Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 47)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 47)
Junoniyat By Areej Shah
کیا مطلب ساگر آپ کے بابا جان کو کیا مسئلہ ہے ہماری شادی سے ۔۔۔؟
آپ تو کہہ رہے تھے کہ۔آپ جلد ہی میرے گھر رشتہ لے کر آئیں گے ۔وہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے بولی ۔
مجھے خود بھی کچھ سمجھ نہیں آرہا افشین باباجان بہت غصے میں تھے
اور ۔۔۔۔۔وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہوگیا
اور۔۔۔ اور کیاساگر آپ خاموش کیوں ہوگئے بتائیں مجھے
افشین اصل میں ہمارےخاندانوں میں دشمنی ہے اور یہ دشمنی کوئی آج یا کل کی نہیں بلکہ بہت سال پرانی ہے مطلب ہمارے دادا کے دور کی یہ دشمنی چلتی آ رہی ہے اور اب تک ان دونوں خاندانوں میں کسی طرح کی دوستی کی کوئی گنجائش کبھی نظر نہیں آئی ۔
غلطی میری ہے اصل میں میں خود بھی نہیں جانتا تھا کہ تمہارا تعلق شاہ خاندان سے ہے ۔
اور میں نے کبھی جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ تمہارا خاندان کیا ہے اور اب ۔۔۔
میں یہ سب کچھ نہیں جانتی ساگر آپ نے مجھ سے کہا تھا ہمارے نکاح میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا تو اب آپ مجھے محبت کے سبز باغ دکھا کر یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں ۔آپ مجھے خوفزدہ کر رہے ہیں میں اتنی آگے آکر اب واپس جانے کا تصور بھی نہیں کرسکتی
وہ پریشانی سے اسے دیکھنے لگی تھی جبکہ ساگراسے اپنی بات سمجھا ہی نہیں پا رہا تھا یہاں بات لڑائی جھگڑے کی نہیں بلکہ خاندانی دشمنی کی تھی ۔
میری بات سنو افشین میرے بابا اور تمہارے بابا ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں آج سے نہیں بلکہ سالوں سے ان میں کبھی بھی دوستی نہیں ہو سکی اور۔۔۔
ہم کوشش کرتے ہیں ان دونوں میں دوستی کروانے کی کیا ہم اپنی محبت کے لیے چھوٹی سی کوشش بھی نہیں کرسکتے وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولی
اس طرح کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوگی افشین میں اپنے بابا کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں اور ان کی ضد اورغصے سے بھی واقف ہوں
تو پھر اس سب کا کوئی تو حل ہوگا نہ وہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی تھی
اس چیز کا ایک حل تو ہے لیکن یہ ہم دونوں کے لیے بہت مشکل ثابت ہو سکتا ہے میں ایسی باتیں اپنے دماغ میں نہیں سوچنا چاہتا جو اس مسئلے کا حل ہے ۔
آپ بات کو گھما پھرا کر مت کریں مجھے صاف صاف بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا ہوگا
اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اپنے خاندان اپنے باپ بھائی سب کچھ چھوڑ کر میرے ساتھ چلو تو میرے ساتھ چلنے کے لئے تیار ہو جاؤ گی ۔وہ اس کے دونوں ہاتھ امید سے تھامےبولا لیکن افشین کے ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکلنے میں چند پل ہی لگے تھے
یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ساگر ایسا ممکن نہیں ہے میں اپنے گھر والوں کو دھوکا نہیں دے سکتی ۔
پہلے ہی اپنے گھر والوں سے چھپ کر آپ سے یوں ملاقات کرکے میں گناہ کر رہی ہوں میں مزید گنہگار نہیں ہونا چاہتی
تم پیچھے ہٹ رہی ہو وہ اسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگا اس کا جواب افشین کے پاس نہیں تھا اور یہ ساگر بھی جانتا تھا وہ خاموشی سے اس کے قریب سے اٹھ کر چلی گئی تھی
ساگر نے اسے روکا نہیں تھا
°°°°°
حرم ہر تھوڑی دیر کے بعد پورا گھر آ کر چیک کرتی تھی کہیں کسی کونے میں عظمیٰ بیٹھ کر اسے دیکھ نہ رہی ہو ۔وہ یشام کی بات پر یقین کر رہی تھی کہ وہ دن میں گھر پر نہیں ہوتی لیکن پھر بھی اندر کہیں نہ کہیں ڈر تو تھا ہی
شکر ہے ٹی وی پر کچھ اچھے چینلز آرہے تھے ورنہ پتہ نہیں آج کا دن وہ کس طرح سے گزارتی
آج وہ پہلی بار زندگی میں یوں اکیلے گھر پر رہی تھی ۔زندگی میں ایسا اتفاق نہیں ہوا تھا کہ اسے اپنے گھر پہ اکیلے رہنا پڑا ہو۔ کوئی نہ کوئی ہر وقت اس کے آس پاس موجود ہی رہتا تھا
حویلی میں تونوکروں کی بھی بڑی فوج تھی جو ہر وقت ان کے سامنے ہی رہتے تھے ایسے میں اکیلے کسی جگہ پر رہنا حرم کو کافی ڈرا رہا تھا
لیکن پھر بھی وہ کافی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹی وی کے سامنے بیٹھی تھی ۔جب دروازے پر دستک ہوئی ۔
کہیں عظمیٰ گھر واپس تو نہیں آگئی ۔۔۔اس کے دماغ میں کچھ کلک ہوا تھا لیکن چڑیل دروازہ کھٹکھٹا کر کیوں آئے گی اس نے اپنی سوچ کو سوال دیا ۔
یقینا کوئی انسان تھا چڑیل کو کیا ضرورت تھی دروازہ کھٹکھٹانے کی وہ اٹھ کر دروازے کے پاس آئی
کو۔۔۔۔کون۔ہے ۔۔اس نے دروازے سے دور رہ کر پوچھا تھا دروازے پر ہاتھ بھی نہیں رکھا تھا کہیں باہر کھڑا انسان بند دروازے سے ہی اس کا ہاتھ پکڑ لے ۔
میں ہوں صیام گڑیا دروازہ کھولو ۔اسے دوسری طرف سے آواز آئی تھی ۔
اور آواز پہچانتے ہی اس نےپورا دروازہ کھول دیا تھا
السلام علیکم سر کیسے ہیں آپ مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ آپ بھی یہاں ہمارے ساتھ آئے ہیں مجھے تو لگتا ہے آپ ائیرپورٹ پر صرف ہمیں ٹاٹا کرنے آئے ہیں اس کے چہرے پر کافی زیادہ جوش تھا اور اس کے معصومانہ انداز پر وہ مسکرا دیا تھا ۔
نہیں میں تم لوگوں کے ساتھ ہی آیا تھا اسی فلائٹ میں جس میں تم تھی لیکن تم سارے راستے روتی ہوئی آئی تھی اسی لئے تم نے مجھے دیکھا نہیں وہ اندر داخل ہوتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا سامان سیدھا کچن میں لے گیا تھا ۔
یہ کیا لے کر آئے ہیں کیا میرے لیے کچھ ہے اس نے پیکٹ سے خوشبو سونگھتے ہوئے کہا تو وہ ہاں میں سر ہلاتا پیزا نکال کر اس کے سامنے رکھ چکا تھا
یمی ۔۔۔۔ آپ کو کیسے پتا مجھے چکن پیزا پسند ہے وہ پلیٹس رکھتے ہوئے اسے دیکھنے لگی تھی چہرے پر ایکسائٹمنٹ تھی
گڑیا مجھے تو یہ بھی پتہ ہے کہ تمہیں مٹر پسند ہیں۔اور یہ بھی پتہ ہے کہ جو چیز تمہیں کھانے میں پسند نہ ہو مگر اس میں مٹر ہوں تو مٹر نکال کر کھا لیتی ہو۔
وہ ہنستے ہوئے بولا تو حرم کا منہ کھل گیا یہ بات اسے کیسے پتہ چلی تھی
یہ بات آپ کو کیسے پتا چلی کس نے بتایا آپ کو ۔۔۔؟وہ حیریت کو چھپائے بنا پوچھنے لگی
عظمیٰ نے بتایا وہ سرگوشی نما آواز میں بولا ۔
اور عظمی کو کس نے بتایا اس نے بھی سرگوشی نما آواز میں پوچھا تھا ۔آنکھوں میں خوف لہرایا تھا
ہو سکتا ہے جب تم یہ بات کر رہی ہو تب عظمیٰ نے سن لیا ہو کیا تم نے کل رات یہ بات کی تھی وہ عجیب پراسرار انداز میں بول رہا تھا جب حرم نے زور زور سے ہاں میں سر ہلایا ۔
تو بس بالکل بے فکر ہو جاؤ کل اس نے تمہاری باتیں سن لی تھی ڈر نے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے عظمیٰ تو تمہاری دوست ہے تمہارے گھر میں رہتی ہے ۔وہ مزے سے پیزا کھاتے ہوئے بولا
میری کوئی دوست نہیں ہے آپ کی ہوگی چڑیل دوست ۔مجھے چڑیلوں سے دوستی کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے
بے وقوف لڑکی کیا کر رہی ہو اتنی اونچی آواز میں چڑیل چڑیل مت کہو چڑیل کو تین دفعہ چڑیل کہنے پر وہ حاضر ہو جاتی ہے ۔وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولا تو اس کی آنکھیں مزید پھیل گئی ۔
اور حرم نے اپنے لبوں پر انگلی رکھ لی
خیر یہ ساری باتیں چھوڑو میں تم سے کچھ اور پوچھنے آیا ہوں وہ موضوع بدلتے ہوئے بولا
جس پر وہ بھی سیدھی ہو کر بیٹھ گئی
کیا ہوا ہے تمہیں میرا مطلب ہے جب تمہارا نکاح ہوا تب تمہاری حالت کچھ اور تھی میں نے تمہاری آنکھوں میں یشام کے لیے بے پناہ نفرت دیکھی تھی پھر ایسا کیا ہوا کہ تم ہر چیز بھلا کر یشام کے ساتھ اتنی نارمل ہو ۔
یہ تو تم بھی جانتی ہو کہ کوئی بھی شادی جس میں زبردستی کی جائے وہ کامیاب ہونے میں وقت لیتی ہے لیکن میں نوٹ کر رہا ہوں تمہاری سچوئشن بہت الگ ہے حرم کیاچل رہا ہے تمہارے دماغ میں اگر تم یشام کے ساتھ کچھ ۔۔۔۔۔
آپ میری بات دادا جان سے کروا سکتے ہیں وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی
حرم میں کچھ اور پوچھ رہا ہوں میرا دوست تم سے بے انتہا محبت کرتا ہے بہت کم عمر میں بہت کچھ برداشت کیا ہے اس نے اور۔۔۔۔۔
مجھے میرے دادا جان نے رخصت کیا ہے ۔انہوں نے مجھے خود اس شخص کے ساتھ یہاں بھیجا ہے ان کا گھر بسانے کے لیے ۔میں ان کی بیوی ہوں ۔
میں بھی اپنا گھر بسانے کے لئے آئی ہوں ہر اس لڑکی کی طرح جو اپنا گھر چھوڑ کر اپنے سسرال جاتی ہے ۔
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہوئے بولی تو صیام کتنی دیر کچھ بول ہی نہیں پایا جب اس نے دوبارہ فون مانگا تو اس نے لمحے کی تاخیر کیے بنا فون اس کے حوالے کر دیا تھا ۔اور وہ فون لے کر کمرے میں بند ہو گئی تھی
°°°°°
نانا جان میں کیا کہوں آپ کا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر آپ جو کہیں گے مجھے منظور ہوگا
آپ جس کے ساتھ چاہے میری شادی کر سکتے ہیں ۔اگر وہ لڑکی سچ میں اتنی چالباز اور ُبری ہے۔اور وہ آپ کے گھر کو برباد کر رہی ہے تو پھر اسے کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ آپ کے خاندان میں رہے ۔
میں یہ تو نہیں جانتی کہ میں اسے زریام کی زندگی سے نکال پاؤں گی یا نہیں
لیکن بھی اپنی طرف سے کوشش ضرور کروں گی آپ کے لئے اتنا تو کر سکتی ہوں میں۔
یہ بات اسے کل رات ہی پتا چلی تھی کہ نانا جان اس کی شادی کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور جس انسان کو انہوں نے اس کے لئے چنا تھا وہ پہلے سے شادی شدہ تھا
لیکن اس کے لیے یہ بات اہمیت رکھتی تھی کہ وہ شخص بدکردار نہیں تھا اسے اپنی زندگی میں صرف بد کردار مردوں سے نفرت تھی
اور وہ جانتی اس کے نانا جان اس کےلیے غلط فیصلہ نہیں کرسکتے۔کیونکہ اس دنیامیں ایک وہیں تو تھے جواس سے محبت کرتے تھے۔جو اس کےاپنے تھے ۔ورنہ اس کا تھا ہی کون۔۔۔۔؟
اور وہ کسی مطلب پرست عورت کواپنے نانا جان کےخاندان برباد نہیں کرنے دے سکتی تھی ۔
اس لڑکی کے بھائی نے اس کے کزن باقر شاہ کا قتل کیا تھا ۔اور یہ لڑکی ان کا خاندان برباد کرنے پر تلی ہوئی تھی ۔
اور نانا جان بھی اسے اپنے گھر لے کر جانا چاہتے تھے لیکن ایک مضبوط تعلق کے ساتھ ان کا سب سے پر ذمہ دار اور فرمانبردار پوتا زریام ہی تھا جس پر وہ اس کے معاملے میں بھروسہ بھی کر سکتے تھے وہ جو دوسرا پوتا تھا وہ کافی باغی اور زرا من موجی تھا۔
یہ ساری باتیں اس کے نانا جان نے ہی بتائی تھی ۔
اور اس کے لئے بس اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اپنے گھر واپس جا رہی تھی اور نہ صرف گھر واپس جا رہی تھی بلکہ اسے دادا جان کی پسند کا ہمسفر بھی مل رہا تھا
جس کے ساتھ وہ اپنی ایک نئی زندگی کی شروعات کرتی اور جہاں تک اس کی دوسری شادی کی بات تھی تو یہ فیصلہ تو اللہ کرتا ہے یہ انسان کے بس کی بات کہاں بس یہی سوچ کر وہ اپنی قسمت پر یقین کر چکی تھی
میری بچی مجھے یقین تھا تم اپنے نانا جان کی مدد ضرور کروگی اپنے نانا جان کے لیے یہ فیصلہ ضرور کرو گی تم نے آج میرا مان رکھ لیا
میں بہت خوش ہوں میں کل صبح ہی تمہیں لینے کے لیے ڈرائیور کو بھیج دوں گا اس کے ساتھ آجانا تمہارا چاچا تو اپنے گاؤں گیا ہے پتا نہیں کب تک واپسی ہوگی لیکن اب میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتا تم کل ہی یہاں آؤگی اور پرسوں ہم تمہارا نکاح کروا دیں گے وہ بہت خوشی سے بتا رہے تھے جبکہ ان کے انداز پر وہ مسکرائے جا رہی تھی ۔
°°°°°
حویلی اچھی خاصی رونق لگی تھی اچانک پورے گھر کی سجاوٹ کروا رہی تھی
اور سب لوگ حیرانگی سے دیکھتے ہوئے خاموشی سے ان کے حکم کو مان رہے تھے
سارے نوکر تیزی سےہاتھ چلا رہے تھے جبکہ تانیہ اور چاچی پریشانی سے پوری حویلی میں بولائی بولائی پھر رہی تھیں کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ آخر حویلی میں ہونے کیا والا ہے
دادا جان کا انداز اس بات کا گواہ تھا کہ جلد سے کوئی بہت بڑا فنکشن یہاں پر ہونے والا ہے
لیکن فی الحال تو کسی طرح کے فنکشن کا ذکر نہیں کیا گیا تھا تو پھر یہ تیاری کیسی ۔
دادا جان یہ سب کچھ کیا ہے آپ حویلی کی سجاوٹ کیوں کروا رہے ہیں خیریت تو ہے نا شائزم دادا جان کو دیکھ کر پوچھنے لگا تو سب لوگ وہیں آ گئے تھے
جب دادا جان نے سیڑھیوں سے اترتی عمایہ کی طرف دیکھا اور پھر بڑے ہی پرسکون انداز میں بولنا شروع کیا
دو دن بعد زریام کا نکاح ہے اور وہ بھی اس لڑکی سے جس سے ہم اس کا نکاح کرنا چاہتے ہیں ۔
ہم اس کی زندگی میں اپنی پسند کی لڑکی شامل کر رہے ہیں ہم اپنی نواسی کو اس کے نکاح میں دے رہے ہیں وہ بڑے ہی فخریہ انداز میں بولے تھے ۔
جبکہ یہ بات سب کے سروں پر دھماکے سے کم نہ تھی تانیہ تو اپنی ماں کو حیرت سے دیکھنے لگی تھی
جو اب تک عمایہ کو ذریام کی زندگی سے نکالنے کی پلاننگ کر رہی تھی
بیچ میں کوئی اور آ جائے گی یہ تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا
جبکہ۔شائزم کل رات ہی اس بارے میں جان چکا تھا وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا
اس کے دل کی دنیا ہی اجڑ کر رہ گئی تھی
خود کو ہزار بار یہ بات سمجھا چکا تھا کہ ریدم کے لیے اس کے جذبات صرف وقتی تھے وہ خود کو منا نہیں پایا تھا ۔اس کا دل اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہی نہ تھا۔
دل میں کہیں نہ کہیں ایک چور تھا جو کہتا تھا کہ شائزم شاہ تم ریدم پر مر مٹے ہو اگر وہ نہ ملی تو تم مر جاؤ گے
وہ ہر بار اپنے دل کو جھٹلا دیتا تھا ہر بار اسے ڈانٹ کر چپ کروا دیتا تھا ۔وہ کیسے اپنے بھائی کی ہونے والی بیوی کے بارے میں ایسا سوچ سکتا تھا کہ اس کا دل اسے گناہ گار بنا رہا تھا ۔
جبکہ باقی گھر والوں کا کیا حال تھا ۔یہ تو وہی جانتے تھے دو دن میں نکاح تھا مطلب کل تک ریدم یہاں آجائے گی ۔اور پھر ہمیشہ کے لئے کسی اور کی ہو جائے گی کتنا تکلیف دہ لمحہ تھا وہ جس سے وہ اس وقت گزر رہا تھا
°°°°°°°
وہ اپنے بیڈ پر لیٹی مسلسل ساگر کاظمی کی باتوں کے بارے میں سوچ رہی تھی کیا اتنا آسان تھا سب کچھ بھول بھال کر اس کے ساتھ چلے جانا اپنے باپ کی تربیت کو شرمندہ کرنا اپنی ماں کو رسوا کرنا نہیں وہ ایسا کر سکتی تھی
وہ یہ غلطی نہیں کرسکتی جو ساگر کاظمی اسے کرنے کے لئے کہہ رہا تھا اس کے لیے بہت مشکل تھا وہ ساگر کاظمی کی محبت کو اپنے ماں باپ کی تربیت سے آگے نہیں لے کر جا سکتی تھی
اس نے سوچا کیوں نہ وہ اس بارے میں اپنی ماں سے بات کرے ممکن تھا کہ وہ اس کے جذبات کو سمجھ جائیں ۔
اس سوچ کے ساتھ وہ ایک امید لیے اپنی ماں کی کمرے کی طرف گئی تھی
°°°°°°
بھائی آپ نے گھر میں کسی کو بتایا کہ آپ میرا مطلب ہے۔۔ میں نے آپ سے کہا تھا کہ کیسے بھی بابا جان کے کانوں میں میری شادی کی بات ڈال دیں
آپ میری بیوی کے بارے میں انہیں بتائیں مجھے یقین ہے وہ میری بات کو سمجھیں گے وہ میرے بابا ہیں۔وہ میرے جذبات کو نظرانداز ہرگز نہیں کریں گے
میں مانتا ہوں میرا طریقہ غلط ہے لیکن میں نے کچھ غلط نہیں کیا میں نے ایک اچھی لڑکی کو اپنا جیون ساتھی چنا ہے ۔اور اس وقت حالات ہی کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ ہمیں فوراً ہی نکاح کرنا پڑ گیا ورنہ میں آپ کو یہ بات ضرور بتاتا ۔
دیکھو احمر یہ بات اتنی جلد بازی میں بتانے والی ہرگز نہیں ہے میں نے تمہیں کہا ناں کہ آج کل بابا جان کافی زیادہ غصے میں رہتے ہیں
یہاں کافی سارے مسائل ہوچکے ہیں لیکن میں کوشش کروں گا کہ یہ بات میں ان تک پہنچا دوں تم فکر مت کرو میں جلد ہی ان کے کانوں میں یہ بات ڈال دوں گا وہ اسے سمجھاتے ہوئے بولے جب کہ احمر مزید کچھ بھی نہیں بول پایا تھا
فون بند کرنے کے بعد بھی وہ کتنی ہی دیر یہ سب کچھ سوچتا رہا
°°°°°
دادا جان گھر واپس آ چکے تھے انہیں کمرے میں چھوڑنے کے بعد وہ باہر آیا تو دیشم کو صوفے پر بیٹھے ہوئے دیکھا ۔
وہ اس کے ساتھ ہی آ کر بیٹھ گیا جب دیشم نے ایک نظر اسے دیکھا ۔
حرم کے بارے میں کچھ پتہ چلا وہ بے چینی سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگی تھی ۔
ہاں پتا چل گیا ہے سب کچھ اس کے بارے میں اور بار بار حرم حرم کرنا بند کردو اب نا تو وہ اس گھر کا حصہ ہے اور نہ ہی یہاں کبھی واپس آئے گی ۔وہ ذرا سختی سے بولا دیشم اسے گھور کر رہ گئی
کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا کہاں ہے حرم اور اس کا نام کیوں نہ لوں میں وہ کیوں واپس نہیں آئے گی گھر میں وہ غصے سے بولی تھی
جب کہ اس کی آواز سنتے ہی باقی سب لوگ بھی وہیں آ گئے تھے ۔
کیونکہ وہ بھاگ چکی ہے اس گھر سے ہمیشہ کے لئے جاچکی ہے ۔وہ بھی اسی کے انداز میں چلاتے ہوئے بولا جبکہ دیشم کو اس کی کسی بات پر یقین نہیں تھا ۔
بکواس کرتے ہیں آپ شرم سے ڈوب مرنا چاہئے اپنی بہن کے بارے میں بات کر رہے ہیں آپ کم از کم اتنا خیال تو کریں ۔اپنی بہن کی پاکیزگی پر انگلی اٹھاتے آپ کو ذرا شرم نہیں آئی ۔
جب آپ اسے تلاش نہیں کر سکے تو اس کی ذات پر یہ گھٹیا الزام لگا دیا آپ نے اگر آپ اسے نہیں ڈھونڈ سکتے تو کوئی بات نہیں میں خود چلی جاؤں گی اور اسے ڈھونڈ کر لاؤں گی وہ غصے سے کہتی وہاں سے جانے ہی لگی تھی جب اگلے ہی لمحے خداش نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا ۔
کہاں جاؤ گی اسے ڈھونڈنے قبرستان میں کیوں کہ میں تو اسے ختم کرکے ہمیشہ کے لئے دفن آیا ہوں ۔وہ اتنی زورسے غرایا کہ ساری حویلی میں اس کی آواز گونج کر سناٹا چھا گیا
