن ان ٹیچرز کو کالج سے نکال دیا گیا تھا اس سال بھی شک ہے کہ اس طرح کی کوئی حرکت نہ کی جائے اسی لئے ہر چیز چھپا کر اندر لے کر گئے ہیں اور اس طرح کسی کو بھی جانے کی پرمیشن نہیں ہے

دفع کرو یار ہمیں کیا ہمارے پیپر ہونے میں تو ابھی دو مہینے باقی ہیں وہ بات کو ختم کرتے ہوئے بولی تو میشہ بھی کندھے اچکا گئی جب پیون نے آکر بتایا کہ اس کو لینے کے لئے اس کے گھر والے آچکے ہیں وہ اسے بائے کہتی وہاں اسے فوراً نکل چکی تھی

جب کہ اب اسے تقریبا ایک ڈیڑھ گھنٹہ یہی پر بور ہونا تھا ۔ایک تو اماں نے اتنا ہیوی ناشتہ کروا کر بھیجا تھا کہ اب اس سے کچھ کھانے کا بھی دل نہیں کر رہا تھا ورنہ وہ کینٹین چلی جاتی

°°°°°°°

وہ نہا کر واش روم سے باہر نکلی تو اسے زریام کی آواز سنائی دی وہ بیڈ پر ہانی کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھا جب کہ وہ اپنی توتلی زبان میں اس سے بہت ساری باتیں کر رہی تھی جس کا جواب بہت محبت سےدے رہا تھا

وہ ایک نظر انہیں دیکھتی آئینے کے سامنے آتے اپنے بالوں کو سکھانے لگی تھی جب کہ ہانی بہت غور سے اسے دیکھ رہی تھی

پھر اس نے بڑے ہی رازدارانہ انداز میں زریام کے قریب جھک کر اس کے کان میں کچھ کہا جس کی آواز اسے بھی آئی تھی

ان کے بال اتنے لانگ کیوں ہیں ہانی کے بال اتنے شارٹ کیوں ہیں ۔

کیونکہ ہانی اپنے بالوں میں کنگھی نہیں کرواتی جب بھی اس کی ماما اس کی کنگھی کرتی ہے تو رونا شروع کردیتی ہے اسی لئے اس کے بال لانگ ہی نہیں ہو رہے زریام بھی اسی کی طرح بچوں کے انداز میں جواب دیا تھا

نوہانی روز کنگھی کرے گی پھر ہانی کے بالوں میں لانگ ہو جائیں گے آنٹی کی طرح اس نےاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا جب کہ وہ بنا کچھ بھی بولے اپنے بال بنانے میں مگن رہی

آنٹی کچھ نہیں بولتی آنٹی نو لو ہانی وہ ہونٹ باہر کی جانب نکالتے ہوئے بولی تو عمایہ نے فوراً اس کی طرف دیکھا تھا جس پر ذرا سا مسکرایا

ہاں آنٹی نو لوز یو کیونکہ تم اس کو آنٹی بول رہی ہو وہ تم سے بات کیسے کرے وہ تمہاری آنٹی نہیں ہیں ذریام نے وجہ بتائی تھی جس پر اس نے فورا اپنا ہاتھ اپنے سر پر مارا

پھر فوراً ہی زریام کے سینے پر پیر رکھتے ہوئےبیڈ کے کنارے پر کھڑی اس کے قریب آ گئی

مامی ۔۔۔یو نو لوز ہانی ۔۔۔۔۔؟وہ پوچھ رہی تھی جبکہ اس کے مخاطب کرنے پر وہ اسے دیکھنے لگی اس نے اپنی سوچوں پر خوب لگام لگائی تھی لیکن پھر بھی جنت کے بارے میں کچھ غلط سوچنے سے خود کو روک نہیں پائی تھی

مامی صاحبہ جواب دیجیے میری بچی کو مجھے اور میری بھانجی کو انتظار کرنے کی عادت نہیں ہے زریام کو خود پیچھے سے بولنا پڑا تو اس نے مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر اسے اپنی بانہوں میں اٹھا لیا

نو مائی بچہ مامی لوز یو آلاوٹ اس نے بے حد محبت سے اس کے دونوں گالوں کو چوماتھاجس پر وہ چہک اٹھی تھی ۔

بس اب خوش مامی لوز یو ۔۔۔۔وہ ہنستے ہوئے اس کے بے حد قریب آتا عمایہ کی کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ان دونوں کے گرد حصار بناچکا تھا خود کو اس کے حصار میں محسوس کرتی وہ نگاہیں جھکا گئی تھی

جب اچانک اس نے اپنے گال پرہانی کے لبوں کو محسوس کیا

ہانی کی مامی بہت پیاری ہیں وہ خوشی سے اس سے کہتے ہوئے زریام کی گود میں چلی گئی تھی

جبکہ بالکل اسی کے انداز میں ذریام بھی اس کے دوسرے گال پر جھکتے ہوئے اپنے لب رکھ چکا تھا وہ اس کی اس بے باکی پر نگاہ تک نہ اٹھا سکی

ارے واہ ہانی کی مامی تو سچ میں بہت پیاری ہے وہ اس کو گدگداتا ہوا کمرے سے باہر لے گیا تھا جبکہ اس کے مونچھوں کالمس اپنے گال پر محسوس کرتے ہوئےوہ شرم سے سرخ ہو چکی تھی

°°°°°°

کیاتم ایک ایسی لڑکی کے لئے مرنے جا رہے تھے جس نے تمہارے محبت کی قدر تک نہیں کی بلکہ تمہیں اپنے سارے دوستوں کے سامنے صرف اس لئے ذلیل کیا کیوں کے اس بدصورت دل والی کو لگتا ہے کہ تم خوبصورت نہیں ہواور اس کے قابل نہیں ہو حد ہےمحبت چہرہ دیکھ کر نہیں کی جاتی

مجھے تو اس سے زیادہ تم پر غصہ آ رہا ہے تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایک مطلبی عورت کی وجہ سے تم اپنی زندگی ختم کرنے جارہے تھے

انتہا ہوتی ہے بے وقوفی کی وہ اسے اپنے ساتھ ہوٹل میں لے آئی تھی اور اب اس کے ساتھ بیٹھی اسے باتیں سنا رہی تھی شکر ہے کہ وہ اس کی خودکشی والی کوشش کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوئی تھی

یہ کوئی مذاق نہیں ہے میری زندگی ہے اس لڑکی نے مجھے اپنی محبت کا یقین دلا کر یہاں بلایا ہم دونوں یہاں آئے تو اس کی باقی کے ٹیم کے ممبر بھی پیچھے پیچھے یہاں گئے

مجھے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ ان لوگوں نے گھٹیا شرط لگا کے رکھی ہے وہ صرف میری محبت کی توہین کرنا چاہتے تھے ان لوگوں نے سب نے مل کر مجھے بیوقوف بنایا وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی تھی صرف ڈرامے کر رہی تھی میرے ساتھ

میرے پاس اپنی زندگی کی جمع پونجی وہ بیس لاکھ روپے تھے جو میں نے اس لڑکی پر برباد کر دیے اب جب اسے پتہ چلا ہے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا وہ مجھے دھوکا دینے پر آگئی اس کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی مجھ سے محبت نہیں کی بلکہ یہ سب ان کی شرط کا حصہ تھا

وہ صرف دیکھنا چاہتے تھے کہ میں اس لڑکی کی محبت میں کتنا گر سکتا ہوں کتنا آگے جا سکتا ہوں کی وجہ سے میں نے سب کچھ برباد کر دیا اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ دی اپنا کام چھوڑ دیا

لڑکی مجھے جہاں کہتی میں اسے وہاں لے کر جاتا تھا اور اس نے مجھے دھوکا دیا اب میرے پاس جینے کی کوئی وجہ باقی نہیں بچی ان لوگوں نے مجھے سب نے مل کر بہت ذلیل کیا ہے میرا تو دوبارہ ان سے ملنے کا ان کو دیکھنے تک کا دل نہیں کر رہا

میرے پیسے پہ عیش کر رہے ہیں وہ لوگ وہ کہتے ہیں کہ میں یہاں سے چلا جاؤں کیونکہ یہاں میرا کوئی کام نہیں ہے لیکن وہ لوگ انجوائے کرنے کے بعد جائیں گے

کیونکہ یہ شرط لگی ہوئی تھی کہ مجھے بے وقوف بنانے کے بعد وہ اپنی چھٹیاں کیسے گزاریں گے میں اس سے نگاہ تک نہیں ملا پا رہا میں اپنا کیریئر اپنا فیوچر سب برباد کر چکا ہوں اس لڑکی کے پیچھے میرے پاس کچھ بھی نہیں بچا تک بہت پریشان تھا۔

سمجھ سکتی ہوں تم بہت زیادہ پروبلم میں ہو لیکن پھر بھی خودکشی کوئی حل نہیں ہے جو تم کر رہے ہو بہت غلط ہے تمہیں اس لڑکی کو دکھانا چاہیے کہ اس کے چھوڑ کر چلے جانے کے بعد میں تمہاری زندگی پر کوئی برا ایفیکٹ نہیں پڑا بلکہ تم اپنی زندگی میں بہت خوش ہو اور تم آگے بڑھو گے میں جانتی ہوں میں بیوقوفوں والی باتیں کر رہی ہوں اور شاید تم مجھے پاگل سمجھ رہے ہو گے

لیکن اب میں تمہارے سامنے اپنی زندگی کا رونا رو کر تمہارے دکھ کو چھوٹا بڑا کرنے کی کوشش نہیں کرسکتی

تمیں اس لڑکی سے بدلہ لینا چاہیے کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگتا ہے کوئی تمہارے پیسے پر عیش کرے تمہاری ذات پر شرط لگائے اور تم خود کشی کر کے مر جاؤ یہ کہاں کا انصاف ہے

تمہیں اسے احساس دلانا ہو گا کہ جس طرح سے تمہارا دل ٹوٹا ہے اس طرح کوئی اس کا بھی دل توڑ سکتا ہے تکلیف کا احساس ہر احساس پر بھاری ہوتا ہے وہ اسے سمجھا رہی تھی جب کہ وہ تمسخرانہ انداز میں مسکرا دیا

تم سچ میں بچی ہو نادان ہو لڑکی ان معاملوں کو نہیں سمجھ سکتی کون دھوکا دے کا اسے اس کو دیکھ رہی ہو کتنی خوبصورت لڑکی ہے وہ کوئی پاگل ہی ہوگا جو اس جیسی لڑکی کو انکار کرے گا

ایسا تمہیں لگتا ہے مجھے نہیں وہ اسے دیکھتے ہوئے باہر دروازے کی جانب دیکھنے لگی جہاں کتا اور اس کا مالک بہت خوشگوار وقت ایک دوسرے کے ساتھ گزار چکے تھے سننے میں آیا تھاکہ اس آدمی کو لڑکیوں سے الرجی ہے۔اس نے مسکرا کر شائزم کی طرف اشارہ کیا

°°°°°°

اسلام علیکم وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے آگے دیکھنے لگی جہاں آج حرم نہیں تھی

وعلیکم سلام خداش اسے جواب دیتا گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا

حرم کہاں ہے آج آپ اسے نہیں لے کر آئے اس نے پوچھا تھا جب کہ وہ اپنے کان میں لگے بلوٹوتھ کی طرف اشارہ کرتا اسے خاموش رہنے کے لیے ہونٹوں پر انگلی رکھ چکا تھا

جی جی مسٹر خالد میں سن رہا ہوں تو بتائیں وہ گاڑی فل سپیڈ میں آگے بڑھاتے ہوئے بولا جب کہ وہ پچھلی سیٹ پر خاموشی سے بیٹھے ہوئے اس کی کال ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی وہ تو اسے بعد میں لینے آتا تھا پہلے حرم کو لینے جاتا تھا تو حرم کہاں تھی

وہ کافی دیر سے اسےکچھ نہ کچھ بولتے ہوئے سنتے رہیں اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا تھا وہ راستہ لمبا کر چکا تھا لیکن ایسا کیوں اسے سمجھ نہ آیا

پھر ایک جگہ گاڑی روکی اور گاڑی سے نکل گیا وہیں باہر رک کر کتنے دیر اس کا انتظار کرتی رہی اندر ہی اندر غصے سے اس کا برا حال ہو رہا تھا جب کہ خداش کاظمی کی تو اپنے ہی دھن میں وہاں سے کوئی فائل لیتے ہوئے تیزی سے واپس آیا اور ایک بار پھر سے اپنی بلوٹوتھ کانوں کے ساتھ لگانے لگا

میں آپ سے پوچھ رہی ہوں کہ حرم کہاں ہے اور آپ مجھے جواب نہیں دے رہے اس سے پہلے کہ بلوٹوتھ لگاتا وہ بولنے لگی تھی اس نے ایک نظر اسے دیکھا

اس کو ہی لینے جارہے ہیں اب چپ وہ بلوٹوتھ کان کے ساتھ لگاتا ایک بار پھر سے باتوں میں مصروف ہوگیا تھا جبکہ اس کا انداز اسے بہت برا لگ رہا تھا وہ اس کی بےعزتی کر رہا تھا اسے اگنور کر رہا تھا یا پھر وہ سچ مچ میں مصروف تھا لیکن غصے سے اس کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا

°°°°°°

وہ کافی دیر سے انتظار کر رہی تھی آہستہ آہستہ سب سٹوڈنٹ جا رہے تھے کالج میں بہت کم سٹوڈنٹ تھے

جب کہ وہ باہر بیٹھی اپنے ہی کتابوں کے کچھ نوٹس بنانے میں مصروف تھی جب اس کا دھیان سامنے سے جاتے یشام سر کی طرف گیا تھا وہ سیدھا سیکرٹ روم کی طرف جا رہے تھے جہاں پیپرز رکھے تھے لیکن بالکل چھپا کر

وہ ایسا کیوں کر رہے تھے کیا یہ بھی انہیں ٹیچر میں سے تھے جو پیسے لے کر بچوں کا فیوچر بیچ دیتے ہیں وہ پریشانی سے اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی اس کے سامنے وہ کالج کی دوسری گلی کی طرف چلے گئے جہاں پر کالج کے ضروری ڈوکومیٹس چھپاکر رکھے جاتے تھے اس نے اپنے قدموں کی رفتار تیز کر لی تھی

اس نے سوچ لیا تھا اگر سریشام نے ایسی کوئی بھی گھٹیا حرکت کی وہ ان کو ایکسپوز کر دے گی وہ سب کے سامنے ان کی حقیقت کھول کر رکھ دے گی وہ کسی سے یہ بات نہیں چھپائے گی

کسی کو پیسے کے بدولت کامیاب نہیں ہونے دے گی کامیابی صرف محنت کرنے والوں کو ملتی ہے اور اس بات پر وہ یقین رکھتی تھی اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ سر کو بے ایمانی ہرگز نہیں کرنے دے گی

اس نے سر کے پیچھے جاتے ہوئےان کو رنگے ہاتھ پکڑنے کا ارادہ رکھتی تھی لیکن وہ اچانک غائب ہو گئے وہ کہاں چلے گئے اسے کچھ سمجھ نہ آیا وہ آگے کی طرف بڑھ گئی تھی

لیکن سر کہیں پر بھی نہیں تھے اور کہاں چلے گئے تھے وہ کہیں وہ پیپر چوری کرنے میں کامیاب تو نہیں ہوگئے نہیں ایسا نہیں ہو سکتا تھا اسے جلد سے جلد یہ بات پرنسپل سر کو بتانی چاہیے تھی وہ سوچتے ہوئے جلدی سے واپسی کی راہ لینے لگی جب اچانک کسی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اندر کی جانب گھسیٹا

اس سے پہلے کہ وہ چیختی کسی نے اس کے منہ پر سختی سے اپنا ہاتھ جما لیا وہ بڑی بڑی آنکھیں کھولے اپنے سامنے کھڑے اس وجود کو دیکھ رہی تھی جس کے لبوں پر گہری پرسرار مسکراہٹ تھی

ہیلو پرنسز کیا ہوا مجھے مس کر رہی تھی پیچھا کرنے کی کیا ضرورت تھی مجھے پکار لیتی میں خود آ جاتا تمہارے پاس وہ اس کے چہرے کے بالکل قریب اپنے ہونٹ ہلاتے سرگوشی نما آواز میں بول رہا تھا جبکہ حرم کا سارا وجود بری طرح سے کانپ رہا تھا

°°°°°°

دادا جان کے پانچ بیٹے تھے بیٹی نا تھی اور نہ ہی کوئی خواہش رکھتے تھے اس لیے یہ کمی کبھی محسوس بھی نہ ہوئی لیکن پوتیوں کے معاملے میں اور بہت امیر تھے اس کی چھ پوتیاں تھی اور پوتا صرف ایک اور آج وہ اس پوتے کا فصیلہ کر رہے تھے

یہ تو بہت اچھی بات ہے بابا جان مجھے کوئی اعتراض نہیں آپ کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر ثاقب صاحب خوشی سے بولے

دادا جان نے آج ان سب کو اپنے کمرے میں بلایا تھا جہاں انہوں نے خداش کی شادی کے بارے میں بہت اہم فیصلہ کرتے ہوئے ان سب کو سنایا تھا جہاں دیشم کے والدین یہ بات سن کر خوش ہوگئے تھے کہ وہ اپنے اکلوتے پوتے کے لئے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ رہے ہیں

وہی باقی سب کے لئے یہ بات کافی حیرت انگیز تھی دیشم جیسی بدزبان باغی بدتمیز لڑکی کو وہ اس گھر کی بہو بنا رہے تھے وہ تو سوچ رہے تھے کہ خداش کے لیےاگر گھر میں سے ہی کسی کا رشتہ مانگا گیا تو وہ دیدم یا سامیہ میں سے کوئی ایک ہوگی

لیکن یہاں تو نام ہی دیشم کا لیا جا رہا تھا جس کی امید کسی کو بھی نہیں تھی خاص کر راحت تایا تو اس رشتے کے لیے تیار ہی نہیں تھی تایا فی الحال تو ان کے سامنے کچھ بھی نہیں بول پا رہے تھے کیونکہ یہ ان کا فیصلہ تھا اور اس گھر میں ہمیشہ سے انہیں کے فیصلوں کا احترام کیا جاتا تھا

مجھے تو اس رشتے کی کوئی سمجھ نہیں آرہی کوئی جوڑ نہیں بنتا دونوں کا ایک تو دیشم کو دیکھیں ذرا وہ کون سے اینگل سے آپ کو خداش کے لئے ٹھیک لگ رہی ہے اس لڑکی کو بات کرنے کی تمیز نہیں ہے ثقلین چاچا کو بیچ میں بولنا پڑا تھا کیونکہ وہ خداش کے حوالے سے بہت ساری امیدیں لگائے ہوئے تھے

یہ فیصلہ ہم نے کیا ہے اور سب دیکھ بھال کر سوچ سمجھ کر کیا ہے تم ہمارے فیصلے میں بولنے کا کوئی حق نہیں رکھتے اس گھر کے سارے فیصلے ہم نے کیے ہیں اور آگے بھی ہم ہی کریں گے

اور ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم دیشم کو خداش کے نکاح میں دے دیں گے وہ فیصلہ سنا چکے تھے جہاں یہ فیصلہ ثاقب کاظمی کو پرسکون کر رہا تھا وہی ثقلین کاظمی اور راحت کاظمی کی پریشانی کی وجہ بن چکا تھا

راحت کاظمی دیشم جیسے لڑکی کو اپنے گھر کی بہو بنانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تھے وہی ثقلین کاظمی تو یہ دکھائے جا رہا تھا کہ ان کی بیٹیوں کو چھوڑ کر وہ خاندان کی سب سے بد تمیز لڑکی کے لئے یہ فیصلہ کر رہے تھے

اب سمجھ میں آیا مجھے آپ دیشم کی شادی خداش سے اس لیے کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس کی بد تمیزیاں خاندان کے اندر ہی رہ جائیں اور پورے خاندان میں ہمارے سر نہ کٹائے۔عالیہ بیگم ایک ادا سے بولی تھیں جبکہ دادا جان شاید ان سے ایسی ہی امید رکھتے تھے اسی لیے وہ حیران بھی نہ ہوئے

ٹھیک ہے ہم کون ہوتے ہیں آپ کے فیصلوں میں کچھ بھی کہنے والے آج لیکن ایک بات یاد رکھیے گا دیدم کا رشتہ بہت بڑے خاندان سے آیا تھا تب ہم نے اس امید میں یہ رشتہ ٹھکرا دیا تھا کے راحت بھائی گھر کی بچی کو باہر نہیں جانے دیں گے

ہم سب کو تو لگتا تھا کہ آپ منشا کے لئے خداش کا فیصلہ کریں گے لیکن نہیں تب تو کسی کو یاد نہ آیا کہ منشا بھی گھر کی بچی ہے اور وہ بھی تو ثاقب بھائی کی بیٹی ہے

تب کسی نے یہ نہ سوچا کہ منشا کی شادی خداش سے کر دیتے ہیں اور اب خداش سے سات سال چھوٹی دیشم کے لیے خداش کے بارے میں سوچا جا رہا ہے جبکہ دیدم اور خداش کی عمر کا فرق بھی کم ہے

ثقلین ہم اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں اب تمہاری بیوی فضول کی بحث کر رہی ہے ہم جلد سے جلد نکاح چاہتے ہیں اگلے دو ہفتوں میں دیشم کے ایگزام ہونے والے ہیں اس کے فورا بعد ہم شادی کر دیں گے اس سے پہلے پہلے نکاح کریں گے

تم اپنی بیٹی کو سمجھا دینا اس دفعہ انہوں نے ثاقب کاظمی کو دیکھا تھا انہوں نے فورا ہاں میں سر ہلایا تھا یہاں بیٹھے وہ اپنی بیٹی کی ذات پر کتنی باتیں برداشت کر چکے تھے

بس ان کے لئے اتنا ہی سکون کافی تھا کہ ان کی بیٹی انہیں کے گھر میں ساری زندگی کے لیے رہنے والی تھی وہ بدلحاظ تھی تھوڑی بدتمیز تھی لیکن دل کی بری نہیں تھی اور سچ یہی تھا کہ وہ انہیں بے حد عزیز بھی تھی وہ اسے خود سے دور نہیں کرنا چاہتے تھے

°°°°°°