65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 83)

Junoniyat By Areej Shah

آپ کے پاس اس نکاح کا کوئی ثبوت نہیں ۔کوئی گواہان کوئی نکاح نامہ نہیں ہے اور آپ خود کو احمر کاظمی کی بیوہ کہتی ہیں ۔

میں ان کی بیوہ کو وکیل صاحب یہ ہمارا بچہ ہے ۔آپ اس کا ڈی این اے کروایں ۔سب سچ سامنے آ جائے گا ۔میرے بچے کا میڈیکل ٹیسٹ کیوں نہیں کروایا جا رہا ۔

مجھے یہاں عدالتوں میں گھیسٹ کرمیرے محرم شوہر کے بھائی پاکستان جا کر کیوں بیٹھ گئے ہیں ۔یہاں آکر اس کیس کو ختم کیوں نہیں کر رہے ۔

مجھے میرے ہی گھرسے نکال کر وہ لوگ مجھے یہاں اس کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور کر چکے ہیں۔

مجھے میرے بیٹے کی چھت چاہے ۔اس کا فیوچر چاہے ۔مجھے انصاف چاہے ۔میں بیمار ہوں میرے بعد میرے بچے کےپاس چھت تک نہیں ہو گی ۔

ہم آپ کی بات کو سمجھ رہے ہیں۔لیکن آپ بھی سمجھیں ڈی این اے چیک اپ یا اس طرح کے میڈیکل ٹیسٹ کا دعواء آپ احمر کاظمی پر کر سکتی ہیں ۔لیکن ان کے بھائیوں پر نہیں

آپ کا دعواء ہے کہ احمر کاظمی آپ کا شوہر تھا جو اب اس دنیا میں نہیں رہا آپ ان کے کسی بال یا ناخن کے ساتھ بھی ڈی این اے کروا سکتی ہیں رپورٹ آپ کے حق میں آ جائے گی لیکن ہم ان کے بھائیوں کو یا ان کی فیملی میں کسی کو فورس نہیں کر سکتے۔

ہمارے پاس کوئی ایک چھوٹا سا ثبوت تک نہیں ہے ۔وہ اسے سمجھا رہا تھا۔

اگر مجھے اس گھر کے اندر جانے دیا جائے تو شاید میں کچھ ڈھونڈ سکوں ۔وہ بےبسی کی آخری اتنہا پر تھی ۔تین ماہ پہلے راحت صاحب اسے اسکے بچے کے ساتھ گھر سے بےدخل کر چکے تھے ۔

اور وہ مجبور ہو کر اس گھر کو چھوڑ آئی تھی ۔لیکن پیچھے نہ ہٹی اس نے ان لوگوں پر کیس کیا تھا۔اپنے گھر کےلیے لیکن وہ ثابت نہ کر سکی کہ وہ احمر کے نکاح میں ہے اس کے پاس کوئی ثبوت ہی نہیں تھا یہاں تک کہ آس پاس کے لوگوں نے بھی اس کی کوئی گواہی نہ دی تھی سب کا کہنا تھا کہ وہ دونوں ایک ساتھ رہتے تھے لیکن میاں بیوی تھے یہ کسی کو بھی پتہ نہ تھا ۔

وہ اپنے بیٹے پر ناجائز ہونے کا ٹیگ نہیں لگا سکتی تھی وہ ان کی محبت کی نشانی تھا ۔پچھلے تین مہینوں سے وہ دھکے کھا رہی تھی ۔کبھی ایک جگہ جاتی تو کبھی دوسری جگہ بیماری نے اسے تھکاناشروع کر دیا تھا ۔

یشام ہر روز اسے اپنی طرف سے ہسپتال بیچ کر سکول جاتا تھا لیکن وہ ہسپتال کے بجائے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی تھی۔

اس کے معصوم سے بچے نے گھر چھوڑ کر اس سے کبھی شکوہ نہ کیا تھا کبھی اس سے کچھ بھی نہ پوچھا سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا

وہ نجائز لفظ کا مطلب بھی نہیں جانتا تھا تو وہ کیسے اسےاس ناجائز لفظ کےدلدل میں زندگی بھر کے لئے جھونک دیتی

°°°°°°°

حرم بس کر دو میری جان اور کتنا رو گی دیکھو تمہاری آنکھیں بھی سرخ ہونے لگی ہیں اب ایک اور آنسو مت بہانہ وہ مسلسل روئے جا رہی تھی جب کہ وہ مسلسل اس کے پاس بیٹھا اس کے آنسوؤں کو صاف کر رہا تھا

کچھ مت کہے کچھ بھی مت کہیں آپ جھوٹے ہیں آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا کتنی خوش ہو گئی تھی میں کہ میں نے اچھی چائے بنائی ہے وہ آپ سب میرا مذاق بنا رہے تھے سب لوگ ہنس رہے تھے مجھ پر اور آپ بھی اندر ہنس رہے تھے وہ سوں سوں کرتے ہوئے اسے جواب دیتی اس کے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کے ڈبے سے ٹشو نکالتے اپنی ننھی سی ناک کو رگڑ رہی تھی

حرم جان میں تم سے جھوٹ کیوں بولوں گا مجھے سچ میں چائے بہت اچھی لگی تھی مجھے کیا پتا اس میں چینی کے بجائے نمک ہے میری حرم کے تو ہاتھ میں مٹھاس ہے مجھے تو برا ذائقہ آیا ہی نہیں ۔

وہ اسے سمجھاتے ہوئے کافی ان لاجک قسم کی باتیں کر رہا تھا لیکن حرم کے لئے وہ یقین کے قابل تھی

ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ آپ کو گندا ذائقہ آیا ہی نہیں نمک نمک ہوتا ہے اور چینی چینی ہوتی ہے چینی میٹھی ہوتی ہےاور چائے میٹھی نہیں تھی وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہہ رہی تھی

ہاں حرم جان میں جانتا ہوں چینی میٹھی ہوتی ہے لیکن میں نے کہا نہ کہ میری حرم جان کے ہاتھوں میں مٹھاس ہے مجھے بالکل بھی گندا ذائقہ نہیں آیا اب کیا میں تم سے اتنا بڑا جھوٹ بولوں گا اب کی بار اس نے اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے اپنے گالوں پر رکھ دیے تھے جس سے وہ اس کے بے حد قریب آچکی تھی

ویسے آپ ایسا جھوٹ بول تو نہیں سکتے ۔لیکن ایسا ہو بھی تو نہیں سکتا نہ وہ کبھی اس کی باتوں پر ایمان لاتی تو کبھی خود ہی رئیلیٹی میں چلی آتی

بس بات ختم میں جھوٹ نہیں بول سکتا نہ تو میں سچ کہہ رہا ہوں اب تم آنسو مت بہانہ تمہاری چائے بہت اچھی تھی ۔وہ اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کا ماتھا چوم کر بولا

تو یہ بات آپ صبح خداش ویرو کے سامنے کرئیے گا اور وہ جوپانچ ہزار مجھے دے رہے تھے نہ وہ بھی لے کر دیجئے گا وہ اچانک ہی اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے لاڈ سے بولی تو یشام کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی وہ اس کے اتنے پاس آجائے گی یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا

تمہیں پانچ ہزار میں دے دیتا ہوں اس کے گرد اپنا حصار مضبوط کرتے ہوئے اس نے جیسے آفر کی تھی

آپ بھی دے دیجئے گا میں انکار تھوڑی نہ کروں گی لیکن ویرو کی جیب سے پیسے نکلوانے کا اپنا ہی مزہ ہے ۔وہ اس کی آفر کو ریجیکٹ کیے بنا خداش سے پیسے نکلوانے کی وجہ بھی بتا چکی تھی جس پر وہ صرف مسکرا ہی سکا

°°°°°°

صبح اس کی آنکھ کھلی تو وہ اس کی گردن میں منہ دیے مزے سے سورہا تھا۔ وہ پوری طرح اس کے حصار میں قید تھی ۔

ریدم کا دل چاہا کہ وہ اسے شوٹ کردے۔ وہ اس کے اتنے پاس تھا کہ اس کی گرم سانسوں کا لمس وہ اپنی گردن پر محسوس کر رہی تھی ۔

نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی دھڑکنوں میں ہلچل مچ چکی تھی ۔وہ اس کی پناہوں سے نکلنے کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنے لگی اس کے دونوں ہاتھ اس کے گرد لپٹے ہوئے تھے ۔

اس کا دل تو چاہا کہ وہ ایک جھٹکےسے اسے خود سے دور کرے لیکن وہ کسی طرح کا ہنگامہ نہیں چاہتی تھی اسی لئے خود پر ضبط کرتے ہوئے اس نے اس کا ہاتھ اپنے اوپر سے ہٹا نا چاہا ۔لیکن اس کا ہاتھ تھا یا بلڈوزر اتنا وزنی ہاتھ کس کا ہوتا ہے وہ سوچ کر رہ گئی

صبح صبح وہ اس کے منہ لگ کر اپنا دن خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے اس نے ایک اور کوشش کی تھی ۔لیکن اس کی یہ کوشش بھی بری طرح سے ناکام ثابت ہوئی تھی وہ اس کا ہاتھ خود پر سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکی ۔

مجھے پتہ ہے تم یہ سب کچھ جان بوجھ کر رہے ہو انتہائی چھچھوڑے انسان تم کبھی سدھر نہیں سکتے میں کہتی ہوں ہٹاؤ اپنا ہاتھ میرے اوپر سے ورنہ

ایسی کی تیسی تمہاری ورنہ کیا کرو گی تم بولو کیا کر لو گی اچانک اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں قید کرتے ہوئے اسے اپنے نیچے کرتا پوری طرح سے اس کے اوپر آ چکا تھا ۔

کمینے انسان تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ تم نرمی سے بات کی جائے گا اٹھو میرے اوپر سے تم مجھے ابھی جانتے نہیں ہو تمہاری دادی نے یاد کروا دیں تو میرا نام بھی ریدم ساغر کاظمی نہیں۔

ارے میری بےبی کو نانو کی اتنی یاد آرہی ہے کہ اپنے شوہر کو بھی اس کی دادی کی یاد دلانا چاہتی ہے لیکن مائی ڈیر وائفی رومانٹک موڈ کے درمیان میں بزرگوں کو یاد نہیں کرتے ورنہ وہ بے شرمی کی مثالیں دینے لگتے ہیں ۔

اپنی بکواس بند کرو اور چھوڑو ۔،۔۔۔۔۔۔

اس کے الفاظ بیچ میں ہی رہ گئے تھے کیونکہ وہ اس کے لبوں پر اپنی قید سخت کر چکا تھا ۔

صبح صبح شوہر کو اس انداز میں جگایا جاتا ہے بیوی خونخوار بلی کی طرح نہیں لگتا ہے بلیوں کے ساتھ رہتے رہتے خود بھی جنگلی بلی بن گئی ہو لیکن کوئی بات نہیں مجھے تمہیں واپس انسانوں کی کیٹگری میں ایڈ کرنے میں زیادہ وقت ہرگز نہیں لگے گا ۔

رات کو جو تم نے میرے ساتھ ظلم کیا ہے نہ اس کا حساب میں ولیمے کے بعد پورا کروں گا فی الحال اٹھو اور تیار ہو جاؤ تھوڑی دیر میں پالروالی آتی ہوگی وہ اسے آزاد کرتے ہوئے مسکراتا ہوا واشروم میں جا بند ہوا تھا

°°°°°°

ماما آپ ڈاکٹر کے پاس گئی تھی وہ گھر میں داخل ہوئی تو وہ پہلے سے ہی اس کا منتظر تھا ۔

گئی تھی بیٹا وہاں بہت سارے مریض ڈاکٹر کا انتظار رہے تھے جب تک میرا نمبر آیا تو ڈاکٹر کے اٹھنے کا ٹائم ہو چکا تھا ۔

پھرسے کل والا بہانہ۔۔۔آپ کیوں نہیں جا رہی ڈاکٹر کے پاس آپ کی طبیعت دن بدن خراب ہو رہی ہے ماما آپ کو لاپروائی نہیں کرنی چاہیے ۔اس کا ہاتھ تھام کر اسے کرسی پر بٹھاتے ہوئے بولا اور بھاگ کر اس کے لیے پانی بھی لے آیا صرف 10 سال کی عمر میں اس کا بیٹا سمجھدار ہو گیا تھا ۔

شاید آہستہ آہستہ وہ سمجھنے لگا تھا کہ اس کی آنے والی زندگی کس قدر مشکل ہونے والی ہے ۔

پانی کا گلاس اس کے لبوں سے لگاتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ اس کی پیٹھ سہلا رہا تھا ۔

اس کا معصوم بچہ آگے کیا کیا دیکھنے والا تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن اتنا بتا تھا کہ یہ تو مشکلوں کی صرف شروعات ہے

آگے بہت کچھ ان کی زندگی میں ہونے والا ہے وہ کیسے کرے گی ہر چیز کا مقابلہ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔جگر کی شدید تکلیف کے باعث بھی وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں جا رہی تھی ۔

اسے لگتا تھا کہ ڈاکٹر اسے کوئی بہت بری خبر سنانے والا ہے وہ اس خبر کو سننے کی ہمت وہ خود میں نہیں کر پا رہی تھی۔

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اگر اسے کچھ ہوگیا تو اس کا بیٹا کس طرح سے سرویو کرے گا وہ اکیلا ہو جائے گا اس پر زندگی تنگ کردی جائے گی اور پھر یہ ناجائز کا ٹیگ ۔

اللہ مجھے ہمت دیں کہ میں اپنے بیٹے کےلیے لڑ سکوں میں اسے اس کا جائز حق دلا سکوں اس کا باپ لڑتے لڑتے مر گیا ۔میں تو اسے اس ظالم دنیا میں تہنا چھورپڑ کر مر بھی نیں سکتی ۔وہ بے بسی سے آنسو بہا رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی۔

اس وقت کون آیا تھا بلا ۔۔۔۔۔۔! وہ سوچتے ہوئےاٹھی اوردروازاکھولا

لیکن دروازے پر موجود انسان کو دیکھ کر وہ کتنی ہی دیر کچھ بولنے کے قابل ہی نہ رہی

°°°°°°

اس کی آنکھ کھلی تو خداش اس کے بے حد پاس تھا ۔شادی کی تھکاوٹ کی وجہ سے اس کی آنکھ اب تک نہیں کھلی تھی وہ آہستہ سے اس کے قریب سے اٹھنے لگی تھی جب اس کا دھیان اس کے چہرے پر گیا

اس نے ہر کسی کے منہ سے سنا تھا کہ خداش بہت پیارا ہے ۔لیکن خود اس نے کبھی اس پر غور نہیں کیا تھا ۔بے شک ان سب چیزوں کی وجہ ” صرف اور صرف خداش کو زیادہ اہمیت ملنا ہی تھا سچ میں اس نے کبھی اس کے دلچش نقوش پر غور نہیں کیا تھا لیکن آج وہ اسے بے حد قریب سے دیکھ رہی تھی ۔

گھنی پلکیں اس کی آنکھوں کو چھپائے ہوئے تھیں لیکن نہ جانے کیوں دیشم صرف اس کی آنکھوں کی بناوٹ میں ہی کھوئی ہوئی تھی اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ آنکھیں کھولے اور وہ اسے دیکھ پائے ۔

وہ اتنا پرکشش تھا کتنےدلکش نقوش کا مالک تھاوہ آج فرصت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔میں جانتی ہوں خداش میں نے بہت غلطیاں کی ہیں میں نے آپ کا بہت دل دکھایا ہے لیکن اب میں وعدہ کرتی ہوں میں اپنی ساری غلطیوں کا مداوا کروں گی ۔

اب میں آپ کو خود سے کسی طرح کی شکایت کا موقع نہیں دوں گی اور کسی دوسرے کو میں اپنی زندگی میں آنے کی اجازت بھی نہیں دوں گی۔

اب میں آپ کو آپ کی بیوی بن کر بتاؤں گی اور اس دیدم کو بھی جس کی نظر میرے شوھر ھے اس بندی سے اچھی امید تو مجھے کبھی بھی نہیں تھی لیکن یہ میری شوہر پر نظر رکھے گی یہ بھی میں نے کبھی نہیں سوچا تھا لیکن اب اسے ایسے ڈیش ڈیش کرکے اپنے راستے سے ہٹاوں گی کہ سے پتا چلے گا کہ دیشم ہے کیا ۔

اور اس کے لئے میں سب سے پہلے آپ کے دل میں انٹری لینے کا کوئی راستہ نکالتی ہوں میرا مطلب ہے آپ کے لئے ناشتہ بنا کر لاتی ہوں ۔وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب سے اٹھ فریش ہونے جانے لگی تھی

°°°°°°

وہ مسکراتے ہوئے کچن میں آئی تھی اس کا دل چاہا کہ وہ خداش کے لیے کچھ سپیشل بنائے آج پہلی بار اس نے اپنے دل سے اس کے لیے کچھ بنانے کا فیصلہ کیا تھا

وہ اس کے لئے ناشتہ بنانا چاہتی تھی یقیناً اس کی اماں تو یہ بات سن کر خوش ہو جانے والی تھیں جو اسے دن رات خداش کے کھانے پینے کا دھیان رکھنےکا کہتی تھیں۔

لیکن اب اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ کوئی لاپرواہی نہیں کرے گی ۔وہ اپنے شوہر کی ضرورتوں کا خیال خود رکھے گی وہ کسی بھی دیدم کو اس طرح اپنی زندگی میں داخل نہیں ہونے دے گی ۔

خداش اس کا شوہر تھا جس کا خیال رکھنا اس کا فرض تھا اگر سب کا دھیان دیدم پر گیا تھا تو کہیں نہ کہیں اس میں غلطی اس کی اپنی ہی تھی اس نے اپنی اور خداش کی زندگی کو بہت زیادہ پبلک کر دیا تھا ۔

اگر دوسرے لوگ ان کی زندگی میں انٹر فیر کر رہے تھے تو کہیں نہ کہیں غلطی اسی تھی اس نے اپنےاور خداش کے رشتے کو سیریس لیا ہی نہیں تھا لیکن بس اب اور نہیں ۔

کیا بات ہے آج دیشم بی بی صبح صبح کچن میں نظر آ رہی ہیں حرم اور دیدم ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی جب اسے اندر آتے ہوئے دیکھا ۔

ہاں بالکل جناب ہم شادی شدہ لڑکیاں ہیں اور شادی شدہ لڑکیاں کچن میں نظر آئیں گی ہی میں خداش کے لئے ناشتہ بنانے آئی ہوں اس نے اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جو اس کے انداز کر مسکرا دی تھیں

ہاں بیٹا کیوں نہیں آؤ بناؤ شوہر کے دل میں اترنے کا سب سے آسان طریقہ تو اس کے معدے میں انٹری مارنا ہی ہوتا ہے ۔انہوں نے مسکراتے ہوئے اس کے سامنے چیزیں رکھی تھی ۔

ہیں یہ کونسا نیا طریقہ نکالا ہے آپ نے چاچی حرم نے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا تھا جبکہ اس کے انداز پر دیشم بھی مسکرا دی تھی ۔

تمہیں یہ ب کرنے کی ضرورت نہیں جانو تمہارا شوہر پوری طرح سے تمہارا ہی ہے ۔قسم سے ایسےشوہر تو آئیڈیل ہوتے ہیں ۔ایک تو اتنا ہینڈسم اور پھر پوری طرح سے اس کا دیوانہ دیدم کے انداز میں رشک تھا ۔

میں دیکھ کر آتی ہوں وہ جاگ رہے ہیں یا ابھی سو رہے ہیں وہ اچانک ہی اٹھ کر کچن سے باہر نکل گئی تھی جبکہ اس کے ساتھ ہی چاچی بھی نکل گئیں وہ بھی دیدم کو پوری طرح سے نظر انداز کرتی خداش کے لیے ناشتہ بنانے میں مصروف ہو گئی تھی

°°°°°°

یہ تم کیا کر رہی ہو حرم ۔۔۔۔۔؟وہ خداش کا ناشتہ بنا کر فارغ ہوئی تو حرم کو کچن میں آکر فریج سے آٹا نکالتے ہوئے دیکھا اس نے کبھی روٹی نہیں بنائی تھی ۔تو اس طرح کا گمان تو وہ کر ہی نہیں سکتی تھی کہ وہ روٹی بنانے جارہی ہے

ابؑھی اماں نے بولا نہ کہ شوہر کے دل میں اترنا ہے تو اس کے کھانے پینے کا دھیان رکھو تو بس میں بھی اپنے شوہر کے کھانے پینے کا دھیان رکھ رہی ہوں ویسے تو میں پہلے ہی ان کے دل میں انٹری لے چکی ہوں لیکن میرا ارادہ ان کے معدے میں انٹری لینے کا بھی ہے ۔

یشام احمر کاظمی کی سانس سانس پر حرم کا حق ہوگا ان کے جسم کا ایک ایک پیس ایک ایک انچ ایک ایک زرےپرحرم یشام کاظمی کا نام لکھا ہوگا ۔

وہ مزے سے کہتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو الٹی سیدھی حرکتیں دیتی پیڑا بنانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی جب کہ دیشم اس کی باتوں سے کافی زیادہ امپریس ہوئی تھی وہ بھی جاننا چاہتی تھی کہ آخر وہ اپنے شوہر پر پوری طرح سے قابض ہونے کے لیے کیا کیا کرنے والی ہے لیکن فلحال وہ اسے اس کے حال پر چھوڑتے ہوئے خداش کا ناشتہ دینے کمرے میں جانے لگی تھی ۔

ابھی سیڑھیوں کے اوپر پہنچی ہی تھی کہ سامنے سے اسے یشام آتا ہوا نظر آیا ۔اسے دیکھ کر وہ مسکرا دی تھی وہ حرم کے لئے بالکل پرفیکٹ تھا ۔

گڈ مارننگ نیچے چلیں آپ کی بیگم آپ کا ناشتہ بنا رہی ہیں اس نے مسکراتے ہوئے اسے انفارم کیا تھا جبکہ یشام کے چہرے پر پریشانی آ گئی تھی

اف یہ لڑکی بھی نہ وقت تیزی سے سیڑھیوں سے اترنے لگا تھا کہ جب اسے اچانک سے حرم کی چیخ سنائی دی ۔

اس کی چیخ سنتے ہی یشام کے قدموں میں تیزی آگئی وہ خود بھی گھبرا کر ناشتہ ٹیبل پر رکھتی نیچے کی طرف آ گئی تھی ۔

جہاں کچن سے حرم کی چیخوں کی آواز سنائی دے رہی تھی وہ کچن میں آتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام چکا تھا جو تیزی سے ہلانے میں مصروف تھی ۔

جل گیا میرا ہاتھ جل گیا شوہر سروہ اونچی اونچی آواز میں روتے ہوئے اسے بتا رہی تھی جب کہ وہ بہت پریشان ہو چکا تھا اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑےوہ اس کے ہاتھ کا معائنہ کر رہا تھا

بس میری جان آرام سے میں تمہیں ابھی ڈاکٹر کے پاس لے کر چلتا ہوں کیا ضرورت ہے تمہیں یہاں آنے کی آو میرے ساتھ ہم ابھی ہسپتال چلتے ہیں ۔چلو آو بس بس ہم ابھی چل رہے ہیں

یشام بیٹا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بس گی کا ذرا سا چھینٹا اس کے ہاتھ پر پڑ گیا ہے ۔چاچی نے سمجھانا چاہا

جی نہیں اس کا ہاتھ جل گیا ہے آپ کو نظر نہیں آرہا کتنا سرخ ہو رہا ہے اس کا ہاتھ اس نے سختی سے کہا تھا

نہیں اس کا ہاتھ جلا نہیں ہے بس ہلکا سا ۔۔۔راحت صاحب نے کچھ کہنا چاہا

آپ بس کریں پلیز ہلکا سا اگر ہلکا سا کچھ ہوتا تو کیا اس کا ہاتھ اتنا سرخ ہوتا کیا وہ اتنی رو رہی ہوتی تم میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو آو میرے ساتھ وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر کی طرف گھسیٹ کر لے گیا تھا ۔جبکہ راحت صاحب کچھ بول ہی نہیں پائے

°°°°°°