65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 87)

Junoniyat By Areej Shah

اس نے دیشم کی کمر کو جکڑ کر اپنے قریب کیا تھا ۔وہ کسی کٹی ہوئی ڈال کی طرح اس کے سینے سے آ لگی تھی ۔

کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ لڑکی کیوں مجھے سکون سے نہیں رہنے دے رہی تم ۔۔۔۔۔؟

پاس آتا ہوں تو پرابلم ہے دور جاتا ہوں تو پرابلم ہے آخر تم مجھ سے چاہتی کیا ہو

جواب دو مجھے کیوں مجھے سکون سے جینے نہیں دے رہی ۔۔۔۔اس کی کمر پر اپنے ہاتھوں کی گرفت سخت سے سخت تر کرتا وہ اسے اپنےساتھ لگا چکا تھا ۔

خداش۔ ۔۔۔۔۔۔۔”

اس کی سخت گرفت میں دیشم مچل اٹھی تھی ۔

چپ۔ ۔۔۔۔۔۔۔” ایک لفظ نہیں بہت برداشت کر لیا میں نے تمہیں اب مزید تم میرے صبر کا امتحان نہیں لے سکتی اس کے دل کی دھڑکنیں دیشم کے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ رقص کر رہی تھیں۔

خداش کے اس انداز نے اسے خوفزدہ کر دیا تھا ۔

لیکن خداش تو اپنے ہی دھیان میں تھا وہ تو شاید جانتا تک نہیں تھا کہ اس کے سامنے کھڑی یہ نازک سی دوشیزہ اس وقت کس حال میں ہے ۔

اس کے چہرے کو اپنے دائیں ہاتھ سے چھوتے ہوئےوہ اپنا ہاتھ اس کے سیاہ بالوں میں پھنساتا چلا گیا اور ایک جھٹکے سے اسے اپنے قریب کھینچا۔

خداش۔ ۔۔۔۔

ہششش۔ آواز نہ آئے ایک لفظ مت نکالنا ان لبوں سے آج میں بہکنا چاہتا ہوں وہ سرگوشی نما آواز میں کہتا اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ چکا تھا ۔

اسے اپنے لبوں پر سخت گرفت محسوس ہوئی اس کا دل سینے کی دیواریں توڑ کر باہر آنے کو مچلا ۔اس نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن خداش کی گرفت بہت سخت تھی وہ چاہ کر بھی ہل تک نہیں پا رہی تھی ۔

وہ ظلم کر رہا تھا شاید بدلہ لے رہا تھا دیشم کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے تھے اس کی گرفت بہت سخت تھی اس کے قدم بے جان ہوتے جا رہے تھے وہ پوری طرح اس کے آسرے پر کھڑی تھی

وہ اسے پوری طرح خود میں قید کیے ہوئے تھا اسے اپنی سانسیں تنگ ہوتی محسوس ہونے لگیں یہ لمحات مشکل نہیں مشکل ترین تھے ۔

اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے فاصلہ بنانے کی کوشش کی لیکن یہ بے حد مشکل تھا اس کاہاتھ بھی اس انچ بھر کے فاصلے میں کہیں دب کر رہ گیا

خداش۔ ۔۔۔۔” وہ ذرا سا پیچھے ہٹا تو دیشم نے فاصلہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے پکارا تھا اس کے لہجے سے شاید وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ کس حال میں ہے۔اس کی سانسیں بہت تیز ہورہی تھیں ۔ لیکن وہ اس کو رعایت نہیں دے رہا تھا اسے ایک بار پھر سے اپنے قریب کھینچتے ہوئے وہ اس کی گردن پر جھکا تھا

اس کے بے لگام و بےباک لب اس کی گردن پر بے باکی اور بے اختیاری سے گردش کر رہے تھے اور وہ اس بار بھی اس کی پناہوں میں بالکل بے بس ہو کر رہ گئی تھی

وہ اپنی گردن پر اس کے جلتے دہکتے لبوں کا لمس محسوس کرتے ہوئے کانپ کر رہ گئی تھی اس کا انداز شدت سے بھرپور تھا اس کے انداز نے اسے خوف میں مبتلا کر دیا تھا اسے خداش کے اس قدم نے ڈرا دیا تھا اسے ہرگز امید نہ تھی کہ وہ ایسا کچھ کرنے والا ہے اپنی ساڑھی کاپلو کندھے سے نیچے گرتے دیکھ اس کے دل کی دھڑکنیں اور بھی تیز ہونے لگی ۔

خداش پلیز ۔۔۔۔۔۔” خود کو اس کی بانہوں سے آزاد کرتے ہوئے وہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتی ایک قدم کا فاصلہ بنانے میں کامیاب ہوگئی تھی جبکہ اس کی اکھڑی ہوئی سانسوں کو محسوس کرتا وہ خود ہی پیچھے ہٹ گیا تھا ۔

ایم ۔۔۔۔سوری۔ ۔۔ دیشم مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا

سوری میں بہک گیا تھا وہ شرمندہ سا پیچھے ہٹتے ہوئے اس کا پلو زمین سے اٹھاتا اس کے اوپر پھینکنے والے انداز میں وہ پیچھے ہٹنے لگا تھا

جب کہ دیشم بس اسےدیکھ رہی تھی ۔یہ لمحہ ان دونوں کے لئے مشکل تھا خداش اپنے جذبات پر پہرے بٹھائے اس کو خود سے دور کر رہا تھا جب کہ دیشم کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اسے کیا کرنا چاہیے وہ ان انمول لمحوں کو وقتی جذبات کی نظر نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اس وقت خداش کو خود سے دور کر دینے کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنا گھر اس کے ساتھ بسانا ہی نہیں چایتی۔

وہ اس سے محبت کرتا تھا وہ کبھی بھی وقتی جذبات کو لے کر اس کے پاس نہیں آیا تھا

اس کے دل میں اس کی سچی خواہش تھی آج سے نہیں بچپن سے وہ اسے دیوانوں کی طرح چاہتا آیا تھا

اس نے کبھی اس کے جذبات کی قدر نہیں کی تھی اور اس وقت بھی وہ ایسا نہیں کر رہی تھی وہ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی زندگی تباہ کر رہی تھی

اور وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی خداش اس کی جانب پیٹھ کیے شاید اس کی طرف سے کسی پیش قدمی کی امید میں تھا

اور پھر وہ خود کو اس کے سامنے ہرانے کو تیار ہوگئی اپنی انا کو مار کر اس نے اپنی محبت کو پا لینے کا فیصلہ کرلیا تھا وہ اپنی تمام تر ہمت جمع کرتی اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھتی اسے اپنی طرف موڑ چکی تھی

خداش کتنی ہی دیر اس کے چہرے کو دیکھتا رہا اور پھر اس نے خود ہی آگے بڑھ کر اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہوتے ہوئے اس کی گردن پر اپنے لب رکھے تھے یہ عمل اتنا بے اختیارانہ تھا کہ خداش بے ساختہ ہی اس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار تنگ کر گیا

وہ اس سے شاید اس طرح کی کوئی امید رکھتا ہی نہیں تھا وہ کبھی اس کے جذبات کو اس کی محبت اس کی دیوانگی اسکی جنونیت کو سمجھے گی خداش نے کبھی نہیں سوچا تھا اور نہ ہی وہ اس سے کوئی اچھی امید رکھتا تھا لیکن وہ خود اس کے پاس آ گئی تھی اس کی محبت کے سامنے ہار گئی تھی ۔

اور پھر وہ کیسے نہ بہکتا وہ تو اس کی محبت کی اک نظر کا بچپن سے منتظر تھا یہ لمحے تو اس کے لیے زندگی سے کم نہ تھے اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے وہ جا بجا اس کے نقوش کو چومتا چلا گیا ۔

اور اس پر وہ کچھ بھی نہیں بولی تھی وہ خود کو اس کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اس کے سینے سے لگ گئی تھی اس کے نازک سراپے کو اپنی بانہوں میں اٹھاتے ہوئے وہ بیڈ پر لے آیا تھا اس نے جو چاہا تھا اسے حاصل کرلیا تھا اس کی محبت اس کی پہلی چاہت اس کی پناہوں میں تھی اور وہ اسے چھو سکتا تھا اسے محسوس کر سکتا تھا اسے اپنا بنا سکتا تھا اور وہ اسے اپنا بنا رہا تھا

آئی لو یو ۔۔۔۔۔۔۔” اس کے نازک ہاتھوں کو اپنے لبوں سے چومتے ہوئے اس نے سرگوشی نما آواز میں کہا تھا وہ اسے انمول کر گیا تھا

آئی لو یو ٹو خداش میں نے بہت غلط کیا پلیز مجھے معاف کر دیں۔

اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے اس نے اپنے دل کی تمام تر رضا مندی سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس سے معافی چاہی تھی ۔

اور خداش اسےخود میں سمیٹتا اسے اپنی محبت کے بارش میں بھگوتا چلا گیا ۔

°°°°°°°

تم بتاؤ نہ تمہارے گھر پہ کیا ہوا اور تمہارا ہیرو ۔۔۔میرا مطلب ہے شائزم بھائی کتنے رومینٹک ہیں ان کا رومینٹک انداز کیسا ہے ڈراموں کے ہیرو کی طرح ہے کہ انگلش فلموں کے ہیرو کی طرح ۔۔۔۔؟

ویسے تم نے میرے ہسبنڈ کو تو دیکھا ہے میرے شوہر سر یشام احمر کاظمی وہ بالکل انگریزوں کی طرح لگتے ہیں اس نے بڑے مزے سے اس کی معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے اسے بتایا تھا ۔

نہیں میں نے ابھی تک ان کو ٹھیک سے نہیں دیکھا لیکن سر سے پیر تک ایک نظر دیکھنا پڑے گا وہ ہیروین والی نظر سے پتہ تو چلے کہ جناب کیسے ہیں

کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا میں کچھ سمجھی نہیں حرم حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی آخر کہنا کیا چاہتی تھی کون سی ہیروئن والی نظر سے وہ اس کے شوہر کو دیکھنے والی تھی

ایک تو تم بہت بیوقوف ہو شادی شدہ لڑکیوں کو اتنا بیوقوف نہیں ہونا چاہیے لگتا ہے ابھی تک تمہارے شوہر نےتمہیں عقل نہیں دی خیر میں اس نظر کی بات کر رہی ہوں جو عموما بیویوں والی ہوتی ہے اس نے آنکھ دبا کر اسے کہا تھا جس پر حرم کا منہ کھل گیا۔

کیا مطلب ہے تمہارا تم میرے شوہر کو میری نظر سے دیکھو گی۔۔۔۔۔؟ یعنی کہ جس نظر سے میں انہیں دیکھتی ہوں۔ وہ حیرانگی سے پوچھ رہی تھی۔

ہاں نا۔ ۔۔۔۔ریدم نے جوش سے کہا۔

اللہ اللہ شرم نام کی کوئی چیز نہیں ہے تم میں ابھی شائزم بھائی کو فون کرکے بتاتی ہوں

وہ باقاعدہ دونوں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے توبہ توبہ کر رہی تھی جب کہ وہ اس کی حالت کے مزے لیتے ہوئے حیرانگی کا مظاہرہ کر رہی تھیں

ارے حرم اتنا حیران ہونے والی کونسی بات ہے وہ اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی۔لیکن حرم کی حالت دیکھتے ہوئے اسے مزہ آ رہا تھا اسی لیے اسے تنگ کرتے ہوئے مزید بولی

کیا میں نے کچھ غلط کہہ دیا جو تم مجھے اتنی حیرانگی اور پریشانی سے دیکھ رہی ہو وہ معصوم بننے کی بھرپور ایکٹنگ کرتے ہوئے بول رہی تھی جبکہ حرم کا منہ ابھی تک کھلا تھا

تمہارے پاس کیا نمبر ہے شائزم بھائی کا وہی تمہارے پرزے ٹائٹ کریں گے تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے شوہر کے بارے میں ایسا الٹا سیدھا سوچنے کی اگرتم نے میری نظر سے میرے شوہر کو دیکھا نہ تو تمہاری آنکھیں نکال کے بلور کھیلوں گی بلور آئی بڑی میرے شوہر کو میری نظر سے دیکھنے والی ۔

کیا ہوا حرم تم ایسے بات کیوں کر رہی ہو وہ ابھی تک اس کی حالت کے مزے لے رہی تھی ۔

تمہاری تو ایسی کی تیسی اس کے ہونٹوں کی سائیڈ سے نکلتی مسکراہٹ کو دیکھ کر اسے تکیہ اٹھا کر اس کے سر پر مارنا شروع کر دیا تھا جب کہ وہ مزے سے اس کی حالت پر ہنستے ہوئے اس کا مذاق بنا رہی تھی ۔

ارے میرے بےبی کو کیا ہو گیا جل گیا چھوٹے شے بچے کا چھوٹا شا دل ہائے اتنا پیارا لگتا ہے وہ بندہ تجھے کہ تو اسے کسی اور کے ساتھ برداشت نہیں کرسکتی اور یارمیں صرف ہیروئن والی نظر سے دیکھ رہی تھی میں کون سا اسے اپنے ساتھ اٹھا کر بیگ میں ڈالتے اپنے سسرال لے کر جانے کا پلان بنا رہی تھی

پلان بنا کر تو دیکھ پھر تو دیکھنا میں کیا حالت کرتی ہوں وہ اب تکیے سے اس کی دھلائی کر رہی تھی ۔

یشام احمر کاظمی صرف میرا ہے اس پر صرف میرا حق ہے کسی نے اسے غلط نظروں سے دیکھا نہ تو میں حشر بگاڑ دوں گی ۔حرم کافی غصے میں لگ رہی تھی لیکن ریدم نے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے اس سے معافی مانگی تھی ۔

آئندہ میرے ساتھ ایسا مذاق مت کرنا اس نے دھمکی دی تھی لیکن اس کی دھمکی میں بھی معصومیت حددرجہ شامل تھی

اوکے میرا بچہ وہ اس کے دونوں گالوں کو کھینچتے ہوئے چٹاچٹ چوم چکی تھی ۔

چھی مجھے اپنی گندی چومیاں مت دو اپنے شوہر کو دو مجھے نہیں چاہیے وہ اپنے دونوں گالوں کو صاف کرتے ہوئے بولی ۔

اچھا تو تم کیا صرف اپنے شوہر کو دیتی ہو۔۔۔۔۔اس نے پھر سے شرارت سے پوچھا۔ جس پر حرم کے گال لال ہوئے

اف گندی عورت۔۔۔۔مجھے تم سے بات ہی نہیں کرنی جاؤ بھاڑ میں میری طرف سے مجھے تمہارے ساتھ سونا بھی نہیں ہے میں جا رہی ہوں اپنے روم میں

ارے حرم جان روکوتو سہی اب میں نے اتنی بھی کوئی گندی بات نہیں کردی کہ تم مجھے چھوڑ کر بھاگنے کے چکر میں آجاو

اچھا تو تمہیں شوہر کی یاد آ رہی ہے اسی لئے بہانے بازیاں کر رہی ہو خیر جاؤ میری جان جاؤ تمہیں اس طرح کے بہانے کرنے کی ضرورت تو نہیں تھی ۔

تم بس مجھے نکا سا اشارہ دے دیتی کہ تمہیں اپنے شوہر کے پاس جانا ہے تو میں کوئی اتنی ظالم سماج تھوڑی ہوں کہ تمہارے راستے کی رکاوٹ بن جاؤں گی ۔

میں تو خود تمہہیں تمہارے روم تک چھوڑ کر آؤں گی خیر جاؤ میری طرف سے تم آزاد ہو وہ سخی دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے جانے کی اجازت دے رہی تھی ۔

تم بھاڑ میں جاؤ میری طرف سے وہ اس پر دو لفظ لعنت بھیجتی کمرے سے واک آؤٹ کر گئی تھی جبکہ اسے دور تک ریدم کے قہقہوں کی آواز سنائی دیتی رہی تھی

اس کا آج رات اس کے پاس رکنے کا ارادہ تھا لیکن ریدم نے اس کے سارے ارادے پر پانی پھیر دیا تھا اسے بہت غصہ آرہا تھا اس پر پہلے تو وہ اس کے شوہر پر نظریں گاڑے بیٹھی تھی اور پھر اسی کو ہی الٹی سیدھی باتیں سناتی رہیں اسے تو وہ صبح سیدھا کرنے کا ارادہ رکھتی تھی شائزم بھائی کے سامنے

اگر کل میں نے بھی اسے شائزم بھائی سے ٹھیک نہ کروایا تو میرا بھی نام حرم یشام کاظمی نہیں آئی بڑی کوجی چڑیل بوجنی جئی نہ ہو تو وہ منہ ہی منہ میں اسےباتیں سناتی اپنے کمرے میں آ گئی تھی

°°°°°°

وہ لوگ ایک بہت چھوٹی سی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے جب اچانک کچھ یونیفارم کے ملبوس آفیسرز وہاں داخل ہوئے اور اگلے ہی لمحے وہ انھیں گرفتار کر چکے تھے

آپ کو راحیل احمد کے قتل کے جرم میں گرفتار کیا جاتا ہے ۔کنیز کو ہتھکڑیاں لگاتے ہوئے بولے تھے جب یشام نے کچھ کہنا چاہا لیکن کنیز نے اسے اپنے ساتھ لگاتے اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ رکھ لیا تھا ۔

دو دن پہلے وہ ہسپتال گئی تھی جہاں مفت علاج کیا جاتا تھا اس نے اپنا چیک اپ کروایا تھا ڈاکٹر نے فوری طور پر اسے ایڈمٹ ہونے کے آرڈر دیئے تھے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتی تھی اس وقت اسے اپنے معصوم سے بچے کو لے کر کسی محفوظ جگہ جانا تھا

وہ کافی وقت سے سوچ رہی تھی کہ اسے کیا کرنا چاہئے وہ سمجھ چکی تھی کہ اس کی زندگی کے زیادہ دن نہیں بچے اسے اپنے بیٹے کے مستقبل کو محفوظ کرنا تھا اور اس نے یہی سوچا تھا کہ وہ یشام کا الزام اپنے سر لے لے گی یہی ایک طریقہ تھا جس کے بعد یہ دنیا اس کے بیٹے کو سکون سے جینے دیتی ۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ اب آگے کیا کرنا ہے لیکن فی الحال وہ بس ایسا ہی کر سکتی تھی وہ اپنے بیٹے کو محفوظ مستقبل تو نہیں دے پا رہی تھی لیکن اسے زندگی تو دے سکتی تھی

وہ ویسے بھی زیادہ وقت جی نہیں سکتی تھی اس کے پاس زندگی کی بس کچھ سانسیں ہی تھی جس میں وہ اور کچھ بھی نہیں کر سکتی تھی سوائے اپنے بیٹے کو بچانے کے ۔

اور وہ ایسا ہی کرنے والی تھی اپنے بیٹے کو بچانے کی خاطر اس نے فیصلہ کر لیا تھا

°°°°°°°

وہ سب حیران اور پریشان تھے کنیز فاطمہ ایسا کر سکتی ہے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہاں راحیل کی لاش ملے گی وہ بھی بہت سڑی ہوئی حالت میں گھر کے باہر سے کافی دنوں سے بدبو آ رہی تھی لیکن گھر بند ہونے کی وجہ سے کوئی ٹھیک سے دھیان نہ دے سکا یہاں صرف ایک عورت اور اس کا بچہ رہتا تھا

انہیں یہاں آئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا اسی لئے سب لوگ بھی پریشان تھے ۔ بھلا ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔

وہ لڑکی قاتل نکلے گی یہ تو کسی نے سوچا تک نہیں تھا لیکن ایسا ہوا تھا اس لڑکی نے قتل کیا تھا اور وہ بھی بہت بے دردی سے ۔

جس راڈ سے قتل ہوا تھا اس پر اس عورت کے نہیں بلکہ اس کے بیٹے کے ہاتھوں کے نشان تھے لیکن اس عورت کا کہنا تھا کہ قتل اس نے کیا ہے ۔

اگر قاتل خود ہی اپنا جرم قبول کر رہا تھا تو ساری کاروائی بھی اسی پر ہی ہونی تھی لیکن ہر شخص کو یقین تھا کہ قتل اس عورت نے نہیں کیا بلکہ اس کیس میں کوئی نہ کوئی راز ضرور چھپا ہے جب کہ کنیز نے یشام کو اپنی قسم دی تھی کہ وہ اس معاملے میں زبان نہیں کھولے گا کچھ بھی نہیں بولے گا ۔

وہ چپ چاپ اپنی ماں کو اس مصیبت سے لڑتے دیکھ رہا تھا وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پا رہا تھا وہ سچ بولنا چاہتا تھا ساری دنیا کو چیخ چیخ کر بتانا چاہتا تھا کہ یہ اس نے کیا ہے لیکن اس کی ماں کی دی ہوئی قسم نے اسے چپ کروا دیا تھا ۔

وہ تین دن سے جیل میں تھی اور وہ ہر روز اس کے پاس گھنٹوں آکر بیٹھا تھا ۔بچے کا اپنی ماں کے علاوہ کوئی سہارا نہیں تھا اسی لیے انگلینڈ گورنمنٹ نے اسے ایک شیلٹرہوم میں شفٹ کروا دیا تھا جہاں اس کی ضرورت کا ہر سامان اسے مہیا کیا جا رہا تھا ۔

وہ ہر روز اس سے ملنے کے لیے آتا تھا وہ اسے سمجھانے کی کوشش کرتا تھا کہ وہ سب کچھ سچ سچ بتا کر اپنی ماں کو بچا لے گا لیکن اس کی ماں ہمیشہ اسے سچ بتانے سے منع کر دیتی وہ اسے ان سب چیزوں سے نکال کر اسے اس کے فیوچر کے بارے میں بتانے کی کوشش کرتی تھی

اسے بتانے کی کوشش کرتی کہ اس کے ماں باپ اسے جائز ثابت نہ کر سکے لیکن وہ خود کو کبھی جھکنے نہیں دے گا وہ ثابت کرے گا کہ وہ ایک مسلمان ماں کا بیٹا ہے ۔اس کی تربیت ایک مسلمان عورت نے کی ہے ۔وہ جو اتنی سی عمر میں ہر چیز کو سمجھ چکا تھا وہ اپنی ماں کی زندگی کے آخری لمحات کو نہ تو سوچنا چاہتا تھا اور نہ ہی سمجھنا چاہتا تھا لیکن زندگی نے اسے یہ دکھ بھی دینا تھا

°°°°°°°