Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 5)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 5)
Junoniyat By Areej Shah
وہ رات کو حرم کے کمرے میں آئی تو اسے مسلسل کچھ لکھتے ہوئے دیکھ کر اس کے پاس ہی بیٹھ گئی
کیا بات ہے حرم بہت محنت ہو رہی ہے میں نوٹ کر رہی ہو تم سب سے زیادہ انگلش پڑھتی ہو
لگتا ہے باقی سارے ٹیچرز اتنے اسٹرکٹ نہیں ہیں جتنے کے انگلش کے وہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس ہی بیٹھ کر اس سے پوچھنے لگی تھی ۔
اسٹرکٹ بہت چھوٹا سا لفظ استعمال کر رہی ہیں آپ آپی میرے انگلش کی ٹیچر سخت نہیں ہے نیکسٹ لیول کے سخت ہیں
میں بیان نہیں کرسکتی وہ ہر وقت غصہ نہ ان کے ناک پے رہتا ہے جیسے ابھی کچھ ایسا بول دیں گے کہ بس سمجھو میں تو گئی ۔
اتنا خوف آتا ہے ان سے کہ کیا بتاؤں آپ کو پتا ہے ان کی کلاس میں کوئی لڑکی ایبسینٹ نہیں ہوتی ساری لڑکیاں ٹائم پر پہنچ جاتی ہیں
اور ان کے جانے کے بعد استغفراللہ ان کے بارے میں اتنی عجیب باتیں کرتی ہیں کہ کیا بتاؤں آج کل کی لڑکیوں میں شرم حیا نام کی کوئی چیز ہی نہیں ہے
کبھی ان کو ہوٹ بولتی ہیں تو کبھی ہینڈسم آف میں تو شرمندہ ہو جاتی ہوں ان لوگوں کی باتیں سن کر ۔
اور پتا ہے آج ایک لڑکی میری کلاس کے کہہ رہی تھی کہ سر ان سارے کمنٹ سے انجان نہیں ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ سب باتیں پتہ نہیں سر ان لڑکیوں کے بارے میں کیا سوچتے ہیں ۔
ان چند لڑکیوں نے پوری کلاس بدنام کر رکھی ہے سب کے سامنے
مجھے تو اتنا برا لگتا ہے جب وہ ساری لڑکیاں اس طرح سے بات کرتی ہیں کوئی فرق ہی نہیں ہے ٹیچر اور کسی عام انسان میں
وہ افسوس کرتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ اس کی باتیں سن کر اسے بھی بہت عجیب لگ رہا تھا
یقیناً ان کی کلاس کو پڑھتے ہوئے وہ ٹیچر بھی شرمندہ ہوتا ہوگا ۔
تم چھوڑو ان سب باتوں کو ان پر دھیان دینے کی ضرورت نہیں ہے تم صرف اپنی پڑھائی پر دھیان دو
جس کے لئے تم وہاں گئی ہو اور یہ ساری باتیں گھر میں کسی اور کے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں ہے
وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی تھی جب کہ حرم ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اس کے پاس ہی بیٹھ کر اپنا کام کرنے لگی
اور دیشم بھی جتنا ہوسکے اس کی مدد کرنے کی کوشش کر رہی تھی
حرم ایک کپ چائے بنا دو دروازے پر دستک دیتا خداش داخل ہوا تھا
گھر میں اتنے سارے ملازم ہیں آپ کسی اور کو کہہ دیں نا وہ پڑھائی کر رہی ہے اس طرح سے سارا دھیان خراب ہو جاتا ہے۔
دیشم نے اس سے نرمی سے بات کرنا تو کبھی سیکھا ہی نہیں تھا بلکہ وہ تو اس سے مخاطب بھی نہیں ہوتی تھی لیکن یہ اس کی مجبوری تھی کہ اسے حرم کی پڑھائی کا خاص خیال رکھنا تھا
اچھا اگر وہ بیزی ہے تو تم بنا دو تم تو فارغ ہونا وہ برا منائے بغیر اس سے بولا تھا ۔
جی بالکل میں فارغ ہوں لیکن میں آپ کی ملازمہ نہیں ہوں
جاکر کسی اور سے کہیں اس گھر میں بہت ساری ملازمہ ہیں جو آپ کی خدمت میں ہر وقت حاضر رہتی ہیں
وہ چباچبا کر لفظ ادا کرتے ہوئے بولی تھی جبکہ اس کی بدتمیزی پر حرم نے اپنے بھائی کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھا تھا۔
چائے تو اب میں تمہارے ہاتھ سے ہی پیوں گا اب یہ فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ میرے کہنے پر اٹھ رہی ہو یا دادا جان سے جا کر کہوں دل جلانے والی مسکراہٹ لبوں پر لئےوہ اس سے بولا تھا
جس پر دیشم نے اسے گھور کر دیکھا اور پھر پیر پٹخ کر باہر نکل گئی ۔
بھائی آپ کتنا تنگ کرتے ہیں ان کو میں بنا دیتی حرم دیشم کی بدتمیزی پر شرمندگی سے بولی تو وہ اس کے پاس ہی بیٹھ کر اس کی کتابیں دیکھنے لگا
وہ پڑھائی میں شروع سے ہی بہت اچھی تھی اور خداش کی بھی یہی خواہش تھی کہ وہ اس وقت جس طرح اپنی پڑھائی کو لے کر سیریس ہے آگے بھی اسی طرح اپنی پڑھائی پر دھیان دے سکے
لیکن دادا جان کا کہنا تھا کہ اس کے شوق کو جلدی ختم کرو اور وہ ایک اور دیشم کو اس خاندان میں جنم نہیں لینے سکے ۔
اور دیشم نے بھی تو قسم کھا رکھی تھی کہ وہ کسی کی کوئی بات نہیں سنے گی جب کہ دادا جان اس کے نکاح کے پیچھے لگے ہوئے تھے۔
وہ بس یہ چاہتے تھے جلد سے جلد اس کا نکاح کروا دیں تاکہ جو دیشم کی پڑھائی کے سلسلے میں باتیں بن رہی ہیں یہیں پر ختم ہوجائیں
وہ کو ایجوکیشن میں پڑھ رہی تھی جس کی وجہ سے خاندان والے طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے
جیسے اس کا رشتہ کون کرے گا
کون اس سے شادی کرے گا
کون اسے اپنے خاندان کی دلہن بنائے گا
آج کل کی پڑھی لکھی لڑکیوں کا مطلب ہے اپنی نسل برباد کر لو ۔
یونیورسٹی میں پڑھتی ہے پتہ نہیں کتنے لڑکوں سے بات چیت کرتی ہوگی ۔
پتہ نہیں اس کی کلاس میں کون کون سے لڑکے ہونگے
کس کس طرح کا مزاج رکھتے ہوں گے
آج کل کے لڑکوں کو تو جیسے ہم جانتے ہی نہیں اور یہی ساری باتیں دادا جان کو پریشان کرنے لگی تھی
اور وہ چاہتے تھے کہ جلد سے جلد دیشم اور خداش کا نکاح ہو جائے تاکہ ان ساری باتوں پر پردہ پڑ جائے خداش کو کوئی اعتراض نہیں تھا اس کی تو من کی مراد پوری ہو رہی تھی
لیکن دیشم سے ابھی تک اس حوالے سے کسی نے بھی کوئی بات نہیں کی تھی۔سب جانتے تھے کہ وہ اپنی پڑھائی کے معاملے میں کسی طرح کا کوئی کمپرومائز نہیں کرے گی اور شادی کا تو نام بھی نہیں لینے دے گی
لیکن دادا جان کے پاس اس بات کا بھی حل تھا دادا جان نے کہا تھا کہ اگر وہ انکار کرتی ہے تو اس کے سامنے پڑھائی یا گھر بیٹھنے کی شرط رکھ دیں گے مجبور ہو کر اسے ان کی بات ماننے پر جائے گی
جب کے دادا جان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے پوتے کو کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا اور وہ اپنی پوتی پر پورا حق رکھتے ہیں
وہ جسے چاہے اپنے پوتے کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں لیکن وہ اپنے پوتے کی خواہش کو بھی مدنظر رکھنا چاہتے تھے
اور انہیں اس بات کا افسوس تھا کہ ان کے پوتے کی خواہش وہ لڑکی تھی جو اس خاندان کی سب سے بگڑی ہوئی لڑکی تھی
°°°°°°
یشام سب کی اسائنمنٹ چیک کر رہا تھا سب کی اسائنمنٹ چیک کرتے کرتے وہ اس کے پاس آیا اور حرم کے قریب ذرا سا جھک کر اس کے اسائنمنٹ چیک کرنے لگا ۔
وہ کافی نروس لگ رہی تھی جبکہ اس کے اس طرح سے جھکنے پر فورا اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی نہ جانے کیوں کہ اس کا اس قدر پاس آنا اسے پسند نہیں آیا تھا
اسے یقین تھا کہ اس کی نیت ہرگز خراب نہیں تھی بس اس طرح سے پاس آنے پر کنفیوز ہو گئی تھی اور بہتر یہی تھا کہ وہ خود کر کھڑی ہو جائے تو ان دونوں میں تھوڑا سا فاصلہ بنا رہے ۔
اس کے یوں اچانک اٹھ کر کھڑے ہونے پر وہ بھی فائل ہاتھ میں لے کر چیک کرنے لگا پھر اچانک ہی اس نے تین چار پیجز پرکروس لائن لگا دی تھی وہ غلط تھے اس کا اندازہ حرم کو بھی تھا ۔
وہ سب کی کافی زیادہ بےعزتی کر رہا تھا اور حرم کو یقین تھا کہ اس کی بھی آج بہت بےعزتی ہونی ہے حرم نے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں یقینا اب اس کی باری تھی وہ بہت بےعزتی کرنے والا تھا ۔
لیکن نجانے کیوں وہ فائل اس کے ڈیسک پر رکھتا ہوا آگے میشا کی فائل اٹھا کر چیک کرنے لگا
حرم نے اپنی آنکھیں کھول کر دیکھا تو وہ آگے بڑھ چکا تھا اس نے فورا واپس بیٹھتے ہوئے اپنی فائل کھولی تھی
پہلے پانچ چھ پیچز چھوڑ کر آگے تقریبا سب کچھ غلط تھا لیکن اس نے اسے کچھ بھی نہیں کہا تھا بالکل بھی بےعزتی نہیں کی تھی نہ ہی کلاس کے سامنے اسے شرمندہ کیا تھا
جب کہ میشا اس سے اپنی بےعزتی کروا رہی تھی انگلش کے یہ لیکچرز ان کے لئے سمجھنا کافی مشکل ہو گیا تھا
اور اس وقت وہ میشہ کو بہت برے طریقے سے ڈانٹ رہا تھا لیکن اس نے اسے کچھ بھی کیوں نہیں کہا تھا ۔
اسے کچھ سمجھ نہ آیا کلاس ختم ہونے کے بعد اس نے سارے کلاس کی اسائمنٹ چیک کی تھی ۔جن لوگوں کی اسائنمنٹ ٹھیک تھی ان کی بےعزتی نہیں ہوئی تھی
جبکہ جن کی خراب تھی ان کو بہت زیادہ ڈانٹ پڑی تھی اور اس کے خراب ہونے کے باوجود بھی اس نے اسے کچھ بھی نہیں کہا تھا ۔
اس نے ایسا کیوں کیا تھا اسے بالکل سمجھ نہ آیا وہ میشہ کے ساتھ باہر بیٹھی ہوئی اپنے دوسرے لیکچر کی تیاری کر رہی تھی جب اسے اپنا آپ کسی کی نظروں کے حصار میں محسوس ہوا اس نے فورا نگاہ اٹھا کر دیکھا تو ٹیچر آفس کے باہر وہ کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا
اس کی نگاہوں میں کچھ عجیب سا تھا جسے محسوس کرتے ہوئے وہ اندر تک کانپ گئی جبکہ وہ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ وہاں سے ہٹتا اندر داخل ہوگیا
°°°°°°
رات نہ جانے کون سا پل تھا جب اس کی آنکھ کھل گئی اسے ایسے محسوس ہوا جیسے اس کے بے حد قریب کوئی ہے اسے اپنی نتھنوں سے بہت سخت مردانہ خوشبو ٹکراتے ہوئے محسوس ہوئی تھی۔
اسے اس خوشبو کو پہچاننے میں زیادہ وقت نہیں لگا تھا وہ اس کے بے حد قریب تھا اس کا ہاتھ نیند میں نجانے کب اس کے سینے پر آ چکا تھا اس نے فورا اپنا ہاتھ ہٹا نا چاہا لیکن وہ جلدی میں غلطی سے ہی سہی لیکن اس کی نیند خراب کرنے کی وجہ بن گئی تھی
وہ جاگ گیا تھا اس نے بیڈ پر اس کی حرکت کو محسوس کیا تھا وہ سمجھ چکی تھی اب کیا ہوگا ایک اور اذیت ناک رات اس کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا
اس کے ساتھ اس کے پہلو میں لیٹا اس کا شوہر ایک بار پھر سے اس کے قریب آئے گا اور ایک بار پھر سے اس کے پرانے زخموں کو ہرا کرنے کی وجہ بن جائے گا
اس نے سختی سے اپنی آنکھیں میچی تھیں وہ جانتی تھی تھوڑی ہی دیر میں وہ اس کے سخت ہاتھوں کا لمس خود پر محسوس کرے گی اور پھر ایسا ہی ہوا
اس نے ہاتھ بڑھاتے ہوئے اس کے بالوں میں اپنی انگلیاں چلائیں اور پھر اپنا ہاتھ اس کے سر کے نیچے کرتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا
وہ اس کے سینے کی دھڑکنوں کو سننے لگی تھی جبکہ وہ شخص پوری طرح اسے خود میں قید کر چکا تھا اپنے بے حد قریب اس کا نرم لمس اسے اپنے ماتھے پر محسوس ہوا
وہ آہستہ آہستہ اسے کسی بچے کی طرح تھپک رہا تھا ۔اس کے بازو کو سہلا رہا تھا جیسے اس کی کسی بے حد عزیز کی نیند خراب ہو گئی ہو
اور وہ اس کی نیند کو پرسکون بنانے کے لئے اپنی طرف سے کوشش کر رہا ہے اس کا دل چاہا وہ اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے
کتنا مہربان لگ رہا تھا اس شخص کا لمس لیکن وہ جانتی تھی وہ کوئی مہربان نہیں ہے بلکہ وہ اس کا دشمن ہے اور وہ اس کے بھائی کے قاتل کی بہن ۔
ایسا کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنے دل میں اس کے لئے کوئی نرم جذبہ رکھتا ہو وہ بے شک رات کی تنہائی میں اس کا شوہر تھا لیکن دن کے اجالے میں شاید وہ اس کی طرف دیکھنا بھی پسند نہ کرتا ۔
یہ محبت بھرا احساس اسے صرف چند لمحوں کے لئے نصیب ہونا تھا پھر تو وہی تھا نفرتوں سے بھرپور ایک قید خانہ جسے اسے ساری زندگی سہنا تھا ۔
وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے نہ جانے کتنی دیر اس کا لمس محسوس کرتی رہی۔وہ اسے اپنے بے حد قریب کیے اسے اپنی مضبوط بانہوں کے حصار میں لیے ہوئے تھا ۔
اس حصارمیں اسے کوئی ڈر نہ تھا کوئی تکلیف نہ تھی صرف سکون ہی سکون تھا یہ چند لمحوں کا سکون کاش اس کے لیے زندگی بھر کا سکون بن جاتا لیکن عمایہ جانتی تھی ایسا ممکن نہیں ہے اسی لئے وہ کوئی امید نہیں رکھنا چاہتی تھی
وہ خاموشی سے کروٹ بدل گئی ۔اسے کوئی امید نہیں لگانی تھی وہ جانتی تھی یہ چاہتیں یہ محبتیں صرف چند لمحوں کی ہیں اس کے بعد اسے پھر سے نفرتوں کا سامنا کرنا ہے نہ جانے وہ کیوں نہیں چاہتی تھی کہ یہ شخص اس سے نفرت نہ کرے۔
شاید وہ اس کی زندگی میں آنے والے اس پہلے مرد تھا جیسے وہ اپنے دل میں بہت اونچا مقام دے چکی تھی شاید وہ اس کی نفرر اس کا رویہ برداشت نہیں کر پاتی ۔
لیکن اسے ہر چیز کے لئے تیار رہنا تھا اسے بہت کچھ سہتا ہے ۔کوئی اس کا نہیں تھا اور اسے یہ بات یاد رکھنی تھی ۔
کروٹ پھیر کر اس کا دل چاہا وہ روئے جی بھر کر روئے چیخ چیخ روئے ۔لیکن نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی اس کے پہلو میں سویا انسان بھی اس کے ساتھ وہی سلوک کرتا ہے جو باقی سب کرتے ہیں وہ کس کو اپنا درد سناتی۔
کوئی بھی تو نہیں تھا یہاں اسے سننے والا اپنے آنسو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے اس نے اس شخص کا ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کیا تھا ۔
وہ ایک بار پھر سے اس کے قریب آ گیا تھا اس کے گرد بانہوں کا حصار بناتے ہوئے وہ سو چکا تھا ۔
اس کی پکڑ سخت تھی۔لیکن اس بار دور ہونے کی کوشش عمایہ نے بھی نہیں کی
°°°°°
یار مجھے سمجھ میں نہیں آتا تیرے پاس اتنے سارے پیسے ہوتے ہیں تو جو چاہے خرید سکتی ہے جو چاہے لے سکتی ہے تو روز شاپنگ کرنے کے لئے جاتی ہے ۔
ہر چیز ہے تیرے پاس لیکن تو اپنے گھر کیوں نہیں جاتی تیرے گھر والے تجھے لینے کے لیے یہاں کیوں نہیں آتے نہ تو کوئی تجھ سے ملنے کے لئے آتا ہے اور نہ ہی تو کسی سے ملنے کے لیے جاتی ہے ۔
وہ کلاس لے کر باہر آئی تو نازش اس بتانے لگی کہ کل وہ اپنے گھر جا رہی ہے کیونکہ انہیں تین چھٹیاں ہو گئی تھی اور ہوسٹل کی سبھی لڑکیاں تقریبا اپنے گھر جانے والی تھی
تبھی اس کے ساتھ چلتی نازش اس سے پوچھنے لگی اس کی بس ایک ہی دوست تھی جس کے ساتھ وہ وقت گزارتی تھی
اور زیادہ اس کے کسی کے ساتھ بھی نہیں بنتی تھی اور وجہ یہی تھی کہ کوئی بھی اس کی فیملی کے بارے میں پوچھیں تو وہ سے دوستی ختم کر لیتی تھی شاید وہ ان سوالوں سے خود بھی اکتا چکی تھی
میرے صرف میرے نانا ہیں ہیں اور وہ بزنس کے سلسلے میں آوٹ آف کنٹری رہتے ہیں ان کا یہاں آنا بہت کم ہوتا ہے
لیکن وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے مذہب اور تعلیم کے قریب رہوں اسی لیے انہوں نے مجھے اس ہوسٹل میں رکھا ہوا ہے
پاکستان سے خاص لگاؤ ہے انہیں اور میں ان کے ساتھ نہیں جانا چاہتی بس اسی لیے میں یہاں پر رہتی ہوں جب نانا کے پاس ٹائم ہوتا ہے تو وہ آتے ہیں مجھ سے ملنے کے لئے اور ہم ہر جگہ گھوم کے آتے ہیں تمہیں پتا ہے ہم کالام جارہے اس دفعہ
وہ ان سے باتوں میں لگانے کی کوشش کر رہی تھی تاکہ وہ اس موضوع سے ہٹ جائے یہ موضوع اسے تکلیف دیتا تھا وہ سب کو صفائی نہیں دے سکتی تھی اور نہ ہی سب کو اگنور کر سکتی تھی
نازش بہت کم وقت میں اس کی قریبی دوست بن چکی تھی تو ایسے میں وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس سے دور ہو اس لیے اسے بھی ایک من گھڑت کہانی بنا کر بتانے لگی
ارے واہ یہ تو بہت ہی مزے کی بات ہے وہ تو بہت ہی خوبصورت جگہ ہے میں کبھی بھی نہیں گئی ۔تم بہت ساری تصویریں بنانا اور مجھے دکھانا وہ اس کے ساتھ چلتی باہر آکر بیٹھی جس پر دیدم نے فورا ہاں میں سر ہلایا تھا
وہ اس کی بات پر یقین کر چکی تھی اور یہ موضوع بھی ختم ہو چکا تھا وہ بالکل پر سکون ہو گئی ایک انچاہا ٹاپک ختم ہوگیا
لیکن اس کے دل سےیہ بات کبھی بھی نکل نہیں سکتی تھی وہ بے شناخت تھی کون تھی وہ کیا تھی اس کی حقیقت کچھ بھی پتا نہیں تھا اسے بس اس کے دودھیال والے اس کے دشمن تھے
جنہیں اس کی پیدائش تک کا نہیں پتا تھا وہ لوگ جانتے تک نہیں تھے کہ ان کے بیٹے کی اولاد زندہ ہے
دنیا میں موجود ہے نہ جانے کیسے نانا جان نے اسے بچا کر سب سے چھپا کر یہاں رکھا ہوا تھا ۔
کوئی بھی تو نہیں جانتا تھا اس کے بارے میں اور اگر اس کے نانا بھی نہ رہے تو ۔۔۔۔
اس کے دماغ میں اکثر یہ سوال آتا تھا اگر اس کے نانا نہ رہے دنیا میں تو روز ہزاروں لوگ مرتے تھے ۔
یہ ساری باتیں سوچتے ہوئے اس کا دل بھی کانپ جاتا تھا لیکن وہ حقیقت پسند تھی وہ جانتی تھی کہ اگر اس کے نانا ہیں تو اس کا وجود ہے اگر وہ نہ رہے تو کچھ بھی نہیں بچے گا ۔
وہ اکیلی ہوجائے گی کسی کی کو بھی تو پتا نہیں تھا اس کے بارے میں شاید اس کے وجود سے تو نانا کی فیملی کے لوگ بھی انجان تھے
سکی کو بھی پتہ نہیں تھا کی ایک لڑکی ہے جو اس طرح ملتان کے ایک ہوسٹل میں رہتی ہے جو سوائے اپنے نام کے اور کچھ بھی نہیں جانتی وہ تو اپنے نانا کا نام بھی نہیں جانتی تھی
وہ یہ ساری باتیں پہلے نہیں سوچتی تھی لیکن ایک دن اپنے ٹیچر کی اچانک موت نے اسے ان سب چیزوں کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
وہ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ سب کچھ سوچنے لگی تھی اپنی زندگی کو لے کر پریشان رہنے لگی تھی ۔وہ سمجھ چکی تھی کہ اب انجوائے کرنے کا موج مستی کرنے کا وقت نہیں ہے اسے جلد سے جلد اپنے لئے کوئی فیصلہ کرنا تھا
°°°°°°°
