65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 48)

Junoniyat By Areej Shah

یہ سب کچھ کیا ہے اور آپ یہ سب کچھ کیوں لے کر آئے ہیں۔۔۔؟

آپ نے تو کہا تھا کہ ہم دونوں ساتھ جائیں گے شوپنگ کے لئے ،وہ اسے بہت ساری شوپنگ کے بیگز پکڑا کر دکھانے لگا جس پر اس کا موڈ بری طرح سے خراب ہوا تھا ۔

ارادہ تو میرا تمہیں ساتھ لے کر جانے کا تھا جان لیکن نہیں لے کر جا سکا اس کے لیے ایم رئیلی سوری اندھیرا ہو رہا تھا ۔

تو واپس آتے آتے ہمیں اور بھی زیادہ وقت لگ جاتا ۔باہر سردی بڑھتی جا رہی ہے وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بول رہا تھا

لیکن میں نے آپ کو بتایا تھا نا کہ مجھے آئس کریم اور چوکلیٹ پسند ہے ۔۔۔؟

وہ اپنے دماغ پر زور دیتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی تھی یا پھر اسے کچھ یاد کروانے کی کوشش کر رہی تھی۔

بالکل تم نے مجھے بتایا تھا اور آئس کریم کا ڈبہ میں ابھی لے کر آیا ہوں تمہاری چاکلیٹ اس کے اندر ہے وہ خود ہی بیگ کھولتے ہوئے چاکلیٹ کا ڈبہ نکال کر اسے دینے لگا اور پھر لمحے میں اس کے چہرے پر چھائی اداسی خوشی میں بدل چکی تھی ۔

اس کی خوشی دیکھ کر وہ بھی مسکرا دیا تھا ۔یشام کو نہیں یاد پڑتا تھا کہ آج سے پہلے اس نے کسی کی اتنی پرواہ کی ہو یا کسی کی ایسی کوئی بات یاد رکھی ہو ۔لیکن ہر کسی اور اس کی حرم میں فرق بھی تو بہت تھا ۔

آپ بہت اچھے ہیں سر چاکلیٹ اور آئس کریم کے لیے تھینک یو وہ پیکٹ کھولتے ہوئے اس سے کہنے لگی ۔

یار تم مجھے سر کہنا چھوڑ نہیں سکتی وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھتا ہے لگا

سر کو تو سر ہی کہتے ہیں نا اب سر نہ بولوں تو پھر کیا بولوں ۔۔۔؟ وہ کچھ کنفیوز تھی

شوہر کو کیا بولتے ہیں ۔۔؟یشام نے دلچسپی سے پوچھا

شوہر کو تو نام سے نہیں بلاتے ان کو یہ جی’ او جی’ کہہ کر پکارتے ہیں وہ اسے دانت دیکھاتے ہوئے بولی ۔

اس کے انداز پر یشام کا قہقہ بےساختہ تھا۔

مطلب میں آپ کو اے جی ،او جی ۔کہہ کر بلاوں اسے ہنستے دیکھ اس نے پوچھا تھا۔

چھوڑو اس موضوع کو بتاؤ کیا کھاؤ گی آج میں مٹر لے کر آیا ہوں وہ موضوع ختم کرتے ہوئے بولا اس کے ساتھ ہی کچن کی طرف جانے لگی ۔

میں تو آئسکریم کھاؤں گی چاکلیٹ کھاؤں گی آپ اپنے لئے کچھ بھی بنا لیں ۔آپ کو کھانا بنانا کس نے سکھایا آپ کی اماں نے مجھے بھی میری اماں کہتی تھے کھانا بنانا سیکھو ۔لیکن میرے بابا نے کہا کہ جب تک میں 18 سال کی نہیں ہوجاتی میں کچن میں نہیں جاؤں گی

ہائے اللہ میری سالگرہ۔۔۔ وہ سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی تو یشام اسے دیکھنے لگا ۔

کیا ہوا حرم تم ٹھیک تو ہو وہ پریشانی سے اسے دیکھ کر پوچھنے لگا تھا

نہیں نہیں نہیں میں بالکل بھی ٹھیک نہیں ہوں پرسوں میری سالگرہ تھی کسی نے بھی مجھے وش نہیں کیا کسی نے بھی مجھے گفٹ نہیں دیا میرا کیک وہ اداسی سے کہنے لگی جبکہ اس کی اداسی نہیں یشام کو پریشان کر دیا تھا ۔

چپ رونا نہیں بالکل مت رونا ایک آنسو نہ آئے آنکھ میں،کیا ہوا اگر تمہاری سالگرہ کی ڈیٹ گزر گئی سالگرہ تو ہم کبھی بھی منا سکتے ہیں میں ابھی تمہاری سالگرہ مناتا ہوں ۔

جاو جلدی سے پیارا سا تیار ہو کے آؤ ہم دونوں باہر ڈنر کریں گے۔اور کیک بھی کاٹیں گے ۔وہ بے حد محبت سے اس کی دونوں گالوں کو صاف کرتے ہوئے بولا جہاں پانی کے ننھے ننھےقطرے گر چکے تھے

اور میرا گفٹ ۔۔۔؟اس نے مڑ کر اسے دیکھ کر پوچھا

میری جان میں تمہیں گفٹ بھی دونگا تم جاؤ جلدی سے چینج کرکے آؤ وہ اسے اپنے ساتھ لے کے کچن سے باہر آیا پھر اپنی پسند کی ایک ڈریس نکال کر اس کے حوالے کی جو کافی زیادہ خوبصورت تھی

حرم کوبھی وہ ریڈ کلر کی خوبصورت سی ڈریس بے حد پسند آئی تھی اسی لئے اس نے فوراً اس کی پسند کو قبول کر لیا تھا

وہ چینج کرنے چلی گئی تھی جب یشام نےکسی ریسٹورنٹ میں فون کر کے ایک ٹیبل بک کروایا تھا اورباقی انتظامات بھی کرنے لگا وہ حرم کے چہرے پر خوشی لانے کے لئے کچھ بھی کر سکتا تھا

°°°°°°°

جھوٹ بول رہے ہیں آپ ایسا ہو ہی نہیں سکتا وہ بے یقینی سے دیکھ کر کہنے لگی تھی

میں جھوٹ کیوں بولوں گا کیا ضرورت ہے مجھے جھوٹ بولنے کی اور کوئی لڑکی اگر گھر سے بھاگ گئی ہو تو اس کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے ۔۔۔؟وہ سوالیہ انداز میں بولا

مجھے ایسے مت دیکھودیشم میں نے اسے ختم کر دیا ہے اسے ختم کرکے ہمیشہ کے لئے دفناآیاہوں وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربولاتھا

نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے جھوٹ بول رہے ہیں آپ وہ بے یقینی کے عالم میں بولی تھی

میں ایسا نہیں کر سکتا تھا لیکن میں نے ایسا کیا ہے کیوں کہ میں اس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں ۔

اور اس خاندان نے اس گاؤں کے بہت سارے اصول بنائے ہیں اگر ہم دوسروں کے لئے اصول بناتے ہیں تو ان اصولوں پر چلنا ہم پر بھی لاگو ہے اسی لئے مجھے یہ کرنا پڑا اور کوئی نہیں ۔۔۔۔۔۔

چٹاخ۔۔۔۔۔راحت صاحب کا زور دار تھپڑ اس کو خاموش کروایا گیا تھا ۔

یہ کیا بکواس کی ہے تم نے بولو کیا تم سچ بول رہے ہو اگر تم نے ایسا کچھ کیا تو خداش۔۔۔۔۔

تو کیا ۔۔۔؟

تو کیا بابا جان بولیں تو کیا کریں گے آپ کیا یہ اصول آپ نے نہیں بنایا تھا کہ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے تو پھر آپ مجھ سے سوال جواب کیوں کر رہے ہیں میں نے تو آپ کے ہی بنائے ہوئے اصول کو فالو کیا ہے۔

آپ کو تو مجھ پر فخر ہونا چاہیے کہ میں نے آپ کے اصولوں پر چل کر آپ کا حکم ماننا ہے

وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے بولا اس کے لب و لہجے میں کسی طرح کی کوئی شرمندگی نہیں تھی ۔

لیکن پیچھے سے آنے والی آواز نے ان دونوں کو اپنی طرف متوجہ کر دیا تھا زمین پر پڑا دیشم کا وجود ہوش و حواس سے پوری طرح بیگانہ تھا ۔

خداش کے اس روپ نے اسے بہت بڑا جھٹکا دیا تھا

وہ تیزی سے اس کی طرف بڑھتے ہوئے اس کے نازک سے وجود کو اٹھاتا باہر گاڑی کی طرف بھاگا تھا ۔

°°°°°°

بہت شدید جھٹکا لگا ہے انہیں کسی چیز کی بہت ہی زیادہ ٹینشن لی ہے انہوں نے خدا کا شکر ہے کہ نروس بریک ڈاؤن ہونے سے بچ گیا ان کی حالت بہت خراب ہے ان کا خاص خیال رکھیں اور ٹینشن سے دور رکھیں انہیں ۔

ڈاکٹر ہدایات دیتے ہوئے بول رہا تھا دیشم اب تک بے ہوش تھی خداش کی بات نے یقینا اس کے دماغ پر بہت ہی برا اثر چھوڑا تھا ۔

لیکن یہ سب کچھ بولنا بہت ضروری ہو گیا تھا ۔پتہ نہیں کس طرح سے لیکن پورے گاؤں میں یہ بات پھیلتی جا رہی تھی کہ حرم گھر سے بھاگ چکی ہے ۔

دادا جان نے حرم کو ڈھونڈنے یا اس کے بارے میں کوئی بھی سوال کرنے سے منع کر دیا تھا دادا جان سب کچھ جاننے کے باوجود بھی اس سے کچھ بھی نہیں بتا رہے تھے اور ایسے میں اپنی بہن کو الٹی سیدھی باتوں سے بچانے کے لیے اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا

یہ گاؤں کے اصولوں میں شامل تھا کہ گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو یا تو پتھر مار کاری کر دیا جاتا تھا یا پھر آگ لگا کر قتل کر دیا جاتا تھا ۔اور یہی وہ ڈر تھا جس کی بنا پر یہ گاؤں اس جرم سے محفوظ تھا ۔

اسے یقین تھا اس کی بہن بالکل بے قصور ہو گی لیکن دادا جان نے کہا تھا وہ جہاں بھی ہے بالکل محفوظ ہے ان کی بات پر یقین کر کے اس نے اتنا بڑا فیصلہ کیا تھا ورنہ گاؤں والے اسے کہیں سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتے اور اگر وہ مل جاتی تو ۔۔۔اس کےساتھ کیا ہوتا یہ وہ سوچنا بھی نہیں چاہتا تھا

اور اس سب میں اس کے گھر والوں کوالگ ٹارچر کیا جاتا فی الحال یہی بہتر تھا کہ وہ گھر کے ملازموں کے سامنے حرم کی موت کاجھوٹا ڈرامہ کردے ۔

بعد میں جب حرم واپس آئے گی تب سب کچھ دیکھا جائے گا لیکن فی الحال دادا جان بھی اس کنڈیشن میں نہیں تھے کہ انہیں کسی طرح کی ٹینشن دی جائے

اور اس وقت اسے جو سمجھ میں آیا اس نے وہی کیا تھا

لیکن اس سب کا دیشم پر اتنا خطرناک اثر ہوگا یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا

لیکن یہ بھی سچ تھا کہ فی الحال وہ دیشم کو بھی کچھ نہیں بتا سکتا ۔اسے یہ ڈراما مزید کرنا تھا

اپنی اماں کے علاوہ اس نے یہ بات اور کسی کو بھی نہیں بتائی تھی ۔کیونکہ شاید وہ بیٹی کا غم برداشت نہیں کر پاتیں

°°°°°

نہیں ساگر ایسا ممکن نہیں ہے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی

آپ یہ سوچ پر دماغ سے نکال دیں پلیز میں ایسی کوئی غلطی نہیں کروں گی جو میرے والدین کو شرمندہ کردے

وہ صاف انکار کر چکی تھی ساگر اسے کتنے دنوں سے یہی بات سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا

کہ ان کے دونوں خاندان یہ بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں اسی لئے انہیں اب بیچ کا راستہ نکالنا ہوگا ۔

اگر تم ایسا نہیں کر سکتی تو ہماری شادی ناممکن ہے

اگر تم مجھ سے سچی محبت کرتی ہو تو ہمیں ایسا کرنا ہوگا

دیکھو میں بھی ان سب چیزوں کے لیے تیار نہیں ہوں

ایک لڑکی کی عزت کو میں بھی سمجھ سکتا ہوں میں جانتا ہوں ہمارے خاندان کی بدنامی ہوگی بہت برا ہوگا ہمارے جانے کے بعد لیکن اپنی محبت کو اک نام مل جائے گا ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ مل جائے گا

میں جانتا ہوں میں تمہیں جو کرنے کے لیے فورس کر رہا ہوں وہ بہت غلط ہے لیکن اپنی محبت کو پانے کیلئے ہمیں یہ قدم اٹھانا ہوگا ۔

جو قدم ہم دونوں کے لیے صحیح ہے وہ اٹھائیں۔۔آپ اپنی فیملی کو اس رشتے کے لئے منائیں،میں اپنی فیملی کو راضی کروں گی

میں نے اپنی اماں کو بتا دیا ہے فی الحال تو وہ کافی غصہ ہوئیں ہیں لیکن میں جانتی ہوں وہ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گی

آپ اپنے گھر والوں کو سمجھائیں اور رشتہ لے کر آئے ہمیں ایک دوسرے کی فیملی کو سمجھانا چاہئے نہ کہ ایسے الٹی سیدھی سوچ اپنے دماغ میں لانی چاہیے

وہ اسے سمجھاتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ ساگر نفی میں سر ہلا کر رہ گیا جیسے وہ آنے والے کل کو جانتا ہوں

°°°°°

ہیپی برتھ ڈے ٹو

یو ہیپی برتھ ڈیئر گڑیا

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ۔۔۔۔

صیام اس کے پاس کھڑا گنگنا رہا تھا جبکہ دوسری سائیڈ پر یشام تھا۔

اس نے ان دونوں کی موجودگی میں کیک کاٹا ۔وہ بہت خوش نظر آرہی تھی۔تھوڑی ہی دیر میں صیام نے ان کے لئے ایک بہت خوبصورت ہوٹل میں ٹیبل پر اک پیاری سی برتھ ڈے پارٹی کا انتظام کر لیا تھا ۔

اور اب وہ ان کی موجودگی میں اپنی برتھڈے کو سپیشل بنا رہی تھی اس نے کیک کا ٹکڑا اٹھاتے ہوئے خود اپنے ہاتھوں سے یشام کو کھلایا ۔اور پھر صیام کو بھی کھلایا۔

یہ رہا تمہارا برتھ ڈے گفٹ صیام نے ایک بہت ہی خوبصورت پیک گفٹ اس کے حوالے کیا تھا

اس کے اندر کیا ہے۔۔۔؟

اس نے دلچسپی سے پوچھا

گفٹ سیکرٹ کے بارے میں بتانا تو نہیں چاہیے کہ اندر کیا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ تمہیں پسند آئے گا یا نہیں اسی لئے بتا رہا ہوں

اس میں لیڈیز واچ ہے میں نے آج تک کسی لڑکی کو گفٹ نہیں دیا تو میں نہیں جانتا کہ لڑکیوں کو کس طرح کے گفٹ پسند ہوتے ہیں اسی لیے تم اسے قبول کر لو وہ مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا

تھینک یو سو مچ ویسے بھی میرے پاس واچ نہیں تھی اس نے خوشی خوشی اس تحفے کو قبول کیا تھا ۔

اب وہ یشام کی طرف دیکھ رہی تھی یقیناً اس کی طرف سے بھی گفٹ کی منتظر تھی اس نے مسکراتے ہوئے ایک گفٹ اس کے حوالے کیا تھا ۔

یہ تو بہت بھاری ہے اس کے اندر کیا ہے

۔تم خود دیکھ لو ۔۔اس نے صیام کی طرح بتایا نہیں تھا اسی لیے وہ اس کا گفٹ کھولنے پر مجبور ہوگئی تھی

کیونکہ وہ اپنی ایکسائٹمنٹ کو زیادہ دیر تک کنٹرول نہیں کر پاتی تھی

واؤ یہ تو بہت خوبصورت ہے اس نے ایک بے حد نفیس مگر خوبصورت نیکلس نکال کر اپنے ہاتھ میں لیا تھا جب کہ اس کے چہرے پر خوبصورت رنگوں کو دیکھ کر وہ مسکرا دیا تھا۔

یہ میرے لئے ہے ۔۔۔؟اس نے چمکتے ہوئے ڈائمنڈنیکلس کو دیکھ کر پھر سے یقین دہانی کے لئے پوچھا

تمہارے لیے ہی ہے اور بیچارہ کسے گفٹ دے گا صیام نے اسے یقین دلایا تھا

پہنائیں مجھے وہ فوراً اس کے آگے آرکی تو یشام نے بھی تاخیر نہ کی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ خوبصورت نیکلس اس کی صراحی دار گردن کی زینت بن چکا تھا ۔

آپ کو پتا ہے آج تک مجھے کبھی کسی نے جیولری گفٹ نہیں کی سب مجھے بچوں والے گفٹ دیتے ہیں۔یہ بہت خوبصورت ہے میں سب کو دکھاؤں گی یہ

ویسے باقی سب نے میرے لئے کیا گفٹ لیا ہوگا یہ تومیں واپس حویلی جاکر ان سے پوچھوں گی اگر کوئی بھول گیا ہوا نہ میرا گفٹ تو اس کی خیرنہیں ۔

کہاں جاؤ گی تم۔ ۔۔۔؟ وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا

حویلی واپس اور کہاں ۔۔۔۔۔؟ حرم ہنوز ویسا ہی تھا۔

لیکن اس کی بات پر کب یشام کر غصہ آیا یہ اسے بھی پتہ نہ چلا ۔لیکن اپنے بازو پر اس کی سخت گرفت محسوس کرتی وہ اس کی طرف کھنچ چکی تھی۔

کونسی حویلی ۔۔۔؟وہ آنکھوں میں غصہ لیے اس سے سوال کر رہا تھا

حویلی مطلب میری حویلی میرا گھر ۔۔۔وہ اس کے انداز پر غصہ کرنے لگی تھی

تمہارا گھر وہ ہے جہاں میں تمہیں لے کر آیا ہوں ۔جہاں ہم دونوں رہ رہے ہیں وہ ہے تمہارا گھر خبردار جو آج کے بعد حویلی کا خیال بھی اپنے دماغ میں لایا

کہیں نہیں جاؤ گی تم ہمیشہ میرے ساتھ میرے پاس رہو گی تم وہاں رہو گی جہاں میں رہوں گا ۔کوئی حویلی نہیں ہے تمہاری کوئی نہیں ہے تمہارا سوائے میرے

بس ہم ہی ایک دوسرے کے ہیں یاد رکھنا وہ شدید غصے میں بول رہا تھا جب اچانک حرم کی آنکھوں میں آنسو بہنے لگے

یشام ۔۔یہ۔۔۔۔صیام نے کچھ کہنا چاہا۔

بُرے ہیں آپ نہیں رہنا مجھے آپ کے ساتھ نہیں چاہیے مجھے آپ کا گفٹ ۔۔کھولیں اسے واپس۔اس نے نیکلس کھولنا چاہا لیکن وہ نہ کھلا

صیام سر مجھے اپنے ساتھ لے چلیں وہ بری طرح سے روتے ہوئے بول رہی تھی ۔جبکہ اس کے ری ایکشن پر یشام کو بھی اپنے سخت رویے کا احساس ہو گیا تھا

وہ اتنی جلدی اس کے گھر والوں کو بھولنےپر مجبورنہیں سکتا تھا اسے آہستہ آہستہ اسے اپنی عادت ڈالنی تھی اور اپنی عادت ڈالنے کے بعد اسے ہمیشہ کے لئے اپنے پاس رکھنا تھا ۔

سوری حرم اس نے فورا کہا جبکہ صیام اسے دیکھ کر رہ گیا وہ کسی کو سوری بھی بول سکتا تھا ۔۔۔

اس بات کی کوئی سوری نہیں ہوتی ۔اتنے زور سے میرا ہاتھ پکڑا درد ہوگیا مجھے وہ بازو سہلانے لگی ۔

ایم سو سوری حرم ۔۔۔وہ معذرت کرنے لگا تھا جبکہ صیام ان دونوں کو آپس میں مگن دیکھ کے آہستہ سے نکل گیا تھا ۔

آپ دوبارہ میرے ساتھ ایسا نہیں کریں گے اس نے انگلی اٹھا کر پوچھا تھا

جب یشام نے فورا اس کا ہاتھ تھام کر اپنے لبوں سے لگایا

تم آئندہ میرے سامنے کسی دوسرے تیسرے کا ذکر نہیں کروگی اور نہ ہی کہیں جانے کی بات کرو گی تو میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا ۔وہ اس کا ہاتھ اپنے لبوں سے لگاتے ہوئے بولا۔

جب کہ اس کی بات پر حرم کچھ بھی نہیں بول رہی تھی پتہ نہیں کیوں لیکن وہ بالکل چپ ہو گئی تھی جب کہ وہ اس کا نازک سا وجود تھام کر اپنے سینے سے لگا چکا تھا۔

°°°°°°

ہاں یہ سارا سامان رکھو میرا میں باقی کا سامان لے کر آتی ہوں اسے ڈرائیور کے آنے کی خبر ملی تو وہ فورا ہی اپنا کچھ سامان لے کر باہر آئی تھی ۔

وہ اس کے حکم پر ہاں میں سر ہلا تا اور اس کا سامان ڈگی میں رکھنے لگا تھا جبکہ وہ باقی تمام سامان بھی لے آئی تھی ۔شاید اب اسے واپس اس ہوسٹل میں کبھی نہیں آنا تھا جہاں اس نے زندگی کے اتنے برس گزارے تھے

اس کی زندگی بدلنے والی تھی اس کی شادی ہونے والی تھی ایک نئی زندگی کی شروعات ہونے والی تھی

وہ شخص کیسا ہوگا یہ تو وہ نہیں جانتی تھی لیکن اس نے اپنے نانا جان سے کہا تھا کہ وہ مرد بد کردار نہیں ہونا چاہیے اسے بدکردار مردوں سے نفرت تھی

وہ اپنی زندگی میں ایسا انسان چاہتی تھی جو خالص سچی محبت کرے نہ کہ جگہ جگہ منہ مارے اسے ایسی عورتیں بھی سخت ناپسند تھیں جو اپنے شوہر اپنی محبت کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے ساتھ وقت گزارتی تھیں

جو محبت میں کسی کو دھوکا دے کر کسی کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرتی تھیں

محبت ایک بہت انمول جذبہ ہے جو کسی کے دل میں بس ایک بار پیدا ہوتا ہے یہ روز روز پیدا ہونے والے جذبے محبت نہیں کہلاتے

محبت بس ایک دفعہ ہوتی ہے اور پھر وہ ساری زندگی رہتی ہے ۔اور یہ محبت صرف نکاح کے دو بول سے شروع ہوتی ہیں آئے دن ہونے والی محبت محبت نہیں ہوتی ۔

اور وہ جانتی تھی کہ نکاح کے دو بول کے ساتھ ہی وہ شخص اس کے دل میں اتر جائے گا ۔اپنی ہر خوبی ہر خامی کے ساتھ

°°°°°