Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 80)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 80)
Junoniyat By Areej Shah
آپ کب جا رہے ہیں بابا جان سے ملنے کے لیے بابا جان آپ کو بلا چکے ہیں آپ کو ایک بار ملنے چلے جانا چاہیے ہو سکتا ہے کہ بابا جان ہر چیز کو قبول کرلیں ۔
تمہاری طبیعت کچھ ٹھیک ہو جائے تو ان شاءاللہ ہوآوں گا پاکستان سے بھی اور ویسے بھی راحت بھائی یہیں آئے ہوئے ہیں میں کل ان سے ملنے جاؤں گا ۔
لیکن فی الحال پاکستان جانا میرے لیے آسان نہیں ہے یشام چھوٹا ہے وہ تمہارا خیال نہیں رکھ سکتا اور ڈاکٹر نے جب تک یہ کورس مکمل کرنے کے لیے کہا ہے میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا بہت لاپرواہ ہو تم ۔
احمر میں ایسے ہی تو نہیں کہہ رہی نا آپ چھوٹی سی بات کو اتنا بڑابنا رہے ہیں دوائیاں میں ٹائم پر لے تورہی ہوں اور آپ کون سا زیادہ دن کے لیے جائیں گے ایک ڈیڑھ ہفتے میں واپس آ جائیے گا اتنے دن تک تو میں اپنا خیال رکھ لوں گی ۔
میں تم پر بالکل بھروسہ نہیں کر سکتا کیونکہ تمہارا دماغ خراب ہے کل الماری سے مجھے وہ پھر سے دوائیاں ملیں ہیں تم کیا مجھے پاگل سمجھتی ہو یا عقل کا اندھا کیا مجھے نظر نہیں آ رہا کہ تم دوبارہ پریگنیٹ ہونے کے لیے ان فضول قسم کی میڈیسن کا استعمال کرتی ہو
میری جان اولاد اللہ نصیب میں لکھتا ہے اس طرح دوائیاں کھانے سے ہر کسی کو بچے پیدا ہوتے ناں تو آج دنیا میں ہزاروں جوڑے بے اولاد نہ ہوتے ۔
لیکن علاج کروانے میں کوئی برائی تو نہیں ہے نا احمر اور میں صرف یشام کے لیے ۔۔۔۔۔۔
یشام کو کسی بھائی بہن کی ضرورت نہیں ہے ہم ہیں نہ اس کا خیال رکھنے کے لیے اگر اللہ نے چاہا تو ہو جائیں گے اور بچے اور خبردار تمہیں میری قسم ہے آج کے بعد تم نے اس طرح کی کسی بھی فضول میڈیسن کو ہاتھ لگایاتو ۔
تمہیں یہ جو بیماری ہوئی ہے نہ یہ اسی کورس کے چکر میں ہوئی ہے وہ تو اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں وقت رہتے ہی پتہ چل گیا ورنہ پتہ نہیں کتنا نقصان ہو جاتا ۔
وہ کسی بھی حال میں اسے تنہا چھوڑنے کو تیار نہ تھا وہ اس معاملے میں اس پر یقین نہیں کر سکتا تھا یہاں تک کہ وہ اسے اپنی قسم دینے کو تیار ہو گیا تھا ۔
جب کہ اس کے غصے کے آگے وہ ہار گئی تھی
°°°°°°
دادا جان یہ کیا ہو رہا ہے کیا چل رہا ہے اس گھر میں کیا کوئی مجھے بتانا پسند کرے گا ۔
فنکشن کے بیج دادا جان کو اپنے کمرے کی طرف آتے دیکھ وہ ان کے پیچھے ہی آ گئی تھی ۔
اب کیا ہوگیا ہے اس گھر میں دیشم وہ پریشانی سے دیکھنے لگے تھے ۔
کیا ہوگیا ہے آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کیاآپ شامل نہیں ہیں اس سب میں کیا آپ نہیں جانتے ہیں کہ خداش دوسری شادی کررہے ہیں اور وہ بھی کسی اور سے نہیں بلکہ وہ دیدم سے ۔
وہ غصے سے پھٹ پڑی تھی دادا جان نے پرسکون انداز میں اس کی پوری بات کو سنا ۔
ہاں بالکل ایسا ہی ہے میرے سننے میں آیا ہے کہ خداش ریدم کی شادی کے فورا بعد ہی تمہیں طلاق دے دے گا تو اس کے فیوچر کے بارے میں مجھے کچھ تو سوچنا ہو گا نا ۔
اور یہ اس کی ساری زندگی کا سوال ہے مجھے لگا تھا کہ تم اپنے اور اس کے رشتے کو بچانے کے لیے ضرور کچھ کروگی لیکن تم تو ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ گئی ہو جیسے تم خود ہی خداش سے جان چھڑانا چاہتی ہو۔
پہلے تو میرا ارادہ تھا تم سے اس بارے میں بات کرنے کا تمہیں سمجھانے کا لیکن پھر بھینس کے آگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں سوچ کر خود ہی پیچھے ہٹ گیا اور اب تو خداش خود دوسری شادی پر رضامندی دے چکا ہے اگر وہ پہلے تم سے محبت کا دعویدار نہ ہوتا تو یقین مانو کہ میرا انتخاب کبھی بھی تم نہیں ہوتی ۔
اور اب تو اس نے خود دیدم سے شادی کرنے پر کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ اس نے اپنی زندگی کا فیصلہ ہمارے ہاتھوں میں سونپ دیا ہے اور اس کی شادی کے لئے گھر کے سب لوگ رضامند ہیں ۔
کسی نے میری رضامندی جاننے کی کوشش کی یہ کون سا قانون ہے ذرا مجھے بتانا پسند کریں گے وہ کیسے پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کا فیصلہ کر رہے ہیں ۔۔۔۔۔؟
کیا انہوں نے اس چیز کے لیے مجھ سے اجازت مانگی ہے وہ انہیں دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی ۔
بیٹا آپ پاکستان میں کھڑی ہیں اور یہاں مرد کو دوسری تیسری اور چوتھی شادی کرنے کے لیے کسی طرح کے اجازت نامے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔
یہ مردوں کی سوسائٹی ہے ۔یہاں آپ کےیہ آدھے ادھورے قانون نہیں چلیں گے ۔
خیر آپ ان فضول کے اصولوں میں وقت برباد مت کرو رسم کی تیاری کرو مجھے ریدم کی شادی میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں چاہیے وہ بس اتنا کہہ کر وہاں سے باہر نکل چکے تھے ۔
انہیں صرف اور صرف ریدم کی فکر کھائے جا رہی تھی باقی پوتیوں سے تو جیسے ان کو کوئی مطلب ہی نہیں تھا اس نے ایک بار پھر سے پرانی سوچ کو زندہ کیا تھا ۔
لیکن وہ غلط تھی یہاں بھی۔
دادا جان صاف الفاظ میں اس کے سامنے اپنی محبت کا اقرار کر چکے تھے ان کے لیے ان کے سارے بچے ایک برابر تھے یہاں تک کہ خداش سے بھی انہیں بہت محبت تھی لیکن وہ ان کی محبت سے انکاری نہیں تھے
جو جلن جو حسد وہ اتنے سالوں خداش سے محسوس کرتی رہی وہی جلن و حسد وہ ریدم سے محسوس نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
اپنے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجاتے ہوئے وہ کمرے سے باہر نکل آئی تھی باہر ڈھول باجوں کی آواز آ رہی تھی مطلب صاف تھا کہ بارات آ چکی تھی
°°°°°°°°
وہ روم سے نکل کر باہر آیا تو اس کی جان سامنے ہی اپنے شرارے میں ادھر ادھر جاتی نظر آئی۔
اس پر نظر پڑتے ہی وہ بھرپور انداز میں دونوں آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر شرمائی تھی۔اس نے بڑی مشکل سے اپنے قہقہے پر کنٹرول کیا تھا۔
جب تھوڑی دیر بعد وہ اسے پلر کے پیچھے سے وہ چوری چوری اسے دیکھ رہی تھی یعنی وہ اپنا وعدہ پورا کر۔رہی تھی ۔پورے فنکشن میں مسکراہٹ ایک پل کے لیے بھی اس کے لبوں سے جدا نہ ہوئی۔
°°°°°°°
میں ایسی کسی رسم کو نہیں مانتا بھائی یہ نہیں ہوتا کچھ بھی بس جلدی سے مجھے میری دلہن دے دو میں اسے لے کر چلا جاؤں گا ۔
یہ ناکہ بندی تو پولیس کے کام ہیں تم تو اتنی نازک نازک سی پیاری پیاری لڑکیاں ہو تم کو کہاں سوٹ کرتی ہے یہ ناکہ بندی ۔
او ہیلو ہیلو ہیلو یہ سب کچھ نہیں ہوتا یہ سالیوں کا حق ہوتا ہے جو ان کے بہنوئی کو دینا پڑتا ہے اور آپ بھی تب تک گھر کے اندر انٹری نہیں مار سکتے جب تک آپ ہمارا حق ادا نہ کردیتے
حرم سب سے آگے کھڑی تھی جبکہ اس کی کیوٹ کیوٹ باتیں شائزم کو بہت متاثر کر رہی تھی ۔
دیکھو حرم رائٹ ۔،۔؟
میں نے سنا ہےجو سب سے چھوٹی سالی ہوتی ہے نا وہ سب سے کیوٹ ہوتی ہے ۔اور تم تو ماشااللہ کیوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ذہین بھی ہو ۔
تمہیں توان لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ یہ لوگ فضول کام کرنا بند کریں اور تم ہی ان کا ساتھ دے رہی ہو بہت غلط بات ہے حرم ۔میں تھکا ہارا بچارہ اتنی دور سے آیا اور تم ۔۔۔۔۔۔
وہ اس کے انداز سے اس کی ہوشیاری کا اندازہ لگاتے ہوئے بولا تھا اور اس کا تیر سیدھا نشانے پر لگا تھا ۔
ہاں نا انصافی تو ہو رہی ہے آپ کے ساتھ تو ایک تو ہم اس چڑیل کو آپ کے حوالے کر رہے ہیں اور اوپر سے پیسے بھی آپ سے مانگ رہے ہیں۔
ہٹاؤ یہ سب کچھ کیا ان کے لئے اس ریدم نامی چڑیل سزا کافی نہیں ہے وہ سومیہ اور دیدم کے ہاتھوں سے بینر لے چکی تھی ۔
جب کہ دیشم اسے گھور رہی تھی جس کی گھوریوں کی پرواہ کیے بنا وہ اس کا بھی ہاتھ تھام کر اسے راستے سے ہٹانے میں کامیاب ہوگئی ۔
شائزم ایک بھی لمحہ ضائع کیےبنا اندر داخل ہوگیا تھا
°°°°°°°°
نکاح بہت سادگی سے ہوا تھا پہلے اندر کمرے میں ریدم کا نکاح پڑھوایاگیا نکاح کے دوران اس کے گھر کےسارے لوگ اس کے ساتھ کھڑے تھے دادا جان کے حکم کے مطابق کوئی بھی اس لمحے اس سے دور نہ ہوا تھا ۔
تایا جان نے خود اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے اسے سائن کرنے کے لیے کہا تھا اپنے باپ کی شدید کمی محسوس کرتے ہوئے بھی تایا جان کا ہاتھ اپنے سر پر محسوس کرتے اسے سکون ملاتھا۔
اللہ پاک تمہیں تمہارے نصیب کہ ہر خوشی عطا کرے اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے انہوں نے بے حد محبت سے اسے دعا دی تھی ۔
باہر سے نکاح نامے پر دستخط ہوتے ہی مبارک کا شور شروع ہوگیا ۔
اور اندر بھی سب اسے مبارکباد دینے لگے نکاح تو پہلے بھی ہو چکا تھا لیکن زمین آسمان کا فرق تھا اس نکاح اور اس نکاح میں اس نکاح میں
آج اس کے سرپرست اس کے ساتھ تھے وہ کوئی بے آسرا بے سہارا لڑکی نہیں تھی
اس کی ماں نے بھاگ کر شادی کی تھی لیکن اس کے نصیب میں عزت سے رخصت ہونا لکھا تھا
۔
نکاح کے فورا بعد ہی لڑکیاں اسے باہر سٹیج پر لے آئی تھیں۔اس بھاری بھرکم لہنگے میں اس کے لئے قدم اٹھانا بھی اپنی جان کو عذاب میں ڈالنے کے برابر تھا
لیکن اپنے دادا جان کی خوشی کا احترام کرتے ہوئے اس نے بنا اعتراض کیے اس لہنگے کو پہن لیا تھا اور اس وقت سچ میں نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی لیکن انہوں نے اس کے چہرے پر گھونگھٹ ڈال کر اسے سب کی نظروں سے چھپانے پر مجبور کر دیا
°°°°°°°°
شائزم بڑی خوشی سے باہر آیا تھا آخر کار وہ اپنی بیوی کے پاس بیٹھنے کے لیے جا ہی رہا تھا کہ جو صحیح معنوں میں بس چند لمحے پہلے کی تو نہیں تھی ۔
اس نے بڑی چالاکی سے پہلے رسم کا تو بیڑاغرق کر دیا تھا
لیکن وہ کہاں جانتا تھا کہ اس کی جان اتنی آسانی سے نہیں چھوٹنے والی ابھی اس کا ایک پلان کامیاب ہوا ہی تھا کہ اسٹیج پر بیٹھے ریڈ لہجے میں گھونگھٹ میں چھپی لڑکی کے آگے پیچھے جاکر وہ چاروں چڑیلیں بیٹھ گئیں ۔
اب یہ کیا ڈرامہ ہے وہ سخت بدمزہ ہوا تھا
یہ کوئی ڈرامہ نہیں ہے آپ کی خاطر ہم نے ایک رسم کواگنور کیا لیکن اس رسم پر ہم کسی قسم کا کوئی کمپرومائز نہیں کریں گے آپ کو دلہن چاہیے کہ نہیں نکالیں ہمارا حق ہے ۔
ساڈا حق ایتھے رکھ ۔
وہ سب یک زبان نعرے لگانے لگی ۔
شائزم نے ایک بے بسی نظر ساتھ کھڑے زریام کو دیکھا تھا ۔
بہت اچھا کیا آپ نے بگ بی جو ان جھمیلوں میں پڑھے ہی نہیں۔۔۔سیدھی شادی کرلی ۔
ارے میں تو کہتا ہوں کہ آپ نے دنیا کا سب سے نیک کام کیا ہے جو ان چکروں میں آئے ہی نہیں ۔وہ اسے شاباشی دیتے ہوئے اپنی جیب ہلکی کرنے لگا تھا ۔
یہ ایک لاکھ روپے ہیں میرے پاس بانٹ لو آپس میں اس نے نوٹوں کی گڈی سامنے کی طرف کی تھی لیکن ان سب نے شور مچا دیا ۔
کیا آپ صرف ایک لاکھ روپےدےکر ہماری بہن کو لے کر جائیں گے ۔سب سے پہلے تو دیدم اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔جس کو ریدم حیرانگی سے دیکھ رہی تھی آج سے پہلے شاید ہی اس لڑکی کو کبھی اس پر اتنا پیار آیا ہوگا ۔
زیادہ ہے کیا کہ میں آدھی واپس رکھ لیتا ہوں تمہیں جھٹکا کھانے کی ضرورت نہیں ہے شائزم اس کی فکر میں ہلکان ہوتے ہوئے بولا ۔
ایک لاکھ تو صرف ہم دیدار کا لیتے ہیں یہاں اس کرسی پر بیٹھنے کے لئے کم از کم دس لاکھ تو دینا پڑے گا ۔وہ واپس اس کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولی کہ کہیں شائزم چالاکی سے کرسی پر نہ بیٹھ جائے ۔
دس لاکھ ۔۔۔۔۔پہلے دیدار کرواؤ میں منہ دیکھے بنا کوئی ڈیل نہیں کرتا وہ کافی دیر سوچنے کے بعد بولا ۔
ارے ایسے کیسے دیکھیں یہ الاؤڈ نہیں ہے ہم آپ کو دکھانہیں سکتے اگر ڈیل کرنی ہے تو دور دور سے کریں ۔دیشم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا ۔
دیکھو میں اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹتا یار بزنس مین کا پوتا ہوں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بنا دیکھے بھالے ڈیل ڈن کروں ۔
اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ تمہیں تم لوگوں کی مطلوبہ رقم ملے تو دیدار کرواؤ ۔وہ اپنی بات پر اڑا رہا ۔
جب حرم دادا جان کے اشارے پر سچ میں ہی اس کے سر سے گھوگھٹ ہٹآ چکی تھی ۔
اسے دیکھتے ہوئے جیسے وہ مبہوت رہ گیا اسے کچھ بھی سمجھ نہ آیا وہ اسے اتنی فرصت سے دیکھنے لگا جیسے وہاں اس کے علاوہ اور کوئی موجود ہی نہیں ہے اسے ہرگز اندازہ نہ تھا کہ اس کی ہمیشہ اجاڑ حالت بنا کر رکھنے والی چڑیل اتنی خوبصورت لگ رہی ہو گی ۔
اس دیدار پر وہ دس لاکھ توکیا اپنی ساری جائیداد لکھ کر ان کے نام کر دے ۔
ارے یہ کیا کر دیا ہے تم نے ۔۔۔۔۔اس کےاوپر فوراً گھوگھٹ ڈال دینے سے وہ بھڑک اٹھا ۔
بات دیدار کی ہوئی تھی کوئی نظر نہیں لگوانی ہم نے اپنی دلہن کو اب ڈیل فائنل کریں ۔
دیشم نے اسے گھورتے ہوئے کہا ۔
بس ٹھیک ہے یار ڈیل مجھے پسند ہے تم لوگوں کی ڈیمانڈ میں پوری کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن کیش نہیں ہے تو چیک سے کام چلا سکتی ہو تو بتاؤ ۔
جی نہیں ہم کسی چیک شیک کو نہیں مانتے پیسے نکالیں گے تو بیٹھیں گے یہاں پہ ۔شادی کرنے آئے تھے ایک لاکھ روپے لے کر کیا آپ کو یہ نہیں پتا کہ آپ کی چار سالیاں پہلے سے اس گھر میں موجود ہیں ۔
اور دو کینیڈا میں ہیں۔ان کا حصہ تو آپ کو الگ سے دینا پڑے گا ایک لاکھ روپے سے شادیاں ہوتی ہیں کیا ۔
سومیہ کو اس کے عقل پر حیرت تھی ۔
شادی تو میری سات ہزار میں ہی ہوگئی تھی مولوی کو سات ہزار روپے دیے تھے نکاح والے دن مہنگی تو یہ شادی پڑرہی ہے وہ بڑبڑایا تھا اس کی آواز سوائے زریام کے اور کسی نے نہیں سنی تھی ۔
تھوڑا اونچ نیچ کر لو اور چیک سے کام چلا لو ۔اس نے آفر کی ۔جو بری نہیں تھی وہ چاروں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائی ۔
تو پھر دے دیں چیک سائن کر کے ۔یقینا اس پر بھروسہ نہیں کر سکتی تھی ۔
اور آخرکار چیک سائن کروا کر ہی انہوں نے دم لیا تھا ۔
°°°°°°°
ہیلو ہیلو احمر کچھ بولیں ۔۔۔۔۔کینز مسلسل فون کان سے لگائےاس کے کچھ بولنے کا انتظار کر رہی تھی جو بار بار فون تو کر رہا تھا لیکن کوئی بات نہیں کر رہا تھا ۔
لینڈ لائن پر بار بار اسے فون آیا تو اس نے یہی سوچا کہ احمر کا فون ہوگا کیونکہ اس کے علاوہ کوئی گھر پر فون کرتا ہی نہیں تھا ۔
کن۔یز۔۔۔۔وہ فون رکھنے ہی لگی تھی کہ اسے ٹوٹے بکھرے الفاظ میں اپنا نام سنائی دیا
۔
احمر آپ ٹھیک تو ہیں آپ کہاں ہیں اس وقت احمر کچھ بولیں احمر وہ اونچی آواز میں بولی تھی اس کا یہ دردوہ برداشت نہیں کر پا رہی تھی شاید کچھ ہوا تھا ۔
لیکن دوسری طرف سے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔
دوسری طرف خاموشی تھی کوئی بھی آواز نہیں آ رہی تھی اور وہ چلائی جا رہی تھی
ایسا لگ رہا تھا جیسے اس سے اس کا سب کچھ چھینا جا رہا ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے کچھ بھی نہیں بچا ایسا لگ رہا تھا جیسے سب کچھ تباہ ہوگیا ہے
ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو وہ اپنے بھائیوں سے ملنے کے لیے گھر سے گیا تھا اس نے کہا تھا کہ پہلے وہ اپنے بھائیوں سے ملنے جائے گا اور اس کے بعد وہ راحیل سے ملے گا جو پاکستان سے واپس دو دن پہلے ہی آیا ہے ۔
لیکن اب اسے اس کی کوئی آواز نہیں آ رہی تھی ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی جیسے سب کچھ ختم ہو چکا ہو۔
وہ کافی دیر فون کان سے لگائے اونچی اونچی آواز میں سے پکارتی رہی لیکن دوسری طرف سے کوئی آواز نہ آئی تھی فون بند ہوگیا ۔
اور پھر تقریبا دس منٹ کے بعد دوبارہ سے فون بجا تھا اس میں ہمت نہ رہی فون اٹھانے تو یشام نے بھاگ کر فون اٹھایا ۔
اور پھر اس نے اپنے بیٹے کی رونے کی اونچی اونچی آوازیں سنی تھیں ۔
واپس آتے ہوئے احمر کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا تھا جس میں وہ اسے اس بھری دنیا میں تنہا اکیلے چھوڑ کر چلا گیا تھا ۔
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا اپنی آخری سانس لینے سے پہلے اسے فون کیا تھا اسے کچھ بتانا چاہتا تھا لیکن وہ کچھ بھی نہ بتا سکا اسے صرف اپنا ٹوٹا ہوا نام سنائی دیا تھا اس کے بعد وہ بکھر گئی تھی
°°°°°°°
رخصتی بہت افسردہ ماحول میں ہوئی ہر کسی کی آنکھ اشکبار تھی سب ہی اسے رخصت کرتے ہوئے بہت رنجیدہ ہوگئے تھے حالانکہ اسے یہاں آئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا ۔
لیکن اس کے باوجود بھی وہ بہت کم وقت میں ان لوگوں کے دل میں اتر گئی تھی اس نے کبھی کسی سے دوستی کرنے کی کوشش نہیں کی تھی نہ ہی کبھی کسی کے زیادہ قریب رہی تھی
لیکن پھر شاید یہ خون کی کشش تھی جو انہیں دوسرے سے ملاتی تھی وہ چند دن میں ہی ان کے لئے بے حد خاص ہو گئی تھی ۔
حرم تو بس اس کی چند دنوں کی دوست تھی جواس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔جبکہ اس کا شوہر سر اس کے آنسو دیکھ کر بےچین ہورہا تھا۔صبح سے وہ اسے تنگ کررہی تھی جو سب نوٹ کررہے تھے اور اب بہت رو رہی تھی
پھر دادا جان نے اسے خود گاڑی میں بٹھاتے ہوئے الوداع کیا تھا یہ لمحہ ان کے لیے کتنا مشکل تھا یہ تو صرف وہی سمجھ سکتے تھے ان کی پوتی کو ابھی ان کے پاس آئے وقت ہی کتنا ہوا تھا کہ وہ ایک بار پھر سے ان سے دور چلی گئی تھی ۔حرم ان کے سینے سے لگی ان کا دکھ کم کرنےکی کوشش کررہی تھی
°°°°°°°°
