Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 20)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 20)
Junoniyat By Areej Shah
یار ماہم تو نے نوٹ کیا ہے یشام سر ہم سب کی بےعزتی کرتے ہیں
لیکن اس حرم کو کچھ بھی نہیں کہتے اور میں نے دیکھا ہے وہ اکثر حرم کو دیکھتے رہتے ہیں چوری چوری سب سے نظر بچا کے زاینہ نے ماہم سے کہا
نہیں مجھے تو ایسا نہیں لگتا سر بھلا ایسا کیسے کر سکتے ہیں تم بھی بالکل پاگل ہو فضول باتیں کر رہی ہو یہ لڑکی حرم تو عقل سے بالکل پیدل ہے ماہم نے اس کی بات کی نفی کی تھی
تمہیں ایسا تو نہیں لگتا ہے لیکن مجھے تو یہ لڑکی بہت چالاک لگتی ہے اور مجھے یہ بھی لگتا ہے کہ ہم سب سے چھپ کرنا اس نے سر کے ساتھ چکر چلا رکھا ہے
تم مانو یا نہ مانو سر اسے کیوں کچھ نہیں کہتے اس دن جب ہمارا ٹیسٹ ہوا تھا تب اس کا سارا ٹیسٹ غلط تھا لیکن سر نے اسے کچھ نہیں کہا اور ہم سب کو ڈانٹا
ٹھیک ہے بھئی میں تیری بات کو سمجھ گئی سر سب کے سامنےاسے شرمندہ نہیں کرنا چاہتے ہوں گے
کیونکہ وہ بہت لائق ہے اور ٹوپر رہی ہے بالکل نازمین کی طرح تمہیں یاد ہے کچھ دن پہلے نازمین کا سارا ٹیسٹ خراب ہوا تھا
لیکن سر نے اسے کچھ نہیں کہا تھا بلکہ بعد میں آفس میں بلا کر اسے ڈانٹا تھا اور سمجھایا تھا کہ وہ سب کے سامنے اسے انسلٹ نہیں کرنا چاہتے اسی لئے اسے الگ سے بلا کر یہ بات سمجھا رہے ہیں
بالکل نازمین کی طرح وہ بھی بہت زیادہ لائق ہے اور اسے بھی سب کے سامنے شرمندہ نہیں کرنا چاہتے ہوں گے تم ذرا سی بات کو اتنا زیادہ کیوں سر پر سوار کر لیتی ہو ماہم نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا جس پر وہ بنا کچھ بولے مسکرا دی تھی جیسے اس کی بات ایسے سمجھ آ گئی ہو
لیکن وہ تو اپنی ہی سوچوں میں گم تھی وہ گہری نظروں سےحرم کو دیکھ رہی تھی وہ کافی دنوں سے حرم پر نظر رکھے ہوئے تھی کلاس میں وہ کیا کرتی تھی کس طرح سے رہتی تھی وہ ایک ایک چیز کو نوٹ کر رہی تھی
کیونکہ جو چیز اس نے نوٹ کی تھی اسے نظر انداز نہیں کر سکتی تھی اس میں کچھ تو ایسا خاص تھا کہ سر یشام اس کی طرف کچھ زیادہ ہی نظر کرم کر رہے تھے
°°°°°°
وہ کلاس روم میں آیا تو سب کلاس خاموش ہو چکی تھی وہ سب کے سلام کا جواب دیتے ہوئے اپنے کام میں مصروف ہو گیا دو تین بار اس نے نوٹ کیا کہ زائینہ اسے بار بار دیکھ رہی ہے
کیا بات ہے زائینہ آپ کو مجھ سے کچھ کہنا ہے تو کہیں وہ جو کب سے اس کی نظروں سے ڈسٹرب ہو رہا تھا آخر اسے مخاطب کر بیٹھا
وہ جو اپنی ہی سوچوں میں مصروف تھی اس کے پکارنے پر پریشانی سے ادھر ادھر دیکھ کر نفی میں سر ہلانے لگی
نہیں نہیں تو سر کچھ بھی نہیں میں تو بس ایسے ہی وہ جلدی سے اپنی صفائی دینے کی کوشش کرنے لگی تھی جب اچانک ہی اس نے کچھ بولنے سے انکار کر دیا اور مارکر ٹیبل پر پھینک دیا
آئیں اس کوسچن کی سمری سب سٹوڈنٹس کو سمجھائیں وہ حکم دیتا ہوا اسے پریشان کر گیا تھا
وہ جو پتہ نہیں اپنی سوچوں میں کہاں سے کہاں جا چکی تھی اس کی بات پر پریشانی سے آگے آتے ہوئے مارکر ٹیبل سے اٹھانے لگی
لیکن اب اسے مارکر سے لکھنا کیا ہے یہ تو اسے کچھ پتہ ہی نہیں تھا وہ کتنی ہی دیر وہاں کھڑی رہی جب وہ نفی میں سر ہلاتا ہوا حرم کو بلا چکا تھا
آئیں مس حرم آپ یہ سمجھائیں کوسچن جس طرح سے میں نے سمجھایا ہے بالکل اسی طرح اس نے حرم کو کہا تو وہ فورا اٹھ کر آئی اور جلدی جلدی مارکر سے سمری سامنے بورڈ پر لکھنے لگی
اس کے انداز میں جوش تھا یقیناً اس چیپٹر کووہ بہت اچھے طریقے سے سمجھ چکی تھی
ہو گیا سر اس نے خوشی سے بتایا شایداسے امید تھی کہ وہ اس کے کام سے خوش ہو گا لیکن اس نے اسے واپس جانے کے لیے کہہ دیا تو وہ مایوس ہو گئی
جی تو مس زائینہ آپ کو کچھ سمجھ میں آیا یا نہیں۔۔۔؟ یقیناً نہیں آیا ہوگا کیونکہ خود سے لائق یا خود سے بہتر لوگوں سے آپ سمجھنا اپنی توہین سمجھتی ہیں
لیکن فی الحال میری کلاس میں آپ کو ان سب چیزوں کا خیال رکھنا ہوگا فضول باتوں پر دھیان دینے سے بہتر ہے کہ اپنی تعلیم پردھیان دے
اگر آپ نے آگے بڑھنا ہے تو۔نازمین یہاں آئیں اور اس کوسچن کو ایک بار پھر سے اپنے انداز میں سمجھائیں کہ اگر کسی کو سمجھ نہیں آئی تو اسے بھی آجائے
اس پر اس نے نازمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تو وہ فورا اٹھتے ہوئے جلدی جلدی بورڈ پر سمری لکھنے لگی تھی
جبکہ اب زائینہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ شرمندگی سے کہا منہ چھپائے ۔
بے شک حرم لائق تھی اور شاید یہی وجہ تھی کہ کلاس میں بھی اسے بہت اہمیت ملتی تھی ۔
اور وہ پتہ نہیں کیا کیا سوچتی رہی نہ جانے کیوں لگ رہا تھا کہ سر کو اس کی ساری باتیں بھی پتہ چل گئی تھی
کہیں صبح جب یہ ساری باتیں کر رہی تھی سر نے سن تو نہیں دیا اس وقت تو کلاس میں صرف ماہم اور وہ ہی تھی
کہیں ماہم نے تو نہیں بتا دیا لیکن وہ تو سب سے بڑا ڈرتی تھی ان کے سامنے اس کی آواز بھی نہیں نکلتی تھی
تو پھر سر کو کیسے پتا چلا تھا ۔اس کی اس سوچ کا سر کا انداز اسے بہت کچھ سمجھا گیا تھا وہ سوچے جا رہی تھی
جب اچانک ہی اس کی نظر اچانک سامنے سی سی ٹی وی کیمرے پر پڑی تھی اس کے ساتھ چھوٹا سا سپیکر بھی لگا ہوا تھا مطلب اس کلاس میں ہونے والی ہر گفتگو کو سر بہت اچھے طریقے سے جانتے تھے
°°°°°°
وہ اسے لینے کے لئے آیا تو وہ فوراً اپنا نقاب سیٹ کرتی باہر نکلی تھی ۔
وہ گاڑی کا پچھلا ڈور کھولتی حرم کو نہ دیکھ کر سمجھ گئی تھی کہ آج بھی وہ اسے پہلے لینے کے لیے آیا ہے
مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی تھی اگر آپ مصروف نہیں ہیں تو کیا ہم بات کر سکتے ہیں اس سے پہلے کہ وہ اپنا فون اٹھاتا وہ بولنے لگی
اگر بات زیادہ ضروری نہیں ہے تو ہم گھر چل کر بھی بات کر سکتے ہیں ۔اور تم کب سے مجھے منہ لگانے لگی تمہیں تو مجھ سے بات کرنا پسند ہی نہیں ہے نا ۔وہ اسے جواب دیتا گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا
نہیں ایسی تو کوئی بات نہیں ہے وہ شاید آج اسے شرمندہ کرنا چاہتا تھا
اچھا ایسی بات نہیں ہے خیر چلو بتاؤ کیا بات کرنا چاہتی ہو وہ استہزائیہ انداز میں مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا ۔
شاید آپ کو پتا نہیں ہوگا کہ گھر میں میری شادی کے بارے میں بات چل رہی ہے نہیں نہیں مجھے شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہے اس کے پیچھے مڑ کر دیکھنے پر وہ فوراً بولی تو خداش کے لبوں پر گہری مسکراہٹ آگئی ۔
تو پھر کیا مسئلہ ہے بتاؤ مجھے وہ ریلکس سا اس سے پوچھنے لگا تھا ۔اسے اس سے شادی پر کوئی اعتراض نہیں تھا یہ بات خداش کے لیے بہت حیرت انگیز تھی لیکن کافی خوشگوار بھی تھی
مسئلہ یہ ہے کہ بابا پیپرز سے پہلے میرا نکاح کرنا چاہتے ہیں اور پیپرز کے فورا بعد رخصتی
ٹھیک ہے نکاح کر دیں مجھے نکاح پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن میں فی الحال رخصتی نہیں چاہتی
مطلب کم ازکم تب تک تو نہیں جب تک سامیہ اور دیدم کی شادی نہیں ہو جاتیں وہ دونوں عمر میں مجھ سے بڑی ہیں۔ ٹھیک ہے میں سمجھتی ہوں زیادہ فرق نہیں ہے لیکن پھر بھی لوگ ۔۔۔۔
اپنی بات کرو دیشم لوگ کیا کہیں گے کیا سوچیں گے یہ سب سوچنا تمہارا کام نہیں ہے تم بس یہ بتاؤ کہ تم کیا چاہتی ہو وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
میں کچھ نہیں چاہتی بس میں رخصتی نہیں چاہتی نکاح کر دے لیکن رخصتی نہ کرے
جب تک میں وکیل نہیں بن جاتی اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہو جاتی ۔تب تک میں شادی نہیں کرنا چاہتی میں جانتی ہوں کوئی مجھے پڑھنے نہیں دیتا آگے جا کر میری زندگی بہت ٹپیکل ہو جائیں گی بالکل ویسے ہی جیسے ہر لڑکی کی ہوتی ہے
گھر سسرال شوہر انہیں سب چیزوں میں بندہ پھنس جاتا ہے میں اپنا خواب پورا کرنا چاہتی ہوں
تمہیں تمہارا خواب پورا کرنے دیا جائے گا کوئی تمہارے راستے میں نہیں آئے گا تم پر کسی طرح کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی بالکل بے فکر رہو وہ ایک بار پھر سے اس کی بات کاٹ کر بولا تھا
اب کی بار دیشم کو اس کے انداز پر غصہ آیا تھا
وہ تو جیسے بہت اچھے طریقے سے جانتا تھا اس کی سسرال کو
یاشاید اسے لگتا تھا کہ وہاں بھی ویسا ہوگا جیسا اس گھر میں ہوتا ہے
لیکن ضروری نہیں کہ اگر خداش کاظمی کو اس گھر میں اہمیت ملتی ہے تو اس کے سسرال والے بھی اس کے حکم کے غلام ہوں گے
اس بار وہ آگے سے کچھ نہیں بولی تھی بس سیٹ کے ساتھ ٹیک لگا کر سوچنے لگ گئی ۔یہ اس کام میں اس کی کوئی مدد نہیں کرنے والا تھا مطلب صاف تھا کہ آگے اس کے لیے کافی ساری مشکلیں پیدا ہونے والی تھی
°°°°°
وہ باہر کی طرف جا رہا تھا جب حرم کو بیٹھے دیکھتا اگر وہ آج صبح کلاس کی لڑکیوں کی سوچ کے بارے میں نہ جانتا تو یقینا اس کے پاس ضرور جاتا ہے
لیکن نہیں وہ اپنی وجہ سے ایک معصوم لڑکی کے کردار پر داغ نہیں لگنے دے سکتا تھا
وہ وہیں سے آگے کی طرف بڑھ گیا تھا آج سمری اس نے بہت اچھے طریقے سے سمجھائی تھی اس کاانداز بہت اچھا لگا تھا اس نے ایک چیز نوٹ کی تھی وہ اس کی نقل کرتی تھی
جیسے مین پوائنٹ سمجھاتے ہوئے اس نے بالکل اسی کے انداز میں مارکر کو بند کیا تھا اور پھر مارکر کو الٹا کر کے اس کے انداز میں بورڈ پر ایک ایک لفظ پر غور کرتی
اس کے انداز میں ہی لڑکیوں سے پوچھ رہی تھی کہ کیا نہیں سمجھ آیا کہیں کوئی مشکل کہیں کوئی سوال
وہ اسے بہت غور سے دیکھتی تھی سمجھتی تھی اور یہی تو چیزیں تھی جو یشام کو بہت زیادہ پسند تھی اگر وہ اس کے لئے دیوانہ تھا تو وہ بھی تو اسے نوٹ کرتی تھی
اپنا کام ختم کرنے کے بعد وہ کتنی ہی جوش سے اسے دیکھ رہی تھی یقیناً چاہتی تھی کہ وہ اس کی تعریف کرے لیکن وہ نظر انداز کرتا نازمین کو اٹھاچکا تھا
جس پر وہ مایوس ہو گئی تھی ۔لیکن اس کی مایوسی کو بھی اس نے نظر انداز کر دیا تھا اس کے صبح والےچہرے کو یاد کرتا وہ مسکرا دیا جب اس کا فون بجنے لگا
اور اپنے موبائل پر آنے والے نمبر کو دیکھ کر وہ تیزی سے ایک سائیڈ ہوا تھا یہ وہ نمبر تھا جس کا انتظار بہت دنوں سے کر رہا تھا آخر آج اسے اس نمبر سے فون آ ہی گیا
ہاں راشید بولو کیا تمہیں کچھ پتہ چلا وہ بہت بےقراری سے پوچھ رہا تھا یہ بات شاید دوسری طرف موجود آدمی نے بھی محسوس کر لی تھی وہ جلدی جلدی اسے ساری انفارمیشن دینے لگا تھا
کیا نام بتایا ایک بار پھر سے بتانا اس نے اس آدمی کے بات سنتے ہوئے کہا
خداش کاظمی۔۔۔۔۔
یہ نام تو کہیں سنا لگ رہا ہے۔۔ہاں اس نے پہلے یہ نام سنا تھا لیکن کہاں۔۔۔؟ فی الحال اس کے ذہن میں نہیں آ رہا تھا
خیر جو بھی تھا اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ اسے کافی بڑی انفارمیشن مل چکی تھی
ٹھیک ہے میں دوبارہ فون کروں گا فون بند کرتے ہوئےوہ کالج گیٹ سے باہر نکلا تھا جہاں حرم اپنی گاڑی میں بیٹھ رہی تھی ایک لمحے کے لئے اس کے ذہن میں یہ نام خداش کاظمی دوبارہ آیا
اور پھر اتنے سالوں سے بندھی گرہیں خود بخود کھلنے لگی تھی ۔
°°°°°
وہ واپس آیا تو ماریہ نامی وہ لڑکی بھی اس کے ساتھ تھی اس کے بازو کو اپنے گھیرے میں لیے ہوئے وہ اس کے بلکل ساتھ لگی تھی وہ کافی غور سے دونوں کو دیکھ رہے تھے
کیا بات ہے زکی تمہاری گرل فرینڈ نے تو ایک ہی دن میں بندہ ہی بدل لیا اور یہ دیکھنے میں تو کافی شریف قسم کا بندہ لگ رہا تھا
اب دیکھو ایک ہی دن میں اس نے لڑکی پٹا لی وہ تو مجھے پہلے سے ہی پتا تھا اسی لیے تو میں نے سیدھا اسی کو ہی یہ چیلنج دیا تھا
لیکن آج کل کے لوگوں کا کوئی بھروسہ نہیں کتنے ہوشیار لڑکے ہیں آج کے
وہ ان دونوں پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے اسے کہہ رہی تھی جو نہ جانے کب سے نم آنکھوں سے اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا
تمہیں دکھ ہو رہا ہے ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے وہ اس سے پوچھنے لگی
جواب میں زکی کچھ نہیں بولا تھا بس چہرہ پھیر گیا
میں بھی کتنے بے وقوفانہ سوال پوچھتی ہوں نا ظاہر سی بات ہے تمہیں برا لگ رہا ہو گا لیکن ایک بات سوچو اگر یہ لڑکی ایک ہی دن میں کسی اور کی ہو سکتی ہے تو تمہارے لیے کتنی اچھی تھی
اچھا ہی ہوا وقت رہتے تم اس سے اپنی جان چھڑا چکے ہوایسے لوگوں کے لیے آنسو نہیں بہاتے دفع کرو بھول جاؤ
اب جب یہ لڑکا اسے ڈیچ کرے گا نہ تب اسے احساس ہوگا کہ اس نے تمہارا دل دکھا کر کتنی بڑی غلطی کی ہے
تمہیں لگتا ہے وہ لڑکا اسے چھوڑے گا مجھے تو نہیں لگتا اتنی خوبصورت لڑکی کا ساتھ کون چھوڑنا چاہے گا میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ لڑکا اب تک اس لڑکی کے پیار میں پاگل ہو چکا ہوگا
مجھے تو نہیں لگتا یہ حورپری صرف تم ہی حور پری لگتی ہے مجھے یقین ہے کہ یہ لڑکا اس سے نہیں پٹنے والا یار اتنی بھی خوبصورت نہیں ہے اس نے شاید لڑکیوں کی نگاہوں سے دیکھ کر کہا تھا
ہے ۔۔۔زکی کی آواز جس نے مڑ کر اسے دیکھا ۔
جس پر اس نے اسے غصے سے بھرپور نگاہوں سے اسےدیکھا تھا پھر جیسے جان چھڑانے والے انداز میں بولی
ہاں تو ہوگی اپنے گھرمیں میں کیا اب اس کی نظر اتارنے بیٹھ جاؤں ۔
اور تمہیں کیوں اتنی خوبصورت لگ رہی ہیں مت بھولو اس نے تمہیں دھوکا دیا ہے اور ہم اس سے بدلہ لینے والے ہیں وہ لڑکا ہر قیمت پر اسے چھوڑے گا
بس بات ختم
ابھی وہ کچھ بول رہا تھا کہ چاچا بھی ان کے پاس ہی آ کر بیٹھ گئے یہ لڑکا زکی انہیں بہت زیادہ پسند آیا تھا
بیچارے کے ساتھ بہت برا ہوا تھا لڑکی نے اسے دھوکہ دیا تھا اور اس کے پیارے سے دل والی مالکن نے اس لڑکے کو اپنا دوست بنا لیا تھا
ریدم کی دوست بہت کم تھی اس لیے چاچا نے بھی ان کی دوستی پر کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں کیا تھا
°°°°°
شادی ہے تو جانا تو پڑے گا ہی نہ اب بیٹا نہیں رہا اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہم بھی اس سے جڑے تعلقات کو ختم کر دے اس کی شادی میں کتنے دھوم دھام سے آئے تھے اس کے دوست
کتنی رونق آئی تھی اب صرف باقر کی دوستی نہیں تھی تانیہ کی دوستی ہے اس گھر میں ۔شاہ صاحب اور بھائی صاحب آپ اپنے کسی بزنس ٹور کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں
تو آپ کی بھی طبیعت ایسی نہیں ہے کہ آپ کو شادی پر بھیجا جا سکے ۔
تو ایسے میں میں نے اور تانیہ نے تیاری باندھ لیں ۔بیٹا تو ہمارا تھا نہ اس سے جڑے تعلق بھی ہم نے ہی نبھانے ہیں عالیہ چاچی بڑے ہی دکھی دل سے کہہ رہی تھیں ان کی باتیں امی کو بھی دکھی کررہی تھیں
عالیہ جیسی اللہ کی مرضی تھی ویسا ہی ہوا حوصلہ رکھو اب تمہارے اس طرح اداس ہونے سے تمہارا بیٹا لوٹ کر تو نہیں آئے گا
اور یہ تو باقر کا کافی اچھا دوست تھا تمہیں اس کی شادی پہ ضرور جانا چاہیے مجھے بھی خوشی ہوئی کہ تم بھی گھر سے نکل رہی ہو اچھا ہے تھوڑی گھوم پھر آؤ تمہارا بھی دل ہلکا ہو گا تھوڑا ماحول بدلو
اور پھر صرف پانچ دن کی تو بات ہے امی انہیں سمجھاتے ہوئے بول رہی تھیں ۔
سوچ رہی ہوں زاہدہ کو ساتھ لے جاتی ہوں ۔ہزار طرح کے کام ہوتے ہیں شادی والا گھر ہے آخر یہ ہاتھ بٹائے گی میری تو عمر ہے نہیں کام کرنے والی اور تانیہ کو یہ سب کچھ آتا ہی نہیں۔
میرا تو ارادہ بھی نہیں تھا جوان جہان بیٹی کو اپنے ساتھ لے کر جانے کا پھر سوچا کتنا وقت ہو گیا ہے وہ بھی گھر سے باہر نہیں نکلی بھائی کے دکھ میں ہی بیٹھی رہتی ہے
اچھا ہے وہ بھی تھوڑا باہر نکلے گی ماحول بدلے گا تو تھوڑی بہتری محسوس کرےگی
ہاں بہت اچھا فیصلہ کیا تم نے عالیہ تانیہ کو بھی ساتھ لے جاؤ اچھا ہے وہ بھی گھوم پھر آئے
اور بچیاں شادی کو کافی انجوائے کرتی ہیں اچھا ہی ہے وہ بھی تھوڑی باہر نکلے گی ۔ان کی اداسی کو دور کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی تھیں
لیکن شاید ہی عالیہ بیگم اپنی اداسی کو ختم کرنا چاہتی تھی اسی لئے بار بار اپنے بیٹے کا ذکر کئے جا رہی تھی
جو چیز انہیں بری لگ رہی تھی وہ یہ تھی کہ عالیہ آج کل بار بار جنت کے سامنے بیوہ عورتیں کے بارے میں بتاتی تھیں
جنت دو تین بار اپنے غصے کنٹرول کرتے ان سے کہہ چکی تھی کہ وہ بیوہ نہیں ہے بلکہ ان کا بیٹا پہلے ہی اسے طلاق دے چکا تھا
اور جنت کے غصے پر بات کو ٹال دیتی تھی لیکن انہیں ان کا انداز بہت برا لگتا تھا اچھا ہی تھا کہ وہ پانچ دنوں کے لیے جا رہی تھی تو یقینا پورے گھر میں ایک پرسکون ماحول بننے والا تھا جو نہ صرف جنت کے لیے بلکہ عمایہ کے لیے بھی بہت اچھا تھا۔۔
°°°°°°
