65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 79)

Junoniyat By Areej Shah

کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے آج بارات کا دن ہے اور آج ریدم ہمیشہ کے لئے یہاں سے رخصت ہو جائے گی ۔

ہم اپنی پوتی کو کسی اور کے نام کر دیں گے کتنا تھوڑا سا وقت تھا اس کے ساتھ جو ہمیں ملا لیکن ہم اپنے رب کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں اس حق سے محروم نہیں کیا ہماری پوتی ہم سے اتنے برسوں بچھڑی رہی لیکن پھر بھی ہم اسے رخصت کرنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں ۔

دادا جان بےحد خوشی سے بول رہے تھے جبکہ راحت صاحب اور ثقلین صاحب بالکل خاموش بیٹھے تھے جب کہ ثاقب صاحب ان کی باتوں پر مکمل اتفاق کرتے ہوئے مسکرا رہے تھے ۔

بابا جان آپ فکر نہ کریں کیا ہو گیا اگر آج ساگر ہمارے بیچ میں نہیں ہے۔۔۔ہم تو ہیں ناں ہم اپنی بیٹی کو بہت دھوم دھام سے رخصت کریں گے ۔

ثاقب صاحب ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولے تھے ۔

جبکہ راحت صاحب اٹھ گئے ان کے پاس شاید اس طرح کی کوئی تسلی بھی نہیں تھی کیونکہ وہ شادی پر خوش نہیں تھے جس کا اظہار وہ کھلے لفظوں میں کر چکے تھے ۔بابا جان کے خلاف وہ جا نہیں سکتے تھے ورنہ یقینا وہ کبھی بھی یہ شادی ہونے ہی نہیں دیتے

ان کے لیے وہ لوگ آج بھی ان کے دشمن تھے ۔

ان شاءاللہ ثاقب ایسا ہی ہوگا اور ایک اور بات جب ریدم کا نکاح ہوگا تب تم تینوں مجھے وہیں پر ملو اور اس کی رخصتی کے وقت بھی میں نہیں چاہتا کہ بعد میں ان لوگوں کو بات کرنے کا کوئی موقع ملے ۔

ہم اپنی بیٹی کے لئے جتنا ہو سکے اس کا فیوچر بہتر بنانے کی کوشش کریں گے

شائزم بہت اچھا لڑکا ہے اور سب سے اہم بات کہ وہ ریدم سے محبت کرتا ہے اور ہمیں اپنی بیٹی کی خوشی کے بارے میں سوچنا چاہیے ۔

دادا جان سمجھاتے ہوئے اٹھ گئے

صبح کے وقت وہ واک کرنے کے لئے باہر جایا کرتے تھے ۔

لیکن آج وہ کمرے سے نکلے تو انہیں اپنے آگے آگے یشام جاتا ہوا نظر آیا شاید وہ بھی صبح واک کرنے کے لئے باہر نکلتا تھا ۔

°°°°°°°

اٹھ جائیں سارے یہ کون سا طریقہ ہے آج میری بارت جانے والی ہے اور ایسے گھوڑے بیچ کر سوئے پڑے ہیں جیسے کبھی جاگنا ہی نہیں ہے ۔

زریام کی آنکھ شائزم کی زوردار آواز سے کھلی تھی وہ نیچے کھڑا چلائے جا رہا تھا ۔جبکہ عمایہ جو تھوڑی دیر پہلے نماز سے فارغ ہوئی تھی اس کے انداز پر مسکرا دی

یہ کیسا دلہا ہے جسے اپنی شادی کی اتنی جلدی ہے اتنا کیوں مرا جارہا ہے لڑکی نے اسی گھر میں آنا ہے وہ بھی اسی کے انداز میں اونچی اونچی آواز میں بولتا باہر نکلا تھا ۔

یہ لڑکا باولا ہوگیا ہے اور کچھ بھی نہیں بارات ساڑھے گیارہ بجے گھر سے نکلے گی اوپر سے بابا جان کی آواز آئی تھی جو آج رات کو ہی اپنے ٹور سے گھر واپس پہنچے تھے ۔

ہاں پتا ہے مجھے لیکن کم ازکم تیاری تو کریں ۔یہ کون سا طریقہ ہے آج میری شادی ہے آپ لوگ ایسے گھوڑے بیچ کر سونہیں سکتے ۔

شائزم بچے ابھی تو صرف ساڑھے پانچ بجے ہیں دادی جان ہاتھ میں تسبیح لیے اسے سمجھانے کے لیے باہر نکلی تھیں ۔

دادی جان شادی کی تیاری کرنی ہے بے شک ابھی تک صرف ساڑھے پانچ بجے ہیں لیکن تیاری کرتے گیارہ ہو جائیں گے کیا میں اپنے خاندان کے سست لوگوں سے واقف نہیں ہوں میری شادی کا دن آج ہی ہونا چاہیے چلیں جلدی سے تیاری کریں ۔

اور دادا جان آپ اپنی اور اللہ تعالی کی میٹنگ ایک دن کےلیے تھوڑی چھوٹی نہیں کر سکتے تھے وہ انہیں مصلے پر بیٹھے دعائیں مانگتے دیکھ کر اب ان کے سر پر سوار ہو گیا تھا ۔

سچ سچ بتاؤ شائزم کیا تم ساری رات سوئے بھی ہو وہ منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس سے سوال کرنے لگے ۔

نہیں دادا جان میں ایک سکینڈ کےلیے سوبھی نہیں سکا ایکسائٹمنٹ تھی کہ میری شادی ہونے والی ہے میں دلہابننے والا ہوں ویسے تو میرے لئے بہت عام سی بات تھی لیکن آج اس کو فیل کر رہا ہوں تو مجھے بہت خاص لگ رہی ہے ۔

چلیں نہ جلدی سے اٹھیں آپ وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں صوفے پر بٹھا چکا تھا ۔

امی سب جاگ گئے نا ابھی تک کوئی سو تو نہیں رہا نہ اس نے چائے کا مگ تھامے کمرےمیں اپنی ماں کو آتے دیکھ کر پوچھا ۔

نہیں بیٹا جی آپ کے اعلانیہ انداز نے سب کو جگا دیا ہے کہیں بارات ساڑھے گیارہ کے بجائے ساڑھے آٹھ بجے وہاں نہ پہنچ جائے ۔

انہوں نے ذہ معنی مسکراتے ہوئے کپ دادا جان کو پکڑایا تھا جبکہ دادا جان اس کے انداز پر خود بھی مسکرا دیے تھے کیونکہ اب تک وہ شادی کو لے کر کافی پریشان تھے

کہ پتا نہیں شائزم کے دماغ میں کیا چل رہا ہے لیکن آج اس کا انداز انہیں بہت کچھ بیان کر گیا تھا جس پر وہ خود بھی کافی زیادہ ریلیکس ہو گئے تھے ۔

°°°°°°

وہ کافی دور سے جوگنگ کر کے واپس آیا اور ایک بینچ پر بیٹھ کر پانی پینے لگا جب وہ اس کے ساتھ ہی آ کر بیٹھ گئے تھے ۔

اس نے ایک نظر انہیں دیکھا اور پھر اپنے کان میں ہیڈ فون لگا کر پھر سے سیٹ سے اٹھنے لگا جب بولنا شروع ہوئے ۔

میں جانتا ہوں تم مجھ سے ناراض ہو شاید میرا چہرہ بھی دیکھنا پسند نہیں کرو گے ۔

اگر آپ جانتے ہیں تو یہاں کیوں بیٹھے ہیں اس کا لہجہ کافی زیادہ بدتمیزانہ تھا

تمہیں میرا چہرہ پسند ہو یا نہ ہو لیکن تم میں تو میرے بیٹے کی جھلک ہے کیسے تم سے چہرہ پھیر سکتا ہوں بتاؤ ۔۔۔۔؟

اچھا تو یہ ڈرامہ اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ میری شکل دیکھ کر آپ کو یقین آ گیا کہ میں آپ کے بیٹے کی ہی اولاد ہوں۔اس کا انداز طنز میں ڈوبا ہوا تھا

ہم بہت پہلے سے جان چکے تھے یشام ہم نے تمہیں تلاش کرنے کی بہت کوشش کی لیکن تم ہمیں کہیں ملے ہی نہیں ۔

ڈھونڈنے سے کیا نہیں ملتا کاظمی صاحب اور آپ تو کافی پاور میں ہیں میرے سننے میں آیا ہے کیسے مان لوں کہ آپ نے مجھے ڈھونڈا اور میں آپ کو ملا نہیں ۔

ویسے کیوں ڈھونڈا تھا آپ نے مجھے اپنے لاڈلے بھتیجے کے لیے ۔۔۔۔۔؟

اس ذلیل کا نام مت لو ہمارے سامنے ۔۔۔

ہاہاہاہا کل میں آپ کے لیے ناجائز تھا آپ کے بیٹے کی اولاد نہیں تھا آج آپ کا بھتیجا آپ کے لئے ذلیل ہو گیا ۔ آپ کو پتہ ہے آپ نے بہت کچھ غلط کیا لیکن افسوس آپ کو اس غلط کا احساس تب ہوا جب وقت نکل چکا تھا ۔

یشام کیا تم ہمیں ایک موقع نہیں دے سکتے ۔۔۔۔۔؟ صرف اور صرف ایک موقع ہم تم سے اور کچھ بھی نہیں مانگتے ہم سب کچھ ٹھیک کر دیں گے یشام بس ایک بار ہمیں موقع تو دو ۔

وہ التجا کر رہے تھے ۔

میرے پاس آپ کو دینے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے کچھ بھی نہیں نہ تو میرے اندر آپ کے لیے کوئی جذبات ہیں اور نہ ہی کوئی شکوہ کوئی گلا جو کچھ میرے نصیب میں لکھا تھا وہ مجھے مل گیا اور جو نفرت میں اتنے سالوں سے آپ کے لئے پال رہا تھا وہ آپ کا یہ بے بس انداز اور جھکا ہوا سر مجھے کرنے کی اجازت نہیں دے رہا اگر دشمن ہار مان جائے تو اسے معاف کر دینا ہی اس کی سزا ہے ۔

لیکن میری بے بسی دیکھیں نہ تو میں آپ کو معاف کر رہا ہوں اور نہ ہی کوئی سزا دیتا رہا ہوں ۔

میرے دل میں آپ کے لیے کچھ بھی نہیں ہے کاظمی صاحب خدا کے لئے بار بار میرے سامنے آنا بند کریں میں نے آپ کو اور آپ کے پورے خاندان کو اپنی حرم کے صدقے معاف کر دیا ۔مجھے آپ لوگوں سے کچھ بھی نہیں چاہیے

حرم چاہتی ہے کہ میں پندرہ دن اس حویلی میں رکوں اور آپ لوگوں کی محبت پر ایمان لے آؤں اس کی خاطر میں یہاں پندرہ دن رکنے کو تیار تو ہو گیا ہوں لیکن آپ لوگوں کی محبت سے مجھے کوئی لینا دینا نہیں ہے میں پندرہ دن کے بعد اپنی حرم کو لے کر یہاں سے چلا جاؤں گا ۔

اور میں امید کرتا ہوں کہ اب آپ بار بار میرے سامنے آ کر یہ محبت والا ڈرامہ نہیں کریں گے مجھے نہیں چاہئے آپ کی محبتیں اور نہ ہی میں بار بار آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں ۔

مجھے شرم آتی ہے یہ سوچ کر کہ میں آپ کے خاندان کا خون ہوں آپ لوگوں سے میرا تعلق ہے آپ لوگوں نے میرا سب کچھ چھین لیا میری خوشیاں میرا باپ میری ماں میرے باپ کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے ایسی عورت سے محبت کی جو اس کے دین سے محبت کرتی تھی ۔

لیکن میرا باپ یہ نہیں جانتا تھا کہ دین سے محبت کرنے والوں کو بھی ایسی سزا ملتی ہیں خدا کے لئے اب بار بار میرے سامنے مت آئیے گا ۔

یہ شکل ضرور احمر کاظمی کی ہے لیکن اس میں موجود احمرکاظمی کا دل نہیں جو آپ کو معاف کرنے کا حوصلہ اپنے اندر رکھتا ہوں وہ کہہ کر وہاں سے جا چکا تھا جب کہ دادا جان بس اسے جاتے ہوئے دیکھتے رہ گئے

°°°°°°°

خداش یہ لیجئے آپ نے منگوایا تھا ۔دیدم نے لا کر اسے پھولوں کی تھال پکڑائی تھی ۔

اور پھر اس کے ساتھ ہی رک کر اس سے باتیں کرنے لگی تھی وہ جو کب سے بیٹھی خداش کو ہی دیکھ رہی تھی دیدم کے ساتھ اس کا ہنستا کھیلتا انداز اسے آگ ہی تو لگا گیا تھا

وہ اس سے اتنی کھل کر کہاں بات کرتی تھی ہمیشہ ایک فاصلہ ان لوگوں کے بیچ رہتا تھا آج وہ اسے ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہا تھا ۔

دیدم کا بار بار مسکراتے ہوئے اس کے کندھے کو ہاتھ لگانا اور پھر کسی بات پر ہنس کر اس سے بے تکلف ہونا اور وہ جو ہر وقت اپنے چہرے پر بارہ بجائے رہتا تھا آج بڑی فرصت سے اس کی ایک ایک بات کا جواب دے رہا تھا ۔

وہ کافی دیر برداشت کرتے ہوئے انہیں دیکھتی رہی تھی پھر نجانے اچانک اسے کیا ہوا کہ اپنی جگہ چھوڑ کر اس کے پاس آرکی

دیدم کوئی کام تھا تمہیں۔۔۔۔؟ وہ سیدھا اسی سے مخاطب ہوئی تھی

میں نے کب تم سے کہا کہ مجھے تم سے کوئی کام ہے دیدم کچھ حیران ہوتے اس سے بولی

میں اپنی بات نہیں کر رہی میں ان کی بات کر رہی ہوں کیا تمہیں خداش سے کوئی کام ہے ۔اس کا انداز پھاڑکھانے والا تھا

نہیں مجھے کوئی کام نہیں ہے تم ایسے کیوں پوچھ رہی ہو ۔۔۔۔؟

کیوں کہ میں کب سے نوٹ کر رہی ہوں کہ تم ان کے پاس کھڑی ہو مجھے لگا شاید تمہیں کوئی ضروری کام ہوگا تبھی کھڑی ہو گی ورنہ شاید تم کسی نہ کسی کام میں مصروف ہوتی ۔

وہ مجھے پھولوں کی یہ تھال دینے کے لئے آئی تھی اس کے لہجے کی جلن محسوس کر کے خداش نے خود ہی بات کو ختم کرنا چاہا ۔

ہاں تو دے تو دیا اس نے آپ کو پھولوں کا تھال تو یہاں کیوں کھڑی ہے ۔۔۔وہ اب سیدھی اس سے مخاطب ہوئی تھی ۔

دیشم خداش میرے کزن ہیں اگر میں ان سے کھڑی ہو کر دو منٹ کے لیے بات کر رہی ہوں تو میرا نہیں خیال کہ اس سے تمہیں کوئی مسلہ ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے ہے مسئلہ بہتر ہوگا کہ اپنے کام سے مطلب رکھو خداش آج سے پہلے تمہارے لیے بھائی تھے نہ تو آگے بھی بھائی ہی رہنے چاہیے ۔

دیشم فضول میں بات کو بڑھا رہی ہو اس کے انداز پر وہ تیز آواز میں بولی تھی

ہاں شاید میں فضول میں بات کو بڑھا رہی ہوں اگر تم نہیں چاہتی کہ میں اس بات کو مزید بڑھاوں تو دفع ہو جاؤ یہاں سے میں کوئی آنکھوں سے اندھی نہیں ہوں دکھتا ہے مجھے کہ تم کس طرح میرے شوہر سے فری ہونے کی کوشش کر رہی ہو ۔

کیا بات ہے دیشم کاظمی تم نے تو اپنے رنگ ہی بدل لئے کل تک تو تم انہیں اپنا شوہر مانتی ہی نہیں تھی اور آج ان پر کسی کی نظر تم سے برداشت نہیں ہو رہی

اور کیا کہاتم نے کہ میں ان پر نظر رکھ رہی ہوں تو ذرا جا کر اپنی ساس اور سسر سے پوچھ لو کہ وہ مجھے کیوں کہہ رہے ہیں خداش کا خیال رکھنے کا ۔

اگر تم اتنی اچھی بیوی ہوتی نہ تو کم از کم کیا تایا ابو اور تآئی امی مجھے ان کی ذمہ داری ہرگز نہیں دیتے وہ بھی بنا کوئی لحاظ رکھے ہوئے بولی توخداش نفی میں سر ہلا تھا اس کی طرف متوجہ ہوا ۔

دیشم فضول باتیں ختم کرو اور بارات کے ویلکم کا انتظام کرو تھوڑی ہی دیر میں بارات یہاں پہنچنے والی ہوگی ۔

اس کا اندازہ سمجھانے والا تھا اور دیشم جو یہ سوچ رہی تھی کہ خداش دیدم کو اس بات کا کوئی کرارا جواب دے گا ۔اس کے بات کو اگنور کرنے پر وہ اسے دیکھ کر رہ گئی

ہو جائے گا بارات کا ویلکم پہلے مجھے یہ بتائیں امی اور ۔۔۔۔۔۔۔

وہ میرا فیوچر اب بھی دیدم کے ساتھ سوچ رہے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ تمہیں اس بات سے کوئی بھی مسئلہ ہونا چاہیے ویسے بھی تو شادی کے بعد ہماری طلاق ہونے والی ہے تو فضول کی بحث بند کرو اور اپنے کام پر توجہ دو اور دیدم پلیز تم میرے ساتھ آؤ مجھے دوسرے کپڑے نکال کے دوصبح سے میں یہی پہنے گھوم رہا ہوں ۔وہ دیدم کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا ہوں وہاں سے نکل چکا تھا

جب کہ یہ سب کچھ دیشم کے لیے ناقابل قبول تھا

اس کی جگہ کسی اور کو دی جا رہی تھی یعنی کہ خداش کوئی مذاق نہیں کر رہا تھا بلکہ سچ مچ میں اپنی دوسری شادی کے بارے میں سوچا جا رہا تھا

لیکن ایسا کیسے ہو سکتا تھا کیا اس کی غلطی اتنی بڑی تھی کہ جس کو معاف نہ کیا جا سکے ۔

کیا وہ سچ میں اسے طلاق دینا چاہتا تھا ہاں تو اس میں غلط کیا تھا وہ خود بھی تو اس سے طلاق چاہتی تھی اس کے اندر سے کسی نے کہا تھا

لیکن یہ سب کچھ اس طرح سے تو نہیں چاہتی تھی یا شاید وہ ایسا چاہتی ہی نہیں تھی

°°°°°

نہیں یہ والا بھی نہیں پہنوں گی یہ والا پہنوں۔۔۔۔اف سر شوہر کہاں رہ گئے آپ کم ازکم آکر میری تھوڑی سی تو مدد کردیں یہ کون سا طریقہ ہے یہاں شوہراپنی بیوی کی مدد کرنےکےلیے کیا نہیں کرتے اور ایک میرے شوہرسر ہیں صبح صبح بھاگنے چلے جاتے ہیں۔

وہ منہ بنائے بول رہی تھی۔

تم نے پکارا اور ہم چلے آئے بولیں مسز کیا خدمت کی جائے آپ کی وہ اس کی ساری باتوں کو سن چکا تھا اسی لئے مسکراتے ہوئے کمرے کے اندر داخل ہوا

اور بیڈ پر سجے مینا بازار کو دیکھنے لگا ۔

آگئے آپ کی بہت لمبی زندگی ہے میں جب بھی آپ کو یاد کرتی ہوں آپ بوتل کے جن کی طرح حاضر ہو جاتے ہیں وہ خوش ہوتے ہوئے اس کے پاس آئی تھی جب کہ خود کو جن کہلوانے پر وہ ٹھیک ٹھاک مسکرا دیا سکا ۔

یہ سارے کپڑے دیکھیں اور بتائیں کہ میں ان میں سے کونسا ڈریس پہنوں آج کے لئے آج بارات آنے والی ہے اور ویرو نے مجھے یہ چار سوٹ لا کر دیے ہیں ویسے پسند تو مجھے چاروں ہیں لیکن میں ایک ساتھ پہن نہیں سکتی اسی لیے مجھے بتائیں کہ میں کونسے والا پہنوں ۔کیایہ بلو والا پہنوں کتنا پیارا ہے لیکن یہ پنک والا زیادہ پیار ہے ۔

اور وہ پر پل والا ۔۔۔۔

ہاں مجھے پتا ہے تمہاری نیت سب پر خراب ہے لیکن میرے خیال میں تمہیں یہ ریڈ والا پہننا چاہیے کیونکہ یہ تم پر سب سے زیادہ سوٹ کرتا ہے ۔

اس نے فورا ہی اس کے مسئلے کو حل کرتے ہوئے ریڈ والے پر انگلی رکھی تھی ۔

مجھے پہلے ہی پتہ تھا یہ والا مجھ پر سب سے زیادہ اچھا لگے گا فضول میں آپ کا انتظار کیا اب تک تو میں تیار ہو کر بیٹھ جاتی ۔وہ اس کا تھینکیو بولنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی یہ تو وہ جانتا ہی تھا لیکن وہ اس طرح سے اپنے انتظار کا احسان جتائے گی اس بات کا اندازہ اسے ہرگز نہیں تھا ۔

لیکن وہ حرم یشام احمر تھی اس پر یہی انداز سوٹ کرتا تھا ۔

آپ کون سے والے پہنیں گے ویسے میں نے آپ کے دونوں سوٹ نکال کر رکھ دیے ہیں یہ ویرو آپ کے لئے لے کر آئے ہیں ویسے مجھے بلیک والا زیادہ پسند آ رہا ہے تو آپ وہیں پہنیں میں بھی تو آپ کی مرضی کا پہن رہی ہوں نہ

تو اس حساب سے آپ کو بھی میری مرضی کے کپڑے پہننے چاہیے چلے آپ کے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے وہ سوٹ اٹھا کر اسے دے چکی تھی جبکہ اس کے انکار کو تو اس نے ویسے بھی کوئی اہمیت ہی نہیں دی تھی ۔

حرم میری بات تو سنو میں وہاں نہیں جارہا میں کسی کو نہیں جانتا میں کیا کروں گا وہاں جاکر اور تمہیں پتا ہے مجھے اس طرح کے فنکشن پسند نہیں ہیں میں بور ہو جاؤں گا ۔

ارے آپ بور کیسے ہو جائیں گے اتنی کیوٹ اتنی پیاری اتنی معصوم بیوی آپ کے ساتھ ہے جو بار بار آپ کو دیکھے گی شرمائے گی ۔میں ہوں نا آپ کے ساتھ آپ کو بالکل بور نہیں ہونے دوں گی چلیں اب آپ مجھے بور نہ کریں ۔

وہ زبردستی اس سے چینجنگ روم میں دھکا دیتے ہوئے بولی تو اس کا انکار انکار ہی رہ گیا ۔کیونکہ حرم کے سامنے انکار کرنا بہت مشکل تھا

اور ویسے بھی اس کی بیوی بہت کیوٹ اور بہت پیاری پلس معصوم تھی جو بار بار اسے دیکھ کر شرمانے والی تھی تو یہ والی ڈیل بری تو ہرگز نہیں تھی

°°°°°°°