Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 71)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 71)
Junoniyat By Areej Shah
ہیلو حرم کیسی ہو تم ۔۔۔۔۔؟
یار تم تو بڑی چھپی رستم نکلی تم نے کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی کہ تمہارا سر یشام کے ساتھ افیئر چل رہا ہے ۔
میں تو تمہیں بچی سمجھ رہی تھی لیکن تم تو بڑی تیز ہو یار کسی سٹوڈنٹ کے بجائے تم نے تو سیدھا سرکوہی پٹا لیاماننا پڑے گا تمہیں
اس کی کلاس فیلو اس سے کہتے ہوئے اس کا راستہ روک چکی تھی جب کہ وہ کنفیوز ہونے لگی تھی ۔
کل تک یہی لڑکیاں سریشام پر نگاہیں رکھے ہوئے تھی اور آج اسی پر الٹی سیدھی باتیں بنا رہی تھی۔
وہ کافی دیر تک انہیں سنتی رہی یا یہ کہنا ٹھیک رہے گا کہ وہ انہیں برداشت کرتی رہی
لیکن آہستہ آہستہ یہ سب کچھ اس کے بس سے باہر ہونے لگا تھا وہ اسے تنگ کرنے لگی تھیں
جب اسے دور سے یشام آتا نظر آیا ۔
اسے لگا جیسے اس کے اندر انرجی واپس آگئی ہو اس میں اچانک سے بہت ساری ہمت پیدا ہو گئی ہو
اس نے گردن اٹھا کر پہلے دروازے کی طرف دیکھا اور پھر ان سب لڑکیوں کی طرف ۔۔۔۔”
آج تووہ ان کے سر پر دھماکہ کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔
میری پیاری پیاری سہیلیوں لیکن تم لوگ تو میری سہیلیاں نہیں تو پیاری پیاری گرلز۔خیر تم لوگ تو پیاری بھی نہیں ہو لیکن کوئی بات نہیں ۔
میری بات کان کھول کر سن لو ہاں میں چھپی رستم ہوں ہاں میں بہت تیز ہوں تم لوگوں کی سوچ سے بھی زیادہ تیز
اور مجھے بچی سمجھنا سچ میں تم لوگوں کی غلطی تھی
کیونکہ میں نے سریشام کے ساتھ صرف افیئر نہیں چلایا بلکہ ان کے ساتھ نکاح بھی کیا ہے ۔
میں تم لوگوں کے سر یشام کی بیوی ہوں اور وہ میرے شوہر سر ہیں۔اور یہ جو تم لوگ افیئر افیئر کے نعرے لگا رہی ہو نہ یہ کرنا بند کرو کیوں کہ میں مسلمان لڑکی ہوں اور ہم میں افیئر نہیں ہوتے سیدھے نکاح ہوتے ہیں ۔
اور الحمدللہ میں سریشام کے نکاح میں ہوں۔وہ بڑے مزے سے بول رہی تھی جب کہ وہ اس کے پیچھے کھڑا مسکرا رہا تھا
اب تم سب لوگوں کی غلط فہمی دور ہو گئی نہ تو آج کے بعد سریشام پر اپنی گندی نظر ڈالنے سے پہلے سوچ لینا کہ مجھے آنکھیں پھوڑنا بھی بہت اچھے طریقے سے آتا ہے ۔
اس نے ساتھ ہی دھمکی لگانا ضروری سمجھا تھا جبکہ یشام نے اپنے سر پہ ہاتھ مارا تھا اس کی خرگوشنی ایک ہی دن میں شیرنی بن چکی تھی ۔
اگر آپ لوگوں کی گفتگو ِ خاص ہو گئی ہو تو آج کی کلاس شروع کریں۔ ۔ ۔ ؟
اس نےسب سٹوڈنٹس کی طرف دیکھتے ہوئے انگلش میں کہا تھا ۔جو کہ کچھ بھی سمجھ میں نہ آنے کے باوجود بھی یہ سمجھتے تھے کہ ان دونوں میں گہرا تعلق ہے
حرم سیدھی ہو کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئی تھی اور پھر آہستہ آہستہ سب لوگوں نے اپنی سیٹ سنبھال لی مزید اس بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی روز کی طرح سکون سے آج کی کلاس لی گئی تھی ۔
اور کلاس ختم ہوتے ہی وہ کلاس سے نکل گیا تھا حرم نے مزید اس ٹوپک پر بات کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔کیونکہ وہ یشام کے سامنے کافی کنفیوز تھی یونیورسٹی آنے کے لئے لیکن یشام نے کہا تھا کہ تم بے شک سب کو میرا اور اپنا تعلق بتا دینا
وہ شاید خود مزید اس رشتے کو چھپا کر نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔اور نہ ہی وہ یہ چاہتا تھا کہ حرم اور اس کے رشتے کو کسی طرح کا غلط نام دیا جائے
°°°°°°
ارے راحیل تم یہاں وہ اسے دیکھ کر بے حد خوش ہواتھا جو اس کے دروازے پر مسکراتے ہوئے کھڑا تھا
احمر نے آگے بڑھ کر اسے اپنے سینے سے لگایا تھا وہ ان کی اکلوتی پھوپھی کا بیٹا تھا
جو ان کے لیے بے حد عزیز تھا وہ اسے لے کر اندر آ گیا تھا اگر گھر میں سب کو یہ بات پتہ چل چکی تھی کہ احمر شادی کر چکا تھا تو یقیناً یہ بات اس کے بھی علم میں تھی ۔اسی لیے اسے اپنے گھر کے اندر لاتے ہوئے وہ پریشان نہیں ہوا تھا
ہاں میں یہاں اپنے ایک ضروری کام کے سلسلے میں آیا تھا سوچا جاتے ہوئے تم سے مل کر جاؤں اور پھر میں نے سنا ہے کہ تم نے یہاں شادی کرلی ۔۔۔۔؟
میں بھی سوچتا تھا کہ تم نے اب تک اپنی شادی کے بارے میں کیوں نہیں سوچا ۔
لیکن یہاں تو تم نے نہ صرف شادی کر رکھی ہے بلکہ تمہارا بچہ بھی ہے سچ کہوں تو مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ تم نے شادی کر لی
۔کبھی نہ کبھی تو تم نے شادی کرنی ہی تھی تمہارے انتظار میں میری بہن کی کب کی شادی ہوگئی ۔
بابا تو تھک ہار گئے تھے تمہارے اور نجمہ کے رشتے کے لئے اور شاید وہ ساری زندگی انتظار کرتے رہتے اگر ماموں جان کا جواب نہ آتا تو ان کا کہنا تھا کہ تم کسی بھی طرح شادی کے لئے رضامند نہیں ہو رہے ایسے میں نجمہ کو وہ فضول کے انتظار میں لٹکانا نہیں چاہتے ۔
لیکن یہاں تو تم نے الگ ہی کام کر رکھا تھا تمہاری شادی بچے کی خبر ملتے ہی پہلے تو میں صدمے میں چلا گیا تھا لیکن پھر جب راحت بھائی نے مجھے بتایا تو یقین کرنا پڑا ۔
اب کیا ارادہ ہے تمہارا بیوی بچے کو لے کر حویلی آؤ گے یا پھر کچھ اور ویسے میں نے سنا ہے کہ حویلی والوں کی طرف سے تم پر کافی زیادہ دباؤ ہے ۔۔۔۔؟
میری بات مانو احمر کسی کے دباؤ میں مت آنا تم نے اپنی مرضی سے یہ فیصلہ کیا ہے اور اپنے فیصلے پر ڈٹے رہنا ۔
یہ صرف تمہاری ہی زندگی کا سوال نہیں بلکہ تمہاری بیوی اور بچے کا بھی سوال ہے وہ ہمدرد دوست کی طرح اسے سمجھاتے ہوئے بولا تو احمر مسکرا دیا تھا کوئی تو تھا جو اسے سمجھ جاتا
شکریہ راحیل مجھے تم جیسے دوست کی ضرورت تھی میں اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا وہ میری محبت ہے اس نے میرے لئے اپنا سارا خاندان چھوڑ دیا ہے اسے چھوڑنے کے بارے میں تو میں سوچ بھی نہیں سکتا ۔
اور ان شاء اللہ میرے گھر والے بھی اس بات کو جلدی قبول کرلیں گے اس نے اسے اپنے ارادے بتائے تھے
ان شاءاللہ ایسا ہی ہو گا میں بھی ماموں کو سمجھانے کی کوشش کروں گا وہ بھی اس چیز کو قبول کر لیں گے تھوڑا وقت لگے گا لیکن ان شاءاللہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا وہ یقین دلاتے ہوئے بولا تھا ۔
جب کنیزفاطمہ اس کے لئے چائے لے کر آئی اس نے کینز کو دیکھا تو ایسا لگا جیسے دنیا رک سی گئی ہو وہ اتنی خوبصورت ہوگی اس کا اندازہ تھا اسے ہرگز نہیں تھا ۔
یہ تمہارا بیٹا ہے نہ کنیز کے پیچھے ہی آٹھ نو سال کا بچہ دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا تھا ۔
ہاں یہ میرا بیٹا ہے یشام ادھر آؤ چاچو کو سلام کرو اس نے یشام کو اپنے پاس بٹھاتے ہوئے کہا تھا لیکن وہ اس کی طرف دیکھے بنا ہی اپنے باپ کے سینے میں چہرہ چھپا گیا شاید اسے راحیل کچھ زیادہ پسند نہیں آیا تھا ۔
معاف کرنا دوست اس کی طبیعت آج کل کچھ خراب رہتی ہے جس کی وجہ سے تھوڑا سست لگ رہا ہے ۔اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا تو راحیل مسکرا دیا
°°°°°
شادی طے پا چکی تھی ایک ہفتے کے اندر اندر ہی شادی رکھ لی گئی تھی
بہت سارے انتظام کرنے تھے بہت ساری رسمیں کرنی تھی شادی پوری دھوم دھام سے ہونے والی تھی
وہ کسی طرح کی کوئی کمی وغیرہ نے نہیں رہنے دینا چاہتے تھے
اگر یہاں سوال ان کی عزت کا تھا تو ریدم کی خوشیوں کا بھی تھا وہ اپنی پوتی کو بہت دھوم دھام سے رخصت کرنے والے تھے ۔
کاڈرچھپ چکے تھے اور پورے گاؤں میں بٹ بھی چکے تھے ۔
شادی کی ساری تیاریاں خداش خود ہی کر رہا تھا ۔اور اس نے دادا جان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی طرح کی کوئی کمی نہیں چھوڑے گا ۔
°°°°°°°
آج دادا جان نے سومیہ اور دیدم کو اپنے کمرے میں بلا کر انہیں سختی سے یہ باور کروایا تھا کہ شادی میں وہ کسی طرح کا کچھ الٹا سیدھا نہیں کریں گی۔
بلکہ ریدم کی۔بڑی بہن کی طرح اس کی شادی میں شامل ہوجائیں گیں
پچھلے دنوں جو دیدم اور ریدم کا جھگڑا ہوا تھا وہ اب تک داداجان کی نگاہوں میں تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ دیدم کی وجہ سے ریدم کو کوئی بھی تکلیف ہو
اس کا اتنا خیال کرنا دیدم کو بالکل اچھا نہیں لگتا تھا لیکن اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر جا رہی تھی وہ گھر چھوڑ جاتی تو سکون ہی سکون تھا
°°°°°°
حد ہے دادا جان اس پوتی کی خوشی میں خوش ہو رہے ہیں جو آدھی رات کو اپنے سو کالڈ بوائے فرینڈ کو اپنے کمرے میں بلا کر ملتی تھی
کتنی اعلی کردار ہے خود اور اس شائزم پر بدکردار ہونے کا الزام لگا دیا تھا ۔۔۔”
دیدم کی زبان میں ابھی تک کھجلی ہورہی تھی
دیدم یار کیا مسئلہ ہے تمہیں تم سچ میں ہماری بےعزتی کرواؤگی آج دادا جان نے کمرے میں بلاکر ہمیں کوئی عزت نہیں دی ہے انہیں لگتا ہے کہ ہم ان کی لاڈلی پوتی کی شادی خراب کریں گے
اسی لئے انہوں نے کمرے میں بلا کر ہمیں یہ بات سمجھائی ہے تو خدا کے لئے اب تم اپنی بولتی بند کر دو
تاکہ ہماری مزید عزت افزائی نہ ہو وہ اپنے بوائے فرینڈ کو اپنے کمرے میں بلائے یا پھر خود اس کے کمرے میں ملنے چلی جائے وہ اسے بدکردار کہے یا خود ہی بدکردار کیوں نہ ہو لیکن خدا کے لئے تم اپنا منہ بند کر لو
تمہاری وجہ سے میں اور بےعزتی نہیں کروا سکتی وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولی جب کہ دیدم کندھے اچکا کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی
°°°°°
وہ کمرے کی طرف جا رہی تھی جب وہ اسے سامنے سے آتی نظر آئی
ہائے پیاری ریدم کیسی ہیؓ آپ ۔۔۔اس نے بے حد لگاوٹ اور محبت کے ساتھ اسے عزت سے بھی نوازا تھا
اللہ پاک کا کرم ہے بالکل خیریت سے ہوں اور کسی کو بھی اس کی اوقات یاد لا سکتی ہوں اس نے ہاتھ کا مکا بنا کر اسے دکھایا تھا
جن کی اپنی ہی کوئی اوقات نہ ہو وہ دوسروں کو اکثر اوقات ہی یاد دلانے کی باتیں کرتے ہیں
ویسے ماننا پڑے گا تمہیں بدکرداری کے الزام توتم شائزم پر لگا رہی تھی اور خود آدھی رات کواسے کمرے میں بلا کر اس سے ملاقات کرتی تھی۔جیسے خود تو تم بہت اعلی کردار ہو
ارے ارے دادا جان کی پوتی کو غصہ آگیا جاؤ جاؤ لگا دو میری اس بات کی چغلی دادا جان کے سامنے تاکہ وہ پھر سے مجھے بےعزت کریں ۔لیکن یہ بتانے سے پہلے ذرا یہ بھی سوچ لینا کہ جب انہیں یہ پتہ چلے گا کہ آدھی رات کو تم سے ملنے کے لیے دوسری حویلی کا لڑکا آتا تھا تو ان کے دل پر کیا گزرے گی
خوشی تو ان کو بالکل نہیں ہوگی لیکن میری بات پر غور ضرور کرنا تمہاری ماں بھی بھاگ گئی تھی نا۔۔۔۔” اور تم بھی وہی کام کرتی رہی ہو
کیا فائدہ ہوا اس بچارے پر الزام لگانے کا جب تم نے سب کے سامنے اس سے معافی ہی مانگنی تھی ۔
کسی دوسرے پر الزام لگانے سے پہلے ہزار بار سوچنا چاہیے بلکہ اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ آپ خود کیا ہیں ۔۔۔’
آدھی آدھی رات کو لڑکوں سے ملنے والی لڑکیاں ہمارے خاندان میں شریف نہیں مانی جاتیں ۔خیر اب یہ فضول باتیں کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اگر میں نے کبھی تمہارا دل دکھایا ہو یا تمہیں میری کوئی بات بری لگی ہو تو جانے سے پہلے معاف کر دینا ۔
وہ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر کے اس کا دھواں دھواں چہرہ دیکھتے ہوئے کمرے کی طرف چلی گئی تھی
°°°°°°
دادا جان ساری تیاریاں ہو چکی ہیں میں نے کچھ بھی نہیں چھوڑا آپ ایک دفعہ چیک کر لیجئے ۔
خداش نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا تھا ۔
چیک کیا کرنا ہے بیٹا مجھے تم پر پورا یقین ہے تم سب کچھ ٹھیک سے ہی کرو گے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج اگر ریدم کی جگہ حرم ہوتی تو تم اسی طرح سے اپنی بہن کی شادی کی تیاریاں کر رہے ہوتے ۔
جی دادا جان بالکل ایسا ہی ہے لیکن میری گڑیا کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا
بے شک ریدم آپ کی سب سے لاڈلی پوتی ہے آپ اس سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔
لیکن میری گڑیا میر حرم کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا میں اس کی خواہشیں پوری نہیں کر سکا اور نہ ہی اس کی شادی کے حوالے سے اپنی خواہشیں پوری کر سکا ہوں ۔
لیکن یہ سچ ہے کہ اگر آج ریدم کی جگہ اس کی شادی ہو رہی ہوتی تو میں اسی طرح سے تیاری کر رہا ہوتا ۔
وہ بے حد چاہت سے حرم کا نام لے رہا تھا جب اسے دروازے پر کھڑی دیشم نظر آئی اس کے چہرے پر تمسخرانہ مسکان تھی جب اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوئے تالی بجائی تھی ۔
واہ واہ خداش کاظمی آپ کے لبوں پر اپنی بہن کا نام اتنی محبت سے آرہا ہے۔
اس بہن کا نام جس کا آپ نے قتل کر دیا اور واہ دادا جان آپ بھی آج حرم کا ذکر کر رہے ہیں ۔۔۔؟
میرے خیال میں وہ آپ ہی تھے ناجنہوں نے کہا تھا کہ حرم کا اس گھر میں کوئی نام لے گا تو آپ اس سے ہرتعلق ختم کر لیں گے لگتا ہے اپ بنائے ہوئے اصول توڑ رہے ہیں ۔
اور خداش کاظمی صاحب کیا آپ کا دل تڑپ نہیں رہا اپنی بہن کا ذکر کرتے ہوئے کیا یہ ہاتھ کانپ نہیں رہے آپ کے جن ہاتھوں سے آپ نے اس کا قتل کیا ۔وہ سب کچھ بھلائے اس کے روبرو کھڑی اس سے سوال کر رہی تھی ۔
بکواس بند کرو دیشم جس چیز کے بارے میں تمہیں پتا نہیں ہے اس میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت بھی نہیں ہے اگر تمہیں اس شادی میں انٹرسٹ نہیں ہے تو اپنے کمرے میں چلی جاؤ ۔دادا جان نے غصے سے کہا تھا ۔
جی بالکل میں اپنے کمرے میں چلی جاؤں گی کیونکہ مجھے سچ میں اس سارے ڈرامے میں کوئی انٹرسٹ نہیں ہے آپ لوگوں کے لئے وہ لڑکی حرم کی جگہ لے چکی ہوگی لیکن میرے لیے اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ۔
وہ غصے سے کہتے کمرے سے نکل گئی تھی جبکہ خداش پریشان ہو گیا تھا کل تک اسے لگ رہا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن آج وہ پھر سے بدل گئی تھی ۔
اس کا پل میں تولہ پل میں ماشہ والا انداز اسے بالکل سمجھ میں نہیں آتا تھا ۔
دادا جان آپ کو نہیں لگتا کہ دیشم کو سچ بتا دینا چاہیے میرا نہیں خیال کہ اس سے ہم یہ بات چھپا کر اچھا کر رہے ہیں اس کے دماغ میں بہت عجیب چیزیں آرہی ہیں ۔
وہ حرم کے بے حد قریب تھی اور میں چاہتا ہوں کہ اسے سب کچھ پتہ چل جائے تو بہتر ہے ۔
نہیں تم جانتے ہو نا اس لڑکی کو وہ ہنگامہ کر دے گی اور میں نہیں چاہتا کہ ریدم کی شادی میں کسی طرح کا بھی کوئی ہنگامہ ہو یہ ساری باتیں ہم بعد میں دیکھ لیں گے
فی الحال تو تم شادی کی تیاریوں پر دھیان دو یہاں سوال صرف ہماری عزت کا ہی نہیں بلکہ شاہ خاندان کے سامنے ہمارے رتبےکا بھی ہے ۔
وہ بات ختم کرتے ہوئے بولے توخداش نے صرف ہاں میں سر ہلاتے ہوئے ان کی بات پر اتفاق کیا تھا
°°°°°°°
دادا جان آپ یہاں جنت انہیں دیکھ کر بے حد خوش ہوئی تھی اسے ہرگز امید نہ تھی کہ اسے دادا جان یہاں دیکھنے کو ملیں گے باقر کی وفات کے بعد وہ واپس یہاں کبھی بھی نہیں آئے تھے ۔
بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا کہ جنت کی طلاق کے بعد وہ واپس شہر آئے ہی نہیں تھے ۔
ہم تمہیں اپنے پوتے کی شادی کا کارڈ دینے آئے ہیں انہوں نے مسکراتے ہوئے اسے اپنے سینے سے لگا کر شائزم کی شادی کا کارڈ اس کے حوالے کیا تھا جبکہ عمایہ ہانی کا ہاتھ تھامے کچن سے باہر آئی تھی ۔
لیکن انہیں سامنے دیکھ کر اس نے واپس جانا چاہا جب دھیان دروازے سے اندر داخل ہوتے ذریام پر گیا اس کے لب مسکرائے تھے ۔
جب کہ وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف آتا اسے اپنے سینے سے لگا چکا تھا اس کا یہ بے باک انداز اسے ہر بار شرمندہ کر دیتا تھا ۔
دادا جان تم سے بات کرنا چاہتے ہیں وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے دادا جان کے سامنے لے آیا تھا جو اسی کو دیکھ رہے تھے ۔
اس نے کچھ نہیں کہا تھا جب کہ دادا جان بھی خاموش کھڑے تھے پھر کافی وقفے کے بعد انہوں نے بولنا شروع کیا ۔
دیکھو عمایہ ہم نے تمہیں ونی کیا تھا تمہیں اس گھر میں اس لیے لائے تھے تاکہ ہم تمہارے بھائی سے انتقام لے سکیں اپنے پوتے کی موت کا لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔
ہم کسی کے ساتھ کچھ غلط نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن اس کے باوجود بھی ہم نے تمہارے ساتھ کافی زیادتی کی ہے لیکن اب تم ہمارے وارث کو اس دنیا میں لانے والی ہوتو ہم چاہتے ہیں کہ تمہیں ہم لوگوں کے ساتھ حویلی چلنا چاہیے ۔
ہم چاہتے ہیں کہ تمہیں پورے خاندان کے سامنے بہو تسلیم کر کے زریام کے ساتھ متعارف کروا دیا جائے ویسے تو ہم یہ پہلے بھی کر چکے ہیں لیکن اس وقت ہمارا دل راضی نہیں تھا ۔
لیکن اب ہم اس چیز کے لیے دل سے راضی ہیں وہ اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولے تو عمایہ نے حیرت سے اپنے ساتھ کھڑے زریام کو دیکھا تھا جو مسکرا رہا تھا وہ جانتا تھا دادا جان عمایہ سے معافی تو ہرگز نہیں مانگیں گے اور نہ ہی اس کے سامنے جھکیں گے لیکن اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اسے بہو قبول کر چکے ہیں
°°°°°°°°°
