65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 29)

Junoniyat By Areej Shah

وہ اس سے باتیں کرتے کرتے سو گئی تھی وہ اس طرح سو جائے گی اس نے سوچا بھی نہیں تھا ۔اب وہ کیا کرے اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی تو وہ اس سے باتیں کر رہی تھی ۔بلکہ اسے اپنی باتوں سے پریشان کر رہی تھی کہنا زیادہ بہتر رہے گا ۔

ایک تو یہ سردیوں کی سرد رات تھی سردیاں شروع ہو چکی تھی یہ علاقہ بھی کافی ٹھنڈا تھا اور آبشار کے پاس سردی بھی کافی زیادہ تھی ۔

اگر وہ ساری رات یوں ہی پڑی رہتی تو یقینا بیمار پڑ جاتی اور وہ اس کے دادا جان کیلئے عزیز تھی اور وہ اپنے دادا جان کو کوئی تکلیف نہیں ہونے دے سکتا تھا۔

اگر اس کے ہوتے ہوئے اس کے دادا جان کی عزیزہ کو کوئی تکلیف ہوئی تو اس کے لیے کتنی شرمندگی کی بات تھی

کہ وہ ان کی نواسی کا خیال تک نہ رکھ پایا وہ کیسے اپنے دادا جان سے نگائیں ملائے گا ۔

اسی سوچ کے ساتھ اس نے اس کے لئے کوئی انتظام کرنے کے بارے میں سوچا اور فورا ہی اٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔

ساری رات میں اس لڑکی کو یوں ہی پڑے تو نہیں رہنے دے سکتا کچھ تو حل نکالنا پڑے گا دوست وہ ٹائیگر سے مخاطب تھا ۔

جو بہت غور سے اسے دیکھ اور سن رہا تھا ۔تم یہاں اس کے پاس بیٹھو اور اس کی حفاظت کرو تب تک میں اس کے لئے کوئی انتظام کرتا ہوں۔اسے کچھ نہیں ہونا چاہیے ٹھیک ہے نہ ۔۔۔؟

وہاں سے تاکید کر کے وہاں سے نکلا تھا

جبکہ ٹائیگر اس وقت اس کے جتنے قریب بیٹھا تھا اگر وہ ہوش میں ہوتی تو ڈر کے مارے چیخیں تو ضرور مارتی!!!!

°°°°°

وہ تھوڑی ہی دیر میں اپنے ہاتھ میں بہت ساری گھاس پھوس جمع کرکے لے آیا تھا

دوست مجھے گھورو مت مجھے یہی ملا فی الحال اس کے لئے۔۔۔ میں نہیں جانتا یہ صبح کس طرح سے ری ایکٹ کرے گی لیکن فی الحال اسے سردی سے بچانے کے لیے اس سے بہتر اور کچھ نہیں ہے ۔

وہ آگ سے تھوڑے فاصلے پر گھاس سے ایک بستر بنانے لگا جو کہ سپیشل اس گلے پڑی مہارانی کے لیے تھا ۔

وہ ابھی تک جتنا اس کے بارے میں سمجھا تھا وہ اتنا ہی تھا کہ وہ اپنے آپ کو بہت کونفیڈنٹ ظاہر کرتی تھی لیکن پھر بھی بہت بدھو سی تھی

اور کوئی بھی اس کی معصومیت کا فائدہ آسانی سے اٹھا سکتا تھا ۔دادا جان کے ساتھ اس کا کیا رشتہ تھا وہ اس سے اتنی محبت کیوں کرتے تھے اس طرح کے بہت سارے سوالات اس کے دماغ میں تھے جن کا جواب وہ گھر واپس جاکر مانگنے والا تھا ۔

وہ بستر لگا کر اسے جگانے کی کوشش کرنے لگا

سنو ریدم اٹھو اور وہاں جاکر آرام کرو اس طرح ساری رات بے سکونی میں ہی سوتی رہ جاؤ گی آگے کا سفر مشکل ہو جائے گا پتہ نہیں ابھی کتنے دھکے کھانے ہیں اس جنگل میں!!!!!

وہ اس کا کندھا ہلا تے ہوئے کہنے لگا جب اچانک ریدم نے آنکھیں کھولے بنا اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا ۔

وہ اسے جگاتا ہی رہ گیا لیکن وہ اس کے کندھے سے لگی سو رہی تھی ۔وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ اسے کس طرح سے جگائے یہ لڑکی اس کے لئے ایک بہت مشکل امتحان بن رہی تھی ۔

وہ کافی دیر بیٹھا اس کا معصوم چہرا دیکھتا رہا ۔

یہ لڑکی بہت الگ تھی آج تک جتنی لڑکیوں سے وہ ملا تھا ان سب سے الگ اس نے آج تک لڑکیوں کو اپنے آگے پیچھے منڈلاتے ہی دیکھا تھا ۔

اس کی ظاہری شخصیت اور پرسنالٹی سے متاثر ہو کر بہت ساری لڑکیاں اسے امپریس کرنے کی کوشش کرتی رہتی تھیں

کوئی اس کے چہرے پر فدا ہو جاتی تو کوئی اس کے مہنگے لائف سٹائل پر مر مٹتی۔لیکن وہ فاصلہ بنا کر رکھتا تھا۔

لیکن یہ وہ واحد لڑکی تھی جو اسے منہ نہیں لگاتی تھی بلکہ جب بھی سامنے آتی تھی صرف لڑنے کے لیے ہی آتی تھی

اور شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اس سے بات بھی کر رہا تھا اور فی الحال وہ اسے بری بھی نہیں لگی تھی ۔

لیکن یہ جان کر کے وہ دادا جان کی نواسی ہے اور دادا جان اس سے بہت محبت کرتے ہیں وہ اس کا خیال رکھنے پر مجبور ہوگیا تھا

یہ الگ بات ہے کہ اب تک اس نے اس میں ایسی کوئی بری عادت نہیں دیکھی تھی جس سے وہ اس سے دور بھاگتا یا اس سے عاجز آ جاتا ۔

وہ آہستہ سے اس کے نازک سے وجود کو اپنی باہوں میں اٹھا کر اپنے تیارکردہ بستر پر لے آیا تھا ۔

وہ اسے اس بستر پر لیٹے ہوئے اپنا جیکٹ اتار کر اس کے سر سے باندھ چکا تھا باقی تو اس نے لمبا سا گرم جمپرپہن رکھا تھا اور پیروں میں گرم موزوں کے ساتھ جوگرز تھے ۔

کیا خیال ہے ٹائیگر تمہاری مرضی ہو تو کیا ہم بھی تھوڑی دیر آرام کرلیں وہ ساتھ میں اپنا بستر لگاتے ہوئے اپنے ٹائیگر سے پوچھنے لگا ۔

جو اس کے پاس ہی بیٹھتے ہوئے ہر طرف دھیان دے رہا تھا ۔وہ بہت ہی شاطر نسل کا کتا تھا جسے اس نے فرانس سے منگوایا تھا ۔ایسے کتوں کو لوگ باندھ کر رکھتے تھے لیکن وہ اپنے ٹائیگر کو ہمیشہ اپنے ساتھ آزاد رکھتا تھا

تقریبا ڈھائی سال سے اس کے ساتھ تھا اور اب تک اس نے اپنے کتے سے بہت پیار کیا تھا اور اس کی طرف سے بہت پیار پایا بھی تھا ۔

وہ جانتا تھا وہ اسے بے شک آرام کرنے کے لیے کہہ دے لیکن وہ ساری رات جاگ کر اس کی حفاظت کرے گا ۔

وہ کروٹ لے کر ریدم کے چہرے کو دیکھنے لگا تھا ۔معصوم سا پرنور چہرہ نہ جانے اسے کس کی یاد دلاتا تھا لیکن ایک بھولا ہوا چہرہ اس کی نگاہوں میں آتا ضرور تھا وہ سوچتے سوچتے آنکھیں بند کر گیا۔۔۔

°°°°°°

دن تیزی سے گزر رہے تھے اب اس کے صرف دو ہی پیپر باقی تھے گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھی ہر کسی کو اپنی اپنی فکر لگ چکی تھی۔جب کہ وہ اپنے پیپرز کے دوران شادی کی وجہ سے بری طرح سے ڈسٹرب ہو رہی تھی۔

کبھی پارلر والی آکر اس کی شکل سدھارنے اسے بٹھا لیتی تو کبھی بازاروں کے چکر ۔وہ ان سب کی وجہ سے بری طرح سے ڈسٹرب ہو رہی تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ کسی کو اس بارے میں بتا بھی نہیں پا رہی تھی

دادا جان اور گھر کے باقی سارے بڑے اس شادی کو پرفیکٹ بنانے کے چکر میں لگ چکے تھے کیونکہ پوتی بے شک وہ اس خاندان کی تیسری تھی لیکن اکلوتے پوتے کی بھی تو شادی تھی

جسے ہر لحاظ سے پرفیکٹ ہونا بہت ضروری تھا پتا نہیں کون کون سے مہمان کو کون کون سے ملک سے انوائٹ کرلیے گئے تھے آدھے سے زیادہ مہمان تو حویلی میں آکر رہنے بھی لگے تھے کبھی کوئی اس کے کمرے میں آ جاتا تو کبھی کوئی!

وہ ان سب لوگوں کی وجہ سے بہت تنگ تھی وہ اپنا کمرہ زیادہ تر لاک ہی رکھتی تھی اب کوئی اسے مجبور کہے یا مغرور اس کی بلا سے ۔

اسے بس اپنے پیپر بہت اچھے طریقے سے دینے تھے اور اسے کوئی مطلب نہ تھا کسی سے!!! حرم تو اتنے دن سے سوچ رہی تھی چھٹیاں لینے کے بارے میں لیکن آج آخرکار اس نے اپنی درخواست لکھ کر تیار کرلی تھی لیکن اسے یہ فکر لگی ہوئی تھی نجانے اسے چھٹیاں ملیں گے بھی یا نہیں

کیوں کہ ان کے پیپر بھی پاس آ چکے تھے تو ایسے میں ان کی تیاریاں بھی زور و شور سے چل رہی تھی ۔

ایسے میں کسی سٹوڈنٹ کو چھٹیاں دینا اس کی تعلیم پر برا اثر ڈال سکتی تھی لیکن حرم کیا کرتی اس کے اکلوتے بھائی کی شادی تھی جس میں اس نے ہر قیمت پر شرکت کرنی تھی ۔

وہ جلدی جلدی اپنے پیپر کی تیاری کر رہی تھی جب پھر سے دروازے پر دستک ہوئی وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی

جی اماں اب کیا ہوا وہ دروازے سے جھانکتی اپنی ماں سے پوچھنے لگی ۔

وہ پارلر والی کہہ رہی ہے کہ برائیڈل کا کچھ کرنا ہے باہر آؤ۔امی اس سے کہتے ہوئے باہر آنے کا اشارہ کرنے لگیں جب پیچھے اچانک خداش آیا۔

کیوں اس معصوم کے پیچھے پڑ گئی ہیں چاچی جان اسے اپنی پڑھائی کرنی ہے کل اس کا پیپر ہے یہ سارے غیر ضروری کام بعد میں بھی تو ہو سکتے ہیں شادی کوئی آج ہی تو نہیں ہے تم جاؤ اپنی پڑھائی کرو۔۔۔

اور فضول میں آگے پیچھے گھومتے ہوئے نہ دیکھوں میں تمہیں اپنی پڑھائی پر دھیان دو ۔اور چاچی جان بار بار اس کے دروازے پر دستک نہ دیں اور باقی لوگوں کو بھی منع کریں

آپ لوگوں نے فضول میں یہ اتنا بازار لگا دیا ہے شادی کی تیاریاں منگل سے کرنی چاہیے تھی مایوں بدھ کو ہو گا تو فضول میں اتنا تماشا لگا دیا ہے آپ لوگوں نے یہاں ۔دیشم حیرانگی سے اسے سن رہی تھی آج وہ دیشم کی زبان بول رہا تھا

آپ لوگوں کو اتنا جلدی یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت کیا تھی تم ابھی تک میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو اندر جاؤ ۔اورچاچی جان آپ پلیز پارلر والی کو کہہ دیجئے کہ میری دلہن بزی ہے ۔

وہ دلکشی سے مسکراتے ہوئے ان سے کہہ رہا تھا جب وہ بھی مسکرا دیں جب کہ دیشم ایک نظر اسے دیکھتی اپنا دروازہ بند کرکے واپس اندر بیٹھ گئی تھی ۔

چاچی بنا کچھ بولے پلٹ گئیں اس نے دروازے پر دستک دی تو دوسری طرف سے فوراً دروازہ کھل گیا تھا

آپ ۔۔۔۔۔؟ وہ سوالیہ انداز میں اسے دیکھنے لگی ابھی وہ سب کو ایسے ڈسٹرب کرنے سے منع کر رہا تھا اور اب خود ہی دروازے پر کھڑا ہو گیا تھا اوپر سے اس کی بےباک نظریں!

ہاں وہ میں کہہ رہا تھا کہ اوپر چلی جاؤ اوپر والے پورشن پر میرا پرانا کمرہ خالی ہے اور وہ ساؤنڈ پروف ہے تمہیں وہاں کوئی آواز نہیں آئے گی ۔

اور کسی کو بتانے کی ضرورت بھی نہیں ہے کہ تم کہاں ہو تم آرام سے وہاں اپنے پیپر کی تیاری کر لو وہ اسے مفید مشورہ دے رہا تھا ۔

کوئی کچھ کہے گا تو نہیں اس نے نہ جانے کیسے اس سے پوچھ لیا تھا

کوئی تمہیں کیوں کچھ کہے گا جب کہ میں تمہیں کہہ رہا ہوں کے اوپر چلی جاؤ ۔اب ٹائم ویسٹ مت کرو جلدی سے کتابیں اٹھاؤ اور اوپر چلی جاؤ۔۔

اور اتنی ہی پڑھائی کرنا جتنا ضرورت ہے آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے مت بنا لینا میں اپنی دلہن کو بہت خوبصورت دیکھنا چاہتا ہوں وہ مسکرا کر کہتا آگے بڑھ گیا تھا جب کہ اس کی مسکراہٹ پر دیشم کو اپنا دل اور بھی تیزی سے دھرکتا ہوا محسوس ہوا

وہ دروازہ بند کرکے اپنی کتابیں اٹھانے لگی جب اچانک دماغ میں ایک سوچ آئی

وہ اس کی پڑھائی میں مدد کر رہا تھا تو کیا ممکن تھا کہ شادی کے بعد بھی اسے پڑھنے دیتا ۔

کیا ممکن تھا کہ وہ اس کی پڑھائی پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہ لگاتا

کیا ممکن تھا کہ وہ اپنے خوابوں کو پورا کر پاتی ۔

نہیں ایسا کچھ بھی ممکن نہیں تھا وہ اس شخص سے کوئی امید نہیں لگا سکتی تھی ابھی تک تو یہ ہی نہیں سمجھ پائی تھی کہ وہ اس سے شادی کیوں کررہا ہے تو ایسے میں اس شخص سے امید لگانا سراسر بیوقوفی تھی

کوکب ک

گرگٹ کی طرح اپنے رنگ بدل دے اسے بالکل بھی اندازہ نہ تھا وہ اس آدمی پر بالکل یقین نہیں کر سکتی تھی ۔

اس نے بچپن سے اس کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا تھا تو اب اچھا کیسے ہو سکتا تھا وہ صرف دکھاوا کر رہا تھا شادی کے بعد اس نے اپنے سارے رنگ بدل لینے تھے

لیکن فی الحال وہ اس کے لئے اچھا سوچ رہا تھا اس کےلیے اتنا ہی کافی تھا وہ کتابیں اٹھا کر سب سے نگاہیں بچا کر اوپر چلی گئی تھی

کمرا اندر سے بند کرتے ہوئے وہ بالکل پر سکون ہو گئی تھی باہر سے کوئی بھی آواز اندر نہیں آ رہی تھی ۔یہاں وہ سکون سے پڑھ سکتی تھی

گرمیوں میں اکثر یہ کمرا خداش کے استعمال میں رہتا تھا جبکہ سردیوں میں وہ یہ کمرا نہیں بلکہ نیچے والا کمرہ استعمال کرتا تھا

اور پھر جب دادا جان بیمار ہوئے تو وہ مستقل نیچے والے کمرے میں شفٹ ہو گیا اب تو تقریبا ایک ڈیڑھ سال سے یہ کمرا اسی طرح ویران پڑا تھا

جو آج اس کے لئے فائدہ مند ثابت ہو رہا تھا

°°°°°°°

وہ مری کے ایک بہت خوبصورت علاقے میں آئے تھے اس کے مطابق تو وہ صرف دو سے تین دن کے لیے یہاں آئے تھے لیکن اب اسے پتہ چلا تھا کہ وہ تین ہفتوں کے لیے اس ہٹ کو بک کر چکا ہے

اور اگلے تین ہفتوں تک وہ یہیں پر رہنے والے ہیں ۔وہ یہ تو سمجھ چکی تھی کہ اس کا شوہر ایک بہت ہی اچھا انسان ہے

لیکن وہ دل کا بھی اتنا اچھا اور محبت کرنے والا ثابت ہو گا اس نے کبھی نہیں سوچا تھا وہ جتنا اپنے رب کا شکر ادا کرتی کم تھا

کبھی کبھی اسے لگتا تھا کہ یہ سب کچھ بدل جائے گا بالکل کسی خواب کی طرح وہ کبھی نہ کبھی اس خواب سے باہر نکل آئے گی

اور اصل دنیا کا رنگ دیکھے گی لیکن زریام کا چاہتوں سے بھر پور انداز اسے اس دنیا میں پر یقین کرنے پر مجبور کر چکا تھا وہ اس کے ساتھ بہت خوش تھی

یہاں آنے سے پہلے وہ اسے اس کے ماں باپ سے ملوا کر لایا تھا اس کی ماں اس کے ساتھ لگی نہ جانے کتنی دیر روتی رہی اور وہ انہیں یقین دلاتا رہا کہ وہ ان کی بیٹی کا بہت خیال رکھے گا

کتنے مان اور محبت سے کہا تھا اس شخص نے کہ وہ کسی فضول رسم کو نہیں مانتا اس کے لئے اس کی بیوی ہے جس کی وہ نہ صرف خود عزت کرتا ہے بلکہ اپنے خاندان میں عزت کروانا جانتا بھی ہے ۔

وہ اپنی بیوی کو کبھی تنہا نہیں ہونے دے گا اس کے ہر قدم پر ساتھ کھڑا ملے گا وہ اس کی باتوں کو سوچتے ہوئے خوبصورت نظاروں میں مگن تھی جب اسے اپنے گرد گرم شال محسوس ہوئی اور پھر ایک نرم گرم سا مضبوط حصار

تمہیں بیمار ہونے کا شوق ہے کیا ۔۔۔۔؟ پہلے ہی جب سے یہاں آئی ہو ناک سرخ کر کے بیٹھی ہواور اب بنا شال بنا کسی گرم کپڑے کے یہاں باہر سردی میں کھڑی ہو خود کشی کرنے کا یہ طریقہ حلال تو نہیں لگتا ۔

اور اس کے بازو سہلاتے ہوئے اسے اپنے حصار میں قید کیے بول رہا تھا جبکہ اس کی بات پر وہ مسکرا دی

الحمداللہ اتنی حسین زندگی ملی ہے میں تو کبھی ایسا سوچ بھی نہیں سکتی اس میں نے مسکراتے ہوئے اس کے سینے پر سر رکھا تھا ۔

کیا بات ہے لگتا ہے میری مسز کو ضرورت سے زیادہ حسین زندگی مل گئی ہے ذرا مجھے بھی اس حسین زندگی کا ایک نظارہ کروا دو وہ اس کے سرخ لبوں کو جھک کر چومتے ہوئے پیچے ہٹا۔

وہ شرماکر سر جھکا گئی

واہ کافی میٹھا نظارہ ہے مجھے تفصیل سے دیکھنا چاہیے

وہ اچانک ہی اسے اپنی بانہوں میں اٹھاتے ہوئے بولا تو اس کی قربت پر وہ دل تھام کر رہ گئی ۔وہ ایسا کچھ کرنے والا ہے یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا ۔

جب کہ ذریام اس کی سوچوں کو نظرانداز کرتا اسے یوں ہی بانہوں میں اٹھائے اندر لے گیا تھا ۔

°°°°°

اس کی آنکھ کھلی تو اس نے تھوڑے سے فاصلے پر اس شخص کے بستر کو لگے دیکھا تھا جبکہ ٹائیگر وہی پر آرام سے بیٹھا ہوا تھا ۔

اسے ایک لمحے کے لیے اس کتے سے خوف آیا تھا جب کہ جس طرح وہ آرام سے بیٹھا تھا وہ بھی آرام سے بیٹھ گئی بنا کوئی حرکت کیے وہ اسے دیکھ رہی تھی جبکہ ہر طرف نظر گھماتے ہوئے وہ شائزم کو ڈھونڈ رہی تھی ۔

کل رات نہ جانے کب وہ سوئی تھی اسے بالکل اندازہ نہیں تھا چل چل کر وہ بہت برے طریقے سے تھک چکی تھی لیکن پھر اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس طرح کسی غیر مرد پر بھروسہ کرکے وہ اتنی بے فکر نہیں ہو سکتی تھی ۔

اگر کل رات اس آدمی کی نیت خراب ہو جاتی ہے اور وہ اس کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کر دیتا تو وہ کیسے اپنے نانا کو اپنا چہرہ دکھاتی

وہ تھا تو ایک آدمی ہی نہ وہ کسی غیر انسان پر اس قدر بھروسہ ہرگز نہیں کر سکتی تھی اسے رہ رہ کر خود پر غصہ آ رہا تھا

اس کے گرد اس کا جیکٹ لپٹا ہوا تھا ۔جبکہ اس کا بستر بھی کافی زیادہ فاصلے پر تھا مطلب وہ بھی اس کی عزت کا مفہوم بہت اچھے طریقے سے سمجھتا تھا ۔

وہ برا انسان ہرگز نہیں تھا ورنہ کل سے لے کر اب تک اسے ایسے بہت سارے موقع مل چکے تھے جس میں وہ اس کا فائدہ اٹھا سکتا تھا لیکن اس شخص نے ایسی کوئی حرکت یا گھٹیا مذاق اس کے ساتھ نہیں کیا تھا یہی اس کے خاندانی ہونے کا ثبوت تھا ۔

وہ ایک غیر مرد کے ساتھ تھی لیکن محفوظ تھی تھوڑی دیر انہی سوچوں میں گم وہ سامنے جنگل کی طرف دیکھ رہی تھی جب وہ اپنے کندھے پر کچھ لٹکائے ہوئے اس کی طرف آتے نظر آیا ۔

کہاں چلے گئے تھے تم مجھے چھوڑ کر وہ بھی اپنے اس کتے سوری ٹائیگر کے پاس اگر یہ مجھے کھا جاتا تو وہ فورا اس کے پاس بھاگ کر آئی تھی کتنی دیر سے جو ڈر ٹائیگر سے اسے بے وجہ میں لگ رہا تھا وہ اب ختم ہو چکا تھا

کھانے کے لیے کچھ ڈھونڈنے کے لیے گیا تھا تمہیں رات کو بھوک نہیں لگتی تھی اب تو لگی ہوگی نہ

سوچا تمھارے جاگنے سے پہلے ناشتے کا انتظام کر لیتا ہوں پھر اپنا سفر شروع کریں گے پتہ نہیں کب تک جنگل سے نکلنا ہوگا

ہاؤ سویٹ تم میرے لیے صبح صبح جنگل سے یہ فروٹ ڈھونڈ کر لائے ہو تم کتنے اچھے ہوتھینک یو وہ اس کے ہاتھ سے فروٹس لیتے ہوئے وہیں پانی کے قریب بیٹھ کر دھونے لگی

شائزم ایک لمحے میں سمجھ گیا تھا کہ یہ جو اتنی پیاری شکل بنا کر اس نے تھینک یو بولا ہے وہ صرف اپنی بھوک کے خیال سے ہی بولا ہے۔۔۔

°°°°°°°°°°