65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 30)

Junoniyat By Areej Shah

فروٹ کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد وہ اپنا سفر دوبارہ شروع کر چکے تھے ۔

وہ کافی دیر بنا کچھ بھی بولے اس کے پیچھے پیچھے چلتی رہی تو اسے کچھ حیرت ہوئی وہ کچھ بول کیوں نہیں رہی تھی۔۔۔۔؟

وہ یہ اندازہ تو لگا چکا تھا کہ وہ بہت زیادہ باتونی لڑکی ہے اور بولے بنا نہیں رہ سکتی

کیا ہوا تم ٹھیک ہو نا کچھ بول کیوں نہیں رہی ‏طبیعت ٹھیک ہے نا تمہاری وہ تھوڑا فکر مند ہوتے ہوئے پوچھ رہا تھا

ہاں طبیعت تو ٹھیک ہے لیکن میرا گلا سوکھ رہا ہے مجھے پیاس لگی ہے وہ بڑے ہی معصوم انداز میں بولی تھی

بہت پیاری سی لڑکی تھی وہ اس وقت جتنی بڑی مصیبت میں پھنسی ہوئی تھی وہ کچھ بھی نہیں کہہ رہی تھی لیکن اتنا چلنے کے بعد پیاس لگنا بہت عام سی بات تھی ۔

پانی کس طرف ملے گا مجھے اندازہ نہیں اب تو ہم اس آبشار سے بھی بہت آگے نکل آئے ہیں تو پانی کا انتظام کہاں سے کر کے دوں ۔تم تھوڑی دیر صبر کر لو ہو سکتا ہے آگے کہیں سے پانی کا کوئی بندوبست ہو جائے ۔

وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو ریدم نے صرف ہاں میں سر ہلایا اور ایک بار پھر سے چلنے لگی ۔

تم بہت اچھے انسان ہو تم نے اس مصیبت میں میری مدد کی۔اگر تمہاری جگہ کوئی اور ہوتا تو میری مدد کبھی نہیں کرتا میں تمہیں اپنے نانا جان سے ملواؤں گی میرے نانا بہت اچھے ہیں مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں

وہ اس چیز کا ذکر نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن وہ خود ہی بتا رہی تھی تو وہ بھی بہت غور سے سننے لگا اور پھر دلچسپی سے پوچھنے لگا

تمہارے نانا ہیں اور تمہارے فیملی میرا مطلب ہے تمہارے والدین بہن بھائی ۔۔وہ بہت دلچسپی سے موضوع شروع کر چکا تھا جب کہ دادا جان کہہ چکے تھے کہ اس کے یہاں آتے ہیں وہ خود ہی اسے سب کچھ بتا دیں گے

لیکن شاید وہ اسی سے سب کچھ جاننا چاہتا تھا

میرے والدین نہیں ہیں میں چھوٹی سی تھی جب وہ انتقال کر گئےاور نہ ہی میرے کوئی بہن بھائی ہیں

نانا ہی ہیں صرف میرے اس دنیا میں جو مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں جب تم واپس ملو گے نہ میں تمہیں ان سے ضرور ملواؤں گی ۔

تم مجھے اپنا کانٹیکٹ نمبر ضرور دینا

ہاں ضرور کیوں نہیں کیا تم اپنے نانا کے ساتھ رہتی ہو اس نے ایک بار پھر سے اس موضوع کو چھیڑا تھا ۔

ارے نہیں میں تو اپنے ہوسٹل میں رہتی ہوں میرے نانا ایک بہت بڑے گاؤں میں رہتے ہیں وہاں ان کی حویلی ہے ۔

وہ بہت امیر ہیں اور مجھے بہت سارے پیسے بھی دیتے ہیں میں تو ان پیسوں کو خرچ ہی نہیں کر پاتی لیکن پھر بھی میرے نانا مجھے بہت سارے پیسے دے دیتے ہیں کبھی کبھی سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ میں اتنے پیسوں کا کیا کروں

وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے کہہ رہی تھی جبکہ وہ تو کچھ اور ہی جاننے کے چکر میں تھا

وہ دیکھو گاڑی جا رہی ہے اس کا مطلب ہے اس طرف سڑک ہے ۔وہ کچھ اور پوچھنے ہی والا تھا کہ اچانک ریدم نے بولنا شروع کر دیا

سامنے پہاڑ سے ایک کالے رنگ کی گاڑی جاتی ہوئی نظر آرہی تھی اور گاڑی کی سپیڈ دیکھ کر اندازہ لگانا مشکل نہ تھا کہ وہ ایک پلین سڑک جا رہی ہے

ہاں یقیناً وہاں پر سڑک ہوگی چلو آؤ جلدی سے وہاں پہنچتے ہیں ہو سکتا ہے وہاں سے ہمیں کوئی لفٹ مل جائے اور ہم واپس ہوٹل پہنچ سکے

وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس جانب بڑھنے لگا تھا فی الحال اس کے لئے سب سے ضروری ہوٹل واپس پہنچنا تھا باقی ساری باتیں تو نانا جان بتا ہی سکتے تھے

اگر یہ دادا جان کی نواسی تھی تو اس کی کزن تھی یعنی اس کی پھوپھو کی بیٹی تھی لیکن اس کے حساب سے تو اس کی کوئی پھوپھو نہیں تھی

نہ ہی گھر میں کبھی بھی دادا جان کی کسی بیٹی کا ذکر کیا گیا تھا اور نہ ہی کبھی پھوپھو کے حوالے سے کوئی رشتہ ملا تھا

تو پھر یہ اس کی کونسی پھوپھو کی بیٹی نکل رہی تھی اس کا انداز اور دادا جان کی بےشمار محبت اس بات کی گواہ ہے کہ وہ ان کی بہت قریبی ہے

کسی دوسرے کی بیٹی پر اپنی دولت خرچ کرنا یا پھر اسے اتنی اہمیت دینا اس کی سمجھ سے بہت باہر تھا

اس کے دماغ میں بہت ساری الٹی سیدھی چیزیں آ رہی تھی جو وہ سوچنا ہی نہیں چاہتا تھا۔

°°°°°

وہ یہاں بہت خوش تھی ذریام بھی اسے بہت اہمیت دے رہا تھا وہ ہر وقت اس کے ساتھ رہتا۔اپنی پیار بھر میٹھی میٹھی شرارتوں سے وہ ہر دن اسے اپنے قریب سے قریب تر کر رہا تھا

۔وہ اسے پورا مری گھمانے پھرانے لے کر جا رہا تھا وہ اس سے پہلے مری کبھی بھی نہیں آئی تھی تو ایسے میں زریام کی اتنی توجہ اس کے لئے بہت خوشی کا باعث بن رہی تھی

لیکن اب آہستہ آہستہ اسے عجیب سا خوف آنے لگا تھا اسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مسلسل کسی کی نظروں کے حصار میں ہے کوئی مسلسل اس پر نگاہیں جمائے ہوئے ہے

وہ ذریام کے بنا خود کو بہت خوف زدہ محسوس کرنے لگی تھی وہ ہر وقت اس کے آس پاس رہتی۔اسے اکیلے چھوڑ کر وہ خود بھی نہیں جاتا تھا

وہ اس کے ساتھ باہر آئی تو یہاں بھی اسے وہی سب محسوس ہونے لگا وہ آگے پیچھے ہر طرف دھیان دے رہی تھی

اس کی خوف زدہ نظریں ہر طرف جا رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے ایسا کیوں محسوس ہو رہا ہے

لیکن اب اس کی چھٹی حس اس چیز کا اشارہ کر رہی تھی کہ کوئی تو ہے جو ہر وقت اس پر نگاہیں جمائے ہوئے ہے

کیا ہوا تم اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو سب ٹھیک تو ہے نا اسے اپنے ساتھ باہر لے کر آیا تو یوں ہی اسے آگے پیچھے نظریں دوڑاتے ہوئے دیکھا

مجھے ڈر لگ رہا ہے ایسا لگ رہا ہے کہ کوئی مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے ایسا لگ رہا ہے جیسے آپ مجھ سے دور جائیں گے تو یہاں کوئی آ جائے گا پلیز آپ مجھے چھوڑ کر کہیں مت جائیے گا

ڈارلنگ کیا ہو گیا ہے تمہیں اس طرح سے ڈر کیوں ہو رہی ہے یہاں پر میرے اور تمہارے علاوہ اور کوئی نہیں ہے

اور باقی یہ ہنی مون کپلز پلیس ہے ہمارے علاوہ اور اس جگہ پر بہت سارے لوگ ہنی مون منانے کے لیے آئے ہوئے ہیں۔

لوگ آگے پیچھے گھوم رہے ہیں شاید اسی لیے تمہیں ایسا لگ رہا ہے ۔شاید تم رش والی جگہ پر پہلے نہیں گئی اس جگہ کافی رش ہے آو نیچے کی طرف چلتے ہیں وہاں نیچے ریسٹورنٹ ہے

تو اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا تو اس نے فورا کی اس کے حصار میں اپنی جگہ بنائی تھی جب کہ وہ اس کے گرد اپنی بانہوں کا گھیرا بناتا نیچے کی طرف جانے لگا

وہ اسے بتانا چاہتی تھی صرف یہاں ہی نہیں بلکہ جب سے یہاں مری آئی ہوئی ہے وہ مسلسل خود کو کسی کی نظروں کے حصار میں محسوس کر رہی ہے

لیکن فل الحال زریام کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی ۔وہ یہاں آکر بہت خوش لگ رہا تھا ۔اور عمایہ کو اس کی مسکراہٹ بہت دلکش لگتی تھی ۔وہ اس کی مسکراہٹ ماند نہیں کرنا چاہتی تھی

وہ پہلی بار یوں اتنے لوگوں میں آئی تھی تو ہوسکتا تھا کہ یہ سب صرف اس کا وہم ہو تو ایسےمیں زریام کو پریشان کرنا اسے بہت عجیب لگ رہا تھا اس نے اپنا ڈر خود تک ہی رکھا ۔

لیکن پھر بھی زریام اس کی خاموشی کو نوٹ کر چکا تھا اوراب وہ اس سے باتیں کرتے ہوئے اس کے ڈر کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا کبھی وہ مسکرا دیتی تو کبھی پھر سے آگے پیچھے دیکھنا شروع کر دیتی

اور اس کا یوں باربار آگے پیچھے دیکھنا زریام کو بھی پریشان کر رہا تھا ۔

اس کے دشمنوں کی کمی نہیں تھی ممکن تھا کہ اس کے دشمنوں میں سے ہی کوئی اس کی بیوی کو ڈسٹرب کرنے کی کوشش کرتا تھا یا اسے ڈرانا چاہتا

لیکن یہ سوچتے ہوئے اسے عجیب لگ رہا تھا وہ دشمنی بھی معیاری لوگوں سے کرتا تھا ۔

زریام شاہ دشمن بھی سوچ سمجھ کر بناتا تھا ایسا اس کا کوئی دشمن نہیں تھا جو اسے چھوڑ کر اس کی بیوی کو ٹارگٹ کرتا۔

تھوڑی دیر وہاں بیٹھ کر وہ اسے اپنے ساتھ لانگ ڈرائیو پر لے گیا تھا جہاں جاتے ہوئے وہ کچھ پرسکون ہو گئی تھی

اور اسے پرسکون دیکھ کر وہ خود بھی پر سکون ہو کر اس وقت کو انجوائے کرنے لگا تھا ان کی واپسی رات کو بہت دیر سے ہوئی تھی ۔

کھانا وہ راستے سے ہوٹل میں کھا کر آئے تھے کمرے میں آتے ہی وہ تھک کر سو گئی تھی جبکہ وہ مسلسل یہی سوچ رہا تھا کہ آخر ایسا کون کر سکتا ہے؟؟؟؟

°°°°°

اس نے تیسری دفعہ اسٹاف روم میں جانے کا فیصلہ کیا تھا وہ دونوں اس کے ساتھ ساتھ ہی آ رہی تھی

آج کل پیپر سر پر آ رہے تھے تو سر نے سختی سے چھٹیاں کرنے سے منع کر رکھا تھا

ایسے میں اس کے ایک ہفتے کی چھٹی والی ایپلیکیشن آفس میں جاتی اور منظور ہو کر واپس آتی ہے ایسا تقریبا ناممکن تھا

باقی دو ٹیچرز کو تو اس نے آج مطمئن کر لیا تھا کہ وہ اپنی بہن سے تیاری کر لے گی لیکن اپنے بھائی کی شادی پر کسی طرح کا کوئی کمپرومائز نہیں کر سکتی

اور ٹیچرز اس کی قابلیت سے بھی اچھی طرح سے واقف تھے ۔دو ٹیچرز نے تو اس کی ایپلیکیشن پر سائن بھی کردیا تھا باقی مسئلہ اس کے کلاس انچارج سر یشام احمر کا تھا جس سے بات کرتے ہوئے بھی وہ گھبرا رہی تھی

کیونکہ پچھلے کچھ ٹائم سے اس کا کوئی بھی ٹیسٹ اتنا قابل قبول نہیں تھا جس کی بنا پر اسے چھٹیاں باآسانی مل سکے تو ایسے میں وہ پریشان تھی

پرسوں کلاس ٹیسٹ کے بعد ان کی بہت انسلٹ بھی ہوئی تھی ۔ اور کل کا ٹیسٹ بھی کافی برا تھا لیکن کل اچھا نہ ہونے کے باوجود سر نے کچھ نہیں کہا تھا ۔

بلکہ اس کا ٹیسٹ چیک کرتے ہوئے نہ جانے کیوں سر یشام احمر کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی اور پھر انہوں نے ایک بار پھر سے اس ٹیسٹ کو سمجھایا تھا

لیکن یہ منحوس ٹاپک اتنا عجیب تھا کہ ہر بار اس کے سر کے اوپر سے ہی گزر جاتا ۔ایک دو دفعہ انہوں نے دوسرے ٹیچیرز سے بھی مدد لینی چاہی تھی

اور ساری کلاس کو اس مسئلے میں گھرا دیکھ کر دوسرے ٹیچر نے بھی کہا تھا کہ یہ اتنا اہم ٹاپک نہیں ہے

اسے آپ کو بعد میں بھی پڑھایا جا سکتا ہے لیکن سر یشام کے دماغ میں نجانے کیا چل رہا تھا

وہ تو جیسے اس ٹاپک کے پیچھے لگ گئے تھے ہر حال میں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے ۔

اس نے اسٹاف روم کے اندر دیکھا تو اسے سر یشام کے ساتھ دو اورٹیچرز بیٹھے نظر آئے۔

میں نہیں جا رہی ہوں مجھے نہیں جانا مجھے نہیں چاہیے چھٹیاں میں بنا بتائے کر لوں گی اور واپس آ کر بے عزتی کروا لوں گی وہ واپس پیچھے مڑتے ہوئے ان سے کہنے لگی تھی

نہیں تم جاو گی یہ رولز کے خلاف ہے تو میں اپنی چھٹیوں سے پہلے سر کو بتانا پڑے گا کہ تم چھٹیاں چاہیے ورنہ انجام کے ذمہ دار تم خود ہو گی میشہ نے اسے سمجھانے کی کوشش کی تھی جب اچانک ہی وہ اسٹاف روم سے نکل کر باہر آیا

آپ لوگ یہاں باہر کھڑی کیا کر رہی ہیں وہ سیدھا ان کے پاس آیا تھا ۔

جب میشہ نے اس کے ہاتھ سے اپلیکیشن چھین کر سر کی طرف کر دی جسے اس نے فورا تھام دیا تھا

سر حرم کے بھائی کی شادی ہے اور اسے چھٹیاں چاہیے دو ٹیچرز نے اسے اجازت دے دی ہے آپ کے سائن کی ضرورت ہے۔

پھر ہم اسے پرنسپل آفس میں سبمٹ کر دیں گے ۔وہ ایک ہی سانس میں تیز تیز چلتی تھی جب کہ حرم سر جھکائے اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹاخنے میں مصروف ہو گئی

آپ دونوں نے حرم کے اسسٹنٹ کی نوکری کب سے سنبھال رکھی ہے ۔وہ پیپر کھول کر درخواست پر سائن کرنے لگا جبکہ اس کے سوال پر پہلے تو ان تینوں نے حیرت سے اسے دیکھا پھر خود بھی ہنس دی ۔

وہ سر ہم کب سے کہہ رہے تھے کہ آپ سے سائن لینے کے لئے چلے لیکن یہ بار بار واپس جا رہی تھی تو اس لیے ہمیں اس کے ساتھ آنا پڑا نازمین نے مسکراتے ہوئے بتایا

ان میں سے کسی کو بھی امید نہ تھی کہ وہ اتنے سکون سے سائن کر دے گا ۔

اور آپ کیوں نہیں آ رہی تھی مس حرم اس نے مسکراتے ہوئے اب حرم سے سوال کیا تھا

سر وہ ٹینشن تھی ٹیسٹ کی ہم میں سے وہ ٹاپک کسی سے بھی ہینڈل نہیں ہورہا اور پھرآپ نے چھٹیاں کرنے سے بھی منع کر دیا ہے تو ایسے میں حرم کافی ٹینشن تھی

پتا نہیں اسے چھٹیاں ملیں گی یا نہیں ۔

وہ ٹاپک کافی زیادہ اہم ہیں جسے آپ لوگوں کو ہر قیمت پر ہینڈل کرنا پڑے گا اور حرم کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اس کا بھی ہینڈل ہو جائے گا ۔

اپنے بھائی کی شادی کو انجوائے کرو ۔اور ٹاپک کے حوالے سے تمہیں ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے وہ میں تمہیں کروا لوں گا ۔

وہ ایپلیکیشن اسے واپس کرتے ہوئے پرسرار انداز میں مسکرا کر وہاں سے اندر چلا گیا تھا جب کہ میشا اور نازمین تواس کے مسکرانے پر ہی اتنی خوش ہو گئی تھی

ٹاپک کے حوالے سے اس نے کیا کہا انہوں نے دھیان نہیں دیا ۔

مبارک ہو چھٹیاں مل گئی اب انجوائے کرو خداش بھائی کی شادی کو ۔وہ دونوں اس سے گلے ملتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔جب کہ چھٹیوں کی خوشی تو اسے بھی بہت زیادہ تھی اب وہ بھی اپنے بھائی کی شادی کو کھل کر لے انجوائے کر سکتی تھی ۔

لیکن سر اسے ٹاپک کس طرح سے تیار کروائیں گے یہ بات اسے سمجھ میں نہیں آئی تھی لیکن فی الحال اس نے اس چیز پر اپنا دماغ کھپانا ضروری نہیں سمجھا تھا ۔

°°°°°°

آج دیشم آخری پیپر دے آئی تھی اب وہ بالکل پرسکون تھی ۔اب جو بھی اسے تنگ کرنا چاہتا تھا کھل کر کر سکتا تھا کیونکہ سب سے اہم کام تو ہو گیا تھا ۔

حرم تو صبح کافی پریشان لگ رہی تھی یہ سوچ کے، کہ اسے چھٹیاں ملے گی یا نہیں جبکہ اپنا آخری پیپر دے کر وہ اسٹاف روم میں آئی تھی اور وہاں ٹیچرز کو شادی کا کارڈ دے دیا تھا ۔

اس کی ٹیچرز نے کہا تھا کہ اسے فی الحال شادی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اس طرح کی کسی بڑی ذمہ داری کو سنبھالنے سے پہلے اپنی پڑھائی مکمل کرنی چاہیے

سبھی لوگ جانتے تھے کہ اس کا ایک خواب ہے وہ اپنے خواب کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے ایسے میں اس کی شادی کی خبر سب کے لیے ہیں کافی حیران کن تھی

اس نے کہہ دیا تھا کہ اس کی فیملی اس کی شادی پر زور دے رہی ہے اور وہ اپنی فیملی کےخلاف نہیں جا سکتی اور جہاں تک بات اس کے خوابوں کی ہے تو اپنے خواب پورے کرنے کے لیے کسی بھی حد تک چلی جائے گی

خداش اس کے ساتھ کیا کرنے والا تھا اور آگے اس کی زندگی میں کیا ہونے والا تھا یہ سوچے بنا اس نے اپنے آپ کے لیے ایک چیلنج تیار کر لیا تھا

وہ ہمیشہ سے لڑتی آئی تھی اپنے خوابوں کے لیے آئندہ بھی لڑنے کو تیار تھی وہ باہر آ کر بیٹھی جب پیون نے اسے بتایا کہ اس کی گاڑی آ چکی ہے

آج بھی اتنا جلدی وہ اتنی جلدی کیوں آ جاتا تھا اسے لینے کے لیے ۔

اپنا سامان سمیٹ کر باہر نکل آئی تھی

°°°°°°

شکر ہے آج محترمہ جلدی نکل آئیں جلدی آؤ لہنگا پسند کرنے جانا ہے اماں نے کہا تھا کہ آج یہ کام ہے ہر قیمت پر کرنا ہے

ویسے میرا ارادہ تو حرم کے ساتھ جانے کا تھا لیکن وہ ابھی تک اپنے کالج سے فارغ نہیں ہوئی

تو سوچا کہ تم ہی پسند کر لو گی ویسے بھی پہننا تو تمہی نے ہے وہ گاڑی میں بیٹھے ہوئے اسے کہہ رہا تھا جب کہ وہ صرف ہاں میں سر ہلا گئی

تمہیں کون سا کلر پسند ہے وہ گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا

میں شادی کے بعد اپنی پڑھائی جاری رکھوں گی۔

میں نے پوچھا کہ کلر کونسا پسند ہے

اس کے جواب پر وہ بد مزہ ہو کر پھر سے پوچھنے لگا

میں کلر کی نہیں کریئر کی بات کر رہی ہوں ۔اس نے تپ کر جواب دیا جس پر وہ دلکشی سے مسکرایا

کریئر کی بات بھی ہو جائے گی پہلے کلر کی بات ہو جائے ہم لہنگا پسند کرنے جا رہے ہیں ۔

میں اپنی پڑھائی جاری رکھنا چاہتی ہوں اگر آپ نے م شادی کے بعد مجھے میری پڑھائی سے منع کیا یا پھر آپ کی کوئی اور ڈیمانڈز ہے تو آپ مجھے ابھی بتا دیں!!!!

ابھی بتانے سے کیا ہوگا نکاح تو ہو چکا ہے وہ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے بولا تھا ۔

کیا مطلب ہےآپ کا اگر آپ سے نکاح ہوچکا ہے تو میں آپ کی غلام بن چکی ہوں اور آپ جو کہیں گے وہ میں کروں گی؟؟؟؟؟ وہ حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگی!!!!

نہیں محترمہ آپ میرے نکاح میں آکر میری منکوحہ بن چکی ہیں اور مزید ایک ہفتے میں آپ میری بیوی بن جائیں گی۔پہلے بھی کہا تھا تم سے اب بھی کہتا ہوں اپنی جگہ اور مقام ٹھیک سے سمجھ جاؤ ۔

ویسے شوہر اپنی بیوی کی ہر بات مانتا ہے ہاں لیکن اگر بیوی میں بات منوانے والے قابلیت ہو تو!!!! وہ گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا ۔

شوہر سے بات منوانے کا ہنر سیکھ کر آو لڑکی تمہارے لیے فائدے مند ثابت ہوگا وہ شوخ ہو رہا تھا۔

آپ نے گاڑی کیوں روکی ہے یہاں ۔۔۔۔!وہ گاڑی روکنے پر وہ حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی

تمہیں شوہر سے بات منوانے کے ہنر سکھانے کے لئے وہ اسے کھینچ کر اپنے قریب کرتے ہوئے اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی قید میں لے چکا تھا دیشم جو اس افتاد کے لئے ہرگز تیار نہ تھی اچانک اس کے کالر پر اپنا ہاتھ سختی سے جما گئی۔

خداش پیچھے ہٹا تو اگلے ہی لمحے وہ شیشے سے جڑ کر بیٹھی تھی اگر دروازہ لاک نہ ہوتا تو یقینا گاڑی سے ہی نکل جاتی۔۔۔

یہ بھی ایک طریقہ ہے اس طریقے سے تم شوہر سے ہر بات منوا سکتی ہو لیکن اس کے لیے تمہیں پہلے اچھی خاصی محنت کرنی پڑے گی مطلب ہنر سیکھنا پڑے گا

اور میں سکھانے کے لیے بھی تیار ہوں اگر تمہیں کسی اور سے سیکھنے میں شرم آتی ہے تو وہ گاڑی واپس سٹارٹ کرتے ہوئے اسے تنگ کرنے لگا تھا

جبکہ اس کے بدلے بدلے انداز دیشم کو سخت پریشانی میں مبتلا کر رہے تھے۔۔۔۔

′°°°°°