Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 56)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 56)
Junoniyat By Areej Shah
تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔۔؟
تم یہاں میرے کمرے میں کیسے آئے۔۔۔۔؟
اس طرف کوئی راستہ ہے کیا۔۔۔۔۔؟
وہ ایک ہی سانس میں کئی سوال پوچھ چکی تھی
میں یہاں تم سے ملنے کے لیے آیا ہوں
میں تمہارے کمرے میں یہاں اس درخت سے چڑھ کر آیا ہوں
اور ہاں ناں بالکل یہاں پر راستہ ہے بندروں کی طرح اوپر چڑھو اور اگر پاؤں پھسل جائے تو ہڈیاں تڑواؤ فری میں۔
کتنی اسٹوپڈ ہو تم اتنے دنوں سے اس گھر میں رہ رہی ہو اتنا نہیں پتا کہ یہاں پر کوئی راستہ نہیں ہے ۔
بہت مشکل سے آیا ہوں میں اپنی جان پر کھیل کر تم سے ملنے کے لیے اور تم مجھ سے فضول قسم کے سوال پوچھ رہی ہو بندہ کوئی چائے کافی کا پوچھتا ہے۔وہ پرسکون اس کے بیڈ پر دراز ہوتے ہوئے بولا
میں چوروں کو اس طرح کی کوئی آفر نہیں کرتی ۔سچ سچ بتاؤ تم یہاں اس حویلی میں چوری کرنے آئے تھے ناں ویسے شکل سے تو شریف خاندان کے لگتے ہو ۔
استغفراللہ میں شریفوں کے خاندان سے نہیں ہوں ۔وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
ہاں پتہ چل گیا مجھے اگر شریفوں کے خاندان کے ہوتے تو دروازے سے آتے آدھی رات کو چوروں کی طرح تھوڑی نہ آتے ۔
میں ان شریفوں کی نہیں اُن لندن والے شریفوں کی بات کر رہا ہوں اس نے ہاتھ کے اشارے سے کہا تھا ۔
تم چاہے ان کی بات کرو چاہے ان کی بات کرو لیکن شریف کہیں سے نہیں لگتے۔اپنی بات پر ڈٹی رہی
کیا بکواس کر رہی ہو تم ایک تو میں آدھی رات کو تم سے ملنے کے لیے یہاں آیا ہوں اور تم آگے سے مجھے پتہ نہیں کس کس سے ملا رہی ہو ۔
کس نے کہا تھا میری ذات پر اتنا بڑا احسان عظیم کرنے کا اور تمہیں میرے گھر کے بارے میں کیسے پتہ چلا ۔تم یہاں تک آئے کہاں سے ۔۔۔۔۔؟
یار ایک تو تم سوال بہت پوچھتی ہو تمہارے سارے سوالوں کا بس ایک جواب ہے جنہیں تم پیار سے نانا جی کہتی ہو نہ میں انہیں دادا جی کہتا ہوں اس نے آنکھ دبا کر کہا تو ریدم کا منہ کھل گیا
اور مجھے یہ سب کچھ بہت پہلے سے پتا تھا تب سے جب ہم کالام میں ملے تھے اب مزید کوئی بات نہیں
میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتا میں تم سے ملنے آیا ہوں تم مجھ سے بات کرو میں تمہارا کزن ہوتا ہوں اگر تم چاہو تو مجھے عزت نہیں دے سکتی ہو۔
ایک ہی سانس میں جتنا ہو سکے بول کر وہ اس کی ساری کنفیوژن دور کر چکا تھا
مطلب کے تم رشتے میں میرے بڑے بھائی لگتے ہو وہ ساری باتیں سن کر اسی نتیجے پر پہنچی
استغفراللہ میری فیلنگز کی واٹ لگا دو ۔۔میں کوئی بھائی نہیں ہو تمہارا ٹھیک ہے نا ۔۔۔؟
اور اب تم وہ مجھے بتاؤ جو میں تم سے پوچھنے آیا ہوں کہ تم یہاں کیوں آئی ہو
تمھیں تو وہاں ہماری حویلی میں آنا چاہیے تھا نا تم یہاں کیسے آ گئی؟
یہی وہ سوال تھا جو اسے رات کو سونے نہیں دیتا تھا اب وہ مجبور ہو کر یہاں تک آیا تھا اس سے سب کچھ جاننے کے لئے
ذریام نے اسے ادھوری بات بتائی تھی اس نے بس اسے یہی بتایا تھا کہ وہ اسے خداش کے ساتھ بھیج چکا ہے لیکن پھر بھی وہ اس کے ساتھ گئی کیوں۔؟ ۔۔۔یا وہ جاننا چاہتا تھا کہ خداش اسے زبردستی یہاں لایا تھا ۔
مجھے خداش بھائی نے بتایا تھا کہ نانا جان نے جو باتیں مجھے بتائی ہیں وہ جھوٹ ہیں
ذریام بھائی عمایہ کے ساتھ یہ رشتہ رکھنا چاہتے ہیں اور اس کے ساتھ اس رشتے میں خوش ہیں اتنا ہی نہیں بلکہ انہوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ عمایہ ونی ہوئی ہے ۔
اسی لئے نانا جان اس کو پسند نہیں کرتے وہ پریگننٹ ہے اور اس سے اور اس کے بچے کو خاندانی نام دینے کے لیے وہ زریام بھائی کو بلیک میل کر کے ان کی شادی مجھ سے کروانا چاہتے ہیں ۔
نانا جان مجھے ایک محفوظ ٹھکانہ دینے کے لیے یہ سب کچھ کر رہے ہیں ۔لیکن اس سے زریام بھائی کبھی خوش نہیں رہ سکیں گے کیونکہ ان کے دل میں کہیں نہ کہیں وہ لڑکی بس چکی ہے
مجھے لگا تھا کہ ان کی شادی زبردستی کی گئی ہے اور ذریام بھائی عمایہ کو پسند نہیں کرتے لیکن اب جو بات میرے سامنے آئی ہے وہ بالکل مختلف ہے ۔
نانا جان نے مجھے بتایا وہ لڑکی اچھی نہیں ہے لیکن ذریام بھائی نے بتایا کہ وہ بہت پیاری اور معصوم ہے وہ کسی معصوم کی زندگی تباہ تو نہیں کر سکتی تھی نہ اسی لیے میں خداش بھائی کے ساتھ کچھ دن کےلیے یہاں آ گئی جب وہاں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا میں چلی جاؤں گی ۔
اس نے پوری بات اسے بتائی تو وہ مسکرا دیا ۔
ہاں یہ سچ ہے عمایہ بھابھی بہت اچھی ہے بہت معصوم سی وہ کبھی کسی کے بارے میں برا یا غلط سوچ ہی نہیں سکتی
دادا جان انہیں پسند نہیں کرتے اسی لیے وہ یہ سب کچھ کر رہے تھے لیکن شکر ہے خدا کا یہ تم صحیح وقت پر ساری بات کو سمجھ گئی
ویسے تم اتنی بے وقوف ہو نہیں جتنی شکل سے لگتی ہو وہ اسے دیکھ کر اس کی تعریف کرتے ہوئے بولا تو ریدم نے اسے گھور کر دیکھا
شکل سے تو تم بھی چور نہیں لگتے اور نہ ہی آدھی رات کو لوگوں کے گھروں میں گھسنے والے لگتے ہو لیکن غصے ہو ناں۔
لیکن میں نے چوری کیا کیا ہے اس سے خود کو چور کہلوانا بالکل پسند نہ آیا تھا ۔
کچھ بھی اٹھا کر لے جاؤ صرف چوری والی فارمیلٹی ہی تو پوری کرنی ہے باقی سارا کام تو تم کر چکے ہو ۔
عزت سے بات کرو لڑکی فیوچر میں تمہیں ویسے بھی مجھے بہت عزت دینی پڑے گی ۔
وہ اسے گھورتے ہوئے سختی سے بولا تھا اور باسکٹ سے جا کر کیٹی سے ہائے ہیلو کرنےلگا
دیکھو ابھی تم میرے نئے نویلے کزن بنے ہو تو تمہیں عزت دینے کے لئے مجھے تھوڑی پریکٹس کرنی پڑے گی ۔
میری تو زبان میں بھی کھجلی ہونے لگتی ہے جب میں تمہیں آپ کہنے کے بارے میں سوچتی ہوں عزت پتا نہیں میں تمہیں کیسے دوں گی ۔
وہ سوچنے والے انداز میں کہہ رہی تھی جب کہ اتنی بےعزتی پر وہ سلگ کر رہ گیا ۔
تم کرو پریکٹس میں نکلتا ہوںں۔پھر آؤں گا اور کسی دن اسی طرح چوری چپکے تم سے ملنے کے لیے۔۔ وہ کیٹی کو پیار کرتا کھڑکی کی طرف جاتے ہوئے بولا
اگلی دفعہ کوئی چاکلیٹ آئسکریم لے کر آنا اچھے انسان تو تم ہو نہیں ہونے اچھے کزن ہونےکا فرض تو نبھاؤ۔وہ پیچھے سے اسے دیکھتے ہوئے بولی
جب شائزم مسکرا دیا اس کا دھیان پھر سے کیٹی کی طرف گیا تھا جو ایک خوبصورت سی باسکٹ میں آرام فرما رہی تھی لیکن کافی سست لگ رہی تھی
تم سے میں کسی طرح کی رشتہ داری بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا ۔ہاں لیکن کیٹی کے لیے ضرور کچھ لے کر آؤں گا ۔۔وہ کہہ کر کھڑکی سے نیچے کی طرف کود گیا تھا ۔
شکر ہے کہ اسے کسی نے جاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا وہ وہی بالکنی پر کھڑی اس کے اوجھل ہو جانے کا انتظار کرتی رہی
جب کہ اس کے جاتے ہی اس کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آ گئی تھی شاید اسے لگا تھا وہ کبھی دوبارہ اسے نہیں دیکھ سکے گی لیکن وہ تو اس کا کزن ہی بن کر اس کے سامنے آ گیا تھا جس پر وہ بہت خوش تھی ۔
°°°°°°
یہ کیا تم نے ابھی تک سامان پیک نہیں کیا۔۔۔۔۔!
آج شام کو تم لوگ یہاں سے شمالی علاقوں کی سیر کے لئے نکل رہے ہو نا۔ ۔۔۔۔؟ اماں نے کمرے میں داخل ہوتے اسے بیڈ پر پریشان بیٹھے دیکھ کر کہا
اماں میں اس شخص کے ساتھ کہیں نہیں جانے والی ۔۔۔” کہیں بھی نہیں میں دادا جان کو اپنا فیصلہ سنا چکی ہوں۔اور سب گھر والے بھی جانتے ہیں ۔۔ کوئی بھی میرے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتا
میں اس شخص کے ساتھ ایک سیکنڈ نہیں گزارنا چاہتی۔اور آپ لوگ اس کے ساتھ مجھے زبردستی باندھ رہے ہیں آپ جانتی ہیں وہ قاتل ہے ۔اس نے حرم کا قتل کیا ہے ۔
بس کردو دیشم سب کچھ پتہ ہے ہمہیں سب کچھ جانتے ہیں ہم اور اس نے قتل کیوں کیا یہ بھی جانتے ہیں غیرت کے نام پر اس خاندان میں پہلے بھی ہزار قتل ہوئے ہیں ایک اب ہوگیا ۔۔۔۔”
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جب بہن بیٹیاں باپ بھائی کا سر جھکاتی ہے تو ان کا یہی انجام ہوتا ہے اور میں تمہارے آگے ہاتھ باندھتی ہوں خدا کے لیے ہماری تھوڑی عزت رکھ لو
جو تم کرتی پھر رہی ہو نا اس سے نہ صرف تمہاری زندگی پر برا اثر پڑے گا بلکہ ہماری تربیت پر بھی انگلی اٹھائی جائےگی ۔
تم ہمیشہ سے اپنی من مرضی کرتی آئی ہو نہ تمہارے بابا نے تمہیں ٹوکا اور نہ ہی میں نے تمہیں کبھی تمہاری مرضی کرنے سے روکا ہے لیکن اب تم اپنی اصل زندگی میں قدم رکھ چکی ہو ۔
اب تم ایک شادی شدہ لڑکی ہو نکاح ہو چکا ہے تمہارا نئی زندگی شروع ہوچکی ہے تمہاری اور اب اپنا گھر بسانے کے بجائے تم ان ساری حرکتوں پر اتر آئی ہو
جانتی ہو تمہاری طلاق ہو گئی تو کیا ہوگا شاید کوئی تمہیں کچھ نہ کہے لیکن ہمہیں لوگ جینے کے لائق نہیں چھوڑیں گے
ایک طلاق یافتہ لڑکی کی اس معاشرے میں کوئی عزت نہیں ہے اسے کوئی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا دیشم تم چاہے ہزاروں ڈگریاں حاصل کر لو لیکن اگر تمہارے ماتھے پر یہ طلاق کا داغ لگ گیا تو کبھی سر اٹھا کر جی نہیں پاؤ گی اور نہ ہی کبھی ہمیں سر اٹھانے کے قابل چھوڑوں گی
بند کرو اپنی ضد اپنی ہٹ دھرمی ہر معاملے میں تمہاری نہیں چل سکتی۔ خداش پورے خاندان کے خلاف جاکر تم سے نکاح کر چکا ہے
تمہیں معلوم ہے کوئی اس نکاح کے لئے راضی نہیں تھا لیکن پھر بھی وہ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹا پورے خاندان کی لڑکیوں کو چھوڑ کر اس نے تمہیں اپنایا ہے
خدا کے لئے اپنی نہ سہی ہماری تھوڑی سی فکر کر لو دیشم۔تمہارے بابا نا تو باہر کسی کے سامنے سر اٹھانے لائق رہیں گے اور نہ ہی اپنے بھائیوں کے سامنے۔۔ ہمیں شرمندہ مت کرو ۔
تمہارا باپ جیتے جی مر جائے گا۔۔۔۔
اماں۔۔۔وہ تڑپ اٹھی تھی۔لیکن اماں خاموش نہ ہوئیں
دیشم تم بچپن سے ضدی تھی بچپن سے باغی تھی اور ہم نے تمہاری ہر بات مانی ہر ضد پوری کی لیکن اس بات میں تمہیں ہماری بات ماننی پڑے گی
ارے لڑکیاں تو نہ جانے کیسے کیسے شوہر کے ساتھ گزارا کر لیتی ہیں خداش تم سے محبت کرتا ہے ۔دیوانوں کی طرح چاہتا ہے تمہیں
مت کرو یہ سب کچھ اپنی زندگی برباد مت کرو دیشم یہ صرف اور صرف تمہارا نقصان ہے اور کچھ نہیں اماں بولنے پر آئیں تو پھر بولتی ہی چلی گئیں
ان کی باتوں پر اسے دکھ تو ہوا تھا لیکن وہ غلط تو کہیں پر بھی نہیں تھیں وہ جذبات میں آکر خداش سے طلاق لینے کا فیصلہ تو کر چکی تھی لیکن طلاق لینے کے بعد اس کی زندگی کیا ہوگی یہ تو اس نے سوچا ہی نہیں تھا
بے شک طلاق کے بعد اس شخص سے اس کی جان چھوٹ جائے گی لیکن اس کے ماں باپ کا کیا ہوگا کیا وہ اس کی بربادی پرسکون سے کیسے پائیں گے ۔
اور اس کا باپ نہیں وہ اپنے باپ کو جیتے جی مار نہیں سکتی تھی۔
°°°°°°
تین سال گزر چکے تھے نہ افشین کا پتہ چلا نہ ہی ساگر نے کبھی رابطہ کیا افشین کے بھائی اب تک اس کو ڈھونڈ رہے تھے لیکن اس کا کبھی کوئی اتاپتا ہی نہ ملا نہ جانے وہ کہاں چلے گئے تھے ۔
احمر ان تین سالوں میں ایک بار پاکستان آیا تھا اس کا ارادہ انہِیں بتانے کا تھا کہ وہ شادی کر چکا ہے لیکن بابا جان کا غصہ اور بات بات پر ساگر کی غلطی کو یاد کرنا اسے اپنی بات کہنے کا موقع ہی نہ دے سکا ۔
بابا جان کی ضد تھی کہ اسے شادی کر لینی چاہیے لیکن اس کے ہر بار انکار پر وہ کچھ بھی نہ کہہ سکے وہ خاموشی سے لوٹ آیا تھا
گھرمیں ثاقب کے علاوہ اور یہ بات کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ یہاں ایک لڑکی سے شادی کر چکا ہے مسئلہ اس کی شادی نہیں بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ وہ پہلے غیر مسلم تھی اور یقیناً بابا جان اس بات کو آسانی سے نہیں سمجھ سکتے تھے
اس چیز کے لیے انہیں دلائل کی ضرورت تھی انہیں قائل کرنے کی ضرورت تھی ۔لیکن فی الحال بابا جان کا بے انتہا غصہ اسے یہ سب کچھ کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا وہ کسی بھی قیمت پر اپنی بیوی اور بچے کی خوشحال زندگی پر رسک نہیں لے سکتا تھا
°°°°°°
خداش کمرے میں آیا تو اسے ایک بیگ بیڈ پر کھلا ہوا نظر آیا جب کہ ایک بیڈ زمین پر بھرا ہوا پڑا تھا جب کہ وہ الماری سے کپڑے نکالنے کر بیڈپر کھلے ہوئے بیگ میں ڈال رہی تھی ۔
عقل آگئی میڈم کو ۔۔۔۔۔اس نے سوچا لیکن کوئی سوال نہ کیا بلکہ خاموشی سے جا کر بیڈ پر لیٹ گیا اور اسے اس کا کام کرتے ہوئے دیکھتا رہا
اس کی نظریں ہی کافی تھی اس کو ڈسٹرب کرنےکےلیے لیکن وہ رکی نہیں اپنا کام کرتی رہی
میں نے سارا سامان رکھ لیا ہے آپ دیکھ لیں ۔وہ مکمل طور پر اسے نظر انداز کر رہی تھی کہ پھر بولی تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
تم کچھ بھی رکھ لوجان صحیح ہوگا وہ بالکل پرسکون انداز میں کہتا ہے ایک بار پھر اسے دیکھنے لگا
ایک بار دیکھ لیتے تو بہتر تھا نا ۔۔۔۔وہ اس کی نظریں خود پر سے ہٹانا چاہتی تھی
میں نے اپنی طرف سے سردیوں کے کپڑے رکھے ہیں لیکن اگر کچھ کمی رہ گئی ہو تو بتا دیجیے
تم کوئی کمی چھوڑ ہی نہیں سکتی اور ویسے بھی اگر تم نے سردیوں کے کپڑے نہیں بھی رکھے تو بھی کوئی بات نہیں تم جو کہو گی میں وہی پہن لوں ہوگا
وہ کہتے ہوئے اسے دیکھتا رہا جب کہ وہ کندھے اچکا کر اپنے کام میں لگے رہی۔
یار وہ بلو والا ڈریس بار بار چھوڑ کر کیوں آ جاتی ہو اسے بھی لے آؤ اس نےجانے کیا بگاڑا ہے تمہارا وہ اسے چوتھی دفعہ بلو ڈریس سائیڈ پر کرتے ہوئے دوسرے کپڑے نکال کر بیگ مِیں رکھتے دیکھ کر کہنے لگا
وہ کافی بھاری ڈریسس ہیں کوئی فنکشن ہوگا تو وہاں پر پہنوں گی ۔لیکن وہاں تو ساتھ لے کرنہیں جا سکتی نا
کوئی فنکشن ہوگا تو میں نئے لادوں گا جان پوری دنیا تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا لیکن اس کو کیوں قید کر رکھا ہے اتنا خوبصورت رنگ ہے یہ پہنو گی تو تم پر جچے گا ۔
وہ بہت بھاری ہے میں اس کو نہیں پہن سکتی ۔اتنے بھاری کپڑے میں نارمل روٹین میں زیب تن نہیں کرسکتی ۔اس لیے شادی والے سارے کپڑے مِیں یہی چھوڑ رہی ہوں ویسے بھی مجھے وہ کلر پسند نہیں ہے
یہ میرا فیورٹ کلر ہے۔ اس نے جیسے بات ختم کرنے کی کوشش کی تھی
تو ۔۔۔۔؟اب کی بار دیشم کو غصہ آنے لگا وہ اسے اپنی پسند پہننے پر فورس نہیں کرسکتا تھا ایسا دیشم کا ماننا تھا
تو یہ کہ وہ میرا سب سے فیورٹ کلر ہے وہ بہت محبت سے بولا۔تو دیشم کو کچھ ہوا تھا۔
مجھے تب بھی نہیں پہننا ۔۔اس نے بات ختم کر دی
اگر بندہ ہی پسند نہیں ہے اس کی پسند کا کلر پہن کر کیا کرنا وہ بڑبڑائی تھی ۔لیکن شاید وہ نہیں جانتی تھی کہ خداش کی سننے کی حس کافی تیز ہے
بندہ پسند ہو یا نہ ہو زندگی تمہیں اسی بندے کے ساتھ گزارنی ہے اور اسی کی پسند کے مطابق چلنا ہے وہ ڈریس لے کر آؤ بلکہ لے کر کیوں آنا ابھی پہنو ہم اسی میں چلیں گے ۔
تمہاری شادی کو بمشکل ایک ہفتہ ہوا ہے تو بہتر ہے ذرا نئی نویلی دلہن والے ناز و نزاکت اختیار کرو ۔
مجھ سے نہیں ہوتے یہ نئی دلہن والے ڈرامے وہ اس کی بات کاٹ کر بولی ۔اور پلٹ کر جانے لگی کہ اچانک خداش نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے اپنے بے حد قریب کر لیا
تو تمہیں اس طرح کے ڈرامے پسند نہیں ہیں لیکن میں تمہیں بتاؤ دوں ڈارلنگ کہ یہ ڈرامے نہیں بلکہ نئی نویلی دلہن کی شرم و حیا ہوتی ہے جو شوہر کے لمس سے آتی ہے
لیکن تم اس لمس سے واقف نہیں ہو ابھی اسی لئے تمہیں یہ ڈرامے لگتے ہیں لیکن میں ہوں نا تمہیں اس لمس سے واقف کروانے کے لیے ۔
وہ کہتے ہوئے اس کے لبوں پر جھک گیا تھا جبکہ دیشم کو تو کچھ بھی کہنے کا موقع ہی نہ ملا
وہ کتنی ہی دیر اس کے چہرے پر جھکا اپنی نرم گرم سانسیں اس کی سانسوں میں منتقل کرتا رہا
جبکہ دیشم کا تو اپنے پیروں پر کھڑے رہنا بھی مشکل ہو گیا تھا اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے اسے دور کرنے کی کوشش کی
لیکن وہ اپنا کام پورے اطمینان سے کر کے پیچھے ہٹا تھا
اور اس کے پیچھے ہٹتے ہی نہ صرف اس کی نظریں جھکی تھی بلکہ اگلے ہی لمحے وہ چہرہ پھیر گئی تھی ۔اور اگر اس کا ہاتھ اب تک خداش کے ہاتھ میں نہ ہوتا تو یقینا وہ وہاں سے بھاگ جاتی
کیا ہوا جان ۔۔۔! کہیں مجھ سے شرم تو نہیں آرہی اس کی گردن پر اپنی سانسوں کا لمس چھوڑتا وہ اس کی آتی جاتی سانسوں میں ہلچل مچا چکا تھا
پھر اسے مزید تنگ نہ کرتے ہوئے اس نے آہستہ سے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تو اگلے ہی لمحے وہ وہاں سے غائب ہو چکی تھی ۔
اس کے بھاگنے پر وہ مسکرادیا ۔دیشم کے بدلے انداز نے اسے خوشگوار حیرت میں مبتلا کیا تھا
°°°°°°
