65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 46)

Junoniyat By Areej Shah

کیا میں جان سکتا ہوں کہ اتنی پیاری لڑکی یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہوئی ہے وہ اس کی سامنے والی سیٹ پر بیٹھے ہوئے پوچھنے لگا تھا

جب کہ ساگر کو اس طرح خود سے بے تکلف ہوتے دیکھ پہلے تو ذرا سا گھبرائی پر مسکرا کر بیٹھنے کی آفرکی تھی حالانکہ وہ پہلے ہی بیٹھا تھا ۔

جی دراصل آج غزل نہیں آئی تو اس لیے اکیلے بیٹھی ہوں۔ میری اور کسی سے دوستی نہیں ہے کلاس میں اس نے بہت نرمی سے جواب دیا تھا ۔

یہ تو پھر اچھا ہوگیا کہ آج غزل نہیں آئی اسی لئے تھوڑی دیر ہم دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں گے اور وہ سکتا ہے ہماری دوستی بھی ہو جائے وہ بہت خوش اخلاقی سے بات کر رہا تھا

جی بات تو ضرور ہو جائے گی لیکن شاید دوستی نہ ہو پائے کیونکہ میں لڑکوں سے دوستی نہیں کرتی ہمارے خاندان میں یہ اچھا نہیں سمجھا جاتا اس نے لگی لپٹی رکھے بنا کہا تھا ۔

آپ صاف انداز میں بات کرتی ہیں اور یقین کریں کہ یہ عادت مجھے بہت پسند ہے ۔ساگر اس کے پاس بیٹھا مزید آگے پیچھے کی باتیں کرنے لگا جب کہ شروع شروع میں تو وہ اس کے ساتھ کافی پر تکلف رہی لیکن آہستہ آہستہ اسے جاننے کے بعد وہ بھی کھل کر اس سے باتیں کرنے لگی تھی اس کی پسند ناپسند اس سے بہت ملتی جلتی تھی

°°°°°

اس کی آنکھ کھلی تو وہ اس کے آس پاس کہیں بھی نہیں تھا وہ جلدی سے اٹھ کر آگے پیچھے اسے تلاش کرنے لگی

مین دروازہ بند تھا یعنی وہ کہیں جا چکا تھا اسے اکیلے عظمی کے پاس چھوڑ کر لیکن اس نے کہا تھا کہ عظمیٰ دن میں یہاں نہیں ہوتی آخر اسے بھی تو اپنے کھانے پینے کا انتظام کرنا ہوتا ہے ۔

لیکن پھر بھی وہ اسے اکیلے چھوڑ کر کیوں گیا تھا اپنے پیٹ کی فکر لگی تو وہ کچن کی طرف آئی جہاں اس سے فریج پر ایک نوٹ لکھا ہوا نظر آیا تھا ۔

جلدی سے نوٹ اٹھاکر پڑھنے لگی تھی

گڈ مارننگ جان میں نے تمہارا ناشتہ بنا کر رکھ دیا ہے اوون میں گرم کر کے کھا لینا اور فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے دن میں تمہیں کھانا دینے کے لیے میں صیام کو بھیج دوں گا واپس نوکری جوائن کی ہے تو تھوڑی سی سختی فیس کرنی پڑے گی اسی لئے تمہارے ساتھ دن نہیں گزار پایا

شام کو تمہیں شاپنگ پر لے کر جاؤں گا ۔تیار رہنا ایک سمائل ایموجی بنا ہوا تھا وہ نوٹ واپس فریج پر لٹکا کر اپنے لئے ناشتہ ڈھونڈنے لگی جس کےلیےاسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی تھی ۔

سامنے رکھے ناشتے کو اٹھا کر اسے گرم کیا اور پھر واپس باہر آکر بیٹھ گئی ٹی وی آن کرتے ہوئے اس نے اپنی پسند کا کوئی چینل لگایا اور پھر آرام سے بیٹھ کر ناشتہ کرنے لگی تھی ۔

گھر میں سب لوگ کیا کر رہے ہوں گے کیا ان لوگوں نے مجھے ڈھونڈا ہوگا یا دادا جان نے سب کو بتا دیا ہوگا کہ انہوں نے مجھے یہاں بھیجا ہے ۔وہ خود سے باتیں کرتے ہوئے بول رہی تھی ۔

کاش میں گھر پر کسی سے بات کر سکتی آج سر واپس آئیں گے تو ان سے کہوں گی کہ مجھے اپنے گھر پر بات کرنی ہے کیا وہ مجھے بات کرنے دیں گے ۔

وہ سوچے جا رہی تھی جب کہ پلیٹ میں رکھا ناشتا بھی وہ مزے سے کھا رہی تھی اس نے پہلی بار کسی مرد کے ہاتھ سے اتنا مزیدار کھانا کھایا تھا

°°°°°

دادا جان بے حد خوش تھے جبکہ عمایہ کتنی ہی دیر انہیں دیکھتی رہی اور پھر بھی نہ کچھ بولے اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھا دئیے ۔

اندر تک اندھیرا چھا چکا تھا۔خوف سے دل کانپ رہا تھا کیاسچ میں سب کچھ بدلنے والا تھا ۔

رات کو جوزریام شاہ اس کے پاس تھا اس وقت باہر دادا جان کے ساتھ کھڑاانسان اس سے بہت الگ تھا۔

وہ اتنا جلدی بدل جائے گا اسے یہ رنگ دکھائے گا اس نے کب سوچا تھا کل رات تو کوئی اور ہی تھا جو اسے محبت دے رہا تھا اسے مان دے رہا تھا جو اس کی زندگی بن گیا تھا جس کے سامنے عمایہ نےاپنا دل کھول کر رکھ دیا تھا ۔

عمایہ جلدی سے میرے کپڑے نکال دو مجھے داداجان کے ساتھ بہت ضروری کام کے سلسلے میں جانا ہے وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اس سے کہنے لگا لیکن اس کے وجود پر اپنے پسندیدہ کلر کو دیکھ کر اس کے قدم وہیں رک گئے وہ جو واش روم کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا تھا پلٹ کر اس کے پاس آ گیا ۔

کیا بات ہے لڑکی آج تو بہت زیادہ حسین لگ رہی ہو وہ اس کی آنکھوں کو دیکھے بنا اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنے بے حد قریب کھینچ کراس کی کمر میں اپنا بازو حائل کر چکا تھا ۔

چھوڑیں زریام مجھے نیچے جانا ہے کام ہے مجھے وہ اپنا آپ چھڑواتے ہوئے کہنے لگی اس کا انداز اسے کھٹکنے پر مجبور کر گیا ۔

اور اگر میں تمہیں نہ چھوڑنا چاہوں تو کیا کر لو گی وہ اچانک ہی اس کے بالوں میں اپنا ہاتھ پھنساتا اس کا چہرہ اپنے چہرے کے بے حد قریب کر گیا تھا اور اس کی آنکھوں کا پانی بھی اس کی نگاہوں سے چھپا نہ رہ سکا ۔

میں نے کہا چھوڑیں مجھے جانا ہے وہ اس بار بد لحاظی سےگویا ہوئی تو اس کے ہاتھوں کی گرفت عمایہ کے بالوں میں مزید سخت ہوگئی۔

یہ کون سے لب و لہجے میں بات کر رہی ہو تم کہاں سے سیکھا ہے یہ انداز ۔۔۔؟تم میرا ہاتھ جھٹک رہی ہو اسے سچ میں غصہ آ گیا تھا ۔

جبکہ اس کے انداز پر وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی تھی ۔

دیکھو لڑکی میں ہر چیز برداشت کر سکتا ہوں لیکن اپنےجذبات کی توہین نہیں آج تم نے یہ حرکت کی ہے اگر آئندہ تم نے ایسی حرکت کی نہ جان نکال دوں گا تمہاری وہ سختی سے اس کے چہرے کو اپنی مٹھی میں دبوچے ہوئے بولا تھا آنکھیں شدت سے سرخ ہو رہی تھیں عجیب جنونیت طاری تھی ۔

اور پھر اس نے یہی جنونیت اس کے سینے میں اتار دی تھی اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں لے کر وہ کتنی ہی دیر خود کو سیراب کرتا رہا ۔اس کا انداز شدت سے بھرپور تھا ۔

شاید وہ خود کو جھٹکنے کی سزا دے رہا تھا ۔وہ ذرا سا اسے آزاد کر کے پیچھے ہٹا لیکن اس کی کمر میں اب تک اس کا بازو سختی سے حائل تھا اس کے ماتھے پر اپنا ماتھا ٹکاتے ہوئے وہ کتنی دیر آنکھیں بند کرکے کھڑا رہا ۔

عمایہ مجھے سچ میں یہ بات پسند نہیں ہے میں اپنے جذبات لٹانے صرف تمہارے پاس ہی آتا ہوں ۔

اور میرے جذبات کا احترام کرنا تم پر فرض ہے ۔

وہ آہستہ سے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا نرمی سے اسے خود سے الگ کر چکا تھا عمایہ کے سارے وجود میں کپکپاہٹ طاری ہو چکی تھی ۔

جاؤ جلدی سے میرے کپڑے تیار کرو مجھے دادا جان کے ساتھ بہت ضروری کام کے سلسلے میں باہر جانا ہے وہ نرمی سے اس کاگال تھپتھپاتا ہوا پیچھے ہٹا تھا جب کہ وہ اپنا سرخ چہرہ لیے جلدی سے الماری کی طرف بڑھ گئی تھی

°°°°°

غزل کے یونی گیٹ سے باہر نکلتے ہی وہ اس کے پاس ہی آ کر بیٹھ گیا تھا یہ ان کا روز کا معمول بن چکا تھا وہ غزل کے سامنے بھی اس سے زیادہ فری نہیں ہوتا تھا لیکن اس کے جاتے ہی وہ اس کے پاس آ جاتا تھا اس سے ملے بنا اب اس کا گزارا نہیں ہوتا تھا ۔

کچھ دنوں میں میرے ایگزامز ہو جائیں گے بس پھر یونی چھوڑ دوں گا ۔۔تم مجھے مس کرو گی وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگا ۔

آپ یونیورسٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں مجھے تو نہیں چھوڑ رہے وہ لبوں پر مسکراہٹ لیے آگے پیچھے دیکھ کر بولی تھی ۔

میں تمہیں کبھی چھوڑ بھی نہیں سکتا بس تمہاری اجازت کا طلبگار ہوں اگر تم کہو تو رشتہ بھیج دوں۔انکار تو نہیں کرو گی نہ ۔وہ آج براہ راست بات کر رہا تھا ۔

میرے پاس انکار کی کوئی وجہ ہی نہیں اور یقیناً میرے والدین کے پاس بھی انکار کی کوئی وجہ نہیں ہوگی آپ رشتہ بھیج دیں وہ مسکرا کر اپنے چہرے پر نقاب درست کرتی گیٹ سے باہر نکل گئی تھی ۔

لیکن جاتے جاتے ساگرکاظمی کو دنیا کی سب سے بڑی خوشی دے گئی تھی ۔

باباجان تو ویسے بھی آج کل اس کی شادی کے پیچھے لگے ہوئے تھے اور وہ بھی مزید انکار نہیں کرنا چاہتا تھا وہ شادی کے لئے بالکل تیار تھا اور اسے ایک لڑکی بھی پسند تھی جس کا ذکر وہ اپنے بھائی کے سامنے کر چکا تھا اس کے بھائی نے یہی کہا تھا کہ اس سے اس کی پسند لڑکی ہی ملے گی

بابا جان تو صرف اسکی شادی کرنا چاہتے تھے وہ کہتے تھے کہ وہ کسی لڑکی کا نام تو لے وہ اس کے رشتے کے لئے ضرور جائیں گے ۔

اور اب وہ بابا جان کو مزید انتظار نہیں کروانا چاہتا تھا اسے جو لڑکی پسند تھی اس کا نام آج وہ گھر جا کر لینے والا تھا اس کو بتانے والا تھا کہ اس کی پسند افشین ماجد شاہ ہے

°°°°°

دادا جان آج کافی دنوں کے بعد کچھ بہتر ہوئے تھے اور ڈاکٹر نے انہیں گھر جانے کی بھی اجازت دے دی تھی جس کے بعد اسے بھی کچھ سکون ہوا تھا اور وہ ان کے ڈسچارج پیپرز تیار کروا رہا تھا

جب اسے دادا جان کی دوائیوں کے لئے ہوسپیٹل سے باہر جانا پڑ گیا

دادا جان کی دوائیاں لے کر فورا ہی واپس لوٹ رہا تھا جب اسے ہسپتال کے احاطے میں ایک جانی پہچانی گاڑی کھڑی نظر آئی اور پھر کچھ شاہ خاندان والوں کو دیکھ کر وہ اندر جانے کے بجائے اس گاڑی کی طرف آیا جس میں سے شاہ خاندان کے لوگ بڑی شان و شوکت سے باہر نکل رہے تھے

تو خداش کاظمی کیسے ہو تم ۔۔۔میرے سننے میں آیا ہے کہ تمہارے دادا جان کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے تو سوچا کہ ہمیں بھی ان کی تیمارداری کے لیے جانا چاہیے

دوستوں کا تو فرض ہوتا ہی ہے اپنے دوستوں کی خیریت پوچھنے کا لیکن میں نے سوچا کہ ہم دشمنی میں مثال قائم کرتے ہیں

چل کے دشمنوں کے درپر اس کا حال جانتے ہیں ۔ذریام شاہ مسکراتے ہوئے اس کے سامنے آ رکا تھا جب کہ خداش غصے سے انہیں دیکھ رہا تھا

زریام اس کے منہ کیوں لگ رہے ہو ہم جن سے ملنے آئے ہیں ان سے ملاقات کرتے ہیں دادا جان کی آواز پر وہ پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوا ہاں میں سر ہلاتے ہسپتال کے اندر کی طرف قدم بڑھا گیا جب کہ خداش بھی ان کے پیچھے پیچھے ہی آ رہا تھا

وہ داداجان اور اس انسان کی ملاقات کو روک نہیں سکتا تھا کیونکہ یہ یقیناً اس چیز کو ان کے ڈر کا نام دے دیتے ہیں اسے بس ایک چیز کا سوچ کر پریشانی ہو رہی تھی کہ کہیں ان لوگوں کو حرم کی گھر میں غیر موجودگی کا علم تو نہیں ہوگیا

اگر ایسا ہوا تو یہ لوگ اس چیز کو بہت برے طریقے سے استعمال کرنے والے تھے یہ بات خداش بہت اچھے طریقے سے جانتا تھا وہ لوگ کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئے تو خداش بھی ان کے ساتھ ہی اندر آ گیا ۔

دادا جان یہ لوگ آپ سے ملاقات کے لیے یہاں آئے ہیں اس نے ان لوگوں کو دیکھتے ہوئے اپنے دادا کے چہرے کو دیکھا تھا جہاں غصہ صاف ظاہر تھا ۔

کیسے ہو تم قربان کاظمی میرے سننے میں آیا ہے کہ تمہیں ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور ہارٹ اٹیک کی وجہ تمہاری پوتی ہے ویسے میرے سننے میں تو یہ بھی آیا ہے کہ تمہاری پوتی گھر سے بھاگ گئی تھی کیایہ سچ ہے یا لوگ صرف باتیں پھیلا رہےتھے اپنے دادا کے انداز پر زریام کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی

بڑے افسوس کی بات ہے آج کل کی لڑکیوں میں شرم حیا نام کی نہیں ہے بس عاشقی معشوقی کی اور سامان اٹھا کر بھاگ گئے ۔ان کا لہجہ چھبتا ہوا تھا ۔

تم آج کے زمانےبات کی چھوڑو ماجد حسین تم اپنے زمانے کی بات کرو میں نے سنا ہے تمہاری بیٹی بھی کسی ساگر کاظمی کے ساتھ بھاگ گئی تھی انہوں نے بھی کمان سے تیر چھوڑا تھا ۔

جس پر ماجد حسین شاہ کے چہرےکے رنگ پھیکے پڑ گئے ۔

زبان سنبھال کر بات کرو قربان کاظمی میں تمہیں بس یہ یاد دلانے آیا تھا کہ ہمارے علاقے میں گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کی ایک سزا مقرر ہے ۔ہمارے علاقے میں گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کو پتھر مار مار کر کاری کر دیا جاتا ہے

اور یہ سزا صرف اس علاقے کے غریب لوگوں کے لیے نہیں بلکہ امیروں کے لیے بھی ہے یہاں تک کہ اس سزا کو بنانے والا کاظمی خاندان بھی اگر اس طرح کی کوئی غلطی کرتا ہے تو اسے بھی اس اصول کو ماننا پڑے گا ۔

کیوں قربان کاظمی میں صحیح کہہ رہا ہوں ناں ۔۔۔! آپ کہیں اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹ جائیں گے ۔چہرے پر اطمنانیت لیے ماجد شاہ نے قربان کاظمی کی دکھتی رگ پہ ہاتھ رکھا تھا ۔

خداش کا دل چاہا کہ وہ سامنے کھڑے اپنے دادا کی عمر کے اس انسان کو جان سے مار ڈالے جو اس کی لاڈلی بہن کے لیے سزا تجویز کر رہا تھا ۔

میری بہن گھر سے نہیں بھاگی ماجد شاہ میری بہن اغواء ہوئی ہے تمہیں یہ بات سمجھ میں کیوں نہیں آ رہی وہ چلا اٹھا تھا۔

ماننا پڑے گا آپ کو خداش کاظمی صاحب آپ کے گھر کی سیکیورٹی تو بہت ہی خراب ہے آپ کے گھر سے آدھی رات کو اپنی بہن بھاگ گئی میرا مطلب ہے اغواء ہوگئی اور آپ لوگوں کو پتہ تک نہ چلا کیسے مرد ہیں آپ، مرد ہیں بھی یا نہیں کیوں کہ اس واقعے کے بعد ہم اس بات پر یقین نہ کر سکے ۔

لگتا ہے آپ کا زور صرف گھوڑے کی رسیوں پر چلتا ہے زریام شاہ دل پر جلا دینے والی مسکراہٹ لئے اس کے سامنے کھڑا تھا ۔

میرے منہ مت لگو زریام شاہ خداش کاظمی ہستی ہلادیتا ہے۔وہ بپھرےہوئےشیرکی طرح دھاڑا۔

کاش یہ زور تم اپنی بہن کو تربیت سکھانے پر لگاتے کم از کم گھر سے تو نہ بھاگتی ۔وہ اس کے انداز پر گھبرائے بنا دل جلانے والی مسکراہٹ لیے بولا

خیر ہم تمہیں یہی بتانے آئے تھے ہسپتال سے فارغ ہو کر ہم پنچایت بٹھائیں گے اور وہاں تمہاری پوتی کا وہی فیصلہ ہوگا جو اس گاؤں کے اصولوں کے مطابق ہوتا آیا ہے بس اتنا کہہ کر ماجد حسین شاہ اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ۔

جبکہ ان کے جاتے ہی خداش بھی کمرے سے باہر نکلا تھا ۔

دادا جان آپ چلے گاڑی میں بیٹھے مجھے خداش کاظمی سے کوئی ضروری بات کرنی ہے وہ ایسے انداز میں بولا کہ دادا جان کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آ گئی

وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوئے وہاں سے جا چکے تھے جب کہ وہ خداش سے بات کرنے کے لیے پلٹ آیا

°°°°°

تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے یہی لڑکی ملی تھی تمہیں پوری دنیا میں ہمارے دشمن کی بیٹی تمہیں لگتا ہے کہ ہم اس کے ساتھ تمہاری شادی کریں گے نہیں یہ ممکن نہیں ہے

۔ماجد شاہ کی بیٹی سے شادی کےبارے میں سوچنابھی نہیں وہ ہمارے دشمن کی بیٹی ہے اور تم کیسے بھول گئے ماجد شاہ کے بیٹے نے ہی تمہیں ہرایا ہے تمہیں پوری دنیا کے سامنے شرمندہ کیا ہے اس ہار کو بھول گئے تم

آج تین دن گزر گئے تھے دن تین پہلےاس نے افشین کے بارے میں گھر میں بتایا تھا پہلے تو انہیں افشین کی معلومات لیتے ہوئے دو دن گزر گئے اور جب انہیں پتا چلا کہ وہ کسی اور کی نہیں بلکہ ان کے سب سے بڑے دشمن کی بیٹی ہے تو اپنے بیٹے پر ہی بھڑک اٹھے ۔

دشمنی ہماری ماجدشاہ سے ہے اس کی بیٹی سے تو نہیں میں اس کی بیٹی سے محبت کرتا ہوں وہ افشین کےبارے میں کچھ نہیں سن سکتا تھا وہ نفرت ماجد شاہ سے کرتا تھا افیشن سے نہیں

اپنے ذہن سے اس لڑکی کو نکالو خبردار جو تم نے دوبارہ ہمارے سامنے اس کا نام بھی لیا وہ غصے سے دھاڑ رہے تھے

لیکن بابا جان میں اس سے محبت کرتا ہوں ساگر پیچھے نہیں ہٹا

بابا جان میں اسے سمجھا دوں گا آپ پلیز غصہ نہ کریں راحت کاظمی نے ان کے کندھے پر بازو پھیلاتے ہوئے انہیں ریلیکس کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ ساگر مزید رکے بنا تیزی سے گھر سے نکل گیا

°°°°°°

او کہاں ہوتے ہو تم جب بھی ہم تمہیں ڈھونڈتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تم گھر پے ہی نہیں ہو۔ شائزم کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر انہوں نے کہا تھا

میں تو گھر پہ ہی ہوتا ہوں جب بھی آپ کے کمرے میں آتا ہوں تو آپ اپنی لاڈلی سے بات کر رہے ہوتے ہیں اسی لئے آپ لوگوں کو ڈسٹرب کیےبنا کمرے سے نکل جاتا ہوں

لیکن آج تو آپ کی مجھ سے بات ہوگی اور آپ مجھے یہ بتائیں گے کہ آپ کی نواسی اور آپ کی کہانی کیا ہے۔کہانی بعد میں پہلے یہ بتائیں کہ وہ محترمہ حویلی میں کب تشریف لا رہی ہے میرا مطلب ہے

کیا آپ اسے ہمیشہ اس حویلی سے دور ہی رکھیں گے ۔ ۔ ۔ ؟

وہ ان سے سارے سوال کر چکا تھا جب کہ دادا جان کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی تھی

نہیں وہ یہاں گھر لانے والی ہے بہت جلد ہم اسے اس گھر کی دلہن بنا کر یہاں لے آئیں گے

ہم اس کی شادی ذریام سے کر رہے ہیں اور زریام نے رشتے کے لیے حامی بھر دی ہے

اور ہمیں یقین ہے ہماری نواسی جلد ہی ذریام کی زندگی سے عمایہ کو نکال کر باہر پھینک دے گی اور وہ ہمارے خاندان کی اصل بہو ہوگی دادا جان اپنی دھن میں بولتے جارہے تھے جبکہ شائزم کو لگا جیسے اس کی دنیا ہل گئی ہو ۔وہ تو ان سے کچھ پوچھنے کی بھی ہمت نہیں کر پا رہا تھا

°°°°°°