Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 31)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 31)
Junoniyat By Areej Shah
فائنلی ان دونوں کو لفٹ مل گئی تھی اور اب ان کا ہوٹل کا سفر دوبارہ شروع ہو چکا تھا
ان دونوں نے خدا کا شکر ادا کیا تھا پہلے بھی دو گاڑیاں آئی تھی لیکن وہ دونوں گاڑی والے اپنے ساتھ اس خطرناک کتے کو بٹھانے کو تیار نہیں تھے
اور اب تیسری دفعہ انہیں کوئی ایسا انسان مل گیا تھا جو خود بھی کتوں سے کافی لگاؤ رکھتا تھا
ریدم کو خود بھی کتوں سے نہ سہی لیکن جانوروں سے خاص لگاؤ تھا اس لئے ان دونوں کے بات اسے بالکل پسند نہیں آئی تھی
کہ وہ اپنے ساتھ شائزم کے ڈوگی کو بٹھانے کو تیار نہیں تھے اسی لیے اس نے بھی ان دونوں بھیج دیا تھا
اور اس کے ساتھ چلتی رہی تھی وہ اس کے لیے اتنی مصیبت اٹھا سکتا تھا تو کیا وہ اس کے کتے کے لئے تھوڑی دیر پیدل نہیں چل سکتی تھی۔
گاڑی نے ان دونوں کو ہوٹل کے حدود تک پہنچا دیا تھا اب آگے جانا ہے ان کے لئے مشکل نہیں تھا
شکر ہے ہم لوگ یہاں تو پہنچے ویسے مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ جنگل اتنا لمبا ہے کہ ہمہیں آتے ہوئے اتنا وقت لگ جائے گا یا ہم ضرورت سے زیادہ ہی چلتے رہے ہیں راستے کی تلاش میں،وہ بولے جا رہی تھی۔
جب کہ شائزم اسے سنتے ہوئے کندھے اچکا کر آگے بڑھ رہا تھا
ڈرائیور چاچا نے تو انہیں دور سے ہی آتے ہوئے دیکھ لیا تھا وہ خود ہی آدھے راستے میں انہیں رسیو کرنے پہنچ چکے تھے وہ چاچا کے سینے سے لگ کر کتنی دیر انہیں مطمئن کرتی رہی کہ وہ بالکل ٹھیک ہے ۔
لیکن ڈرائیور چاچا کو پھر بھی بہت ساری پریشانیاں لاحق تھیں
انہوں نے فورا ہی دادا جان کو فون کرتے ہوئے انہیں بتایا تھا کہ وہ دونوں بالکل ٹھیک ٹھاک یہاں پہنچ چکے ہیں
جبکہ یہ جان کر ان کو حیرت ہوئی تھی کہ شائزم بھی اس قصے کے بارے میں کچھ نہ کچھ جان چکا ہے
شائزم بےبی تم کہاں چلے گئے تھے میں تمہارے لئے بہت زیادہ پریشان تھی مجھے تو ساری رات پریشانی سے نیند ہی نہیں آئی کہ تمہیں کہیں اس خطرناک جنگل میں کچھ ہو نہ جائے ماریہ اچانک یہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اس کے سینے سے لگ گئی
اس کی یہ حرکت وہاں موجود سب کو ہی ناگوار گزری تھی جب کہ ذکی جو اس کو دیکھ کر وہاں آیا تھا ماریہ کی حرکت پر اس نے منہ پھیر لیا تھا ۔
تم ٹھیک ہو نا کافی پریشان تھا میں آنا چاہتا تھا لیکن ہوٹل کی مینیجمنٹ نے ہمیں نیچے کی طرف نہیں آنے دیا بس اوپر سے ہی تم لوگوں کو ڈھونڈتے رہے پتہ نہیں تم لوگ کس طرف نکل گئے تھے
ذکی اس کی نازک سی بلی کو اس کے حوالے کرتے ہوئے بتانے لگا کہ شاید کیٹی خود بھی اسے کافی مس رہی تھی
ہاں تمہیں پتا ہے ہم جنگل میں بہت آگے نکل گئے تھے وہاں اتنے خطرناک جانور تھے ہم نے وہاں ڈایناسور دیکھا اور نا وہاں پر بہت بڑا ۔۔۔۔۔
ایک منٹ ایک منٹ ڈائناسور تو دنیا سے ناپید ہوگئے ہیں نا وہ حیرانگی سے دیکھ کر پوچھنے لگا تھا جب کہ شاِئزم نفی میں سر ہلا تا ہوٹل کی طرف جانا چاہ رہا تھا۔
ارے دنیا سے ناپید ہوگئے ہیں لیکن یہاں اس جنگل میں میں نے دیکھے ہیں تمہیں مجھ پر یقین ہے نہ وہ اسے یقین دلاتے ہوئے بولی تو زکی نے نا چاہتے ہوئے بھی ہاں میں سر ہلا دیا
اور ماریہ کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے ڈرائیور چچا کے ساتھ اوپر کی طرف بڑھ گیا ماریہ بھی خود کو اس حد تک اگنور کرنے پر تھوڑی پریشان ہوئی لیکن شائزم کو چھوڑنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس کے گلے لگنے پر اس نے کوئی رسپونس نہیں دیا تھا۔
لیکن اس کی اس حرکت پر اس نے اسے کچھ کہا بھی نہیں تھا
تم روم میں چلو میں تمہارے لئے کچھ آرڈر کرکے آتی ہوں وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی تو شائزم نے اسے گھور کر دیکھا یہ بلا تو اس کے پیچھے ہی پڑتی جا رہی تھی اس نے ہاں میں سر ہلا کر اپنا ہاتھ اس کے بازو سے نکال لیا
یہ چھپکلی تو پیچھے لگ گئی ہے تمہارے تم تو کہہ رہے تھے کہ تم اس سے جان چھڑوانا چاہتے ہو اور اب اس کے ساتھ آہم آہم کافی اچھی گہری دوستی لگ رہی ہے تم دونوں کی ریدم شرارت سے ہنستے ہوئے بولی تھی ۔
اس کے بات پر وہ بنا کچھ بولے کندھے اچکاتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا جبکہ وہ بھی اس کے پیچھے ہی آئی تھی
کیونکہ وہ زکی کے چہرے سے اندازہ لگا چکی تھی کہ ماریہ کا ہونا یا نہ ہونا اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تو پھر شائزم اس میں انٹرسٹ لے رہا تھا تو اسے کیا اعتراض ہو سکتا تھا
°°°°°°°
تمہیں یہاں پر میں نظریں گھمانے کے لیے نہیں کچھ پسند کروانے کے لئے لے کر آیا تھا
کیا تمہیں اب تک کچھ بھی قابل قبول نہیں لگا وہ اس کے ساتھ ہی مارکیٹ میں آئی تھی لیکن یہاں پر اسے کوئی لہنگا پسند نہیں آرہا تھا
کیونکہ کوئی بھی اس کی چوائس کے مطابق نہیں تھا بہت خوبصورت لگے ہونے کے باوجود اس کی پسند کا کوئی کلر یہاں موجود نہیں تھا
نہیں مجھے یہاں پہ کوئی بھی پسند نہیں آرہا وہ اسے دیکھ کر مسکین صورت بنا کر بولی
کوئی بات نہیں ابھی بہت کچھ ہے دیکھنے لائق کہیں اور چلتے ہیں وہ اس کی مایوس شکل دیکھ کر بولا اپنی پسند کا دلہا تو اسے نہیں ملا تھا وہ چاہتا تھا کم از کم اپنی پسند کا لہنگا اسے مل جائے
لاسٹ مومنٹ پے لہنگا لینے کون آتا ہے یہ ساری چیزیں پہلے کرنی چاہیے تھی آپ کو ۔ایک ہی دن ہوتا ہے پوری زندگی میں دلہن بننے کے لیے کم از کم لہنگا تو آرڈرپر پہلے ہی تیار کروا لینا چاہئے اب یہ لاسٹ مومنٹ میں کہاں سے ملے گا مجھے تو کوئی بھی پسند نہیں آرہا ۔
وہ سخت بیزار لگ رہی تھی
اب اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے ہم تمہاری وجہ سے اتنے لیٹ ہیں تو تمہیں برا لگ جائے گا لیکن اب برا لگتا ہے تو بےشک لگتا رہے
کیونکہ یہی اصل وجہ ہے میں نے خود ہی تمھارا لہنگا تیار کروانے کے لیے نہیں دیا تھا کیونکہ میں چاہتا تھا کہ لہنگا تم اپنی پسند کے مطابق خود پسند کرکے لو اب تم میری اس بات پر یقین کرتی ہو یا نہیں یہ تمہاری مرضی ہے لیکن وجہ یہی ہے ۔
اگر ایسا تھا تو آپ مجھے پہلے بتا دیتے تھے وہ اس کی بات سے امپریس ہوئے بنا بولی تھی
تم کچھ زیادہ ہی مصروف تھی پچھلے دنوں میں نہیں چاہتا تھا کہ تم ڈسٹرب ہو پھر مجھ پر الزام لگ جاتا کے دو کتابوں میں سپلیاں اس لہنگے کی وجہ سے آئی ہیں
کیونکہ میں تمہیں اپنے ساتھ لہگنا پسند کرنے لے گیا تھا وہ اتنے مزے سے بولا تھا کہ دیشم کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا
استغفراللہ سپلیاں آئیں آپ کی اللہ نہ کرے کہ میرا کوئی ریکارڈ خراب ہو ۔آپ تو چاہتے ہی یہی ہیں کہ میں فیل ہو جاؤں اور میرے خواب ادھورے رہ جائیں اور آپ پورے خاندان میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ انسان بن جائیں لیکن ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا اور خبردار جو یہ لہنگے والا الزام میری مصروفیات پر لگایا
ابھی شادی میں پانچ دن باقی ہیں میں خود ہی اپنا لہنگا پسند کر لوں گی وہ منہ بنا کر جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی جب کہ خداش مزے سے اس کے پیچھے ہی آیا تھا ۔
کاشی ڈیزائن سے لہنگا لونگی بس فیصلہ ہوگیا وہ اس کے گاڑی میں بیٹھتے ہی بولی تھی ۔
تو پھر پہلے بتا دیتی ہم آن لائن آرڈر کر دیتے اتنا گھما پھرا کیوں رہی ہو ۔یونیورسٹی کے باہر یہ بتا دیتی بازاروں میں چکر کاٹتے کاٹتے اب مجھے بھوک لگ گئی ہے ۔
وہ گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے بولا تو دیشم نے اسے گھور کر دیکھا وہ اسے گھما رہی تھی یا وہ خود ہی کبھی اسے ادھر تو کبھی ادھر لے کر جا رہا تھا
فضول میں اتنا وقت برباد کر دیا ہے۔ چلو آؤ میرے ساتھ لنچ کر لو تمہارے ساتھ آنے کا کچھ تو فائدہ ہو وہ گاڑی ریسٹورنٹ کے باہر کھڑی کرتے ہوئے اس سے کہنے لگا
میں نے آپ کا وقت برباد کیا ہے وہ صدمے سے دیکھنے لگی ۔
بحث کرنے والی عورتیں اپنے شوہر سے بات منوانے کا ہنر نہیں رکھتی وہ اسے دیکھتے ہوئے شرارت سے بولا تھا پھر سے ہنر کی بات پر وہ فورا گاڑی سے باہر دیکھنے لگی تھی
ویسے آج پورا دن ہنر سیکھنے کے علاوہ کوئی اچھا کام نہیں کیا ہے تم نے اگر تم کہو تو ایک اور کلاس ۔۔۔۔۔۔۔
دور رہے مجھ سے خدا کے لئے مجھے بھوک لگ رہی ہے وہ گاڑی کا دروازہ کھولتے ہوئے تقریبا بھاگتے ہوئے ریسٹورنٹ کےاندر چلی گئی جب کہ وہ بھی دلکشی سے مسکراتا ہوا اس کے پیچھے ہی آیا
تمہاری بھوک تو میں شادی کے بعد ختم کروں گا مسز میری بانہوں میں آ کر جب ایک ایک بات کا حساب دو گی تب تمہیں پتہ چلے گا کہ خداش کاظمی تمہارے معاملے میں کتنا ظالم ہے۔
اور ہنر تو تمہیں سارے سیکھنے پڑیں گے اگر تمہیں اپنی باتیں منوانی ہیں تو ماننی تو تمہیں میری بھی پڑیں گی۔ ساری اکڑ نہ نکال دی تو میرا نام بھی خداش کاظمی نہیں۔
وہ سکون سے گاڑی لاک کرتے ہوئے اس کے پیچھے ہی آ گیا تھا جو ریسٹورنٹ کے اندر کھڑی اسی کے آنے کا انتظار کر رہی تھی۔
°°°°°°
وہ تقریبا بھاگتے ہوئے اپنے کالج سے باہر نکلی تھی چہرے پر خوشی صاف اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ اس کی چھٹیاں منظور ہو چکی تھیں۔
خداش تو اس کے چہرے کی رونق دیکھ کر ہی خوش ہو گیا تھا جب کہ خداش کے ساتھ آگے اپنی سیٹ پر دیشم کو بیٹھے دیکھ اسے بہت خوشی ہوئی تھی وہ بنا کچھ بھی بولے پچھلی سیٹ کھول کر اندر بیٹھ گئی تھی
جب کہ وہ تو پتہ نہیں کون سے دھیان میں لگی ہوئی تھی اسے پتہ بھی نہ چلا کہ کب حرم کا کالج آیا کب گاڑی رکی اور کب حرم پچھلی سیٹ کھول کر بیٹھ گئی
حرم سوری میں تمہاری جگہ بیٹھ گئی تم آگے آو اس نے فورا ہی دروازہ کھولا تھا
ارے نہیں نہیں وہ میری نہیں آپ کی جگہ ہے اتنے سالوں سے میں آپ کی جگہ پر بیٹھتی رہی لیکن آج آپ اپنی جگہ پر بیٹھی ہو
ویسے ماشاءاللہ آپ دونوں پیارے لگ رہے ہو ایک ساتھ میرا دل کر رہا ہے میں آپ دونوں کی تصویر لے لوں اور بالکل بے فکر رہیں کباب میں ہڈی بننے کا مجھے کوئی شوق نہیں ہے تو میں شادی سے پہلے ٹائم دیتی ہوں آپ کو ایک دوسرے کے ساتھ سپینڈ کرنے کے لیے ۔
ویسے آج بھی ویرو جلدی پہنچ گئے ہوں گے آپ کی یونیورسٹی میں وہ شرارت سے بھرپور لہجے میں پوچھ رہی تھی
حرم ہو گیا مذاق بیٹا اب بس!! اسے خداش کی آواز سنائی دی تو وہ سیدھی ہو کر بیٹھ گئی ۔
اس سے پہلے کہ وہ گاڑی سٹارٹ کرتا کالج گیٹ سے باہر نکلتے آدمی کو دیکھ کر اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا
یہ کون ہے اس نے اپنی حیرت کو چھپائے بنا حرم سے پوچھا تھا
میرے کھڑوس ٹیچر ہیں ان کی آپ کے سامنے میں بہت تعریف بھی کرتی ہوں ان کا نام سر یشام ہے اور یہ میری کلاس کے انچارج ہیں وہ بڑے مزے سے بتا رہی تھی ۔
وہ اور کچھ بتاتی کہ اچانک ہی اسے اپنی طرف دیکھتے پاکر یشام نے مسکرا کر اس کی جانب قدم بڑھائے تھے وہ بھی گاڑی سے نکل آیا تھا۔
°°°°°°°
السلام علیکم مبارک ہو شاید آپ کی شادی ہے اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے یشام نے مسکرا کر کہا تھا
جی خیر مبارک میری شادی ہے کیا ہم پہلے مل چکے ہیں خداش نے اپنی حیرت چھپائے بنا اس سے پوچھا تھا
ہو سکتا ہے ہم پہلے ملے ہوں لیکن میرا تعلق لندن سے ہے میں یہاں تقریبا ساڑھے چار مہینوں سے اس کالج میں جاب کر رہا ہوں۔اس کی حیرت پر اس کی دلکشی میں اضافہ ہوا تھا
پھر شاید یہ میری غلط فہمی ہو گی ہو سکتا ہے کہ حرم کو لاتے یا لے جاتے کہیں میں نے دیکھا ہو
خداش نے بات ختم کرنے والے انداز میں کہا تو اس نے بھی کندھے اچکا دیے
ویسے میں آپ کے نکاح میں بھی آیا تھا ہوسکتا ہے آپ نے مجھے تب دیکھا ہو۔وہ واپس گاڑی کی طرف جانے لگا جب یشام نے مسکراتے ہوئے کہا
شاید۔۔اس کا مطلب ہوا کہ آپ میری شادی پر انوائٹڈ ہیں شادی پر ملاقات ہوگی وہ مسکرا کر کہنے لگا
نہیں میں آپ کی شادی پر انوائٹ نہیں ہوں آپ کی بہن نے مجھے انوائٹ نہیں کیا وہ صرف اپنے دوستوں کو ہی انوائٹ کرتی ہیں اس نے ایک نظر حرم کی طرف دیکھا جو ان کی باتیں سن تو نہیں پا رہی تھی لیکن ان دونوں کو اپنی طرف متوجہ دیکھ کر تھوڑی نروس ہو گئی تھی کہیں سر نے اس کی شکایت تو نہیں کردی
ہاہاہاہا میں معذرت خواہ ہوں آپ میری شادی پر ضرور آ رہے ہیں اس نے نہ سہی لیکن میں نے آپ کو انوائٹ کیا ہے یاد رکھیے گا خداش نے دوستانہ انداز میں کہا تو یشام نے ہاں میں سر ہلا دیا
اب دلہا خود انوائٹ کر رہا ہے تو ہم انکار کیسے کر سکتے ہیں ۔وہ مسکراتے ہوئے اس سے بولا تھا
یہ ہوئی نہ بات تو شادی پر ملاقات ہوگی وہ مسکراتے ہوئے اس کے گلے لگ کر واپس اپنی گاڑی کی طرف آ گیا تھا جبکہ یشام چہرے پر پرسرار مسکراہٹ لیے اپنے ہاتھ میں موجود کی چین کو گھماتے ہوئے واپس اندر کی طرف چلا گیا تھا
°°°°°°
اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں صرف سونے کے لئے آنے والی ہو تو یہ کام ہم گھر پر بھی پورا کرسکتے تھے اٹھو آج ایک اور جگہ پر لے کر چلتا ہوں تمہیں وہ نہا کر نکلا تو اس کو اب تک بستر میں گھسے پا کر کہنے لگا
میرا کہیں جانے کا دل نہیں کر رہا اتنی سردی میں میں بستر سے بھی نہیں نکلنا چاہتی ہوں
اور آپ کو گھومنے کی پڑی ہے آج ہم کہیں نہیں جائیں گے کمرے میں ہی رہیں گے وہ فیصلہ کرتے ہوئے بولی تو ذریام کے لبوں پر گہری مسکراہٹ اور آنکھوں میں شرارت چمکی تھی
کوئی اعتراض نہیں جان من آپ کا حکم سر آنکھوں پر وہ شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے اس کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کہ اگلے ہی لمحے عمایہ بستر چھوڑ کر بھاگنے کی کوشش کرنے لگی
لیکن ہائے رے قسمت وہ اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اسے اپنے شکنجے میں لے چکا تھا
وہ۔جھٹکے سےاسے بیڈ پر گراتا اس کے ساتھ ہی اوپر آگیا
آپ جو کہیں گی مسز وہی ہو گا آپ کو نہیں جانا باہر تو کوئی زبردستی تھوڑی ہے ہم بیڈ روم میں بھی کھل کر انجوائے کر سکتے ہیں نا
اس کی شہ رگ پر اپنی ٹھنڈی انگلیاں پھیرتے ہوئے وہ اس کے پورے جسم میں سنسناہٹ پیدا کر چکا تھا جبکہ اس کی مونچھوں کی چبھن اپنی گردن پر محسوس کرتی وہ خود میں سمٹ کر رہ گئی
چلے ہم باہر چلتے ہیں یوں کمرے میں تو صرف بور ہی ہوں گے نہ اسے اپنے نیچے سے گھٹی گھٹی آواز سنائی دی تھی اس کا زور دار قہقہ پورے کمرے میں بلند ہوا تھا
کیوں اتنی جلدی کمرے میں رہنے کی خواہش پوری ہوگی تمہاری اب تو میں کہیں نہیں جانے والا تب تک تو بالکل بھی نہیں جب تک میں اپنی اس حسین بیوی کے حسین روپ کو خراج تحسین پیش کر کے اپنی بےقرار سانسوں کو راحت نہ پہنچا لوں۔
اور یہ سب کچھ میں صرف تمہاری خواہش کو مدنظر رکھ کر کہہ رہا ہوں کیونکہ تمہیں باہر نہیں جانا اور اگر تمہیں باہر نہیں جانا تو میری بوریت کا کچھ انتظام تو تمہیں ہی کرنا پڑے گا
زریام اس کے نازک گداز لبوں کو اپنے لبوں میں قید کرتے ہوئے اس کی سانسوں کی خوشبو کو خود میں بسائے جا رہا تھا ۔
اس کے دونوں ہاتھوں کو بیڈ سے لاک کرتے ہوئے تھوڑی ہی دیر میں پوری طرح اس پر قابض ہوتے اس کے سانسوں میں ہلچل مچا چکا تھا
جب اچانک ہی کمرے کی کھڑکی پر ایک زور دار پتھرآ لگا ۔وہ دونوں لمحے میں ہوش کی دنیا میں واپس آئے تھے وہ جلدی سے اٹھتا کھڑکی کے پاس آیا تھا جو پتھر لگنے کی وجہ سے چکنا چور ہو چکی تھی ۔
عمایہ کا تو خوف سے برا حال ہو رہا تھا اس طرح اچانک ہوئی حرکت پر وہ ہرشان ہوگئی تھی ۔جب کہ وہ شرٹ پہنتا غصے سے کمرے سے نکل گیا تھا ۔
اور اس کے کمرے سے نکلتے ہی اچانک کسی نے کھڑکی سے اندر چھلانگ لگائی تھی جس پر وہ حیرت سے اپنے منہ پر ہاتھ سے اسے دیکھ رہی تھی۔
°°°°°°°
ایم ریلی سوری سر پتہ نہیں کس نے گھٹیا حرکت کی ہے میں بہت معذرت خواہ ہوں میری کوشش ہوگی کہ آئندہ آپ کو اس طرح کی تکلیف سے نہ گزرنا پڑے
وہ بہت غصے سے مینیجر کے پاس آیا تھا اس طرح کی گھٹیا حرکت پر اس کا پارہ ہائی ہو چکا تھا ۔
مینیجر کی بار بار معذرت کرنے پر وہ اسے وارن کر کے واپس کمرے میں آیا تو اس نے عمایہ کو شیشے کے سامنے کھڑا دیکھا اس کا پہلا دھیان کھڑکی کی طرف گیا تھا
کوئی آیا تھا کیا کمرے میں ۔۔۔۔؟اس نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا جو شیشے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں میں بےترتیب ہاتھ چلا رہی تھی
نہیں تو کوئی بھی نہیں آیا وہ فورا بولی تو اس نے ہاں میں سر ہلایا
پکی بات ہے ۔۔۔۔؟ وہ پھر سے اس سے پوچھنے لگا ۔عمایہ نے اپنے آپ کو نارمل ظاہر کرتے ہوئے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا
ہمممم!وہ ہنکارا بھرتا کھڑکی کی جانب آ کر دیکھنے لگا۔
°°°°°°°°°°°
