65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 68)

Junoniyat By Areej Shah

یہ ہم اس راستے سے کیوں جارہے ہیں دوسرا راستہ تو کافی شارٹ ہے اگر ہم اس والے راستے سے جائیں گے تو جلدی گھر پہنچ جائیں گے وہ اذانوں کے قریب اپنے علاقے میں داخل ہوئے تھے ۔

دیشم کو اب نیند کے جھٹکے لگ رہے تھے لیکن اس کے باوجود بھی وہ اپنے ہوش و حواس کو پوری طرح سے الرٹ کیے ہوئے تھی۔کیونکہ وہ خداش کی برتھ ڈے کو سو کر برباد نہیں کرنا چاہتی تھی ۔

وہ کافی مشکل سے جاگ رہی تھی یہ بات خداش بہت اچھے سے سمجھ رہا تھا ۔لیکن اس کے باوجود بھی جان بوجھ کر اس نے رستہ لمبا کر لیا تھا

میرا برتھ ڈے اسپیشل بنانے کے لیے تم نے اتنا کچھ کیا ہے تو تھوڑی دیر اور صبر کر لو میں خوبصورت رستے کو ختم نہیں کرنا چاہتا میں تمہارے ساتھ بہت لمبے سفر پر جانا چاہتا ہوں

وہ تو ہے لیکن لمبا سفر ہم بعد میں بھی تو کرسکتے ہیں نا سچی بہت زیادہ نیند آ رہی ہے بہت زیادہ تھک چکی ہوں میں ویسے تھک تو آپ بھی گئے ہوں گے کب سے ڈرائیونگ کر رہے ہیں

نہیں میں نہیں تھکا بالکل بھی نہیں اتنا خوبصورت سفر ہو تو کوئی کمبخت ہی تھکتا ہے اور ویسے بھی خداش کاظمی کو اور چاہیے ہی کیا سوائے دیشم خداش کاظمی کے ساتھ کے وہ اس قدر دلفریب انداز میں بولا کہ دیشم کو ایک لمحے کے لئے خود پر نازہونے لگا ۔

وہ بہت پیارا بولتا تھا بہت خوبصورت الفاظ میں اپنے جذبات کو بیان کرتا تھا ۔شاید اب تک وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہوتی اگر وہ حرم کو اس سے دور نہ کرتا تو نجانے کیوں اسے لگتا تھا کہ حرم جہاں بھی ہے بالکل صحیح سلامت ہے ۔

کن سوچوں میں ڈوب گئی ہو بات کرو مجھ سے اسے سوچوں میں ڈوبے دیکھ کر کہنے لگا تو وہ نفی میں سر ہلاتی سے باتیں کرنے لگی

°°°°°°

بابا جان میں جاتا ہوں لندن میں اسے جا کر سمجھاؤں گا اور مجھے یقین ہے کہ میری بات کو بہت اچھے طریقے سے سمجھ جائے گا وہ ان کے سامنے بیٹھے ان سے کہہ رہے تھے

نہیں راحت وہ کچھ نہیں سمجھے گا وہ سمجھنے سمجھانے سے بہت آگے جا چکا ہے اس کے دماغ پر اس لڑکی نے قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ نہیں کرنا چاہتا ہے جو لڑکی چاہتی ہے

اور ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے ہم کسی غیر مسلم کو کبھی بھی اپنی حویلی کی بہوتسلیم نہیں کریں گے۔

وہ بے حد غصے سے سے بول رہے تھے جبکہ راحت کو بھی اس وقت ان کا غصہ بالکل ٹھیک لگ رہا تھا

اسے ابھی یہ بات کچھ دن پہلے ہی پتہ چلی تھی کہ احمر نے لندن میں کسی لڑکی سے شادی کر لی ہے

اور جس بات نے اسے زیادہ چوٹ پہنچائی تھی وہ یہ تھی کہ اس نے نہ صرف شادی کی ہے بلکہ غیر مسلم لڑکی سے شادی کی ہے ویسے ثاقب نے اسے بتانے کی بہت کوشش کی تھی ۔کہ اس نے شادی کرلی ہے

لیکن اس وقت راحت نے کہا تھا کہ وہ بڑا بھائی ہے سب کچھ سنبھال لے گا ۔اس نے ہر معاملے میں اپنے بھائیوں کو سپورٹ کیا تھا ۔اور ہر معاملے میں ہر ضد پر اپنے بھائیوں کے لیے وہ اپنے بابا کے سامنے کھڑا ہو گیا تھا

لیکن اس بار تو وہ خود حیران اور پریشان رہ گیا تھا اب جا کر اسے یہ پتہ چلا تھا کہ جس لڑکی سے شادی کی تھی وہ اصل میں مسلم تھی ہی نہیں اور یہاں پر وہ بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا ۔

اس وقت اسے بابا کا غصہ بالکل جائز لگ رہا تھا اور وہ لندن بھی اسے لیے جا رہا تھا کہ وہ احمر کو کہے کہ وہ اس لڑکی کو چھوڑ کر اپنے گھر واپس لوٹ آئے

°°°°°°

نہیں مجھے نہیں پہننا اتنا بڑا کوٹ وہاں سب لوگ میرا مذاق اڑاتے ہیں ۔لوگ مجھے ٹیڈی کہتے ہیں آپ کیوں پہنا دیتے ہیں میں بالکل بھالو لگتی ہوں اس میں

وہ صبح خود تیار ہوتے ہوئے اسے بھی زبردستی جیکٹ پہنارہا تھا جس کے لیے وہ ہرگز راضی نہیں تھی ۔

سردی کی شدت میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا تھا اور حرم کے گالوں کی سرخی میں بھی ۔اور ایسے میں وہ اس کا حد سے زیادہ خیال رکھتا تھا وہ اسے شاید بالکل بھی بیمار کرنے کے حق میں نہیں تھا ۔

کیونکہ تم ہو ہی میرا پیارا سا کیوٹ سا بھالو تو تمہیں بھالو ہی بنا کر لے کر جاؤں گا نہ اس کے دونوں گالوں کو کھینچتے ہوئے پیار سے بولا۔

جی نہیں میں بھالو نہیں ہوں۔ آپ نے میرے بھالو کی گردن توڑی تھی نا۔ ۔۔۔؟آپ نے اچھا نہیں کیا تھا آپ نے ہی کیا تھانامیرے بھالوکاقتل وہ اس سے سوال کرنے لگی یشام نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا پھر مسکرا دیا وہ یہاں انکار نہیں کر سکتا تھا ۔

ہاں میں نے ہی کیا تھا اس معصوم کا قتل وہ میرے ہاتھوں سے قتل ہوا تھا ۔

وجہ جان سکتی ہوں میں وہ غصے سے ناک چڑھا کر اس سے سوال کرنے لگی ۔

بہت بہت بہت زیادہ پاس تھا تمھارے اتنا پاس برداشت نہیں ہوا مجھ سے ۔وہ اپنا ہاتھ اس کے گرد پھیلاتے ہوئے اسے اپنے قریب کر کے بولا ۔

اس سے پہلے کہ وہ اس کی قربت سے گھبرا کر پیچھے ہٹتی دروازہ اچانک کھلا اور صیام اندر داخل ہوگیا ۔

جب کہ وہ اگلے ہی لمحے اس سے دور ہوتے ہوئے اپنا بیگ اٹھاتے باہر چلی گئی تھی یعنی وہ اس سے ناراض ہو چکی تھی لیکن وہ اسے منا سکتا تھا

°°°°°°

نہیں نہیں نہیں میں اتنی بےبس نہیں ہوسکتی اگر میں نے اس جیسے شخص کا ساتھ قبول کر لیا تو لعنت ہے مجھ پر مجھے اس سے نکاح نہیں کرنا ۔

کوئی بھی مجھے مجبور نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ میرے ساتھ زبردستی کر سکتا ہے میں نہیں کروں گی اس نکاح کو قبول دیکھتی ہوں کیا کر لیتا ہے وہ نہیں ڈرتی میں تم سے شائزم شاہ یہ تمہاری بھول ہے کہ تم مجھے بے بس کر لو۔وہ غصے سے بے حال ہو رہی تھی

جب اچانک ہی وہ کمرے میں داخل ہوا آجاؤ نیچے مولوی صاحب آ گئے ہیں یہ دوپٹہ اپنے سر پر لے لوویسے تو میں نے تمہارا ڈریس بھی آرڈر کیا تھا لیکن مجھے پتا ہے اسے پہننے میں تم مزید ٹائم برباد ہی کرو گی تو جلدی سے نیچے آ جاؤ

میں تم جیسے شخص سے شادی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی تم نے میرے ساتھ ۔۔۔۔”

بس بس بس ڈارلنگ کیوں خود کو ہلکان کر رہی ہو بالکل ارادہ نہیں ہے اس وقت تمہارے نخرے اٹھانے کا

تمہیں پتا ہے اس وقت تمہارے سو کالڈ دادا کی حویلی والے تمہیں کیا سمجھ رہے ہوں گے ایک بھگوڑی جس طرح میری پھوپھی بھاگ گئی تھی نہ اسی طرح سے لوگ سوچ رہے ہوں کہ تم بھی۔ ۔۔۔۔۔’

میرا مطلب ہے سب لوگ یہیں کہیں گے اور پھر اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ میں تمہیں جتنی عزت سے یہاں لے کر آیا ہوں اتنی ہی عزت سے جانے دوں گا تو اس طرح کی غلط فہمی کا شکار تو تم کبھی بھی مت رہنا ۔۔۔

میں جانتا ہوں میری بات کا مطلب تم بہت گہرائی سے سمجھ چکی ہوگی اب اتنی بھی چھوٹی بچی نہیں ہو تم سو ڈو فاسٹ بےبی وہ اس کا گال تھپتھپاتا کمرے سے نکل گیا تھا

°°°°°°

یہ شخص اتنا گر سکتا تھا اس نے کبھی نہیں سوچا تھا

وہ اس کا اچھا دوست بن چکا تھا اسے لگتا تھا کہ وہ اسے سمجھتا ہے ۔

لیکن وہ اس کے ساتھ ایسا کرے گا یہ تو کبھی اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ۔وہ اسے اس کی ماں کا طعنہ دے کر گیا تھا اسے ساری دنیا کے سامنے بد نام کرنے کے ساتھ ساتھ وہ اس کی عزت پر داغ لگانے کی بھی دھمکی دے کر گیا تھا اور ہر لڑکی کی طرح اپنی عزت کے نام پر وہ بھی بے بس ہو گئی تھی۔

ہاں وہ شخص کے آگے خود کو برباد نہیں کر سکتی تھی اس نے بہت مشکل سے خود کو یہ فیصلہ کرنے پر تیار کیا تھا وہ اس شخص کی زندگی میں شامل ہونے جا رہی تھی جس سے اسے نفرت ہونے میں ایک لمحہ بھی نہ لگا تھا ۔

اس نے سامنے پڑا دوپٹہ دیکھا جسے اٹھا کر اپنے سر پر لیتے ہوئے اس کی آنکھوں سے کہیں آنسو ٹوٹ کر بکھر گئے تھے ۔

وہ اتنی بے بس نہیں تھی خود اپنا آپ برباد کرنے والی لیکن وہ کر رہی تھی مجبوری کی اس انتہا پر آ کر وہ پہلی بار کسی کے سامنے ہاری تھی ۔

لیکن وہ اس کے سامنے ساری زندگی ہارنے والی نہیں تھی وہ اس شخص کو بھی ہارنے پر مجبور کرنے والی تھی جس نے اسے بےمول کیا تھا ۔انمول تو وہ اسے بھی نہیں رہنے والی تھی وہ اسے بھی بے مول کر دینے کا ارادہ رکھتی

°°°°°

نکاح نامہ پر سائن کرتے ہوئے اس کی آنکھوں سے ٹوٹ کر آنسو گرنے لگے تھے وہ اپنے آپ کو بے بسی کی انتہا پر محسوس کر رہی تھی ۔کب سوچا تھا اس نے اس جیسی بہادر اور نڈر لڑکی کے ساتھ بھی ایسا کچھ ہو جائے گا ۔وہ تو حالات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی تھی

وہ لڑکیوں کو اس مقام پر آنے پر بے وقوف اور بد ماغ کہتی تھی آج وہ خود اس مقام پر تھی ۔اسے اپنی بزدلی سے نفرت محسوس ہو رہی تھی کاش اس شخص کا منہ توڑ پاتی ۔

بہت بہت مبارک ہو شاہ صاحب آج سے یہ آپ کی بیوی ہیں اور آپ ان کے شوہر لیکن بہت اچھا ہوتا کہ آپ اس نکاح میں آپ اپنے گھر والوں کو بھی شامل کر لیتے ۔

بڑے بھی شامل ہوں گے یہ نکاح تو صرف میں نے اپنا وعدہ نبھانے کے لیے کیا ہے نکاح تو ہمارا دھوم دھام سے سب کے سامنے ہو گا مولوی صاحب آپ فکر نہ کریں

اور ان شاء اللہ اس نکاح میں بھی آپ ہی ہوں گے یہ تو بس تھوڑا سا مسئلہ ہوگیا تھا جس کی وجہ سے جلد بازی میں کرنی پڑی ۔

بہت اچھی بات ہے جس نکاح میں گھر والے شامل ہوں اس میں برکت ہوتی ہے اب میں چلتا ہوں وہ اس کے سامنے سے اٹھے تواس نے سب دوستوں کو بھی وہاں سے جانے کا اشارہ کر دیا تھا جو مولوی صاحب کے ساتھ ہی باہر نکل گئے

تو بیوی صاحبہ آئیں آپ کو آپ کے گھر چھوڑ کر آتے ہیں اور ایک اور بات اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کی بے بسی کو تصویر بنا کر سب کے سامنے میں اس انداز میں پیش نہ کروں

کہ آپ میرے ساتھ بھاگ کر نکاح کر چکی ہیں تو بہتر ہے کہ آپ گھر جا کر سب کے سامنے کہیں کہ آپ مجھ ناچیز سے شادی کرنا چاہتی ہیں

وہ بھی اپنی مرضی سے ۔۔۔”

اور آپ کو مجھ سے معافی مانگنی ہوگی ورنہ ساری زندگی میرے نکاح میں رہتے ہوئے بھی ایسی زندگی گزارو گی کہ سوائے آنسو بہانے کی اور کچھ نہیں کر پاؤ گی ۔اس نے بڑے ہی بےرحم انداز میں دھمکی دی تھی ۔لیکن اس نے سر اٹھا کر بھی اس کی طرف نہ دیکھا

°°°°°°

قسم سے میں فون کر رہا ہوں شائزم تم فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے میرا اتنی پریشانی ہو رہی ہے مجھے حد ہوتی ہے کسی چیز کی بات سنو میری میں تم سے ضروری بات کرنا چاہتا ہوں ۔

آپ اپنے ضروری بات بعد میں کیجئے گا پہلے مجھے بھی نکاح کی مبارک باد دے دے

ابھی کچھ دیر پہلے آپ کے بھائی کا نکاح ہوا ہے

یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم۔کیا اس نے اپنی مرضی سے تم سے شادی کی ہے ہرگز نہیں میں جانتا ہوں تم نے ضرور کچھ الٹا سیدھا کام کیا ہے شائزم مجھے پوری بات بتاؤ

وہ بے حد غصے سے بول رہا تھا اور شائزم نے بھی اس سے کچھ نہیں چھپایا تھا اب تک جو کچھ ہوا تھا وہ سارا وہ اس کو بتاتا چلا گیا تھا

کیوں کیا شاید تم نے ایسا تمہاری ہمت کیسے ہوئی وہ ہماری سگی پھوپو کی بیٹی ہے تم نے اسے بے بس کیا اسے تکلیف پہنچی

تم نے افشین پھوپھو کی بیٹی کے ساتھ ایسا کیا ان کی بیٹی کے ساتھ جو تمہیں بے انتہا چاہتی تھیں۔ کیوں شائزم زریام بہت غصے سے بول رہا تھا ۔

ہاں اسے تکلیف پہنچائی کیونکہ اس نے میری ذات پر گھٹیا اور غلیظ الزام لگایا تھا بات میرے کردار پر آئی تھی اور میں اپنے کردار پر خاموش نہیں رہ سکتا بھائی۔

اور اب اس نے جو ہماری بےعزتی کی ہے نا اس کی وہ معافی مانگےگی وہ بھی اپنے پورے خاندان کے سامنے ۔اور خود کہے گی کہ وہ مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہے آپ فکر نہ کریں

جو کھیل میں نے شروع کیا ہے وہ ختم بھی میں کروں گا آپ بالکل بے فکر ہو جائے میں اسے گھر چھوڑنے جا رہا ہوں وہ کہہ کر فون بند کر چکا تھا جبکہ زریام پریشان سا باہر نکل آیا

°°°°°°

کیا ہوا زریام آپ بہت پریشان لگ رہے ہیں سب کچھ ٹھیک تو ہے نہ وہ اسے فون کو دائیں سے بائیں گھماتے دیکھ کر پریشان ہو گئی تھی اس کے کہنے پر وہ اس کے لئے چائے بنا کر لائی تھی ۔

کچھ ٹھیک نہیں ہے عمایہ شائزم نے نکاح کرلیا ہے وہ بھی ریدم سے زبردستی اسے کڈنیپ کرکے ۔وہ ایساکیسے کر سکتا ہے اس نے پھوپو تک کا خیال نہ کیا عمایہ ۔۔۔

دادا جان کیا سوچیں گے اور یہ دشمنی جو آج برسوں بعد ختم ہونے کے مقام پر آئی ہے اسے ایک بار پھر سے شروع کرنے کا بہانہ دے دیا۔

یہ تو بہت پریشانی والی بات ہے اب کیا ہوگا زریام اگر شائزم بھائی نے سب کے سامنے اس نکاح کو قبول نہ کیا تو بدنامی تو اس لڑکی کی ہوگی سب یہی کہیں گے کہ اس نے بھاگ کرشادی کی ہے

اور اگر شائزم بھائی نے ایسا صرف اپنے غصے کی سےوجہ کیا اور اگر غصہ اترنے کے بعد انہوں نے اس نکاح کو قبول کرنے سے منع کر دیا تو کچھ تو کرنا پڑے گازریام

ہاں عمایہ کچھ تو کرنا پڑے گا یہ سچ میں بہت پریشانی والی بات ہے اور اس لڑکے کا کوئی بھروسہ بھی نہیں ہے وہ کچھ بھی الٹا سیدھا سوچ کر کوئی بھی الٹی سیدھی حرکتیں کر سکتا ہے

مجھے گاؤں جانا ہوگا ۔تمہیں جنت کے گھر چھوڑ دوں گا وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تو عمایہ نےصرف ہاں میں سر ہلایا تھا

°°°°°°

حرم یار تم بہت لائق ہو ماننا پڑے گا یار تمہارے تو سارے ٹیسٹ بہت اچھے ہو رہے ہیں تمہارے پاس تو سارے نوٹس بھی ہوں گے

پلیز مجھے اپنے کچھ نوٹس دے دو میرا بھی اچھے نمبروں سے پاس ہونے کا ارادہ ہے

وہ اس کا کلاس فیلو تھا اس کا نام زاہد تھا وہ اکثر لڑکیوں سے نوٹس لینے کے بہانے بات کرتا تھا کبھی کسی گوری میم کے پیچھے گھوم رہا ہوتا تو کبھی کسی اور سٹائلش لڑکی کے پیچھے لیکن آج کل اس کا دھیان حرم کی طرف زیادہ ہی تھا

ٹھیک ہے بھائی میں آپ کو نوٹس دے دوں گی میرے لیپ ٹاپ میں ہیں میں آپ کو سینڈ کر دوں گی آپ مجھے اپنا ای میل دے دے ۔

اس نے بڑی خوش اخلاقی سے جواب دیا تھا جب کہ اس کے بھائی کہنے پر وہ بد مزا ہو گیا ۔

او کم آن ڈارلنگ بچہ بننے کی ضرورت نہیں ہے یہاں ہم کوئی بہن بھائی والا رشتہ بنانے کے لئے نہیں آئے

تم مجھے اپنا دوست سمجھ سکتی ہووہ اس کے کندھے پر بازو پھیلاتے ہوئے بولا جب اچانک ہی کسی نے اس کے بازو کو اتنی شدت سے تھام کر نیچے کی طرف پھینکا تھا کہ اس کے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی

تیری ہمت کیسے ہوئی اسے چھونے کی اس ہاتھ سے چھوا تو نے اسے اس ہاتھ سے۔۔۔۔۔؟

وہ اس کا ہاتھ پکڑے پیچھے کی طرف موڑتا اسے چیخنے پر مجبور کر گیا تھا وہ چلائے جا رہا تھا اس سے معافی مانگ رہا تھا لیکن یشام کو تو جیسے کچھ ہوش ہی نہیں تھا ۔

اسے زمین پر پھینکتے ہوئے یشام نے اسے اپنے پیروں سے مارنے لگا تھا اسے گریبان سے پکڑ کر اس نے دوبارہ اٹھانے کی کوشش کی جب بہت سارے سٹوڈنٹ جمع ہوکر اس سے چھڑوانے لگے۔

وہ لوگ اس سےاس لڑکے کو دور کرنے کی کوشش کر رہے تھے جب کہ اپنے ٹیچر کا یہ روپ دیکھ کر وہ پریشان ہو گیا تھا ۔

اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ حرم کے پاس جانے کا یہ مطلب نکلے گا وہ اپنے منہ اور ناک سے خون صاف کرتا ہوا وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا جب اچانک ہی یشام ایک بار پھر سے ان لڑکوں کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا

اور زاہد ایک بار پھر سے اپنا بچاؤ کرنے میں ناکام ہوگیا تھا وہ اسے زمین پر گراتے ہوئے اس کو پوری شدت سے مارنے میں مصروف تھا ۔

سر میں حرم سے معافی مانگ لوں گا پلیز سر مجھے چھوڑ دیجیے ۔

اس کا نام بھی مت لینا اپنے منہ سے اگر اس کا نام بھی دوبارہ لیا تو میں جان سے مار ڈالوں گا وہ اسے گریبان سے پکڑے اپنے سامنے کھڑا کیا بے حد غصے سے بول رہا تھا ۔

یہ کیا ہو رہا ہے یہاں پروفیسر یشام آپ میرے آفس میں آئے اور تم بھی پرنسپل سر وہاں آتے ہوئے ان سے کہنے لگے ۔

جب کہ یشام ہاں میں سر ہلاتا حرم کو دیکھنے لگا تھا جو کافی خوفزدہ لگ رہی تھی ۔

وہ سائیڈ پر پڑا اس کا جیکٹ اٹھا کر خود ہی پہنانے لگا ۔

صیام اسے گھر لے جاؤ میں تھوڑی دیر میں گھر ہی آتا ہوں اس کا ماتھا چومتے ہوئے وہاں موجود سب سٹوڈنٹ کو حیران پریشان چھوڑتا پرنسپل آفس کی طرف جا چکا تھا جبکہ صیام اسے فوراً ہی وہاں سے لے گیا تھا

°°°°