65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 51)

Junoniyat By Areej Shah

نہیں امی جان یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔۔؟

میں ایسا نہیں سوچ سکتی میں آپ کو بابا جان کے سامنے ساگر کاظمی کے بارے میں بات کرنے کے لئے کہہ رہی ہوں اور آپ کسی اور کا رشتہ لے آئی ہیں

امی جان میں اس سے محبت کرتی ہوں میں اس کے علاوہ اور کسی سے شادی کرنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی خدا کے لیے مجھ سے میری محبت نہ چھینیں میں اس شخص کے بنا نہیں رہ سکتی ۔وہ اپنی ماں کے سامنے کھڑی پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی

افشین میری بچی تمہیں کیا ہو گیا ہے۔۔۔؟

۔میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو یہ ممکن نہیں ہے تمہاری شادی اس شخص کے ساتھ کسی کی قیمت پر نہیں ہوسکتی اور تمہیں اس بات کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہوگی

یہ ہماری خاندان کی عزت کا سوال ہے اگر ہم تمہیں خاندان سے باہر بھی کہیں پر دینے کے بارے میں سوچیں تو بھی وہ کاظمی خاندان ہرگز نہیں ہوگا

تمہارا رشتہ بچپن سے ہی تمہاری پھوپھو کے بیٹے کے ساتھ طےہے اور تمہارے بابا تمہاری شادی ہر قیمت پر وہیں پر ہی کریں گے ۔اس لیے بہتر ہے کہ تم بھی اپنے آپ کو اس چیز کے لیے تیار کرلو

وہ اسےکوئی امید نہیں دے رہی تھیں وہ اسے سچ کا سامنا کرنے کے لئے تیار کر رہی تھیں

یہ کوئی نئی بات تو نہ تھی یہاں تو ایسا ہی ہوتا آیا تھا اور آگے بھی ایسا ہی ہونا تھا اس خاندان کی ہر لڑکی کی شادی اس خاندان کے مردوں نے اپنی مرضی سے کی تھی

تو ایسا کیسے ممکن تھا کہ افشین کو اس کی مرضی کرنے دی جاتی وہ بھی اسی خاندان کی لڑکی تھی اور اسے بھی یہی کرنا تھا جو اس سے پہلے سب کر چکی تھیں۔

آپ لوگ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں امی جان میں اس سے محبت کرتی ہوں میں کیسے کسی اور سے ۔،۔۔۔۔

ایسا ہی ہوتا آیا ہے اور ایسا ہی ہوگا تم کوئی آسمان سے نہیں اتری اگر تمہارے باپ نے تمہیں محبت سے پالا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم اس کی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاؤ گی سارے خاندان کے خلاف جا کر اس نے تمہیں تعلیم دلوائی ہے کم از کم اس چیز کی تو لاج رکھ لو۔

تم جانتی ہو تمہاری تعلیم کے حق میں کوئی بھی نہیں تھا تمہارا باپ اکیلا لڑا ہے اپنے بیٹوں تک کے خلاف ہو گیا تھا صرف تمہاری پڑھائی کی خاطر تمہیں تعلیم دلوانے کے خاطر اس نے بہت باتیں سنیں ہیں

ہر کوئی ان کے خلاف ہو گیا تھا۔لیکن وہ پیچھے نہ ہٹے کیوں کہ تمہاری تعلیم تمہارا خواب تھا ۔اور تمہارے خوابوں کو پورا کرنے کے لیے تمہارے باپ نے اپنا حق ادا کیا ہے اب تمہیں اپنا بیٹی ہونے کاحق ادا کرنا ہوگا تمہیں وہی کرنا ہوگا جو ان کا حکم ہے تم انکار نہیں کر سکتی

اماں جان اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی تھیں

اماں جان بابا میری ہر بات مانتے آئے ہیں ان سے کہیں میری آخری بات مان لیں صرف ایک بار ۔۔۔صرف ایک بار وہ ساگر سے مل لیں میں جانتی ہوں وہ ان سے مل کر مطمئن ہو جائیں گے ۔

وہ اپنی ماں کے پیر پکڑنے کو تیار تھی لیکن اس کی ماں تو بس اس کے باپ کا حکم سنا کر جا چکی تھیں۔اور جاتے جاتے اسے یہ بھی بتا چکی تھیں کہ اب اسے گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ اس ہفتے کے اندر اندر ہی اس کا نکاح ہوگا ۔

°°°°°

خداش رات کو کمرے میں آیا تو اسے دوائیوں کے زیر اثر گہری نیند میں سوتے ہوئے پایا

وہ بھی فریش ہوکر اس کے ساتھ ہی آ کر لیٹ گیا تھا ابھی ان کی شادی کو دن ہی کتنے ہوئے تھے کہ ان کے درمیان اتنی دوریاں آگئی تھی ۔شادی کے اولین دنوں کی بےتابی کہیں دل میں دبی رہ گئی تھی

مشکل سے ہی سہی لیکن وہ اپنے اور اس کے درمیان پیدا ہوا بچپن سے لے کر جوانی تک کا فاصلہ طے کر چکا تھا تھا وہ اس کے دل کے دروازے پر دستک تو دے چکا تھا لیکن اندر قدم رکھنے سے پہلے ہی سب کچھ بدل گیا تھا

کتنا چاہتا تھا وہ اسے کتنی محبت کرتا تھا وہ اس سے اگر یہ مغرور لڑکی جان جاتی تو کبھی اس کی محبت پر سوال نہیں اٹھاتی۔بچپن سے لے کر اب تک اس نے اپنے دل کے دروازے صرف اسی کے لئے تو کھول رکھے تھے ۔کسی اور کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھنا بھی اس کےلیے اپنی محبت سے بےوفائی تھی

وہی تو تھی جسے وہ آج سے نہیں بلکہ کئی سالوں سے اپنے دل کی ملکہ بنائے بیٹھا تھا اور اس انجان کو خبر تک نہیں تھی کہ وہ کسی کےدل پر حکومت کرتی ہے ۔

حرم کو لے کر جس طرح وہ جذباتی ہوئی تھی یہ اس کے لئے کوئی حیران کن بات نہیں تھی وہ شروع سے ہی حرم کو لے کر کافی زیادہ ٹچی تھی۔

اور وہ اسے سب کچھ بتا بھی دینا چاہتا تھا لیکن دادا جان نے اسے قسم دے رکھی تھی ۔انہوں نے فی الحال یہ بات کسی سے بھی کہنے سے منع کردیا تھا وہ نہیں چاہتے تھے کہ دیشم کے ذریعے ہی سہی گھرمیں یہ بات کسی کو پتہ چلے ۔وہ تو اسے اماں جان کو بھی بتانےسے منع کر چکے تھے لیکن وہ اپنی ماں پر یہ ستم نہیں کرسکا تھا

وہ اس کی طرف کروٹ لیے اس کے حسین چہرے کو دیکھنے لگا تھا ۔اس کی ناک میں چمکتا ہیرا بری طرح اس کا چین و قرار لوٹ گیا تھا ۔جسے چھونےکی خواہش اس کے دل میں مچل اٹھی تھی ۔

اپنے تمام تر جذبات پر لگام ڈالتے ہوئے بھی وہ پیچھے نہ ہٹ سکا ۔اس کی ناک میں چمکتے موتی کو چومتے ہوئے وہ اس کے ہونٹوں کے قریب آیا ہی تھا وہ ان نازک گداز لبوں پر اپنی محبت کی مہر ثابت کرنےکو بے قرار تھا

لیکن اس کی اس خواہش کو پورا کرنےکی بجائے وہ اس کی گرم سانسوں کی تپش محسوس کرتے ہوئے کروٹ بدل گئی ۔

اور خداش کاظمی اس کی اس گستاخی کو غصے سے دیکھتا رہ گیا ۔

یہ تم نے اچھا نہیں کیا دیشم خداش کاظمی اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی میری معصوم سی خواہش کا گلا گھونٹ کر کون سی خوشی حاصل کر لی تم نے وہ اس کے گھنے آبشار بالوں کو دیکھتا ہوا سرد لہجے میں بولا اور تیزی سے اپنی سگریٹ کی ڈبی اٹھاتا کمبل پھینکنے والے انداز میں بالکنی کی طرف آ گیا تھا

اس کی آنکھوں کی لرزش سے یہ تو جان ہی چکا تھا کہ وہ جاگ رہی تھی ۔وہ اپنی یہ خواہش زبردستی بھی پوری کر سکتا تھا لیکن اس لڑکی کاغرور وہ توڑنا نہیں چاہتا تھا ۔ہاں یہ سچ تھا اس کی ہر ادا کے ساتھ اس کا یہ مغرورانہ انداز بھی خداش کاظمی کے دل پر قیامت بن کر اترتا تھا۔

°°°°°

پچھلے ایک ہفتے سے افشین یونیورسٹی نہیں آرہی تھی جس بات کو لے کر وہ کافی زیادہ پریشان تھا کہیں گھر میں پتہ تو نہیں چل گیا ان دونوں کے بارے میں

اگر ایسا کچھ ہوا تو افیشن کے ساتھ کتنا غلط ہو سکتا ہے وہ اندازہ لگا سکتا تھا اسے افیشن سے ملنا تھا کسی بھی قیمت پر اس کا ایک ہفتے سے یونیورسٹی سے غیر حاضری کا مطلب یہی تھا کہ کچھ برا ہوا ہے اس کے ساتھ

وہ اس سے رابطہ کرنا چاہتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ یہ بہت مشکل ہے لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا وہ محبت کے اس مقام پر آ رکا تھا جہاں سے واپس پیچھے دیکھنا تو محبت کی توہین ہوگی

وہ گھر واپس آیا تو بابا اور اپنے بھائیوں کو شاہ خاندان کے خلاف سازشیں کرتے ہوئے پایا اور وہ جانتا تھا یہ صرف اس کے گھر نہیں ہوتا بلکہ اس گھر میں بھی یہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہوگا ۔

یہ دونوں خاندان ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے شاید یہ دشمنی کبھی بھی ختم نہیں ہو سکتی تھی ۔اس دشمنی نے ہر موڑ پر بڑھنا ہی تھا کبھی کم نہیں ہونا تھا

اور اسے کم کرنے کے بارے میں وہ کچھ سوچ بھی نہیں رہا تھا اس وقت تو اسے صرف اور صرف اپنی محبت کا خیال تھا کیسے بھی وہ افیشن سے ملنا چاہتا تھا جب اسے اپنے گھر کا ملازم آتا ہوا نظر آیا

کچھ دن پہلے اسے پتہ چلا تھا کہ اس کی بہن آج کل شاہ خاندان میں کام کر رہی ہے ۔اور یقینا اس کا کام حویلی کے اندر ہی تھا وہ اس کی مدد لے سکتا تھا شاید افشین تک اپنا پیغام پہنچانے کے لیے یہ شخص کی بہت مدد کرسکتا تھا

اس نے اپنے ملازم کو بھیج کر اسے اپنے کمرے میں بلایا تھا اور اگلے دس منٹ کے اندر ہی اس کے کمرے میں حاضر تھا

جی صاحب جی بولے آپ نے یاد فرمایا ۔وہ ادب سے سلام دیتے ہوئے اس کے سامنے رکا تھا

شاہ خاندان والوں کے ساتھ تمہارا کسی طرح کا کوئی رابطہ ہے؟ وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگا جبکہ اس کے انداز سے ملازم کو یہی لگ رہا تھا کہ وہ اس کی وفاداری پر شک کر رہا ہے

اللہ کی قسم شاہ جی میرا ان لوگوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی کبھی ان کے سامنے گیا ہوں وہ اس کے سامنے بیٹھ کر اپنی صفائی دینے لگا تھا

دیکھو عابد میری بات کان کھول کر سن لو مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے اور میں جانتا ہوں تمہاری جس بہن کی شادی چھ ماہ پہلے ہوئی ہے وہ آج کل شاہ حویلی میں ملازمہ کے فرائض سرانجام دے رہی ہے

تمہیں اپنی بہن کے ذریعے میرا ایک کام کرنا ہوگا وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا تو اس کی آنکھوں میں خوف آنے لگا

اور اس کام کے لیے میں تمہیں اور تمہاری بہن کو منہ مانگی قیمت دوں گا اس سے پہلے کہ وہ کچھ بھی کہتا یا انکار کے بارے میں سوچتا ہوں وہ اسے ایک اچھی آفر کر چکا تھا

لیکن ہمیں کرنا کیا ہوگا وہ پریشانی سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تھا وہ اسے منہ مانگی قیمت دے رہا تھا تو یقیناً کام کوئی چھوٹا تو ہرگز نہ ہوگا لیکن پھر بھی وہ اس کے بولنے کا انتظار کر رہا تھا

تمہاری بہن کو میرا ایک پیغام دینا ہے وہاں کی افیشن بی بی یعنی ماجد شاہ کی اکلوتی بیٹی کو دینا ہوگا اور یہ کام اتنی خاموشی سے ہونا چاہیے کہ کسی تیسرے کو اس کی بھنک بھی نہ پڑے وہ اسے محتاط رہنے کے لئے کہہ رہا تھا

°°°°°°°

نہ جانے رات وہ کب سو گئی تھی وہ دونوں تو کوئی فلم دیکھ رہے تھے اب اس کی آنکھ کھلی تو وہ بیڈ پر تھی ۔

اس نےکتنے اچھے سے اس کا برتھ ڈے سیلیبریٹ کیا تھا وہ تو اسی بات پر بہت خوش تھی ۔

شاید وہ اب تک چلا گیا ہوگا وہ بیڈ پر لیٹی یہی سب سوچ رہی تھی جب اسے کچن سے آواز آئی

کہیں عظمیٰ اپنے لئے ناشتہ تو نہیں بنا رہی اس کی پہلی سوچ ادھر ہی گئی تھی۔

اس کے اندر خوف آیا لیکن پھر عظمیٰ کو دیکھنے کی خواہش دل میں کیا آئی وہ آہستہ آہستہ ننگے پیر واشروم آئی اپنے ہاتھ اور منہ پر ٹھنڈے پانی کے چھینٹے مار کر دانت صاف کرکےکمرے سے نکلتے ہوئے کچن کی طرف جانے لگی

لیکن عظمیٰ کی جگہ یشام کو ناشتہ بناتے دیکھ اس کی پہلی نظر گھڑی کی طرف اٹھی تھی ابھی تو صرف سات بج رہے تھے اور اسے لگا کہ وہ چلا بھی گیا ہوگا

گڈ مارننگ ۔۔۔۔مجھے لگا آپ چلے گئے ہیں وہ اسے گڈ مارننگ وش کرتے ہوئے اس کے ساتھ ہی کھڑی ہو گئی تھی ۔کل کے بعد تو ان دونوں میں دوستی بھی ہو چکی تھی ۔

اس کے مسکرانے پر یشام بھی اسے بھی وش کر نے ہی لگا تھا

کہ اس کے چہرے پر آئی مسکراہٹ اپنے آپ غائب ہو چکی تھی وہ اپنا کام وہیں چھوڑتے کمرے کی طرف بڑھ گیا وہ اسے جاتے ہوئے دیکھنے لگی

شاید واش روم میں گئے ہوں گے لیکن یہ کہیں میرے آسرے پر تو نہیں چھوڑ گئے ۔مجھے تو یہ بنانا بھی نہیں آتا وہ توے پر پڑے ہوئے پراٹھے کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی جب اسے واپس آتے ہوئے دیکھا ۔

اس کے ہاتھ میں اس کے بوٹ تھے جو کہ بہت نرم ملائم روی سے بنے تھے ۔اور ساتھ ہی اس کا کوٹ مفلر گرم اونی ٹوپی اور پتہ نہیں کیا کیا تھا ۔

کمرے سے نکلنے سے پہلے اپنا خیال رکھا کرو ۔آج کے بعد اس طرح کمرے سے باہرمت نکلنا کمرے کے اندر ہیٹر آن ہے باہر نہیں سردی لگ جائے گی وہ کوٹ نکال کر اسے اپنے ہاتھوں سے بچے کی طرح پہنانے لگا ۔ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کر سلنڈر گیس بند کر دیا ۔

کوٹ پہنانے کے بعد وہ گردن میں اس کا مفلر لپٹتا اس کے سر پر ٹوپی بھی پہنا چکا تھا اور پھر اس کے ہاتھوں کی باری تھی ۔

جہاں اس نے گرم اونی گلوز پہنانے کے بعد اسے جوتے پہننے کا اشارہ کیا تھا جسےحرم کے نہ سمجھنے پر وہ خود ہی نیچے بیٹھ گیا ۔

یہ کیا کر رہے ہیں آپ میں چھوٹی بچی تھوڑی ہوں جو اپنے شوز نہیں پہن سکتی وہ جلدی جلدی جوتے پیروں میں ڈالتے ہوئے بولی تو وہ اٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔

بیٹھ جاؤ میں ناشتہ لگاتا ہوں وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔

آپ نے مجھے بھالو بنا دیا ہے وہ سامنے ہی فریج کے شیشے پر اپنا عکس دیکھتے ہوئے کھکھلائی تھی ۔

سردی بہت ہے نا جان ۔وہ ٹیبل پر اس کیلئے بنایا پراٹھا رکھتے ہوئے کہنے لگا ۔

میرا نام حرم ہے ۔اس نےپھرسے یاد دلایا۔

اوکے حرم جان اب ناشتہ شروع کریں ۔وہ اس کے انداز پر دل کشی سے مسکرایا۔

جب کہ اس کے ہاتھ جو گلوز میں قید تھے انہیں دیکھتے ہوئے وہ خود ہی نوالہ بنا کر اس کے لبوں کے قریب لے گیا وہ جو اپنے ہاتھ آزاد کروانے کے بارے میں سوچ کر پریشان ہو رہی تھی

اس کے مہربان انداز پر فوراً کسی ننھے سے بچے کی طرح منہ کھول کر اس کے ہاتھ سے کھانا کھانے میں مصروف ہو گئی۔

وہ تو کچھ ہی دنوں میں اسے حیران کر گئی تھی ۔وہ اس کے ساتھ بالکل نارمل تھی۔بیوی کی طرح تونہیں بلکہ کسی معصوم سے دوست کی طرح وہ اس کے پاس تھی جبکہ اس کا ہر انداز جو اس کیلئے بہت زیادہ حیران کن تھا نظر انداز کیے بس اپنی زندگی کے سب سے خوبصورت دن گزارنے میں مصروف تھا

°°°°°°

وہ آہستہ سے کمرہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو اس کو بیڈ پر بری طرح سے روتے ہوئے پایا

اس نے سرخ نگاہوں سے اس بنداندھیر کمرے میں دروازے کی جانب دیکھا تھا جہاں اس کی ملازمہ کھڑی تھی

اسے دیکھتے ہی اسے غصہ آنے لگا تھا اس نے کسی کو بھی کمرے میں آنے سے منع کر رکھا تھا تو وہ کیوں آئی تھی اس کی اجازت کے بنا ۔۔۔۔”

کیوں آئی ہوئی یہاں میں نے کمرے میں کسی کو بھی آنے سے منع کر رکھا تھا وہ غصے سے دیکھتے ہوئے بولی

بی بی جی مجھے ایک بہت ضروری کام تھا آپ سے دیکھیں میرا اس کام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے وہ تو میرے بھائی نے کہا تو مجھے کرنا پڑ گیا

ورنہ یہ تو آپ بھی جانتی ہیں کہ ہمارا دوسری حویلی والوں سے کوئی مطلب نہیں ہے میں تو شادی کے بعد سے اپنے مائیکے بھی نہیں گئی کہاں دوسری حویلی سے میرا کوئی لینا دینا ہوگا

وہ تمہید باندھتے ہوئے اس سے کہنے لگی تھی جبکہ دوسری حویلی کا نام سن کر افشین کو ایک چھوٹی سی امید نظر آئی وہ دوسری حویلی کے بارے میں بات کیوں کر رہی تھی

جو بھی کہنا چاہتی ہو صاف صاف کہو دوسری حویلی کے بارے میں کیا بات کرنا چاہتی ہو تم وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی اور ساتھ ہی کمرے کی لائٹ بھی اون کر دی تھی

جب سے اس کے نکاح کی خبر ملی تھی وہ کمرہ بند کر کے یہیں اندھیروں میں پڑی رہتی تھی اس کے ماں باپ اسے لے کر پریشان تھے لیکن اپنے عزت پر کوئی کمپرومائز کرنے کو تیار نہیں تھے

بی بی جی خدا کے لئے میرا نام مت لیجئے گا میرا ان سب چیزوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے وہ ایک کاغذ نکالتے ہوئے ڈرے سہمے ہوئے لہجے میں بولی تھی جبکہ لمحے کے ہزارویں حصے میں وہ اس کے ہاتھ سے کاغذ بےتابی سے چھین چکی تھی

بی بی جی یہ خط آپ کو دوسری حویلی کے ساگر کاظمی نے لکھا ہے وہ آپ سے کوئی بہت ضروری بات کرنا چاہتے ہیں ۔ بی بی جی خیال رکھیے گا میرا نام کہیں نہ آئے ۔

تم بالکل بے فکر ہو جاؤ تمہارا نام کہیں نہیں آئے گا اور اس چیز کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے سمجھا رہی تھی جب کہ اپنی بی بی کو یوں دوسری حویلی کے مرد کا لکھا خط اتنی بے تابی سے چھیننے اور پھر خوش ہوتے دیکھ وہ بھی شکی نظروں سے اسے دیکھنے لگی تھی

اس کا مطلب تھا کہ آگ صرف دوسری حویلی نہیں بلکہ یہاں بھی برابر کی لگی ہوئی تھی ۔یہ دو خاندان آپسی دشمنی نہ جانے کتنے سالوں سے نبھاتے آرہے تھے اور یہاں ان کے بچے ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو چکے تھے ۔

اور اس کی بی بی کی پاگلوں جیسی حالت بھی تو اس بات کی گواہ تھی کہ اس خط نے اسے ایک نئی زندگی بخشی ہے

آپ فکر نہ کریں بی بی یہ بات کسی کو بھی پتہ نہیں چلے گی اور اگر آپ کوئی پیغام دینا چاہتی ہیں تو مجھے دے سکتی ہیں میرا بھائی وہیں ان کی حویلی میں ملازم ہے اور ساگر کاظمی نے میرے بھائی کو یہ کام کرنے کے لئے کچھ پیسے بھی دیے ہیں ۔

وہ اسے دیکھ کر بتانے لگی تو افشین فورا سے اٹھ کر اپنی الماری کی طرف گئی تھی اور وہاں سے سب سے قیمتی چیز اٹھا کر وہ اس ملازمہ کے ہاتھ میں پکڑا چکی تھی

یہ آج سے تمہارے ہیں ۔اگر تمہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو مجھ سے کہنا لیکن یہ بات اس کمرے سے باہر نہیں نکلنی چاہیے وہ کاغذ اسے دکھاتے ہوئے بولی تو ملازمہ خوش ہوتے ہوئے اس کے سونے کے جھمکے اپنے دوپٹے میں چھپا کر کمرے سے نکل گئی

°°°°°°