Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 77)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 77)
Junoniyat By Areej Shah
کنیز کیا آج دوپہر میں راحیل یہاں گھر پر آیا تھا ۔۔۔۔؟
اور تم نے اس سے گھر کے اندر نہیں آنے دیا۔۔۔؟
یہاں تک کہ بدتمیزی سے دروازہ اس کے منہ پر بند کر دیا ۔۔۔۔؟
وہ گھر آتے ہی اس سے سوال جواب کرنے لگا تھا جب کہ کنیز جو کھانا بنانے میں مصروف تھی ایک نظر اسے دیکھتی صرف ہاں میں سر ہلا گئی
جی بالکل ایسا ہی ہوا ہے وہ آپ کی غیر موجودگی میں گھر آئے تھے یشام ان سے ملنے کے لیے پارک گیا ہوا تھا اور وہ اندر آ کر گھر میں بیٹھنا چاہتے تھے جو کہ مجھے ہرگز منظور نہیں تھا ۔
جس کی وجہ سے مجھے ان سے بدتمیزی سے بات کرنی پڑی اور ان کے منہ پر دروازہ بند کرنا پڑا تاکہ وہ اندر آنے کی زحمت نہ کریں وہ بار بار اندر آنا چاہتے تھے اور مجھے یہ چیز ہرگز منظور نہیں تھی
اگر آپ کے کزن کی جگہ آپ کے سگے بھائی بھی ہوتے تو میں انہیں بھی اندر آنے سے منع کر دیتی اس نے صاف گوئی سے کہا تھا
اور اگر آپ مجھ سے اس بات پر خفا ہیں تو بے شک ہوتے رہے وہ مسلسل اپنے کام میں مصروف بولے جا رہی تھی جبکہ اس کے انداز پر احمر کے لبوں پر جاندار مسکراہٹ آ گئی
میں کیوں ناراض ہوں گا تم سے میں تو تمہیں شاباشی دینے آیا تھا اور یہ کہنے آیا تھا کہ بے شک میرے بھائی ہی کیوں نہ ہوں اگر تم اکیلے گھر پر ہو تو کسی کو بھی اندر نہیں آنے دینا اس لیے نہیں کہ مجھے ان لوگوں پر اعتبار نہیں ہے بلکہ اس لیے کیونکہ مجھے میری بیوی کے پردے کی قدر ہے
میں خوش نصیب ہوں کہ مجھے تم جیسی بیوی ملی ہے ۔
اور تمہاری کوئی بھی بات مجھے کبھی بری لگی نہیں سکتی ۔وہ بے حد محبت سے اس کا ماتھا چومتے ہوئے اپنے بیٹے کی طرف متوجہ ہوا تھا جو پچھلے کچھ وقت سے اس سے ناراض تھا کیونکہ وہ راحیل سے ملنے نہیں جانا چاہتا تھا لیکن پھر بھی اس کا باپ اسے زبردستی اس سے ملنے سے مجبور کرتا تھا ۔
اس نے نوٹ کیا تھا جو چاہت اور محبت اس کے لب و لہجے میں راحت صاحب ثقلین اور ثاقب صاحب کا نام لیتے ہوئے آتی تھی وہ راحیل کے ذکر پر نہیں آتی تھی یہ خون کی کشش تھی یااسے راحیل پسند ہی نہیں تھا وہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا
لیکن یہ حقیقت تھی کہ جو لوگ اس سے محبت نہیں کرتے تھے اسے دھتکار رہے تھے اس کے دل میں ان کے لیے جگہ تھی لیکن راحیل کے لیے اس کے دل میں کوئی گنجائش نہیں تھی ۔
کنیز آج کل میرا بیٹا مجھ سے کچھ زیادہ ہی ناراض رہنے لگا ہے ۔ویسے میرا ارادہ تھا اس کےساتھ پلے ہاؤس جانے کا لیکن یہ تو مجھ سے بہت ناراض ہے اب میں کیسے لے کر جاؤں گا اسے احمر اس کے سامنے آ کر ٹیبل پر بیٹھا تو وہ ناراضگی سے چہرہ پھیرنے لگا تھا لیکن وہ اس کی بات سن کر اس کی آنکھوں میں چمک آئی تھی
سچی بابا آپ مجھے پلے ہاؤس لے کر جاؤ گے وہ بڑی خوشی سے بولا جس پر احمر نے مسکراتے ہوئے اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔
میرے بچے جب تم مجھ سے خفا ہوتے ہو نہ ایسا لگتا ہے جیسے پوری دنیا مجھ سے خفا ہو گئی ہے تم مجھ سے روٹھا مت کرو تم جو کہو گے میں کروں گا اپنی مما سے کہو کہ کھانا جلدی بنائیں
آج تو ہم نے اپنے بیٹے کی پسند کی جگہ پر جانا ہے وہ مسکراتے ہوئے بولا تو یشام فور اپنی ماں کے پیچھے لگ گیا تھا کہ وہ جلدی جلدی اپنا کام ختم کریں ۔جبکہ اس کے خوش ہونے پر وہ بھی جلدی جلدی اپنے ہاتھ چلانے لگی تھی
°°°°°°°
خداش فریش ہو کر باہر نکلا تو اسے بیڈ پر لیٹے ہوئے پایا غصے سے اس کی آنکھیں سرخ ہونے لگی تھی وہ اسے اپنے کمرے میں آنے سے منع کر چکا تھا بلکہ دھکے مار کر کمرے سے باہر بھی کر چکا تھا اس کی ہمت کیسے ہوئی تھی واپس اس کے کمرے میں آنے کی
اس کے پاس آتے ہوئےوہ ایک ہی جھٹکے میں اس کا بازو پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کر چکا تھا اور وہ جو سونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی
اس سے ہرگز امید نہ تھی کہ وہ اسے سوتے ہوئے بھی اپنے کمرے میں برداشت نہیں کر سکتا
کیا کہا تھا میں نے تم سے دوبارہ اپنی شکل اس کمرے میں مت دکھانا تو کس کی اجازت سے میرے کمرے میں قدم رکھا ہے تم نے
میں نے کہا تھا نہ تمہاری ڈیمانڈ پوری ہو جائے گی میں دادا جان سے طلاق کے بارے میں جلد ہی بات کر لوں گا لیکن فی الحال دادا جان شادی کے کاموں میں بزی ہیں جیسے ہی شادی ختم ہوتی ہے تم اپنے رستے اور میں اپنے رستے تمہاری آرزو میں پوری کر دوں گا لیکن تم پھر میرے کمرے میں کیوں آئی ہو ۔۔۔۔؟
وہ کسی طرح کا کوئی لحاظ مروت رکھنا ہی نہیں چاہتا تھا
خداش آپ ایک بار میری بات تو سن لیں میں جانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے آپ مجھ سے ناراض ہیں آپ کو ناراض ہونا بھی چاہیے لیکن ۔۔۔۔
میں ناراض ہوں تم سے ۔۔۔۔۔۔؟میں کیوں تم سے ناراض ہوگا تمہارا واسطہ کیا ہے میرے ساتھ تعلق کیا ہے تمہارا میرے ساتھ کہ میں تم جیسی لڑکی سے ناراض ہوں گا تمہیں تو میں اپنی زندگی کے کسی حصے میں شامل نہ کروں اور نہ ناراضگی ۔۔۔۔۔۔وہ تنفر سے ہنسا
ناراض اپنوں سے ہوا جاتا ہے غیروں سے نہیں اور تم سے یہ کاغذی رشتہ میں بہت جلد ختم کر دوں گا
نہ تم سے میرا کوئی تعلق رہا ہے اور نہ ہی میں مزید تم سے کوئی تعلق رکھوں گا نکلو میرے کمرےسےابھی ور اسی وقت۔ ۔۔۔۔۔۔
آپ پلیز ایک بار میری بات تو سن لیں
میں نے کہا نکلو میرے کمرے سے ۔۔۔وہ بے حد غصےسے چلایا ۔
میں نہیں جا سکتی باہر میرے کمرے میں مہمان رکے ہوئے ہیں ۔دادا جان نے مجھے اوپر بھیجا ہے ۔پلیز مجھے رات کو یہیں پہ رہنے دیں ۔صبح ہوتے ہی چلی جاؤں گی ۔ وہ سمجھانےوالے انداز میں بولی تھی۔
جب خداش غصے سے ٹاول پھینک کر بیڈ پر لیٹا اور ساتھ ہی لائٹ بھی آف کر دی۔
اس نے اندھیرے میں خداش کو گھورا تھا۔
اخر آج اس کی غلط فہمی دور ہوگئی تھی
کہ یہ شخص اس سے ناراض نہیں ہو سکتا
°°°°°°°
حرم کھانے کی ٹرے لئے اندر داخل ہوئی وہ شاید ابھی نہا کر نکلا تھا آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بالوں کو سنوارتا وہ اسے دیکھ کر مسکرا دیا تھا
شکر ہے سر شوہر آپ کی آنکھ تو کھلی ورنہ آج تو میں بھوکی ہی سو جاتی ۔آپ کو پتا ہے میں نے ایک ذرا سی مٹھائی کا ٹکڑا بھی اٹھا کر نہیں چیک کیا یہ سوچ کر کے آپ نے ابھی تک کچھ نہیں کھایا اتنی اچھی بیوی ہے آپ کی اور یہاں کسی کو احساس ہی نہیں وہ کھانا ٹیبل پر لگاتے ہوئے بول رہی تھی
مجھے پتا ہے میری بیوی بہت پیاری ہے وہ آگے بڑھتے ہوئے اچانک اس کے گال پر اپنے لب رکھ چکا تھا جب کہ حرم کی زبان جو بڑی تیزی سے اپنے جوہر دکھا رہی تھی منہ کے اندر ہی کہیں خاموش ہو کر بیٹھ گئی تھی ۔
آپ ایسے نہ کیا کریں مجھے شرم آتی ہے وہ اپنے گال پر ہاتھ رکھے ہوئے بولی جبکہ وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے صوفے پر بیٹھااور اس کا بازو تھام کر اسے اپنے بالکل ساتھ بٹھا چکا تھا ۔
میری اتنی اچھی بیوی نے اب تک مٹھائی کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا بھی کیوں نہیں کھایا وہ نوالہ بناتے ہوئے اس کے منہ میں ڈالنے لگا
کیونکہ میری اماں کہتی ہیں کہ اگر شوہر بھوکا ہو تو بیوی کو کھانا نہیں کھانا چاہیے ایک ساتھ کھانا کھانے سے پیار بڑھتا ہے بس میں نے سوچا کہ میں بہت سارا پیار بڑھا لیتی ہوں۔
اس کے ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے اس نے بڑے ہی سخی دل انداز میں کہا تھا جب کہ وہ مسکراتے ہوئے اس کی مسکراہٹ کو اپنے دل میں بسا رہا تھا
آپ نے اپنا موبائل فون دیکھا اس میں تصویریں دیکھی وہ اسے دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی
ہاں وہ تو میں نے تمہارے ہر چکر پر دیکھ لی تھیں ۔ وہ مزے سے بولا
مطلب آپ ہر بار جاگ رہے تھے ۔۔۔۔؟
چار دفعہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں میں پانچ دفعہ آئی تھی پانچ تصویریں ہیں غور سے دیکھیں اس نے جلدی سے کہا
پہلی دفعہ تو میں سو رہا تھا نہ وہ مسکراہٹ دبا کر بولا
مجھے پہلے ہی شک تھا کہ آپ ہر بار پر جاگ رہے ہیں پر کیا ایکٹنگ کی ہے آپ نے مان گئے آپ کو آپ تو ایکٹنگ کے بادشاہ ییں قسم سے وہ دانت دکھاتے ہوئے بولی ۔
کہیں باہر چلیں ۔وہ اس کی بات نظرانداز کرتے بولا
آپ کو پتہ ہے کیا وقت ہو رہا ہے رات کے ساڑھے دس بجے ہیں اور آپ کو اندازہ بھی ہے کہ باہر کتنی سردی ہے ۔۔۔۔؟
اندازہ لگانے سے کیا ہوتا ہے جب تک محسوس نہ کیا جائے وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
محسوس تو تب ہوگا نہ جب ہم آئسکریم کھائیں گے وہ سوچتے ہوئے بولی
تو پھر چلو چل کے ٹھیک سے محسوس کرتے ہیں وہ آخری نوالہ اس کے منہ میں ڈالتے ہوئے بولا ۔
میں دادا جان سے پوچھ کر آتی ہوں وہ فورا اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی
کسی سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے میں تمہارے ساتھ ہوں وہ اسے کہتے ہوئے اس کا جیکٹ نکال کر اسے زبردستی پہنانے لگا تھا مطلب وہ یہاں بھی اس کی صحت پر کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا
میرے خیال میں ہمیں ایک دفعہ پوچھ لینا چاہیے دادا جان ناراض ہوں گے اس طرح ۔
مجھ سےناراض ہونے کا کوئی حق نہیں رکھتا چلو اب اس کا ہاتھ تھام کر اسے زبردستی اپنے ساتھ لے گیا تھا جب کہ وہ چاہ کر بھی کسی کو بھی کسی کو بتا نہیں سکتی تھی کہ وہ لوگ باہر جا رہے ہیں
°°°°°°
اس کے دونوں ہاتھ مہندی سے بھرے ہوئے تھے جب تک یہ مہندی سوکھ نہیں جاتی تھی وہ لیٹ بھی نہیں سکتی تھی اور باہر بیٹھے بیٹھے وہ اچھی خاصی تھک بھی چکی تھی ۔
اس کے باوجود بھی وہ اپنے ہاتھ پیر بچائے بیڈ پر بیٹھی نا چاہتے ہوئے بھی مہندی کے سوکھنے کا انتظار کر رہی تھی ۔
جب اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے علاوہ بھی کمرے میں کوئی موجود ہے اس نے مڑ کر بالکنی کی طرف دیکھا تو غصے سے اس کی آنکھوں میں جلن ہونے لگی اس کی ہمت کیسے ہوئی تھی اس کے کمرے میں آنے کی
تم گھٹیا انسان کس کی اجازت سے میرے کمرے میں آئے ہو دفع ہو جاؤ یہاں سے اپنی شکل مت دکھانا مجھے وہ غصے سے اس سے بولی تھی جو پتہ نہیں کیا کرنے میں مصروف تھا
ریلیکس جان من اتنا کیوں چلا رہی ہو میں یہیں پر ہوں میں آرام سے بات کرو ویسے مجھے بہت دکھ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ لائٹنگ بالکل بھی اچھی نہیں کی گئی ذرا میرے گھر چل کر لائٹنگ دیکھو تو تمہیں پتا چلے کہ لائٹنگ کسے کہتے ہیں
یہ کیا کروایا ہے تمہارے گھر والوں نے اگرخرچہ بچانا تھا تو مجھے بتا دیتے میں کروا دیتا لائٹنگ اپنی مرضی سے ساری شادی کا چارم ختم کر رہے ہیں یہ تمہارے گھر والے
ہوگئی تمہاری بکواس ختم اس کے اندر داخل ہونے پر وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگی تھی اگر تو اس کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی نہ لگی ہوتی تو وہ یقینا اس وقت اس کی بینڈ بجا دینا چاہتی تھی
جی نہیں ابھی میری بکواس ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی میری بکواس شروع ہوگی سب سے پہلے تو تم مجھے یہ بتاؤ کہ تم نے میرا فون کیوں نہیں اٹھایا پچھلے تین دن سے تمہیں فون کرکے خوار ہو رہا ہوں میں لیکن مجال ہے جو تم نے مجھے اپنی آواز تک سنائی ہو
مانا کہ شادی میں تم کچھ زیادہ خوش نہیں ہولیکن کم ازکم ہم فون پرہائے ہیلو تو کر ہی سکتے ہیں نہ
اچھا ٹھیک ہے یار اب اتنا منہ بھی مت بناؤ ذرا مہندی دکھاؤ میرا نام کہاں لکھا ہے تم نے وہ اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے اسکا ہاتھ دیکھنے لگا جب ریدم نے اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے وہ ابھی تک اسے گھورے جا رہی تھی یقینا اسے امید نہ تھی اس کے یہاں آنے کی
یار ایسے گھورا مت کرو قسم سے میں منہ چوم لوں گا نیت بڑی سخت قسم کی خراب ہو رہی ہے میری تمہیں اس حسین روپ میں دیکھ کر ۔
نکلو یہاں سے ابھی اور اسی وقت ۔۔۔۔۔۔۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولی
جب کہ وہ اچانک ہی اس کے لبوں پر جھک گیا تھا۔
جب ریدم نے اس کے شدت سے بھرپور انداز پر اپنا ہاتھ اٹھا کر اس کے سینے پر رکھنا چاہا تھا لیکن اس سے پہلے ہی وہ اس کے بازو کو کہنی کے پیچھے سے پکڑ کر دور کر چکا تھا ۔
اس کی سانسوں کی خوشبو کو خود میں اتار کر وہ پیچھے ہٹا
دماغ خراب ہے کیا تمہارا مہندی خراب کرنے کا ارادہ رکھتی ہو۔اگر مہندی خراب ہوئی نہ تو چھوڑوں گا نہیں وہ اسے گھورتے ہوئے بولا تھا ۔
اور پھر بڑی بے باکی سے اس کےبھیگے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے خشک کرتے ہوئے اٹھ گیا
تم ایک انتہائی کمینے انسان ہو اور میں تم سے کبھی کسی اچھی چیز کی امید نہیں کر سکتی وہ بے بسی سے اپنی گیلی مہندی کو دیکھتے ہوئے اسے کوسنے لگی
کمینہ تو میں سچ میں بہت ہوں اس بات کو میں خود بھی دل سے قبول کرتا ہوں لیکن تم سے وعدہ کرتا ہوں میں بہت خوش رکھوں گاتمہیں۔
کیونکہ تمہیں خوش رکھنا تو میرا فرض ہے آخرکار تم تو میری ہونے والی بلکہ ہو چکی بیگم ہو ویسے تو ہمارا نکاح کل ہونے والا ہے لیکن تمہیں دیکھے بنا رہ ہی نہیں سکا بہت پیاری لگ رہی ہو تم اور تمہیں دلہن کے روپ میں دیکھنے کے لئے میرا دل ابھی سے ہی فل سپیڈ میں دھڑک رہا ہے اور جب تم کل میرے پاس آؤ گی ۔۔۔۔۔اف واللہ
جانتی ہو کل میری زندگی کا سب سے خوبصورت دن ہونے والا ہے کیونکہ میری محبت میری چاہت سب کچھ میرے پاس ہوگا اور ۔۔۔۔
اور اگر میں نے تمہیں تمہاری نانی نہ یاد کروا دی تو میرا نام ریدم ساغر کاظمی نہیں وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی
اچھا تو محترمہ کے ارادے خطرناک ہیں وہ لطف اندوز ہوا ۔
ویسے ایک بات بتاؤں یہ میرا دل ہے نا یہ آج بلکل بھی نیک نہیں ہے وہ ایک بار پھر سے اس کے بے حد قریب آتے ہوئے ہوئے بولا توریدم کا دل بے ساختہ دھڑک اٹھا ۔
لیکن اس سے پہلے کہ وہ کسی بھی طرح کی بے باکی مزید دکھاتا دروازے پر دستک ہوئی تھی
یہ کیا طریقہ ہے یہ لوگ کیا دن رات تمہارے کمرے میں ایسے ہی چکر لگاتے رہتے ہیں مجھے اس طرح کی ڈسٹربنس سخت ناپسند ہے ۔
ریدم بیٹا میں نے تمہاری کیٹی کو دودھ پلا دیا ہے لے لو اسے باہر تائی امی تھی ۔
اپنی شکل غائب کرو ۔۔۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولی
بڑی اکڑرہی ہو ڈارلنگ یہ شکل تو آپ کو ساری زندگی دیکھنی ہے وہ اسے جتاتے ہوئے بولا ۔
ریدم بیٹا کہیں سو تو نہیں گئی ۔۔۔۔
بول دو کہ سو گئی ہو تائی امی کے سوال پر اس نے فوراً جواب دیا
نہیں جاگ رہی ہوں آ رہی ہوں وہ اسے گھورتے ہوئے بولی۔
کتنی بے رحم ہوقسم سے وہ بد مزا ہو کر اٹھ گیا تھا جب کہ وہ مسکراتے ہوئے دروازے کی جانب جانے لگی جب اچانک ہی وہ اس کا چہرہ تھامتے ہوئے ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا اس کا انداز انتہائی شدت لیے ہوئے تھا ۔شاید نہیں یقینا وہ اس سے بدلہ لے رہا تھا
شائزم مسکراتے ہوئے اس کا سرخ چہرہ دیکھتا انتہائی بے باکی سے آنکھ دباتا ہوا وہاں سے نکل گیا تھا جب کہ وہ پیچھے پیر پٹخ کر رہ گئی ۔
°°°°°°
کنیز کہاں ہو تم کنیز احمر بےحد خوشی سے گھر میں داخل ہوتے ہی اسے پکار رہا تھا جب کہ وہ جو کچن میں کام کررہتی تھی جلدی سے باہر نکلی
کیا ہوا ہے احمر آپ بہت خوش لگ رہے ہیں کیا کوئی خوشی کی بات ہے وہ اس کے پاس آتے ہوئے پوچھنے لگی تھی جبکہ وہ ہاں سر ہلاتا ہے اس لیے صوفے پر بیٹھا تھا
بابا جان مجھ سے ملنا چاہتے ہیں راحیل نے اپنا کام کر دکھایا اس نے بابا جان کو منا لیا ۔جانتی ہو کنیز بھائی جان نے سخت مزاحمت کی لیکن پھر بھی راحیل نے ہمت نہیں ہاری اور آخر اس نے بابا جان کو مجھ سے ملنے کے لئے منالیا ہے
میں بہت خوش ہوں کنیز آخر بابا جان نے مجھے بلا لیا میں سمجھ نہیں پا رہا کہ اس نے یہ سب کچھ کیسے کیا اور میرے بھائی جن سے میں اتنی زیادہ محبت کرتا ہوں وہی لوگ میرے بابا کو میرے خلاف کر رہے ہیں اگر راحیل نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔
احمر پلیز کسی کی باتوں میں مت آئیں ممکن ہے جو آپ کو دکھایا جارہا ہے وہ غلط ہو اور سچ کچھ اور ہو ۔
نہیں کنیز جو میں نے دیکھا ہے وہی صحیح ہے اپنے بھائیوں سے میں اتنی محبت کرتا تھا اور وہ لوگ صرف دولت کے لیے اتنا گر گئے ۔کہ وہ چاہتے ہی نہیں کہ میں گھر واپس آؤں وہ افسوس سے بول رہے تھے جبکہ اپنے کمرے میں ہوم ورک کرتا یشام اپنے باپ کی یہ باتیں سن رہا تھا ۔
اچھا آپ یہ ساری باتیں چھوڑیں مجھے بتائیں کہ بابا جان سے ملنے کب جائیں گےوہ اس کا دھیان ہٹاتے ہوئے پوچھنے لگی جبکہ وہ اسے مزید بتانے لگا تھا ۔
احمر جو بھی بات بتا رہا تھا اس میں زیادہ تر راحیل کی تعریفیں تھی راحیل کو اپنا دوست اپنا بھائی اور نہ جانے کیا کیا کہہ رہا تھا جس نے اس مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس کے الفاظ اس کا لہجہ اس کی زبان اس کے اپنے ہی بھائیوں کے خلاف تھی۔ جو یشام کو بری طرح ڈسٹرب کر رہی تھی
°°°°°°
