65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 14)

Junoniyat By Areej Shah

رات کی نہ جانے کون سے پہر اس کی آنکھ اپنی کیٹی کی چیخوں سے کھلی تھی۔وہ پریشانی سے اپنے بیڈ پر اپنی بلی کو ڈھونڈنے لگی

لیکن یہ کیا وہاں تو کوئی بھی نہیں تھا وہ جلدی سے بیڈسے اٹھتی کھڑکی کی طرف آئی تھی

جہاں سے اسے اپنی بلی کی چیخوں کی آواز سنائی دے رہی تھی تھوڑے سے فاصلے پر راہداری پر ایک کتا اس کی ننھی سی بلی کو اپنے منہ میں دبوچے کھانے جا رہا تھا اس کی تو سانسس اٹک گئی

وہ یہ بھول چکی تھی کہ یہ جانور کتنا خطرناک ہو سکتا ہے اسے تو بس یہ پتا تھا کہ اس کی بلی اس کے منہ میں تھی

جیسے کبھی بھی وہ کھا سکتا تھا اب وہ جلدی سے کھڑکی سے باہر نکلی تھی یقینا اس کی کیٹی بھی اسی کھڑکی سے باہر نکلی ہو گی کیونکہ یہ کھڑکی زیادہ اونچی نہیں تھی

اور ڈرائیور چاچا نے اسے بتایا تھا کہ یہ بلی کم ازکم پندرہ دنوں کی ہے اور کافی ایکٹیو ہے لیکن اپنی ماں سے بچھڑ جانے کی وجہ سے بہت لیزی ہو چکی ہے لیکن آہستہ آہستہ جب وہ ایکٹیو ہونا شروع کرے گی وہ ہر جگہ آسانی سے آیا جایا کرے گی

لیکن اسے ہرگز اندازہ نہ تھا کہ وہ پہلی رات میں ہی ایکیٹو ہوکر کھڑکی سے باہر نکل جائے گی

اووووووکتے چھوڑو میری کیٹی کو وہ کتے کے سامنے کھڑی بہت غصے اور جارحانہ انداز میں وہیں پڑے ڈنڈے کو اٹھا کر اسے ڈرانے لگی تھی

جب کہ وہ کتا جو شکل سے کافی خونخوار لگ رہا تھا اس کی بلی کے پٹے کو اپنے دانتوں میں جھکڑے اسی کو گھورے جا رہا تھا

اس کو نیچے رکھو ورنہ میں مار دوں گی تمہیں مجھے دو میری کیٹی کو۔ورنہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہوگا وہ خود بھی ڈرتے ہوئے اسے دھمکی دیتے ہوئے بولی لیکن شاید وہ اس کی کسی بات کو سمجھ ہی نہیں رہا تھا تبھی تو صرف اسے گھورنے ہی جا رہا تھا

لڑکی کیوں چلائی جا رہی ہو اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے ٹائیگر سے اس طرح سے بات کرنے کی اپنی آواز نیچی رکھو۔ میرے ٹائیگر کو اس لب و لہجے کی عادت نہیں ہے

وہ تمہاری بلی کو کھا نہیں رہا بلکہ باہر چلی گئی تھی تمہاری بلی کسی سڑک پر گاڑی کے نیچے نہ آ جائے یاکسی خون خوار جانور کا نوالہ بن جائے اسی لیے ٹائیگر سے لے کر آیا ہے واپس اور تم اسی کو باتیں سنائے جا رہی ہو وہ اچانک غصے سے بھرپور لہجے میں سامنے آتا اس سے بولا تھا

اس لڑکے کو پہچاننے میں اسے ایک سیکنڈ نہ لگا تھا یہ تو وہی تھا جس کا برتھ ڈے تھا اور جسے بڑی مشکل سے مروت اس نے وش بھی کیا تھا بدلے میں اس نے اسے گھورا تھا ۔تو یہ کتا اسی کا تھا

دیکھو مسٹر مجھے نہیں پتہ تمہارا ٹائیگر کیا چاہتا ہے کیا نہیں اس کو کہو میری کیٹی کو چھوڑے ۔مجھے یقین ہے اگر میں یہاں نہیں آتی تو اب تک یہ اس معصوم کو کھا چکا ہوتا

شٹ اپ میرا ٹائیگر بلیاں نہیں کھاتا وہ اس کے منہ سے اس کی بلی کو نکالتا پھینکنے والے انداز میں اس کے پیروں کے قریب کر چکا تھا اس کی ممتا تڑپ کر جاگی اور اگلے ہی لمحے تو اسے اٹھا کر اپنے سینے میں بیچ چکی تھی

میرا بچہ آپ کو کچھ کہا تو نہیں نہ ۔شکر ہے اللہ کا آپ نے مجھے جگا دیا ورنہ یہ کتا میری معصوم سی کیٹی کو کھا جاتا وہ سے اپنے ساتھ لگائے پھر سے بولی تھی جبکہ دوسرے شخص کی آنکھوں میں ایک بار پھر سے غصہ اتر آیا

بس بہت ہوا تم بار بار اسے کتا کہہ کر اس کی توہین کر رہی ہو ایک تو یہ تمہاری اس بلی کی جان بچا کر لایا ہے اوپر سے تم اسی پر الزام لگا رہی ہو میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ میرا ٹائیگر بلیاں نہیں کھاتا

نہ ہی وہ بلیوں کی مما کو صفائیاں دینے کا پابند ہے اور بہتر ہے کہ اس طرح گھوڑے بیچ کر سونے سے پہلے ایک بار اپنی بلی کو ٹھیک سے باندھ دیا کرو تاکہ وہ کمرے سے باہر نکل کر یوں ہر جانور کے لئے کھلی تجوری بن کر نہ گھومے

کچھ پتہ نہیں ہے کہ جانور کس طرح سے پالے جاتے ہیں اور بڑی آئی میرے ٹائیگر پر الزام لگانے والی

تم تو رہنے ہی دو تمہارا یہ کتا کتنا ٹائیگر ہے مجھے بہت اچھے طریقے سے پتہ ہے وہ تو میں کھڑکی پر ہی دیکھ چکی تھی کہ کس طرح سے یہ میری بلی کو کھانے والا تھا اب یہ مت کہنا کہ تمہارا کتا بلی نہیں کھاتا یہ تو وہ والا حساب ہوگیا بھوکے کے سامنے بریانی کی پلیٹ رکھ دو اور وہ اسے کھانے کی بجائے اس کی حفاظت کرتا پھرے بلی نہیں کھاتا مائی فٹ بند کر رکھو اسے

وہ اب بھی باز نہ آئی تو اس نے اپنے کتے کو اشارہ کیا تھا جس پر وہ اس کی طرف دیکھتے ہوئے بھونکا ۔ریدم کی تو چیز نکل گئی

دیکھا دیکھا کیسے بھونک رہا ہے تمہارا کتا اور تم کہتے ہو کہ یہ بلیاں نہیں کھاتا وہ پھر جتا کر بولی

میں اب بھی یہی کہوں گا کہ یہ بلیاں نہیں کھاتا اور یہ تمہاری بلی پر نہیں بلکہ تم پر بھونک رہا ہے بلیاں نہیں کھاتا لیکن چھوٹے قد لمبے بالوں والے لڑکیوں کو چھوڑتا بھی نہیں جا ٹائیگر مٹالے اپنی بھوک

اپنے کتے کی پیٹھ سہلاتے ہوئے وہ یقینا اسی کو اپنا شکار بنانے کے لئے کہہ رہا تھا

ریدم نے اس کی بات کو سمجھنے میں زیادہ وقت نہیں لگایا تھا تبھی تو اگلے ہی لمحے وہ وہاں سے بھاگ نکلی تھی جبکہ کتا اس کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگا

اس سے پہلے ریدم نے شاید ہی کبھی اپنی زندگی میں اتنی سپیڈ سے دوڑ لگائی ہوگی جتنی وہ اس کتے کے ڈر سے لگا رہی تھی

بس پھر جس طرح وہ کھڑکی سے باہر آئی تھی اسی کھڑکی سے واپس اندر گھس کرزور سےکھڑکی بند کر چکی تھی جب کہ اس کے جاتے ہی شائزم کے چہرے پر ایک بھرپور مسکراہٹ آئی تھی اور اس کے کتے ٹائیگر نے فخریہ انداز میں اس کی طرف دیکھا

شاباش میرے بچے ایسے لوگوں کا منہ بند کرتے ہیں اب جلدی سے آ جا ایک ریس لگاتے ہیں وہ راہداری سے بھاگتے ہوئے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ گرنے لگا تو کتابھی اس کے ساتھ ساتھ بھاگنے لگا تھا

°°°°°°

ایم ریلی سوری دیشو آپی میری وجہ سے دادا جان نے آپ کو اتنا زیادہ ڈانٹا مجھے معاف کر دیں پلیز میں آئندہ کبھی بھی نہیں کروں گی مجھے نہیں چاہیے واپس ٹیڈی میں اماں کی ہر بات مانوں گی اور کھانا بھی بنانے کوشش کروں گی پلیز آپ اس طرح سے مت روئے وہ اس کے پاس بیٹھی اس کے آنسو صاف کر رہی تھی

وہ جب سے کمرے میں آئی تھی دادا جان کے ڈانٹ کھانے کی وجہ سے روئے جارہی تھی وہ اتنی کمزور تو نہیں تھی کہ اتنی سی بات پر رونا دھونا مچاتی لیکن افسوس اس بات کا تھا کہ آج پھر اسے خداش کے سامنے ڈی گریڈ کیا گیا تھا اس پر اس کی اہمیت بتائی گئی تھی اسے بتایا گیا تھا

کہ وہ اس خاندان کا کتنا اہم فرد ہے ذرا سی بات کو اتنا کھینچ کر غلطی اس نے بھی کی تھی لیکن وہ اس کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتا تھا اسے ہرگز یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ اس کے بنائے گئے کھانے کے بارے میں الٹی سیدھی بکواس کرتا پھر شاید وہ یہ سب حرم کو بہلانے کے لیے بول رہا تھا لیکن نشانہ تو اس کی ذات بن رہی تھی

اور یہ بات اسے ہرگز پسند نہ تھی کہ خداش کی وجہ سے آج پھر اسے ڈانٹ کھانے پڑی تھی لیکن ان سب میں حرم کا کیا قصور تھا جو کب سے اسے منائے جا رہی تھی

حرم تم پریشان مت ہو میرا بچہ اور خدا کے لئے جب تک تم 18 سال کی نہیں ہو جاتی ان سب کاموں میں مت پرنا کیونکہ ایک بار اگر تم نے ان کاموں میں ہاتھ ڈال دیا تو تمہاری جان کبھی نہیں چھوٹنے والی

یہ چند دن جو ملے ہیں نہ عیاشی کرو وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے ہلکی پھلکی ہوگئی تھی جبکہ حرم بھی پر سکون تھی لیکن دیشم نے یہ ضرور سوچ لیا تھا کہ وہ اس کے ٹیڈی کے لئے کچھ نہ کچھ ضرور کرے گی

کیونکہ اس کے بنا وہ کافی مشکل سے رہ رہی تھی ۔اور خداش کی اس بات سے تو وہ بھی سو پرسنٹ ایگری کرتی تھی کہ وہ سچ میں اس گھر کی شہزادی تھی اس کی ہر خواہش پوری ہونی چاہیے تھی

°°°°°°

اس نے اس کے لئے بہت ساری شاپنگ کی تھی خاص کر چوڑیاں پازیب اس کی شاپنگ میں سب سے زیادہ شامل ہوئی تھی

کیونکہ اس کا کہنا تھا کہ یہ جنھکار ایک سہاگن ہونے کی نشانی ہے جو اسے بے حد پسند ہے اگر وہ کمرے کے باہر نہیں پہن سکتی تو اسے اعتراض نہیں لیکن کمرے کے اندر وہ ہمیشہ اس کے ہاتھوں اور پیروں کو اپنے نام کی چھنکار میں قید دیکھنا چاہتا ہے

ان سب چیزوں کے ساتھ ساتھ وہ کچھ بچوں کی چیزیں بھی لے رہا تھا وہ تھوڑی دیر کے بعد بس اتنا ہی کہتا کہ یہ ہانی کو پسند آئے گا اب ہانی کون تھی وہ نہیں جانتی تھی لیکن اسے دیکھ کر یہ لگ رہا تھا کہ وہ بچوں کی شاپنگ میں کافی ایکسپریس ہے

اسے یہ سب دیکھتے ہوئے مزا آ رہا تھا کیونکہ وہ زندگی میں پہلی بار کسی آدمی کو کسی چھوٹے بچے کے لیے شاپنگ کرتے دیکھ رہی تھی جب اس کے دماغ میں اچانک خیال آیا

ہو سکتا ہے کہ وہ اس کی بیٹی ہو لیکن اگر ایسا کچھ ہوتا تو کیا تو اب تک اسے پتا نہ چل چکا ہوتا ۔وہ ایک طرف سے مطمئن ہو کر اسے دیکھے جا رہی تھی پھر اس کی گفتگو میں ایک اور نام شامل ہوا ہے جنت

تمہیں جو اپنے لیے پسند آ رہا ہے ویسی چیزیں جنت کے لئے بھی لو اب جنت کون تھی یہ سوال اسے بری طرح سے تنگ کر رہا تھا اس۔کے دماغ میں آیا تھوڑی دیر پہلے والا خیال اسے آلجھانے لگا تھا کہ جنت اس کی بیوی ہو سکتی تھی اور یہ ہانی اس کی بیٹی

ہو سکتا تھا اس نے گھر والوں سے چھپ کر کہیں شادی کر رکھی ہو اور اکثر غائب بھی تو رہتا تھا وہ گھر آتا ہی نہیں تھا کتنے کتنے دن گزر جاتے تھے تو ممکن تھا کہ وہ اپنی پہلی بیوی کے ساتھ رہتا ہو

اس کا بہت بار دل چاہا کہ وہ اس سے پوچھے کہ کون ہے یہ جنت اور ہانی لیکن پھر اپنی اوقات یاد آگئی وہ ایک ونی تھی اس سے کچھ بھی پوچھنے کا حق وہ رکھتی کہاں تھی

وہ اسے عزت دے رہا تھا اسے اپنے ساتھ لے کر چل رہا تھا اسے اپنی بیوی کہہ رہا تھا کیا اتنا کم تھا کہ وہ اب مزید اس کی زندگی میں انٹرفئیر کرکے اپنا سکون تباہ کرتی

بہت کوشش اور حسرت کے باوجود وہ اس سے کچھ نہیں پوچھ پائی تھی

°°°°°°

تم ناراض ہو ہم سے وہ آج ان کے کمرے میں نہ آیا تو دادا جان خود ہی اس کے کمرے میں چلے آئے وہ بیڈ پر لیٹا ہوا تھا اچھا خاصاپریشان نظر آ رہا تھا ان کو دیکھتے ہی تکیہ ہاتھ میں مضبوطی سے قید کرتا اپنے نیچے کرتے رکھتے اس پر اپنا سر رکھ کے وہ بھرپور ناراضگی کا اظہار کر چکا تھا

خداش ہم اس کی ہر بات قبول کرتے ہیں اس کی ہر بات مانتے ہیں لیکن اس کی بد تمیزیاں ہم سے نہیں دیکھی جاتی یہ ہم برداشت نہیں کریں گے اسے سمجھنا ہوگا

وہ معصوم بچی نہیں ہے جسے ایک ایک بات سمجھانی پڑے کل کو وہ اس نسل کی امین ہے تم کیا چاہتے ہو کہ ہم ایک ایسی لڑکی کے نام اپنی ساری نسل کر دی جسے بات کرنے کی تمیز نہیں آج تک ہمارے خاندان میں کسی لڑکی نے اپنے ہونے والے شوہر سے اس طرح بات نہیں کی

دادا جان وہ صرف ایک مذاق تھا آپ کیوں چھوٹے سے مذاق کو لے کر اتنا زیادہ ری ایکٹ کیوں کر گئے ہم صرف مستی کر رہے تھے میں صرف اسے تنگ کرنے کے لئے بول رہا تھا کہ کتنے دن ہو گئے اس سے ٹھیک سے مجھ سے بات تک نہیں کی تھی اسی لیے اسے تنگ کر رہا تھا کہ وہ مجھ سے بات کرے

اورآپ نے آ کر وہاں اسے اتنا ڈانٹ دیا ۔

یہ مذاق تھا ہم سمجھتے ہیں لیکن ایک مذاق کو لے کر اس کا اس طرح سے ری ایکشن ہمیں وہ صحیح نہیں لگا خداش اور ہم نے بہو سے بھی بات کی ہے کہ وہ اسے تربیت دے تہذیب سکھائےبڑوں سے بات کرنے کے لیے لہجے کی درستگی سکھائے

کہتے ہیں لڑکیاں پڑھ لکھ کر اپنی بہتر سمجھتی ہیں لیکن ہمیں تو اس کی پڑھائی میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی یہ تو تمہاری ضد کی وجہ سے ہم نے اسے یونیورسٹی جانے دیا اگر تم ہمیں نہ کہتے تھے تو وہ کبھی اتنی بڑی یونیورسٹی میں اعلی تعلیم نہ حاصل کر رہی ہوتی اور وہ تم سے ہی اس لہجے میں بات کرتی ہے

ٹھیک ہے دادا جان اب چھوڑیں اس بات کو اور اسے کھانا کھانے کے لئے نیچے بلائے میرا نہیں خیال کے وہ اس واقعے کے بعد نیچے آئی ہے اسے اب تک اس کی فکر کھائے جا رہی تھی دادا جان مسکرا کر ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اسے بھی باہر آنے کا اشارہ کرنے لگے

کیونکہ اس کے چلے جانے کے بعد وہ بھی کمرے سے باہر نہیں نکلا تھا

°°°°°°

کر آئی شاپنگ مہارانی ملازم سارا سامان وہی باہر صوفے کے قریب رکھتا واپس جا چکا تھا

وہ زریام کے ساتھ ہی اندر داخل ہوتی ان کے پاس آئی تھی تاکہ وہ سامان کمرے میں لے جا سکے ۔جبکہ زریام سیدھا دادا جان کے کمرے میں چلا گیا تھا

دیکھو تو محترمہ نے کتنا خرچہ کروایا ہے ۔وہ بہت سے بچوں کے کھلونے نکالتے ہوئے حیرانگی سے دیکھنے لگیں پھر مسکرا کر تانیہ کو آواز دی

تانی یہ دیکھو ماشاءاللہ ہانی کے لئے کتنی خوبصورت ڈریس لے کر آیا ہے زریام۔ جنت کے لیے کچھ نہیں لایا وہ سامان کو چیک کرتے ہوئے کہنے لگیں اس طرح ہانی اور جنت کا نام لینے کا مطلب یہی تھا کہ وہ بھی اس کے بیوی بچوں کو جانتی تھی

وہ بنا کچھ بولے سیدھی کمرے کی طرف چلی گئی تھی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اگر اس کی سوچ ٹھیک تھی تو پھر تانیہ کی شادی ذریام سے کیسے ہو سکتی تھی وہ سوچ سوچ کر اس کا دماغ گھوم رہا تھا

وہ اس سوچ سے چھٹکارا چاہتی بیڈ پر لیٹ گئی تھی نہ جانے کب اسے نیند آئی اور وہ کب نیند کی آغوش میں چلی گئی اسے پتا نہ چلا

ہوش اسے تب آیا جب اپنی گردن پر کسی کے گرم ہونٹوں کا لمس محسوس کیا

اس نے آنکھیں نہیں کھولیں تھی بس خاموشی سے پرفیوم اور سگریٹ کی ملی جلی مہک کو پہچانتی اپنا آپ اسے سونپ چکی تھی

وہ اس کے اوپر جھکا اس کے چہرے پر جابجا اپنی محبت کی مہر ثبت کرتا اس کو اپنی محبت کی بارش میں بھی بھگونے لگا

عمایہ کو لگا کہ شاید وہ کسی اور دنیا میں ہے اس نے اپنی گردن پر زریام کے لبوں کا لمس محسوس کیا جب زریام نےاپنے ہاتھ کا انگوٹھا اس کے لبوں پر پھیرتے ہوئے اس کےہونٹوں پہ اپنے لب رکھ دئیے۔

اس نے عمایہ کا دوپٹہ اتار کر دور پھینکا۔اور ہونٹوں کو اس کے کان کے قریب کیا

لگتا ہے بہت زیادہ تھک گئی ہو میرے آنے سے پہلے ہی سونے کی تیاری پکڑ لی لیکن آئندہ ایک بات یاد رکھنا جب تک میں نہ سو جاؤں تب تک تم نہیں سو سکتی

وہ اسے پوری طرح خود میں قید کرتے ہوئے اس کے حسن کو اپنی پناہوں میں لیے پورے استحقاق کے ساتھ اس کے نازک وجود خود بھینچ چکا تھا

°°°°°°

یہ منظر بالکل پچھلی رات جیسا ہی تھا وہ اپنی گاڑی کچھ فاصلے پر پیچھے روک کر اندھیرے کی طرف قدم اٹھانے لگا ۔اور پوڈر کی مدد سے واچ مین کو کچھ گھنٹوں کے لیے بے ہوش کر دیا پھر اسی طرح احتیاط سے حویلی کے اندر داخل ہوتے وقت درخت کی طرف آیا جس پر چڑھ کر اس نے بلکنی میں چھلانگ لگائی

اور پھر اوپر کی جانب گرل پکڑ کے ایک بار پھر سے اس کے کمرے میں آ گیا تھا

وہ آہستہ آہستہ اس کے بیڈ کے قریب آتا وہی چھوٹے سٹول کو کھینچ کر اس کے بالکل قریب بیٹھ کراسے دیکھنے لگا اس کے بال اس کے حسین چہرے کو پوری طرح سے چھپائے ہوئے تھے

یشام نے بڑی نرمی سے اس کے بالوں کو اس کے پر نور روشن چہرے سے ہٹایا لیکن احتیاط کے ساتھ کہیں اس کی آنکھ کھل جائے وہ دوسری بار اپنے کانوں میں اس کی چیخیں سن کر وہ اپنے کانوں کا بیڑہ غرق کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا

اس دن وہ کتنی زیادہ خوفزدہ ہوگئی تھی اس لیے اب اس نے کوشش کی تھی کہ وہ اسے خوفزدہ نہ کرے وہ بے حد نرمی سے اس کے چہرے پر اپنی انگلیوں کےپوروں کا لمس چھوڑ رہا تھا وہ کافی گہری نیند میں تھی

اس لمس کو محسوس کرنے کے باوجود بھی وہ اٹھی نہیں تھی اور نہ ہی کسمسائی وہ بس ایسے ہی آنکھیں بند کئے دنیا جہان سے بیگانہ رہی ۔

اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے اس نے خود پر پابندی لگائی تھی لیکن اس کا نوخیز حسن اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا وہ بندہ بشر تھا خود پر کب تک ضبط کرتا سامنے کوئی غیر نہیں اس کی محبوب ترین ہستی تھی

اس کے دل کا قرار تھی اس کا سکون تھی وہ خود پر پہرے بٹھا تا آخر کار بہکنے پر مجبور ہوگیا اس نے ذرا سا جھک کر اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھنے چاہے

لیکن نہیں وہ ایک مسلمان ماں کا بیٹا تھاوہ کیسے یہ بات بھول گیا ۔کیا اس معصوم سی لڑکی کے ہوش سے بیگانہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے اپنی ماں کے دین پر سوال اٹھانے کا حق کسی کو دینا چاہیے تھا

نہیں اسے کوئی حق نہیں تھا اپنے ماں کے نام کو خراب کرنے کا وہ ماں جو خود کو مسلمان ثابت کرتے کرتے مر گئی کیوں اس کو اگلے جہان میں شرمندہ کرنے لگا تھا کیوں . . نہیں ایسا نہیں کرسکتا تھا وہ اٹھ کر وہیں سے پلٹ گیا تھا حرم اب تک ہوش حواس کی دنیا سے بیگانہ پڑی تھی

اس کا اتنا جلدی واپس جانے کا ارادہ نہیں تھا وہ تو نہ جانے کتنی دیر اسے دیکھنا چاہتا تھا لیکن نہیں وہ یہاں نہیں رک سکتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر یہاں رکے گا تو اس کا دل میں ضرور اسے کچھ غلط کرنے پر اکسائے گا اور وہ ایسا نہیں کر سکتا تھا

وہ بہک نہیں سکتا تھا حرم کو چھونے کے لئے اسے محسوس کرنے کے لئے اس کے پاس جانے کے لئے وہ اس کے حق اپنے نام محفوظ کرنا چاہتا تھا اور وہ جلد ہی فیصلہ کرنا چاہتا تھ