Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 72)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 72)
Junoniyat By Areej Shah
دیدم گہری نیند سو رہی تھی ۔’
جب اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اس کے آس پاس کوئی موجود ہے
سامیہ اپنے کمرے میں سوتی تھی نہ تو وہ کوئی ڈرپوک قسم کی لڑکی تھی کہ آدھی رات کو اس کے پاس اس کے کمرے میں آ جاتی اور نہ ہی اس کے ساتھ اس کی کوئی اتنی محبت تھی۔۔۔”
کہ وہ دادا جان کی مرضی کے خلاف جا کر اس کے کمرے میں آتی تو بھلا کون ہو سکتا تھا اس کے کمرے میں ۔۔۔۔۔؟
اس نے آنکھیں کھولتے ہوئے آگے پیچھے دیکھا تھا لیکن کمرے میں مکمل اندھیرا تھا۔ اپنا وہم سمجھ کر اس نے دوبارہ سونے کی کوشش کی
جب اسے ایک بار پھر سے کچھ ایسا محسوس ہوا اس نے ہاتھ بڑھا کر لائٹ آن کی تو اگلے ہی لمحے اس نے خود پر جھکتے کسی کو دیکھا تھا ۔
اس سے پہلے کہ وہ چیخ مارتی کوئی اس کے منہ پر ہاتھ رکھ چکا تھا اور چھری گردن پر۔۔۔۔۔۔”
زیادہ اچھل کود کرنے کی ضرورت نہیں ہے چھری کافی تیز ہے ایسے گردن پر چلے گی نہ ایک دوسری سانس نہیں لے پاؤ گی
وہ بڑے ہی بے رحمانہ انداز میں بولی تھی جبکہ خود پر جھکی ریدم کو دیکھ کر دیدم کی سانس سی رکنے لگی تھی
مجھے گھور کیا رہی ہے آنکھیں نیچے۔۔۔۔ نیچے اسے خود کو گھورتے پا کر وہ مزید غصیلے انداز میں بولی تو دیدم نے ڈر کرنظریں جھکا لیں۔
اب ٹھیک ہے دن کو بہت زبان چل رہی تھی تمہاری کیا کہہ رہی تھی میری ماں بھاگ گئی ہاں ۔۔۔۔۔؟
اور میں اپنے عاشق کو رات کو بلاکر ملتی ہوں ۔اور کیا دادا جان کو بتانے کی دھمکی دے رہی تھی مجھے۔۔۔۔؟
تجھے کیا کہا تھا میں نے ہوسٹل کی لڑکی سے پنگا نہیں لیتے لیکن نہیں تجھے پتا نہیں عقل کب آئے گی ۔۔۔”
اب آ گئی نا گردن چھری کے نیچے ۔۔۔۔؟
خیر پچھلی دفعہ معافی دادا جان کے کہنے پر مانگی تھی نہ تو نے آج اپنی جان کے کہنے پر۔۔۔۔” میرا مطلب ہے اپنی جان بچانے کے لئے مانگ معافی۔
کیونکہ میرا دماغ اس وقت بری طرح سے گھوما ہوا ہے میں کبھی بھی کچھ بھی کر سکتی ہوں مجھ سے کبھی کسی اچھی چیز کی امید مت رکھنا۔
ویسے کیا کہہ رہی تھی تم کے دادا جان کی لاڈلی ہوں اگر ان کی ایک ایک پوتی کا قتل کر بھی دوں تو بچا لیں گے مجھے ۔۔۔۔۔”
ویسے میرے سننے میں آیا ہے کہ دادا جان کا سب سے لاڈلا پوتاخداش ہے اور اس نے ان کی پوتی کا قتل بھی کردیا ہے اور وہ اس کے ساتھ ہی ہیں تو اتنی پیاری تو دادا جان کو ہے نہیں کہ میرے ہاتھوں سے مر جانے کے بعد وہ تیری یاد میں سوگ منائیں گے۔
معافی مانگے گی یا کاٹ دوں گردن ۔۔۔۔۔۔؟ ریدم اس وقت بالکل پاگل انسان لگ رہی تھی یقینا دن کو اس کی باتوں پر اسے بے تحاشا غصہ آیا تھا ۔
لیکن اس وقت کسی طرح کا ہنگامہ نہ کرنے کی وجہ سے وہ خاموش ہو گئی تھی لیکن اب جب غصہ حد سے زیادہ سوار ہوا تو وہ اس پر سوار ہو چکی تھی
دیدم اشارہ کر رہی تھی کہ معافی مانگنے کے لیے تیار ہے لیکن وہ اسے چھوڑ دے لیکن وہ اس کےاشارے سمجھنے میں انٹرسٹڈ ہی کہاں تھی۔
فی الحال تووہ مزے لے رہی تھی اس کی حالت کے
اچھا ٹھیک ہے زیادہ اچھلنا کودنا بند کر ہاتھ اٹھا رہی ہوں میں شور مت مچانا ورنہ گردن کاٹنے میں ایک منٹ لگے گا ۔
وہ ہاتھ اٹھاتے ہوئے پیچھے ہوئی تو دیدم اٹھ کر بھاگتی دروازے سے جالگی تھی ۔
تمہارا دماغ خراب ہے کیا تم پاگل ہو ۔۔۔۔؟ کیا کرنے والی تھی تم ۔۔۔۔؟
سائیکو تم چھری لے کر ۔۔۔۔۔۔۔
میں تجھے معافی مانگنے کے لئے کہہ رہی ہوں اور تم مجھے تقریریں سنا رہی ہے ۔۔۔۔”
پلیز دور رہو مجھ سے معافی مانگ تو ہو رہی ہوں نا دیدم نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے دور کیا تھا ۔
اچھا چل مانگ وہ پیچھے ہٹ کر کہنے لگی ۔
مجھے معاف کر دو میں آئندہ کچھ الٹا سیدھا نہیں کہوں گی پلیز اس وقت میرے کمرے سے باہر نکل جاؤ اس نے کمرہ کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن دروازہ لاک ہونےپر وہ اس کی منتیں کرنے پر اتر آئی کیونکہ وہ سمجھ گئی تھی کہ کچھ حد تک یہ لڑکی پاگل ہے ۔
ہہم۔۔۔۔ریدم نے گردن ہاں میں ہاں ہلاتے ہوئے ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر اپنے پیر کی طرف آنے کا اشارہ کیا تھا یعنی کہ وہ چاہتی تھی کہ اس کے پیر پکڑ کر اس سے معافی مانگے
وہ اس کے پاس آتے ہوئے اپنے ہاتھ جوڑ چکی تھی جتنی باتیں اور جتنا ہرٹ اس نے اسے کیا تھا اسے معاف کرنے کے حق میں تو وہ ہرگز نہیں تھی ۔
لیکن سچ یہی ہے کہ شکوے گلے اپنوں سے کیے جاتے ہیں دوسروں سے نہیں اور وہ اس کی اپنی ہوکر بھی غیر تھی ۔
اس کے بابا کی سب سے لاڈلی بھتیجی ۔۔۔۔۔جس سے چھوٹی عمر سے وہ جلتی آئی تھی لیکن اب اپنی ماں کے خلاف اس کے دل میں زہر محسوس کرنے کے بعد وہ اس سے نفرت کرنے لگی تھی
سو جاؤ اور آج کے بعد مجھ سے پنگا مت لینا یہ یاد رکھنا تمہارے اور میرے دادا کا نام ایک ہی ہے ۔وہ اس کے قریب سے اٹھتی چابی گھما کر کمرے سے نکلتے ہوئے کمرہ بند کر چکی تھی۔
جب کہ دیدم بھاگ کر کمرے کواچھے سے لاک کرتے ہوئے گہری گہری سانسیں لے رہی تھی اسے ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ یہ لڑکی اس حد تک بددماغ ہوگی ۔
اس کی زبان واقعی ضرورت سے زیادہ چلتی تھی اسےضرورت ہی کیا تھی ریدم کے سامنے الٹا سیدھا بولنے کی ۔لیکن وہ یہ سب کہاں جانتی تھی اس کے جو منہ میں آیا وہ بول گئی اور اب اپنی گردن کا معائنہ کر رہی تھی کہ سچ مچ میں اسے چھری نہ لگی ہو۔
لیکن شاید ریدم پہلے بھی اس طرح کسی اور کو ڈرا چکی تھی اور وہ اس کام میں کافی زیادہ ماہر بھی تھی
°°°°°
واہ مطلب کیا بات ہے اب شادیاں دشمنوں میں ہو رہی ہیں ذرا خیال نہ آیا ان کو کہ گھرمیں بھی ایک بچی کنواری بیٹھی ہوئی ہے ۔
وہاں زریام کےلیے اس عمایہ کو بہو کےروپ میں تسلیم کرلیا اور یہاں چھوٹے بیٹے کے لئے ہماری تانیہ کے لئے سوچنے کے بجائے دشمن کی لڑکی لانے لگے ہیں ۔
میں آپ کو پہلے ہی کہتی تھی ان کا شروع سے ہی ارادہ نہیں تھا ہماری تانیہ پر صرف بہانہ بازی تھی یہ ساری میں تو نہیں جا رہی اس شادی پر اور نہ ہی میں کسی رسم میں شرکت کروں گی ۔
ہمارے بچوں کی کوئی عزت ہی نہیں ہے اس خاندان میں پہلے جب ہم نے جنت کا رشتہ مانگا کتنی عجیب عجیب طرح کی باتیں سننے کو ملیں
اپنے ہی بیٹے کے بارے میں تب آپ نے کچھ نہیں کہا ۔مجھے کہا کہ ہمارا ہی بیٹا غلط ہے لیکن اب کی بات کریں شاہ صاحب ہماری بیٹی میں کوئی برائی نہیں ہے
لیکن نہ اس کا خیال نہیں آیا کسی کو۔۔۔۔۔”
پہلے زریام کے ساتھ کتنے سال تک اس کی بات چلائے رکھی میں نے ایڑی چوٹی کا دم لگایا کہ نکاح کر دو نہیں تو منگنی کر دو لیکن نہ جی نہ نیت میں کھوٹ تھی تو ایسا بھلا کیسے ہو سکتا تھا اور اب ہماری تانیہ کیا ساری زندگی کنواری بیٹھی رہے ۔
آپ کے بھائی کے دونوں بیٹے ہاتھ سے نکل چکے ہیں اب کیا کرنے کا ارادہ ہے آپ کا ۔۔۔۔
دیکھو اس وقت میرا دماغ خراب مت کرو میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں وہ مسلسل ان کی باتیں سنتے ہوئے کافی اکتا چکے تھے اسی لئے ذرا سختی سے بولے ۔
ہاں آپ پریشان تو ہوں گے نہ کہیں بھائی کے بچوں پر کوئی بات نہ آجائے اور اپنے بچے جائیں بھاڑ میں ۔
ہمارے بیٹے کے قاتل کی بہن کو پوری عزت کے ساتھ اس حویلی میں بہو کے روپ میں متعارف کروایا جائے گا پہلے ایک امید تو تھی کہ بابا جان خود اس لڑکی کو گھر سے باہر کردیں گے۔
لیکن اب وہ بھی ختم ہو چکی ہےلیکن آپ کو کیا فرق پڑتا ہے آپ بیٹھے رہیں بیٹا تو صرف میرا تھا نا آپ سے اس کا تعلق ہی کیا تھا جو آپ کے دل میں درد اٹھے گا اور مجال ہے کہ تانیہ کے معاملے میں بھی آپ نے کوئی ہاتھ پیرمارے ہوں میں کہتی ہوں ضرورت کیا ہے ۔۔۔۔؟
آپ تو بس بھائی کے بچوں کے نام پر پریشان ہوتے رہیں وہ غصے اور بد لحاظ سے کہتی کمرے سے نکل گئی تھیں ۔جب کہ چاچا جان کسی اور ہی سوچ میں گم تھے .
°°°°°°°°
حرم پہلے کھانا کھا لو بعد میں پڑھائی کر لینا کوئی کتابیں بھاگی تو نہیں جا رہی نہ ۔۔۔۔”
وہ اس کے منہ میں نوالے بنا کر ڈال رہا تھا لیکن حرم کا تو سارا دھیان اپنی پڑھائی کی طرف تھا ۔
ہاں بس کھا رہی ہوں۔یہ لاسٹ پیج ہے۔
بعد میں پڑھ لینا پہلے کھانا کھا لو اس نے کتاب بند کرتے ہوئے ساتھ ہی اس کے منہ میں کھانا ڈالنا شروع کر دیا۔
آپ مجھ سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں نا ۔۔۔۔؟وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی اچانک اس طرح کا سوال اس کے لیے حیران کن تھا ۔
نہیں تو تمہیں کس نے کہا ۔۔۔؟وہ نوالہ اس کے منہ میں ڈال چکا تھا
ویسے تو آپ کہہ چکے ہیں لیکن آپ کی آنکھوں سے بھی لگتا ہے ۔
آپ جس طرح سے رومینٹک ہیرو کی طرح مجھے دیکھتے ہیں ۔مجھے اپنے ہاتھوں سے کھانا بنا کر کھلاتے ہیں میری اتنی کیئر کرتے ہیں ۔
یہ ساری پیار کی ہی تو نشانیاں ہوتی ہیں ۔
اچھا یہ ساری پیار کی نشانیاں ہوتی ہیں تمہیں تو کافی زیادہ انفارمیشن لگتی ہے پیار محبت کی ۔۔۔؟وہ۔اس کی باتوں میں دلچسپی لینے لگا
ہاں نا میں نے بہت ساری فلمیں دیکھی ہوئی ہیں اور ٹوم کروز کی تو کوئی بھی نہیں چھوڑی آپ نے اس کی وہ فلم دیکھی ہے ۔۔۔۔۔۔؟
کبھی تمہارا بھالو ہمارے بیچ میں آ جاتا ہے تو کبھی یہ ٹوم آ جاتا ہے یہاں ہم دونوں کی بات ہو رہی ہے نہ ۔
نہیں ہم دونوں کی نہیں پیار محبت اور فلموں کی بات ہو رہی ہے حرم اس کی بات کی درستگی کرتے ہوئے بولی ۔
اچھا سوری میں نے تمہارا ٹوپک چینج کر دیا کیا بات کر رہی تھی تم اس کے منہ بنانے پر وہ معذرت کرتے ہوئے پوچھنے لگا
میں پوچھ رہی تھی آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں نا ۔
تمہارے لئے یہ سب کچھ پیار محبت ہو گا لیکن میرے لیے میرا عشق جنون دیوانگی ہے ۔میرے نزدیک تم میری زندگی ہو میرے جینے کی وجہ میرے لئے میرا سب کچھ ہو ۔
تو پھر تو آپ میری ساری باتیں مانیں گے وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے اس کے ہاتھ تھام چکی تھی ۔
ہاں جان تم حکم کرو ۔اس کے بچگانہ انداز پر مسکرا دیا تھا ۔
ایسے نہیں ایسے اس نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے سر پر رکھا تھا ۔
تم مجھ پر یقین کر سکتی ہو اس نے سنجیدہ انداز میں کہا ۔
میں آپ پر یقین کرتی ہوں لیکن جو میں مانگنے جارہی ہوں ہو سکتا ہے وہ آپ کے لئے دینا مشکل ہو جائے اسی لئے ایسے ہی اس نے پھر سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھ دیا تھا ۔
تم پر جان بھی قربان بولو کیا چاہیے تمہیں اس کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے وہ اسے اپنے قریب کر چکا تھا
لیکن حرم اپنے سر سے اس کا ہاتھ اٹھانے کو تیار نہیں تھی ۔
ٹھیک ہے بابا تمہارے سر کی قسم جو کہو گی کروں گا ۔وہ ہار کر بولا
میرے ساتھ گھر چلیں حویلی چلیں واپس دادا جان کے پاس وہ آپ سے بہت پیار کرتے ہیں ۔
وہاں کوئی نہیں ہے جو آپ سے نفرت کرتا ہو ہر کسی کے دل میں آپ کے لیے بے تحاشہ محبت ہے میرا یقین کریں سر شوہر وہ امید بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جبکہ یشام نے اگلے ہی لمحے اس کے سر سے اپنا ہاتھ ہٹایا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔
سر شوہر ۔۔۔۔۔۔
چپ۔۔۔۔۔۔” اک لفظ اور نہیں وہ اتنے زور سے دھارا تھا کہ حرم دو قدم پیچھے ہٹ گئی۔
جبکہ وہ۔ٹیبل پر زوردار لات مارتے ہوئے کانچ کی میز کو ٹکڑوں میں تقسیم کر چکا تھا ۔اس کی حرکت نے حرم کو چیخنے پر مجبور کر دیا جبکہ اپنا غصہ اس پر نہ نکالتے ہوئے وہ گھر سے ہی باہر نکل گیا تھا
حرم کو اس سے اتنے شدید ری ایکشن کی امید ہرگز نہیں تھی ۔
°°°°°°°
ارے یہ کیا تم تیار نہیں ہوئی اٹھو شاپنگ پر نہیں چلنا کیا وہ کمرے میں آیا تو دیشم کو ایک ہی جگہ نظریں جمائے دیکھ کر پوچھنے لگا اس کے ہاتھ میں حرم کی تصویر تھی
یقینا اس کے کمرے میں آنے سے پہلے وہ بہت دیر سے رو رہی تھی ۔
مجھے کہیں نہیں جانا اور خدا کے لئے ہر چیز میں مجھے زبردستی شامل کرنا بند کریں مجھے کوئی دلچسبی نہیں ہے ان سب چیزوں میں ۔
اک بات بتاؤں وہ لڑکی کوئی غیر نہیں ہے ہمارے سگے چچا کی بیٹی ہے اسے اس وقت اپنوں کی ضرورت ہے ہم سب کی ضرورت ہے وہ یہاں حرم کی جگہ لینے نہیں اپنی جگہ بنانے آئی ہے
تم اسے حرم کی جگہ پر کیوں رکھ رہی ہو دیشم اسے اسی کی جگہ پر رہنے دو اور اس کی خوشیوں میں شامل ہو جاؤ یقین کرو حرم کو بھی خوشی ہوگی ۔
قسم خدا کی آپ کی یہ ساری باتیں سنتے ہوئے اور آپ کا یہ دوغلا چہرہ دیکھتے ہوئے ہر دن آپ سے میری نفرت بڑھتی چلی جارہی ہے
کیوں ہیں آپ ایسے آپ کو اس بات کا احساس تک نہیں ہے کیا آپ نے کیا کیا ہے اور آپ ۔۔۔۔۔۔
دیشم مت کیا کرو ایسے دل دکھانے والی باتیں قسم سے دل دکھتا ہے تکلیف ہوتی ہے مجھے تمہاری آنکھوں میں نفرت نہیں دیکھ سکتا میں بے تحاشا چاہتا ہوں تمہیں وہ ایک ہی جھٹکے میں اپنے قریب کرتے ہوئے اپنے سینے میں بھینچ چکا تھا ۔
لیکن مجھے نفرت ہے آپ سے نہیں رہ سکتی میں آپ کے ساتھ آپ انسان نہیں حیوان ہیں نفرت ہے مجھے آپ سے ۔
اور مجھے محبت ہے تم سے تم میرا عشق ہو دیوانگی ہو میری جنونیت ہو میں نہیں رہ سکتا تمہارے بنا میں تم سے اپنی محبت کے بدلے محبت نہیں مانگتا لیکن خدا کے لئے مجھ سے نفرت مت کرو یہ نہ ہو کل کو تمہیں انہی سب باتوں پر پچھتانا پڑے ۔
مجھے یقین ہے کہ وہ دن کبھی نہیں آئے گا جب میں اپنے الفاظ پر پچھتاوں گی ۔جوآپ کر چکے ہیں نہ اس کے لیے میرے دل میں آپ کے لیے سوائے نفرت کے اور کچھ بھی نہیں ہے وہ خود کو اس کی بانہوں سے آزاد کرتے ہوئے کمرے سے نکل چکی تھی وہ اسے سکون سے سب کچھ بتا دینا چاہتا تھا لیکن وہ تو شاید اس کی کوئی بات سننا ہی نہیں چاہتی تھی
°°°°°°
کل نکاح تھا اور تقریبا ساری تیاریاں ہو چکی تھی عمایہ جب سے گھر میں آئی تھی اسے کچھ بھی برا دیکھنے کو نہیں ملا تھا ہر کوئی مسکرا کر اس سے باتیں کر رہا تھا کسی کی بھی آنکھوں میں اس نے اپنے لئے نفرت نہیں دیکھی تھی ۔
حویلی کا پورا ماحول ہی بدل چکا تھا شادی کی تیاریوں میں ساتھ ساتھ اسے بھی پوری طرح سے شامل کیا جا رہا تھا ماما تو سارے کاموں میں اس سے مشورہ مانگ رہی تھیں
یہ الگ بات ہے کہ ان سب چیزوں میں خود بھی اناڑی ہی تھی ۔
عمایہ تم یہاں بیٹھی ہو اور مجھے میرے جوتے تک نہیں مل رہے مجھے میرے جوتے نکال کر دو ہزار طرح کے کام ہیں مجھے ایک تو تم میری چیزیں کہاں سے کہاں رکھ دیتی ہو وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے سب کے بیچ سے اٹھا کر اندر لے گیا تھا ۔
ماماآپ کا یہ بیٹا جوتے ڈھونڈنے کے بہانےآپ کے ہاتھوں جوتے کھانے کی پلاننگ کر رہا ہے ۔
اسے کوئی حق نہیں بنتا کہ ہماری بھابھی کو اس طرح سے ہمارے بیچ سے لے کر چلا جائے ۔جنت نےبلند آواز میں کہا تھا لیکن وہاں پروا ہی کسے تھی
°°°°°°°
ذریام یہ سامنے ہی تو پڑے ہیں آپ کے جوتے آپ نے شاید دیکھا نہیں ہوگا اس طرف اس نے کمرے میں آتے ہی سب سے پہلے الماری کے سائیڈ پر پڑے اس کے جوتے نکال کر سامنے رکھے تھے
جبکہ وہ اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا
دفع کرو جوتوں کو بیوی مِیں تو تمہارا دیدار کرنے کے لئے تمہیں اس کمرے میں لے کر آیا ہوں یہ کیا یہاں آتے ہی تم پھر سے مصروف ہوگئی یہ تو بہت غلط بات ہے ۔
کل سے ٹھیک سے اپنا چہرہ تک نہیں دکھایا تم نے مجھے اور صبح مجھے جگائے بنا کمرے سے باہر کیوں نکل گئی کیا کہا تھا میں نے تم سے کہ تمہارا چہرہ دیکھے بنا میری صبح حسین نہیں ہوتی ۔
اس کے چہرے کے ہر ہر نقش پر اپنے لبوں کا لمس چھوڑتے ہوئے وہ محبت پاش لہجے میں بول رہا تھا ۔
میں پہلے ہی سمجھ گئی تھی کہ آپ سے شرافت کی امید کرنا سراسر بیوقوفی ہے ۔
وہ نظر جھکائے ہوئے بولی تو ذریام دلفریب انداز میں مسکراتا اس کی تھوڑی کے نیچے اپنی انگلی رکھتا اس کا چہرہ اپنے سامنے کر چکا تھا
بہت اچھی بات ہے ایسے ہی مجھے سمجھتی رہو تمہارے حق میں بہتر رہے گا اس کے لبوں کو فوکس کرتے ہوئے وہ بڑے استحقاق سے اس کے لبوں پر جھک گیا تھا ۔
جب کہ اپنی سانسیں بھاری ہوتی محسوس کر کےوہ اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپا گئی تھی ۔
کل تمہیں ایک بہت بڑا سرپرائز ملنے والا ہے۔تیار ہو جاو۔اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے اس نے اسے متجسس کیا تھا ۔
کونسا سرپرائز وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگی تھی ۔
سرپرائز ہے جان تمہیں بتا نہیں سکتا میں ۔۔۔؟اس کا انداز سمجھانے والا تھا جب کہ وہ ہاں میں سر ہلاتی ایکسائٹڈ سی ایک بار پھر سے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ چکی تھی
°°°°°°°°
