Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 33)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 33)
Junoniyat By Areej Shah
اف ۔۔۔۔۔! آب حیات آب حیات آب حیات اور کچھ نہیں ہے کیا آپ کے پاس پڑھنے کے لئے وہ اسے کتاب اٹھائے دیکھ کر اس کے پاس ہی لیٹ گئی تھی ۔
پڑھنے کے لئے تو بہت کچھ ہے لیکن سالار سکندر کی محبت کرنے کا الگ ہی مزہ ہے دیشم نے مسکرا کر کتاب سائیڈ پر رکھی تھی یہ کتاب تقریبا ساڑھےچار سال سے اس کے پاس تھی ۔
ایسا کیا ہے جناب سالار سکندر کی محبت میں ہمہیں بھی تو پتہ چلے وہ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہو گئی تھی ۔
اپنی مہندی والے دن وہ یہ سب کچھ پڑھ رہی تھی ،
ہاں ہاں بتاؤ اسے کہ سالار سکندر میں ایسا کیا ہے تاکہ اس کے دماغ میں بھی الٹے سیدھے خیال بننا شروع ہو جائیں یہ رائٹرز بھی ناں ایسے ایسے کردار لکھ دیتیں ہیں جن کا اصل دنیا سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ہوتا
مشال جو اپنے بیٹے کو چمچ سے دلیا کھلانے میں مصروف تھی ان دونوں کی باتوں میں حصہ لیتے ہوئے بولی ۔جب کہ سومیہ اور دیدم تو اپنے چہرے کو نکھارنے میں لگی ہوئی تھیں
خداش جو مشام کی بیٹی کو لے کر اس کے پاس اوپر آیا تھا ۔
سالار سکندر ۔۔۔۔۔اس کے نام پر وہ دروازےکے باہر ہی رک گیا اس نے آج تک دیشم کو اتنی محبت سے اپنے بابا کا نام لیتے ہوئے بھی نہیں سنا تھا ۔
کہنے کو سالار سکندر صرف ایک ناول کا کردار ہے لیکن ہم جیسی خوابوں میں رہنےوالی لڑکیوں کے لیے وہ صرف ناول کا کردار نہیں بلکہ اصل ہیرو ہے،
ایک ایسا ہیرو جسے ہم نے اپنی بند آنکھوں سے دیکھا ہے اس کے لفظوں کو محسوس کیا ہے ۔اس کی محبت ہر ہم ایمان لےآئے تھے۔۔مانا کہ یہ سب صرف رائٹر کا ٹیلنٹ ہے وہ اس کے کردار کو ہمارے ذہنوں میں ہمارے دلوں میں ہمیشہ کے لئے محفوظ کر گئیں لیکن سالار سکندر کی محبت بے مثال تھی اس کے جیسی محبت کوئی نہیں کر سکتا ،
جانتی ہو اس نے امامہ کو صرف تحفہ دینے کے لیے اپنی جائیداد بیچ دی تھی اپنا فیوچر داو پر لگا دیا تھا اور ۔۔۔۔۔۔
بس بس رہنے دو مجھے نہیں سننا یہ سب کچھ، ہم اصل دنیا میں جینے والے لوگ ہیں ابھی وہ کچھ اور بتاتی کہ دیدم نے اسے چپ کروا دیا ۔
اور تم بھی شادی سے پہلے جتنا یہ سب کچھ بھول سکتی ہو نا بھول جاؤ خداش کاظمی اصل دنیا کا باسی ہے وہ تمہارے لیے کوئی لاکھ ڈیڑھ لاکھ کی انگوٹھی رونمائی میں لائے گا ۔
کیونکہ نا تو تم امامہ ہو اور نہ ہی خداش کاظمی کوئی سالارسکندرہے، سومیہ نے حقیقت کا آئینہ بڑی تلخی سے دکھایا تھا
تو میں نے کب کہہ دیا کہ وہ سالار سکندر ہے یا پھر میں امامہ ہوں مجھے امامہ بننے کا شوق نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اپنی زندگی میں کسی سالار سکندر کی خواہش ہے ،
اور جہاں تک بات اس ناول کی ہے تو یہ میں آج آخری دفعہ پڑھ رہی ہوں کیونکہ آج میں اس ناول سے نکل کر اصل زندگی میں قدم رکھوں گی اور اس حقیقت کو قبول کرونگی جو اصل میں حقیقت ہے ۔نجانے کیوں سومیہ کاتلخ انداز اس کی آنکھوں میں پانی بھر لایا تھا وہ اٹھ کر واش روم میں بند ہوگئی ۔
جب مشال کا دھیان دروازے کےباہرکھڑے خداش کی طرف گیا تھا
تم یہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔؟ تمہارا اور اس کا پردہ ہے مشال نے جلدی سے دروازہ کی طرف آتے ہوئے دروازے کو بند کرنا چاہا تھا ۔
تمہاری لاڈلی کو بھوک لگی ہوئی ہے اسی لئے آیا تھا ورنہ رولزتوڑنے کےمیں بالکل بھی حق میں نہیں ہوں اس کی آواز باقاعدہ طور پر دیشم نے سنی تھی
دل تو چاہا کہ ابھی کمرے سے باہر نکل کر سب کو بتا دےکہ کل رات وہ نہ صرف اس کے کمرے میں آیا تھا بلکہ انتہائی نازیبا حرکتیں بھی کرکے گیا ہے ۔
لیکن فی الحال وہ اپنی ذات پر کسی طرح کا کوئی تبصرہ نہیں کروانا چاہتی تھی اس لئے خاموشی سے اپنا منہ دھوتی رہی ۔
°°°°°°
ارے یار کہاں بھاگ رہی ہو بات تو سنو میری وہ تیزی سے اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے آیا تھا جو اپنا سامان کمرے سے باہر نکالنے کے بعد شاید اس سے ملنے کے لیے اس کے کمرے میں گئی تھی
نہیں بھاگ رہی بس تھوڑی شرمندگی ہو گئی تھی کم از کم دروازہ تو لاک کر دیتے اگر تم لوگوں نے یہی ساری حرکتیں کرنی ہوتی ہیں تو
خیر میں نےتمہیں یہ بتانا ہے کہ میں جا رہی ہوں بس کل سے میری یونیورسٹی واپس سٹارٹ ہونے والی ہے ۔
تو میں اور چاچاواپس جا رہے ہیں ۔پھر میں نے سوچا کہ تم سوچو گے کہ میں نے جانے سے پہلے تمہیں بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا اسی لیے میں آئی تھی لیکن مجھے اس طرح سے نہیں آنا چاہیے تھا کم از کم دروازہ نوک کر کے آنا چاہیے تھا
وہ شرمندہ سے کھڑی تھی
جو تم نے سوچا ویسا کچھ بھی نہیں ہے وہ لڑکی میرے پیچھے پڑی ہے اور کچھ بھی نہیں آج تک اس نے کبھی کسی کو اپنی صفائی نہیں دی تھی لیکن آج دے رہا تھا کیوں ۔۔؟ وہ نہیں جانتا تھا
ارے تم اتنے پریشان کیوں ہو رہے ہو ۔۔۔۔اگر تم اس میں انٹرسٹڈ ہو بھی تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے پتا ہے مجھے بس یہ لگتا تھا کہ ذکی کو یہ برا لگے گا
کہ ماریہ کسی اور لڑکے میں انٹرسٹ لے رہی ہے۔لیکن اب ایسا نہیں ہے اب زکی ماریہ کو بالکل بھی پسند نہیں کرتا اور اب اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہتا ہے
اگر تم ماریہ کے ساتھ ریلیشن بنانا چاہتے ہو توبناسکتے ہو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہیں ۔
ماریہ اگر بہت اچھی لڑکی نہیں ہے تو بہت برُی بھی نہیں ہے پتا نہیں وہ کس طرح سے یہ کہہ رہی تھی جبکہ اس کے انداز پر وہ مسکرا دیا تھا
وہ ماریہ کی تعریف کبھی نہیں کر سکتی تھی ۔
تم اتنا جلدی کیوں جا رہی ہو وہ ٹاپک کو ختم کرتے ہوئے بولا
جلدی کہاں ہم تو لیٹ جا رہے ہیں ۔کل سے یونیورسٹی سٹارٹ ہو جائے گی تو پھر مجھے ہر حال میں اپنی کلاسس لینی ہیں۔۔تم بہت اچھے ہو تمہارے ساتھ اچھا وقت گزرا اور تمہارے ٹائیگر جی بھی بہت اچھے ہیں ۔
اگر زندگی رہی تو پھر ملیں گے ۔اس نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے کیا تھا
کیا مجھے تمہارا نمبر مل سکتا ہے وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا
ابھی تو کہا زندگی رہی تو پھر ملیں گے میں ٹیلیفونک رابطوں پر اعتبار نہیں رکھتی
اگر قسمت میں ملنا لکھا ہوا تو کہیں نہ کہیں ملاقات ہو جائے گی وہ اپنا ہاتھ اس کے مضبوط ہاتھ سے نکالتے ہوئے بولی تو شائزم مسکرا دیا
ان شاءاللہ پھر ضرور ملیں گے وہ دلکشی سے مسکرا کر اسے خدا حافظ کر چکا تھا ۔
جبکہ وہ بھی مسکرا کر وہاں سے جانے کے لیے نکل چکی تھی وہ اسے دور تک جاتے دیکھتا رہا اس کا دل بے چین ہو رہا تھا ۔اس کے جذبات بدل رہے تھے وہ کیا محسوس کر رہا تھا شاید یہ بات وہ خود بھی نہیں جانتا تھا
°°°°°°°
آپ نے بلایا مجھے دادا جان ۔وہ کمرے میں داخل ہوا
جہاں بڑےچاچا جان اور چھوٹے چاچا جان کےساتھ باباجان بھی موجودتھے۔
جی آگئے جناب پوچھے بابا جان کس کی اجازت سے اس نے پچس کروڑ کی زمین کوڑیوں کےدام بیچ دی ۔بڑےچاچاجان نے غصے سے پوچھا۔
صبر کرو۔۔۔ہم پوچھ رہے ہیں نا۔داداجان کو ان کا لہجہ پسند نہ آیا تھا
وہ میری ہی زمین تھی غالباً وہ جیسے انہیں یاد دلارہا تھا
بالکل یہ ساری جائیداد زمین ہر چیز تمہارے نام ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اسے بیچنا شروع کر دو اس دفعہ چھوٹے چاچا جی نے بیچ میں بولنا ضروری سمجھا تھا
خداش بتاؤ کہ تم نے وہ جائیداد کیوں بیچی بیٹا 40کروڑ کی زمین تم 25کروڑ میں بیچ آئے اگر تمہیں پیسے چاہیے تھے تم ہم سے کہتے اپنے باپ سے کہتے چاچا سے کہتے ۔۔
ایسی کونسی مشکل آن پڑی تھی تم پر کہ تم نے اپنے خاندان کی جائیداد بیچ دی۔
دادا جان کا لہجہ اب بھی بہت نورمل تھا ان کے لئے پوتے کی خواہش سے بڑھ کر جائیداد کا کوئی ٹکڑا ہرگز نہیں تھا ۔اور نہ ہی وہ اس پر کوئی باز پرست کرنا چاہتے تھے لیکن یہ ان کے تین بیٹے اسے اتنی عیاشی کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھے
میں دیشم کے لیے کوئی گفٹ لینا چاہتا تھا وہ پر سکون سے بولا ۔
چھوٹے چاچا جان کو تومانو چپ ہی لگ گئی تھی وہ اپنے خاندان کی جائیداد بیچ کر ان کی بیٹی کے لیے تحفہ خرید رہا تھا
واہ۔۔۔۔ تو کون سا تحفہ خریدا ہے آپ نے دیشم کے لیے جس کے لیے آپ کو جائیداد بیچنے کی نوبت آگئی بڑے چاچا شاید اس کی بات
سے امپریس نہیں ہوئے تھے
بیٹا اگر تم اسے کوئی تحفہ دینا ہی تھا تو جائیداد بیچنے کی کیا ضرورت ہے پچس کروڑ تو تمہارے پاس ہوتے ہی۔دادا جان نے چاچا جان کو خاموش رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا جس پر اس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی
اگر وہ تحفہ پچس کروڑ کا ہوتا تو اپنی فیملی کو جواب دہ بھی نہ ہوتا ۔
تو پھر ۔۔۔۔؟اس بار سوال بابا جان کی طرف سے آیا تھا
میں نے 300 کروڑ کا آئی لینڈ خریدا ہے سڈنی میں دیشم کے نام پر اس نے پرسکون ہو کر انہیں دوسرا جھٹکا لیا تھا
تین سو کروڑ۔۔۔۔ان کے لئے الفاظ ادا کرنا مشکل ہوگیا
باقی کیا کیا بیچا ہے اس نے یہ پوچھا ہے اس سے اس دفعہ تو بابا دھاڑتے بولے تھے ۔
جب کہ اب دادا جان کے چہرے کی نرمی بھی ماندپڑچکی تھی
صرف اپنے حصے کی جائداد بیچی ہے آپ لوگوں کے جائیداد میں سے صرف وہ خاندانی ٹکڑابیچا ہے میں نے اور فکر نہ کریں میں آپ لوگوں کو لوٹا دوں گا ۔میں اپنی بیوی کو کوئی بھی تحفہ آپ کی جائیداد سے ہرگز نہیں دینے والا میں نےسودا لگایا ہوا ہے اپنے شہر والے بنگلے کا اور پلیز اب آپ یہ سب کچھ بند کریں
دادا جان نے کہا تھا کہ سب کچھ میرا ہے تو آپ لوگ سوال جواب کیوں کر رہے ہیں میں کیا اپنی جائیداد میں سے اپنی بیوی کو ایک تحفہ بھی نہیں دے سکتا ۔
وہ مایوس ہو کر ان سے پوچھنے لگا تھا
جبکہ دادا جان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا اور بابا جان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس بے وقوف کی عقل ٹھکانے لگا دیں
جس نے صرف ایک گفٹ کے لیے انہیں سڑکوں پر لانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی ۔
دادا جان نے بہت پہلے اپنی جائیداد کا ففٹی پرسنٹ حصہ اپنے پوتے کے نام کر دیا تھا ۔
لیکن آج انہیں محسوس ہو رہا تھا کہ انہوں نے غلطی کی تھی ۔
کیا کرے گی یہ لڑکی تمہارے اس آئی لینڈ کا یہ بتانا پسند کرو گے بابا جان نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا تھا
وہ تو اس کی مرضی ہوگی نہ بابا میں تو صرف اسے تحفہ دوں گا وہ مسکرایا تھا ۔اس کی مسکراہٹ بہت معصوم تھی
جب کہ دادا جان خاموشی سے نفی میں سر ہلا گئے تھے
اگر آپ لوگوں کا حساب کتاب ختم ہوگیا ہو تو کیا میں یہاں سے جا سکتا ہوں وہ بیزار ہوچکا تھا
تمہیں اندازہ بھی ہے تم نے کیا کیا ہے خداش ۔۔۔بابا جان نے ایک بار پھر سے احساس دلانا چاہتا تھا
خداش کاظمی اندازے لگانے والوں میں سے نہیں کر کے دکھانے والوں میں سے ہے ۔وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا جب کہ دادا جان نے مزید کچھ بھی بولنے سے انہیں منع کر دیا تھا
°°°°°
وہ کمرے سے باہر نکلا تو مشال سامنے ہی کھڑی تھی
اب یہ مت کہنا کہ عرشمان شاہ نے تمہیں جاسوسیاں کرنا سکھا دیا ہے ۔وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا جب کہ وہ مسکرا کر اس کے ساتھ ہی باہر کی طرف چلنے لگی تھی
تم نے کیوں کیا ایسا خداش تمہیں پتا بھی ہے یہ کل کو ہمارے لیے کتنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔اس سے دیشم تم سے محبت تو نہیں کرنے لگے گی
تمہیں کس نے کہہ دیا کہ اس طرح سے مجھے دیشم کی محبت چاہیے ۔اس طرح تو میں صرف اس کے دماغ سے وہ سالار سکندر کا نقشہ مٹانا چاہتا ہوں
وہ کہہ رہی تھی کہ ہر کوئی سالار سکندر نہیں ہوتا میں نے سوچا میں اس کو بتا دوں کہ ہر کوئی خداش کاظمی بھی نہیں ہوتا ۔
اسے افسانی محبت چاہیے تو مجھے اس کی خوشی چاہیے ۔
اور اگر کل اس نے تم سے آسمان کے ستارے مانگ لئے تو کیا کرو گے ۔وہ جیسےاسے لاجواب کرنا چاہتی بھی خداش اس کے انداز پر مسکرا دیا
تمہیں پتا ہے میرے نام ساڑھے سات سو کروڑ کی جائیداد تھی آئی لینڈ پر تو میں نے صرف دو سو پچھتر کروڑ لگائے ہیں اس کی مسکراہٹ دیکھنے لائق تھی
مطلب کے باقی کی جائیداد تم آسمان سے ستارے خریدنے میں لگا دو گے۔اس نے سوال کرتے ہوئے اس کے چہرے پر دیکھا تھا اور اب وہ اسے سمجھانا چاہتی تھی وہ اسے اس طرح کے کسی بھی بے وقوفی سے روکنا چاہتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ جو شخص اپنی منکوحہ کے دماغ سے ایک افسانی کردار کا نقشہ مٹانے کے لیے اپنی جائیداد کا ایک بڑا حصہ اس کے تحفے میں لگا سکتا ہے تو یقینا وہ ایسا کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا
لگادئیے ۔اس کی پرسکون آواز آئی
مشال کو لگا وہ کھڑےکھڑے بےہوش ہو جائے گی
اسی لئے تو بابا جان کے بھی پچیس کروڑ بیچ میں لگ گئے ۔آسمان پر کروڑوں ستارے ہیں اب وہاں ایک ستارہ میری دیشم کے نام کا چمکے گا ۔اس کا نام بھی میں نے دیشم رکھا ہے ۔میں افسانی محبت بھی بے مثال کروں گا وہ مسکرا کر آگے بڑھ گیا تھا جبکہ مشال کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے اس کے پاس الفاظ ختم ہو گئے تھے
اس نے کہا تھا کہ وہ دیشم سے محبت کرتا ہے لیکن مشال یہ سوچ رہی تھی کیا یہ صرف محبت تھی ۔۔۔؟
°°°°°°
کیا خیال ہے ڈارلنگ آجاؤ پہاڑی کی طرف چلیں میں نے سنا ہے کہ پہاڑی کی دوسری طرف کا۔نظارہ بہت خوبصورت ہے اور وہاں اوپر ناں ایک چھوٹا سا ووڈ ہاؤس بھی ہے جسے ہم بک کروا لیتے ہیں اتنی خوبصورت جگہ ہے دو تین دن وہی پر رہیں گے ۔
وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا جو آئینے کے سامنے بیٹھی اپنے گیلے بالوں کو سکھا رہی تھی ۔
نہیں میرا تو کہیں جانے کا دل نہیں ہے اگر آپ جا کر دیکھنا چاہتے ہیں کہ چلے جائیں ۔میں یہیں رہ لوں گی وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی تھی
اس کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ پہاڑی کے دوسری طرف کا نظارہ دیکھنا چاہتا ہے اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے وہ اپنی کوئی خواہش ادھوری چھوڑ دے ۔
میں ہنی مون پر آیا ہوں غالباًاور میرا نہیں خیال کہ ہنی مون پر اس طرح کہیں اکیلے جایا جاتا ہے اور تمہارا کہیں پر بھی جانے کا دل کیوں نہیں کر رہا ۔۔۔؟
نہ تو تم کل میرے ساتھ باہر جانے کو تیار تھی اور نہ ہی آج صبح سے ہم کہیں باہر گئے ہیں ۔
اس ہوٹل میں ایسا کیا ہے جو تم یہی کی ہو کر رہ گئی ہو ۔اور ہاں میرے جگانے سے پہلے کہاں گئی تھی تم ۔۔۔۔؟وہ اٹھ کر بوٹ پہنتے ہوئے اس سے پوچھنے لگا تھا
وہ جو یہ سوچ رہی تھی کہ وہ اس کی غیر حاضری کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا گھبرا کر اسے دیکھنے لگی
وہ میں ٹھنڈی ہوا کھانے گئی تھی ۔صبح صبح میرا کمرے میں رہنے کا دل نہیں کر رہا تھا اس لیے اس نے جلدی سے بہانہ گڑھا تھا ۔
کیا بات ہے آج کل تم ٹھنڈی ہوائیں کچھ زیادہ ہی نہیں کھا رہی جب کہ میرے ساتھ کہیں جانے کا تمہارا دل ہی نہیں کرتا وہ ایک لمحے میں اس کے پاس آتے ہوئے اس کے بازو کو کھینچ کر اپنے قریب کرتا اس کے گرد اپنا حصار تنگ کر گیا تھا
نہیں ایسا تو کچھ بھی نہیں ہے ۔بس میرا دل نہیں کر رہا کہیں جانے کو وہ اس کی شرٹ کے بٹن پر انگلی پھیرتے ہوئے یوں ہی نظریں جھکائے بولی
زریام نے آہستہ سے اس کا چہرہ اپنی انگلی کی مدد سے اونچا کیا تھا
اگر کوئی پریشانی ہے تو تم مجھ سے شیئر کر سکتی ہو ویسے میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی پریشانی ہونی تو نہیں چاہیے وہ اپنا انگوٹھا بے حد نرمی سے اس کے لبوں پر پھیر رہا تھا ۔
نہیں کوئی پریشانی نہیں ہے مجھے بھلا آپ کے ہوتے ہوئے کیا پریشانی ہو سکتی ہے اس کی گرم سانسوں کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے وہ پرسکون ہو کر بولی تھی
وہی تو میں کہہ رہا ہوں کہ میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی گرم ہوا بھی چھو کر نہیں گزرے گی
تم مجھ پر اعتبار کر سکتی ہوعمایہ ۔وہ نرمی سے اس کے لبوں پہ اپنے لب رکھتے اس کی سانسوں کی خوشبو کو اپنی سانسوں میں بسانے لگا تھا ۔
آپ مجھے کبھی چھوڑیں گے تو نہیں نا ۔۔۔۔؟اس کی گردن پر اپنی ٹھنڈی انگلیوں کا لمس چھوڑتے ہوئے وہ اس کے سوال پر اس کی بند آنکھوں کے پیچھے کا ڈر جانے لگا تھا ۔
سانسوں کے بنا کہاں زندہ رہا جا سکتا ہے ۔تم تو آتی جاتی سانس بنتی جا رہی ہو ۔وہ ایک بار پھر سے اس کے لبوں کو اپنی گرفت میں لے چکا تھا ۔جبکہ عمایہ اپنا ہر ڈر ہر خوف بھلائے اس کی بانہوں میں اپنا گھر بنا گئی تھی ۔
وہ مزید کچھ بھی کہے بنا اس کی شال اس کے کندھوں پر اوڑھا کر اس کا ہاتھ تھامے باہر لے گیا تھا اب اس کا ارادہ اسی ووڈ ہاؤس میں جانے کا تھا جہاں کی وہ تھوڑی دیر پہلے بات کر رہا تھا
جب کہ وہ صرف اپنے ہمسفر کے ہم قدم تھی۔
°°°°°°°
