65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 91)

Junoniyat By Areej Shah

میرے سر آ گئے ۔باباجان ویرو یہاں آئیں نا دیکھیں کون آیا ہے۔سب کہاں ہیں دیکھیں نا کتنا خاض مہمان آیا ہے میرا سب کہاں چھپ کر بیٹھیں ہیں باہر نکلیں ۔حرم بہت خوش تھی۔اور چلاچلا کر شور مچاتے ہوئے سب کو بلا رہی تھی۔

اس کی چہکتی آواز پر سب لوگ باہر آ گئےتھے۔

جہاں دروازے پر انہیں ایک خوبرو سا نوجوان کھڑا نظرآیا جو اسے خاموش ہونےکا اشارا کر رہا تھا۔لیکن وہ کیوں خاموش ہوتی ۔اس کا سب سے پیارا دوست پلس ٹیچر پہلی بار اس کے گھر آیا تھا ۔

کیا ہش ہش ۔۔۔۔۔؟آپ ہش ہو جائیں کیا آپ کو پتا نہیں ہے جب کسی کے گھرمہمان بن کے آتے ہیں تب یوں اشارے نہیں کرتے ۔وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تو صیام نے ہاں میں سر ہلایا تھا ۔

وہ بےچارہ زندگی میں پہلی دفعہ کسی کے گھر مہمان بن کر آیا تھا تو اسے مہمان بننے کے رولزتو ہرگز نہیں آتے تھے ۔

السلام علیکم اس نے سامنے سے آتے ہوۓ دادا جان کو دیکھتے ہوئے سلام کیا تھا جبکہ ان کے ساتھ آتی پیچھے عورت کے سامنے جھک کر سر پر پیار لیا تھا ۔

وعلیکم اسلام جیتے رہو خوش رہو ہمیں آج ہی پتہ چلا کہ تم یشام کے دوست ہو تمہیں دیکھ کر ہمیں بہت خوشی ہوئی ۔تمہارا آنا تو یشام کے لیے سرپرائز ہے اسے تو ہم نے بتایا ہی نہیں کہ تم یہاں آنے والے ہو تمہیں دیکھ کر خوش ہو جائے گا ۔

دادا جان بہت خوشی سے اسے بتا رہے تھے جبکہ وہ جانتا تھا کہ وہ اس کے یہاں آنے پر کتنا خوش ہونے والا ہے یہ تو شکر تھا کہ وہ اس گھر کو اپنا گھر مانتا ہی نہیں تھا ورنہ یقینا وہ اسے دھکے مار کر اس گھر سے باہر نکالتا ۔بلکہ واپس جہاز پر بھی چڑھا کر آتا

ابھی سو رہا ہوگا یقینا اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا ۔

ارے نہیں سو کہاں رہا ہے میرے خیال میں واک کرنے کے لیے گیا ہے بس تھوڑی ہی دیر میں آتا ہوگا تم بھی فریش ہو جاؤ ناشتہ ساتھ کریں گے ۔

دادا جان نے مسکراتے ہوئے اسے بتایا تھا لیکن اس کے چہرے پر اس سردی کے موسم بھی پسینہ آنےلگاتھا۔

تمہیں یاد ہے نا حرم تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تم مجھے کچھ نہیں ہونے دوگی دیکھو میں کنوارہ نہیں مرنا چاہتا۔وہ اس کے کان کے قریب جھکتے ہوئے بولا تھا جس پر حرم نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اسے دلاسہ دے کر اپنے سر کو خم دیا تھا ۔

آپ بالکل بے فکر ہو جائے میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گی بلکہ میں اپنی جان پر کھیل کر آپ کی عزت بچاؤں گی میرا مطلب ہے جان بچاؤں گی ۔

وہ اسے پوری پوری سپورٹ دے رہی تھی جب کہ وہ ملازم کے ساتھ فریش ہونے کے لیے گیسٹ روم میں آ گیا تھا لیکن وہ اندر ہی اندر یہ سوچ کر اس کی حالت بری ہو رہی تھی کہ یشام اس کا کیا حال کرے گا کیوں کہ یشام نے اس سے کہا تھا کہ وہ اگلے ہفتے واپس آنے والا ہے لیکن حرم کی قسم اسے یہاں تک کھینچ لائی تھی

°′°°°°°

وہ ہر طرف سردار نامی آدمی کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن اس نام کا کوئی بھی بندہ ان کے آس پاس یا ان کے جاننے والوں میں سے تھا ہی نہیں ۔

آخر کون ہو سکتا تھا یہ شخص اور کیا دشمنی تھی ان لوگوں کے ساتھ اس کی کہ اس نے ان لوگوں کے پورے خاندان کو برباد کرنے کی کوشش کی تھی ۔

وہ جو انہیں برباد کرنے کے لیے یہاں تک پہنچا تھا یقینا وہ خاموش تو اب بھی نہیں بیٹھنے والا ہوگا اس سب کے پیچھے یقینا کوئی بہت بڑی وجہ تھی جسے وہ لوگ نہیں جانتے تھے ۔

لیکن یہ سردار نامی شخص ان کے خاندان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا وہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اس کی دشمنی صرف ساگر اور احمر سے تھی یا اس کی دشمنی میں ان کا پورا خاندان شامل تھا۔

ان کے دشمنوں میں سوائے شاہ خاندان کے اور کوئی نہیں تھا جس کی دشمنی حد سے زیادہ بڑھ گئی ہو لیکن شاہ خاندان والے ایک لمبے وقت سے بالکل خاموش تھے

ان لوگوں کو ان لوگوں سے کوئی سروکار ہی نہیں تھا ان کی طرف دیکھنا تک وہ پسند نہیں کرتے تھے کہ ایسے میں ایسا کیسے ممکن تھا کہ وہ لوگ دوبارہ اس طرح کی کوئی کوشش کرتے۔

یہاں تک کہ اپنی بیٹی کی موت کے بعد ان لوگوں نے کاظمی خاندان والوں سے بات کرنا چھوڑ دیا تھا وہ اس راستے پر بھی نہیں جاتے تھے جہاں سے کاظمی خاندان کے لوگ گزر رہے ہوتے ۔

تو پھر ایسا کیسے ممکن تھا کہ وہ لوگ اس طرح اندر ہی اندر کوئی چال چلتے ۔یہ حقیقت تھی کہ ان کے اعتبار کے قابل وہ لوگ بھی نہیں تھے لیکن اس بات پر یقین کرنا بھی ممکن نہیں تھا کہ یہ ان کی چال تھی ۔

یہ کوئی اور تھا جو ان دونوں خاندانوں کی دشمنی کو استعمال کر رہا تھا یہ تو حقیقت تھی کہ سب جانتے تھے کہ ان کا شک شاہ خاندان پر ہی جائے گا ۔

لیکن شاہ خاندان میں بھی سردار نام کا کوئی آدمی نہیں تھا سردار نام تھا یا صرف انہیں گمراہ کرنے کے لیے اس نام کو بنایا گیا تھا ۔

اس وقت ان کے دماغ میں ہر طرح کے سوچ آ رہی تھی لیکن ان کے پاس جواب نہیں آرہا تھا وہ ہر ممکن کوشش کر رہے تھے اس نام کے پیچھے کی پہیلی کو سمجھنے کی لیکن یا تو وہ آد می ضرورت سے زیادہ شاطر تھا یا یہ اس کا بنایا ہوا ایک کھیل تھا ۔

جسے وہ لوگ سمجھ نہیں پا رہے تھے وہ اس نام کے پیچھے الجھ کر اپنے بھائیوں کے قاتل کو یوں آزاد نہیں گھومنے دے سکتے تھے اس نے صرف ان کے بھائیوں کاقتل نہیں کیا تھا بلکہ نہ جانے تمنا جیسی کتنی معصوم لڑکیوں کی زندگی اس نے تباہ کر رکھی تھی ۔

انہیں اس آدمی کو جلد سے جلد بے نقاب کرنا تھا لیکن کیسے ان کے پاس کوئی سراغ نہ تھا

°°°°°°°

ارے بیٹا ٹھیک سے کھاؤ ۔۔۔۔اتنے فارمل کیوں ہو رہے ہو ۔۔۔۔؟ اپنا ہی گھر سمجھو ۔۔۔۔۔” تائی امی اس کی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے بول رہی تھیں۔جب کہ وہ حرم کو آنکھوں ہی آنکھوں میں التجا کرتے ہوئے اسے یشام سے بچانے کے لئے کہہ رہا تھا ۔

کیا ہے آپ کو میرے شوہر اتنے بھی ظالم نہیں ہیں کہ آپ کو کھا جائیں گے آپ نیچے دیکھ کر کھانا کھائیں ۔ایویں میری نظروں میں انہیں ظالم بنانے کی کوشش کیے جا رہے ہیں وہ خاضی اونچی آواز میں بولی تھی ۔

ارے تم اسے نہیں جانتی میں بچپن سے جانتا ہوں وہ کیسا ہے ۔وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا تھا جبکہ سب لوگ ان کی طرف متوجہ تھے ۔

ہاں بس اسی بات کا طعنہ دے دے کر مار ڈالیے گا مجھے کہ آپ میرے شوہر کے بچپن کے دوست ہیں اور بچپن سے ہی جانتے ہیں اگر میرے پیارے چچا جان کا دل آپ کے بیسٹ فرینڈ کی اماں پر نہ آیا ہوتا نہ تو وہ بھی یہاں پر ہمارے پاس ہماری حویلی میں ہوتے اور میں بھی بچپن سے جانتی انہیں ۔

اور اب خبردار جو آپ نے مجھے اس بات کا طعنہ دیا میں بالکل آپ کی مدد نہیں کروں گی بچانے میں آپ کو وہ اچھا خاصا برا مناتے ہوئے بولی تھی ۔

حرم پلیز یار میں ایسا تو کچھ نہیں کہہ رہا تھا میں تو بس کہہ رہا ہوں کہ میں بچپن سے جانتا ہوں وہ اتنا سیدھا نہیں ہے جتنا سیدھا وہ تمہارے سامنے بن کر رہتا ہے ۔

کیا مطلب آپ میرے شوہر کو الٹا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولی جب اچانک کوئی وہاں داخل ہوا تھا صیام کی تو سانسیں اٹک کر رہ گئی جب کہ وہ اسی کو گھور رہا تھا ۔

اچھا ہوا شوہر سرجو آپ آگئے آئیے ذرا آپ کو پتا ہے آپ کا یہ دوست آپ کو الٹا کہہ رہا تھا ۔اس نے اس کے آتے ہی شکایت نامہ کھول لیا تھا جبکہ اس کی گھوریوں سے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی تھی ۔

یہاں کیا کر رہا ہے تو وہ اسے گھورتے ہوئے سوال کرنے لگا ۔

ہم نے بلایا ہے اسے ۔۔۔۔”

اور آپ نے کیوں بلایا ہے اسے راحت صاحب کے جواب پر اب وہ انہیں گھورتے ہوئے پوچھنے لگا ۔

کیونکہ ہم اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں حرم نے بتایا کہ اس کی نظر میں اچھا لڑکا ہے تو ہم نے سوچا کہ ۔۔۔۔۔۔۔

کس کی شادی کر رہے ہیں آپ اس کے ساتھ وہ ان کی بات کاٹتے ہوئے وہ پھر سے بولا ۔

ہم ڈھونڈ لیں گے کوئی اچھی لڑکی ثقلین صاحب نے گفتگو میں حصہ لیا تھا ۔

کیوں آپ لوگ کیا میرج بیرو کھول رہے ہیں ۔کہ آپ اس کے لیے کوئی اچھی لڑکی ڈھونڈ لیں گے ۔اب اس کی نگاہیں ثقلین صاحب کی طرف تھی ۔

نہیں ہم اپنی بچیوں کے لیے اچھے رشتے تلاش کر رہے ہیں ۔تو حرم بہت تعریف کر رہی تھی ۔ثقلین صاحب گھبراتے ہوئے واپس بیٹھ کر اپنے ناشتے میں مصروف ہوگئے جب ثاقب صاحب نے کہا ۔

اچھا تو آپ اپنی بیٹی کا رشتہ صیام سے کرنا چاہتے ہیں صیام کا آگے پیچھے کوئی نہیں ہے اسکا صرف میں ہی ہوں دوست بھائی رشتہ دار سب کچھ میں ہی ہوں ۔تو بتائیں کہ اپنی کون سی بیٹی کو میرے دوست کے ساتھ رخصت کرنا پسند کریں گے آپ وہ کرسی گھسیٹ کر ان کے سامنے بیٹھ گیا تھا ۔

جبکہ صیام تو باری باری ان سب کے چہرے دیکھ رہا تھا یہاں اس کی شادی ہو رہی تھی اور وہ بالکل کسی مشرقی لڑکی کی طرح سر جھکائے بیٹھا تھا ۔

دیدم کا ۔۔۔۔۔۔۔ہم آجکل دیدم کا رشتہ تلاش کر رہے ہیں بس حرم نے ہمیں بتایا اس بارے میں تو ہم نے بلا لیا اسے وہ بھی شادی کرنا چاہتا ہے بیچارہ تنہا ہے ۔

اسے بھی گھر گرستی سنبھالنی ہے اس کو بھی دنیا دیکھنی ہے اپنی بیوی بچوں کے بارے میں سوچنا ہے اپنا گھر بار دیکھنا ہے ۔

بس اسی لئے ہم نے سوچا کہ اسے بلا لیتے ہیں اور دونوں بچوں کی ملاقات ہو جائے گی ۔دادا جان نے ایک ہی سانس میں اچھی خاصی لمبی بات کر ڈالی تھی

دیدم آپی کے بارے میں میں نے آپ کو بتایا تھا نا بہت بڑی چڑیل ہیں قسمے اس نے اپنے کان کے بے حد قریب حرم کی سرگوشی سنی تھی

مطلب کہ وہ اس رشتے کو لے کر کافی زیادہ سیریس ہو رہی تھی جب کہ اپنی ہی شادی کی بات پر وہ اتنا کنفیوز تھا کہ اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ یہاں چل کیارہا ہے ۔

کیا تم یہاں شادی کے سلسلے میں آئے ہو ان سب کی بات پر یقین کرتے ہوئے اس نے صیام سے پوچھا تھا وہ تو پہلے ہی پوپٹ بنا ہوا تھا یشام کے گھسے اور لاتیں برداشت کرنے کی ہمت اس میں ہرگز نہیں تھی اس نے بالکل کسی ریبوٹ کی طرح ہاں میں سر ہلایا ۔

ٹھیک ہے اگر ایسی بات ہے تو تم ملو اس لڑکی سے اچھی لڑکی ہے ۔میرا نہیں خیال کہ تمہیں بری لگے گی وہ خوشگوار موڈ میں بولا تھا جیسے اسے یہ بات اچھی لگی ہو ۔

جبکہ اس کے موڈ کو سمجھ کر اس نے بھی گہری سانس لی تھی یعنی اس کی جان بچ چکی تھی۔

میں فریش ہو کر آتا ہوں ۔اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا جب کہ حرم تو اس کے کندھوں کو پکڑ چکی تھی ۔

یس اب آئے گا مزہ اب آپ نہ دیدم آپی کو دیکھتے ہی یس کر دینا وہ بہت زیادہ خوبصورت تو نہیں ہیں اور ان کی حرکتیں بالکل چوڑیلوں جیسی ہیں ایک نمبر کی بوجنی ہیں قسمے

لیکن آپ نہ ان سے شادی کر لینا کیونکہ آپ اگر ان سے شادی کر لو گے تو میرے شوہر سر زیادہ سے زیادہ اس گھر میں رہیں گے اور ہم سب انہیں اپنے پیار محبت سے ہمیشہ کے لئے یہاں پر رہنے کے لئے منا لیں گے ۔

وہ پوری پلاننگ کرتے ہوئے اسے بتا رہی تھی جبکہ اسے سچ میں اس بات پر یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کی اتنی پیاری دوست پلس اسٹوڈنٹ اپنے شوہر سر کو ہمیشہ کے لئے اپنے گھر میں رکھنے کے لیے اسے بلی کا بکرا بناتے ہوئے اپنی چڑیل پلس بوجنی کزن کی شادی اس کے ساتھ کروا رہی تھی ۔

°°°°°°

مجھے کہیں نہیں جانا سنا تم نے ابھی کے ابھی نیچے جاؤ اور نانا جان کو ہنی مون کا ٹکٹ کینسل کرنے کے لئے مناؤ وہ کمرے میں آتے ہی اس کے سر پر سوار ہوئی تھی ۔

قسم سے یوں حکم چلاتے ہوئے بلکل جھانسی کی رانی لگتی ہو لیکن ہم جانسی کی رانی کو بھی قابو کرنا اچھے سے جانتے ہیں۔میری پیاری جانھسی اگر اجازت ہو تو ایک چھوٹی سی کشی کرلوں۔

وہ بڑے ہی دلفریب انداز میں اس کی طرف جھکتے ہوئے اجازت طلب نظروں سے اس کے لبوں کو دیکھ رہا تھا ۔

اور اگر تمہاری طرف سے مجھے اجازت ملے تو میں تمہارے منہ پر ایک زور دار گھسا مار لوں۔اس نے بھی مسکراتے ہوئے اسی کے انداز میں پوچھا تھا جس پر شائزم نے اگلے ہی لمحے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اپنا گال اس کے بالکل سامنے کر دیا تھا اور اشارے سے اسے مارنے کے لیے بھی کہہ دیا تھا ۔

تم جلدی سے اپنی طلب پوری کرو پھر میں اپنی طلب پوری کروں گا ۔اور ایک بات میں تمہارے خواہش میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈال رہا تو تم سے بھی ایسی ہی امید رکھتا ہوں ۔

وہ ابھی تک اس کی طرف جھکے ہوئے بول رہا تھا جبکہ اس کی ڈھٹائی پر وہ سچ میں اسے ایک زور دار گھسا مار ہی دینا چاہتی تھی

لیکن وہ اس فضول شخص سے آگے فضول حرکتوں کی امید بھی رکھتی تھی اسی لیے پیر پٹختی نیچے کی طرف چلی گئی ۔لیکن ابھی وہ اتنی آسانی سے اسے بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا اسی لئے اس کے پیچھے ہی چلتا ہوا نیچے آیا ۔

°°°°°°°

اسے امید نہ تھی کہ یشام اس کے اچانک یہاں آنے کو اتنی آسانی سے اگنور کر دے گا وہ تو اسے بہت اچھے طریقے سے ٹریٹ کر رہا تھا

یہاں تک کہ دیدم سے ملنے سے پہلے وہ اسے اچھی اچھی ٹپس بھی دے رہا تھا تاکہ دیدم پر اس کا اچھا اثر پڑے گا وہ بھی یہی چاہتا تھا کہ اس کی طرح صیام بھی اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے

اور دیدم اسے بری نہیں لگی تھی اس کے دوست کے لئے شاید وہ اچھی بیوی ثابت ہو سکتی تھی ہاں لیکن حرم کے لئے وہ اس کی اچھی کزن ہرگز نہیں تھی ۔

وہ جانتا تھا کہ حرم اسے زیادہ پسند نہیں کرتی اور یہ بات اس نے اسے صاف صاف بتا ہی دی تھی بچپن سے ہی کزنز میں چھوٹے موٹے لڑائی جھگڑے ایسے معاملوں میں زیادہ اہمیت کے حامل نہیں ہوتے ۔

اور وہ جانتا تھا کہ دیدم دل کی بری ہرگز نہیں ہے ۔بے شک وہ اس خاندان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا لیکن یہاں بات اس کی نہیں بلکہ اس کے دوست کی تھی اور وہ اس کے لئے ہمیشہ بہتر ہی سوچتا آیا تھا ۔

°°°°°°

زندگی میں کبھی اتنا کنفیوز نہیں ہوا جتنا شادی کے معاملے میں ہو رہا ہوں یہ سب لوگ تو بالکل سیریس ہی ہو گئے ہیں ۔

پہلے لگ رہا تھا جیسے وہ سارے کوئی بہانہ بنا رہے ہوں لیکن بعد میں یہ معاملہ اتنا سیریس ہو گیا وہ لوگ تو سچ میں مجھے دیدم کو دکھا رہے ہیں اور یہ دیدم میڈم ہے کون ۔۔۔۔؟

اور اگر حرم کی بات سچ ہوئی اور یہ لڑکی دیدم اصل میں کوئی چڑیل یابوجنی ہوئی تو نہیں مجھے شادی سے انکار کر دینا چاہیے ۔

پوری زندگی کا ڈھول گلے میں لٹکا کر بجانے سے بہتر ہے کہ میں یشام کو سچ بتا دوں کہ میں اسے یہاں اس گھر میں روکنے کے لیے اسے اس کے رشتوں سے محبت کرنے کے لئے حرم کی مدد کرنے آیا ہوں

ہو سکتا ہے میری سچائی اور ایمانداری کو دیکھ کر وہ مجھے کم مارے لیکن مجھے ان شادی بیاہ کے چکر میں ہرگز نہیں پڑنا چاہیے وہ اپنی سوچ میں ڈوبا سیڑھیاں اتر رہا تھا جب سامنے سے آتی لڑکی تیزی سے اس سے ٹکرائی تھی ۔

ریلی سوری معاف کیجیے گا میں اپنے دھیان میں تھا وہ جلدی سے زمین پر بیٹھتے ہوئے اس کی زمین پر گری چیزیں وغیرہ اٹھا کر اسے دے رہا تھا ۔

تبھی اس کی طرف دیکھتے ہی نگاہیں تھم سی گئی وہ بس اسے دیکھنے میں مگن ہو گیا تھا ۔

کوئی بات نہیں میں بھی جلد بازی میں آرہی تھی اس نے ساری چیزیں اٹھاتے ہوئے اس کی شرمندگی مٹانے کی کوشش کی تھی اس نے ایک بار اس شخص کو باہر لون کی طرف دیکھا تھا وہ یشام کا دوست تھا جو کچھ دن یہاں رکنے کے لئے آیا ہوا تھا ۔

میرا نام صیام ہے ۔۔۔میں یشام کا دوست ہوں شاید آپ کو میرے بارے میں پتہ ہو گا ۔وہ نجانے کیوں تعارف کروا رہا تھا لیکن وہ اس لڑکی سے بات کرنا چاہتا تھا ۔

میں دیدم ہوں ۔یشام اور حرم کی کزن اس نے مسکراتے ہوئے بتایا تھا ۔

اچھا تو آپ ہیں وہ بوجنی۔۔۔۔۔۔آپ تو بالکل بھی چڑیل نہیں ہیں ۔ بلکے آپ تو بہت زیادہ ۔۔۔۔۔۔۔

ہاو ڈیر یو ۔۔۔۔۔” تم ہماری ہمت کیسے ہوئی مجھے چڑیل کہنے کی کونسے اینگل سے میں تمہیں بوجنی نظر آتی ہوں۔خود اپنی شکل دیکھی ہے تم نے بندرکہیں کے میں تمہیں چڑیل لگتی ہوں تمہاری تو ۔۔۔۔۔۔۔۔”

چھوڑوں گی نہیں میں تمہیں دادا جان کو بتاتی ہوں ۔وہ غصے سے پاؤں پٹختی سیڑھیوں سے اتر گئی تھی ۔

بولا تھا نہ ایک نمبر کی چڑیل ہے ۔اس نے اپنے پیچھے حرم کی آواز سنی تھی لیکن اس دفعہ اس کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ پھیل گئی تھی

°°°°°°