65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 32)

Junoniyat By Areej Shah

اس کی آنکھ رات کافی دیر سے کھلی تھی وہ بھی بے دھیانی میں جب اس کا ہاتھ اپنی بائیں سائیڈ پر گیا اپنے قریب کسی کا وجود محسوس نہ کرتے ہوئے وہ اٹھ گیا تھا ۔

عمایہ کہاں جا سکتی ہے وہ پریشان سا واش روم کی طرف دیکھنے لگا جس کی لائٹ آف تھی ۔مطلب کے وہ کمرے میں کہیں پر بھی نہیں تھی اب اس کی ٹینشن میں اضافہ ہوا تھا

زریام جلدی سے بیٹھتے اٹھتے ہوئے اپنی شرٹ پہننے لگا دروازہ کھلا تھا اس کا مطلب تھا عمایہ کمرے سے باہر گئی ہے ۔لیکن ایسا بھلا کیسے ہو سکتا تھا

عمایا جیسی ڈرپوک لڑکی اس طرح سے کمرے سے نہیں نکل سکتی تھی وہ جس طرح کی بزدل طبیعت رکھتی تھی کمرے سے نکلنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا

وہ اس کے بارے میں بہت کچھ سمجھ چکا تھا وہ ایک ڈرپوک کی قسم کی لڑکی تھی اور اس طرح رات اندھیرے میں کمرے سے نکل جانا تقریبا ناممکن تھا وہ تو اسے بنا بتائے واش روم تک نہیں جاتی تھی تو وہ اس طرح کمرے سےکہاں جاسکتی تھی وہ پریشانی سے کمرے سے نکل آیا تھا

وہ تیزی سے چلتا ہوا باہر نکلا لیکن ریسیپشن پر کوئی بھی موجود نہیں تھا وہاں رکنے کے بجائے وہ باہر نکلا تھا

آگے پیچھے ہر طرف دیکھتے ہوئے اس نے عمایہ جو کہیں بھی نہ دیکھ کر واپس اندر کی راہ لی تھی ایسا ممکن نہیں تھا کہ وہ کمرے سے اکیلی نکلے۔

مجھے اندر ہی جا کر دیکھنا چاہیے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اس طرح رات کی تنہائی میں باہر آجائے اس وقت تو ہوٹل ریسپشن پر بھی کوئی بھی موجود نہیں ہے

وہ زیر لب پر بڑبڑاتا واپس کمرے کی جانب آیا تھا ۔

اس نے کمرے میں دوبارہ قدم رکھتے ہوئے واش روم چیک کیا اور پھر کھڑکی کے پاس آیا ۔

لائٹ آن کر کے وہ چینجنگ روم کی طرف آیا ہے یہاں پر بھی وہ نہیں تھی ۔

اب اس کا شک ختم ہو چکا تھا وہ کمرے میں تو ہرگز نہیں تھی اگر ہوتی تو سامنے ہی ہوتی اس کمرے میں ایسی کوئی پوشیدہ جگہ تو تھی نہیں جہاں وہ چھپ کر بیٹھ جاتی ۔

اب اس کی پریشانی صحیح معنوں میں شروع ہوئی تھی وہ کمرے سے باہر نکلنے ہی لگا جو وہ تیزی سے اندر داخل ہوئی

“کہاں تھی تم اس وقت آدھی رات کو کمرے سے باہر کیوں گئی تھی دماغ خراب ہوگیا تھا تمہارا

میں پاگلوں کی طرح تمہیں ہر جگہ ڈھونڈ رہا ہوں باہر تک سے ہو کر آیا ہوں میں اور تم کمرے میں تھی نہیں کہاں گئی تھی تم وہ غصےسے اس کو دونوں بازوؤں سے پکڑتے ہوئے اپنے بے حد قریب کرکے کہنے لگا تھا۔”

اس کے چہرے سے وہ اس کی پریشانی کا اندازہ لگا چکی تھی کہ اس کی غیر موجودگی میں وہ اسے ڈھونڈنے کی بہت کوشش کر چکا تھا ۔

وہ۔۔وہ میں ۔۔۔

خاموش یہ وہ میں ۔۔۔۔یہ سب کچھ میں نہیں سننا چاہتا ۔کہاں گئی تھی تم یہ بتاؤ مجھے کوئی اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا تھا ۔

عمایہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس کے سوال کا کیا جواب دے ۔

میری شکل کیا دیکھ رہی ہو۔جو پوچھا ہے وہ بتاؤ اتنی رات کو مجھے بتائے بنا کہاں گئی تھی تم ۔۔۔؟

اگر تمہارا جانا اتنا ضروری تھا تو کیا تم مجھے بتا کر نہیں جا سکتی تھی ۔

اس طرح آدھی رات کو کمرے سے نکلنے کی کیا تک بنتی ہے وہ بھی تب جب میں سو رہا تھا ۔اس کا غصہ کسی طرح کم نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی اسے کوئی بہانہ سمجھا رہا تھا ۔

میری طبیعت خراب ہو رہی تھی مجھے گھٹن محسوس ہو رہی تھی اس لیے میں کمرے سے باہر نکل گئی وہ ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی

تو کیا تم مجھے بتا کر نہیں جا سکتی تھی کیا ہوا تھا تمہاری طبیعت کو ۔۔۔؟وہ اسے جانچتی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا ۔اور ساتھ ہی اس کے ماتھے اور چہرے کو چھورہا تھا جیسے اس کی طبیعت کی خرابی کا اندازہ لگانا چاہتا ہو

آئندہ مجھے بتائے بنا کمرے سے باہر نکلنا میں باہرتک تمہیں دیکھ کر آیا ہوں کہاں تھی تم کس طرف گئی ہوئی تھی وہ کمرے کا دروازہ لاک کرتے ہوئے اس سے کہنے لگا عمایہ کو سکون ہوا تھا وہ اس کی طبیعت خراب والی بات پر یقین کر چکا تھا۔

اتنی زیادہ بے چینی ہو رہی تھی کہ سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کس طرف جاؤں باہر گئی ۔لیکن پھر ڈر لگنے لگا تو واپسی کے لیے پچھلے راستہ لے لیا ۔

وہ اپنے بہانے کو مضبوط کرتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی

اب کیسا محسوس کر رہی ہو تم وہ اس کے ساتھ ہی بیٹھتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا تھا ۔

اگر اب بھی طبیعت نہیں سنبھلی تو میں ساتھ چلتا ہوں تمہیں ڈر نہیں لگے گا وہ اس کے بعد لوگوں کو ٹھیک کرتا ہوا کہنے لگا یقینا وہ اس کی بات پر پوری طرح یقین کر چکا تھا ۔

نہیں اب میں۔بہت بہتر محسوس کر رہی ہوں ۔اس نے مسکرا کر اس کے ہاتھوں کو تھام لیا تھا جبکہ اس کے ماتھے پر لب رکھتا ہوااسے اپنے ساتھ لگا چکاتھا۔

عمایہ۔۔۔۔۔۔اس نے چاہت سے پکارا تھا

جی ۔۔۔۔؟اس کے سینے پر سر رکھے ہوئے وہ بولی۔

میں تم پر بہت یقین کرتا ہوں ۔اس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ عمایہ کو اپنے دل کی دھڑکن تیز ہوتی محسوس ہوئی ۔

مجھے جھوٹ سے نفرت ہےمیں ہر غلطی معاف کرسکتا ہوں لیکن جھوٹ برداشت کرنامیرے بس سے باہر ہے ۔مجھ سے کبھی بھی جھوٹ مت بولنا ۔

وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے بول رہا تھا۔جبکہ اس کی بات سنتے ہوئے عمایہ کو گھبراہٹ ہو رہی تھی اس کا دل عجیب سے انداز میں دھڑک رہا تھا۔

وہ سوچ رہی تھی کہ کیا اسے سب کچھ بتا دینا چاہیے ۔لیکن اس کے دل سے بس یہیں آواز آرہی تھی

نہیں ۔۔۔۔اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے

°°°°°°

ساڑھے نو بجے کا وقت تھا ۔اس کے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی ۔پر بنا اس کی جانب سے اجازت کا انتظار کیے دروازہ کھل گیا ۔

سامنے ریدم کی جگہ ماریہ کو دیکھ کر وہ بد مزہ نہ ہوا ۔عجیب مطلبی لڑکی تھی یہ ریدم جب سے ان کی واپسی ہوئی تھی وہ ایک بار بھی اس سے ملنے نہ آئی تھی ۔

وہ خود بھی آرام کی نیت سے اپنا دروازہ بند رکھے ہوئے تھا شاید وہ دروازے تک آئی ہواسے ڈسٹرب نہ کرنے کے خیال سے واپس چلی گئی ہو ۔

تم یہاں میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو؟ وہ ماریہ سے سوال کرنے لگا ۔اس کا یوں اچانک اس کے کمرے میں آنا اسے ہرگز پسند نہ آیا تھا ۔

میں تم سے ملنے ائی ہوں شائز ڈارلنگ کیسے ہو تم کل سے تم سے ملاقات نہیں ہوئی وہ اس کے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگی ۔ابھی تک وہ فریش نہیں ہوا تھا اس کی آنکھ تھوڑی دیر پہلے ہی کھلی تھی اس وقت وہ اپنے موبائل فون پر مصروف تھا ۔

لڑکی ایک بات میری کان کھول کر سنو شائز صرف مجھے میرے دوست کہتے ہیں کوئی ایرا غیرا مجھے اس نام سے نہیں بلا سکتا ۔اس میں تنبیہی انداز میں کہا ۔

میں کوئی ایری غیری ہوں کیا ۔کیاتم مجھے اپنا دوست نہیں سمجھتے۔۔۔۔؟ وہ۔مایوس سی اسے دیکھ رہی تھی۔

نہیں ہم دوست نہیں ہیں اور نہ ہی ہم۔دوست ہو سکتے وہ صاف گوئی سے بولا۔

لیکن تم نے کہاتھا کہ تم مجھے اپنی دوست سمجھتے ہو ۔۔۔وہ اسے کوئی پرانی بات یاد دلا رہی تھی۔اسے آسمان سے زمین پر۔لاتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ وہ اسے دوست سمجھتا ہے ۔اسے یاد تھا لیکن اسے اندازہ نہ تھا وہ پیچھے لگنے والی ہے۔

دیکھو ماریہ میرا تم سے۔۔۔۔

میں جان چکی ہوں کہ ریدم تمہاری منگیتر نہیں ہے اس کے چاچا نے مجھے بتایا کہ تم اس کے کچھ نہیں ہو بلکہ تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں ہو اس کے لبوں پر مسکراہٹ تھی ۔

تو۔۔وہ اس کی مسکراہٹ کو اگنور کرتے ہوئے بولا ۔

تو مجھے کیوں ڈیچ کیا تم نے ۔۔۔۔؟ تم کسی کے ساتھ ریلیشن شپ میں نہیں ہو تو۔۔۔۔۔

تو پھر یہ کہ میں تم میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں صرف ٹائم پاس کر رہا تھا لیکن تم مجھے اس کے بھی قابل نہیں لگی ۔سو جان چھڑانے کےلیے بول دیااب جاو نکلو میرے کمرے سے مجھے تم میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے ۔وہ پرسکون سا بولا تو ماریہ کمنیگی سے مسکرائی ۔

تو انٹرسٹ لانے میں کتنا وقت لگے گا وہ اٹھ کر اس کے پاس آتی اپنی شرٹ کے بٹن کھنلے لگی تھی ۔

فضول سوچ ہے تمہاری تمہیں لگتا ہے کہ مردوں کو صرف اسی طرح امپریس کیا جا سکتا ہے ۔تمہاری جیسی کئی آئیں اور گئیں ۔تم تو کوٹھے والیوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئی یقیناً چند پیسوں کےلیےتم کسی کی رکھیل بھی بن سکتی ہو ۔لیکن مجھے کسی رکھیل کی ضرورت نہیں اور اگر کبھی ہوئی بھی تو میرا معیار اتنا گھٹیا نہیں ہوگا

اس کے شرٹ کے بٹن کھلنے پر وہ پرسکون سا بیٹھا اس سے بولا تھا ماریہ کے ہاتھ کندھےسے خود کو بےلباس کرتے رک گئے۔جب اچانک دروازہ کھلا تھا ۔

وہ۔جو سکون سے بیڈ پر بیٹھا خود پر جھکی آدھ بےلباس ماریہ کودیکھ رہا تھا۔اچانک دروازے پر نمودار ہونےوالے ریدم کے چہرے کو دیکھ پریشان ہوا تھا۔

ایم۔۔سوری۔۔۔سو۔۔سوری۔۔۔وہ اگلے ہی لمحے دروازے سے باہر نکل گئی تھی جبکہ شائزم اپنی شرٹ پہنتا پیچھے بھاگا تھا

°°°°°°°

حرم مزے سے اپنا بھاری زرد لہنگا اٹھائے ادھر سے ادھر جا رہی تھی ۔۔اتنا بھاری لہنگا اس نے اپنے شوق سے لے تو لیا تھا لیکن اب اس کو سنبھالنا بہت مشکل ہو گیا تھا ۔

اور اب اسے پریشانی کل والے لہنگے کی ہو رہی تھی جو اس نے اس والے سے بھی زیادہ بھاری لیا تھا

اس سے تو اسی لہنگے میں نہیں چلا جا رہا تھا کل کے لہنگے میں تو اس کی جان ہلکان ہونے والی تھی اور بارات کے لیے اس نے اس سے بھی بھاری فراک لی تھی

اس کو سنبھالنا تو اور بھی مشکل ہونے والا تھا سومیہ اور دیدم دونوں نے اسے منع کیا تھا ایسا کرنے سے لیکن اس نے کہہ دیا کہ اس کے اکلوتے بھائی کی شادی ہے اور اپنے سارے ارمان نکالے گی اب ارمان کی جگہ اس کی جان نکل رہی تھی یہ الگ بات تھی ۔

وہ کچھ سوچتے ہوئے اوپر کی طرف جانے لگی جب اچانک ہی سیڑھیوں پر اس کا پیر اس کے لہنگے میں اٹکا اور وہ وہیں بیٹھ گئی

تم ٹھیک ہو نا حرم تم سے بہت سے چلا نہیں جا رہا تھا جاؤ دوسرا ڈریس پہن کر آ جاؤ خداش تیزی سے اس کے پاس آ کر کہنے لگا ۔

ارے نہیں نہیں ویرو میں بالکل ٹھیک ہوں آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں

وہ تو بس ایسے ہی پیر اٹک گیا تھا اب کوئی مسئلہ نہیں ہوگا آپ جائیں میں ہینڈل کر لوں گی اس نے اسے فکر کرتے ہوئے چہرے پر بشاشت طاری کی تھی

پکی بات ہے مجھے تو ایسا نہیں لگتا پہلے بھی تم وہاں گرتے گرتے بچی ہو اس نے تھوڑی دیر پہلے والے دھکے کی یاد کروائی تھی ۔

اوو ہو ویرو آپ تو مجھ پر نظریں جما کر بیٹھ گئے ہیں کیا میں اتنی پیاری لگ رہی ہوں۔ ۔۔ اچھا نا اب میں آہستہ آہستہ چلوں گی یہ لہنگا نا تھوڑا سا لمبا ہے بار بار پاؤں کے نیچے آ جاتا ہے لیکن اب میں احتیاط کرونگی ۔وہ اسے یقین دلاتے ہوئے بولی تو خداش نے ہاں میں سر ہلا دیا

ٹھیک ہے لیکن اب اگر تم مجھے کہیں گرتی پڑتی نظر آئی نا تواچھا نہیں ہو گا وہ اسے وارن کر رہا تھا ۔

جب کہ وہ مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتی آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھنے لگی تھی اس کے سامنے تو اس نے خوب احتیاط سے قدم اٹھائے تھے

جبکہ اس کے وہاں سے جاتے ہی اس کی سپیڈ دیکھنے لائق تھی جو صرف سیڑھیوں کے اوپر تک ہی رہی کیونکہ آخری سیڑھی پر ایک بار پھر سے اس کا پیر اس کے لہنگے میں اٹک گیا تھا اور وہ دھڑم سے زمین پر گری۔

لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی بچت ہو گئی تھی۔

اس نے آگے پیچھے ہر طرف دیکھا اور پھر اٹھ کر کھڑی ہوگئی گردن تھوڑی سی اکڑائی اب سب کو اس بات کا یقین بھی تو دلانا تھا کہ اسے لہنگے میں چلنا آتا ہے ۔

لیکن اپنے پچھے سے نازمین اور میشہ کا قہقہ سن کر وہ سخت بد مزہ ہوئی تھی

کیا ہے زیادہ دانت نکل رہے ہیں تم لوگوں کے یہ نہیں کہ یہاں اگر آ ہی گئی ہو تو میری تھوڑی ہیلپ کردو

تم مجھ پر ہنس رہی ہو وہ انہیں دیکھ کر غصے سے بولی تھی جبکہ اس کی چھوٹی سی ناک پر اتنا غصہ دیکھ وہ دونوں ہی ہنستے ہوئے اس کے پاس آ گئی تھی ۔

کیوں نہیں جان من ہم آپ کی مدد ضرور کریں گے اپنا ہاتھ ذرا ادھر دے دیجئے اور میشہ تم پر اس کا لہنگا تھامو اصل دلہن تو یہ لگ رہی ہے ۔نازمین نے مسکراتے ہوئے کہا۔

جب کہ نیچے رسم شروع ہونے کی خبر دے دی گئی اب اس نے نیچے بھی جانا تھا ۔آج اسے اپنی دونوں سہیلوں کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا تھا جن کی مدد کے بنا پر آسانی سے نیچے نہیں جا سکتی تھی

°°°°°

مایوں کی رسم حلانکہ بہت سادگی سے کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کے باوجود بھی بہت سارے لوگوں کو انوائٹ کرلیا گیا

اور بہت سارے لوگوں نے اسے ہلدی بھی بہت ساری ہی لگائی تھی۔ وہ تقریباً ڈیڈھ گھنٹے سے بیٹھی تھی۔اور اب تک عورتیں جوش سے اپنا کام کر رہی تھی

دوسری طرف بھی کچھ ایسا ہی حال تھا حویلی کی دوسری طرف مرد لوگ اپنی رسم ادا رہے تھے جہاں خداش کو بیچ میں بٹھائے وہ سارے اسےہلدی سے رنگ چکے تھے ۔

دادا جان نے کہا تھا کہ اسے یہ ساری رسمیں لازماً ادا کرنی پڑے گی اسی لیے وہ اس کے لیے تیار ہو گیا تھا ورنہ کوئی خداش کاظمی کو اس کی اجازت کے بنا ہاتھ لگاتا تو لگاتا کیسے۔۔

دادا جان کا حکم تھا کہ ساری رسمیں ادا کی جائیں گی اسی لیے وہ ان کے کسی بھی عمل میں بول نہیں رہا تھا بس ان کی ہر بات کو خاموشی سے مان رہا تھا ۔

کیونکہ یہ سب دادا جان کی خوشی سے ہو رہا تھا۔لیکن اب اسے تھوڑی دیر پہلے پتہ چلا تھا کہ وہ شادی کے دن تک دیشم سے نہیں مل سکتا

بلکہ اس سے یہ کہہ دیا گیا تھا کہ شادی سے پہلے اب اس کا ایک دوسرےسےآمناسامنابھی نہیں ہو سکتا یہ رسم ہے جو اسےہر حال میں پوری ہوگی

لیکن کوئی بھی رسم خداش کاظمی پر تھوپی تو جا نہیں سکتی تھی اسی لئے وہ اسے ماننے سے صاف انکار کر چکا تھا

لیکن بابا جان کا کہنا تھا کہ ویسے بھی دیشم اورخداش ایک دوسرے کے آمنے سامنے زیادہ نہیں آتے تو انہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں جب کہ خداش توآج رات کی کوئی اور ہی پلاننگ کر کے بیٹھا ہوا تھا

°°°°°°

دیشم تھک ہار کر سونے کے لئے اپنے کمرے میں آئی تھی۔

اتنی دیر ایک ہی جگہ بیٹھ کر اس کی کمر اکڑ گئی تھی ۔عورتوں نے ہلدی لگا لگا کر اسے سر سے پیر تک پیلا کر دیا تھا اب تو وہ صرف نہانا چاہتی تھی۔

وہ اپنا ٹاول اور آرام دہ لباس لے کر واش روم جانےلگی تھی جب اچانک کمرے کی لائٹ بند ہوئی اور دوسرے ہی لمحےکسی نے اس کا ہاتھ کھینچا ۔اس سے پہلے کہ وہ چیختی کسی نے اپنا بھاری مضبوط ہاتھ اس کے لبوں پر جما دیا ۔

وہ اپنے بے حد قریب مردانہ پرفیوم کو محسوس کرکے سمجھ چکی تھی کہ وہ کون ہے ۔لیکن وہ اس کے نازک لبوں سے ہاتھ بھی ہٹا چکا تھا

اور دوسری مشکل اس کی خداش نے لائٹر جلا کر ختم کر دی تھی ۔

چشم بد دور ۔۔آواز کے ساتھ ہی لائٹرکی روشنی بجھ گئی ۔پھر اچانک پھر سے لائٹر کی آواز آئی روشنی پھر سے پھیل گئی۔

سراپاِ حسن۔۔روشنی پھر بجھ گئی۔

دلنشیں

نازنیں

ماہارو

مہ جبین

ہر ہر لفظ کے ساتھ اس کا لائٹر جل رہا تھا اور بجھ رہا تھا ۔

میری مدد کرو یہ سمجھ نہیں پا رہا کہ کون سے نام سے تمہیں پکاروں۔ مایوں کی دلہن بن کر ایسی لگوگی تو میری دلہن بن کر مجھ پر کیا قیامت برپا کرنے کا ارادہ رکھتی ہو کہیں مجھے اپنے حسن سے ہی تو ختم کرنے ارادے نہیں ہیں تمہارے اس کے لبوں پر دلکش مسکراہٹ تھی۔

لیکن اتنی ساری تعریف بھی اس کے لبوں پر مسکراہٹ نہ بکھیر سکی تھی وہ سخت بیزار نظر آرہی تھی ۔

خداش پلیز اس وقت میرا ہرگز آپ کی یہ ساری فضول باتیں سننے کا موڈ نہیں ہے میں بہت تھک گئی ہوں اور اب آرام کرنا چاہتی ہوں

اور کیا آپ کو کسی نے یہ نہیں بتایا کہ شادی سے پہلے ہم ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے ۔

وہ اس سےدور ہونا چاہتی تھی لیکن خداش اسے مزید قریب کرنے کا ارادہ رکھتا تھا وہ اس کی کمر میں ہاتھ سخت کرتا اسے اپنے قریب کھینچ چکا تھا ۔

میں کسی کے حکم کا غلام نہیں ہوں خداش کاظمی اپنے اصول خود بناتا ہے دوسروں کے بنائے ہوئے اصولوں پر نہیں چلتا ۔وہ اس کے چہرے سے اپنا چہرے مس کرتے ہوئے اس کی خوشبوکو محسوس کررہا تھا۔

خداش پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اپنے آپ کو چھڑوانے کی کوشش کرنےلگی۔اور اس کی اس بےزاری پر خداش کی نرمی اچانک سختی میں بدلی تھی۔وہ اچانک ہی وہ اس کے لبوں کو اپنے لبوں میں سختی سے قید کر چکا تھا لیکن دیشم کی مزاحمت اب بھی ختم نہ ہوئی لیکن خداش کی گرفت بہت سخت تھی

کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ تمہیں کیا لگتا ہے ہمارے قریب آنا تمہیں چھونا میرے لیے مشکل ہے؟ ایک منٹ میں ساری اکڑ نکال سکتا ہوں ۔لیکن شادی سے پہلے میں کوئی حد کراس نہیں کرچاہتا ۔

وقت دے رہا ہوں تمہیں سنبھلنے کا مجھے مجبور نہ کرو کہ میں تمہاری عقل ٹھکانے لگا دوں۔

میرے سامنے یہ ناٹک دوبارہ مت کرنا تمہاری نازک سی جان کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔

تمہیں چھونے کا تمہیں دیکھنے کا حق محفوظ رکھتا ہوں میں ۔اور اگر تم نے دوبارہ میرے قریب آنے پر اپنے چہرے پر یہ بیزاری لائی نہ تو اپنے انجام کے ذمہ دار تم خود ہو گی ۔

خداش کاظمی اپنے حق کا وصول کرنا بہت اچھے طریقے سے جانتا ہے وہ ایک لمحے میں اسے پیچھے ہٹاتا کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔

جب کہ وہ اپنی دھڑکنیں نارمل کرتی شاور لینے آئی تھی جب اپنے لبوں پر چبھن محسوس کرتے ہوئے اس نے شیشے میں اپنا عکس دیکھا ۔

خون کی ننھی سی بوند اسے چہرہ جھکانے پر مجبور کر گئی

°°°°°°