65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 37)

Junoniyat By Areej Shah

ہم اس طرح کی کسی پنچایت کو نہیں مانتے ،اور نہ ہی کسی پنچایت کی ضرورت ہے,

یہ قانونی فیصلے ہیں اور بہتر ہے کہ ان قانونی فیصلوں کو قانون کے طریقے سے کیا جائے،

بابا جان نے پنچایت کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور ان کے ساتھ ان کے بیٹے بھی اس نئے خود ساختہ قانون کو ماننے سے انکاری تھے ۔

اور ان کے ساتھ ہی وہ سب لوگ بھی جو شاہ خاندان سے زیادہ کاظمی خاندان کو پسند کرتے تھے وہ بھی اس نئے قانون کو ماننے سے انکار کر چکے تھے

یہ گاؤں بہت زیادہ ترقی یافتہ نہیں تھا گورنمنٹ کا اس طرف رجحان کافی کم تھا ایسے میں فیصلوں میں اکثر تاخیر ہوجاتی تھی

کچھ عرصہ پہلے یہاں کے پنچایت میں ایک آدمی مقرر تھا جو کچھ عرصہ پہلے وفات پا گیا

اب اس کے بعد گاؤں کے سب سے طاقتور لوگوں کو گاؤں کا پنچایت بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا

لوگوں کے زیادہ ووٹ شاہ خاندان کی طرف چلے گئے کاظمی خاندان والوں کو تو آگ لگ گئی

وہ کسی بھی طرح پنچایت کو ماننے کو تیار نہ تھے اور ان کا یہ انکار جہاں کچھ لوگوں کو پسند آیا تھا وہی کچھ لوگ اس کے خلاف ہوگئے۔گاؤں والوں کی باہم رضامندی کی بنا پر شاہ خاندان کے شاہ صاحب کو گاؤں کا سرپنچ بنانے کا فیصلہ کر دیا گیا

اور اب پورے گاؤں والوں کو انہی کے حکم کی پابندی کرنی تھی اس کے علاوہ جو لوگ ان کی حکم کو نہیں مانتے وہ اگلے سال الیکشن میں حصہ لے کر بھی سرپنچ بن سکتے تھے سب کا ہی ارادہ تھا کہ اگلے سال کاظمی صاحب کو بھی مخالف پارٹی میں کھڑا کر دیا جائے گا

لیکن اس سال تو شاہ صاحب کو ہی یہاں کا سرپنچ بنایا جائے گا اس معاملے کی ہزار طرح کی مخالفت کی گئی

لیکن فیصلہ پھر بھی شاہ صاحب کے حق میں ہی آیا کیونکہ گاؤں کے زیادہ تر لوگ انہی کے حق میں تھے

اور اس طرح سے وہ گاؤں کے سرپنچ بن گئے اب سارے فیصلے ان کے ہاتھ آ چکے تھے اور وہ جب چاہے جیسے چاہے فیصلہ کرسکتے تھے

لیکن گاؤں والوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے فی الحال وہ بھی کاظمی خاندان کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا رہے تھے

جبکہ ان اختیارات پر سب سے زیادہ خلاف کاظمی خاندان کےلوگ ہی تھے۔جو انہیں نقصان بھی پہنچا سکتے تھے

لیکن ابھی انہیں جیت کا نشہ چڑھا ہوا تھا جو جیت وہ گھوڑے کی ریس میں حاصل کر چکے تھے

۔لیکن وہ جانتے تھے کہ کاظمی خاندان کے لوگ اتنی آسانی سے چپ نہیں بیٹھیں گے وہ ان کے خلاف کوئی نہ کوئی قدم ضرور اٹھائیں گے اور ان کے ہر قدم پر وہ بھی بھرپور مقابلہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے

°°°°°°

سارا دن اپنی ٹینشنوں سے لڑتے لڑتے وہ پاگلوں کی طرح اپنے کاموں میں مصروف رہی تھی

جنت اور ماما تو اسے دیکھ دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی آخر آج اسے ہوا کیا تھا۔؟

کہ وہ واپس آتے ہی کاموں میں لگ گئی تھی

انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیوں یہ سب کچھ کر رہی ہے ماما نے تو دو بار اسے کام کرنے سے منع کیا ،

لیکن وہ رکی نہیں اسے تو کوئی جنون سوار تھا جبکہ جنت بھی دو تین دفعہ اس کے پاس آئی تھے

جنت نے کل اپنے شہر والے گھر چلے جانا تھا کیونکہ وہ ہانی کو سکول داخل کروانے والی تھی

جب اس کی شادی ہوئی تھی اسے جہیز میں شہر والا وہ بنگلہ دیا گیا تھا جس میں کافی عرصہ تک باقر اس کے ساتھ ہی رہا تھا لیکن اسے طلاق دینے کے بعد وہ یہاں چلا آیا تھا

جنت کافی عرصے تک وہیں پر رہی کبھی کبھار ماں باپ کی یاد حد سے زیادہ ستانے لگتی تو یہاں آ جاتی تھی ۔

لیکن زیادہ تر وہ وہیں پر رہنا پسند کرتی تھی تو کل وہ واپس جانے والی تھی اس لیے چاہتی تھی کہ وہ تھوڑی دیر عمایہ کے ساتھ وقت گزارے

لیکن عمایہ تو سارا سارا دن کام میں مصروف ہی رہی اس نے اسے منع بھی کیا

کہ کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی صبح سے تم گھر کی ملازمہ بنی ہوئی ہو۔زریام واپس آنے والا ہوگا اپنی حالت ذرا سدھارو جب واپس آئی تھی کتنی پیاری لگ رہی تھی

ایک ہی دن میں تم نے اپنا حشر کر لیا ہے لیکن وہ جیسے کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھی وہ تو اپنے ہی فضول کاموں میں لگی ہوئی تھی

۔جنت کو تو اس پر اچھا خاصا غصہ آ گیا تھا ۔

لیکن پھر کتنی دیر اس پتھر کے ساتھ سر پھوڑتی وہ خود ہی مایوس ہو کر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اسے ناراض کرکے اچھا تو اسے بھی نہیں لگتا تھا لیکن فی الحال وہ تنہا رہنا چاہتی تھی

ذریام کی ناراضگی نےا سے بے حد پریشان کر دیا تھا وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے ۔

کس طرح سے اسے اپنا یقین دلائے کس طرح اس کا یقین واپس جیتے اس کی جنت جیسی زندگی پھر سے جہنم بن گئی تھی اور وہ ایسا نہیں ہونے دے سکتی تھی ۔

میں ان کو منا لوں گی کسی بھی طرح میں کیسے بھی کرکے ان کو مناؤں گی میں انہیں ناراض نہیں رہنے دے سکتی

اگر وہ ہمیشہ کے لئے ناراض ہوگئے تو۔۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا اس کا دل بہت زیادہ ڈر رہا تھااسے گھبراہٹ ہو رہی تھی ذریام کی ناراضگی جیسے اس کی جان لے رہی تھی

کل تک وہ اس کے لئے صرف اس کا شوہر تھا لیکن آج اس کی محبت تھا اس کے لئے سب کچھ تھا وہ اسے خود سے ناراض نہیں رہنے دے سکتی تھی اسے کیسے بھی اسے منانا تھا ۔لیکن کیسے۔۔یہ سوچ سوچ کر وہ پریشان ہو چکی تھی

°°°°°°°

آج کل بہت زیادہ پریشان رہنے لگا تھا ۔اس کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا تھا یہ تو وہ نہیں جانتا تھا

لیکن اس کے خواب و خیالوں میں بس ایک ہی لڑکی چھائی ہوئی تھی۔ہاں وہ جو کبھی لڑکیوں سے ہزاروں میل دور فاصلے پر رہنا پسند کرتا تھا۔

آج کل اس کے دماغ میں بس ایک ہی لڑکی کا سایہ تھا ہزار کوششوں کے باوجود بھی وہ اپنے دماغ سے اس لڑکی کو نکال نہیں پا رہا تھا ،وہ نا چاہتے ہوئے بھی بار بار ریدم کے بارے میں سوچ رہا تھا

اسے یہاں سے واپس آئے تو قریب اکیس دن گزر چکے تھے لیکن اب تک اس کے ذہن میں وہ لڑکی بری طرح سے بسی ہوئی تھی ۔

وہ کہاں کسی لڑکی کو دیکھتا تھا یا اس کے بارے میں سوچتا تھا کہ وہ پہلے اس فیلنگ سے گزرا ہو یا اپنی اس کنڈیشن کو سمجھ سکتا ہو

یہ سب کچھ تو بالکل نیا تھا بالکل الگ تھا ۔اس نے کہا تھا قسمت میں ہوا تو دوبارہ ضرور ملیں گے

لیکن اگر قسمت نہ ہوئی تو کیا وہ مجھ سے دوبارہ کبھی نہیں ملے گی۔۔۔؟

کیا ہم کبھی بھی مل نہیں سکے گیں۔

نہیں وہ اس سے ملنا چاہتا تھا اسے دیکھنا چاہتا تھا اسے سمجھنا چاہتا تھا ۔

ہاں وہ اسے بہت کچھ بتانا چاہتا تھا وہ اس کی بیوقوفی بھری باتیں سننا چاہتا تھا وہ اس کی باتوں کو انجوائے کرنا چاہتا تھا وہ اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا ۔اس کے ساتھ اسی طرح جنگل کا ایک اور سفر کرنا چاہتا تھا

اسے ڈرے ڈرے سہمے انداز میں بے وقوفانہ باتیں کرتے ہوئے سننا چاہتا تھا وہ اس کے منہ سے اپنے ٹائیگر کے لئے کتا سننا چاہتا تھا ۔

آخری ملاقات میں اس نے اس کے ٹائیگر کو ٹائیگر جی کہہ کر بلایا تھا کتنا پیارا لگا تھا اس کے منہ سے یہ لفظ ۔۔۔

یاد کرتے ہوئے اس کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ آ گئی تھی اس کی ایک ایک بات ایک ایک انداز بہت خوبصورت تھا وہ بہت پیاری باتیں کرتی تھی ۔لیکن وہ جا چکی تھی وہ چلی گئی تھی ۔

ان کی ملاقات کو قسمت کے بھروسے پہ چھوڑ کروہ اب گھر جانا چاہتا تھا اور وہاں جاکر دادا جان سے اس لڑکی کے بارے میں سب کچھ پوچھنا چاہتا تھا ۔

سب کچھ جاننا چاہتا تھا اس کے بارے میں وہ کون تھی کہاں سے آئی تھی دادا جان کے ساتھ اس کا کیا تعلق تھا ۔

اور دادا جان نے اس کے فیوچر کے بارے میں کیا کچھ سوچ رکھا ہے پچھلے کئی دن سے وہ لڑکی اس کی ہر بات میں شامل ہو چکی تھی ٹائیگر سے باتیں کرتے کرتے اچانک وہ یاد آ جاتی۔ وہ

دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑ چکا تھا وہ اپنی ایک الگ دنیا میں مگن تھا ۔اس کے دوست روز آتے اسے باہر چلنے کے لئے کہتے لیکن وہ کہیں جانا ہی نہیں چاہتا تھا کیونکہ اسے اسے اپنے دوستوں کی سنگت میں وہ مزہ نہیں مل رہا تھا جو ریدم کی سنگت میں ملا تھا کچھ تو بہت الگ تھا اس لڑکی میں

°°°°°°

وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا ،چہرے پر دلکش مسکراہٹ تھی جیسے آج اس نے سب کچھ پا لیا ہو’ اور سچ میں آج اس نے سب کچھ پا لیا تھا ،اس کے دل کی خواہش پوری ہو چکی تھی

جسے وہ چاہتا تھا جس کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا وہ اس کے ساتھ تھی،

اس کی بیوی کے روپ میں اس کی ملکیت بن کر ۔تو کیوں نہ آج وہ خوش ہوتا اس کی چال میں غرور کیوں نہ ہوتا، تو آہستہ آہستہ چلتا اس کے بالکل پاس آ کر بیٹھا تھا ۔

وہ گھونگھٹ میں سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی اس نے آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر اس کا گھونگھٹ پیچھے گیا تھا”

وہ آسمان سے اتری پری سے کم حسین نہ تھی۔اسے لگا جیسے وقت تھم سا گیا ہو۔وہ ان لمحوں کی گرفت میں آ چکا تھا ،اس کا معصوم حسن اس کےدل میں قیامت برپا کرنے کے لئے تیار تھا،

وہ خود کو اس دنیا کا سب سے خوش قسمت ترین انسان محسوس کر رہا تھا ،

جسے اس نے چاہا تھا اسے اس نے پا لیا تھا اور یہ انمول تحفہ اللہ نے اس کے نصیب میں لکھ دیا تھا ۔بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنہیں ان کی پہلی چاہت مل جاتی ہے خداش انہِی خوش قسمت لوگوں میں سے ایک تھا جسے بنا کسی امتحان کے اس کی پہلی محبت مل گئی تھی

بہت کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ لیکن الفاظ ختم ہو گئے ہیں ،تمہیں پتا ہے میں نے سوچا تھا تمہارے حسن کی تعریف کروں گا تم سے باتیں کروں گا بچپن سے لے کر اس مقام تک تم سے اپنا ہر دکھ سکھ شیئر کروں گا لیکن کچھ بھی نہیں کر رہا ہوں وہ اس کا نازک مرمریں ہاتھ تھامتے ہوئے اپنے لبوں کے قریب کر کے بولا ۔

وہ جو یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اسے نیچا دکھائے گا یا پھر اس سے کہے گا کہ دیکھو میں نے تمہیں فتح کرلیا اب سے تم میری ملکیت ہو اس کے منہ سے اس طرح کے الفاظ سن وہ خود بھی حیران رہ گئی تھی

کچھ بولو نا یار ورنہ میرا دل بند ہو جائے گا خوشی سے۔۔ میرے دل نے ڈبل ٹرپل سپیڈ پکڑ لی ہے وہ بے ساختہ ہی اسکا نازک ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھ چکا تھا اس کا دل سچ میں بے ترتیب تھا ۔اس کے جذبوں سے دیشم کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی

وہ تو دیوانہ سا لگ رہا تھا اس کا اندازہ اس کی باتیں اسے کنفیوز کر رہی تھی ۔

تمہیں سالار سکندر بہت اچھا لگتا ہے ناں ۔۔۔۔؟وہ اسے دیکھ کر کہنے لگا تو وہ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھنے لگی تھی

تمہارے لیے ایک گفٹ لایا ہوں ایک منٹ رکومیں ابھی دیتا ہوں وہ سائیڈ دراز سے ایک کتاب نکال کر اس کے حوالے کرنے لگا

بہت عجیب قسم کا دولہا ہوں میں اپنی دلہن کو ناول تحفے میں دے رہا ہوں ناول کی دیوانیوں کے لئے تو یقینا آئیڈل ہسبینڈ میں ہی ہوں وہ آنکھ دبا کردل کشی سے مسکرایا تھا جبکہ اس کے ہاتھ میں موجود آب حیات دیکھ وہ سچ مچ میں بے ہوش ہونے کے قریب تھی

پکڑ لو یار تمہارے لئے ہی لایا ہوں وہ اس کے ہاتھ میں کتاب تھماتے ہوئے بولا

اس نے اس کےحسن کی تعریف نہیں کی تھی اس کی تعریف میں غزل نہیں کہی تھی اس نے بہت الگ کام کیا تھا اس نے سچ میں اسے وہ تحفہ دیا تھا جو کوئی بھی لڑکی سوچ بھی نہیں سکتی وہ حیران سی کبھی اس کا چہرہ تو کبھی اپنے ہاتھ میں موجود آب حیات کو دیکھ رہی تھی

شادی کا یہ مطلب تو نہیں ہوتا کہ لڑکی اپنے خواب چھوڑ دے اپنی زندگی جینا چھوڑ دے تم جو کرنا چاہتی ہوجو پاناچاہتی ہوں سب کرو میں تمہارے راستے کی رکاوٹ نہیں تمہارا سب سے مضبوط سہارا بننا چاہتا ہوں ۔

تمہیں سالارسکندر پسند ہے نا۔۔۔۔؟ پسند کرو اسے لیکن اس سے محبت مت کرنا

محبت صرف مجھ سے کرو اگر مجھے تمہاری محبت مل گئی ناں تو شاید میں خوشی سے مر ہی جاؤں گا ۔

یہ مت سوچنا کہ رونمائی میں تمہارے لئے یہ 500 کی کتاب لے کر آیا ہوں ہرگز نہیں ۔

اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت دن پر میں تمہیں کیا یہ تحفہ دوں گا بے شک کتابوں سے انمول دنیا میں کچھ نہیں ہوتا لیکن میں نے بھی تمہارے لئے کچھ انمول خریدنے کی کوشش کی ہے

اور یہ سب کچھ میں نے اس لیے نہیں خریدا تاکہ تمہاری محبت حاصل کر سکوں مجھے تمہاری محبت اس طرح سے نہیں چاہیے تمہاری محبت تو میں تمہارے دل میں اتر کر پا ہی لوں گا یہ تحفہ صرف اور صرف اس ناولٹی افسانے کے کردار سے نکلنے کے لیے دے رہا ہوں ۔

تم نے کہا تھا کہ ہر کوئی سالار سکندر نہیں ہوتا ۔شاید نہیں ہوتا ہوگا وہ اپنی محبت کے لیے یقینا بہت انمول شخص رہا ہوگا

لیکن تمہاری زندگی میں کوئی سالارسکندر نہیں بلکہ یہ خداش کاظمی ہے ۔اور یقین کرو میں بھی برا نہیں ہے وہ فائلز اس کے حوالے کرتے ہوئے بولا

فائل میں دو طرح کے کاغذات پڑے تھے جسے وہ فی الحال پڑھنا یاسمجھنا نہیں چاہتی تھی اس وقت تو اس کا دماغ اسے کچھ بھی سوچنے یا کرنے کی اجازت ہی نہیں دے رہا تھا

وہ تو بس ٹکٹکی باندھے اس سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی جو آج ایک نیا روپ دکھا رہا تھا

سمجھ گیا تم یہ نہیں پڑھنا چاہتی نا اس وقت میں خود ہی بتا دیتا ہوں یہ کاغذات ایک آئی لینڈ کے ہیں میں نے سڈنی میں تمہارے نام سے ایک بہت خوبصورت آئیلینڈ۔خریدا ہے ہم ہنی مون منانے وہیں پر جائیں گے اور یہ کاغذات وہیں کے ہیں اور یہ میں نے تمہارے نام ایک ستارہ کیا ہے ۔

میں جانتا ہوں یہ بہت ہی فضول چیزیں ہیں تمہارے نزدیک اور تمہارے نزدیک شاید ان چیزیں کا کوئی کام بھی نہیں ہوگا لیکن میں تمہیں کچھ سپیشل دینا چاہتا تھا کچھ ایسا تحفہ دینا چاہتا تھا جو تمہیں یہ بات بتا سکے کہ تم میرے لیے کتنی اسپیشل ہو ۔

اس لیے یہ خریدا ہے تمہیں پسند آیا ناں۔۔ وہ امید سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا وہ بے یقینی سے اپنے ہاتھ میں موجود تین چیزوں کو دیکھ رہی تھی بے شک ان تین چیزوں میں پسند تو اسے آب حیات ہی تھی

لیکن وہ شخص جو منتظر نگاہوں سے دیکھ رہا تھا اسے جواب بھی تو دینا تھا وہ نگاہ اٹھا کر اسے دیکھتی مسکرا کر ہاں میں سر ہلا چکی تھی خداش کو جیسے سکون ملا تھا

یعنی کہ تمہیں میرے دیے ہوئے تحفے پسند آئے شکر ہے

لاو مجھے میرا تحفہ دو وہ اپنا ہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوئے بولا دیشم نے بنا کنفیوز ہوئے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا خداش کو لگا جیسے پوری دنیا اسے مل گئی ہے

اس نے جھک کر اس کے ہاتھ کو بڑی عقیدت سے چوما تھا جب اچانک دروازے پر بڑی تیزی سے دستک ہونے لگی وہ فورا اٹھ کر دروازے کے پاس آیا تھا

خداش بابا جان کی طبیعت اچانک بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے میرے خیال میں ابھی اسی وقت انہِیں اسپتال لے کر جانا پڑے گا جلدی آؤ باباجان دروازے پر کھڑے کافی پریشان لگ رہے تھے وہ ان کے پیچھے بھاگا تھا جبکہ دیشم بھی ان کی بات سن چکی تھی پریشانی سے اٹھ کر ان کے ساتھ ہی باہر بھاگ گئی تھی

°°°°°°°°

دادا جان کی طبیعت بہت زیادہ بگڑ گئی تھی اچانک ان کی طبیعت اتنی کیسے خراب ہو گئی۔۔۔؟

کوئی بھی سمجھ نہیں پایا تھا ،خداش تو ان کی حالت دیکھ کر بری طرح سے بوکھلا گیا تھا،

کیونکہ اس وقت ان کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خراب لگ رہی تھی وہ فورا ہی انہیں گاڑی میں ڈالتا ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا تھا جبکہ پیچھے سب لوگ پریشان تھے ۔

°°°°°

وہ انہیں فوراً ہسپتال لے گیا تھا نہ جانے انہیں کیسے تکلیف ہوئی تھی کوئی نہیں جانتا تھا وہ تو کمرے میں بالکل تنہا تھے۔

اور شاید اپنےکسی دوست سے فون پر بات کر رہے تھے اس وقت تک وہ زیادہ تر سو ہی جاتے تھے ۔

لیکن ان کے دوست ہارٹ اٹیک کاسن کر فون کرتے تھے ۔اور بابا جان کے حساب سے تھوڑی دیر پہلے ان کے دوست کا فون آیا تھا جس سے وہ بات کر رہے تھے۔

پھر اچانک طبیعت خراب ہوگئی ڈاکٹر نے کہا تھا انہیں کسی بھی طرح کی ٹینشن سے دور رکھا جائے۔

گھر میں تو ایسی کوئی چیز نہیں تھی جس سے انہیں ٹینشن ہوتی یا پھر ان کی حالت خراب ہوتی

وہ انہیں سپتال لے کر پہنچا تو ڈاکٹر نے فورا ان کو ایمرجنسی میں شفٹ کر دیا ۔ڈاکٹروں کے مطابق انہیں کسی چیز کی شدید ٹینشن تھی ۔

لیکن کس چیز کی ٹینشن تھی۔ یہی تو وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا فلحال دادا جان کو کسی طرح کا کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔

تھوڑی دیر پہلے وہ بے حد خوش تھے اور بچیوں کے ساتھ ہنسی مذاق بھی کر رہے تھے تو اب دادا جان کی طبیعت اس حد تک خراب کیسے ہوگئی۔۔

خداش یہ سوچ رہا تھا کہ انہیں کس کا فون آیا وہ گھر جا کر یہ چیک کرنا چاہتا تھا لیکن فی الحال اسے دادا جان کی جان سے زیادہ عزیز اور کچھ بھی نہیں تھا ڈاکٹر ان کا چیک اپ کر رہے تھے جب کہ وہ باہر پریشان سا بیٹھا ان کے واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا

°°°°°°