Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 27)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 27)
Junoniyat By Areej Shah
وہ کمرے میں آیا تو عمایہ سارا سامان پیک کرکے اس کے آنے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ وہ ایک بار دیکھ لے کہ کچھ چھوٹ تو نہیں رہا۔
وہ اسے اپنے ساتھ مری لے کر جا رہا تھا تو اس حساب سے سارے گرم کپڑے رکھنے تھے اور اس نے بہت ہی سلیقہ مندی سے سارے گرم کپڑوں کو اس کے بیگ میں پیک کر دیا تھا اور اپنی پیکنگ بھی وہ مکمل کر چکی تھی
ارے واہ تم نے ساری پیکنگ کر کے بہت اچھا کیا صبح جلدی نکلیں گے پہلے تمہارے ماں باپ سے ملیں گے اس کے بعد چلیں گے
کیوں کہ ویسے میرا ارادہ تو صرف 4سے5 دن جانے کا تھا لیکن پھر میں سوچ رہا ہوں کہ ہنی مون پر جا رہے ہیں تو پندرہ بیس دن تو ویسے ہی لگ جائیں گے
وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اسے بتانے لگا جبکہ اس کے منہ سے اپنے ماں باپ کا ذکر سن کر وہ فورا اس کے پاس آ گئی تھی
کیا آپ نے یہ کہا کے آپ میرے بابا اور امی سے ملنے چلیں گے؟؟؟ وہ حیرانگی سے پوچھ رہی تھی جبکہ اس کی حیرانگی کو دیکھتے ہوئے اس نے مسکرا کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے تھے
کیوں کیا تم اپنے والدین سے نہیں ملنا چاہتی ایک ماہ ہو چکا ہے شادی کو اب تو تمہیں خود ہی ذکر کرنا چاہیے لیکن میں سمجھ سکتا ہوں تم ان لوگوں کا ذکر کیوں نہیں کرتی خیر مجھے خود اپنی بیوی کا چہرہ پڑھنا آتا ہے وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا
عمایہ بنا کچھ سوچے سمجھے نم آنکھوں سے آنسو پیچھے دھکلتی اس کے سینے پر اپنا سر رکھ چکی تھی اس کی بےاختیار حرکت پر زریام مسکراتے ہوئے اس کے گرد اپنا گھیرا تنگ کرنے لگا
آپ بہت اچھے ہیں بہت بہت بہت زیادہ اچھے میں خوش قسمت ہوں کہ مجھے آپ جیسے شخص کا ساتھ ملا ہے عمایہ اس کے دل کے مقام پر اپنے لب رکھتے ہوئے بولی۔
ارے واہ مجھے تو پتا نہیں تھا کہ میں اتنا اچھا ہوں تھینک یو سو مچ مجھے بتانے کے لئے ویسے آپ کے بتانے والا انداز کچھ زیادہ پیارا نہیں ہے میری نیت خراب ہو رہی ہے وہ اس کی نازک گردن سے بال ہٹاتے ہوئے بولا
جب کہ اپنے بال گردن سے ہٹنے کے بعد اس کے لبوں کا لمس محسوس کرکے وہ مزید اس کے سینے میں سمٹ گئی تھی۔
°°°°°
دن تیزی سے گزر رہے تھے کہ خداش آج کل بہت زیادہ مصروف رہنے لگا تھا گھر آنے کا بھی وقت نہیں مل رہا تھا
ایسے میں وہ اتنے دنوں سے اسے دیکھنے کے لئے بھی بے چین تھا جو پہلے پیپر کے بعد تین دن کی چھٹیوں پر ہونے کی وجہ سے اسے کہیں نظر نہیں آئی تھی ۔
اس نے تینوں دن حرم سے پوچھا تھا کہ وہ کہاں ہے جس پر اسے یہی جواب ملا کہ ان کی دو چھٹیاں ہیں اب کل اس کا پیپر تھا تو یقیناً کل ہی وہ اسے نظر آنے والی تھی ۔
اس دن اس نے اپنے نکاح کی خوشی میں اسے ایک بہت خوبصورت بریسلیٹ گفٹ دیا تھا جو اس نے اسی جیولری شاپ سے خریدا تھا جہاں وہ اسے لے کر گیا تھا ۔
وہ اتنی بیزار کیوں تھی آخر وہ اس نکاح سے خوش کیوں نہیں تھی وہ اسے پسند کیوں نہیں کرتی تھی وہ کچھ بھی سمجھ نہیں پا رہا تھا
اسے معلوم تھا وہ کبھی بھی اسے پسند نہیں کرتی تھی اور یقینا اس نے اس کے بارے میں کبھی بھی کچھ ایسانہیں سوچا تھا ۔
اس کا نکاح اس کے ساتھ ہوگا یا وہ اس کی ہمسفر بن جائے گی اس بات کا خیال شاید اسے کبھی بھی نہیں آیا ہوگا ۔
ہوسکتا تھا کہ فی الحال وہ اس رشتے کو قبول نہ کر پا رہی ہو لیکن آگے چل کر وہ یقینا اس کے اور اپنے متعلق تفصیل سے سوچے گی اسے وقت دینا چاہیے ۔
وہ کمرے میں بیٹھا یہی سب سوچ رہا تھا ۔پھر خیال آیا کہ ان دونوں میں ایسا تعلق بن چکا ہے جس کے بعد ان دونوں کو ایک دوسرے کو ہر حال میں قبول کرنا ہے تو وقت دے کر وقت برباد کرنے کا کوئی مقصد نہیں
اسے اس سے نارمل بات کرنی چاہیے اور اسے اس بات کا احساس دلانا چاہئے کہ وہ اس کی منکوحہ ہے اور جلد ہی اس کی بیوی بننے والی ہے
اس سے دور رہ کر اسے اس رشتے کو سوچنے سمجھنے کا وقت دے کر وہ صرف غلطی ہی کر سکتا تھا ۔اب صرف وہ اسے رشتے کو قبول کرے اور اس کے ساتھ ایک نئی زندگی کی شروعات کرے ۔یہی ایک بہترین فیصلہ تھا اور وہ یہی کرنے والا تھا۔
°°°°°
وہ اس گھنے جنگل میں ہر طرف اسے تلاش کر رہا تھا اس نے دو تین دفعہ آواز دے کر اسے بلایا تھا لیکن کوئی جواب نہ ملا
اس کا فون صرف اٹھارہ پرسنٹ باقی تھا تھوڑی ہی دیر میں اس کا فون بھی بند ہو جاتا نہ جانے وہ اس گھنے جنگل میں کس طرف نکل گئی تھی کہ اسے کہیں سے بھی اس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا
وہ اونچی اونچی آواز میں اسے پکار رہا تھا پھر اس نے یہ چیز اپنی بیوقوفی سمجھ کر ترک کر دی تھی کیونکہ جنگل جانوروں سے بھرا ہوا تھا وہ اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کی غلطی نہیں کر سکتا تھا
ویسے تو اس کے ساتھ بہت خطرناک جانور تھا جو کسی کو بھی چیر پھاڑ کر رکھ سکتا تھا لیکن شائزم اپنے ٹائیگر پر کسی طرح کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا
اس نے جنگل کی طرف خطرناک بھیڑیوں کو جاتے دیکھا تھا اس وقت تو اپنی گاڑی میں تھا اور اس نے گاڑی سے نکلنے کی غلطی نہیں کی تھی
لیکن اس وقت یہ جنگل اس کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا تھا یہ بات بہت اچھے طریقے سے سمجھ رہا تھا ۔
اسے اور تو کچھ نہیں پتا تھا صرف یہ بتا تھا کی وہ لڑکی نہ جانے کس طرح سے اس کی داداجان کی نواسی ہے اور دادا جان اس سے بہت محبت کرتے ہیں ۔
اس دن ہوٹل میں دادا جان کے سب سے خاص ملازم کو دیکھ کر اس نے سب سے پہلے انہیں یہ بات بتائی تھی کہ ڈرائیور چاچا یہاں کسی انجان لڑکی کے ساتھ موجود ہیں۔
پر دادا جان نے اس سے کچھ بھی نہیں چھپایا تھا انہوں نے اسے بتایا تھا کہ وہ لڑکی رشتے میں ان کی نواسی لگتی ہے حالانکہ اس کے حساب سے ان کی کوئی بیٹی نہیں تھی۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ ریدم دادا جان کی نواسی کس طرح سے لگتی ہے
جب کہ دادا جان نے کہا تھا کہ تفصیل سے ساری باتیں اسے تب بتائیں گے جب وہ گھر آئے گا لیکن وہاں رہ کر اسے ریدم کا خیال رکھنا ہے۔
یہ لڑکی اس کے دادا جان کے لیے اتنی خاص تھی تو یقینا اس میں کچھ تو ایسا تھا بس یہی وجہ تھی کہ وہ اس کے پیچھے یہاں تک آیا تھا ورنہ شاید وہ اس طرح جنگل میں آنے کی غلطی کبھی نہ کرتا۔
وہ تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا جب اسے دور سے چیخ کی آواز سنائی دی وہ لمحے میں سمجھ گیا تھا کہ وہ کون ہو سکتا ہے۔
شائزم تیزی سے اس کی طرف بھاگا تھا جبکہ ٹائیگر بھی اس کے پیچھے آ رہا تھا ۔
وہ آگے کی طرف بڑھ رہا تھا اس نے اپنے موبائل کی ٹارچ آن کر رکھی تھی تاکہ اسے راستہ نظر آ سکے
لیکن اسے سامنے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا جنگل اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اور وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کس طرف جا رہا ہے
اس کا موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹنے ہی لگا تھا کہ موبائل کو اس نےسختی سے پکڑ لیا اورخود سامنے موجود کھائی میں تیزی سے نیچے کی طرف گرتا چلا گیا۔
°°°°°°°
وہ جنگل میں کدھر سے کدھر نکل آئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا
وہ تو بس اپنی کیٹی کو ہی ڈھونڈنے میں لگی ہوئی تھی
اس کے موبائل کی بیٹری ڈیڈ ہو چکی تھی اب وہ اندھیرے میں آگے بڑھ رہی تھی اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا بلکہ یہاں آنے سے پہلے اسے ڈرائیور چاچا سے کہنا چاہیے تھا
وہ یقینا اس کی مدد کرتے اس نے بہت بڑی بیوقوفی کی تھی جس کا احساس اسے اب ہو رہا تھااب اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے کس طرف جائے
فون بند ہوجانے کے بعد اب اسے رونا آ رہا تھا یہ جنگل بہت خطرناک تھا دور دور سے جانوروں کی آوازیں آ رہی تھیں
اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا ڈر بھی بڑھتا چلا جا رہا تھا نہ جانے اس کی کیٹی کہاں اور کس حال میں ہو گی کہیں وہ کسی جانور کا کھانا نہ بن چکی ہو ۔
اس کی اپنی جان خطرے میں تھی اور اسے اس وقت بھی اپنی کیٹی کی فکر لگی ہوئی تھی اس کے پاس کوئی نہیں تھا سوائے اس معصوم سی بلی کے
کچھ ہی دنوں میں وہ اس کے لئے بے حد خاص ہو گئی تھی وہ اس کے لئے بالکل اس کی فیملی کا ممبر تھی اس کے علاوہ کوئی نہیں تھا اس کے پاس
جس سے وہ اپنے دکھ شیئر کر پاتی اپنی باتیں کہہ پاتی جس سے وہ پیار کر پاتی اس جنگل میں وہ اسے اکیلا چھوڑنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی
اسے دور سے روشنی کی جھلک نظر آئی شاید ڈرائیور چاچا اسے ڈھونڈتے ہوئے نیچے کی طرف آ گئے تھے
وہ فورا اٹھ کر اس طرف بھاگی تھی کہ اس کے پیر کے نیچے کوئی ہلتی جلتی چیز آئی
جسے محسوس کرکے اس نے چیخ ماری اور آگے بھاگنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ نیچے کی طرف گرتی چلی گئی
°°°°°°
وہ بہت زور سے زمین پر آ گرا تھا لیکن اس کے ہاتھ میں موجود موبائل اب بھی جل رہا تھا جس کی مدد سے تھوڑے فاصلے پرے ایک لڑکی کے وجود کو ہی دیکھ چکا تھا ۔
وہ جلدی سے اپنی پرواہ کیے بغیر اس لڑکی کے پاس آیا تھا جو شاید بیہوش پڑی تھی اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے اسے جگانےلگا شائزم ریلکس ہوا وہ کم از کم اسے مل چکی تھی ورنہ اس گھنے جنگل میں وہ امید چھوڑ چکا تھا۔
ریدم ریدم اٹھ ریدم یار اٹھ جاؤ کیوں پریشان کر رہی ہو وہ اسے جھنجھوڑ کر کہنے لگا جب اسے اس کے وجود میں ہلکی سے حرکت محسوس ہوئی۔
خود پر جھکے ہوئے آدمی کی آواز وہ پہچان چکی تھی ۔لیکن جسم میں درد کی ایسی لہریں اٹھ رہی تھی کہ وہ چاہ کر بھی وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی ۔
میری کمر میں بہت درد ہو رہا ہے وہ بڑی مشکل سے بول پائی تھی
اب اتنی اونچی پہاڑی سے چھلانگ لگاؤ گی تو کمر میں درد نہیں ہوگا کیا۔۔!!! کس نے کہا تھا خود کشی کرنے کے لئے اس جنگل میں آ جاؤ مجھے کہہ دیتی میں اوپر ہی گلا گھونٹ کر جان نکال دیتا ۔
پچھلے تین گھنٹوں سے جان عذاب کر رکھی ہے تمہاری بلی وہاں اوپر ہے لیکن تم مجھے یہ بتاؤ کہ تمہیں کس عقل کے اندھے نے کہا تھا کہ تمہاری بلی یہاں نیچے جنگل میں اپنی کسی بوائے فرینڈ سے ملاقات کرنے کے لئے آئی ہے وہ اٹھا کر بولتے ہوئے اسے کہنے لگا جبکہ اس کا انداز اسے بھی برا لگا تھا
لیکن یہ جان کر کے اس کی بلی اوپر ڈرائیور چاچا کے پاس ہے اسے کچھ سکون ہوا تھا
میری کیٹی کے بارے میں کچھ الٹا سیدھا بولنے کی ضرورت نہیں ہے وہ ایسی بالکل بھی نہیں ہے وہ یہاں کسی سے ملنے نہیں آئی تھی اور تمہاری اس گرل فرینڈ ماریہ نے مجھے کہا تھا کہ وہ یہاں نیچے ہے اس کے کہنے پر میں آئی تھی اس طرف اس نے فورا اس کی غلط فہمی دور کر دی تھی کہیں وہ اس کی کیٹی کو ایسا ویسا نہ سمجھ لے
وہ لڑکی میری گرل فرینڈ نہیں ہے سمجھی تم ۔
وہ تمہاری کیا ہے کیا نہیں میں نہیں جانتی اور نہ ہی مجھے جاننے میں انٹرسٹ ہے مجھے بس یہ جاننا ہے کہ اب ہم یہاں سے کیسے نکلیں گے ۔وہ پریشانی سے اسے دیکھ کر کہنے لگی تھی
یہ تو میں بھی نہیں جانتا بلکہ میں تو یہ سوچ رہا ہوں کہ میرا موبائل فون تھوڑی دیر میں بند ہو جائے گا پھر کیا کریں گے ۔اس نے اسے ایک اور وجہ دی تھی پریشان ہونے کی ۔
کیا مطلب تمہارا فون چارج نہیں ہے اگر اٹھا کر لے ہی آئے تھے تو فل چارج کر کے بھی لے اتے وہ اسے گھورتے ہوئے بولے
ہاں بالکل کیوں نہیں مجھے تو آپ بتا کر آئی تھی نہ کہ رانی صاحبہ یہاں پر سیر سپاٹے کرنے آئیں گی جن پر اپنے موبائل کی روشنی رکھنا میں مجھ پر فرض ہے ۔
آلموسٹ فل چارجنگ تھی تمہیں ڈھونڈنے کے چکر میں تین گھنٹے میں ساری بیٹری بھی گئی اور میں نے کھانا بھی نہیں کھایا بھوک سے میری حالت خراب ہو رہی ہے وہ پریشانی سے کہہ رہا تھا ۔
کتنی تھرڈ کلاس کوالٹی کا فون ہے تمہارا اتنی جلدی بیٹری لو ہو گئی دیکھنے میں تو اچھا خاصا مہنگا لگتا تھا خیر بھوک تو مجھے نہیں لگ رہی میں ڈنر کر کے آئی تھی۔اس نے خوش ہوتے ہوئے بتایا تھا ۔
مبارک ہو اب منہ بند کر لو ہنس ہنس کر مجھے چڑانے کی ضرورت نہیں ہے یہ
نہ ہو کہ میں تمہیں کھا جاؤں ۔وہ دھمکی دے کر آگے بڑھنے لگا جب اس نے بھی تیزی سے قدم اس کے پیچھے ہی بڑھائے تھے
اس کا ٹائیگر بھی ساتھ ساتھ ہی چل رہا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب اسے اس کے ٹائیگر سب بالکل ڈر نہیں لگ رہا تھا ۔
°°°°°°
خداش صبح گاڑی سٹارٹ کرنے ہی لگا تھا جب اسے دیشم اندر سے آتی ہوئی نظر آئی ایک پل کے لئے وہ اسے دیکھنے لگا اس کا دل چاہا کہ اسے دیکھتا ہی رہا ہے وہ خوبصورت تو ہمیشہ سے بے انتہا تھی
اور اپنے آپ کو یوں نقاب میں چھپائے وہ سیدھی اس کے دل میں گھر کر جاتی تھی اس وقت بھی وہ اسے اپنے دل پر قدم رکھتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی
اس کی ماں کا کہنا تھا کہ منشا اس سے زیادہ خوبصورت ہے اور سامیہ کے بارے میں بھی ان کا یہی خیال تھا ان کا ارادہ تھا منشا یا سامیہ میں سے کسی ایک کو اپنے گھر کی بہو بنانے کا تھا لیکن وہ اپنے دل کا کیا کرتا جو نہ جانے کتنے سالوں سے اس لڑکی نے اپنی قید کر رکھا تھا
بندہ سلام دعا ہی کر لیتا ہے وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر پیچھے بیٹھتے ہوئے اپنی کتاب دیکھ رہی تھی جب اس نے بڑے ہی دلکش انداز میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا حرم ابھی اندر ہی تھی
یہ اچھا موقع تھا اس سے بات کرنے کا اس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر احسان کرنے والے انداز میں سلام دیا تھا جس کا جواب اسے بڑے ہی خوبصورت انداز میں ملا تھا۔
ناراض ہو کیا مجھ سے وہ اب پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے پوچھنے لگا وہ کتاب سے نگاہیں ہٹا کر اس کی طرف دیکھنے لگی
اس دن زبردستی اپنے ساتھ لے کر جا کر اس نے زبردستی اس کے ہاتھ میں ایک خوبصورت برسلیٹ پہنایا تھا ۔
اور ساتھ میں یہ تاکید بھی کی تھی کہ یہ وہ کبھی بھی اپنے ہاتھوں سے نہ اتارے لیکن اس کی ہر بات ماننا اس پر فرض تو ہرگز نہیں تھا اسی لیے وہ اس کا بریسلٹ اتار کر رکھ آئی تھی۔
جس پر خود اس کا دھیان ابھی تک تو ہرگز نہیں گیا تھا فلحال تو وہ نگاہیں بھر کر اسے دیکھنے کا ارادہ کیے ہوئے تھا
کبھی پیار سے دیکھ لیا کرو ہمیشہ ان نگاہوں میں غصہ کیوں ہوتا ہے وہ شوخ ہو رہا تھا جب کہ اس کی بات پر اس نے دروازے کی طرف دیکھا تھا جہاں سے حرم ابھی تک نہیں نکلی تھی ۔
میں کسی طرح کی فضول بات نہیں کرنا چاہتی حرم آنے والی ہوگی وہ کتاب دوبارہ اٹھانے لگی
اس میں فضول کیا ہے منکوحہ محترمہ حال چال ہی تو پوچھ رہا ہوں تم سے اس کے انداز پر وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوا ۔
بریسلٹ کہاں ہے تمہارا وہ جو اس کی طرف سے کسی جواب کی امید رکھتا تھا اسے یوں ہی کتاب پر جھکے دیکھ بد مزہ ہو کر پوچھنے لگا
اس نے ایک نظر اپنے بازو پر دیکھا اور پھر اس کی طرف دیکھنے لگی ۔
وہ شاید میں نے کمرے میں اتار کر رکھ دیا وہ جلدی سے بولی تھی لیکن انداز ایسا تھا جس سے وہ یہیں سمجھے کہ وہ پہننا بھول گئی ہے نہ کہ جان بوجھ کر اتار کر آئی ہے۔
میں نے تم سے کہا تھا نہ کہ اسے ہمیشہ میں تمہارے ہاتھ پر دیکھوں عجیب غیر زمہ دار لڑکی ہو تم جاؤ پہن کر آؤ وہ حرم کو باہر نکلتے دیکھ کر اسے کہنے لگا
میں واپس آ کر پہن لوں گی میرا نہیں خیال کہ اسے یونیورسٹی پہن کر جانے کی ضرورت ہے ویسے بھی وہ بہت قیمتی ہے میں گم کر دوں گی اس طرح جیولری نہیں پہنتی میں وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی لیکن پھر اسے محسوس ہوا کہ اس کی حرکت اسے بہت ناگوار گزری ہے ۔
میں نے کہا ابھی اور اسی وقت جاکر پہن کر آو وہ سنجیدگی سے بولا ۔
میں نے کہا میں واپس آ کر پہن لوں گی ۔۔
اور میں نے کہا کہ ابھی پہن کر آو وہ اس کی بات کاٹ سختی سے بولا۔
آپ کامسئلہ کیا ہے آخر وہ تنگ آ گئی تھی ۔
میرا مسئلہ تم ہو لڑکی اگر تم نہیں پہن کر آؤ گی تو تمہارا پیپر مس ہو جائے گا میں تمہیں یونیورسٹی تو نہیں جانے دوں گا اور میرے علاوہ کوئی تمہیں یونیورسٹی لے کر بھی نہیں جائے گا ۔وہ پتا نہیں کیوں اس حد تک ضد پر اتر آیا تھا ۔
۔
وہ غصے سے گاڑی سے نکلتے ہوئے گھر کے اندر کی طرف چلی گئی تھی ۔
حرم نے پریشانی سے جاتے ہوئے دیکھا ۔
کیا ہوا بیٹا تم واپس کیوں آ گئی ۔۔۔امی ملازمہ کے ساتھ ناشتے کے برتن اٹھا رہی تھی جو اسے واپس آتے ہوئے دیکھا ۔
کچھ نہیں زندگی حرام ہو گئی ہے ۔وہ کہہ کر بھاگ گئی تھی جبکہ اماں اس کی بات کا مطلب نکالتی رہیں
°°′°°°
