Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 60)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 60)
Junoniyat By Areej Shah
نہیں بھائی ایسا کیسے ممکن ہے کیا آپ نہیں جانتے کہ ہمارا گاؤں جانا کتنا خطرناک ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔؟
اور ویسے بھی میں اب گاؤں نہیں آنا چاہتا میں بہت خوش ہوں اور اللہ پاک کے کرم سے اب تو میری فیملی مکمل ہو رہی ہے میں کبھی وہاں واپس جانا پسند نہیں کروں گا ۔وہ حتمی انداز میں بولا
نہیں ساگر اپنی خاندانی وراثت چھوڑنی نہیں چاہئے وہ تمہارا گھر ہے تمہارے اپنے ہیں انہیں چھوڑ کر بھلا تم کبھی خوش رہ پاؤ گے ۔۔۔۔۔؟
اور ہم نے بابا جان سے بات کر لی ہے انہیں بھی تم لوگوں کے واپس آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ وہ عزت اور احترام سے گاؤں میں تم لوگوں کا استقبال کریں گے ۔
تم لوگوں نے کوئی گناہ نہیں کیا شادی ایک جائز اور پاکیزہ رشتہ ہے تم لوگوں نے نکاح کیا ہے اور نکاح سے بڑا اور کوئی نیک کام ہے ہی نہیں ۔۔۔۔”نکاح اللہ تعالی کا سب سے پسندیدہ کام ہے اور ہمیں بھی ان پرانی سوچوں سے اب نکل آنا چاہیے تمہیں گاؤں واپس آنا چاہیے ۔
یہ آپ لوگ میرے شوہر کو کون سے پٹیاں پڑھا رہے ہیں کیا آپ کو سمجھ میں نہیں آرہا کہ ہم واپس نہیں آنا چاہتے آپ لوگ بار بار ایک ہی بات کرنے یہاں کیوں چلے آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟
ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ ہم واپس وہاں نہیں آنا چاہتے ہیں تو مطلب صاف ہے کہ ہم نہیں آنا چاہتے ہمیں نہ تو کوئی وراثت چاہیے اور نہ ہی باباجان کی معافی ۔
ہم جہاں ہیں بہت خوش ہیں جن حالات میں ہیں اللہ پاک کا شکر ہے کہ اچھا گزر بسر ہو رہا ہے ۔خدا کے لیے اب دوبارہ یہاں مت آئیے گا میں آپ لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں افشین کا لہجہ بہت بُرا تھا ۔
آفشین یہ کون سا طریقہ ہے بات کرنے کا اس کاانداز ساگر کو بھی ناگوار گزرا تھا ۔
ساگر ان سے کہیں کہ چلے جائیں ہمارے گھر سے اور واپس یہاں آنے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے ہمیں ان کی کوئی مدد نہیں چاہیے اور نہ ہی ہم واپس کبھی اس گاؤں میں آنا چاہتے ہیں ۔
ساگر یہ ہماری بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کر رہی لیکن تم تو سمجھو تمہاری بیٹی ہے کل کو بیٹا ہوگا ۔کل کو یہ جوان ہوں گے کیا فیوچر ہوگا ان کا اپنا اصل مت بھولو افشین بیوقوفی کر رہی ہے تم بیوقوف مت بنو ۔
ہم تمہارے ساتھ ہیں ایک بار گاؤں واپس آ جاؤ ہم تمہارے ساتھ کھڑے ملیں گے ہر قدم پر تمہیں سپورٹ کریں گے ہم تمہیں ہرگز نہیں چھوڑیں گے ساگر تم ہم پر بھروسہ کر سکتے ہو ۔
اس کی باتوں میں مت آو یہ بے وقوفی کر رہی ہے یہ اپنے بھلے کے بارے میں نہیں سوچ رہی لیکن تم سوچو خاندان کے بنا کب تک در در کی ٹھوکریں کھاو گے ۔ تم باپ ہو ان کے ان کے بارے میں بہتر سوچ سکتے ہو وہ بس اتنا کہہ کر اٹھ گئے تھے ۔
ساگر کو ان کی باتیں ٹھیک لگ رہی تھی لیکن اب افشین واپس جانے کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی وہ جتنا مل رہا تھا اتنے میں خوش تھی لیکن ساگر کو اپنے بچوں کے فیوچر کے بارے میں کچھ کرنا تھا اور پھر جب سب کچھ ٹھیک ہو رہا تھا تو پھر اپنے گھر والوں سے اتنا دور رہنے کا کیا فائدہ ۔
لیکن افشین بات کو سمجھنا تو دور سوچنے تک کو تیار نہ تھی ساگر اس سے بات کرتے ہوئے اسے اچھا خاصا ڈانٹ چکا تھا لیکن افشین اب تک اپنی بات پر قائم تھی
°°°°°°
شائزم بیٹا یہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔۔۔؟ایسا بھلا کیسے ممکن ہے تم جانتے تو ہو کہ اس وقت ریدم یہاں پر نہیں بلکہ کاظمی حویلی میں ہے ۔
اور ہم نہیں جانتے کہ ہم اسے واپس کیسے یہاں پر لے کر آئے اور ایسے میں تم ہمیں اس سے شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کر رہے ہو ۔
دادا جان دلہن ہمیشہ اپنے مائکے سے ہی تو آتی ہے اور ماننے والی بات یہ ہے کہ ریدم کا اصل گھر وہی ہے ۔اور میرا نہیں خیال کہ اسے اپنے ماموں کے بیٹے سے شادی پر کوئی اعتراض ہو گا آپ اس بارے میں ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچیں ۔
کیا مطلب ہے تمہارا کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم جا کر وہاں ریدم کا رشتہ مانگے وہ بھی اس انسان سے جس سے ہم نفرت کرتے ہیں ایسا ممکن نہیں ہےشائزم ہم اس شخص کے سامنے جھکنے کے بارے میں کبھی سوچ بھی نہیں سکتے ہیں وہ ہماری نواسی ہے ۔
اسے ہم نے پالا سب سے چھپا کر ہم نے اس کی پرورش کی اس کا خیال رکھا اور جب ہم نے اسے یہاں لانے کا فیصلہ کیا وہ نجانے کیسے اس کے بارے میں جان گئے۔
اور پھر ہمارے لاڈلے پوتے کی ایک غلطی نے اسے اُس حویلی پہنچا دیا اور اس سب کی وجہ وہ لڑکی ہے ۔
جس کے لئے ذریام ہم سے بغاوت پر اتر آیا ۔وہ بچہ کبھی ہمارے خلاف جانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور آج اس لڑکی کی خاطر وہ یہ بھی بھول گیا کہ وہ ہمارے سامنے کھڑا ہے ۔
اس لڑکی کی خاطر وہ گھر چھوڑ کر چلا گیا اس لڑکی کی خاطر اس نے اپنے خاندان کی عزت کی پروا نہ کی ۔ہمارا بس نہیں چلتا کہ ہم اس لڑکی کو زندہ زمین میں گاڑ دیں وہ غصے سے پاگل ہوئے جا رہے تھے ۔
دادا جان یہ ساری باتیں ہم بعد میں بھی تو کرسکتے ہیں پہلے مجھے یہ بتائیں کہ آپ میرے بارے میں کب سوچیں گے میں ریدم سے شادی پر بلکل سیریس ہوں ۔
میں اسے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں مجھے اس سے محبت ہے دادا جان پلیز آپ میری خاطر اس حویلی میں رشتہ لےکر جائیں ۔اس دشمنی میں کچھ بھی نہیں رکھا مجھے ہر حال میں ریدم کو اپنا بنانا ہے اس سے پہلے کہ وہ لوگ اس کی زندگی کا کوئی بڑا فیصلہ کردیں ہمیں خود ہی کچھ نہ کچھ کرنا پڑے گا ۔
وہ آج اپنے دل کی بات ان کے سامنے رکھ چکا تھا اس کا ارادہ پہلے ریدم سے اس بارے میں بات کرنے کا تھا ۔لیکن اس نے سوچا کہ پہلے دادا جان سے بات کرنا زیادہ بہتر رہے گا انہیں منانے کے بعد ہی وہ ریدم کو اس بارے میں کچھ بتانا چاہتا تھا ۔
اس کے دل میں ریدم کے لیے جو احساسات تھے انہیں وہ بہت پہلے سے ہی سمجھ چکا تھا اس لڑکی کو دیکھنے کی خواہش ملنے کی ضد اس کا دل نہ جانے کب سے کر رہا تھا اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ہی اس نے اس حویلی کی جانب قدم بڑھائے تھے ۔
اور پچھلی چار ملاقاتوں میں ہی اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اب مزید ریدم کو کاظمی حویلی نہیں رہنے دے گا ۔
دادا جان اپنی ضد کے بہت پکے تھے وہ جانتا تھا کہ دادا جان آسانی سے نہیں مانیں گے اور وہ بھی کاظمی حویلی والوں کے سامنے جھکنا ان کے لئے ممکن نہیں تھا ۔
لیکن وہ محبت میں بہت آگے نکل چکا تھا ۔ان دونوں خاندانوں کی دشمنی میں صرف نقصان ہی ہوئے تھے اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ مزید کسی طرح کا کوئی خون خرابہ ہو اسی لیے اس نے دادا جان سے کہا تھا کہ وہ خود جا کر اس کا رشتہ مانگے ۔
جس کے لئے وہ ہرگز تیار نہیں تھے لیکن وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی ضد کے سامنے دادا جان کو جھکنے پر مجبور کردے گا ۔
°°°°°
یہ تو بہت خوبصورت فلیٹ ہے آپ نے تو کہا تھا کہ ہم جنت کے پاس جا رہے ہیں لیکن یہاں پر تو ہم الگ جگہ آگئے ہیں کیا ہم جنت آپی سے نہیں ملیں گے ۔
پورا گھر دیکھنے کے بعد اس سے آ کر پوچھنے لگی تھی ۔
میری جان کیوں نہیں ملیں گے پہلےایک دوسرے سے ملاقات کرلیں تم تو آج کل کچھ زیادہ ہی مصروف رہنے لگی ہو تو سوچا کہ کیوں نہ تمہیں سب سے دور صرف خود میں مگن کرنے کے لئے یہاں لے آیا جائے ۔
اب تم ذرا مجھے وقت دے دو مجھے دیکھو مجھے سوچو اور میرے پاس رہو جہاں تک جنت کے بات ہے تو تمہیں اگلے تین دن میں جنت سے بھی ملاقات کروا دوں گا لیکن پہلے ذرا مجھ سے ملاقات کرو۔
اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے وہ آہستہ سے اسے اپنے قریب کرتا اس کے نازک اور ملائم سرخ گالوں پر جھکتے اپنے لب رکھ چکا تھا ۔
اس کے لمس پر نظریں جھکاتی وہ اس کے حصار میں قید ہو چکی تھی عمایہ کے دونوں ہاتھ اس کے سینے پہ پر تھے جبکہ وہ اس کے کانوں میں مدھم سرگوشیاں کرتا اپنی محبت کی داستان سنا رہا تھا ۔
جبکہ وہ اس کی دھڑکنوں پر راج کرتی اس کی چاہت کے نئے خواب سجاتے ہوئے بے انتہا خوش تھی
°°°°°
وہ لیکچر ختم کرنے کے بعد آرام سے بیٹھا ان سب کو دیکھ رہا تھا جو اہم پوائنٹ نوٹ کرتے ہوئے اس سے سوال کر رہے تھے ۔
ہائے اتنا ہینڈسم ہے یہ اسے سر کہنے کا نہیں جانو کہنے کا دل کرتا ہے اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی بڑی بے باکی سے پچھلی سیٹ والی سے بول رہی تھی ۔
تو جانو بول کر دیکھ لو ہو سکتا ہے کام بن جائے ویسے اتنا بد ذوق لگتا تو نہیں ۔ٹرائی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے پچھلی والی نے جیسے اس کی حوصلہ افزائی کی تھی وہ پہلے اسے جب کہ پھر پچھلی والی کو گھورنے لگی تھی ۔
لٹل گرل آگے دیکھو ۔یہاں بچوں کے سننے والی باتیں نہیں ہورہی پیچھے والی لڑکی نے اس کے چہرے کو بڑی ہی نرمی سے آگے کی طرف موڑا تھا ۔
اس پر وہ انہیں کچھ کہنے کے بجائے یشام کو گھورنے لگی تھی ۔غصے سے اس کا چہرا لال انگارا ہو رہا تھا۔
کیا ہوا مس حرم آپ کچھ پوچھنا چاہتی ہیں وہ اس سے مخاطب ہوا تھا ۔
جب کہ وہ نفی میں سر ہلاتی منہ پھلائے اپنے لیپ ٹاپ پر دیکھنے لگی تھی ۔جہاں یشام سارے نوٹس اسے میل کر چکا تھا ۔لیکن پھر بھی اس نے اسے مسکرا کر نہیں دیکھا ۔
°°°°°°
کیا مطلب ہے اب اگر لڑکیاں دیکھتی ہیں تو کیا میں برقع پہن کر آنا جانا شروع کر دوں۔
وہ یونیورسٹی سے باہر اس کا انتظار کر رہا تھا لیکن اس کے بنے ہوئے منہ کی وجہ جاننے پر اس نے کہہ دیا تھا کہ لڑکیاں دیکھتی ہیں جس پر اس کا منہ بنانا اسے بالکل پسند نہ آیا تھا ۔
مجھے نہیں پتا آپ برقع پہنے یا کچھ بھی کرے لیکن وہ لڑکیاں آپ کو نہ دیکھیں اور اگر دیکھیں بھی تو کوئی گھٹیا کمنٹ پاس نہ کریں ۔اتنی فضول باتیں کر رہی تھی کہہ رہی تھی
آپ کو جانو کہنےکا دل کرتا ہے یہاں تک کہ آپ کی کلاس کے جانے کے بعد بھی ان کی یہ گھٹیا گفتگو کا سلسلہ رکا نہیں بلکہ چلتا ہی رہا ۔آپ کو پٹانے کے لئے مکمل پلاننگ کی جا رہی ہے یہاں ۔
تو میں کون سا پٹ جاؤں گا ان سے ڈارلنگ مجھے پٹانا آسان نہیں یہ صرف تمہارے بس کی بات ہے وہ اسے ریلیکس کر رہا تھا ۔لیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی تھی ۔
پہلی بات میں ان چیپ لڑکیوں کی کیٹیگری میں شامل نہیں ہوتی میں نے آپ کو نہیں پٹایا بلکہ آپ نے مجھے اغواء کیا زبردستی شادی کرکے مجھے یہاں لے آئے ہیں ۔
اور اب ایسے کسی فیشن ماڈل کی طرح ان لوگوں کے سامنے یہاں سے وہاں چلتے ہوئے ان کے گھٹیا کمنٹس ریسو کرتے ہیں لیکن میں کہہ رہی ہوں مسٹر شوہر سر یہ سب کچھ میرے ہوتے ہوئے نہیں چلے گا ۔
اگر یہ سلسلہ نہ رکا نہ تو میں واپس پاکستان چلی جاؤں گی مجھے ہرگز منظور نہیں ہے کہ میری پرسنل پراپرٹی پر کوئی لڑکی منہ اٹھا کر کمنٹ کرے۔
اور آج کے بعد اگر کسی لڑکی نے آپ کا نام لیا تو میں قسم کھا کے کہتی ہوں میں منہ توڑ کر رکھ دوں گی اس کا وہ غصے سے کہتی آگے ہی آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔
جب کہ اس کے پیچھے آتا یشام اپنی مسکراہٹ کو روکنے کی ناکام کوشش کرتا اپنی شیرنی کا دبنگ روپ دیکھ رہا تھا ۔
تمہیں یہ کس نے کہا کہ میں تمہاری پرسنل پراپرٹی ہوں۔اس کے سوال پر اس نے مڑ کر اسے گھورا جب کہ وہ سیریس شکل بنائے اسے دیکھ رہا تھا ۔
اس نکاح نامے نے جس پرآپ نے مجھ سے زبردستی سائن کروائے تھے نکاح کا کیا مطلب ہوتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو کسی کی ملکیت میں دے رہے ہیں اور آپ میری ملکیت ہیں۔اور میری ملکیت کو کوئی چھو کر گزرے میں اس کے ہاتھ نہ توڑ دوں۔
آئی بڑی ٹرائی مارے گی اور مجھے کہتی ہے بچوں کی بات نہیں ہو رہی آگے دیکھو ۔۔وہ ان لڑکیوں کی نقل اتارتے ہوئے بتا رہی تھی جب کہ یشام سے اب اپنی ہنسی کنٹرول نہیں ہورہی تھی لیکن جو بھی تھا حرم کا یہ انداز اسے بہت اچھا لگ رہا تھا ۔
جتنا وہ اس کے لئے پوزسیسو تھا اتنی ہی وہ بھی اس کے لیے تھی۔
تم فکر مت کرو میں ان لڑکیوں کو بہت اچھے سے بتا دوں گا کہ میں ایک شادی شدہ انسان ہوں اور مجھ پر کسی طرح کی گندی نظر نہ رکھی جائے ورنہ میری بیوی ایک جنگلی شیرنی ہے ۔جو ان کو چیر پھاڑ کر رکھ دے گی ۔اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے تھامے ہوئے وہ سڑک پار کرتے ہوئے بول رہا تھا جبکہ اس کی اس بات پر وہ تھوڑی سی نارمل تو ہوگئی تھی ۔
مجھے بھوک لگی ہوئی ہے ۔وہ اس سے کہنے لگی
لیکن تم نے تو کہا تھا کہ دن کا کھانا تم بناؤ گی اس نے یاد دلایا تھا ۔
میں نے سنڈے کا کھانا بنانے کے لئے کہا تھا آج کا نہیں وہ بات بدل گئی تھی ۔شاید اس بھوکے پیٹ کے ساتھ وہ کچھ بھی بنانے کی ہمت نہیں رکھتی تھی ۔
اوکے جان سامنے والے ریسٹورنٹ میں چلتے ہیں میں نے سنا ہے کہ وہاں ہم لوگوں کے کھانے کے لائق کچھ نہ کچھ مل جاتا ہے وہ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے اس ہوٹل کی طرف جانے لگا تھا ۔
میرا نام جان نہیں حرم ہے ۔پھر سے یاد دلایا گیا
جی حرم جان میں جانتا ہوں وہ نرمی سے مسکراتے ہوئے کہتا اسے اپنے ساتھ لے گیا تھا
°°°°°°
میں باہر کہیں بھی نہیں جانے والی آپ کو جہاں جانا ہے ہو کر آ جائیں ۔میں یہیں رہوں گی روم میں ہی میرا کہیں جانے کا دل نہیں کر رہا ہے ۔خداش نے اسے تیسری دفعہ اپنے ساتھ باہر چلنے کو کہا تب بھی اسے یہی جواب ملا
اور میں تمہیں کہہ رہا ہوں کہ میرے ساتھ چلو ہم ہنی مون پر آئے ہیں اکیلے گھوم پھر کر کیا کروں گا مجھے تمہیں ساتھ لے کر چلنا ہے چلو جلدی سے اٹھو ایک وقت تھا جب تم کشمیر گھومنے کے لیے دادا جان کے سامنے جھوٹے بہانے بنا رہی تھی
اور اب جب میں تمہیں اتنی خوبصورت جگہ پر لے کر آیا ہوں تو تمہارے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے ۔
وہ خود ہی الماری سے اس کے کپڑے نکالتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
ہاں کیوں کہ تب میں جانا چاہتی تھی اور اب میرا موڈ نہیں ہے اور آپ کے ساتھ تو میں ویسے بھی کہیں نہیں جانا چاہتی تھی نہ تب نہ اب اس نے صاف گوئی سے کہا ۔
دیشم جان تم کیوں چاہتی ہو کہ میں پھر سے تمہیں دھمکی دوں ہر بات پر دھمکیاں دینا مجھے ہرگز پسند نہیں ہے ۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولا تو دیشم پیر پٹخ کر اس کے ہاتھ سے کپڑے چھیننے والے انداز میں لے کر وہ باتھ روم میں گھس گئی تھی جبکہ وہ سکون سے آ کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔
سیدھا ہونے میں ٹائم لگے گا لیکن ہو جائے گی وہ بڑبراتے ہوئے اپنے سر کے نیچے ہاتھ رکھتا اس کے آنے کا انتظار کرنے لگا
°°°°°°
وہ اس کی پسند کا ڈریس پہن کر باہر آئی اور جلدی جلدی اپنے بالوں میں کنگھی کرنے لگی ۔
باندھنا مت ایسے ہی اچھے لگ رہے ہیں وہ پیچھے سے بولا ۔
مجھے یوں فضول میں اپنے بالوں کی نمائش کرکے نظر نہیں لگوانی وہ اسے کوئی بہت ہی اچھا جواب دینا چاہتی تھی لیکن اس کی منہ سے وہی بات نکلی جو وہ سوچتی تھی ۔
بے شک اس کے بال بہت خوبصورت اور کافی لمبے تھے سیاہ بالوں کی آبشار کمر پر بہتی بہت خوبصورت نظارہ پیش کر رہی تھی ۔
تمہارا ڈر بالکل ٹھیک ہے ۔لیکن تم فکر مت کرو میں تمہاری نظر اتروا لوں گا ۔وہ اس کے پیچھے آتا نرمی سے اس کے حسین بالوں کو چھونے لگا جب اگلے ہی لمحے وہ پیچھے ہٹ گئی ۔
میرے بالوں کو کوئی ہاتھ لگائے مجھے پسند نہیں پلیز۔۔۔۔۔وہ ہاتھوں سے اس کے حسین بالوں کو محسوس کرتے ہوئے اس کے قریب ہوا تھا . جب وہ بولی۔
خدا کے لئے ابھی اس بات پر مجھے کوئی دھمکی مت دیجئے گا وہ اسے گھورتے ہوئے بڑی ہی دلیری سے بولی تھی۔
اب کیا محسوس بھی نہیں کرنے دو گی وہ اس کے مزید قریب آتے ہوئے آہستہ سے اس کی گردن میں اپنا چہرہ چھپاتے اس کے بالوں کی خوشبو کو محسوس کرتے بولا۔
دیشم کی سانسیں اتھل پھل ہوگئی۔
جبکہ اس کا ہاتھ اس کے سینے پر آ چکا تھا ۔
اتنی محنت تم نے ان بالوں پر نہیں کی ہوگی جتنی مجھے ان سے دور رکھنے کے لئے کر رہی ہو ۔
کھلے رہنے دو وعدہ کرتا ہوں نظر نہیں لگنے دوں گا وہ نرمی سے اس کے بالوں کی خوشبو محسوس کرتا پیچھے ہٹ گیا تھا جبکہ دیشم مٹھیاں بھینچتے اپنے بالوں میں جلدی جلدی کنگھی کرتی انہیں یوں ہی پیچھے کمر پر گرا کر اپنے دوپٹے کو اچھی طرح سے خود پر کور کرتی باہر نکل آئی تھی ۔
وہ اپنے بالوں کے معاملے میں ہمیشہ سے ہی ایسی تھی اسے نہ تو ہی فضول میں بال کھلے رکھنا پسند تھا اور نہ ہی وہ کسی کو اپنے بال دکھانا پسند کرتی تھی ۔
لیکن اب خداش کی دھمکی کی وجہ سے اسے اپنی سب سے قیمتی چیز کو کھول کر اس کے ساتھ باہر آنا پڑا تھا ۔
°°°°°
