Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 57)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 57)
Junoniyat By Areej Shah
بکواس کرتی ہو تم جھوٹ بولتی ہو تم ہمیں تمہاری بات پر بالکل یقین نہیں ہے ۔۔۔۔۔”
تانیہ دادا جان کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی جب کہ دادا جان اس پر گرج رہے تھے ۔
ٹھیک ہے دادا جان آپ جو سوچتے ہیں سوچیں ۔۔۔۔۔” لیکن جو میں نے سنا ہے وہ میں نے آپ کو بتا دیا
میں نے خود زریام کوشائزم سے یہ بات کرتے ہوئے سنا تھا کہ ریدم کو انہوں نے خود خداش کاظمی کے ساتھ کاظمی حویلی میں بھیجا ہے
آپ بیشک میری بات پر یقین نہ کریں لیکن ایک بار ان سے پوچھ ضرور لیجئے گا ۔
وہ ایسا کیوں کرے گا تانیہ جب کے ریدم سے شادی کرنے کے لئے تیار تھا اس نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہماری بات مانے گا ہم اس کی بات مان رہے تھے
اس کے بدلے میں اس نے یہ شرط رکھی تھی تو وہ ایسا کیوں کرے گا وہ اب مزید غصہ ہوئے ۔
یہی وجہ ہے دادا جان کے میں آپ کو کچھ نہیں بتا رہی تھی کیونکہ میں جانتی تھی کہ آپ مجھ پر بھروسہ نہیں کریں گے لیکن ولیمے والی رات میں نے خود ان دونوں کو یہ باتیں کہتے ہوئے سنا ہے ۔
باقی میں اس بارے میں کچھ نہیں جانتی جو مجھے پتا تھا وہ میں نے آپ کو بتا دیا لیکن آپ عمایہ سے نفرت کرتے ہیں اسے اس گھر سے نکالنا چاہتے ہیں تو خدا کے لئے ایک بار میری بات پر یقین کرکے زریام سے یہ بات پوچھیں مجھے یقین ہے وہ آپ کے سامنے مزید جھوٹ نہیں بولیں گے ۔
وہ اٹھ کر کھڑی ہوئی اور اپنی بات مکمل کرتی کمرے سے نکل گئی جب کہ دادا جان کو اب تک اس کی کسی بات پر یقین نہیں تھا ۔
°°°°°°°
ابھی میں نہیں چھوڑوں گا اب تو میں تمہیں پکڑ لوں گا ۔اب تم بچ کر دکھاؤ مجھ سے وہ معصوم سی بچی تیزی سے بھاگتے ہوئے اپنے باپ سے دور جانے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کا باپ اس کے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔
بابا ریدم کو نہیں پکڑ سکتے بابا ہار گئے ۔بابا ہار گئے ۔وہ تیزی سے بھاگتے ہوئے خوش ہو رہی تھی جب کہ ساگر تیز تیز اس کے پیچھے قدم اٹھا رہا تھا اور وہ سیدھی جاکر اپنی ماں کے آگے پیچھے ہو لی۔
ریدم نہیں بچے مت کرو ریدم بیٹا کیا کر رہی ہو میرا بچہ میں گر جاؤؓں گی ۔افشین پریشانی سے اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی جب کہ ابھی تک جوش جوش میں اپنی ماں کی کنڈیشن کو سمجھ نہیں پا رہی تھی
جب ساگر نے اگلے ہی لمحے مذاق چھوڑتے اسے اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔
لوجی پکڑی گئی ریدم وہ نرمی سے اس کے دونوں گالوں کو چومتے ہوئے اسے اپنی بانہوں میں اٹھا چکے تھے ۔
بابا جب بھائی آ جائے گا نا ہم اس کے ساتھ کھیلا کریں گے اس سے اچانک اپنے بھائی کی یاد آگئی تو وہ دونوں ہی مسکرا دیئے ۔
لیکن بھائی نے تو آنے سے منع کردیا وہ کہتا ہے کہ تم بہت شرارتی ہے ۔اچانک ماں کی بات پر اس کا چہرہ بجھ گیا تھا
لیکن مما ریدم تو شرارت نہیں کرتی وہ پریشانی سے ان کے پاس آ بیٹھی تھی ۔
ہاں میں بھی یہی سوچ رہی ہوں کہ ریدم تو بہت پیاری بچی ہے بالکل شرارت نہیں کرتی تو پھر بھائی نے ایسا کیوں بولا ۔
ماما آپ بھائی کو بولو نا کہ ریدم بہت اچھی ہے اس کا بہت خیال رکھے گی اس کو بہت سارے ٹوائز اورچوکلیٹ بھی دے گی ۔وہ ان دونوں کو لالچ دیتے ہوئے بولی تو ماما سوچنے والے انداز میں گردن ہلاگئی ۔
چلو میں بات کرتی ہوں اس سے ہوسکتا ہے وہ مان جائے افشین نے بڑے ہی بے نیاز انداز میں کہا تو ساگر مسکرا دیا ۔
دیکھو ریدم کی ماما میری بیٹی کو تنگ مت کرو اور اپنے بیٹے کو کہو کہ جلدی آئے ہم اس کے منتظر ہیں اس نے ذرا روعب جمانے والے انداز میں کہا
آپ اپنی بیٹی کو کہے کہ وہ شرارتیں کم کرے تو وہ خود ہی آ جائے گا اور میرے بیٹے پر سختی کرنے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے وہ آنکھیں دکھاتے ہوئے بولی مطلب کے ٹیم ابھی سے ہی بن رہی تھی
ریدم کی پیدائش کے بعد وہ کافی پریشان تھے کیونکہ دونوں کے گھر والے اب تک ان کے پیچھے لگے ہوئے تھے لیکن پچھلے تین سال سے وہ کافی پرسکون تھے
ان کے پیچھے کوئی نہیں آ رہا تھا یہ سوچ کر وہ اپنی زندگی میں مطمئن ہوگئے تھے لیکن وقت کب کروٹ بدل جائے کہاں پتہ چلتا ہے
°°°°°°°
تم اس کمرے میں قید ہو کر رہنے کے لیے آئی ہو باہر نکلا کرو گھر والوں سے ملو تم تو شاید کسی کا نام بھی نہیں جانتی ہو گی خداش اس کے کمرے میں آتے ہوئے اس سے کہنے لگا تھا وہ جانے ہی والے تھے کہ اسے وہاں غائب دیکھ کر یہاں آ گیا ۔
میں بھی آپ سے بات کرنے کے لیے آنے والی تھی میں کب تک جا سکوں گی نانا جان کے گھر پر وہ اس سے پوچھنے لگی تھی ۔
تمہیں کہیں بھی جانے کی کیا ضرورت ہے ریدم تمہارا گھر یہ ہے ہم تمہارے اپنے ہی تمہیں یہی رہنا چاہیے جہاں تمہارا حق ہے ۔اس کا انداز سمجھانے والا تھا
مجھے یہاں رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے اور اب آپ اپنی بات پر قائم رہیں تو بہتر ہوگا آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ میں اس گھر سے تب جا سکتی ہوں جب مسئلہ حل ہوجائے گا تو میرے خیال میں ایک ہفتہ ہونے کو آیا ہے تو مسئلہ حل ہو چکا ہے ۔
مجھے اب نانا جان کے گھر چلے جانا چاہیے اب تو ولیمہ ہو چکا ہوگا ذریام بھائی کا۔تو اب میرا یہاں رہنے کا کوئی مقصد نہیں ہے ۔
ریدم تم یہاں کسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ اس لیے آئی ہو کیونکہ یہ تمہارا گھر ہے اور تمہیں یہیں پر ہی آنا تھا اب اس چیز کو قبول کرو اور یہاں سے جانے کا خیال اپنے دماغ سے نکال دو ۔
کیا مطلب آپ لوگ مجھے یہاں قید کر کے رکھنا چاہتے ہیں ۔
ریدم بات قید کرنے کی نہیں ہے یہ تمہارا گھر ہے وہ سمجھانے والے انداز میں بولا ۔
غلط ۔۔۔۔ یہ میرا گھر نہیں ہے اور نہ ہی مجھے یہاں پر رہنا ہے جس گھر کے دروازے میرے باپ کے لئے نہ کھل سکے میری ماں کے لئے نہ کھل سکے تو مجھے بھی نہیں چاہئے میں یہاں نہیں رہ سکتی مجھے یہاں سے جانا ہے ۔
ریدم اس دردناک ماضی کو بھول جاؤ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ کبھی واپس نہیں آسکتا دادا جان اپنے کیے پر شرمندہ ہیں ۔۔۔۔
ان کے شرمندہ ہونے سے میرے ماں باپ واپس نہیں آ جائیں گے ۔اور نہ ہی ان کےشرمندہ ہونے سے ان کا جرم مٹ سکے گا قتل کیا ہے انہوں نے میرے ماں باپ کو
۔
خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ ریدم کیسی باتیں کر رہی ہو دادا جان ایسا سوچ بھی نہیں سکتے کوئی باپ بھلا اپنے بیٹے کو مار سکتا ہے ۔یہ یقیناً تم ان لوگوں کی زبان بول رہی ہو جو ان لوگوں نے کہا اسی کو تم نے سچ مان لیا ۔
تمہیں معلوم بھی ہے کہ دادا جان ساگر چاچو کو کتنا چاہتے تھے کتنی محبت کرتے تھے ان سے ۔
میں یہ سب کچھ نہیں جانتی خداش بھائی مجھے یہاں نہیں رہنا آپ کو سمجھ میں کیوں نہیں آرہا ہے یہاں پر مجھے میرے ماں باپ کے قاتلوں کے چہرے نظر آتے ہیں وہ چلاتے ہوئے بولی تو خداش اس کے پاس آ گیا ۔
تو بتاؤ مجھے کہ کون سا وہ چہرہ ہے جس میں تمہارے ماں باپ کے قاتلوں کا چہرہ نظر آتا ہے تم نے دیکھا تھا انہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے تمہارے ماں باپ کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا تو بتاؤ ہمارے گھر میں ایسا کون سا چہرہ ہے جو تمہیں اس قاتل کی یاد دلاتا ہے
تم نے کہا تھا تم اپنے ماں باپ کے قاتل کو دیکھ کر پہچان جاوگی تو بتاو وہ اس کے شانوں پہ ہاتھ رکھتے ہوئے وہ اسے اپنا اعتبار دے رہا تھا ۔
جبکہ اس کا انداز اسے پھوٹ پھوٹ کر رونے پر مجبور کر گیا تھا اس کے سینے سے لگی وہ اپنا ضبط کھو بیٹھی تھی ۔
میں جانتا ہوں تم نے انہیں دیکھا ہے تم ان کو پہچان سکتی ہو تم بس مجھے ایک بار بتاؤ وہ لوگ کون تھے جن لوگوں نے میرے چاچا کا قتل کیا میں تم سے وعدہ کرتا ہوں میں انہیں سزا دلواؤں گا مجھے بتاؤ وہ لوگ کون تھے
وہ اسے اپنے سینے سے لگائے بے حد محبت سے پوچھ رہا تھا جب اچانک دروازہ کھلا اور تایا چاچا کے ساتھ بابا کمرے میں داخل ہوئے اس نے اگلے ہی لمحے چہرہ پھیر لیا تھا
کیا ہوا بیٹا سب ٹھیک ہے نہ ریدم رو کیوں رہی ہے ۔۔۔؟بابانے پریشانی سے پوچھا تھا
کچھ نہیں بابا اسے چاچو کی یاد آ رہی ہے اس لئے رو رہی ہے اس نے نرمی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ۔حوصلہ رکھو تم بیٹا اس کے جانے کا دکھ ہم سب کو ہے ۔اس نے نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا جبکہ وہ بےحد نرمی اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خداش سے مخاطب ہوئے
بیٹا باہر آؤ چھ بجے کی فلائٹ ہے تمہاری اور ساڑھے پانچ بچ چکے ہیں ابھی نکلو گے تو ٹائم پر پہنچ جاؤ گے ۔
جی بابا میں آ رہا ہوں آو ریدم میں کچھ دنوں میں واپس آ جاؤں گا پھر ہم اس موضوع پر تفصیل سے بات کریں گے تب تک تم اچھے بچوں کی طرح گھر پر رہوگی ۔
وہ اسے پیار سے سمجھا تھا۔
ریدم نے چہرا صاف کرتے ہاں میں سر ہلایا تو وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے باہر لے آیا تھا ۔
°°°°°°
ایک کلاس ہوچکی تھی جبکہ دوسری کلاس تھوڑی ہی دیر میں ہونے والی تھی پہلی کلاس میں تو اسے اچھا خاصا مزہ آیا تھا اور کالج پسند بھی آ گیا تھا ۔
پہلا دن تو اس کا کافی اچھا گزر رہا تھا دو تین لڑکیاں اس کی ہلکی پھلکی دوست بھی بن چکی تھی ۔ایک تو انگریزوں سے اس کی بنتی نہیں تھی اور اوپر سے ان کی ساری باتیں بھی انگلش میں
اور جو کوئی دو تین پاکستانی انڈین لڑکی اسے نظر آئی تھی وہ بھی ایسی انگلش جھاڑ رہی تھی کہ وہ خود ہی ان سے دور ہو کر بیٹھ گئی ۔
جب ایک لڑکی اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گئی ۔
کتابیں نکالو لیپ ٹاپ کدھر ہے تمہارا اس دفعہ دوسرےسرآ رہے ہیں یہ کافی سٹریکٹ ہیں وہ اس کی کتاب نکالتے ہوئے بولی تو حرم نے اسے گھور کر دیکھا تھا ۔
تو اپنی بک نکالو نہ میری کیوں نکال رہی ہو ۔۔۔۔؟اس نے کتاب چھینتتے ہوئے کہا تھا ۔وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ہی وہ کلاس کے اندر آ چکا تھا سب لوگ ایک دم کھڑے ہو گئے تو وہ بھی اسے دیکھ کر کھڑی ہوگئی تھی لیکن اس کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر چکی تھی ۔
سارےاسٹوڈنٹس بدل چکے تھے اس کے دوست بدل چکے تھے اس کا کالج بدل چکا تھا لیکن اس کا ٹیچر وہی تھا کھڑوس۔۔۔۔۔اس نے سوچا لیکن پھر خیال آیا کہ وہ اب تو کھڑوس نہیں تھا اب تو وہ بہت اچھا بن چکا تھا ۔
سب کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے وہ اپنا لیکچر سٹارٹ کر چکا تھا ۔
مس حرم آپ کا لیپ ٹاپ کدھر ہے اس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے انگلش میں کہا تھا ۔
وہ تو گھر پہ چھوٹ گیا ۔۔۔۔؟حرم کنفیوز سی اردو میں بولی تھی۔جب کہ سب کے ہاتھوں میں وہ لیپ ٹاپ دیکھ چکی تھی
تو اب خود کیوں نہ گھر چھوٹ گئی ۔۔۔۔؟یہاں آنے سے پہلے آپ کو پتا تھا نا کہ یہاں کے نوٹس لیپ ٹاپ پر نوٹ کیے جاتے ہیں ۔وہ اس کے سامنے کھڑا سخت نگاہوں سے اسے گھورتے ہوئے کافی سخت لہجے میں بولا تھا ۔
ہاں وہ تو مجھےصیام سر نے بھی بتا دیا تھا لیکن میں بھول گئی ۔میں کل لے آؤں گی وہ اس کے غصے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی ۔
جب کل لیپ ٹاپ آ جائے گا تب آپ آ جائیے گا کلاس لینے کے لیے فلحال آپ یہاں سے جا سکتی ہیں ۔وہ اسے باہر کا راستہ دکھاتے ہوئے بولا ۔جب کہ وہ تو اسے دیکھتی رہ گئی تھی اتنی ذرا سی بات پر کلاس سے باہر کون نکالتا ہے ۔
آپ مجھے کلاس سے باہر کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔؟حرم بے یقینی سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔چہرےپر دنیا جہاں کی معصومیت تھی لیکن سامنے کھڑے یشام احمر کو نہ تو اس پر پیار آیا اور نہ ہی ترس
سر سے بحث مت کرو لڑکی سر کو بحث کرنے والے اسٹوڈنٹس پسند نہیں ہیں اس کے قریب سے ایک لڑکی کی بے حد کم آواز آئی تھی ۔
جب کہ وہ غصے سے اپنا سامان اٹھاتی کلاس سے نکل گئی تھی ۔باہر آئی تو اسے بہت غصہ آرہا تھا ساتھ میں رونا بھی ۔
اتنی سی بات پر کلاس سے باہر کون نکالتا ہے وہ بےیقینی سے بولی تھی ۔اور ویسے بھی اسے لیپ ٹاپ چلانا آتا ہی کہاں تھا جو وہ سے لے آتی ۔پہلے اسے اس مصیبت کو سیکھنا تھا ۔بعد میں اس پر کوئی کام کرنا تھا ۔
وہ باہر ہی بیٹھی ہوئی تھی جب دور سے صیام آتا نظر آیا وہ سیدھا اسی کے پاس آیا تھا ۔
°°°°°
گڑیا تم یہاں کیوں بیٹھی ہو طبیعت تو ٹھیک ہے نہ تمہاری میں تمہاری کلاس اندر شروع ہو چکی ہے ۔
جی شروع ہوچکی ہے لیکن لیکچر شروع کرنے سے پہلے انہوں نے مجھے کل اس سے آؤٹ کردیا ۔
وہ منہ بنا کر اسے شکایت کرنے لگی تھی ۔جبکہ کلاس کے اندر وہ ٹیچر دیکھ چکا تھا
کیا اس نے تمہیں کلاس سے نکال دیا یہ تو بہت بری بات ہے ۔۔۔
ہاں یہ بہت نہیں بہت زیادہ بری بات ہے ایسے کیسے مجھے کلاس سے نکال سکتے ہیں صرف لیپ ٹاپ ہی تو نہیں لے کر آئی تھی میں ۔کتاب تو میرےپاس تھی اور پینسل اور نوٹ بک بھی تھی جو کچھ وہ کرواتے میں نوٹ کر لیتی
لیکن نہیں انہیں تو بس میری بےعزتی کرنے کا بہانہ چاہیے تھا اٹھا کر کلاس سے باہر نکال دیا مجھے ۔
میں آئندہ بات نہیں کروں گی میں کبھی منہ ہی نہیں دیکھوں گی آپ مجھے اپنے گھر لے چلیں مجھے ان کے ساتھ ان کے گھر میں بھی نہیں رہنا ۔وہ بہت آگے تک کی پلاننگ کر چکی تھی ۔
ہاں حرکت تو اس نے واقعی ایسی ہی کی ہے لیکن ہو سکتا ہے کہ اس نے . تمہیں نہیں بلکہ کسی اور کو کلاس سے نکالا ہو وہ اس کی نیا پار لگانے کا چھوٹا موٹا انتظام کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔
مس حرم کون ہے کلاس میں اور کون ہے کلاس میں جو اپنا لیپ ٹاپ بھول گیا تھا یہ جو آپ کے سامنے بیٹھی ہے ۔۔اس نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
اچھا یار ٹھیک ہے میں تمہاری بات کو سمجھ گیا لیکن ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
بس بس اب زیادہ پردہ نہ ڈالیں کیا ہو سکتا ہےاور کیا نہیں ہو سکتا سب کچھ جان چکی ہوں میں ٹیچر ہونے کا روعب جمع رہے ہیں اور کچھ بھی نہیں ۔وہ خود ہی فیصلہ کرتے ہوئے بولی تھی
ہاں بالکل یہ بھی ہو سکتا ہے تو تمہاری ناراضگی پکی ہے اس کے ساتھ وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تو وہ منہ بسور کر زور شور سے ہاں میں گردن ہلائی ۔
ٹھیک ہے اب تم یہاں تھوڑی دیر میرا انتظار کرو میں اپنی کلاس ختم کر کے آتا ہوں پھر ہم دونوں لنچ کرنے چلیں گے اس کے بغیر وہ اٹھتے ہوئے بولا
حرم کو بھی اس کی بات کافی زیادہ پسند آئی تھی ۔
اسی لئے مسکرا کر اسے جانے کی اجازت دے دی۔جبکہ کلاس ختم کرنے کے بعد وہ بنا اسے دیکھے یا شاید مکمل اگنور کرکے کہنا بہتر رہے گا وہ وہاں سے سیدھے اسٹاف روم کی طرف چلا گیا تھا ۔
اف اللہ یہاں آکر تو اس بندے کی مزاج ہی نہیں مل رہے وہ بس اس کی پشت کو گھورتی رہ گئی
°°°°°
دادا جان کے بلاوے پر وہ ان کے کمرے میں آیا تو وہ غصے سے ادھر ادھر گھوم رہے تھے ۔
جی دادا جان آپ نے مجھے بلایا یہاں سب خیریت تو تھی نا ۔۔۔۔۔؟وہ ان سے پوچھنے لگا
جب وہ اس کے قریب آئے اور اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سر پر رکھ دیا پہلے تو ان کی اس حرکت پر وہ بوکھلا کر انہیں دیکھنے لگا تھا پھر پریشانی سے پوچھنے لگا ۔
دادا جان یہ آپ کیا کر رہے ہیں سب ٹھیک تو ہے نا ۔۔۔۔۔؟
ہم تم سے جو سوال کر رہے ہیں ہمیں اس کا صاف صاف اور سچ سچ جواب دو کیا ریدم کو اس حویلی تم نے پہنچایا ہے؟ کیا ریدم کو تم یہاں لے کر نہیں لانا چاہتے تھے؟کیا تم اس سے نکاح نہیں کرنا چاہتے تھے صرف ہمیں دھوکہ دے رہے تھے ؟۔
وہ ایک ہی سانس میں کئی سوال کر گئے جبکہ وہ کوئی جواب دیےبنا نظر جھکا گیا تھا وہ ان کے سر کی جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا
جواب دو زریام جو سوال میں نے پوچھا ہے اس کا سچ سچ جواب دو ۔
دادا جان وہ ۔۔۔۔۔۔۔
ہاں یا نا اور کوئی بات نہیں ہمہیں ہاں یا نہ میں جواب چاہیے ۔
دادا جان میں ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں یا نا زریام۔۔۔۔۔۔ وہ دھاڑےتھے
ہاں۔۔۔۔” لیکن
چٹاخ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کچھ بولنے ہی والا تھا کہ دادا جان کا ہاتھ اٹھا ۔
تم نے ہمیں دھوکا دیا اپنے دادا جان کو اس لڑکی کی خاطر تم ہم سے جھوٹ بول رہے ہو ہمارے ساتھ فریب کر رہے ہو ۔۔۔۔۔۔؟
کیوں ذریام کیا ہے اس لڑکی میں کہ تم اس کی خاطر اتنے گر گئے ۔
کیوں کیا تم نے ایسا ذریام جواب دو ۔کیوں توڑا تم نے ہمارا مان کیوں کیا تم نے ہمارے ساتھ ایسا ۔۔۔۔وہ اس کا گریبان پکڑتے ہوئے پوچھ رہے تھے جبکہ وہ نظر جھکائے کھڑا تھا ۔
میں کہتا ہوں جواب دو ذریام کیوں اس لڑکی کی خاطر تم ہم سب کو بھولتے جا رہے ہو ۔۔۔۔۔؟
کیونکہ میں محبت کرتا ہوں اس سے دادا جان وہ چاہت ہے میری میں اسے چھوڑ نہیں سکتا بہت چاہنے لگا ہوں اسے اگر عمایہ نہیں تو ذریام بھی نہیں میں اس کی خاطر کچھ بھی کر سکتا ہوں کچھ بھی ۔میں اس کے بغیر مر جاؤں گا دادا جان
جب وہ میرے آس پاس نہیں ہوتی مجھے لگتا ہے میں دوسری سانس نہیں لے سکوں گا آپ اسے میری زندگی سے نکالنا چاہتے ہیں لیکن اگر وہ میری زندگی سے نکل گئی تو میں ختم ہو جاؤں گا
۔وہ بولتا چلا جارہا تھا جب کہ دادا جان کا ہاتھ اس کے گریبان پر ڈھیلا ہو گیا وہ کچھ بھی نہ بول پائے ۔
°°°°°°°°°°
