65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 39)

Junoniyat By Areej Shah

صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس کا پہلا دھیان اپنے سینے پر رکھے اس کے وجود کےبوجھ پر گیا تھا ۔ کل رات وہ اس کے ساتھ ہی لگی روتے روتے سو گئی تھی ۔اس کے آنسو اسے تکلیف دیتے رہے تھے۔چہرے پر آنسو کے نشان واضح تھے

وہ اپنے بھائی کا ساتھ دینے کے بجائے اس کا ساتھ بھی تو دے سکتی تھی ۔یہ قانون کے فیصلے تھے جو اس نے خود تو ہرگز نہیں کرنے تھے ۔اسے اپنی بیوی پر اعتبار تھا کہ وہ اس کا ساتھ دے گی لیکن ،عمایہ نے اس کے بھروسے کو توڑ دیا تھا ۔

اس کے مان کو چوٹ پہنچائی تھی وہ جو اس کے لئے پورے خاندان برادری سے لڑ رہا تھا اسے ایک مقام دینے کی کوشش کر رہا تھا وہ خود ہی اس کے اعتبار کو چکنا چور کر گئی تھی ۔

اگر اس کا بھائی مل جاتا اسے اس کے کیے کی سزا مل جاتی تو اس پر لگا ونی کا داغ بھی ختم ہو سکتا تھا وہ سب کے سامنے اسے اپنی بیوی کے روپ میں متعارف کرواتا اس نے دادا جان کے سامنے اس کے ولیمے کی بات کی تھی

جس پر دادا جان نے بڑی سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سے کہا تھا کہ جس دن ان کے پوتے کا قاتل مل جائے گا ہم اس دن اسے اس خاندان کی بہو تسلیم کرلیں گے ۔

وہ اسے ایک مقام دینا چاہتا تھا خاندان برادری میں اس کا ایک رتبہ بنانا چاہتا تھا اسے سب کی نظروں میں معتبر کرنا چاہتا تھا

لیکن عمایہ نے اپنے بھائی کی خاطر اس کے ساتھ جھوٹ بولا تھا ۔وہ اس کے لیے اتنا بے اعتماد تھا کہ اسے لگتا تھا کہ وہ اس کا قتل کر دے گا ۔

وہ اسے جان سے مار ڈالے گا جبکہ اس کا ارادہ تو اسے گرفتار کرنے کے بعد اسے کم سے کم سزا دلوانے کا تھا وہ جو بھی تھا جیسا بھی تھا عمایہ کے لیے بہت عزیز تھا

زریام اس کے ساتھ کچھ بھی برا نہیں کرنے والا تھا بس اپنے بھائی کی خاطر عمایہ نے اس کی محبت کو بے مول کر گئی تھی اور اس چیز کے لیے وہ اسے معاف کرنے کو تیار ہرگز نہیں تھا ۔

اس نے ذرا سی حرکت کی تو عمایہ کی بھی آنکھ کھل گئی تھی وہ ذرا سا اس سے پیچھے ہٹی تو وہ بیڈ سے اٹھ کر واش روم میں بند ہو گیا ۔

جب کہ وہ بنا ایک لمحہ بھی ضائع کیے جلدی سے اپنا دوپٹہ سر پر جماتی کیچن میں بھاگ گئی تھی منہ ہاتھ دھونے کا بھی ارادہ وہیں پر ہی تھا وہ اب تانیہ کو موقع نہیں دے سکتی تھی اپنی گرہستی برباد کرنے کا ۔

کل رات تا نیہ کا اس کے کمرے میں آنا اور پھر زریام کے کپڑوں کو ہاتھ لگانا اسے بالکل اچھا نہ لگا تھا ۔

وہ بےشک زریام پر کوئی حق نہیں جتاتی تھی لیکن یہ چیز اسے پسند بھی نہیں تھی ۔کہ کوئی اس کے شوہر کی کسی چیز کو ہاتھ لگائے ۔

°°°°°°

صبح ہی اس کا موڈ بنا تھا حویلی جانے کا فی الحال تو وہ نہیں جانا چاہتا تھا لیکن آج کل ریدم اس طرح اس کے ذہن و دل پر سوار ہوئی تھی کہ وہ چاہ کر بھی خود کو واپس گھر آنے سے روک نہیں پایا تھا

ایک لمبے ترین سفر کے بعد آخر کار وہ حویلی پہنچا تھا جہاں اسے پتہ چلا کہ جنت اور ذریام بس تھوڑی دیر پہلے ہی شہر کے لیے نکلے ہیں جنت سے ملے تقریبا پانچ ماہ ہو چکے تھے لیکن اسے ملنے تو کبھی بھی جا سکتا تھا۔اور وہ جانے بھی والا تھا نیکسٹ ویک تک۔

اور وہ جنت کے جانے کی وجہ بھی جانتا تھا کہ جنت یوں اچانک ہانی کو لے کر واپس کیوں چلی گئی ہے جبکہ اس بار جنت نے یہیں پر رہنے کا فیصلہ کیا تھا

یقینا چاچی جان اور تانیہ نے پھر سے باقر کے حوالے سے اس سے الٹی سیدھی باتیں کی ہوں گی وہ خود تو منوں مٹی تلے سو گیا تھا لیکن ان کی بہن کی زندگی اجیرن کر گیا تھا

نہ تو جیتے جی اس نے اسے سکون سے رہنے دیا تھا اور نہ ہی مرنے کے بعد اس کے لیے کوئی آسانی کر کے گیا تھا۔

اسے باقر پر بہت غصہ آتا تھا لیکن خاندانی رشتوں کی وجہ سے وہ اتنا کہہ سکا ۔ورنہ جس دن اس نے جس کوٹھے کی عورت کےلیے نشے میں جنت کو طلاق دی تھی وہ اس کو قتل کر دینے کا ارادہ رکھتا تھا

وہ دادا جان سے مل کر فورا اپنے کمرے میں آگیا تھا ایک لمبے عرصے کے بعد اسے اپنا کمرہ نصیب ہوا تھا

فی الحال اس نے دادا جان سے کچھ نہیں پوچھا تھا بلکہ اس نے اپنے اس سفر کی تھکن اتارنے کے لئے تھوڑی دیر سونے کا فیصلہ کیا تھا ۔

اور یہاں آنے کی سب سے اہم وجہ تو زریام کی بیوی تھی جس سے وہ ملنا چاہتا تھا ذریام کے مطابق وہی اس کی بیوی تھی اور وہ اس کے ساتھ اپنی آنے والے زندگی گزارنا چاہتا تھا ۔

اسے یاد تھا اس کے بھائی نے بہت عرصہ پہلے دادا جان سے کہا تھا کہ وہ جو اس کی زندگی کا فیصلہ کریں گے اس منظور ہوگا

اور یہی ان کا فیصلہ تھا یہ بات بہت اچھے طریقے سے سمجھتا تھا ۔باقر کے ساتھ جنت کا نکاح اور تانیہ کے ساتھ اس کی منگنی بھی انہوں نے اپنی مرضی سے کروائی تھی

اور پھر کسی لڑکی کو ونی کروا کر اس کے نکاح میں لانا بھی انہی کا فیصلہ تھا لیکن اب وہ اس فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھا

وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ آخر اس لڑکی میں ایسا کیا ہے کہ دادا جان کا سب سے فرمانبردار پوتا ہی ان کے خلاف ہو گیا تھا

°°°°°

او ناں افشین یار اگر اسی طرح دیکھتے رہے تو کوئی ہماری ہیلپ نہیں کرے گا

ہمیں اپنی مدد خود کرنی پڑے گی لاسٹ ایئر کا وہ ٹاپر ہے ناں اس کو بولتے ہیں ہوسکتا ہے وہ اس معاملے میں ہماری کوئی ہیلپ کر سکے

وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ لاسٹ ائیر کی طرف لے کر جا رہی تھی وہ کسی سے مدد لینے میں کافی زیادہ کنفیوز ہو رہی تھی کیونکہ اسے کبھی کسی کی مدد کی ضرورت نہ پڑی تھی

یار مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے ۔اس طرح کسی سے مدد مانگتے ہوئے اور اس دن کے بعد وہ تو یونیورسٹی میں نظر ہی نہیں آیا

اور کوئی بھی انجان آدمی اپنا قیمتی وقت ضائع کر کے ھماری مدد کرنے کی کوشش کیوں کرے گا ۔

وہ تو پریشانی سے بس اس کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی سر نے آج ان کو بہت ہی مشکل اسائنمنٹ دے دی تھی جو وہ حل نہیں کر پا رہی تھی ایسے میں انھیں کسی کی مدد کی ضرورت تھی

یار وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور وہ ہماری مدد ضرور کرے گا تم دیکھ لیناوہ سب کی مدد کرتا ہے ۔میں نے آج صبح ہی اسے دیکھا تھا اسی لئے تو کہہ رہی ہوں کہ چلو کم از کم وہ کسی کی مدد کرتے ہوئے نخرے تو نہیں کرتا ۔

وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے لاسٹ ایئر میں لے آئی تھی جہاں وہ اگلی سیٹ پر بیٹھا کوئی کام کر رہا تھا

السلام علیکم ساگر کیا آپ ہماری تھوڑی سی مدد کر سکتے ہیں اسائنمنٹ کو کمپلیٹ کرنے میں یہ لاسٹ ٹاپک ہمہِیں بالکل بھی سمجھ میں نہیں آ رہا ۔

وعلیکم السلام جی یہ مجھے دیکھنا ہو گا فی الحال تو میں اپنا یہ ضروری کام کر رہا ہوں میں کچھ دیر میں آپ کو کر دیتا ہوں وہ بنا انکار کیے بولا تو وہ دونوں ہی ایک دوسرے کو دیکھنے لگی تھی

اس دن کی طرح آج اس نے چہرے پر نقاب نہیں کیا ہوا تھا لیکن وہ پہچان چکا تھا کہ یہ وہی لڑکی ہے

وہ دونوں اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے واپس چلی گئی تھی آفشین کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایک ہی بار کہنے پر وہ اس کی مدد کرنے کو تیار ہوجائے گا

وہ سچ میں بہت اچھا انسان تھا ۔افیشن نے دل سے اس بات کو قبول کیا تھا

°°°°°°

اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ایک بند کمرے میں پایا وہ کہاں پر تھی اسے یہاں کون لے کر آیا تھا وہ نہیں جانتی تھی

رات کو تو اپنے کمرے میں ہی سوئی تھی۔ کل اچھی خاصی تھکاوٹ کی وجہ سے وہ کمرے میں پہنچتے ہی سو گئی تھی

کیونکہ اسے صبح صبح اٹھ کر ولیمے کی تیاری کرنی تھی وہ تو بہت ایکسائٹڈ ہو رہی تھی

اس بات کو لے کر کے کل دیشم صرف اس کی بھابھی ہوگی اور وہ کسی کو بھی اس کو دلہن کے روپ میں نہیں دیکھنے دے گی بلکہ سب کو کمرے سے نکال دے گی

اسی خوشی میں وہ جلدی سو گئی تھی اب اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ایک انجان جگہ پر پایا تھا کمرے میں اندھیرا تھا لیکن کھڑکی سے آنے والی لائٹ اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ یہ ہرگز اس کا اپنا کمرہ نہیں ہے ۔

وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھتے ہوئے اپنا دوپٹہ ڈھونڈنے لگی جو اس کے بالکل ساتھ ہی پڑا تھا وہ کمرے کے دروازے تک آئی اور اس کو ان لاک کرنے کی کوشش کی

اس وقت گھبراہٹ سے اس کی جان جا رہی تھی لیکن پھر بھی وہ اپنی پوری ہمت دکھانے کی کوشش کر رہی تھی دروازہ باہر سے بند تھا

اس نے زور زور سے دروازہ کو بجانا شروع کر دیا تھا اس کا دل گھبرا رہا تھا۔کیا وہ اغواء ہوچکی تھی اگر کسی نےاسے اغواء کرلیا ہوا تو ۔۔۔؟

نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ کوئی عام لڑکی تھوڑی ہے وہ خداش کاظمی کی بہن ہے کسی کے باپ میں اتنی ہمت نہیں کہ خداش کاظمی کی بہن پر گندی نگاہ ڈال سکے

اس نے خود کو ریلیکس کرتے ہوئے دروازہ بجانا شروع کر دیا تھا اس کا اندازہ شدت سے بھرپور تھا

جب کہ باہر وہ دونوں میچ دیکھ رہے تھے یشام اس کی ساری چیخ و پکار کو مکمل نظرانداز کر رہاتھا لیکن بہت کوشش کے باوجود بھی صیام اس چیخ و پکار کو اگنور نہیں کر پا رہا تھا آنے والا وقت اسے خوفزدہ کر رہا تھا جب کہ یشام کو جیسے کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی

°°°°°°

لگتا ہے تھک گئی میری جان وہ کب سےدروازہ بجائے جارہی تھی اب چپ ہو کر کیا بیٹھی وہ فکرمندی سے گویا ہوا ۔

اگر اتنی ہی فکر ہو رہی ہے تو جا کر دروازہ کھول دو ۔اور کچھ نہ سہی اس کو کھانے کے لئے تو پوچھو بیچاری نے کچھ کھایا تک نہیں ہے ابھی تک ۔کل رات سے کمرے میں بند ہے کب اس کے سامنے جانے کا ارادہ رکھتے ہو تم صیام اسے گھورتے ہوئے بولا ۔

تمہیں اس کی مجھ سے زیادہ فکر نہیں ہے صیام اسی لئے مجھے مت سکھاؤ کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔

میں اس کے پاس ہی جا رہا ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آ رہا وہ مجھے دیکھ کر کس طرح سے ری ایکٹ کرے گی۔

خوشی سے بھنگڑے ڈالے گی نا وہ کیوں کہ آخر اس کے ٹیچر نے اسے اغوا کرلیا پھر وجہ بھی جاننا چاہے گی تو بتا دینا کہ صرف اس لئے کیونکہ اس کے دادا کی خوشی اس کے ٹیچر صاحب سے برداشت نہیں ہو رہی تھی اس کے دادا کو دوسرا جھٹکا دینے کے لیے تم نے یہ کام بھی کر لیا ہے

ان سب چیزوں کی وجہ سے وہ محبت یا عشق سمجھنے کی غلطی ہرگز نہ کریں یہ صرف ایک بدلا ہے یشام احمر اپنے باپ کے انتقام کے لیے یہ سب کچھ کر رہا ہے وہ جلا بھنا بیٹھا تھا بولنے پر آیا تو پھر بولتا ہی چلا گیا یہ دیکھے بنا کے سامنے والے کے چہرے پر اس کی باتوں سے کس طرح کے تاثرات آرہے ہیں ۔

میں نے تجھے بکواس کرنے کے لیے نہیں کہا اور تجھے یہ کس نے بولا ہے ۔کہ میں نے اسے اس لیے اغوا کیا ہے کیونکہ میں اس کے دادا سے بدلہ لینا چاہتا ہوں

۔ہاں یہ سچ ہے کہ کل رات میں نے اس کو اسی مقصد سے اغوا کیا ہے لیکن تو نے یہ کیسے کہہ دیا کہ میں اس سے محبت نہیں کرتا۔ یا وہ میری محبت کو سمجھنے کی کوشش بھی نہ کرے

میں اس سے محبت کرتا ہوں صیام آج سے نہیں پہلے دن سے وہ میرے دل میں بسی ہے اور آج نہیں تو کل اس سے شادی کرنے والا ہوں ۔

حرم ہی وہ لڑکی ہو گی جو میری زندگی میں شامل ہو گی ۔اور میں تجھے یہ بات بتا چکا ہوں کہ بے شک وہ راحت کاظمی کی بیٹی ہے لیکن اس کو میں اپنے بدلے کے لئے استعمال ہرگز نہیں کروں گا یہ تو میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ اسے کبھی میرا نہیں ہونے دیں گے اس لیے میں نے یہ قدم اٹھایا میں یہاں سے جانے سے پہلے اسے اپنا بناؤں گا ۔

میں تو ویسے بھی یہاں سے چلا جاؤں گا سوچا جانے سے پہلے اپنی حرم کو ساتھ لے جاتا ہوں اور جاتے جاتے راحت کاظمی اور اس کے باپ کو میں ایک ایسی سزا دے کر جاؤں گا جسے وہ کبھی بھول نہیں پائے گا ۔

جو راحت کاظمی نے بدنامی میری ماں کے نام کی تھی وہی بدنامی اب اس کو ملے گی اس نے میری ماں کا کردار مشکوک کیا تھا ۔

اب ساری دنیا کو اپنی بدنامی کی صفائیاں دیتا پھرے گا اور اس بڈھے کو میں نے واپس اسپتال پہنچا دیا حرم کو حویلی سے غائب کر کے میں نے سب سے پہلے اسی کو فون کیا تھا

اسے بتایا تھا جاکر دیکھو تمہاری پوتی کمرے میں ہی نہیں ہے۔ اور تم پر سکون نیند سو رہے ہو

میں نے اس سے کہا کہ حرم کو میں نے اس لیے اغواء کیا تاکہ میں اپنی ماں کا انتقام لے سکوں یہ بات سن کر دادا نے پھر سے اپنا دل پکڑ لیا ۔

میں نے اس سے کہا کہ اب تمہارے سارے کالے کارناموں کا انجام حرم بھگتے گی ۔وہ تمہارےحساب دے گی

حرم میرے دل کی دھڑکن ہے میں اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اسے تو میں کسی شہزادی کی طرح رکھوں گا۔ لیکن راحت اور اس کا باپ حرم کی شکل دیکھنے کو ترس جائیں گے ۔

اور یہاں سے جانے سے پہلے میں حرم سے نکاح کروں گا اور نکاح کے بعد میں آخری تیر کمان سے چھوڑ دوں گا وہ کچھ اور بھی کرنےوالا تھا ۔

اس کے ارادے بہت خطرناک تھے اور صیام اب مزید اس سے نہ پوچھ سکا کہ وہ اور کیا کرنا چاہتا ہے وہ اسے سمجھا نہیں سکتا تھا اس نے کہا تھا کہ حرم کی محبت کی خاطر سب کچھ چھوڑ دو

اسے اپنے بدلے کی بھینٹ نا چڑھاؤ اور اس نے کہا تھا کہ حرم کو کوئی نقصان نہیں ہوگا وہ اپنی محبت کو کسی قیمت پر چھوڑنے کو تیار نہیں تھا لیکن وہ کہاں جانتا تھا کہ حرم کو ہی اغوا کر لے گا ۔اور زبردستی اس سے نکاح کرنے کے بارے میں سوچے گا ۔

اور اس کے بعد وہ آخری کونسا تیر کمان سے چھوڑنے والا تھا

°°°°°°

اس نے کمرے کو آہستہ سے ان لاک کیا تو اسے بیڈ کے ساتھ گھٹنوں میں سر دیے پایا اس نے فوراً نگاہیں اٹھا کر دروازے کی طرف دیکھا تھا

اپنے سامنے یشام کو دیکھ کر وہ خود بھی حیران رہ گئی تھی لیکن پھر اپنی حیرانگی کو نظر انداز کرتے ہوئے جلدی سے اٹھ کر اس کے پاس آ گئی

سر سر اچھا ہوا آپ یہاں آگئے پتہ نہیں کس نے مجھے یہاں قید کر دیا ہے لیکن مجھے یہاں سے لے چلیں پلیز

مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے وہ بری طرح سے روتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام چکی تھی جبکہ صیام دروازہ کھلنے پر اس کے پیچھے آیا تھا اسے دیکھ کر پریشان ہو گیا اب یشام کیا کرنے والا تھا ۔

سر آپ یہاں ہیں۔ ۔۔۔۔ مجھے کس نے کڈنیپ کیا ہے۔۔۔؟ وہ ڈرتے ہوئے پوچھ رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے ذہن میں اپنی ٹیچرز کے خلاف کوئی بھی الٹی سیدھی سوچ آئے

تمہیں یہاں میں لے کر آیا ہوں حرم تمہیں ڈر نے یا پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں تمہیں چھوٹے سے کام کے لیے یہاں آیا ہوں پھر میں تمہیں تمہارے دادا جان سے ملوانے لے کر چلوں گا وہ اسے سمجھاتے ہوئے بول رہا تھا

کیسا کام ۔۔۔۔۔؟

اور آپ مجھے اس طرح سے آدھی رات کو اٹھا کر یہاں کیوں لائے ہیں۔۔۔۔۔؟

اس کے لفظ اٹکنے لگے تھے

تھوڑی دیر میں مولوی صاحب آنے والے ہوں گے اور اس سے پہلے اس سے بات کرلو ورنہ ہمہیں کسی بھی طرح کی مصیبت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولا جب کہ وہ عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھی

حرم ہم تھوڑی دیر میں گھر چلتے ہیں لیکن گھر چلنے سے پہلے ایک چھوٹا سا کام کرنا ہے تمہیں بس کچھ پیپر سائن کرنے ہیں پھر ہم گھر چلیں گے

کوئی بھی صاحب تم سےنکاح کے لئے رضامندی پوچھیں گے ۔اور تمہیں صرف اپنی رضامندی دیتے ہوئے قبول ہے کہنا ہے پھر پیپرز پر سائن کرنا اور میں تمہیں سیدھا تمہارے حویلی لے جاؤں گا

وہ اسے بالکل کسی چھوٹے بچے کی طرح بہلا رہا تھا

کیا۔۔۔۔کیا۔ ۔ کیا مطلب ہے آپ کا میرا نکاح ۔۔۔۔۔!کیوں

۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔!

ہوگا میرا نکاح ۔۔۔۔؟اور کس کے ساتھ ۔۔۔۔؟

میرے ساتھ ہوگا تمہارا نکاح کیوں کہ میں کہہ رہا ہوں ۔مزید کوئی بحث نہیں ۔اس کا انداز ہنوز ویسا ہی تھا ۔

اور اگر میں انکار کر دوں تو وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تو یشام کے چہرے پر ایک سایہ سا لہریا۔

تو پھر میں زبردستی کروں گا اور اگر تم تب بھی نہیں مانی تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ نکاح ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

لیکن تم ساری زندگی میرے پاس رہو گی اور اپنے خاندان سے دور یہ بات یاد رکھنا

اگر تم واپس اپنے گھر والوں سے ملنا چاہتی ہو تو شرافت سے مولوی صاحب کے سامنے اس نکاح کو قبول کر لینا کسی طرح کی چوں چراں کیےبغیر

ورنہ شکل دیکھنے کے لئے ترس جاؤ گی اس خاندان کےلوگوں گی وہ اپنی بات مکمل کرتا وہاں سے جا چکا تھا جبکہ حرم تو جیسے سکتے میں تھی۔

°°°°°°°