Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 74)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 74)
Junoniyat By Areej Shah
ارے آو خداش بہت خوشی کی خبر ہے۔ تم تو کافی تھکے ہوئے لگ رہے ہو بیٹا میں تو تمہیں خوشخبری سنانے والا تھا کہ حرم پاکستان آرہی ہے اس نے یشام کو منا لیا ہے ۔وہ اسے پاکستان لانے پر تیار ہوگیا ہے اور اس گھر میں بھی آ رہا ہے۔
میں اتنا خوش ہوں کہ بیان نہیں کر سکتا وہ دادا جان کے کمرے میں داخل ہوا تو دادا جان بے حد خوشی سے بتانے لگے لیکن اس کی طبیعت میں خرابی دیکھ کر وہ پریشان ہوئے تھے
دادا جان یہ تو بہت خوشی کی بات ہے شکر ہے حرم واپس آرہی ہے سب کے لیے سرپرائز ہو جائے گا ۔وہ بہت خوش ہوا تھا
وہ تو ہے خداش لیکن تمہاری طبیعت زیادہ خراب لگ رہی ہے وہ کرسی پر بیٹھاتو دادا جان اس کے ماتھے کو چھونے لگے
تمہیں تو بہت تیز بخار ہو رہا ہے ۔تمہیں ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے
میرے خیال میں تھکاوٹ کی وجہ سے تمہاری طبیعت خراب ہو رہی ہے
نہیں دادا جان اتنی بھی خراب نہیں ہے طبیعت بس ہلکا سا بخارہے موسم چینج ہو رہا ہے شاید اس وجہ سے آپ پریشان مت ہوں ۔میں میڈیسن لے لوں گا ۔اس نے مسکراتے ہوئے انہیں مطمئن کیا تھا
حرم کےواپس آنے کی وجہ سے وہ اتنے زیادہ خوش لگ رہے تھے کہ اپنی طبیعت کی وجہ سےوہ ان کو پریشان نہیں کر سکتا تھا حالانکہ وہ صبح سے اپنی طبیعت میں خرابی محسوس کر رہا تھا
اسے بخار وغیرہ بہت کم ہوتا تھا لیکن جب ہوتا تھا تو بہت شدت پکڑ لیتا تھا ۔کل ریدم کی مہندی تھی ۔جو وہ اپنی طبیعت کی وجہ سے ہرگز خراب نہیں کرنا چاہتا تھا تھوڑی دیر دادا جان کے پاس بیٹھنے کے بعد وہ اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا ۔
حرم کے واپس آنے کی خبر اس کے لیے بھی بہت اہم تھی یقیناً یہ خبر اس کی شادی شدہ زندگی کو ٹھیک کر سکتی تھی
°°°°°°
وہ کمرے میں آیا تو دیشم کہیں پر بھی نہیں تھی۔ طبیعت خرابی کی وجہ سے اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اسے ڈھونڈ پاتا اسی لیے بیڈ پر لیٹتے ہوئے اس نے تھوڑی دیر آرام کرنا چاہا تھا کچھ ہی دیر میں وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
اس کی آنکھ کھلی جب اس نے اپنے ماتھے پر کسی کے نازک انگلیوں کا لمس محسوس کیا تھا ۔اس نے آنکھیں نہیں کھولیں تھی لیکن اہنے بے حد قریب سے اس کی آواز سنی تھی ۔
انہیں تو بہت تیز بخار ہے انہیں ڈاکٹر کے پاس جانا چاہیے ۔ایسے تو صبح کا بخار تیز ہو جائے گا مجھے دادا جان سے بات کرنی پڑے گی ۔
وہ شاید کمرے سے باہر جانا چاہتی تھی لیکن خداش اسے خود سے دور نہیں کرنا چاہتا تھا اس وقت اسے اس کی ضرورت تھی ۔
دیشم۔ ۔۔۔۔” مت جاؤ پلیز میرے پاس رہو۔ اس نے اس کا ہاتھ اپنی مضبوط گرفت میں تھامتے ہوئے اسے روک لیا تھا ۔
آپ کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے خداش آپ کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے میں گھرمیں سب کو بتانے جا رہی ہوں تاکہ آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جایا جا سکے
اس طرح آپ کی حالت مزید بگڑ جائے گی اور پھر کل تو ریدم کی مہندی ہے آپ کو بہت ساری تیاریاں کرنی ہیں
آپ نے بیمار نہیں ہو سکتے وہ اسے سمجھارہی تھی لیکن خداش اسے جانے نہیں دینا چاہتا تھا ۔
مجھے کسی ڈاکٹر کی ضرورت نہیں ہے مجھے صرف تمہاری ضرورت ہے نہ جانے تم کب سمجھو گی
مجھے کب تمہیں احساس ہو گا کہ مجھے صرف اور صرف تمہاری ضرورت ہے ۔
کب سمجھو گی میری محبت کو دیشم کب تمہیں مجھ پر یقین آئے گا اسے اپنے قریب بٹھاتے ہوئے وہ اس کی گود میں اپنا سر رکھ چکا تھا ۔
کب تمہیں اس بات پر یقین آئے گا کہ میں محبت کی منزلیں طے کر کے اب عشق کے مقام پر آ پہنچا ہوں کب تمہیں یقین آئے گا کہ میں تمہیں بے پناہ چاہتا ہوں تم میری منزل ہو ۔
بچپن سے لے کر جوانی تک میں نے اپنی زندگی کا ایسا کوئی پل نہیں گزارا جس میں میں نے تمہیں نہ چاہا ہو تمہاری بدتمیزیاں اور بدلحاظیاں ہر چیز نظر انداز کرتے ہوئے صرف اور صرف اس دل کو تم سے محبت کرنے کی اجازت دی ہے ۔
تم کچھ بھی کرو تم سے محبت میں خداش کاظمی کبھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا تم میری جنونیت ہو ۔
خداش آپ کی طبیعت خراب ہے یہ وقت نہیں ہے ان سب باتوں کا میرے خیال میں آپ کو ڈاکٹر کی ضرورت ہے میری نہیں ۔اس کا جذبات لٹاتا انداز دیشم کو بری طرح کنفیوز کر رہا تھا ۔
وہ شخص اس پر ہر طرح کا حق رکھتا تھا لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس کی مرضی کے بنا اس کے قریب نہیں آتا تھا ۔
وہ اس کی طرف سے کسی طرح کی پیش قدمی کا منتظر تھا اگر وہ چاہتا تو لمحے میں اپنے حقوق لے سکتا تھا وہ صرف اور صرف اس کی مرضی کی خاطر خود پراپنے جذبات پر نہ جانے کتنے پہرے لگائے بیٹھا تھا ۔
میرا علاج صرف تم کر سکتی ہو ۔بس ایک ہی لمحے میں وہ اسے اپنے قریب کھینچتے ہوئے بیڈ پر گرا چکا تھا ۔اور پھر اگلے ہی لمحے اسے احتجاج کرنے کا موقع دیے بنا وہ اس کے دونوں بازو کو اپنے ہاتھوں میں قید کر چکا تھا اس کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے پھوٹتی گرمائش سے وہ اس کے بخار تیز ہونے کا اندازہ لگا سکتی تھی
خداش پلیز چھوڑ دو مجھے ۔۔۔۔”
یہ کیا ہوگیا ہے آپ کو پلیز پیچھے ہٹیں وہ مزاحمت کرنے لگی تھی ۔جب کہ اس کی گرم سانسوں کالمس اپنی گردن پر سرکتے محسوس کر کے اس کی روح فنا ہونے لگی تھی ۔اس کی دھڑکن تیز ہو گئی ۔
خداش۔ ۔۔۔” پلیز ۔۔۔وہ اسے خود سے دور کرنے کے ناکام کوشش کر رہی تھی اس کے دونوں ہاتھ اس کے ہاتھ میں قید تھے ۔
خداش پلیز چھوڑ دیں مجھے اس کا ہاتھ اپنی کمر پر محسوس کرتے ہوئے وہ تڑپ کر اسے دھکا مار گئی تھی ۔
خداش بےیقینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسے اس سے اس چیز کی امید ہرگز نہ تھی اسے خود سے دور کرنا چاہتی تھی لیکن کیوں ۔۔۔۔؟
وہ اس کی تھی صرف اور صرف اسی کا حق تھا اس پر تو کیوں وہ اسے خود سے دور کرتی تھی کیوں وہ اس رشتے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتی تھی
میں تم سے محبت کرتا ہوں دیشم میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتا وہ تھک ہار کر اس سے اپنی محبت کا اظہار کر رہا تھا وہ پہلے بھی ہزار بار احساس دلایا چکا تھا لیکن اب وہ سچ مچ میں اس کے ساتھ زیادتی کر رہی تھی ۔
لیکن میں نہیں کرتی آپ سے محبت اور یہ بھی جانتی ہوں کہ آپ کے دل میں بھی میرے لیے کوئی محبت نہیں ہے میرے ساتھ یہ رشتہ مکمل کرنے کے بعد آپ مجھے بے بس کر دینا چاہتے ہیں
آپ چاہتے ہیں کہ سب کی طرح میں بھی منہ بند کر کے بیٹھ جاؤں ۔آپ چاہتے ہیں کہ میں بھی آپ کی حکم کے غلام بن جاؤں ۔آپ کی ہوس کا سامان بن کر آپ کے بچے پیدا کروں۔ اور میں بھی حرم کا ذکر نہ کروں
اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کا قتل کر دیا آپ نے اور آپ آپ جانتے ہیں میں اس کے لئے کبھی آپ کو معاف نہیں کر سکتی اسی لئے میرے ساتھ اس طرح کا تعلق بنا کے آپ چاہتے ہیں کہ میں خاموشی اختیار کر لو
یہ آپ کی محبت نہیں ہوس ہے ۔محبت کے نام پر آپ مجھے استعمال کرنا چا ۔۔۔۔۔۔۔” وہ اور بولنا چاہتی تھی کہ اگلے ہی لمحے خداش نےاس تیزی سے خود سے دور پھینک دیا جیسے وہ کوئی اچھوت ہو اس کی آنکھوں میں جلن ہورہی تھی ۔بخار اور غصے کی شدت سے اس کی آنکھیں حددرجہ سرخ ہو رہی تھی
دفع ہو جاؤ یہاں سے اور آج کے بعد مجھے یہ شکل مت دکھانا ۔ نکل جاو یہاں سے اپنی محبت کو استعمال کرنا مجھے نہیں آتا تھا دیشم تمہیں لگتا ہے کہ اپنے مطلب کے لئے میں تمہارے جسم کو یوز کروں گا ۔
اور کیا کہا تم نے کہ تم میرے سامنے بے بس نہ ہو اس لیے میرے ساتھ یہ تعلق نہیں بنانا چاہتی تو یہ جو تم سر اٹھا کراور اتنی اکڑکر کھڑی ہونا یہ بھی میری ہی دی ہوئی چھوٹ ہے اوقات کیا ہے تمہاری دیشم کاظمی ایک لمحے میں مسل کر رکھ سکتا ہوں تمہاری ذات کو لیکن خداش کاظمی تمہیں اپنی محبت سے جیتنا چاہتا تھا
اب تک میں تم سے اس رشتے کو مکمل کرنے کی ڈیمانڈ اس لیے نہیں کر رہا تھا کیونکہ مجھے لگتا تھا کہ تم مجھے سمجھو گی میری محبت کو سمجھو گی
مجھے لگتا تھا میری دیوانگی میرا جنون تمہیں میرا کر دے گا لیکن میں غلط تھا بہت غلط تھا میں ۔میں اپنے جذبات تم جیسی لڑکی پر ضائع کر رہا تھا اور لعنت ہے مجھ پر
ارے جاؤ خداش کاظمی آج سے ابھی سے اپنے دل سے تمہارے لیے آئی ہر حسرت کو دفناتا ہے
تم جو کر سکتی ہو وہ کرو میں نے کہا تھا پچھتاؤ گی تم اب تمہارے پچھتانے کا وقت آگیا ہے ۔تمہیں خداش کاظمی کی محبت نہیں چاہیے تو جاؤ دفع ہو جاؤ یہاں سے آج سے مجھے بھی تمہاری ضرورت نہیں ۔
وہ اس ہاتھ پکڑتے ہوئے اس نے اسے کمرے سے دھکا دے کر باہر نکال چکا تھا طلاق چاہیے تھی نہ تمہیں مجھ سے جاؤ جا کر دادا جان کو کہہ دو کہ میں تمہاری بات ماننے کو تیار ہوں
مجھے لگا تھا میں تمہاری ہر خواہش پوری کر سکتا ہوں لیکن یہاں آکر میں بےبس ہو جاتا تھا لیکن اب تمہاری یہ خواہش بھی پوری ہوگی ۔آج سےمیں نے تمہاری آرزو اپنے دل سے مٹا دی ہے ۔جاو دیشم کاظمی تم ایڑیاں رگڑتے آؤ گی تب بھی خداش کاظمی تمہیں کبھی قبول نہیں کرے گا ۔
میری محبت کو ہوس کا نام دے کر تم نے اپنا مقام کھو دیا اب سے تم بھی میرے لیے خاص نہیں بہت عام ہو گئی ہو
“۔۔۔۔بہت عام ہوتم ۔۔۔”
تم دیشم خداش کاظمی ۔بلکہ نہیں تم جیسی لڑکی کے ساتھ میں اپنا نام لگانا بھی پسند نہیں کرتا تم کل بھی وہی تھی اور آج بھی وہی ہو ۔
وہ غصے سے کہتا اس کے منہ پر دروازہ بند کر چکا تھا جب کہ وہ کتنی ہی دیر کھڑی اس بند دروازے کو دیکھتے رہی۔نہ جانے کیوں اس کے دل کو عجیب سی بے چینی ہونے لگی تھی وہ خداش کاظمی سے ایسی امید نہیں رکھتی تھی وہ اسے اپنے کمرے سے دھکے مار کر نکال رہا تھا
اور جلد ہی اسے اس کی مرضی کا فیصلہ بھی سنانے والا تھا اسے خوش ہونا چاہیے تھا کہ وہ خود ہی ایک فیصلے پر آ پہنچا تھا لیکن نجانے کیوں اسے کسی طرح کی خوشی نہیں ہورہی تھی بلکہ وہ اپنے اندر خالی پن سا محسوس کر رہی تھی
لیکن جو بھی تھا وہ حرم کے قاتل کے ساتھ ساری زندگی نہیں گزار سکتی تھی آج نہیں تو کل وہ اسے طلاق کے لیے مجبور کر دینے والی تھی اچھا ہے کہ اس نے خود ہی کوئی نہ کوئی فیصلہ کر لیا اور اس کے لئے بھی آسانی کردی ۔
اب مجھے کسی بھی معاملے میں اس کی پابند نہیں رہے گی
°°°°°°
وہ اپنے کمرے میں آکر سونے کی کوشش کرنے لگی لیکن نیند اس سے کوسوں دور تھی خداش کی باتیں یاد کرتے وہ مسلسل کروٹیں بدل رہی تھی
اس کی طبیعت خراب تھی ہو سکتا ہے اس نے طبیعت خرابی میں بیزاری کی وجہ سے وہ سب کچھ بول دیا ہو لیکن وہ اتنی حد تک تو پھر بھی نہیں جا سکتا تھا
اگر وہ اس سے سچی محبت کرتا تھا تو وہ طلاق کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن اس نے اپنے الفاظ پر غور کیا تھا اس نے بہت شرمناک باتیں کی تھیں اس کے سامنے
کوئی بھی مرد اپنی ذات پر ایسا الزام برداشت نہیں کر سکتا اور وہ تو اس کی بیوی ہو کر اسے ہوس پرست کہہ رہی تھی ۔
اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے بہت غلط الفاظ کا استعمال کیا تھا لیکن جب وہ حرم کے بارے میں سوچتی تھی تب اسے اپنی باتیں ٹھیک لگتی تھی وہ اپنی بہن کا قتل کرکے اس حد تک پرسکون تھا ۔اسے احساس تک نہ تھا اس کا وہ اس کی لاڈلی تھی اسے دیکھے بنا وہ کھانا نہیں کھاتا تھا اور وہ اتنا بڑا قدم اٹھا گیا تھا
وہ ایک معصوم لڑکی کی جان لے کر آزاد گھوم رہا تھا تو وہ اسے کچھ بھی کیوں نہ کہتی ۔اسے حرم کو انصاف دلانا تھا اس کے قاتلوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانا تھا اسے حرم کے قاتل سے نفرت محسوس ہوتی تھی بے شک وہ اس کا شوہر تھا ۔
لیکن تھا تو ایک قاتل ہی اور اس کا ضمیر اسے ایک قاتل سے کسی طرح کی ہمدردی کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا ۔
°°°°°°
دیشم بیٹا خداش کیسا ہے صبح اس کی آنکھ کھلی تو وہ فریش ہوکر باہر آگئی تھی جہاں ہر کوئی کسی نہ کسی کام میں مصروف تھا گھر میں شادی ہونے کی وجہ سے اس نے بھی آہستہ آہستہ ہی سہی لیکن کاموں میں حصہ لینا شروع کر دیا تھا ۔
وہ ملازم سے کچھ چیزیں اوپر نیچے کروا رہی تھی جب تائی امی نے آ کر اس سے پوچھا ۔
مجھے نہیں پتہ تھا تائی امی رات کو تو انکی طبیعت کافی زیادہ خراب تھی لیکن ابھی کا میں نہیں جانتی آپ خود ایک بار انہیں دیکھ آتیں تو بہتر تھا اس نے بات گھما پھرا کر کی تھی ۔
تم ٹھیک کہہ رہی ہو میں خود ہی دیکھ کر آتی ہوں اسے وہ کہتے ہوئے اوپر کی طرف جانے لگی جب وہ سیڑھیوں سے اترتے نظر آیا
خداش میری جان تمہاری طبیعت بہت زیادہ خراب ہے تمہیں بستر سے نہیں نکلنا چاہیے تھا ۔
ہلکا سا بخار ہے اتنی بھی طبیعت خراب نہیں ہے کہ بستر پکڑ کر بیٹھ جاؤں اور یہ سارا کچھ میرے ذمے ہےبہت کچھ کرنا ہے مجھے اگر میں ہی بستر سے لگ گیا تو یہ سارا کام کیسے ہوگا ۔۔۔؟
آپ بالکل بے فکر ہو جائیں اور کچن میں جا کر میرے لیے پڑاٹھا بنا دیں تب تک میں کام کرتا ہوں وہ محبت سے ان سے فرمائش کرتے ہوئے تیزی سے نکل گیا تھا اس نے شاید اسے کھڑے دیکھا ہی نہیں تھا ۔تبھی تو اس نے اس کی طرف دھیان نہ دیا ۔
تائی امی آپ آرام کریں میں پراٹھے بنا دیتی ہوں۔
نہیں میری جان اس نے بہت دنوں کے بعد مجھ سے کہا ہے شاید اسے میرے ہاتھ کا کھانا ہوگا تم اپنی تیاری کرو تھوڑی دیر میں رسم شروع ہو جائے گی ۔محبت سے اسکا گال چھوتے ہوئے کچن کی طرف چلی گئی تھی جب کہ وہ بھی تیار ہونے چلی گئی۔
°°°°°°°
ائرپورٹ میں قدم رکھتے ہی اسے یقین آ گیا تھا کہ وہ اپنے ملک پہنچ چکی ہے ۔وہ اتنی زیادہ خوش تھی کہ کوئی انتہا نہ تھی۔جبکہ وہ مسلسل اس کے چہرے پر آئے رنگ دیکھ رہا تھا۔
اتنی خوش ہو کہ تمہیں یاد ہی نہیں کہ میں بھی یہاں ہوں۔وہ شکوہ کر گیا
ارے آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں ۔میں کیوں بھولوں گی آپ کو۔۔۔؟ آپ تو میرے شوہر سر ہیں
میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں قسمے آپ ورلڈ کے بیسٹ ٹیچر فرینڈ اور ہزبنڈ ہیں۔
آئی لو یو ۔وہ اس کے بازو کو پکڑکر جو منہ میں آیا بول گئی۔
پیار کون سا والا کرتی ہو۔۔۔۔۔؟کے انداز پر متجسس ہو کر پوچھنے لگا
کون سا والا پیار کا کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔۔؟وہ کنفیوز ہو گئی تھی
صاف مطلب ہے میرا میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے کونسے والا پیار کرتی ہوہسبنڈ والا ٹیچر والا یادوست والا
تینوں۔۔۔ وہ اس کے سوال کو سمجھتے ہوئے فوراً بولی تھی ۔
تو پھر کھاؤ میرے سر کی قسم کے حالات جیسے بھی ہوں تم مجھ سے دور نہیں جاؤگی وہ اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ تھام کر اسی کا کھیل اسی پر الٹنے لگا
ویسے میں قسم پر یقین نہیں رکھتی قسم دینا اچھی بات نہیں لیکن پھر بھی میں آپ کے سر کی قسم کھاتی ہوں کہ میں حالات جیسے بھی ہوں کبھی بھی آپ سے دور نہیں جاؤں گی ۔
آپ مجھ پر یقین کر سکتے ہیں ۔
وہ مسکراتے ہوئے بولی تو اس کی مسکراہٹ پر یقین کرتے ہوئے وہ بھی مسکرا دیا تھا
°°°°°°°
تم اس بلی کو کپڑے کیوں پہنا رہی ہو ۔۔۔؟
دیدم بڑی مشکل سے آج کافی دنوں کے بعد اس کے کمرے میں آئی تھی وہ بھی تائی جان کے مجبور کرنے پر ۔۔
کیٹی۔ ۔۔۔۔!اس نے ایک لفظی جواب دیا تھا جسےدیدم ہر گز سمجھ نہ پائی تھی
کیا مطلب ہے تمہارا میں تم سے پوچھ رہی ہوں کہ تم اس بلی ۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے کیٹی کو کپڑے کیوں پہنا رہی ہو اس کے ہاتھ میں چمکتا چاقو دیکھ کر اس نے فوراً اپنی بات بدلی تھی اس کی بات کو سمجھ گئی تھی ۔
تاکہ میری جان میری شادی پر بہت پیاری لگے چلو کیٹی بے بی اب ہمیں پارلر بھی جانا ہے ۔
وہ مسکرا کر کہتی نیچے کی طرف جانے لگی تھی جب کہ دیدم یہ سوچتے ہوئے اس کے پیچھے آئی تھی کہ وہ اپنی بلی کا کیا کروانے والی تھی ۔
°°°°°°
دیشم میرا بچہ تم بھی چلی جاتی پارلر اچھے سے تیار ہو کر آ جاتی لوگ بھی آنا شروع ہوگئے ہیں
تائی امی نے اسے سادگی سے گھر میں ہی تیار ہونےکےبعد کام میں مصروف دیکھ کر کہا ۔
نہیں تائی امی میں کل جاؤں گی پارلر آج تو بالکل ٹائم نہیں ہے کام بہت زیادہ تھا اور سارے ہی چلے گئے ہیں ۔گھر میں کسی کا تو ہونا ضروری ہے اتنے سارے مہمان آ رہے ہیں ۔وہ انہیں مطمئن کرتے ہوئے ملازموں سے باقی کام کا کہنے لگی تھی جب اس کا دھیان خداش کی طرف گیا ۔
وہ اسے اس حد تک نظر انداز کر سکتا تھا اس بات کا اندازہ اسے اب ہوا تھا کل اس نے اس کے سامنے بہت بری باتیں کی تھیں اور اسے اس بات کا احساس ہو گیا تھا ۔
جو بھی تھا اسے اس کے کردار پر انگلی اٹھانے کا کوئی حق نہیں تھا اس کے پاس آنے کے لیے اگر اس کی اجازت کا منتظر تھا یہ بھی اس کا احسان تھا وہ اس پر حق جتاسکتا تھا اس کے ساتھ جو چاہے کرسکتا تھا ۔لیکن اس نے کبھی بھی اس کی مرضی کے خلاف اس کی طرف پیش قدمی نہ کی تھی
وہ اسے سوری بولنے کا سوچتے ہوئے اس کی طرف جانے لگی تھی جو بھی تھا لیکن اس کے الفاظ غلط تھے وہ اسی احساس کے تحت اس کی طرف قدم بڑھا رہی تھی جب اچانک ہی خداش کو پیچھے سے آواز سنائی دی
ویرو۔۔۔۔۔وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی آ کر اس سے لپٹ گئی تھی جبکہ اسے اپنے سینے سے لگاتا خداش جی اٹھا تھا
°°°°°°
