Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 95)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 95)
Junoniyat By Areej Shah
شوہر سر آپ بہت اچھے ہیں آپ نے دادا جان کا اتنا خیال رکھا ان کے لیے کھانا بنایا ان کے پاس بھی رہے ان کو میڈیسن بھی دی آپ بہت اچھے ہیں آئی لو یو ۔
تمہیں مجھ پرصرف تب پیار آتا ہے جب میں تمہارے لیے کچھ نہ کچھ کرتا ہوں ویسے نہیں آتا جب میں تمہیں باہر جانے کی اجازت دیتا ہوں تب تم مجھ سے پیار جتاتی ہو۔ جب میں تمہارے لئے کچھ لاتا ہوں تب تم مجھ پر پیار جتاتی ہو
ویسے ہی نہیں آتا یوہی بیٹھے بیٹھے تمہیں کبھی مجھ پر پیار نہیں آیا اور میں ہوں جو زندگی کے ایک ایک پل ایک ایک لمحے میں تمہیں چاہتا ہوں ۔
نہیں ایسا تو نہیں ہے میں تو آپ سے سچی میں بہت پیار کرتی ہوں ہر وقت آپ کو ایسا کیوں لگا وہ اپنے جھمکے اتار کر وہی ٹیبل پر رکھتی چینج کیے بنا ہی اس کے پاس بستر میں آ کر گھس گئی تھی ۔
کیونکہ تم ایسے ہی تو مجھے بتاتی ہی نہیں صرف تب ہی بتاتی ہوجب میں تمہارے لئے کچھ کرتا ہوں اس کی کمر کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے اس نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا ۔
ہاں یہ تو میں نے کبھی سوچا ہی نہیں۔یہ تو بہت غلط بات ہے نا مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے اس طرح سے تو آپ کو لگے گا کہ میں صرف اپنے مطلب کے لئے آپ سے پیار کرتی ہوں
لیکن ایسا نہیں ہے سچی آپ بتائیں میں آپ کو کیسے بتاؤں کہ میں آپ سے پیار کرتی ہوں ۔
اپنے اسمارٹ دماغ کا استعمال کرتے ہوئے وہ اسی سے سوال کرنے لگی تھی اب اسے ثابت تو کرنا ہی تھا کہ وہ اس سے پیار کرتی ہے ورنہ وہ کچھ بھی سمجھ سکتا تھا ۔
یہ تو تم سوچو کہ تم مجھے کیسے بتاؤگی ابھی تو مجھے نیند آرہی ہے اور تیار رہنا یاد ہے نا کل ڈیٹ پر جانا ہے ۔وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے اسے یاد کروایا گیا تھا
ہاں کل ڈیٹ پر جانا ہے اور کل ڈیٹ پر میں آپ کو بتاؤں گی کہ میں آپ سے اتنا پیار کرتی ہوں اس نے جیسے چیلنج دیا تھا ۔یشام نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا ۔جب کہ وہ اب یہ سوچ رہی تھی کہ وہ ایسے کیسے بتائےگی
°°°°′
کیا بات ہے میری خونخوار بلی کا موڈ خراب ہے ۔خداش فجر کی نماز پڑھ کے واپس گھر آیا تو اسے بیڈ پر اداس بیٹھے دیکھا ۔
میں رات سے آپ سے بات کرنا چاہتی تھی شکر ہے آپ مجھے میسر تو ہوئے ۔
جان من ہم تو صرف آپ کو ہی میسر ہیں۔حکم کریں ہم آپ کے لئے کیا کر سکتے ہیں اس کے لبوں کو چومتے ہوئے وہ اسے اپنی دھڑکنوں کے ساتھ لگاتا اپنی من مانی پر اتر آیا تھا ۔
خداش مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے ۔وہ بے چینی سے اس کی گرم سانسوں کو خود سے دور کرتے اس کا چہرہ تھام چکی تھی ۔
تو تم کرو اپنی ضروری بات مجھے بھی ضروری کام کرنا ہے اس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں قید کرتے ہوئے وہ اپنا چہرہ اس کی گردن میں چھپاتا جابجا اپنے لبوں کا لمس چھوڑنے لگا ۔
ایسے کیسے کروں بات آپ تو مجھ پر دھیان ہی نہیں دیتے ۔دیشم شکوہ کر گئی ۔خداش نے حیرانگی سے اس کے سرخ چہرے کو دیکھا ۔
آپ کے چہرے کی رونق ہمی سے ہے محترمہ ۔یہ حسین رنگ و روپ ہم نے ہی بخشےہیں آپ کے حسین سراپے کو آپ ایسا کیسے کہہ سکتی ہیں کہ ہم آپ پر دھیان نہیں دیتے ہمارا تو ایک ایک پل آپ کی یاد میں گزر جاتا ہے ۔
اسے اپنے قریب کرتے ہوئے وہ مکمل اس سے قید کرتا جا رہا تھا ۔
گھر میں آپ کی دوسری شادی کی تیاری چل رہی ہے ۔اور آپ کا رومانس ختم نہیں ہو رہا ۔وہ اس اس کے بےباک لبوں پر ہاتھ رکھتی اسے بہت پتے کی بات بتا رہی تھی
دیشم گھر میں کوئی شادی نہیں ہورہی میری دوسری تو ہرگز نہیں ہورہی تم بیکار میں تمہیں پریشان ہو ۔
تم میری بیوی ہو میں تم سے پیار کرتا ہوں میں دوسری شادی کیوں کروں گا دماغ خراب ہے تمہارا ۔
کیوں فضول کی باتیں سوچ سوچ کر اپنا اور میرا یہ خوبصورت وقت برباد کر رہی ہو آج بہت ضروری کام کے سلسلے میں جانا ہے مجھے اور تمہارے ساتھ یہ وقت گزار کر میں آرام سکون سے کوئی اور ٹیشن نہیں پالنا چاہتا اسی لئے اب مجھے تمہاری آواز نہ آئے ۔
لیکن سب لوگ کہہ رہے ہیں دیدم کی شادی ہو رہی ہے اور سب لوگ آپ کے لئے بہترین بیوی ۔۔۔۔
میں کوئی بچہ ہوں جو کسی کے بھی کہنے پر دوسری شادی کر لوں گا دیدم کی شادی ہو رہی ہے۔
ہونے دو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ گھر میں شادی کا ماحول ہونے والا ہے ۔اور ویسے بھی جلد ہی ممکن ہے کہ وہ اس گھر سے بھی چلی جائے تو تمہارا سب سے بڑا مسئلہ تو اس کے جانے سے ہی حل ہو جائے گا نہ جلن کا ۔
اس نے شرارت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو دیشم نے اسے گھورا تھا جس پر غور اپنے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے وہ اس کے چہرے پر جھک گیا ۔
میں اس سے نہیں جلتی اس میں ایسا کچھ نہیں ہے جس سے مجھ میں جلن پیدا ہو اور وہ آپ کو دیکھتی ہے تو مجھے اچھا نہیں لگتا آپ تو صرف میرے ہو نہ وہ کیوں دیکھتی ہے آپ کو ۔۔۔۔۔؟وہ منہ بسور بڑے لاڈ سے اس کا پیار سب نے گردن پر وصول کر رہی تھی۔
خود دیکھتی نہیں ہو کسی کو دیکھنے نہیں دیتی بیوی تم نے بڑا حال بگاڑ رکھا ہے میرا ۔
دیکھتی ہوں تو آپ کی نیت خراب ہو جاتی ہے نہ دیکھنا بہتر ہے میری معصوم جان کے لیے ۔وہ ہنستے ہوئے اسے چرانے لگی ۔
تمہاری معصوم جان کی تو ایسی کی تیسی یہ کیس ختم ہو جائے تو کہیں گھومنے چلیں گے۔
اس نے فیصلہ سنایا تھا ۔
جی نہیں میں دوبارہ یونیورسٹی جوائن کروں گی ۔آپ نے وکالت شروع کی ہے تومیں پیچھے کیوں رہوں آپ کے خلاف کیس لڑا کروں گی ہائے کتنا مزا آئے گا نہ ہم عدالت میں بحث کیا کریں گے ۔وہ ابھی سے ہی فیوچر کے بارے میں سوچ کر کافی زیادہ اکسائیڈ ہو رہی تھی ۔
جب کہ خداش یہ یہ سوچ رہا تھا کہ وہ اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے وکیل بننا چاہتی ہے یہ اس سے لڑنے کے لیے
°°°°°°°
کیٹی ادھر نیچے مت جانا پہلے بھی تمہاری وجہ سے میں نے جنگل میں رات گزاری تھی خود تو میڈم واپس آ گئی اور مجھے اس آدمی کے ساتھ لگا دیا ۔
کیا میری تعریف ہورہی ہے وہ شاید اس کے پیچھے پیچھے ہی آ رہا تھا ۔
میں نے تم سے کہا تھا کہ میں گھومنے جانا چاہتی ہوں تمہارے بنا تم پھر بھی میرے پیچھے آگئے حد ہوتی ہے چپکو پونے کے بھی ۔وہ منہ بنا کر بولی
چپکو پانے ۔۔۔۔۔۔”اس نے اس لفظ کے مطلب کو سمجھنا چاہتا تھا
ہر وقت آگے پیچھے لگے رہنے کو کہتے ہیں اس نے برسات الفاظ میں مطلب بتایا تھا جس پر وہ سمجھنے والے انداز میں ہاں میں سر ہلا گیا ۔
ٹائیگر اپنی بہن کا خیال رکھنا میں تمہاری ممی کو گھما کر لاتا ہوں ۔اس نے ٹائیگر کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جب اگلے ہی لمحے ٹائیگر کیٹی کو پٹے سے پکڑ کر بھاگ نکلا جبکہ ریدم تو چلاتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگی تھی لیکن وہ پہلے ہی اس کا ہاتھ تھام کر اسے پہاڑی سے نیچے جانے والے رہ کی طرف لے آیا
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ کمینے انسان تمہارا وہ کتا میری کیٹی کو کھا جائے گا ۔
ارے کچھ نہیں ہوتا تمہاری کیٹی کو میرا ٹائیگر اپنی بہنوں کی طرح اس کا خیال رکھتا ہے ۔ہمارا رشتہ تو تم سدھرنے دے نہیں رہی ان دونوں کا تو سدھرنے دو ۔وہ التجائیں انداز میں بولا تھا
میرا ہاتھ چھوڑ دو مجھے تمہارے ساتھ گھومنے نہیں جانا وہ اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے بولی تھی ۔
بس کرو یار کب تک یہ سب کچھ چلتا رہے گا میرے خیال میں اب بہت ہو چکا ہے ہمیں اپنے رشتے کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔وہ تنگ آ کر بولا تھا اس کا اس طرح سے ہاتھ چھڑا کر دور جانا اسے اچھا نہ لگا تھا ۔
ہمارے بیچ کبھی کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا شائزم شاہ کیوں کہ میں تمہیں کبھی بھی قبول نہیں کرنے والی سمجھے تم اور اب میرے پیچھے مت آنا میں اپنا خیال خود رکھ سکتی ہوں۔
وہ غصےسے کہتی پہاڑی راستے سے نیچے کی طرف جانے لگی تھی جب کہ وہ بھی اسے تھوڑا وقت اکیلے دینے کا سوچتا واپس اوپر ہوٹل کی طرف جانے لگا ۔
°°°°°°°
وہ نیچے کی طرف جاتے یہ سوچ رہی تھی کہ وہ کس طرف جائے جب اسے احساس ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی آرہا ہے اس نے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا پر غصہ آیا وہ اس کا پیچھا کر رہا تھا
شائزم شاہ تم اس قابل ہو ہی نہیں کہ تم پر اعتبار کیا جا سکے میں نے کہا میں اکیلی جانا چاہتی ہوں تو تمہیں سمجھ میں نہیں آ رہا کیوں آ رہے ہو میرے پیچھے واپس جاؤ ۔
اب تم سے شادی کر لی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ تم ہر وقت میرے سر پر سوار رہو گے زہر لگتے ہو ایسی حرکتیں کرتے ہوئے چھچھورے عاشق نہ ہو تو وہ غصے سے کہتی آگے بڑھنے لگی تھی جب کہ اسے پیچھے سے کوئی آواز نہ آئی تو اسے یہی لگا کہ وہ واپس جا چکا ہے ۔
نیچے کی طرف کوئی بھی نہیں تھا بس ایک آبشار بہہ رہی تھی ۔جیسے اس پہاڑی اور خاص کر اس ہوٹل کی خوبصورتی کی وجہ کہا جائے تو غلط نہ تھا
وہ جب پچھلی دفعہ یہاں آئی تھی تب اس طرف بہت سارے لوگ سیر و تفریح کے لیے آئے تھے لیکن آج شاید سب کو ہی سردی لگ رہی تھی ۔
ریدم مسکراتی ہوئی اس آبشار کو دیکھنے لگی تھی وہ بے حد حسین تھی کوئی بھی اس نظارے کو دیکھتا تواس کے حسن میں کھو جاتا ۔
اس خوبصورت نظارے کو دیکھتے ہوئے اپنے آپ ہی اس کے چہرے پر مسکان آ گئی تھی جب اچانک اسے اپنے پیچھے کوئی محسوس ہوا اس نے ایک لمحے میں ہی سوچ لیا تھا کہ وہ کون ہو سکتا ہے اس نے مڑ کر دیکھا تو شائزم نہیں تھا بلکہ کوئی شخص تھا جس نے چہرے پر ماسک پہن رکھا تھا
یہ کون تھا وہ ہرگز نہیں جانتی تھی لیکن اس کے ہاتھ میں موجود چاقو اس بات کا گواہ تھا کہ وہ اس کا دوست یا ہمدرد ہرگز نہیں تھا اس نے چاقو کو اٹھایا اور اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی ریدم کی چیخ پورے جنگل میں گونجی تھی
اس شخص کو پیچھے دکھا دیتے ہوئے اپنی جان بچانے کی خاطر وہ اوپر کی جانب بھاگ گئی تھی وہ جتنا ہو سکے اتنی تیزی سے بھاگ رہی تھی ۔جب شائزم تیزی سے اپنی طرف بھاگتے ہوئے آتا نظر آیا وہ اگلے ہی لمحے اس کے ساتھ جا لگی تھی
شائزم۔۔۔۔وہ آدمی مجھے مارنا چاہتا ہے وہ ہپتے ہوئے اس سے کہہ رہی تھی جب کہ وہ پریشانی سے اس کی حالت دیکھ رہا تھا ۔
کیا کون تھا بتاؤ مجھے ۔۔۔۔ریدم پلیز میں ہوں یہاں وہ پریشانی سے اس سے پوچھ رہا تھا جبکہ ٹائیگر وہاں جا کرہر طرف دیکھ رہا تھا لیکن وہ مایوس ہی لوٹ کر واپس اوپر کی جانب آنے لگا ۔
کون تھا بولو۔۔۔۔۔۔ ریدم بتاؤ مجھے کیا تم جانتی ہو اسے کیا کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔؟
کیوں آیا تھا بتاؤ مجھے۔اور یہ چوٹ کیسے لگی تمہیں اس نے اس کے بازو سے بہتے خون کو دیکھ کر پوچھا تھا جہاں پر چھری سے وار کیا گیا تھا ۔
سردار۔۔۔۔سردار تھا ۔۔۔۔۔وہ سردار تھا شائزم ۔۔۔وہ سردار ہی تھا میں اسے پہچان سکتی ہوں اس نے میرے بابا کو مارا میری ماما کو میری آنکھوں کے سامنے مارا وہ وہی تھا ۔وہ مجھے بھی مارنے آیا تھا وہ مجھے بھی مار ڈالے گا۔
کچھ نہیں ہوگا تمہیں کوئی تمہیں کچھ نہیں کر سکتا میں تمہارے ساتھ ہوں وہ اسے اپنے ساتھ لگائے واپس اوپر کی طرف جانے لگا تھا اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا اس کی حالت بگڑرہی تھی ۔
°°°°°°
کمرے میں آنے کے بعد بھی اس کی حالت نہ سنبھلی تھی اسے بیڈ پر لیٹاتے ہوئے وہ اس پر کمبل ڈال چکا تھا وہ اسے اپنے قریب سے اٹھنے نہیں دے رہی تھی
اس کاڈر وہ بہت اچھے طریقے سے سمجھ چکا تھا وہ موت کے منہ سے واپس آئی تھی اگر وہ شخص اس کے چیخنے سے پہلے ہی اس پر وار کر دیتا تو کیا ہوتا وہ اسے کھونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا
ابھی تو وہ ٹھیک سے اپنی محبت کو حاصل تک نہ کر پایا تھا کون تھا وہ شخص جس نے یہ حرکت کی تھی کون تھا یہ سردار یہ تو اسے تب ہی پتہ چل سکتا تھا جب ریدم ریلیکس ہوتی اور ریدم کو ریلیکس کرنا اس وقت اس کے لئے کافی مشکل تھا وہ اتنی زیادہ ڈری ہوئی تھی کہ اب تک کانپ رہی تھی ۔
ریدم پلیز تم ڈرو مت میں تمہارے ساتھ ہوں میرے ہوتے ہوئے تمہیں کچھ نہیں ہو سکتا ۔میں تمہارے پیچھے ہی آ رہا تھا پھر سوچا ٹائیگر اور کیٹی کو دیکھ لیتا ہوں ۔تمہیں تھوڑی دیر اکیلے وقت دینے کے بارے میں سوچ کر میں نے غلطی کی تھی مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا
لیکن اب آئندہ ایسی کوئی غلطی نہیں کروں گا تم ہمیشہ میرے پاس رہو گی ۔ہم صبح ہوتے ہی پولیس میں رپورٹ کریں گے ۔اگر اس آدمی کا تعلق یہاں کہیں سے بھی ہوا تو پولیس اسے گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے گی
وہ اسے پیار سے سمجھاتے ہوئے کہہ رہا تھا لیکن ریدم تو اسے کچھ اور ہی بتا رہی تھی
وہ سردار تھا میں جانتی ہوں اسے میں اسے پہچانتی ہوں۔وہ ہزار نقاب پہن کر آئے میں پھر بھی اسے پہچان لوں گی ۔اس نے میری آنکھوں کے سامنے میرے ماں باپ کا قتل کیا تھا انہیں دھوکے سے اپنے ساتھ لے کر آیا تھا ۔
وہ جانتا ہے میں اسے پہچانتی ہوں اسی لیے وہ مجھے مارنے آیا تھا وہ مجھے مار ڈالے گا میں جانتی ہوں وہ مجھے مار ڈالے گا شائزم پلیز تم مجھ سے دورنہیں جانا
وہ اس کے سینے سے لگتی اس کی منتیں کر رہی تھی جب کہ وہ تو خود بھی اس سے کہاں دور جانا چاہتا تھا اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اس کے سرد پڑتے جسم کو سہلانے لگا تھا ۔
اس کا ڈر کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا جس کی وجہ سے اس کی حالت بگڑتی جا رہی تھی ۔
میں کہیں نہیں جاؤں گا تم سے دور تم ریلکس ہو جاؤ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے اس نے اس پر ٹھیک سے کمبل اڑیا تھا
°°°°°°°°°
ہمیں یقین نہیں آرہا خداش ایسا کر سکتا ہے وہ ہمارے خلاف کیس لڑ رہا ہے وہ بھی اس آدمی کے حق میں جس نے ہمارے پوتے کا قتل کیا
وہ بے حد غصہ میں تھے تھوڑی دیر میں کورٹ کی کارروائی شروع ہونے والی تھی جب انہیں پتہ چلا تھا کہ ارحم کا کیس خداش کے ہاتھ ہے ۔
دادا جان پلیز آپ پریشان مت ہوں آپ اتنی زیادہ ٹینشن کیوں لے رہے ہیں کچھ نہیں ہوگا اور ویسے بھی اگر خداش نے اس کیس میں ہاتھ ڈالا ہے تو ضرور اس کے پاس کوئی ثبوت ہو گا کوئی وجہ ہوگی ورنہ وہ کہاں انٹرسٹ لیتا ہے ۔
اور اب تو ہمارا اس کے ساتھ فیملی رلیشن ہے ہم بگاڑ نہیں سکتے زریام نے سمجھانے کی کوشش کی تھی
کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا اگر ان لوگوں کے ساتھ ہماری خاندانی تعلقات ہے تو ہم اس بات کو نظر انداز کر دیں کہ ہم نے اپنا پوتا کھویا ہے ۔
ہمارا پوتا مرا ہے زریام ہم اس بات کو بھول نہیں سکتے ہم کسی قیمت پر اپنے پوتے کے قاتل کو آزاد نہیں ہونے دے سکتے کس بنا پر خداش یہ کیس لر رہا ہے کیوں کر رہا ہے وہ ایسا جب کہ وہ جانتا ہے کہ وہ آدمی ایک قاتل ہے۔
جی بالکل شاہ صاحب آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں وہ آدمی قاتل ہے آپ کے پوتے کا قتل کیا ہے اس نے لیکن یوں ہی سزا سنا دینا انصاف تو نہیں پہلے ہمیں اس کے بارے میں سب کچھ پتہ تو کروانا چاہیے نا انہیں اپنے پیچھے سے خداش کی آواز سنائی دی تھی ۔
کیا کہنا چاہتے ہو تم کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہمارے پوتے کا قتل اس نے نہیں کیا یا وہ بے گناہ ہے کیوں لڑ رہے ہو تو یہ کیس جب کہ حقیقت سے تم بھی واقف ہو اس دن تمہارے ساتھ ہی اس نے گھوڑے کی ریس کی کی ناں ۔۔۔؟
جس میں وہ ہار گیا تھاپھر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ڈیرے پر گیا تھا وہ جہاں اس بدبخت نے ہمارے پوتے کی جان لے لی تھی ۔اور پھر بھاگ گیا اور آج اسے اس کے کیے کی سزا مل رہی ہے تو تم ہمارے بیچ آ رہے ہو ۔
شاہ صاحب میں آپ کے بیچ میں نہیں آرہا میں صرف اس کے حق میں دلائل دوں گا اگر میری بات آپ کو ٹھیک لگی تو ٹھیک ہے لیکن ایک طرفہ فیصلہ میں ہونے نہیں دے سکتا ۔
اسے غلطی ہوئی ہے جو وہ موقع واردات سے بھاگ گیا اس کے علاوہ اس نے اور کوئی غلطی نہیں کی اور یہ بات میں ثابت کروں گا ۔
باقی کچھ غلطیاں آپ کی طرف سے ہوئی ہیں۔ آپ نے ارحم کی بہن کو اپنے پوتے کے ساتھ ونی کیا ۔بے شک یہ نکاح تھا لیکن یہ ایک زور زبردستی کی شادی تھی اور میرا نہیں خیال کہ ہمارا قانون ہمیں ایسا کچھ بھی کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔
وہ زریام کو دیکھتے ہوئے بول رہا تھا ۔
کیا مطلب ہے تمہاری اس بکواس کا اس کیس میں کہیں پر بھی میری بیوی کا نام نہیں آنا چاہیے وہ اسے گھورتے ہوئے بولا تھا ۔
کیس کھل ہی گیا ہے تو اب سارے نام سامنے آئیں گے ۔لڑکی سے بھی اس کی مرضی پوچھی جائے گی اور اس زور زبردستی کے رشتے میں اس پر جو جو ظلم ہوئے ان سب کا حساب آپ کو دینا ہوگا ۔
ڈومیسٹک وائلنس کا کیس بن سکتا ہے ۔وہ ابھی بتا ہی رہا تھا جب پیچھے سے ایک آدمی کالے کوٹ میں آ کر اس سے کچھ کہنے لگا ۔
دادا جان تو غصے سے اندر کی طرف جا چکے تھے جبکہ ذریام اب تک اسے گھور رہا تھا اس کی گھوریوں کو نظر انداز کرتا خداش اپنا سارا دھیان پیپر کی طرف لگانے کی کوشش کر رہا تھا
لیکن ذریام کی نیلی آنکھوں کو اگنور کرنا اتنا آسان نہ تھا
تو مجھ پر ڈومیسٹک وائلنس کا کیس کرے گا ۔۔۔۔؟اس کے کالے کوٹ کو پکڑ کر اس نے اپنی جانب کھینچا تھا ۔
زاری یار کیا کر رہا ہے استری خراب ہو جائے گی ۔ یہ ساری حرکتیں نہ تو بھابھی کے ساتھ کیا کرمیں تیری بیوی نہیں ہوں۔اور یہ گھوریاں شوریاں بھی بھابھی پر ہی ڈالا کر مجھے فضول میں ڈرانے کی ضرورت نہیں ہے وہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتا اسے پیچھے کرتے ہوئے اندر چلا گیا تھا ۔
جب کے ذریام ہاتھ پر مکا اس کے پیچھے ہی آیا تھا
