65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 16)

Junoniyat By Areej Shah

وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوٹل کے پیچھے کی جانب آگئی تھی۔

جہاں پر اس نے شائزم کے سامنے جانے کا اشارہ کیا تھا اس نے بالکل وہی راہ لی تھی اس کی گود میں اس نے چھوٹی سی بلی تھی۔

یہ نظارہ بھی بے حد خوبصورت تھا اس ہوٹل کو چاروں طرف کی خوبصورتی کے مناظر ظاہر کرنے کے لئے یہاں پر بنایا گیا تھا

وہ آہستہ آہستہ چلتی پہاڑی کے قریب آتی نیچے کی جانب دیکھنے لگی جب اچانک اس کا دھیان تھوڑے فاصلے پر ایک لڑکے کی طرف گیا جو بری طرح سے رو رہا تھا وہ کوئی بچہ تو نہ تھا جو اس طرح سے روتا تو اگنور کر کے چلی جاتی یہ تو کوئی 27،28 سال کا آدمی تھا۔

اور اس عمر میں اس طرح بچوں کی طرح رونا اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گیا تھا۔

لیکن اس نے نوٹ کیا وہ آدمی شاید وہاں کسی مقصد سے کھڑا تھا وہ بار بار نیچے کی طرف دیکھتا اور بری طرح سے رونے لگتا ہے اسے سمجھنے میں زیادہ دیر نہ لگی تھی کہ وہ آدمی وہاں پر خود کشی کرنے کے لئے آیا ہوا ہے

وہ اپنی کیٹی کو زمین پر نیچے اتارتی تقریبا بھاگتے ہوئے اس آدمی کے پاس پہنچی تھی

یہ تم کیا کر رہے ہو تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا وہ اس سے سوال کرنے لگی اور ساتھ ہی اس کا بازو بھی پکڑ کر اسے نیچے لانے کی کوشش کر رہی تھی

مجھے چھوڑ دو نہیں جینا چاہتا میں مر جانا چاہتا ہوں اس مطلبی دنیا سے ہمیشہ کے لئے چلاجانا چاہتا ہوں مجھے جانے دو وہ اپنا ہاتھ کھینچ رہا تھا جب کہ ریدم ہر ممکن کوشش کر رہی تھی اس کو وہاں سے نیچے اتارنے کی

دیکھو پلیز نیچے آ جاؤ تم پاگل تو نہیں ہوگئے یہ تم کیا کرنے جا رہے ہو دیکھو یہ زندگی اللہ پاک کی امانت ہے

تم اسے اس طرح اس سے ختم کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے میں تمیں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھانے دوں گی وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے نیچے گھسیٹ رہی تھی

اور آخر کار وہ اس کے زور آزمانے پر نیچے کی طرف گر گیا تھا اس نے سکون کا سانس لیا جب کہ وہ آدمی وہی زمین پر بیٹھا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا

تم ٹھیک ہو نا تم اس طرح سے کیوں رو رہے ہو اور تم نے اتنا بڑا فیصلہ کیوں کیا زندگی کوئی مذاق ہے تم تو وہیں ہو نا جو کل رات کو وہاں پر اس لڑکی کے ساتھ کتنے خوش تھے تم گانا بھی گا رہے تھے

وہاں آگ کے آگے پیچھے تم انجوائے کر رہے تھے اس لڑکی کے لیے گانے گا رہے تھے اور اب یہاں پاگلوں کی طرح رو رہے ہو

وہ پریشانی سے اس سے سوال جواب کرنے لگی کیونکہ وہ اس لڑکے کو پرسوں سے جانتی تھی وہ روز شام کو وہاں آگ کے پاس ہوٹل کے ساتھ بیٹھ کر ایک کافی ماڈرن لڑکی کے لئے گانے گاتا تھا ان لوگوں کی پوری ٹیم یہاں آئی ہوئی تھی اس نے روتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا تو ریدم اس کے پاس ہی بیٹھ گئی۔

°°°°°°

اس کی آنکھ کھلی تو اس نے ذریام کو اپنے آس پاس کہیں بھی نہیں پایا وہ کہاں چلا گیا تھا اور وہ کتنی دیر تک سوتی رہی وہ فورا اٹھ کر جلدی سے دوبٹا لیتی واش روم میں آئی منہ ہاتھ دھو کر اسے باہر کی طرف دوڑ لگائی تھی نہ جانے سب نے اس کے بارے میں کیا سوچا ہوگا

وہ تیز تیز قدم اٹھاتے تقریبا بھاگتے ہوئے نیچے آئی تھی جب نیچے سب کے کہ آواز سنائی دی زریام ایک چھوٹی سی بچی کے پیچھے بھاگ رہا تھا جو ہاتھ میں اپنا ننھا سا ٹیڈی لیے اسے دینے کے لیے رکی اور جیسے ہی ذریام اس کے پاس پہنچا اس نے پھر سے دوڑ لگا دی

بچی مشکل سے دو ڈھائی سال کی لگ رہی تھی نہ جانے کون تھی اور اتنے سارے لوگ اس نے تو پہلے ان سب کو حویلی میں نہیں دیکھا تھا لیکن ان کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ اسی حویلی کے فرد ہیں ان میں سے ایک عورت اٹھ کر کمرے میں گئیں

جبکہ باقی وہیں براجمان سب سے باتوں میں مصروف تھے ایک بزرگ عورت تھیں جو دادا کے پہلو میں براجمان تھیں۔جبکہ ایک لڑکی تھی جو بہت خوبصورت تھی اس کی عمر شاید 25 کے قریب ہوگی

یہ سب کون تھے اس کو بالکل سمجھ نہیں آرہا تھا

کھل گئی آنکھ اب نیچے تشریف لے آئیں گی آپ بی بی جی چاچی کی غصے سے بھرپور آواز اس کے کانوں میں گونجی تو اس نے تیزی سے قدم نیچے کی طرف بڑھائے تھے

جاؤ جا کر چائے بنا کر لاؤ وہ اسے بے حد غصے سے کہتے ہوئے وہاں سے جانے کا اشارہ کر رہی تھیں اس نے فورا سر ہاں میں ہلاتے ہوئے وہاں سے بھاگنا چاہا

رک جائے چاچی جان یہ کونسا طریقہ ہے پہلے اسے سب گھر والوں سے متعارف کروائیں وہ اس گھر کا حصہ ہے کوئی نوکر نہیں جو آپ اسے اس طرح سے بات کرتی ہیں

یہاں آو لڑک ۔۔۔عمایہ یہ ہماری دادی جان ہیں وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے دادی جان کے پاس لے کر آیا دادی جان نے اسے دیکھ کر کوئی بھی رسپونس نہ دیا تو اس نے خود ہی آہستہ سے لیکن بے حد محبت کے ساتھ ان کا ہاتھ تھام کر عمایہ کے سر پر رکھا تھا۔

دادی جان یہ لڑکی میری بیوی ہے آپ کی بہو ادھر آؤ یہ میرے باباہیں اس نے اب وہیں بیٹھے آدمی کی طرف دیکھتے ہوئے اسے ان کے سامنے سر رکھنے کا اشارہ کیا تھا وہ فورا اس کے حکم کی تکمیل کرتی ان کے سامنے آ چکی تھی

پتہ نہیں کیسے لیکن وہ بھی اس کے سر پہ ہاتھ رکھ چکے تھے جب کہ وہ مسکراتا ہوا دروازے کے قریب کھڑی اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی ماں کے سامنے لے گیا تھا

اور یہ وہ پہلا چہرہ تھا جو اسے چاہت سے دیکھ رہا تھا انہوں نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگایا اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا

ماشاءاللہ میری بہو بہت حسین ہے اللہ پاک تمہیں نظر بد سے بچائے اور تم دونوں کی جوڑی ہمیشہ سلامت رکھے وہ اسے اپنے ساتھ لگاتی بے حد کم آواز میں دعائیں دے رہی تھیں جب کہ چاچی جان پہلو پر پہلو بدل رہی تھی

یقیناً انہیں اس لڑکی سے نفرت تھی لیکن آج ان کی جیٹھانی کی محبت دیکھ کر ان کی نفرت سو گنا بڑھ گئی تھی

اور یہ جنت ہے وہ اسے اس لڑکی کے سامنے لے کر جاتے ہوئے اپنے موبائل کو دیکھنے لگا جہاں پر ضروری کال آ رہی تھی

تم اس سے ملو میں ذرا فون اٹینڈ کر کے آتا ہوں وہ کہہ کر تیزی سے باہر نکلا تھا جب چاچی نے قدم اس کی طرف بڑھاتے ہوئے اس کا ہاتھ دبوچ کر اسے کچن کی طرف پھینکا تھا

بس بہت ہو گیا میل ملاپ اب جاو چائے بنانے کے لیے زیادہ سر پر چڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ونی ہو کر آئی ہے یہ لڑکی اور ہمارا بیٹا اس بات کو قبول ہی نہیں کر رہا لیکن میں اس لڑکی کو اس گھر کی بہو نہیں بننے دوں گی کیوں کہ یہ لڑکی میرے بیٹے کے قاتل کی بہن ہے

آپ لوگ یہ ساری باتیں بھول چکے ہوں گے لیکن میں نہیں بھول سکتی ہے میرا بچہ تھا وہ میں نے جنم دیا تھا اسے اس کے خون کو معاف کرکے آپ اس لڑکی کو اس کو قبول نہیں کر سکتے ان کا اشارہ صاف منیحہ بیگم کی طرف تھا جو اس سے ملتے ہوئے اسے دعائیں دے رہی تھیں

بشری قاتل اس کا بھائی ہے یہ نہیں اور یہ ونی کیا ہے میں نہیں سمجھتی ہمارے مذہب میں نکاح کا حکم ہے اور میرے بیٹے نے اس لڑکی سے نکاح کیا ہے۔

بے شک ہمارے پوتے نے اس لڑکی سے نکاح کیا ہے لیکن اس کی اوقات وہی رہے گی جو ایک ونی کی ہونی چاہیے کوئی اس رسم کو مانیں یا نہ مانیں لیکن ہم مانتے ہیں اور اس گھر میں وہی ہوگا جو ہم چاہتے ہیں اسی لیے تمہیں واپس بلایا ہے بڑی بہو اپنے بیٹے کو سمجھا دو

اگر وہ اس ونی کے ساتھ رہنا چاہتا ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں وہ اس لڑکی کے ساتھ رہ سکتا ہے لیکن اس خاندان کا وارث صرف اور صرف ایک خاندانی لڑکی کی پیدا کرے گی۔

ہم کسی ونی کے باطن سے اپنا وارث اس دنیا میں نہیں آنے دینگے وہ غصے سے کہتے وہاں سے نکل چکے تھے جب کہ ان سب کی باتوں کو سمجھے بغیر وہ کانپے جا رہی تھی ۔

دادا جان کی شہ پا کر چاچی پرسکون ہوئی تھیں ۔جب کہ دروازے پر کھڑی تانیہ بھی اطمینان سے مسکرا رہی تھی ۔

وہ مرے مرے قدموں سے چلتے کچن کی طرف جانے لگی تھی جب اچانک اس بچی کے رونے کی آواز سنائی دی اس نے مڑ کر دیکھا تو جنت ہے اسے اٹھا کر سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی

جب کہ وہ بار بار باہر کی طرف اشارہ کر رہی تھی جہاں سے تھوڑی دیر پہلے ذریام باہر نکلا تھا.شاید وہ گھر سے کہیں باہر چلا گیا تھا ۔

°°°°°

لگتا ہے تم بہت مصروف ہو میرا ارادہ تو تم سے بہت ساری باتیں کرنے کا تھا چلو بعد میں سہی فی الحال تو چاچی جان کچھ زیادہ ہی غصے میں نظر آرہی ہیں میں زرا ہانی کا دودھ بنانے کے لئے آئی ہوں

ابھی تھوڑی دیر میں اس کو بھوک لگ جائے گی تو گھر سر پر اٹھا لے گی رو رو کر اس کو نہ ذریام کے علاوہ اور کوئی نہیں سنبھال سکتا جنت اس کے پیچھے آئی تھی وہ حیرانی سے دیکھنے لگی

اس کے سامنے ہی وہ جلدی جلدی اپنی بیٹی کا دودھ بنانے لگ گئی تھی اس کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ تھی

زاہدہ تم یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو ہاتھ بٹاؤ اس کا وہ سارا کام اکیلے کرے گی اس نے غصے سے زاہدہ کی طرف دیکھا جو ایک طرف کھڑی اسے حکم سنا رہی تھی جنت کو اس کا انداز بہت برا لگا تھا

وہ بی بی جی چھوٹی بی بی جی نے منع کر رکھا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اس کی مدد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہ سارے کام اس پر ہی لاگو ہیں وہ جلدی سے بولی تھی

یہ سارے کام اس پر کیوں لاگو ہیں یہ سارے کام تمہارے ہیں تنخواہ تم لیتی ہو یہ نہیں یہ سب کچھ کرنا تمہارا فرض ہے

اگر سب کچھ اسے کرنا ہے تو ہم تنخواہ تمہِں کیوں دیتے ہیں اور یہ اس اُس کیا ہوتا ہے یہ اس گھر کی بہو ہے زریام شاہ کی بیوی ہے تم اسے اس طرح بےادبی سے کیسے بلا سکتی ہو

ٹھیک ہے تم عمر میں اس سے بڑی ہو لیکن تمہاری جیب کا خرچہ اس کے شوہر کی جیب سے نکلتا ہے

تمہیں تنخواہ ذریام شاہ دیتا ہے یہ بات میں تمہیں دوبارہ نہ بتاؤں اب کھڑی میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو بناؤ سب کے لئے کھانا وہ غصے سے اسے گھورتی ہوئی بولی تو زاہدہ فورا ہی اس کے ہاتھ سے بیلن لے چکی تھی

تم کافی دیر سے کر رہی ہو کام جاؤ تم فریش ہو کر آ جاؤ تب تک کے لئے یہ کھانا تیار کر دے گی یہ کیا تم نے بال نہیں بنائے یہ بے ترتیبی ذریام کو بہت بری لگتی ہے ۔

جاؤ جلدی سے جاؤ اور اچھے سے تیار ہو کر آؤ یہ کیا شکل بنا کر رکھی ہے تم نے ابھی تک تو تمہاری شادی کو دو مہینے بھی نہیں ہوئے اس طرح کی شوہرکے دل پر راج کروگی وہ پیار سے اس کے گال پر چٹکی کاٹتی شرارت سے بولی

بی بی جی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں آپ اس لڑکی کو اتنی اہمیت دے رہی ہیں جب کہ آپ جانتی ہیں کہ اس کی وجہ سے ۔۔۔۔

اب میرے سامنے باقرشاہ کا نام مت لینا زاہدہ میں دیکھ رہی ہوں کہ جب سے میں واپس آئی ہوں تم باقر شاہ کو زیادہ یاد کر رہی ہو باقر شاہ کی موت آئی تھی اور وہ مر گیا

۔اس میں اس لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہے اور میرے خیال میں ذریام نے تھوڑی دیر پہلے باہر بھی یہی بات کی تھی

میں ملازموں کے سامنے ایسی باتیں دہرانا پسند نہیں کرتی تو بہتر ہے کہ وہ کام کرو جس کے لیے تمہیں یہاں رکھا گیا ہے یہاں کے معاملوں میں انٹر فیر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ورنہ اس حویلی میں بھی انٹر کرنے کے قابل نہیں بچو گی

تم ابھی تک میری شکل کیا دیکھ رہی ہو جاؤ جلدی سے تیار ہو کرآو وہ اسے دیکھ کر پھر بولی ۔ تو عمایہ ہاں میں سر ہلاتی جلدی سے کچن سے نکلتی سیڑھیاں چڑھتی اوپر کی جانب جانے لگی

°°°°°

آج سر کلاس لینے نہیں آئے تھے تو سب لوگ بہت مزے سے بیٹھے ہوئے تھے تھوڑی دیر پہلے ٹیچر نے آکر انہیں بتایا تھا کہ وہ سب لوگ اپنے لیکچرز کی تیاری کریں سر ایک میٹنگ میں مصروف ہیں

ان لوگوں نے اپنا کام کیا کرنا تھا وہ تو اس چیز کی خوشی منا رہے تھے کہ آج ان کا ٹیچر پہلی بار کلاس میں نہیں آیا تھا جس کی ان سب کو ہی بہت خوشی تھی

کیابکواس کر رہی ہو حرم مطلب سر نے تمہارا کی چین رکھ لیا اپنے پاس اور تم نے کچھ بھی نہیں بولا میشہ کو پرسوں کی ساری بات بتاتے ہوئے وہ اسے بیگ والا پورا واقعہ سنا چکی تھی

اس میں بکواس والی کونسی بات ہے میں بالکل سچ کہہ رہی ہوں سر نے میرے سامنے میرا کیچین چھپا لیا تھا میں پانی کی بوتل لینے واپس ان کے آفس میں گئی تو وہ ان کے ہاتھ میں تھا مجھے دیکھتے ہی ہاتھ نیچے ٹیبل کے کر لیا

کیا مطلب تم ان کو چور کہہ رہی ہو وہ بھی صرف تین سو اسی روپے کی کی چین کے لئے سر کو چور بول رہی ہو میشہ کو دکھ ہوا

میں نے ان کو چور کب بولا میں تو صرف یہ بتا رہی ہوں کہ انہوں نے میرا کی چین چھپا لیا اس نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا تھا وہ اسے بتا کچھ اور رہی تھی اور میشہ سمجھ کچھ اور تھی

وہ ابھی باتوں میں ہی مصروف تھے کہ وہ تیزی سے کلاس روم میں داخل ہوا وہ جو سب بہت خوش تھے کہ آج کی کلاس نہیں ہوگی سب کے چہرے پر رونقی سی آ گئی تھی

وہ آتے ہی سارا دھیان لیکچر کی طرف لگا چکا تھا وہ اپنی چابی فون وغیرہ ٹیبل پر رکھتا مالکر اٹھائے بورڈ کی طرف دیکھنے لگا جب میشہ کا دھیان ٹیبل کی طرف گیا تھا جہاں حرم کی کی چین موجود تھی

لیکن وہ تو سر کے موبائل کے ساتھ لگی ہوئی تھی

یار وہ جو کی چین سر کے موبائل کے ساتھ لگی ہے وہ تمہاری ہےمیشہ اس کے کان کے قریب بولی تو اس نے فورا ہاں میں سر ہلایا تھا

یہ سوال میں اس بورڈ پر لکھ رہا ہوں یہ ابھی کے ابھی مجھے ٹیسٹ دیں تب تک مِیں میٹنگ سے ہو کر آتا ہوں ٹیم اے پہلا سوال کرے گی اور ٹیم بی دوسرا کسی طرح کی چیٹنگ کی گنجائش نہیں ہے کلام میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہے میں آفس میں آپ سب کو دیکھ رہا ہوں

وہ مارکر بند کرتا ہوا ٹیبل پر پھینکتے ہوئے اپنی چیزیں اٹھانے لگا تھا جبکہ کی چین اٹھاتے ہوئے یہ اس کی طرف دیکھا جو پھولے پھولے چہرے کے ساتھ کتنی پیاری لگ رہی تھی یہ کوئی یشام سے پوچھتا

کیا بات ہے مس حرم کوئی مسئلہ ہے کیا اس کا سارا دھیان اپنے ہاتھ میں موجود اس کی کیچین کی طرف دیکھ کر اس نے سوال کیا

آپ کے ہاتھ میں یہ جو کی چین ہے یہ حرم کی ہےمیشہ کی زبان پھسلی

اس نے پکڑ کر میشہ کو نیچے کی طرف کھینچا تھا

کیا یہ آپ کی ہے اس نے وہ چھوٹے سے ٹیڈی بیئر والی کی چین اس کے سامنے کی تھی جس کے ساتھ وہ چھنکار تھی وہ دور سے ہی بہت آسانی سے لیڈیز کی چین پہچانے جا رہی تھی

اس نے کھڑے ہوتے ہوئے ساری کلاس کو دیکھا تھا جو اس کی جواب کی منتظر تھی مطلب کیا وہ اتنی گئی گزری تھی کہ تین سو اسی روپے کی کیچین کے لیے سب کی نظروں کا مرکز بن گئی تھی

کیا سوچ رہی ہوں گی یہ ساری لڑکیاں کہ وہ ایک تین سو اسی روپے کی کیچین کے لیے اتنی مری جا رہی تھی کہ بڑی کلاس میں سر سے مانگ لیں

نہیں سر میشہ کا مطلب ہے کہ میری بھی ایسی ہی ہے یہ میری نہیں ہے بہت خوبصورت ہے آپ کی کیچین وہ کہہ کر فوراً بیٹھ گئی تھی

جب کہ اس کے بات سننے کے بعد اس کے لبوں پر مسکراہٹ آ کر غائب ہوئی تھی

یہ بہت خوبصورت ہے میری ایک بہت ہی پیاری سی اسٹوڈنٹ نے مجھے گفٹ دی ہے آپ لوگ اپنا ٹیسٹ کریں وہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل گیا تھا

جب کہ اس کے چہرے پر ایک پہ پر کشش مسکراہٹ تھی

دماغ خراب ہو گیا ہے تو کیا کر رہی تھی تین سو اسی روپے کی کی چین کے لئے مجھے پوری کلاس کے سامنے شرمندہ کر رہی تھی کیا سوچیں گی یہ ساری لڑکیاں کہ میں ایک معمولی سی کی چین کے لیے اتنی مری جا رہی تھی کہ پوری کلاس کے سامنے سر سے مانگ لی

حد ہوتی ہے کسی چیز کی وہ اسے گھورتے ہوئے بولی تو میشہ کو بھی اپنی جلد بازی کا احساس ہوا

ارے یار تو بات ہی تو وہی کر رہی تھی نہ کہ وہ تیری ہے تو سر نے جب اچانک سے مجھے مخاطب کیا میرے منہ سے وہی نکلا چل اب اپنا موڈ نہ خراب کریہ ٹیسٹ کمپلیٹ کر تھوڑی دیر میں سر واپس آنے والے ہوں گے مجھے دونوں سوال آتے ہیں لیکن آدھے آدھے

آدھے کے بچی آفس میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگا ہے سر وہاں سب کچھ دیکھ رہے ہوں گے

تو ادھر دیکھ کر اپنا کام کر میں ادھر دیکھ کر اپنا کام کرتی ہوں بالکل بات نہیں کرنا ورنہ سر کی نظر میں ہم چیٹر بن جائیں گے اور میں چیٹر ہرگز نہیں بننا چاہتی

وہ اسے کہہ کر دوسری طرف دیکھ کے اپنا کام کرنے لگی تھی جبکہ آفیس روم میں اپنی میٹنگ کے دوران بھی وہ آفس میں لگے ایل ای ڈی پر ان لوگوں کی حرکات دیکھ رہا تھا

اب سے صیام کا لگایا ہوا چوری کا الزام اس پر سے دھل چکا تھا کیونکہ حرم نے تو کہا تھا کہ یہ کی چین اسکی ہے ہی نہیں اس کے چہرے کے ایکسپریشنز یاد کرتے اس کے لبوں پر مسکراہٹ آجاتی

°°°°°