65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 81)

Junoniyat By Areej Shah

کیا مطلب ہے آپ کا کیوں نہیں دیں گے آپ لوگ ہمیں احمر کی لاش ۔۔۔۔۔؟میں ان کی بیوی ہوں اور یہ میرا بیٹا ہے وہ بہت ہمت کرکے ہسپتال پہنچی تھی جہاں احمر کی لاش کو اس کے بھائی لے کر پاکستان جا رہے تھے ۔

دیکھیں میم یہ ساری چیزیں ہمیں نہیں پتا جو ہمیں لاش کی ساری ڈیٹیل دے گا ہم لاش اسی کے حوالے کریں گے اور وہ لوگ اس کے بھائی ہیں ۔

جو کہ ساری فارمیلٹیز پوری کر چکے ہیں اور اب وہ اس کو اپنے ساتھ پاکستان لے کر جا رہے ہیں ۔

ڈاکٹر نے بات ہی ختم کر دی تھی ۔

ماما ہم چل کر تایا جان سے بات کرتے ہیں میں نے یہاں اندر آتے ہوئے انہیں باہر کھڑے دیکھا تھا ۔یشام اس کا ہاتھ تھامے ہوئے بولا تھا اسے اندر آتے ہوئے کسی چیز کا ہوش نہیں تھا ۔

اس نےباہر کھڑے کسی کو نہیں دیکھا تھا لیکن اگر یشام کہہ رہا تھا تو یقینا اس کے بھائی یہاں پہنچ چکے تھے ۔

اور ممکن تھا کہ اس کے بھائی ہی اس لاش کو لے کر جانے والے ہوں۔ہوسکتا ہے جس کی ڈیٹیل کی بات ڈاکٹر کر رہاہو وہ ساری ڈیٹیل راحیل نےنہیں بلکہ ان لوگوں نے ہی دی ہوں۔

چلو آؤ باہر چل کر دیکھتے ہیں کہ تمھارے تایا کہاں ہیں ہم انہی سے ہی اس سلسلے میں بات کریں گے اپنے آنسوؤں کو صاف کرتے ہوئے اس نے خود کو مضبوط کیا تھا

جبکہ یشام اس کے ساتھ لگا باہر کی طرف جانے لگا تھا یہ لمحہ ان دونوں کو بری طرح سے توڑ چکا تھا لیکن وہ اپنے آپ کو مضبوط کرتے ہوئے ان مشکل حالات کا سامنا کر رہے تھے ۔جس میں وہ سب کچھ لٹا چکے تھے

°°°°°°°

آخر یہ فرض بھی ادا ہوا تھا بابا جان کو سہارا دے کر اندر لایا گیا تھا بے شک وہ اپنی زندگی کا سب سے مشکل اور خوشگوار پل گزار کر آئے تھے حرم نے ان کے لئے پانی لاکر انہیں پلایا تھا ۔

یشام بیٹا آؤ بیٹھو ہمارے پاس وہ اندر داخل ہوتا سیڑھیوں کی طرف جا رہا تھا سب لوگ وہیں بیٹھے ہوئے تھے جب دادا جان نے بے حد محبت سے اسے پکارتے ہوئے کہا تھا ۔

نہیں شکریہ۔۔۔۔۔” اس نے سرد لہجے میں جواب دیا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا جب اچانک حرم بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئی۔

شوہرسر آپ بھی نا سب اتنے پیار سے کہہ رہے ہیں تو تھوڑی دیر آکر بیٹھ جائے نہ ہمارے پاس شادی مزے کی تھی نہ بورنگ تو نہیں لگی آپ کو ویسے میں اچھا شرمالیتی ہوں نا وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی اپنے ساتھ نیچے گھسیٹ لی تھی ۔

حرم میں تھوڑی دیر آرام کرنا چاہتا ہوں اس نے حرم کو دیکھتے ہوئے ذرا سختی سے کہا تھا یقیناً وہ ان لوگوں میں نہیں رہنا چاہتا تھا لیکن حرم کو کون سمجھتاجو ہمیشہ سے اپنی کرنے اور اپنی سننے کی عادی تھی ۔

ارے بیٹھ جائیں آرام سے ساتھ چلیں گے ابھی تو آپ نے چائے نہیں پی کیا یاد کریں گے آج میں آپ کو اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر پلاؤں گی ۔

خدا کے لئے بالکل بھی نہیں بہت بری چائے بناتی ہو تم خداش نے پیچھے سے کہا تھا ۔

ہاں تو میں بری بناوں یااچھی بناؤں میں اپنے شوہر کے لئے بناؤں گی آپ کو کیا مسئلہ ہے آپ کو پینے کے لیے نہیں کہہ رہی میں ۔اور میرے شوہر سرنا میں جیسی بھی بناؤں پی لیتے ہیں انہوں نے تو میرے ہاتھ کا بنا کھانا بھی اتنےپیار سےکھا لیا تھا آپ کی طرح نہیں ہیں یہ جو ہر چیز میں نقص نکالنے بیٹھ جائیں ۔

اللہ پاک کے فضل و کرم سے بہت ہی نیک اور فرمانبردار شوہر ملا ہے مجھے ہیں نا شوہر سرآپ یہاں بیٹھیے میں آپ کے لئے ابھی دو منٹ میں چائے بنا کر لاتی ہوں ۔

حرم ایسے شوہر کو فرمانبردار اور نیک نہیں بیچارا کہتے ہیں خداش کو یشام پر بے ساختہ ترس آیا تھا ۔جب سے وہ یہاں آئی تھی اس سے صرف اپنی ہی منوائے جا رہی تھی ۔

آپ تو بس جلتے ہی رہنا مجھ سے خود تو فرمانبردار بیوی نہیں ملی نہ اسی لیے میری خوشیاں دیکھی نہیں جا رہی آپ سے اس نے اسے گھورتے ہوئے بے مثال قسم کا طعنہ مارا تھا جس پر خداش نے ایک نظر دیشم کو دیکھا ۔جو شرمندگی سے سر ہی نہ اٹھا سکی

اب ایسی بات بھی نہیں ہے میں بھی چائے بنا کر لا سکتی ہوں۔اپنی ماں کو خود کو گھورتے پا کر وہ شرمندہ ہوتے ہوئے اٹھی تو سب کے قہقےبلند ہوئے ۔

جب کہ وہ خاموشی سے بنا کچھ بھی بولے کیچن میں گھس گئی تھی ۔

یشام یار میں معذرت خواہ ہوں تمہارے سامنے بیٹھ کر میں اچھی چائے پیوں گا اور تم ۔۔۔۔۔۔” خداش اس کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہوئے اظہار افسوس کر رہا تھا ۔

اس کی ادھوری بات کا مطلب وہ بہت اچھے طریقے سے سمجھ گیا تھا ۔

نہیں کوئی بات نہیں اتنی بھی بری چائے نہیں بناتی وہ اس نے خود کو دلاسہ دیا تھا ۔

ہاں پتا ہے اتنی بری نہیں بلکہ بہت بری بناتی ہے ۔بیسٹ آف لک خداش نے اس کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا جب کہ سامنے بیٹھے دادا جان مسکرائے جا رہے تھے

°°°°°°°

یہ لیں جناب گرماگرم مزیدار چائے حاضر ہے اس نے چائے کا کپ لاکر اس کے سامنے رکھا تھا ۔

تمہیں کیسے پتہ کہ مزے دار ہے کہ تم پی کر آئی ہو ۔۔۔۔؟خداش نے چائے کا نورمل رنگ دیکھ کر کہا ۔

کیا مطلب آپ کو لگتا ہے میں جھوٹی کر کے لائی ہوں جی نہیں مجھے ایسی تربیت نہیں دی گئی کہ کسی کو اپنا جھوٹا کھلاؤں ہاں میں جانتی ہوں جھوٹا کھانے سے پیار بڑھتا ہے لیکن الحمدللہ ہم دونوں میں پیار نیکسٹ لیول کا ہے تو اس کو بڑھانے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔وہ بے لگام بولے جا رہی تھی جب امی کو بیچ میں بولنا پڑا ۔

حرم آہستہ اور ٹھہر کر بات کیا کرو یہ کون سا طریقہ ہے کب کون سی بات کس کے سامنے کرنی ہے کوئی اندازہ نہیں ہے تمہیں ۔

یہ باتیں سب کے بیچ تھوڑی نہ کی جاتی ہیں ۔امی کا انداز اسے ڈانٹنے والا تھا ۔

امی جان آپ بھی نا بچی ہے جانے دیں اور یشام چائے چکھ کر بتاؤ گے کیسی ہے شکل سے تو ٹھیک ٹھاک لگ رہی ہے ۔

ٹیسٹ سے بھی بہت اچھی ہے وہ جو ماں کی بات پر موڈ آف کرکے بیٹھنے والی تھی ایکسائیٹڈ سی یشام کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی ۔

ہاں یشام دو میری پوتی کو نمبر کتنے دو گے دادا جان بھی اس کی طرف سے رزلٹ کے منتظر تھے ۔

جبکہ وہ بھی اسے نظر انداز کرتے ہوئے چائے کا ایک گھونٹ لے چکا تھا ۔

کیسی ہے ۔۔۔۔؟وہ دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی تھی

زبردست بہت اچھی اس نے مسکراتے ہوئے ایک بار پھر سے کب لبوں سے لگایا تھا

اس کے انداز سے کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کوئی جھوٹ بول رہا ہے یا اسے خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہے حرم کی خوشی کی کوئی انتہا ہی نہ رہی جب کہ وہاں موجود سب کے چہروں پر مسکراہٹ آ گئی تھی ۔

کیا بات ہے یار تم نے سچ میں اچھی چائے بنائی تمہیں تو انعام ملنا چاہیے وہ اپنی جیب سے پانچ ہزار کا نوٹ نکالتے ہوئے اس کی طرف بڑھانے لگا تھا جب کچن سے دیشم ڈبا لے کر باہر نکلی۔

حرم بے وقوف لڑکی یہ کیا کیا ہے تم نے چینی کے بجائے نمک ڈال دیا چائے میں یہ کیا اوپر تمہیں نمک لکھا ہوا پڑھنا نہیں آیا ۔

حد ہوتی ہے کسی چیز کی اور مجھے بھی یہی پکڑا کر باہر آگئی اگر میں نمک ڈال دیتی چائے میں تو ۔۔۔۔۔۔۔؟وہ اسے ڈانٹتے ہوئے بول رہی تھی جب کہ خداش اپنا نوٹ واپس جیب میں ڈال چکا تھا اور یشام کپ خالی کر کے سامنے ٹیبل پر رکھ چکا تھا۔

حرم ایک بات بتاؤں میں کبھی تمہارے معاملے میں غلط ہو ہی نہیں سکتا مجھے ہنڈریڈ پرسنٹ یقین تھا تم اچھی چائے نہیں بناؤ گی لیکن تمہارا شوہر تو سچ میں ضرورت سے زیادہ تمہارا فرمانبردار ہے ۔

بھائی یہ تو نے گلے سے اندر کیسے کی۔۔۔۔۔؟اس نے ہنستے ہوئے یشام سے پوچھا تھا جو صرف اور صرف حرم کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔

جو غصے سے سرخ ہو رہا تھا یا شرم سے جاننا اس کے لیے ذرا مشکل تھا ۔

حرم چائے اچھی تھی ۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں چمکتے آنسو دیکھ کر وہ پریشان ہو کربولا تھا جب کہ حرم کو رونے کی تیاری پکڑتے دیکھ خداش بھی اسے دیکھنے لگا ۔

نہیں تھی اچھی میں بری ہوں ۔مجھ سے کچھ بھی اچھے سے نہیں ہوتا سب مجھے پاگل سمجھتے ہیں ۔وہ روتے ہوئے اپنی آنکھیں رگڑتی سب کچھ وہیں چھوڑ چھاڑ کر اپنے روم میں بھاگ گئی تھی ۔

حرم۔۔۔۔۔حرم۔۔یار ۔۔اچھی تھی چائے وہ اس کے پیچھے گیا تھا جب کہ خداش بھی اٹھ کر اس کے پیچھے جانے لگا جب دادا جان نے اسے روک لیا ۔

خداش چھوڑو اسےبیٹا وہ خود سنبھال لے گا ۔

ان کے کہنے پر وہ واپس بیٹھ گیا تھا جب کہ خداش کا دھیان سامنے خالی چائے کے کپ تھا ۔

ویسے اچھا لڑکا ہے یہ یشام حرم کے لئے تو بہت اچھا ہے ۔۔۔۔ اس نے دادا جان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دیئے

°°°°°°°

بھائی صاحب ۔۔۔۔؟ وہ لوگ احمر کےبے جان وجود کو ایمبولینس میں شفٹ کر رہے تھے مطلب صاف تھا کہ وہ اسے پاکستان لے کر جا رہے تھے یقینا ساری کاغذی کاروائی کر لی گئی تھی

اس نے دیکھا تھا راحت صاحب بری طرح سے رو رہے تھے ۔یہ لمحہ یقینا ان کے لئے بھی بہت دردناک تھا ۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی ہمارے سامنے آنے کی شرم نہیں آئی بے غیرت عورت ۔۔۔۔۔ہمارے بھائی کی جان لے لی تم نے پھر بھی سکون نہیں ملا ارے کہیں شرم سے ڈوب مرو ۔جو تم چاہتی تھی وہی ہوا مر گیا ہمارا بھائی چھوڑ کر چلا گیا ہمیں ہمیشہ کے لئے ۔

یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔۔۔؟ وہ پہلے بھی ان کے منہ سے بڑے الفاظ سنتے آئی تھی لیکن اس طرح کے خنجر اسے کسی نے نہیں مارے تھے ۔

ہم کیا کہہ رہے ہیں بلکہ یہ پوچھو کہ اب ہم کیا کریں گے ۔شرم تو تمہیں آئی نہیں ہوگی ۔یہ گھٹیا کام کرتے ہوئے تمہارا سچ ہمارا بھائی برداشت نہیں کرسکا تمہارا گھٹیا کردار ہمارے بھائی کی جان لے گیا ۔

لیکن یہ مت سوچنا کہ ہم اس چیز کو ایسے ہی چھوڑ دیں گے تمیں سزا ملے گی ۔اور ایسی سزا ملے گی تم ساری زندگی یاد رکھو گی ارے وہ بیچارہ تو تمہیں عزت کی زندگی دینے جا رہا تھا تمہیں سارے خاندان کے سامنے اپنا نام دے رہا تھا پوری برادری کے خلاف جا کر تمہیں اپنی عزت بنا چکا تھا اور بابا جان بھی راضی ہوگئے تھے ان سب چیزوں کے لیے ۔

لیکن تم نے اپنا اصلی رنگ دکھا دیا اور یہ کس کی ناجائز اولاد ہے جسے احمر کا نام دے کر ہر طرف گھوم رہی ہو ۔۔۔۔؟ یہ کس کا گندا خون ہے ۔جسے لے کر اتنے سالوں تک تم احمر کو بیوقوف بناتی رہی ۔

وہ بولنے پر آئے تو بولتے ہی چلے گئے وہ اس کے کردار کی دھجیاں اڑا رہے تھے جب کہ وہ خاموشی سے آنسو بہاتی انہیں سن رہی تھی وہ سننے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتی تھی کیونکہ اس سے اس کا مان تو چھین لیا گیا تھا وہ جو اس کے نام پر لڑا کرتاتھا وہ تو اس سے دور ہو گیا تھا ۔

وہ جانتی تھی وہ جس طرح کے بیک گراونڈ سے آئی ہے کوئی بھی اسے عزت کی نظروں سے تو نہیں دیکھتا ہوگا ۔لیکن ان کی نظروں میں وہ اتنا گر چکی تھیں اس بات کا احساس اسی آج ہوا تھا ۔

تمہارے پاس پندرہ دن کاوقت ہے ان پندرہ دن کے اندر اندر اس گھر کو چھوڑ دو جس میں تم احمر کے ساتھ رہتی تھی ۔

تمہیں کوئی حق نہیں ہے احمر کے نام پر رہنے کا اس گھر میں تم اب ہمیں ایک سیکنڈ بھی نظر نہ آؤتو تمہارے حق میں بہتر ہوگا ۔

جتنا جلدی اپنا انتظام کر سکتی ہوکرو اور اپنی اس گندی اولاد کو لے کر وہاں سے ہمیشہ کے لئے چلی جاؤ ۔

بس کردیں میں جانتی ہوں آپ کو مجھ سے کوئی ہمدردی نہیں ہے اور نہ ہی آپ لوگ میری شکل دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بار بار آپ میرے بیٹے کو گالی نہیں دے سکتے یہ آپ کے بھائی کا خون ہے ۔اس کی اولادہے خون ہے اس کا

اگر اسے لے کر آپ اتنی گندی اور گری ہوئی سوچ رکھتے ہیں تو خدا کے لئے میرے بیٹے کے ذہن میں یہ گھٹیا الفاظ نہ ڈالیں ۔میں مسلمان نہیں تھی لیکن میں جانتی ہوں کہ اس دین میں آنے کے بعد میں کیسی ہوں۔ مجھے اپنے کردار کی گواہی دینے کی ضرورت کسی کو بھی نہیں ہے

لیکن آپ میرے بیٹے کے بارے میں اس طرح کے الفاظ استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے اگر آپ کو کوئی شک ہے تو آپ لوگ ابھی اور اسی وقت میرے بیٹے کا میڈیکل چیک اپ کروا سکتے ہیں ۔اپنی آنکھوں سے آنسو رگڑتے ہوئے اس نے انہیں آفر کی تھی ۔

ارے بند کرو اپنی بکواس گھٹیاعورت۔۔۔۔۔۔”ہم تو جیسے تمہارے بارے میں کچھ جانتے ہی نہیں ۔ارے بھائی صاحب یہ لڑکی صرف اور صرف احمر کے حصے کے لیے ڈرامے کر رہی ہے

تاکہ اس کے حصے کی جائیداد اس کے بیٹے کے نام ہو جائے اسی لئے تو یہ پلاننگ کی ہے اس نے اسی نے مروایا ہے احمر کو اسےراحیل کی آواز سنائی دی تھی ۔

بھائی صاحب یہ ساری باتیں بعد میں فی الحال احمر کو پاکستان لے کر چلتے ہیں باباکی حالت بہت نازک ہے ۔ثقلین نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا جبکہ راحت صاحب اگلے ہی لمحے اسے پیچھے دھکا دیتے ہوئے وہاں سے نکل چکے تھے ۔

ماما وہ بابا کو لے کر جا رہے ہیں روکیں انہیں ۔ماما پلیز

وہ یشی کے بابا کو لے کر جا رہے ہیں

یشی کے بابا کو مت لے کر جاؤ ۔وہ گاڑی کے پیچھے دوڑنے لگا بنا کسی کی پرواہ کیے وہ بس اپنے باپ تک پہنچنا چاہتا تھا ۔

لیکن گاڑی بہت تیز چل رہی تھی وہ زیادہ دور تک پیچھا نہ کر سکا لیکن اس کی چیخوں کی آواز دور تک سنائی دیتی رہی مگر وہاں کسے پروا تھی وہ تو اس کے باپ کو ہمیشہ کے لیے اس سے چھین کر لے گئے تھے ۔

اس سڑک پر بیٹھ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا جبکہ اس کے پیچھے آتی کنیز نے اسے اپنے سینے سے لگایا تھا ۔

ماما وہ لوگ لے گئے میرے بابا کو لے گئے وہ لوگ وہ روتے ہوئے اپنی ماں کے سینے سے لگا بولے جا رہا تھا ۔جبکہ وہ بھی اسے اپنے ساتھ لگائے اپنے آنسوؤں کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔

°°°°°°°°°

حویلی میں ہر طرف شور مچا ہوا تھا گاڑی حویلی کے اندر داخل ہوئی تو ڈھول باجے بجنا شروع ہوگئے ۔اور ڈھول باجوں کے ساتھ ساتھ اسے گولیاں چلنے کی آواز سنائی دینے لگی

وہ اگلی سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا جب کہ وہ سارے راستے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے آئی تھی راستہ زیادہ لمبا نہیں تھا وہ جلد ہی حویلی پہنچ گئے تھے ۔

عمایہ نے اسے تھام کر باہر کھڑا کیا تھا اتنے سارے لوگوں کو دیکھ کر ایک لمحے کے لیے چکرا گئی تھی ۔

آپ فکر نہ کریں ابھی کوئی رسم نہیں ہو گی ساری رسمیں کل صبح ہوں گی ہمیں پتا ہے آپ بہت زیادہ تھک گئی ہیں میں آپ کو آپ کےروم تک چھوڑکر آتی ہوں ۔

وہ اسے تھا مے ہوئے اندر لے کر جا رہی تھی حویلی کی بہت ساری عورتیں باہر کھڑی اس پر پھول نچھاور کر رہی تھی جب کہ وہ عمایہ کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھاتی اندر جا رہی تھی اسے تو بس کسی بھی طریقے سے اس لہنگے سے جان چھڑانی تھی ۔

یہ تم مجھے آپ آپ کیوں کہہ رہی ہو قسم لے لو میں تمہاری دادی تو ہرگز نہیں لگتی ۔وہ اپنی کیٹی اس کی گود میں پکڑاتے ہوئے کہنے لگی ۔

اچھا سوری مجھے لگا تمہیں برا لگے گا ۔عمایہ نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

برا کیوں لگے گا ہےخیر اس کا کتا کہاں ہے ۔۔۔۔؟اسے اچانک ٹائیگر کی یاد آئی تھی ۔

شائزم بھائی کے ٹائیگر کو بھی جانتی ہو تم وہ اوپر ہوتا ہے اپنے روم میں لیکن اسے کتا کوئی نہیں کہتا بھائی برا منا جاتے ہیں ۔

وہ سب کچھ تم لوگوں کے لیے ہے میرے لیے تورولز تھوڑے الگ ہیں اب مجھے روم تک چھوڑو میں بہت تھک گئی ہوں ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی ۔جب ماما کی آواز آئی ۔

لگتا ہے امی نیچے مہمانوں کے پاس کھڑی ہیں میں ایک منٹ میں واپس آتی ہوں اس نے سامنے سے تانیہ کو آتے دیکھ کر اس سے کہا تھا جب کہ وہ ہاں میں سر ہلاتے وہی رک گئی تھی

ہائے بھابھی جی کیسی ہو تم اور کیسی لگی یہ حویلی ویسے اس طرح کے گھر تم نے ابھی ہوسٹل میں تو نہیں دیکھے ہوں گے اس کا انداز طنز سے بھرپور تھا جبکہ اسے دیکھ کر اسے دیدم کی یاد آگئی تھی ۔

قسم سے مجھے تم جیسی ولن ٹائپ لڑکیوں پر نا بڑا ترس آتا ہے ۔ اس وقت میری آنکھوں کے سامنے سے دفع ہو جاؤ میرا بالکل کوئی ارادہ نہیں ہے تمہاری شکل دیکھنے کا ویسے اچھی خاصی خوبصورت ہو تمہارے کسی کزن کا تم پر دل نہیں آیا سمجھ گئی تمہاری ولن ٹائپ کوالٹی کی وجہ سے۔۔۔ ہوتا ہے میری جان ہوتا ہے باہر دیکھو کوئی خاندان سے باہر کوئی تمہیں مل جائے ۔

ہم خاندانی لڑکیاں ہیں گھر سے باہر تو منہ نہیں مارتی ۔تانیہ نے اپنی طرف سے اس نے منہ توڑ جواب دیا ۔

الےالے بےبی اسی لیے تو خاندانی لڑکے تم لوگوں کو منہ نہیں لگاتے باہر منہ مار کر ہمیں ڈھونڈ کر لاتے ہیں ۔

ویسے کہاں گیا تمہارا خاندانی لڑکا ویسے مجھ سے تو اچھی تھی لیکن افسوس تم ایکسٹرا خاندانی تھی ۔اس نے مسکراتے ہوئے عمایہ کو آتے دیکھا اور اس کی طرف قدم بڑھا دئیے جبکہ تانیہ چہرہ دھواں دھواں ہو چکا تھا ۔

°°°°°°°°°°