Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 49)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 49)
Junoniyat By Areej Shah
وہ اس کی میڈیسن لے کر کمرے میں آیا تو وہ اسے دیکھتے ہی چہرہ پھیر گئی تھی ۔
میں تمہارے ڈسچارج کا پوچھ کر آیا ہوں ہم گھر جا سکتے ہیں، وہ کل رات سے ہی یہاں پر تھے
اس کو تقریبا رات کے تین بجے کے قریب ہوش آیا تھا ۔اور جاگنے کے بعد بھی اس کا پہلا سوال یہی تھا کہ اس کی حرم کہاں ہے
وہ اس بات پر یقین کرنے کو تیار ہی نہیں کہ حرم مر چکی ہے ۔اور اس کا قاتل اور کوئی نہیں بلکہ اس کے ناز نخرے اٹھانے والا اس کا بھائی خداش کاظمی ہے ۔
دیشم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا بس سامنے رکھے جگ کوگھورتی رہی ۔
اتنا اچھا لگ رہا ہے جگ تو بتاؤ گھر لے چلتے ہیں اس جگ کو۔۔ وہ گلاس کے پاس رکھے جگ کو اس کی نظروں کے حصار میں دیکھتے ہوئے بولا
لیکن وہ جواب میں کچھ بھی نہیں بول رہی تھی اس کی ناراضگی کو سمجھ کر وہ ہلکا سا مسکرا دیا
گھر جا کر ناراض ہوجانا فی الحال ہمیں یہاں سے نکلنا ہے۔وہ آہستہ سے اس کا بازو تھامنے لگا
ہاتھ مت لگانا مجھے پیچھے رکھو اپنا ہاتھ قاتل۔۔ تمہیں شرم نہیں آئی اپنی بہن کا قتل کرتے ہوئے
اور اس گندے ہاتھ سے مجھے چھوا تو خبردار جو میرے قریب بھی آئے میں جان سے مار ڈالوں گی تمہیں ۔وہ اچانک غراتے ہوئے بولی تھی اس کا انداز خداش کے لیے حیرت انگیز تھا
دیشم دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا یہ کیا بکواس کر رہی ہو تم وہ غصے سے بولا تھا کیونکہ باہر کچھ نرس اس کی آواز سن کر رک گئی تھیں
دماغ تو میرا اب ٹھیک ہوا ہے اور دیکھنا میں تمہیں بھی آزاد نہیں گھومنے دوں گی تم نے میری حرم کو مارا ہے نا اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی میں تمہیں جیل پہنچاؤں گی
یہ مت سوچنا کسی کا قتل کر کے آرام سے گھومتے رہو گے تم تمہیں پھانسی کا پھندے تک نہ پہنچایا تو میں بھی اس خاندان کی بیٹی نہیں ۔وہ غصے میں بولتے ہوئے یہ بھی بھول چکی تھی کہ وہ کس بارے میں اور کس کے سامنے بات کر رہی ہے
زبان کو لگام دو دیشم ورنہ میں بھی یہی پر کھڑے کھڑےثابت کردوں گا کہ میں بھی اسی خاندان کا بیٹا ہوں ۔
وہ ایک ہی جھٹکے میں اس کا بازو پکڑ تے ہوئے اسے کھڑا کر چکا تھا ۔شدید غصے کے عالم میں وہ یہ بھی بھول چکا تھا کہ وہ کس کنڈیشن میں ہے بس اس کا ہاتھ تھام کر گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا ۔
خداش میرا ہاتھ چھوڑیں مجھے نقاب کرنا ہے وہ غصے سے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولی تھی
میرے ہوتے ہوئے بھی کوئی تم پر نگاہ اٹھا کر دیکھے تو لعنت ہے میرےمرد ہونے پر اپنی بات مکمل کرتاوہ اسے اسی انداز میں گھسیٹتے ہوئے گاڑی کے سامنے لے گیا ۔
جب کہ دیشم بھی اپنا مزید تماشہ نہ بنواتے ہوئے خود ہی گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر اندر بیٹھ گئی تھی
°°°°°
اسے گھرلانے کے بعد وہ چلا گیا تھا ۔وہ کمرے تک بھی اسے چھوڑنے نہیں آیا تھا راستے میں اس نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی ۔
وہ سارے راستے اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے آیا تھا ۔
جبکہ دیشم اس بات پر آنسو بہاتی رہی کہ اس کی چھوٹی سی بہن اب اس دنیا میں نہیں رہی ۔
اور اس بات سے زیادہ دیشم کو اس بات کا افسوس تھا کہ جس نے یہ حرکت کی تھی اسے اپنے کیے پر کوئی شرمندگی کوئی دکھ نہیں تھا ۔
بلکہ وہ تو آزاد گھوم رہا تھا ۔ایک معصوم کا قتل کرنے کے بعد بنا کسی طرح کے ڈر و خوف کے کیا اسے اس کا ضمیر ملامت تک نہیں کر رہا تھا ۔
اور داداجان نے کیا اسے کچھ نہیں کہا تھا ۔کیا ان کےلیے بھی یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی کہ ان کی سب سے چھوٹی پوتی قتل ہوچکی ہے
اور اس کا قاتل ان کا لاڈلا پوتا ہے ۔کمرے میں آنےکےبعد وہ پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رونےلگی ۔حرم کی موت کو قبول کرنا اس کےلیے ناممکن تھا۔
صبر کرو دیشم ہم بھی تو صبر کر رہے ہیں نہ وہ ہماری بھی اپنی تھی ہماری بھی بہن تھی ۔ہمیں بھی اس کی موت کا افسوس ہے ۔لیکن تمہارے یا ہمارے آنسو اسے واپس تو نہیں لا سکتے ناں
حوصلہ رکھو جو کچھ ہوا بھول جاؤ ۔کیونکہ تمہارے یہاں سے جانےکےبعد دادا جان نے حرم کا اس حویلی میں نام لینےسے بھی منع کردیا ہے ۔
دادا جان نے کہا ہے کہ جس نے بھی حرم کا نام لیا وہ اس سے خود سے جڑا ہر رشتہ ختم کر لیں گے ۔اور کبھی مڑ کر اس کی شکل بھی نہیں دیکھیں گے ۔دیدم اس کے پاس کھڑی اسے بتارہی تھی ۔
وہ بےیقینی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔کیا یہ داداجان کے الفاظ تھے ۔اس کا مطلب تھا کہ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ دادا جان کے حکم سے ہوا ہے ۔
یعنی کہ اس سب میں دادا جان بھی شامل ہیں انہیں بھی اپنی پوتی کی موت کا کوئی افسوس نہیں ہے ۔
اس کے اندر ایک درد سا اٹھنےلگا ۔کیا اتنی بےمول تھی اس خاندان کی بیٹیوں کی جان۔۔
دیدم اور سامیہ اسے سمجھا سمجھا کرتھک گئیں تھی لیکن اس کے آنسو نہ رکے۔وہ حرم کی موت کا سوگ منا رہی تھی ۔
اور کوئی شاید داداجان کے ڈر سے اس کا نام بھی نہ لے لیکن وہ خاموش نہیں رہ سکتی تھی ۔اسے خداش کاظمی کو اس کے کیے کی سزا دلوانی تھی۔
اسے اس معصوم کو انصاف دلانا تھا ۔جس کی زبان اس کم ظرف کو ویرو ویرو کہتے نہیں تھکتی تھی۔
وہ چپ نہیں بیٹھ سکتی تھی ۔اس کی حرم ایسی نہ تھی کہ کسی کےساتھ بھاگ جاتی ۔وہ جوتی تک اپنی مرضی سے نہ لیتی تھی تواپنی زندگی کا اتنا بڑا قدم کیسے اپنی مرضی سے اٹھا لیتی
°°°°°
دادا جان یہ سب کیا ہے ۔وہ تھوڑی دیر پہلے ہی جاگا تھا ۔کافی دیر وہ عمایہ کے روم میں آنے کا انتظار کرتا رہا۔
لیکن جب وہ نا آئی تو خود ہی فریش ہو کر نیچے آگیا ۔رات بھی وہ اس کے آنےسے پہلے ہی سو گئی تھی۔اس نے اسے جگایا نہیں تھا۔بلکہ اس کا نازک سا وجود اپنی بانہوں میں لے کر سو گیا۔
اور صبح اسے پاس نہ دیکھ کر اچھا خاصا بد مزا ہوا وہ اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتا تھا ۔جو اب ممکن نہ تھا اسی لیے نیچے چلا آیا
لیکن نیچے آنے کا بھی اسے کوئی خاص فائدہ نہ ہوا کیونکہ عمایہ تو اسے کہیں بھی نظر نہیں آئی لیکن دادا جان کی تیاریاں دیکھ کر وہ حیران ضرور ہوا تھا ۔اسی لیے سیدھا انہیں کے پاس آگیا۔
تیاری ہو رہی تمہارے نکاح کی ۔وہ بڑی خوشی سے بتا رہے تھے۔
اور کب ہے “نکاح” وہ پریشانی سے پوچھنےلگا۔
آج ہے نکاح آج جیسے ہی ریدم آ جائے گی ہم فوراً اس کے ساتھ تمہارا نکاح کر دیں گے۔ اب ہم تمہیں کوئی چھوٹ نہیں دیں گے ۔زریام اب تم وہی کرو گے جو ہم کہیں گے .
وہ سب کچھ تو ٹھیک ہے دادا جان لیکن یہ سب اتنی جلدی آپ نے نہیں کہا تھا
آپ تو کہہ رہے تھے کہ اس کے آنے کے بعد آپ یہ سب کچھ سوچیں گے پھر اچانک اتنا جلدی دادا جان اس لڑکی کے بھی کچھ ارمان ہوں گے آپ اس کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں
وہ انہیں ان کی غلطی کا احساس دلاتے ہوئے بولا لیکن دادا جان تو جیسے کچھ بھی سننے کو تیار ہی نہیں تھے وہ اس کی بات پر انکار کر چکے تھے
ہم اس سے اس کی رضامندی جان چکے ہیں۔۔، اسے تم سے نکاح پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور وہ وہی کرے گی جو ہم اسے کرنے کے لیے کہیں گے
تو اس حساب سے تم بھی اب کسی طرح کا انکار کرنے یا کوئی بہانہ بنانے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔۔ اب جو ہم چاہیں گےوہی ہو گا ان کا انداز حتمی تھا
ٹھیک ہے دادا جان مجھے کوئی اعتراض نہیں اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ نکاح آج ہو تو ولیمہ بھی آج ہی ہوگا وہ انہیں کے انداز میں بولا
تم ہمارے سامنے شرط رکھ رہے ہو۔۔۔وہ غضبناک انداز میں بولے
اگر آپ شرط رکھ سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں ۔۔۔؟
میں آپ کے کہنے پر نکاح کے لئے راضی ہوا ہوں تو آپ کو بھی میرے کہنے پر میری بات ماننی ہوگی
جس طرح آپ نکاح آج ہی کرنا چاہتے ہیں اسی طرح میں بھی یہ ولیمہ آج ہی کرنا چاہتا ہوں مجھے میری بیوی اور بچے کو عزت کی زندگی دینی ہے ۔وہ بھی اپنے فیصلے پر ڈٹ چکا تھا
ٹھیک ہے ہمیں منظور ہے تمہارا ولیمہ بھی آج ہی ہوگا اور نکاح بھی آج ہی ہوگا دونوں رسم ایک ساتھ کی جائیگی
فیصل ہماری پہچان میں موجود ہر شخص کو آج شام ولیمے کی دعوت دے دو ۔
کہہ دو کہ آج زریام شاہ کا ولیمہ ہے جو بہت دھوم دھام سے کیا جائے گا
وہ فیصلہ سناتے ہوئے اندر کی جانب قدم بڑھ چکے تھے جب کہ زریام نے فورا ہی اپنے فون پر آنے والے میسج کو دیکھا تھا
“کام ہو گیا۔۔۔۔” بس اتنا سا میسج تھا لیکن زریام کو جیسے وہ میسج اندر تک پرسکون کر گیا تھا
°°°°°
ریدم کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو ایک بند کمرے میں پایا ۔وہ ایک انجان بیڈ پر ہوش و حواس کھوئے نہ جانے کتنی دیر سے پڑی ہوئی تھی وہ اٹھ کر بیٹھ گئی
آگے پیچھے نظر دوڑراتے ہوئے اپنا دوپٹہ تلاش کیا جو اس کے بالکل پاس ہی پڑا تھا اس نے فورا بیڈ پر پڑا دوپٹہ اوڑھتے ہوئے اس کمرے کو غور سے دیکھا تھا
اور پھر صبح کی باتیں یاد کرنے لگی وہ ڈرائیور کے ساتھ ہاسٹل سے نکلی تھی وہ ڈرائیور جس کو نانا جان نے بھیجا تھا
اسی نے اس کے ساتھ کچھ کیا تھا
ہاں اس نے آدھے راستے میں گاڑی روک دی تھی اس کی وجہ پوچھنے پر اس نے کہا تھا کہ گاڑی میں شاید پانی ختم ہو گیا ہے
وہ پانی لینے گیا اور جب واپس آیا وہ باہر کھڑی تھی اسی کے انتظار میں
لیکن اس نے گاڑی میں پانی ڈالنے کے بجائے اس کے منہ پر کچھ رکھا تھا جس کے بعد اسے اب ہوش آیا تھا
ہاں اسے یہاں وہی ڈرائیور لے کر آیا تھا کیا اس آدمی کو اس کے نانا جان نے بھیجا تھا یا وہ اغواء ہو چکی تھی لیکن اسے کون اغواء کر سکتا تھا
وہ بھی اتنے پلان بنا کر کوئی اسے یہاں تک کیوں لاتا کیا تھایہ سب کچھ وہ جلدی سے دروازے کی طرف آئی اور زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی
لیکن وہاں کوئی ہوتا تو اسے سنتا، وہاں تو شاید کسی انسان کا وجود ہی نہیں تھا وہ کتنی ہی دیر دروازہ پیٹتی رہی اسے کھولنے کی کوشش کرتی رہی لیکن دروازہ نہیں کھلا
اسے صحیح معنوں میں خوف آنے لگا تھا۔ کیا ہوا تھا اس کے ساتھ؟ کون لایا تھا اسے یہاں پر؟
وہ یہاں کیسے پہنچی تھی؟ وہ آدمی یہاں اسے کس مقصد سے لایا تھا؟ کتنے ہی سوال اس کے دماغ میں گردش کرنے لگے
اور جس چیز نے اسے اندر تک ڈرا دیا تھا وہ ڈر اپنے عزت کے برباد ہو جانے کا تھا اکیلی تنہا لڑکی جو نہ جانے یہاں کس مقصد سے لائی گئی تھی
کہیں نانا جان کے دشمنوں نے تو اس کے ساتھ ایسی کوئی حرکت نہیں کی تھی ہاں نانا جان اسے اپنے دشمنوں کے بارے میں بتاتے تھے وہ کہتے تھے کہ انہیں کانوں کان بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے کہ ان کی نواسی زندہ ہے
اسی لئے تو وہ اسے خود سے دور رکھتے تھے اسے اپنے پاس اپنی حویلی میں نہیں رکھ رہے تھے
انہوں نے اسے سب سے چھپا کے رکھا تھا کیا یہ راز کھل چکا تھا کیا سب کو پتہ چل چکا تھا کہ وہ حویلی آ رہی ہے
یا اس سب کے پیچھے کوئی اور ہی تھا ۔لیکن کون۔۔۔۔۔؟ اس کے دماغ میں کئی سوال آ رہے تھے لیکن اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا
°°°°°°
یہ ڈریس پہنو تھوڑی دیر میں پالر والی لڑکی آرہی ہے تمہیں تیار کرنے کے لئے جلدی سے تیار ہوجاؤ آج شام کو تمہارا ولیمہ ہے
چاچی کی خاض ملازمہ نے آکر پھینکنے والے انداز میں اس کے ڈریس اس کے سامنے رکھتے ہوئے اسے خبر دی تھی وہ کیا کہہ رہی تھی اس پر یقین کرنا اس کے لیے ناممکن تھا
ایسا کیسے ہو سکتا تھا کیا اس خاندان کے لوگوں نے اسے بہو قبول کر لیا تھا ۔نہیں یہ تو ممکن ہی نہیں تھا تو پھر یہ سب کیا تھا یہ سب اس کی سوچ سمجھ سے بہت دور تھا
میرا منہ دیکھنا بند کرو جلدی سے یہ ڈریس پہنو تھوڑی دیر میں وہ پالر والی لڑکی آنےوالی ہے۔ بہت بڑی پارٹی ہے۔
اس علاقے کے بڑے بڑے لوگ اور سب جاگیرداروں کو مدعو کیا گیا ہے ۔اسی لئے ایسے تیار ہونا کہ تم زریام شاہ کی بیوی لگو ۔
اور ہاں مجھے یاد آیا بیگم صاحبہ نے کہا تھا کہ تمہیں یہ بات بھی بتا دوں۔
کہ اپنے ولیمے کی خوشی میں زیادہ خوش ہو کر تمہیں ہواؤں میں اڑنے کی ضرورت نہیں ہے
یہ ولیمہ صرف اور صرف ذریام شاہ کی ضد پر ہو رہا ہے کیونکہ انہوں نے دادا جان کے سامنے دوسری شادی کیلئے پہلے اپنا ولیمہ شرطیہ رکھا ہے ۔
کیونکہ وہ اپنے ہونے والے بچے کو عزت سے اس دنیا میں لانا چاہتے ہیں ۔وہ نہیں چاہتے کہ کل کو ان کے بچے کو کسی طرح کے برے حالات کا سامنا کرنا پڑے
اور اسے مکمل بات بتا کر کمرے سے نکل گئی تھی
زریام کے دوسرے نکاح کی بات تو اسے کل شام کو ہی پتہ چل گئی تھی ۔لیکن کیا زریام یہ نکاح عمایہ اور اس کے بچے کے لیے کررہا تھا ۔
آخر یہ شخص کس کس طرح اور کتنا اس کے دل میں اترنا چاہتا تھا ۔اب تو سانسوں پر اس کا قبضہ تھا اور روح پر بھی اب تو اس کی ایک ایک دھڑکن اس کا نام پکارتی تھی۔عمایہ اور کتنا چاہے زریام شاہ کو کہ اس کے احسان اتر جائیں ۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب اسے کمرے میں داخل ہوتے دیکھا ۔
وہ بھاگتے ہوئے اس کے سینےسے جا لگی تھی ۔
اب کیوں اتنی محبت جتا رہی ہو جب میں نے کہا تھا مت سونا تو سو گئی ۔وہ اس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار تنگ ترین کرتے ہوئے اسے خود میں بھنیچ لیا۔
وہ مجھے نیند آگئی تھی ۔اس نے نرمی سے جواب دیا۔
جھوٹ مت بولا کرو عمایہ کہہ دو ناراض تھی مجھ سے اس لیے میرا انتظار نہیں کیا وہ سختی سے بولا۔
سوری ۔۔۔اس نے فوراً کان پکڑے تھے۔
زریام شاہ معاف نہیں کرتا سزا دیتا ہے ۔وہ مزےسے بولا۔
تو میری سزا کیا ہے۔
رات کو بتاوں گا ۔وہ سوچ کر بولا۔
آپ کا آج نکاح ہو گا ۔۔۔؟ وہ اس کے سینے میں منہ چھپائے بولی۔ جب زریام نے اس کا چہرہ پنے ہاتھوں میں بھر کر سامنے کیا۔
زریام شاہ اپنی پہلی سانس سے لے کر آخری سانس تک تمہارا ہے ۔صرف اور صرف عمایہ زریام شاہ کا ۔کوئی نہیں آئے گا ہمارے بیچ نہ آج نہ کبھی آئندہ۔۔ یہ وعدہ ہے میرا تم وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا اس کے گالوں پر پھیلے نمکین موتیوں کو اپنے لبوں سے چننے لگا۔
اور عمایہ کو اس وعدے سے زیادہ یقین اور کسی پر نہیں تھا
زریام میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں ۔بہت بہت بہت زیادہ وہ اس کے سینےسے لگی اپنے جذبات کا اظہار کر رہی تھی ۔وہ دلکشی سے مسکرایا۔
جانم رات کو کرنا یہ اظہارِ محبت میں تفصیل سے جواب دوں گا ۔وہ شرارتی سے انداز میں بولا تو عمایہ شرما کر نگاہیں جھکا گئی ۔
°°°°°
سب کچھ ہو چکا تھا مہمان آنا شروع ہو چکے تھے اور مہمانوں کے ساتھ ہی دادا جان کی ٹینشن میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔
اب تک ریدم کیوں نہیں حویلی پہنچی تھی وہ ڈرائیور کو ہزار بار فون کر چکے تھے لیکن ڈرائیور فون ہی نہیں اٹھا رہا تھا
کیا ہوا دادا جان آپ ٹھیک تو ہیں ۔خیریت تو ہے آپ اتنے پریشان کیوں لگ رہے ہیں۔زریام ان کے پاس آکر پوچھنےلگا۔
ذریام ریدم کو تو اب تک یہاں پہنچ جانا چاہیے تھا۔
لیکن وہ نہیں پہنچی اور کم بخت ڈرائیور بھی فون نہیں اٹھا رہا۔ وہ اسے بتانے لگے۔
آپ پریشان مت ہوں میں ڈرائیور کو کرفون کرتا ہوں آپ اندر مہمانوں کے پاس چلیں لوگ باتیں بنا رہے ہیں ۔
وہ ان سے کہہ کر فون لیے باہر نکل گیا جبکہ دادا جان اندر مہمانوں کے پاس آ گئے۔
ڈرائیور کو فون نہیں لگ رہا تھا ۔جبکہ لوگ اب ان کی بہو کا باقاعدہ تعارف چاہتے تھے عمایہ کو لا کر اسٹیج پر بٹھایا گیا ۔
جب زریام نے بہت احترام سے اس کے والدین کو لا کر اس کے ساتھ بٹھایا ۔اپنے والدین کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے لیکن زریام کی مسکراتی نگاہوں نے اسے سختی سے نہ رونے کی تاکید کی تھی۔
بابا جان آپ کی لاڈلی تو پہنچی نہیں ابھی تک لیکن لوگوں کو باتیں کرنےکا بہانہ مل گیا ہے ۔
عمایہ کب سے بیٹھی ہے اسٹیج پر لوگ بھی اب طرح طرح کے سوال کر رہے ہیں پلیز یہ قصہ تمام کریں ۔
فیصل صاحب ان کے پاس آکر بولے ۔تو دادا جان بھی اس فنکشن کو ختم کرنےکی نیت سے اٹھے۔
اب ان کے پاس کوئی راستہ نا تھا ۔
اگر وہ عمایہ کو بہو تسلیم کرکے متعارف نہ کرواتے تو ان کی بدنامی ہوتی ۔جبکہ جس مقصد کےلیے یہ سب کروایا تھا وہ تو پورا ہو ہی نہ سکا ۔
ریدم اب تک نہ پہنچی تھی جس کے لیے وہ اب مزید پریشان ہو گئے تھے۔
وہ اسٹیج پر آکر مائک تھامتے ہوئے زریام کو اور عمایہ کو اپنے پاس بلا چکے تھے ۔نجانے کون سے دل سے انہوں نے عمایہ کے سر پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی بہو کے روپ مہں سب سے متعارف کروایا تھا۔
زریام تو خوشی سے ان سے لپٹ گیا تھا ۔اور پھر فنکشن ختم ہوتے ہی پہلا مسیج اس نے اس خاص انسان کو کیا تھا جس کی وجہ سے یہ سب ممکن ہوا تھا۔
شکریہ دوست ۔۔۔۔۔۔۔”
°°°°°
