Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 7)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 7)
Junoniyat By Areej Shah
کیا ہوا آج میرے شہزادے کا موڈ کیوں خراب ہے۔۔۔۔؟ خداش نے کمرے میں قدم رکھا تو دادا جان نے اس کی شکل سے اس کے غصے میں ہونے کا اندازہ لگا لیا تھا۔
کچھ نہیں تھا داداجان آج پھر یونیورسٹی پہنچتے پہنچتے بہت لیٹ ہو گیا تھا، دیشم اور حرم کو بہت انتظار کرنا پڑا۔
وہ ان کے پاس ہی بیٹھ کر ان کی میڈیسن نکالنے لگا تھا۔
تو میری جان میں نے تمہیں منع کیا تھا کچھ دن گھر پر رہ لیتیں وہ، تم نے بیکار میں اپنے سر یہ کام لیا ہے۔
میرا خیال ہے کچھ دن کے لیے ان کے کالج و یونیورسٹی بند کر دینی چاہیے میں نہیں چاہتا کے دشمنوں کی طرف سے کسی بھی طرح کا کوئی ایکشن ہو،
بےشک وہ لوگ اس دشمنی کو گھر کی حدود سے باہر رکھتے ہیں لیکن دشمن کو اپنی کمزوری سے دور رکھنا بہتر ہے۔
بات جب دشمنی پہ آتی تھی تب یہ لوگ اپنی عورتوں کی حفاظت کرتے تھے۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کی کمزوری ان کی عزت ہے۔
شاہ خاندان والوں کی طرف سے ابھی تک کچھ بھی الٹا سیدھا سامنا کرنے کو نہیں ملا تھا، لیکن اس بار بات کافی بڑھ گئی تھی۔
گھوڑے کی دوڑ کے بعد اچانک جس طرح سے باقر شاہ کا قتل ہوا تھا سب کو یہی لگتا تھا کہ اس کام میں کہیں نہ کہیں کاظمی خاندان کا ہاتھ ہے۔
وہ لوگ ان پر نظر رکھے ہوئے تھے بظاہر وہ بالکل مطمئن تھے لیکن پھر بھی وہ اپنی طرف سے انہیں کوئی موقع بھی نہیں دے سکتے تھے’
ان کے لیے سب سے عزیز ان کی عزت تھی،
حرم کے پیپرز ہونے والے تھے ایسے میں وہ اس کا کالج نہیں چھڑوا سکتا تھا اور دیشم تو اپنی ضد کی پکی تھی
وہ کبھی بھی اس کے کہنے پر یونیورسٹی جانا نہیں چھوڑنے والی تھی تو ایسے میں وہ خود ان کا ڈرائیور بنا ہوا تھا۔
کیونکہ گھر کی عورتوں کے معاملے میں وہ اپنے ملازم پر بھی یقین نہیں کر سکتا تھا پہلے دیشم ڈرائیور کے ساتھ آتی جاتی تھی، لیکن جب سے باقر شاہ کا قتل ہوا تھا۔
اس نے دیشم کو بھی اکیلے آنے جانے سے منع کر دیا تھا وہ خود ہی انہیں چھوڑنے جاتا تھا اور پھر لینے بھی جاتا تھا۔
جس کے لیے اکثر اسے اپنے بیچ میں بہت سارے اہم ترین کام کو ادھورا چھوڑنا پڑتا تھا اور کبھی کبھی کام نمٹا کر جانا پڑتا تھا۔
نہیں دادا جان حرم کے ایگزامز ہونے والے ہیں، وہ فی الحال چھٹیاں نہیں کرسکتی اور دیشم کو تو آپ جانتے ہی ہیں نہ فضول میں ضد باندھ لے گی۔
اور پھر اس کی وہی ساری فضول قسم کی گفتگو شروع ہوجائے گی کہ آپ مجھے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں وہ اس کی پرانی باتوں سے کافی عاجز آیاہوا تھا
وہ تو ہم تمہیں دیتے ہیں کیونکہ تم اہمیت کے قابل ہو اور وہ لڑکی دن بدن بدلحاظ ہوتی جا رہی ہے آج بھی یونیورسٹی جانے سے پہلے اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب تھی۔
تو چھوٹی بہو نے اسے جانے کے لیے منع کر دیا لیکن اس کی بد لحاظی کی تو کوئی انتہا ہی نہیں۔
ہماری بات مانو تو بیٹا اب بھی موقع ہے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی کسی بڑے امتحان میں مت ڈالو،یہ لڑکی بہت خطرناک ہےاور ضدی بھی۔
اچانک بات کرتے ہوئے وہ بات رخ دوسری طرف لے گئے تھے۔ جس پر خداش کاظمی کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آگئی وہ سمجھ چکا تھا کہ وہ پھر سے بات اس کی شادی پر لے آئے تھے۔
خطروں سے کھیلنا تو میرا فیوریٹ کام ہے دادا جان اور آپ فکر نہ کریں آپ کی ضدی پوتی کو لائن پر لانے میں مجھے زیادہ وقت نہیں لگے گا آپ کو اپنے پوتے کی قابلیت پر شک نہیں ہونا چاہیے وہ دلفریب انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔
ہمیں اپنے پوتے کی قابلیت پر کوئی شک نہیں ہے لیکن خون تو وہ بھی ہمارا ہے نہ ہم اس کی ضد پر بھی سوال نہیں اٹھا سکتے۔
وہ بھی مسکرا دیے تھے
دادا جان ضد تو ہمارے خون میں ہے اور اس لڑکی سے میرے اور بھی بہت سے حساب نکلتے ہیں۔
آپ فی الحال ان سب مسئلوں میں نہ پڑیں وہ مسکرا کر انہیں مطمئن کرتا
وہاں سے اٹھ کر باہر نکل آیا تھا جب کہ داداجان گہری سوچ میں تھے۔
دیشم کو وہ جب خداش کی بیوی کے روپ میں سوچتے تھے تب نہ جانے کیوں وہ اس بات کو قبول ہی نہیں کر پاتا تھا
°°°°°°
میری جان کالج نہیں جاؤ گی کیا آج وہ صبح یونیورسٹی کے لئے تیار ہو کر سیدھی اس کے کمرے میں آئی تھی
جب اسے بیڈ پر لیٹے اپنا بڑا سا ٹیڈی باہوں میں بھریں نہ جانے کون سی سوچوں میں گم دیکھا۔
میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس نے اپناہاتھ بڑی معصومیت سے اپنے ماتھے پر رکھا تھا جو بالکل ٹھنڈا تھا
اچھا تو میرے بچے کی طبیعت خراب ہے میں بھی زرا دیکھوں دیشم نے اسی کے انداز میں اس کے سر پر ہاتھ رکھا اسے بخار بالکل بھی نہیں تھا۔
یقیناً یہاں پر اگر اس کی جگہ تائی امی یا پھر اس کی امی ہوتیں تو اس کے صدقے واری جاتیں اور کہتیں کہ ان کی بچی بیمار ہے فضول میں اسے کالج نہ بھیجا جائے۔
یہی تو فرق تھا ان میں انہوں نے کبھی بھی پڑھائی کو اہمیت نہ دی تھی خاص کر بیٹیوں کی پڑھائی کے سلسلے میں وہ کبھی بھی اتنی آزاد سوچ نہیں رکھ سکتی تھیں۔
ْ
نہ ان کے گھر والوں نے انہیں پڑھائی کی اہمیت کا احساس دلایا تھا اور نہ ہی وہ خود ان پڑھ تھیں
ان کی نظر میں یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی کہ اس طرح بے فضول میں چھٹیاں کرنا ان کے بچوں کی پڑھائی کے لیے کتنا خراب ہو سکتا ہے
میرا بخار فیل نہیں ہو گا آپ کو وہ انتہائی معصومیت سے منہ لٹکا کربولی تو دیشم کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا
میری پیاری سی جانو اگر آپ نہیں جاؤ گی تو آپ کی پڑھائی پر اثر پڑے گا جو آپ کے لیے آگے جاکر مشکل ہو سکتی ہے چلو اٹھو میرا بچہ جلدی سے تیار ہو جاؤ
میری جان اتنی لائق ہے مجھے یقین ہے یہ بہانہ صرف آلسی ہے ورنہ اس طرح سے چھٹی کرنے کے لیے بہانہ کبھی نہیں بناتی وہ اس کا ٹیڈی اس کی باہوں سے نکالنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن حرم بلکل بھی کالج جانے کے لیے تیار نہ تھی
میں نہیں جاؤں گی آپو سمجھو نہ مجھے نہیں جانا پلیز وہ ضد کرنے لگی تھی جب اچانک کمرے کا دروازہ کھلا اور خداش اندر داخل ہوا۔
کیا ہوا میرا بچہ میری جان کی طبیعت کیسے خراب ہو گئی۔
وہ تیزی سے اس کے پاس آیا تھا جب کہ اسے بیڈ کی طرف آتے دیکھ کر دیشم نے فورا اس کا راستہ چھوڑا تھا
اور اگلے ہی لمحے وہ اسے اپنے سینے سے لگائے پیار سے پچکارنے لگا
اور اب وہ جانتی تھی کہ کیا ہوگا
ویرو کالج نہیں جانا آج میری طبیعت بہت خراب ہے مجھے بخار ہے اس نےفورا اپنے بھائی کا ہاتھ تھام کر اپنے ماتھے پر رکھا تھا جو ٹھنڈے ہونے کے باوجود بھی خداش کو یہی لگا تھا کہ اسے بہت تیز بخار ہے۔
ہاں تمہیں بہت بخار ہے کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں پر بھی جانے کی بلکہ ایک ہفتہ چھٹی کرو آرام کرو میری جان
پڑھائی کو سر پر سوار کیا ہوا ہے جب تک طبیعت ٹھیک نہیں ہو جاتی کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
وہ بولے جا رہا تھا جب کہ وہ پیر پٹختی کمرے سے نکل گئی تھی اب ان دونوں بہن بھائیوں کا لاڈ کبھی ختم نہیں ہونے والا تھاہاں لیکن اس کی یونیورسٹی کی کلاس مس ہوجاتی۔
°°°°°°°
دادا جان مجھے پلیز یونیورسٹی بھجوا دیجیے کسی ڈرائیور کو کہہ دیں کیونکہ آج حرم کی طبیعت کچھ ناساز ہے وہ نہیں جا رہی۔
اس نے ان کے کمرے کے دروازے پر کھڑے ہوتے ہوئے انہیں بتایا تھا دادا جان نے اسے سر سے پیر تک دیکھا وہ مکمل تیار تھی۔
وہ جب اس طرح سے اپنے آپ کو چھپا کر گھر سے نکلتی تھی داداجان کا سینہ فخر سے چوڑا ہو جاتا تھا وہ بے شک باغی تھی بے شک بدلحاظ تھی لیکن اپنی حدود وہ جانتی تھی۔
اگر حرم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو آج تم بھی چھٹی کر لو دادا جان نے بے حد نرمی سے کہا۔
نہیں میں چھٹی نہیں کر سکتی میری بہت اہم کلاس ہے میں آج کل لیکچر ہرگزمس نہیں کر سکتی اس نے اپنے آپ کو کچھ بھی الٹا سیدھا کہنے سے روکتے ہوئے بہت بے چارگی سے جواب دیا۔
جب اپنے پیچھے کسی کو محسوس کرتے ہوئے اس نے فورا راستہ چھوڑا تھا خداش اس کے قریب سے بھی گزر جاتا لیکن اس لڑکی کو شاید اس بات کا احساس دلانے کا شوق تھا کہ وہ اس کی خوشبو کو بھی اپنے آس پاس گوارا نہیں کرتی۔
خداش بیٹا وہ دیشم کہہ رہی ہے کہ اس کا یونیورسٹی جانا کافی زیادہ ضروری ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے
کوئی ضرورت نہیں ہے یونیورسٹی جانے کی میں ہوسپیٹل لے کر جا رہا ہوں حرم کو اس کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے وہ انہیں دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
یقینا یہ بہن کے لئے اس کی فکر مندی تھی ورنہ حرم صرف بہانہ بنا رہی تھی اس بات کا شک خداش کو بھی تھا
حرم بالکل ٹھیک ہے اسے کسی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے وہ آج تھوڑی سست ہوگئی ہے اسی لیے نہ جانے کا بہانہ کر رہی ہے اس نے دادا جان کو دیکھتے ہوئے بتایا۔
دادا جان وہ چاہے بہانہ کر رہی ہو لیکن کل سے ان محترمہ کی طبیعت بھی خراب ہے وہ جیسے بات ختم کر چکا تھا
دادا جان میری طبیعت بالکل ٹھیک ہے میں نے گھر آکر میڈیسن لے لی تھی اب میں بہتر ہوں بس تھوڑی سے طبیعت خراب تھی میری لیکن ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن کچھ بھی نہیں لڑکی پڑھائی کے چکر میں اپنا آپ بھلا بیٹھے ہو تم لوگ خداش اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاؤ ۔
روز اتنا سفر کر کے آنا جانا بھی تھکاوٹ کی وجہ بن سکتا ہے لیکن آج کل کی لڑکیوں کو کون سمجھائے دادا جان فیصلہ سنا چکے تھے اور اب وہ دونوں جانتے تھے دادا جان اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے وہ پیر پٹختی دادا جان کے کمرے سے نکل چکی تھی
کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب اسے ہر قیمت پر ہوسپٹل تو جانا پڑے گا اس کے غصے سے کمرے سے نکلنے پر خداش دلکشی سے مسکراتے ہوئے دادا جان کے پاس رکھی کرسی پر بیٹھ گیا
حرم کی طبیعت زیادہ خراب ہے دادا جان اسے دیکھ کر پوچھنے لگے تو وہ کھل کر ہنس دیا ۔
ارے نہیں داداجان پریشانی والی کی کوئی بات نہیں ہے بس اس کا دل نہیں کر رہا تھا نہ جانے کا میرے خیال میں سردیاں شروع ہوگئی ہیں تو بستر سے نکلنے کا دل نہیں کر رہا تھا اس کا،
ورنہ طبیعت تو ماشاء اللہ اس کی بالکل ٹھیک ہے اس نے مسکراتے ہوئے انہیں بے فکر کیا تو وہ بھی مسکرادیئے
ان کی پوتی اب کالج لیول میں آ چکی تھی لیکن اس کے نرسری کلاس والے بہانے انہیں بہت پسند تھے۔
°°°°°°
آج کلاس میں ہر کسی کی شامت آئی ہوئی تھی۔وہ سب کی باری باری اچھی خاصی بےعزتی کرچکا تھا۔اس کا غصہ وہ سب نوٹ کر چکی تھی۔
بورڈ پر کچھ لکھتے ہوئے اپنے مارکر کو اتنی سختی سے ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھا کہ اچانک ہی مارکر دو حصوں میں تقسیم ہوتا اس کے ہاتھ میں آگیا اگلے ہی لمحے اس نے پوری شدت سے مارکر کو زمین پر پھینکا تھا۔
وہاں موجود سب اسٹوڈنٹس کافی گھبرائی ہوئی تھیں۔
انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آج ان کا ٹیچر اتنے غصے میں کیوں ہیں۔
یہ الگ بات تھی کہ کچھ چنچل شوخ لڑکیاں اسے اینگری ینگ مین کا خطاب دے چکی تھی اور اس کے غصے سے لال پیلے ہوتے روپ کو کافی انجوائے بھی کر رہی تھی۔
لیکن ان کی شرارتی نگاہوں کو بریک تب لگی جب اس نے اچانک ہی کہا کہ وہ آج پچھلے پڑھائے گئے ہفتے میں سب لیکچرز کا ٹیسٹ لے گا۔
اچانک ایسے ٹیسٹ کا شاید ہی کسی نے سوچ رکھا تھا اسی لئے سب کے چہرے پر جو پریشانی آئی تھی وہ فطری تھی لیکن وہ رکا نہیں جانے کس چیز کی سزاتھی جو ان سب کو دینے پر تلا ہوا تھا۔
آپ کی سہیلی کہاں ہے مس میشاانور ۔۔؟یہ وہ لائن تھی جو آج اس کلاس کا پریڈ لیتے ہوئے اس نے پہلی دفعہ اردو میں بولی تھی
میشا تو پہلے سمجھ ہی نہ پائی کہ اس نے بولا کیا ہے اتنی صاف اور کلیئر اردو میں وہ حرم کا ہی پوچھ رہا تھا وہ فورا اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
کسی کو بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ اتنی کلیئر اور صاف اردو بول سکتا ہے حالانکہ وہ انگلش کی کلاس میں مسلسل انگلش میں بات کرتے آئے تھے۔
آج تو کیا،احمر اپنے لیکچر سے ہٹ کر ایک لفظ بھی فالتو بولنا اپنی توہین سمجھتا تھا۔
۔جی۔ ۔جی۔ ۔۔۔سر اس کی طبیعت خراب ہے اس نے مجھے صبح فون کرکے بتایا تھا کہ وہ آج نہیں آ سکے گی ۔
طبعیت ۔۔۔۔۔اس نے بے حد کم آواز میں یہ لفظ دہرایا تھا اور پھر اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اسے ٹیسٹ کی طرف متوجہ کر کے کمرے سے باہر نکل گیا
جب سامنے سیپے صیام آتا نظر آیا اس کے چہرے کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے وہ تیزی سے قدم اسی کی طرف بڑھنے لگا۔
°°°°°°
صیام اس کی طبیعت خراب ہوگئی ہے وہ بہت زیادہ بیمار ہے وہ فکرمند سا صیام کے سامنے کھڑا اسے بتا رہا تھا
یار موسم چینج ہو رہا ہے طبیعت خراب ہو سکتی ہے تو پریشان مت ہو کل آ جائے گی وہ۔۔صیام نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔
اس کا صرف “وہ” کہنا ہے اسے بتایا گیا تھا کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہا ہے۔
وہ بات کرتا ہی کس کے بارے میں تھا صرف اور صرف اس لڑکی کے بارے میں اور
کسی سے اسے مطلب کہاں تھا
مجھے لگتا ہے اس کی طبیعت زیادہ خراب ہے مجھے دیکھنا چاہیے نا اس کو صیام مجھے اس سے ملنے جانا چاہئے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔
یشام یار تیرا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا وہ صرف ایک سٹوڈنٹ ہے اور تو اس کا ٹیچر ہے تو اس سے ملنے نہیں جا سکتا تھا اس کے گھر والے ہزار طرح کے سوال کریں گے کیا جواب دے گا۔۔۔۔!
آج تھوڑا صبر حوصلے سے کام لے وہ آجائے گی صبح وہ اسے سمجھا رہا تھا
جب کے اس نے فورا نفی میں سر ہلا دیا تھا مطلب وہ صبر و حوصلے سے کام نہیں لے سکتا تھا اسے کسی بھی طریقے سے حرم سے ملنا تھا۔
وہ بیمار ہے اور مجھے اسے دیکھنا ہے وہ زیادہ بیمار ہو گی تبھی نہیں آئی ورنہ وہ ضرور آتی وہ جانتی ہیں کہ وہ میرے لئے کیا ہے وہ جنونی انداز میں بول رہا تھا جبکہ صیام اسے دیکھ کر رہ گیا۔
کیا مطلب وہ جانتی ہے کیا تم نے اس کو بتا دیا ہے سب کچھ وہ حیرانگی سے دیکھنے لگا۔
نہیں میں نے اسے کچھ نہیں بتایا لیکن وہ سمجھ چکی ہوگی نہ اس کو اندازہ تو ہوگیا ہوگامیرے جنون کی آگ اتنی کمزور نہیں ہے کہ اس نے نوٹ بھی نہ کیا ہو ۔
وہ یقین سے بولا تھا
تو پھر کہیں اسی وجہ سے تو وہ نہیں آئی صیام کو ایک اور ڈر لاحق ہوا
نہیں صیام وہ ایسی غلطی نہیں کرے گی میری جنون کو ٹھکرانے کا کوئی حق نہیں ہے اس کے پاس اسے آنا ہوگا
اس کالج میں بھی اور میری زندگی میں بھی وہ میری ہے اور اسے یہ بات سمجھنی ہوگی۔
یشام اس معاملے میں تجھے تھوڑا پرسکون ہو کر سوچنا ہوگا اس معاملے میں تھوڑی نرمی سے کام لینا ہوگا وہ کوئی عام سی چیز نہیں ہے اس کی فیملی ہے گھر بار ہے اور۔۔۔۔۔
یشام احمر چھین لے گا اسے پوری دنیا سے اسے اس کی ذات سے وہ صرف میری ہے صیام صرف یشام احمر کی ۔وہ عجیب سی انداز میں بول رہا تھا۔ جبکہ صیام کو اس کے لہجے سے خوف آرہا تھا۔
°°°°°
رات دو بجے کا وقت تھا دور دور تک کتوں کے بھونکنے کی آواز آ رہی تھی اس اندھیرے میں کوئی شاید اپنے سامنے کھڑے شخص کو بھی پہچان نہ پاتا ۔
نہ کوئی سایہ نہ کوئی روشنی آج تو چاند بھی آسمانوں سے غائب تھا ہر طرف غضبناک خاموشی چھائی ہوئی تھی وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس حویلی کی طرف جا رہا تھا ۔
اس جگہ پر شاید یہ حویلی وہ واحد چیز تھی جو باہر لگی لائٹس سے روشنی بکھیر رہی تھی ورنہ اس سے چند فٹ کے فاصلے پر سوائے اندھیرے کے اور کچھ بھی نہ تھا
اس نے سامنےحویلی کے دروازے پر بیٹھے واچ مین کو دیکھا اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا اس کے قریب سے گزر گیا
تھوڑی ہی دیر میں وہ وہیں بے ہوش پڑا تھا وہ ایک نظر اسے دیکھتا اپنے چہرے کو ٹھیک سے کور کرتا حویلی کے اندر داخل ہوا۔
بڑا سا لکڑی کا دروازہ اندر سے بند تھا لیکن اسے اس طرف جانا بھی نہیں تھا اس نے نگاہ تیسرے فلور کی طرف اٹھائی تھی
بیشک حویلی کے اندر کے سارے کمرے کی لائٹ آف تھی لیکن وہ واحد کمرہ جس کی لائٹ آن تھی اس کی پرنسسز کو اندھیرے میں نیند نہیں آتی تھی وہ ڈرتی تھی سہم جایا کرتی تھی
اس نے بڑی ہی مہارت سے اوپر چڑھنے کے لئے ایک راستہ تلاش کیا تھا رات کے اندھیرے میں وہ اس بڑے سے درخت پر چڑھتے ہوئے سامنے بالکنی میں کودا تھا
اس نے خاص دھیان رکھا تھا کہ اس کی آواز کسی کو نہ آئے اور پھر ایک چھوٹا سا جمپ اسے اوپر فلور کے گرل کو پکڑنے میں مدد کر گیا۔
اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اپنی پرنسسز کے کمرے میں تھا
وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے پاس آگیا اس کے ہاتھ میں ایک ٹیڈی بیر تھا جس کو اس نے بہت شدت سے خود میں قید کر رکھا تھا
اس کے اندر آگ سے لگ گئی تھی اور اس احساس کو کم کرنے کے لئے اگلے ہی لمحے اس کے ہاتھ سے وہ ٹیڈی چھین لیا تھا یہ سوچے بنا کے وہ اس سے جاگ بھی سکتی ہے۔
اس نے عجیب سے انداز میں اس ٹیڈی کو دیکھا تھا اور پھر اس کی گردن کو پکڑ کر اس نے اپنی جیب سے کچھ نکالا
اپنا کام کرکے وہ پرسکون ہوا اور پھر اسے ایک طرف پھینکتے ہوئے ایک گھٹنا بیٹھ پر رکھتے وہ اس کی طرف جھکا تھا۔
وہ اسے بہت قریب سے دیکھ رہا تھا شاید اتنا قریب وہ پہلی بار آیا تھا تبھی تو اس کی آنکھوں کی پیاس بجھ ہی نہیں رہی تھی نہ جانے کس احساس کے تحت اس کی آنکھ کھل گئی
اپنے پر جھکے اس آدمی کو دیکھ کر حرم چیخی اور پھر اس کی چیخوں کا سلسلہ رکا نہیں اور مسکراتے ہوئے اسے دیکھتا رہا ۔
وہ اس کے سامنے بیٹھ کر بری طرح سے کانپتے ہوئے چیخ رہی تھی یہ وہ پہلا شدید اظہار تھا جو اس نے اسے دیکھ کر کیا تھا جو اسے بہت عزیز تھا۔
°°°°°°
