Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 100) Last Episode
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 100) Last Episode
Junoniyat By Areej Shah
اچانک حویلی میں گولی کی آواز گونجی تھی۔ریدم ایک کھچاو کے ساتھ شائزم سے جا لگی تھی۔یشام غصے سے اس کی طرف آ رہا تھا۔اس سے پہلے کے گولی اس کا سینہ چڑتی صیام نے سردار کو دھکا دیا۔
گولی سینے میں لگنے کے بجائے بازو کو چھو کر گزر گئی تھی جبکہ یشام اپنا درد بھلائے صیام کی طرف بڑھا تھا ۔خداش وقت رہتے پرویز کے ہاتھ پر ایک زوردار لات مارچکاتھا اس کی پستول دور کر گری تھی ۔
صیام۔۔۔۔صیام تو ٹھیک تو ہے نہ تجھےلگی تو نہیں ۔۔۔۔کھوتے تیرا دماغ خراب تھا یہ کیا حرکت کی ہے تونے تجھے گولی لگ جاتی تو ۔۔۔۔۔۔وہ ایک زور دار مکا اس کے منہ پر مارتے ہوئے اپنا غصہ نکالنے لگا ۔
اور اگر تجھے گولی لگ جاتی تو ۔جس طرح تجھے تیرا کھوتا پیارا ہے اسی طرح مجھے بھی میرا کھوتا پیارا ہے ۔وہ اس کے منہ پر ہلکا سا پنچ مارتا اس کا ہاتھ دیکھنے لگا جہاں سے گولی چھو کر گزری تھی نشان بالکل ہلکا سا تھا ۔
یِشام نے اگلے ہی پل سے کھینچ کر اپنے ساتھ بھینچ لیا تھا بچپن کا ساتھ تھا ۔اس پر تو وہ ٹھیک سے غصہ بھی نہیں کر تھا وہ بھی تو اسی کی طرح تھا بے آسرا بے سہارا ایک کار ایکسیڈنٹ پر اس کے ماں باپ مر گئے تھے فقط دس سال کے تھے وہ لوگ جب ان کی ملاقات ہوئی
انگلش حکومت سے بچ کر ایک چھوٹے سے ہوٹل میں چھوٹی سی عمر میں ہی برتن مانجتے ہوئے ان دونوں نے ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا تھا ایسا کیسے ممکن تھا کہ زندگی کے اس موڑ پر وہ ایک دوسرے کا ساتھ چھوڑ دیتے ۔
ان دونوں کی پہچان یہ تھی کہ وہ زندگی کے سردوگرم ایک ساتھ دیکھ چکے تھے ان دونوں کا ہی ایک دوسرے کے ساتھ ہونا ضروری تھا ان کے پاس فقط ایک رشتہ تھا دوستی کا جیسے وہ مرتے دم تک نبھانے والے تھے
پولیس کو فون کر دیا گیا تھا ۔اسی لئے پولیس دس منٹ میں ہی وہاں پہنچ آئی تھی یشام یہ کیس پولیس میں نہیں لے کر جانا چاہتا تھا بلکہ اس کا حل وہ خود چاہتا تھا ۔لیکن وہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ وہ کسی بھی طرح سے قانون اپنے ہاتھ میں لے کیونکہ یہ کام جن کا تھا انہوں نے ہی کرنا تھا ۔
سارے ثبوت اور گواہ ان کے پاس موجود تھے وہ آدمی اپنی ہر غلطی قبول کر چکا تھا لیکن ابھی تک چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ وہ انہیں معاف نہیں کرے گا ۔
ان لوگوں کی وجہ سے اس کا بیٹا مرا ہے اسے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا زندگی بھر کی بدنامی برداشت کی ہے اس نے ۔حالانکہ سچ یہ تھا کہ جس طرح سے باقی سب نے اس بات کو قبول کر لیا تھا ۔
افشین کی شادی کے معاملے میں کہیں نہ کہیں غلط وہ بھی تھے تو اسے بھی قبول کرنا تھا۔جب اسلام ہمیں بیٹی سے اجازت مانگ کر اس کی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حکم دیتا ہے تو پھر بیٹیوں کو اتنا بے مول کر کے ان سے یہ حق کیوں چھینا جاتا ہے ۔
بیشک افشین غلط تھی گھر سے بھاگ کر اپنے ماں باپ کی بدنامی کروانا کوئی فخر یہ کام نہیں لیکن اسے اس کی سزا بہت بڑی ملی تھی ۔
اس بات کا احساس بابا جان کو بہت پہلے ہی ہو گیا تھا وہ تو اسے دل سے معاف بھی کر چکے تھے اور واپس گھر بھی لانا چاہتے تھے کتنے سالوں کے بعد وہ اپنی بیٹی سے ملنے جا رہے تھے لیکن سب کچھ خراب ہوگیا جب کہ کاظمی صاحب نے بھی اپنے بیٹے کو دل سے معاف کر دیا تھا اس دشمنی کو شاید پندرہ سال پہلے ہی ختم کر دیتے ۔
یہاں تک کہ انہوں نے کنیز کو بھی قبول کر لیا تھا وہ کنیز کو بھی گھر لانا چاہتے تھے ۔اپنے پوتے کو واپس چاہتے تھے ۔اور انہوں نے بہت تلاش بھی کیا تھا ۔کنیز کی وفات کے بعد انہوں نے ایسی کوئی جگہ نہیں چھوڑی تھیں جہاں انہوں نے یاشم کو تلاش نہ کیا ہو
لیکن کبھی کبھی سب کچھ ختم نہیں ہوتا بلکہ خراب سے خراب تر ہوجاتا ہے کچھ ایسا ہی ہوا تھا ان کے ساتھ بھی ۔لیکن اب ایک نئی امید بندھ گئی تھی سب کچھ ٹھیک ہونے کی
°°°°°°
شوہر سر آپ کا تو بہت زیادہ خون بہہ رہا ہے ۔وہ پریشانی سے اس کا بازو دیکھی تھی جبکہ اپنے لیے اس کا فکر مند ہونا اسے اتنا اچھا لگا تھا کہ وہ بے اختیار ہو کر سکے کسی کے ہونے کا ہوش کیے بنا اس کی پیشانی پر اپنے لب رکھ چکا تھا ۔
حرم نے خجل سا ہو کر سب کی طرف دیکھا تھا جو چہرہ جھکائے مسکرانے میں مصروف تھے .
میرے خیال میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس چلنا چاہیے ۔دادا جان بھی اس کا بازو دیکھتے ہوئے بولے ۔
ارے نہیں دادا جان زیادہ نہیں لگا ابھی صیام بینڈج کردے گا ٹھیک ہو جائے گا اتنی زیادہ چوٹ نہیں لگی وہ سرسری سے انداز میں بولا جبکہ دادا جان اس کے منہ سے پہلی دفعہ “داداجان” لفظ سن کر حیران رہ گئے تھے ۔اس کا انداز جتنا سرسری تھا وہ اتنے ہی دیر بس اسے دیکھتے ہی رہے ۔
کوئی مجھ سے فرسٹ ایڈ باکس لا دے گا ۔صیام عمایہ کی جانب دیکھتے ہوئے بولا تو وہ ہاں میں سر ہلاتی وہاں سے بھاگ نکلی تھی ۔
پانچ منٹ میں ہی وہ اس کی بینڈج کا سارا سامان لے کر واپس آ گئی تھی صیام نے بہت احتیاط سے اس کے زخم کو صاف کیا تھا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ وہ ایک بار ڈاکٹر کو چیک ضرور کروائے جس پر اس نے سر کو خم دیتے ہوئے اس کی بات ماننے کا یقین دلایا تھا ۔
جب کہ حرم بلکل ساتھ بیٹھی ہلکی ہلکی اس کے زخم پر پھونک مار کر اس کی تکلیف کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی وہ تو بس اس کے اس قدر کی کیررنگ انداز کو جان لٹاتی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
بس دل میں ایک خواہش جاگ رہی تھی کہ اس وقت یہاں کوئی نہ ہوتا تو وہ اسے سینے میں چھپا کر کہیں قید کر لیتا ۔
حرم جان میں ٹھیک ہوں مجھے درد نہیں ہو رہا وہ بے حد پیار سے اس کے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے بولا تھا ۔
ہو رہا ہے بہت ہو رہا ہے وہ پھر سے اس کے زخم پر ہلکی ہلکی پھونک مارتے ہوئے بولی تھی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ ابھی بیٹھ کر رونا شروع کر دی ۔
ان لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مگن دے کر دادا جان نے سامنے بیٹھی اپنی چھوٹی بہو کو دیکھا تھا جو بالکل خاموش نگاہوں سے زمین کو دیکھ رہی تھیں۔
بہو تم نے ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ ان سب چیزوں میں سب سے زیادہ نقصان تمہاری ذات کو ہی پہنچا ہے لیکن سچ کا ساتھ دے کر تم نے ثابت کیا ہے ۔کہ برائی کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو اچھائی پر غالب نہیں آ سکتی ۔
تم نے عمایہ کو ڈریسنگ روم میں بھیجنے کے لیے وہ کپڑے خود وہاں رکھے تھے ۔اور تمہاری سوچ کے عین مطابق عمایہ سب کچھ سمجھ گئی تھی ۔وہاں ڈریسنگ روم میں عمایہ نے ماسک اور وہ لباس دیکھا تھا جو پرویز ان سب کاموں کے لئے استعمال کر رہا تھا ۔
عمایہ نے فوراً یہ ساری باتیں ذریام کو بتائی تھی ۔اور۔زریام نے گھر کے بڑے بیٹے ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ہر چیز کو سنبھال لیا مشکل تھا لیکن اب اللہ پاک کے فضل و کرم سے سب کچھ ٹھیک ہے
تم نے جو کھویا ہے وہ تو ہم تمہیں واپس نہیں کر سکتے ۔۔لیکن ہمارے لئے تم ہماری بیٹی ہو اور ہمیشہ رہو گی۔بہت محبت سے بول رہے تھے جبکہ بڑی مشکل سے اپنے چہرے پر مسکراہٹ لا کر انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرنے لگیں۔
جو بھی ہوا ٹھیک ہوا بابا جان میں تھک گئی تھی اس یکطرفہ رشتے کو نبھاتے نبھاتے ۔اپنے آپ کو اس گھر کا حصہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی میں نے میں ہر معاملے میں الجھتی تھی اور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ مجھے ہر معاملے میں انٹر فیر کرنا پسند تھا
بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اپنی نئی زندگی میں اس حد تک الجھی ہوئی تھی کہ سوچتی تھی کہ اگر میں کسی اور چیز میں اپنی ذات کو شامل کروں گی تو وہ ساری الجھنیں خود بخود سلجھ جائیں گی ۔
پرویز کا دوسری عورتوں کے ساتھ تعلق تھا ۔اپنے دل پر پتھر رکھ کر میں نے ان کی اس گھٹیا عادت کو قبول کرلیا ۔انہوں نے میرے بیٹے کو بھی اپنے جیسا بنایا ان کو تانی سے محبت نہیں تھی ۔کیونکہ وہ بھی بڑے بھائی کی طرح ایک اور بیٹا چاہتے تھے جو اس جائیداد کا حصہ دار بن سکے ۔
میں انہیں دوسری دفعہ بیٹا نہ دے سکی۔تو اس بند کمرے میں دن رات میں نے اپنے شوہر کی دوسری شادی کی خواہش سنی تھی ۔یہ سب کچھ آج سے نہیں چل رہا تھا یہ سب کچھ کہیں سالوں سے چل رہا تھا شادی کے شروع کے چند سال انہیں سمجھنے میں گزر گئے اور جتنا سمجھا اس آدمی نو اسے ایک پہیلی ہی پایا ۔
میں تھک چکی تھیں۔ یہ سب کچھ کرتے کرتے میری بس یہی ایک خواہش تھی کہ میری تانی اسی گھر کی بہو بن جائے لیکن بیٹیوں کے نصیب کا فیصلہ ماں باپ نہیں کر سکتے میں خوش ہوں جو فیصلہ آپ نے تانی کے لئے کیا ۔
میں ایک انسان کی گناہگار ہوں اور وہ جنت ہے میں اس کے ساتھ بہت بد سلوکی کی اس کے پیچھے کی وجہ کہیں نہ کہیں بیٹا تھا جسے میں نے کھویا تھا ۔
جنت مجھے بتاتی تھی کہ باقراسے مارتا ہے اس کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے ۔اپنی بیوی ہوتے ہوئے وہ باہر کی عورتوں سے میل ملاقات رکھتا ہے ۔۔پرویز جنت کی جائیداد کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے وہ طلاق جیسے چکروں میں پڑھنا ہی نہیں چاہتے تھے
میں خود ڈرتی تھی کیونکہ پرویز نے مجھے کہا تھا کہ اندر جنت کا گھر ٹوٹا تو میرا گھر بھی ٹوٹ جائے گا میں جنت کو سمجھاتی تھی ۔کہ اپنا گھر بچانا اس کے اپنے بس میں ہے اگر باقر خود نشے کی حالت میں ایسی حرکت نہ کرتا تو یقیناً جنت بھی میرے جیسی زندگی گزار رہی ہوتی لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا
اور الحمدللہ آج میں پرسکون ہو آپ لوگوں سے معافی مانگتی ہوں اس شخص کے ساتھ کے لیے میں نے بہت کچھ کیا ۔اپنے بچوں کے خوشحال مستقبل کے لیے میں بھی بے بس تھی ۔
اتنے سالوں سے میں بھی ویسی زندگی گزار رہی تھیں تو یقینا ہمارے ملک میں ستر فیصد عورتیں گزار رہیں ہیں میں جانتی ہوں میں معافی کے قابل نہیں ہوں لیکن پھر بھی میں آپ لوگوں سے معافی چاہوں گی ۔
آپ کا کوئی قصور نہیں ہے چاچی جان پلیز آپ معافی نہ مانگے عمایہ سب سے آگے بڑھ رہی تھی ان کے ہاتھ تھامتے ہوئے اس نے انہیں اپنے ساتھ لگا لیا تھا
جب کہ وہ اس کے سینے سے لگتیں نجانے کتنی دیر روتی رہیں
بادل چھٹ چکے تھے اب آسمان صاف ہوچکا تھا برا وقت تھا لیکن گذر گیا تھا آخر وہ شخص جس نے ان کی زندگی میں تباہی مچا رکھی تھی اپنے انجام تک پہنچ گیا تھا
ان سب لوگوں نے اجازت لیتے ہوئے اپنے گھر کی راہ لی تھی وہ آج بھی ریدم کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہہ رہے تھے لیکن اپنے شوہر کی اتری ہوئی شکل دیکھ کر اس نے نہ جانے کا فیصلہ کیا ۔اور ان سے معذرت کرتے ہوئے کل شائزم کے ساتھ آنے کا وعدہ بھی کر لیا ۔
اس کے نہ جانے کا سن کر وہ کتنا خوش ہوا تھا اس بات کا اندازہ اس کے چہرے سے لگا چکی تھی ۔جہاں پر دلکش مسکراہٹ تھی
°°°°°°°
اسے ضرورت محسوس نہ ہوئی تھی لیکن پھر بھی دادا جان نے واپسی پر ڈاکٹر کے پاس اس کا چیک اپ کروایا تھا ۔وہ اس پر کسی طرح کا کوئی رسک لینے کے بارے میں نہیں سوچ سکتے تھے
اس لیے ان کی ضد پر اس نے بھی کسی طرح کا کوئی احتجاج نہ کیا اور اپنا مکمل چیک اپ کروایا تھا ڈاکٹر نے چیک کرتے ہوئے اس کے ٹھیک ہونے کی ضمانت دے دی تھی ۔جس کے بعد اب دادا جان قدر ریلیکس ہو کر واپس گھر آ چکے تھے ۔
آج جب وہ خوش تھے ان کے بیٹوں کا قاتل پکڑا جا چکا تھا لیکن اس چیز نے انہیں تکلیف بھی دی تھی ۔ان کا دکھ ایک بار پھر سے تازہ ہو گیا تھا ان کے بیٹوں کی لاشیں ایک بار پھر سے ان کی آنکھوں کے سامنے گھوم گئی تھی ۔
بہت مشکل وقت گزارا تھا ۔یہ بھولنےوالا تو ہرگز نہیں تھا ۔راحیل کوئی غیر نہیں بلکہ ان کی اپنی سگی بہن کا بیٹا تھا بہت چاہا تھا انہوں نے اس کو بالکل اپنے بیٹے کی طرح
وہ اکثر کہتے تھے کہ ان کی کوئی بیٹی نہیں ہے ورنہ وہ اپنی بیٹی راحیل کے نام کر دیتے لیکن اب وہ سوچ رہے تھے کہ خدا کا شکر ہےکہ ان کی کوئی بیٹی نہیں اگر کوئی بیٹی ہوتی تو اس کا حال بھی پرویز کی بیوی کی طرح ہوتا دنیا کے سامنے تو ہشاش بشاش اپنی زندگی بسر کر رہی ہے لیکن اندر ہی اندر گھوٹ کرمر رہی ہے
اکثر کہتے تھے کہ بیٹی نہیں ہے تو کیا ہوا بیٹا تو ہے نہ انہوں نے راحیل کی بہن کو ہمیشہ کے لئے اپنے بیٹے احمر کے نام لکھنا چاہا تھا لیکن احمر نے اپنی راہ بدل لی ۔
بے شک دل کے معاملے پر کبھی زور نہیں چلتا احمر نے بھی اپنے دل کا فیصلہ کیا تھا اور اپنی راہ بدل لی تھی اس نے جسے چاہا اسے ٹوٹ کر چاہا اس کے جانے کے بعد بھی کنیز نے اس سے وفا نبھائی تھی
وہ مرتے مر گئی لیکن اس نے کبھی احمر کے نام کے ساتھ بے وفائی نہیں کی تھی ۔
کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ رات کے اس وقت یہاں پر بیٹھے کیا کر رہے ہیں کیا آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ سردی میں آپ کی طبیعت خراب ہو سکتی ہے
انہوں نے پیچھے سے یشام کی آواز سنائی دی تھی
آج پہلی بار اس نے انہیں دادا جان کہہ کر پکارا تھا وہ نے سینے پہ ہاتھ باندھنا انہی کو دیکھ رہا تھا ان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی پر دم توڑ گئی وہ کھل کر مسکرا نہ پائے تھے بیٹوں کا غم شاید اس وقت ہر احساس پر بھاری تھا۔
تمہارے باپ کی بہت یاد آرہی ہے ۔وہ بھی بالکل تمہاری طرح دیکھتا تھا بس اس کی آنکھوں کا رنگ الگ تھا تم میں اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔وہی قد وہی آواز اسی کی طرح ضدی ہو تم بھی ۔وہ بے حد آہستہ آواز میں بات کر رہے تھے جب وہ ان کے ساتھ ہی باہر بڑے دروازے کی چار سیڑھیوں پر آ کر بیٹھ گیا ۔
اچھا مجھے لگتا تھا کہ ان سے زیادہ ہی ہینڈسم ہوں۔شکریہ میری خوش فہمی دور کرنے کے لئے ۔بہت ہلکے پھلکے سا انداز تھا۔
اصل سے سود پیارا ہوتا ہے مجھے تم سے زیادہ پیارے لگتے ہو انہوں نے رازدارانہ انداز میں کہا تھا ۔
لگتا نہیں ہوں میں ہوں ہی زیادہ پیارا آپ نے غور سے دیکھا نہیں نا ۔۔۔؟شاید وہ شکوہ کر رہا تھا
مجھے ڈر ہے کہیں تمہیں نظر نہ لگ جائے ۔ویسے بھی تم بہت کم میرے سامنے آتے ہو نہ میں چاہتا ہوں کہ تم ہمیشہ میری نگاہوں کے سامنے رہو لیکن ڈر لگتا ہے یہ نہ ہو کہ میں تمہیں جی بھر کر دیکھو تو تم کہیں چلے جاؤ ۔ان کے لہجے میں مایوسی تھی
اور اگر میں آپ سے وعدہ کروں کہ میں کہیں نہیں جاؤں گا ہمیشہ آپ کے پاس رہوں گا ۔تو کیا تب بھی آپ مجھے نظر بھر کر نہیں دیکھیں گے ۔۔۔؟وہ سوال کر رہا تھا جب کہ دادا جان کی نگاہیں اس کے نقوش میں الجھ سی گئیں۔
تم مذاق کر رہے ہو ۔۔۔۔؟وہ بے یقین تھے
آپ کو لگتا ہے میں آپ سے ایسا مذاق کروں گا۔۔۔۔۔؟ اس نے الٹا سوال کیا ۔
ہاں یہ سچ ہے میں آپ سے خفا تھا ۔لیکن میری ماں نے مجھے کبھی کسی سے نفرت کرنا نہیں سکھایا دادا جان ۔
میں یہ سوچ کر آپ لوگوں سے دور تھا کہ آپ لوگ میرے دشمن ہیں لیکن مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا کہ جس درد سے میں گزر رہا ہوں کہیں سالوں سے آپ بھی اسی دکھ کے زیر اثر ہے میری ماں کے ساتھ جو کچھ ہوا شاید وہ اس کے نصیب میں لکھا تھا ۔
شاید کوئی بھی والدین اپنے بیٹے کے لیے ایک غیر مسلم عورت کو سوچ کر ایسے ہی ری ایکٹ کرتے ہوں گے ۔شاید آپ لوگ اپنی جگہ سہی تھے لیکن اپنے ماں باپ کو کھو کر جو کچھ میں نے برداشت کیا اس کے بعد میں اتنی جلدی ان سب چیزوں کو قبول نہیں کر پا رہا تھا ۔
لیکن آج میں نے بہت سوچا میں نے سوچا اگر ہمارا دکھ ایک جیسا ہے تو ہم ایک دوسرے کے ساتھ کیوں نہیں بانٹتے ۔
میں جانتا ہوں کہ آپ لوگ مجھے میرے والدین واپس نہیں کر سکتے اور نہ ہی میں آپ لوگوں کو آپ کا بیٹا واپس کر سکتا ہوں لیکن ہم ایک دوسرے کا سہارا تو بن سکتے ہیں نہ ۔
وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ دادا جان اس کے سینے پر سر رکھ کر زاروقطار رونے لگے ۔اس نے اگلے ہی لمحے ان کے گرد اپنی باہوں کا حصار بنایا تھا اس عمر میں ان کا اس طرح بچوں کی طرح رونا اسے بری طرح سے پریشان کر گیا تھا لیکن شاید یہ سالوں کا غبار تھا جو ان کے اندر بند تھا
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں دادا جان میں آپ کو چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گا میں ہمیشہ آپ کے پاس رہوں گا اپنے اپنوں کے پاس اپنے رشتوں کے پاس ۔میں بے آسرا نہیں ہوں میری پہچان ہے اور میری پہچان آپ ہیں ۔ان کے آنسو صاف کرتے ہوئے بے حد اپنائیت سے بولا
تم آج خداش کے لب و لہجے میں باتیں کیوں کر رہے ہو وہ اس کے انداز میں چھپے اپنے دوسرے پوتے کے الفاظ بہت اچھے طریقے سے پہچان چکے تھے ۔
کیوں کہ یہ سارے میرے ہی الفاظ ہیں دادا جان وہ پیچھے سے بولا ۔دادا جان نے چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجا کر اسے بلایا تھا جب کہ وہ ان کی دائیں طرف آ کر بیٹھا ۔ان کے پاس ان کے دو مضبوط سہارے تھے ۔جو بے شک ان کے لئے بے حد عزیز تھے ۔
تم لوگ میرے پوتے نہیں میری طاقت ہو ۔میرا مان ہو میرا غرور ہو وہ ان دونوں کو اپنے ساتھ دیتے ہوئے سرشار انداز میں بولے تھے ۔جب کے وہ مسکراتے ہوئے ان کے ساتھ لگے تھے جبکہ حویلی کی چھت کی گرل کے ساتھ کھڑے تینوں بھائی مسکرا دیئے تھے ۔بے شک غم کے بادل چھٹ چکے تھے اب خوشیاں ہی خوشیاں ان کے منتظر تھیں ۔
°°°°°°
گھر میں شادی کی تیاریاں شروع ہوچکی تھی گھر کا ماحول بہت خوبصورت ہو چکا تھا حویلی کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا دیدم کی شادی اسی ہفتے طے پائی تھی صیام کی طرف سے باراتیوں میں پورا شاہ خاندان شامل تھا ۔
یہاں تک کہ شادی سے پہلے وہ لوگ صیام کو اپنے ساتھ لے کر گئے تھے کیونکہ بارات وہاں سے آنے والی تھی ۔
اس طرح سے یہ فاصلے سمٹ جائیں گے کسی نے نہیں سوچا تھا لیکن یہ ایک خوشگوار تبدیلی تھی ان کے نئے رشتوں کی شروعات کی ۔
°°°°°°°°
شوہر سر ۔۔۔اٹھیں نا شادی ہے گھرمیں اور آپ گھوڑے بیچ کر سونا بند کریں ایسا کب تک چلے گا آخر میں معصوم جان کب تک ہر چیز سنبھالتی رہوں
اٹھیں اٹھ کر اپنی ذمہ داریوں کا کچھ احساس کرے ۔وہ گہری نیند سو رہا تھا رات اپنی شدتوں کا بھرپور اظہار کرنے کے بعد وہ حرم کو اپنی دھڑکنوں کے ساتھ لگا کر سویا تھا ۔
لیکن وہ صبح صبح ہی جاگ گئی ہوئی تھی اور اب اسے بھی جگانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی ۔
جی حرم جان بولیں کیا ہیں میری ذمہ داری جو مجھے نبھانی ہیں اس کا چہرہ اپنے قریب کرتے ہوئے وہ اسے خود پر جھکا چکا تھا ۔
میرا مہندی والا کھوسہ بہت ٹائٹ ہے اور نہ میرا دوپٹہ بھی بہت کم کام والا ہے مجھے اس پر کام کروانا ہے ۔میں نے کہا بھی تھا کہ ڈریس پسند ہے لیکن دوپٹا پسند نہیں لیکن میری تو کوئی سنتا ہی نہیں ہے اس گھر میں اب گھر میں شادی ہے اور میری کوئی چیز تیار نہیں۔
وہ کافی دکھی انداز میں بولی تھی ۔یشام کو سچ مچ میں اس کی صورت پر ترس آ گیا۔
ٹھیک ہے ہم دو گھنٹے کے بعد شاپنگ پر چلیں گے ہم اپنی پسند کی ہر چیز لے لینا ۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا جب کہ وہ خوش ہو گئی تھی ۔
یہ ہوئی نہ اچھے نہیں بلکہ بیسٹ ہزبنڈ والی بات میں ذرا نیچے شوآف کرکے آتی ہوں وہ ساری کہہ رہی تھیں کہ مجھے کوئی بھی اب مہندی والے دن بازار لے کر نہیں جائے گا میں ابھی سب کو بتا کر آتی ہوں ۔
وہ بڑی خوشی سے اس کے قریب سے اٹھنے لگی تھی جب اسے پیچھے سے یشام کی آواز سنائی دی ۔
میں تمہیں اس شرط پر دو گھنٹے کے بعد اپنے ساتھ باہر لے کر جاؤں گا جب تم یہ دو گھنٹے میرے ساتھ میری باہوں میں رہوگی وہ آنکھوں میں خمار لیے اس سے بولا تھا ۔
آپ نے پہلے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی تھی ۔اس کے یوں ہاتھ بڑھانے پر وہ منہ بنا کر بولی ۔
اب اگر تم مہندی والے دن بازار چلنے کی پلانگ کر سکتی ہو تو یہ تو دل کی پلاننگ ہے حرم جان کبھی بھی کہیں بھی وہ اسے کھینچ کر اپنے اوپر گراتا اپنے ساتھ اسے بھی بلینکیٹ میں قید کر چکا تھا ۔
اور اب حرم اور اس کی نازک سی جان شوہر سے کے شکنجے میں تھی
°°°°°°°°
کل رات مہندی بہت دھوم دھام سے کی گئی تھی اور آج بارات جانے والی تھی ۔
شادی میں جنت بھی شامل تھی حویلی کا ماحول اتنا خوبصورت تھا کہ وہ خود کو روک ہی نہیں پائی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے سچ میں ان کے بیٹے کی شادی ہو اور فیصل صاحب نے صیام کو سچ میں اپنا بیٹا ہی تو بنا لیا تھا ۔
شادی کی ساری رسموں میں چاچی جان بالکل اس کی ماں کا کردار ادا کر رہی تھیں۔ایسے لگ رہا تھا جیسے صیام کو اس کی فیملی واپس مل گئی ہو وہ بہت خوش تھا ان دنوں نے اسے بہت راحت دی تھی لیکن وہ کچھ افسردہ بھی تھا۔
کیونکہ حقیقت یہی تھی وہ لوگ صرف ماں باپ بن رہے تھے لیکن انکے ساتھ اس کا خون کا کوئی رشتہ نہیں تھا وہ۔اس کے سگے نہیں تھے اس کے اپنے نہیں تھے لیکن اپنوں سے بڑھ کر اس کا ساتھ دے رہے تھے ۔بے شک رشتے احساس کے ہوتے ہیں وہ اسےاپنا ساتھ دے رہے تھے اپنا نام دے رہے تھے جس کے لیے وہ بےحد خوش تھا
°°°°°°
زریام یہ کچھ تنگ نہیں لگ رہا مجھے لگ رہا ہے کہ میں موٹی ہو رہی ہوں ذریام نے اپنے کمرے میں قدم رکھا تو وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی ممتا کا نور اس کے چہرے سے چھلکنے لگا تھا ۔جیسے دنیا بھر کا حسن اس کے چہرے میں سمٹ آیا تھا
اگر یہ کہا جائے کہ وہ دن با دن خوبصورت سے خوبصورت ترین ہوتی جا رہی تھی تو یہ غلط ہرگز نہیں تھا وہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس آ رہا تھا ۔وہ جھک کر اس لپسٹیک سے سجے لبوں پر اپنی لب رکھے تھے
تم بے حد خوبصورت لگ رہی ہو میری جان اور یہ ڈریس تمہیں بالکل بھی ٹائیٹ نہیں ہے بس تم ایسا محسوس کر رہی ہو ڈونٹ وری تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو اگر یقین نہ آئے تو میری آنکھوں میں دیکھ لو ۔
وہ نرمی سے اس کے گرد اپنی باہوں کے حصار بناتے ہوئے بولا تو عمایہ نے نظریں جھکا کر اس کے سینے پر اپنا سر رکھ دیا تھا ۔
اب اگر تم دل دھڑکنے والے کام کرو گی تو سوچ لو شادی پر جانے نہیں دوں گا اس نے ہلکی سے دھمکی دی تھی جس پر وہ فورا اس سے الگ ہو کر مسکرا کر کمرے سے نکل گئی۔جبکہ اس کی اس پیاری سی مسکان میں زریام شاہ نے اپنا خوبصورت مستقبل دیکھا تھا
°°°°°°
سب کچھ بہت خوش اسلوبی سے سر انجام پایا تھا دیدم ہمیشہ کے لئے اپنے گھر کی ہو گئی تھی ۔
ساری رسمیں بہت اچھے طریقے سے کی گئی تھی دیدم کے جانے کا دکھ تو سب کو ہی تھا لیکن حرم کو اس بات کی زیادہ خوشی تھی کہ اس کے صیام سر بھی گھرکےہو گئے
اس شادی کے فورا بعد ہی تانیہ کی شادی کی تیاریاں بھی شروع ہونے والی تھی تانیہ کی شادی امریکہ کے ایک اچھے گھرانے میں ہورہی تھی اس کا ہونے والا شوہر بزنس مین تھا جو کہ بزنس پارٹیز میں ہی ان سے ملا تھا اور اس طرح یہ رشتہ ہو گیا ۔
اور شادی کے فورا بعد ہی دوسری طرف ایک اور شادی ہونے والی تھی ۔دیدم اور صیام اگلے ہفتے ہی یہاں سے واپس جانے والے تھے کیونکہ صیام نے دوبارہ سے اپنی جاب جوائن کرنی تھی ۔
اب اس کے کندھوں پر ایک زمیداری آگئی تھی جسے اس نے نبھانا تھا اسی لیے اس نے فوراً ہی واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا دادا جان نے اسے روکنا چاہا تھا لیکن اس نے بہت مناسب الفاظ میں انہیں منع کر دیا تھا ۔
°°°°°°
وہ بالکل تیار ہو کر کھڑی تھی اب بس جوتے پہننے باقی تھے شائزم کے کپڑے تیار کرکے اس نے بیڈ پر رکھ دیے تھے اپنی تیاری کو ایک آخری نظر دیکھ کر وہ اپنے جوتے پہننے لگی جب وہ کمرے میں داخل ہوا ۔
اتنا لیٹ کر دیا تم نے آؤ جلدی سے تیار ہو جاؤ میں تو ال موسٹ تیار ہوں تانیہ تو پالر چلی گئی ہے ۔اسی لئے نیچے سب کچھ مجھے ہی سنبھالنا ہو گا وہ اٹھتے ہوئے بولی تھی اس کی ہائی ہیل کی وجہ سے وہ شائزم کے کندھے کے برابر تھی ۔
وہ اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی جبکہ شائزم کی نگاہیں تو اس کے لبوں میں ہی الجھ کر رہ گئی تھی سرخ گداز لبوں پر یہ رنگ قیامت ڈھا رہا تھا وہ بہت کوشش کے بعد بھی خود کو قابو میں نہ رکھ سکا ۔
اور اگلے ہی لمحے اسے کھینچتے اپنے قریب کرتا ہے وہ اس کے لبوں کو قید کر چکا تھا ۔
شائزم ۔۔۔۔۔” دماغ خراب ہو گیا ہے کیا کیا کر رہے ہو تم مجھے نیچے جانا ہے ابھی اتنی مشکل سے تیاری کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔” وہ بول ہی رہی تھی کہ وہ بے خود ہوتا ایک بار پھر سے اس کا چہرہ تھامتے اس کے لبوں پر جھک گیا تھا انداز شدت سے بھرپور تھاوہ اس کی جان کو مشکل میں ڈال چکا تھا ۔
شائزم۔۔۔۔۔۔” وہ احتجاج کر رہی تھی لیکن دوسری طرف پروا نہ کی گئی وہ اپنا کام بہت اطمینان سے کے کر پیچھے ہٹا تو اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔
حد ہوتی ہے غیر ذمہ دار لڑکی یہاں پر گھر میں شادی ہو رہی ہے اور تم مجھے گھورے جارہی ہو۔ اپنی ذمہ داری کا کوئی احساس ہے بھی گھورو نہیں اپنی تیاری مکمل کرو ہمہیں نیچے جانا ہے کتنے کام ہیں وہ پیچھے ہٹتا دلکشی سے مسکراتے ہوئے اپنے کپڑے اٹھا کمرے میں چلا گیا تھا جب کہ وہ ڈریسنگ روم کے دروازے کو گھورتی رہ گئی
اپنی سرخ شکل دیکھ کر غصے والے مٹھیاں بیچنے کے اور کچھ نہیں کر پائی تھی
°°°°°°
آپ نے مجھے یہ بات کرنے کے لئے یہاں بلایا ہے دادا جان میں پہلے بھی آپ کو کہہ چکی ہوں کہ میں دوسری شادی کرنے میں بالکل بھی انٹرسٹڈ نہیں ہوں میرا پہلا ایکسپریس کی بہت تلخ رہا ہے میں مزید اپنی زندگی کو مشکل نہیں بنانا چاہتی
وہ سب لوگ وہاں کمرے میں موجود تھے جب دادا جان نے اچانک جنت سے دوسری شادی کی بات کر دی۔شادی کے دنوں میں وہ جس طرح اکیلی اور چپ چاپ سب سے الگ تھی دادا جان نے خود ہی اس کے لئے ایک مناسب فیصلہ کیا تھا ۔
ابھی اس کی اتنی عمر نہیں تھی جتنی سوچوں نے اسے الجھا رکھا تھا صرف چوبیس سال کی عمر میں وہ ایک بیوہ کی زندگی گزار رہی تھی جو انہیں ہرگز منظور نہیں تھا اور پھر زریام نے یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ جنت کی دوسری شادی کریں گے اور اس کے لیے اس کی نظر میں بہترین رشتہ ہے
جنت ہم تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر رہے ہیں بس کہہ رہے ہیں کہ تم سوچو ابھی تو چھ مہینے ہی تمہارے پاس تم ان چھ مہینوں میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرکے ہمیں جواب دو
دیکھو بیٹا ہم جانتے ہیں ہماری زندگی کا غلط فیصلہ کیا لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم اپنی زندگی کو روک دو تمہارے آگے پوری زندگی پڑی ہے اسے صحیح ہمسفر کے ساتھ جینا شروع کرو ہانی کی پریشانی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم سب ہیں ۔اس کے ساتھ ہم تمہارے لئے ایسا ہمسفر ڈھونڈیں گے جو تمہیں ہانی کے ساتھ قبول کرے گا اور اگر اسے ہانی قبول نہ ہوئی تو ہم سب ہانی کے اپنے ہیں ۔
بالکل نہیں میں ایسے کسی شخص سے شادی نہیں کرنا چاہتی جسے میری بیٹی قبول نہ ہو میں کسی ایسے انسان سے شادی کروں گی جو میرے ساتھ میری بیٹی کو بھی قبول کرے گا ۔
اور وہ کوئی بھی ہو مجھے اس سے شادی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن میں اپنی بیٹی کے بنا کہیں بھی نہیں رہوں گی اگر آپ کو میری شادی کرنی ہے تو کسی ایسے شخص سے کیجئے گا جو میرے ساتھ میری بیٹی کو بھی قبول کرے وہ جیسے شرط رکھ کر گئی تھی ۔
°°°°°°
ٹھنڈی ٹھار ہوائیں ان کا استقبال کر رہی تھی یہ جگہ اس کی سوچ سے زیادہ خوبصورت تھی اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ خداش اتنا خوبصورت ائی لینڈ اس کے نام کر چکا ہے ۔
وہ اس آئی لینڈ کو بہت سال پہلے دیکھ کر گیا تھا اور اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس پر اپنی بیوی کا نام لکھوائے گا اور یہاں تو اس نے یہ پورا آئی لینڈ اس کے نام کر دیا تھا اسے اپنی باہوں کے حصار میں لیے وہ اسے اس جگہ کی خوبصورتی دکھا رہا تھا ۔
ویسے آپ مجھے میرے نام کا ستارہ کب دکھا رہے ہیں اسے اتنا خوش دیکھ کر اس کے ساتھ ساتھ قدم بڑھاتے شرارت سے بولی تھی۔
اس کے لئے تو تمہیں میرے ساتھ آسمان پر چلنا ہو گا ۔اسے اپنے قریب کرتے ہوئے وہ بھی اسی کے انداز میں بولا ۔
اور آسمان میں تومیرے خیال میں ہم کبھی بھی نہیں جا سکتے ۔مطلب میرا ستارہ ویسٹ ہو جائے گا وہ دکھی ہوئی تھی ۔
ہرگز نہیں وہ میں تمہیں رات چاند کی چاندنی میں دکھاؤں گا ۔وہ اپنی شیپ پر موجود ٹیلی سکوپ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا مطلب وہ ہر چیز کا انتظام کر کے آیا تھا اس کو کو دیکھتے ہوئے وہ صرف مسکرا ہی پائی تھی کیونکہ اس کی محبتوں کا مقابلہ کرنا تو شاید اس کے بس میں ہی نہیں تھا ۔
صحیح کہتا تھا وہ شخص جتنا پیار دیشم سے خداش کاظمی کرتا تھا اتنا کوئی نہیں کر سکتا تھا اس کی محبت اک جنون تھی جو ہر دن کے ساتھ بڑھتی چلی جارہی تھی۔
آپ سے ایک بات کہوں ۔۔۔۔اس کے تحفظ بھرے حصار کے ساتھ وہ شیپ سے اترتے ہوئے اس کے گرد اپنی باہیں پھیلا چکی تھی۔
آئی لو یو مور اینڈ مور۔۔۔۔تمہارا آئی لو یو میری محبت کا مقابلہ نہیں کر سکتا اسی لئے اپنی باتوں سے نہیں بلکہ اپنے انداز سے اپنی محبت کا اظہار کرو ۔
وہ اس کی بات سمجھ کر کہنے لگا جب کہ وہ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی تھی اسے کیسے پتہ تھا کہ وہ یہ بولنے والی تھی ۔
میں یہ نہیں بولنے والی تھی میں تو یہ کہنے والی تھی یہ ائی لینڈ بہت خوبصورت ہے ۔ہم اپنے بچوں کو بھی یہاں لے کر آئیں گے ۔وہ اپنی بات بدل گئی جب کہ خداش حیرانگی سے اسے دیکھنے لگا تھا اس کا شاکڈ انداز دیکھ کر وہ ہنس دی تھی زندگی کے کسی موقع پر تو اس نے بھی اسے جھٹکا دیا تھا ۔
کیا۔۔۔۔۔دیشم۔۔۔۔میں۔۔۔۔
ہاں آپ بابا بننے والے ہیں اور میں ماما تو مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ تھام کر بولی تو اس نے اگلے ہی لمحے اس سے خود میں بھینچ لیا ۔
مجھے یقین نہیں آرہا ہوں میں باپ بننے والا ہوں ۔میرے بچے دنیا میں آنے والے ہیں او مائی گاڈ دیشم آئی لو یو۔آئی لویو سومچ ۔وہ بہت خوش تھا بے حد خوش اسے اپنے ساتھ لگائے کھل کر اس سے اپنی خوشی کا اظہار کر رہا تھا جب کہ دیشم اس کے جذبات کو سمجھتے ہوئے اس کے سینے پر سر رکھے اس کی فیوچر پلاننگ سن رہی تھی
°°°°°°
چھ ماہ بعد
عمایہ نے ایک صحت مند بیٹے کو جنم دیا تھا جو بالکل اس کی طرح بے حد خوبصورت تھا اس کی نیلی آنکھیں بالکل اپنے باپ پر تھیں ۔اس کا کیس بہت نارمل تھا ۔ذریام نے اس کے پریگنینسی کے دنوں میں اس کا بہت زیادہ خیال رکھا تھا ایک پل کو بھی اپنی آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیا تھا ۔
اور پھر ریدم نے بھی اسے کوئی کام نہیں کرنے دیا تھا آہستہ آہستہ وہ بھی اپنے گھر کی ذمہ داریوں کو سمجھ چکی تھی تانیہ کے جانے کے بعد تواس نے خود ہی آہستہ آہستہ ہر چیز کو سمجھنا شروع کر دیا تھا اسے اپنی ذمہ داری کا بھرپور احساس تھا
اس کے ہوتے ہوئے عمایہ تو بالکل آزاد ہی ہو گئی تھی ۔اس نےعمایہ کو بستر سے نیچے پیر بھی نہ رکھنے دیا تھا اور اس وقت سب سے پہلے بے بی کو اٹھایا بھی اسی نے تھا ۔
ڈارلنگ ہمیں جلدی سے جلدی اپنی بیٹی کو اس دنیا میں لانا پڑے گا کہ یہ بہت خوبصورت ہے اگر اس پر لڑکیاں فدا ہوگئی تو ۔۔۔۔۔۔؟ تمہیں تو احساس ہی نہیں ہے اپنے ہونے والے داماد کا شائزم اس کے پیچھے کھڑے بول رہا تھا اس نے گھور کر اسے دیکھا تھا چند دن پہلے دادا جان نے کہا تھا کہ زریام کی پہلی اولاد شائزم کی پہلی اولاد کے نام کی جائے گی وہ سرسری سی ایک بات تھی لیکن شائزم اس چیز کو لے کر کافی سیریس تھا ۔
دیکھو اس نے سات ماہ بعد آنا ہے تو سات ماہ بعد آئے گی اسی لیے میرا دماغ خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے فی الحال مجھے بچے کو پیار کرنے دو ۔وہ اسےپیچھے کرتے ہوئے بولی دو مہینے پہلے اسے بھی ماں بننے کی انوکھی خوشخبری ملی تھی ۔
جیسے لے کر وہ بہت الگ محسوس کر رہی تھی لیکن یہ احساس سب سے خوبصورت تھا ۔
°°°°°°°°
زریام نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوئے اسے مبارکباد دی تھی ۔ان کا بچہ بالکل ٹھیک اس دنیا میں آ چکا تھا جو اللہ پاک کی کرم نوازی تھی ورنہ وہ تو بہت زیادہ گھبرائی ہوئی تھی لیکن ڈاکٹر نے اسے اچھی امید دلوائی تھی ۔
شکریہ میری جان مجھے اتنا خوبصورت تحفہ دینے کے لیے وہ اس کے ہاتھ تھامے ہوئے بے حد محبت سے بول رہا تھا جب کہ وہ تو بس اپنے رب شکر ادا کر رہی تھی
جس نے اس کا دامن خوشیوں سے بھر دیا تھا
°°°°°°°
بچے کا نام ابھی سوچا جا رہا تھا ۔جو کہ بچے کے ماموں نے رکھنا تھا ۔اس کی سزا دو ماہ پہلے ہی مکمل ہو چکی تھی ۔وہ جیل میں بہت اچھے طریقے سے رہا تھا حسن اخلاق کی وجہ سے جلد ہی سزا کم کر کے آزاد کر دیا گیا جو اس کے لئے کافی خوشی کی بات تھی اس وقت وہ ذریام کی کمپنی میں مینیجر کی پوسٹ سنبھالے ہوئے تھا ۔
یار نام تو بہت سارے آ رہے ہیں میرے ذہن میں لیکن نام کو ایسا ہونا چاہئے جو دنیا کو بتا دے کہ یہ ذریام شاہ کا بیٹا ہے ۔اس سوچتے ہوئے بولا تھا ۔
بابا شامی نام رکھتے ہیں ۔۔۔۔اس کے گود میں بیٹھی ہانی نے کافی سوچ بچار کے بعد نام دیا تھا ۔
ہاں ضروری تو گھر کا نام تھا نہ وہ تو شامی ہی رکھ لیں گے میری بیٹی برُا نام تو بتا ہی نہیں سکتی ایک نام تو پکا ہو گیا اب اسکول والا نام سوچتے ہیں ۔وہ ایک بار پھر سے سوچ میں مصروف ہوگیا
2 ماہ پہلے جب وہ جیل سے چھوٹ کر واپس آیا تو زریام کے کہنے کے فوراً بعد اس نے اپنا رشتہ جنت کے لئے بھیج دیا تھا جنت اسےہمیشہ سے ہی پسند تھی اور جنت سے کہیں زیادہ وہ ہانی کے قریب تھا جب اس نے اپنا رشتہ مانگا تو جنت نے فورا انکار کر دیا تھا
کیوں کہ اسے لگتا تھا کہ باقر اس کے ہاتھوں مارا گیا اسی لیے وہ اس پر ترس کھا کر یا اپنی غلطی کا کفارہ ادا کرنے کے لیے سے شادی کرنا چاہتا ہے ۔
لیکن ایسا کچھ بھی نہیں تھا اس نے بہت واضح الفاظ میں جنت سے کہا تھا کہ وہ یہ شادی ہانی کے لئے کرنا چاہتا ہے اس لیے نہیں کیونکہ ان کو باپ کی ضرورت ہے بلکہ اس لیے کیونکہ اسے ہانی کی ضرورت ہے
وہ ہانی کو بے پناہ چاہتا ہے اور اس کو اپنی بیٹی بنانا چاہتا ہے جنت نےدعویٰ کیا تھا کہ وہ اس شخص سے شادی کرے گی جو اس کے ساتھ اس کی بیٹی کو بھی قبول کرے گا ۔
جنت کے پاس کوئی بہانہ باقی نہ رہا تھا ۔چار دن کے اندر ہی اس کا نکاح کردیا گیا ۔پندرہ دن تک ان کا نکاح کر رہا تھا ۔جس میں ارحم نے نہ صرف اسے عزت دی تھی بلکہ اسے بتایا تھا کہ بیوی اس کی نگاہوں میں کیا ہے ۔
وہ باقر سے الگ تھا دادا جان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس نکاح کو چھ ماہ تک رکھنا چاہتے ہیں تو بھی انہیں کوئی اعتراض نہیں وہ جنت کی خوشی چاہتے ہیں اور ۔جنت نے محض پندرہ دن میں ہی اس کے حق میں فیصلہ سنا دیا تھا۔
وہ ہر لحاظ سے باقر سے بہتر تھا اس نے اسے پچھلے دو مہینوں میں ایک بہترین شوہر پایا تھا ۔لیکن شوہر سے کہیں زیادہ وہ ایک اچھا باپ تھا ۔
اس نے جنت سے یہ بھی کہا تھا کہ اگر وہ مزید اولاد نہیں چاہتی تو وہ اس چیز کے لیے کبھی اسے فورس نہیں کرے گا بلکہ وہ ہانی کے ساتھ ہی ایک بہترین زندگی گزار سکتا ہے ۔
ہانی اسے بابا کہہ کر اسے باپ ہونے کا احساس دلا سکتی ہے اور اس کے علاوہ اسے اور کچھ بھی نہیں چاہیے ۔لیکن وہ شخص جو اس کے لیے اتنا کچھ کر رہا تھا اس کے ساتھ اس طرح کی ناانصافی کیسے ہونے دے سکتی تھی
اسے یقین تھا جب اس کے اپنے بچے ہوں گے تب بھی وہ سب سے زیادہ پیارہانی سے ہی کرے گا وہ جنت سے زیادہ ہانی کو چاہتا تھا ۔
ہانی اس کے لئے اس کی زندگی تھی گھر آتے ہی سب سے پہلے وہ ہانی کا چہرہ دیکھتا تھا یہاں تک کہ وہ جنت کو کتنی دفعہ کہہ چکا تھا کہ ہانی کو کہا کرو کہ مجھے جگایا کرے تم بھی صبح مجھے اپنی شکل مت دکھایا کرو ۔
میں سب سے پہلے اپنی بیٹی کی شکل دیکھتا ہوں تو میرا دن اچھا گزر تا ہے اور تمہاری شکل دیکھتا ہوں تو کہیں نہ کہیں سے ڈانٹ کھانے پڑتی ہے کبھی عمایہ سے بھی بابا سے اور کبھی کبھی تو تمہاری شکل دیکھ کر جاتا ہوں تو میری بیٹی بھی مجھ سے خفا ہوتی ہے ۔
شروع میں تو جنت کو اس کی یہ بات اچھی نہیں لگی تھی لیکن اب وہ سمجھ گئی تھی کہ ارحم کی زندگی میں سب کچھ ہانی کے بعد ہی آتا ہے ۔
اس وقت وہ ہسپتال کے باہرڈیکس پر بیٹھے گوگل پر اچھے اچھے ناموں کی ریسرچ کر رہے تھے اس کی بیٹی نے اس کا گھر کا نام بتا کر اسے بالکل ٹینشن فری کر دیا تھا اب تو صرف اسکول کا نام ہی سوچنا تھا جو مشکل ہرگز نہیں تھا بقول ہانی اور اس کے باپ کے
°°°°°°°
پانچ سال بعد
شامی (شامق) بہن کو بالکل تنگ نہیں کرنا اگر روئی نہ تو بہت مار کھاؤ گے ۔ گول مٹول سا پانچ سال کا بچہ اپنی نیلی آنکھوں سے اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ پیر دیکھ کر خوش ہو رہا تھا جب پیچھے سے عمایا کی آواز سنائی دی ۔
ماما میری بہن کتنی پیاری ہے ۔میں اس کو ولی (سجاول) کے ساتھ کھیلنے نہیں دوں گا ۔اسے کمرے سے باہر چار سالہ ولی جھانکتے نظر آگیا تھا
کیوں نہیں کھیلنے دو گے وہ اس کی بہن ہے۔وہ بھی اس کے ساتھ کھیلے گا۔وہ الماری میں سارے کپڑے سیٹ کرتے ہوئے اسے دیکھ کر جواب دیتی کمرے سے نکل گئی تھی لیکن جانے سے پہلے اسے تاکید کرنا نہیں بولی تھی کہ شنایا رونی نہیں چاہیے ۔
تم نے تائی امی سے کیوں بولا کہ میں شنایا کے ساتھ کھیل نہیں سکتا وہ غصے سے کمرے میں داخل ہوتا اس کے سر پر سوار ہوا تھا ۔
یہ میری بہنا ہے تمہارے ساتھ نہیں کھیلے گی ۔شامی کا جواب بڑا ہی زور دار ثابت ہوا تھا ۔
اگر یہ صرف تمہاری بہن ہے تو تائی امی نے کیوں کہا کہ یہ میری بھی بہن ہے ولی کسی طرح ھارنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔
نہیں یہ صرف میری بہن ہے اگر یہ تمہارے بہن ہوتی تو تمہارے ماماباباکے ساتھ سوتی لیکن یہ تو میرے ماماباباکے ساتھ سوتی ہے ۔تو یہ کس کی بہن ہوگی۔۔۔۔؟ میری ۔۔
وہ خود ہی سوال کرتا ہوں خود ہی جواب دے چکا تھا جبکہ ولی کواس کا جواب ٹھیک لگا تھا وہ مایوس ہو کر کمرے سے نکل گیا
°°°°°°°
نہیں نہیں نہیں میں کھانا نہیں کھاؤں گا پہلے مجھے بہن لا کر دو ۔ریدم تقریبا زبردستی اس کے منہ میں کھانا ٹھوس رہی تھی لیکن وہ ایک ہی ضد پکڑ کر بیٹھا تھا یہ آج کل سے نہیں بلکہ پورے ایک ہفتے سے ہو رہا تھا ۔
وہ کسی بھی طرح سے اس کی بات ماننے کو تیار نہیں تھا ایک ہی ضد پکڑ کر بیٹھا تھا کہ اسے اس کی بہن چاہیے وہ شامی کی بہن سے نہیں کھیلے گا ۔
ارے بھائی صبر کر ا جائے گی تیری بہن ۔۔۔۔۔۔”تم اس کی پیدائش میں بہت خوش ہو رہی تھی نہ اس کی جگہ اگر میری بیٹی آئی ہوتی نہ دنیا میں تو اتنا تنگ نہیں کر رہی ہوتی شائزم اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے ریدم سے بولا تھا جو اسے گھور کر رہ گئی ۔
خبردار جو میرے بیٹے کی پیدائش پر کچھ الٹا سیدھا بولا یہ تو اللہ کی دین تھی بیٹی کی جگہ بیٹا آ گیا لیکن ۔۔۔۔
۔اب تو بیٹی لانی پڑے گی ۔۔۔شائز نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بیٹے کی ضد کافی زور پکڑ رہی تھی ۔جب کہ ریدم ابھی تک اپنے بیٹے کے بڑے ہونے کا انتظار کر رہی تھی
بیٹا ہم لادیں گے آپ کی بہن آپ کو پلیز اب کھانا تو کھا لو ۔وہ بڑے ہی پیار اسے اپنے ساتھ لگاتے سمجھاتے ہوئے بولی تھی لیکن وہ تو سمجھنے کو تیار ہی نہ تھا اسے اس کی بہن چاہیے تھی اور ہر قیمت پر چاہیے تھی ۔
ایسے نہیں پہلے وعدہ کرو ۔وہ اپنا ہاتھ اس کے سامنے کرتے ہوئے بولا تو تھک ہار کر ریدم کو اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھنا پڑا۔باپ پر نہ سہی لیکن اسے اپنی ماں پر پورا یقین تھا کہ وہ اپنا کیا ہوا پرومس نبھاتی ہے
°°°°°°°
مجھے ایک ضروری کیس کروانا ہے ۔وہ سامنے والی کرسی پر بیٹھی مسز خداش کاظمی سے بولا تھا ۔
جو ہسبنڈ وائف کے کیسز میں کافی ماہر وکیل مانی جاتی تھی ۔اسے وکالت میں قدم رکھے ابھی دو سال بھی بمشکل ہی ہوئے تھے لیکن پھر بھی وہ ان سب چیزوں میں ماہر ہوتی جا رہی تھی ۔
جی بولیں کیا مسئلہ ہے میں آپ کی کیا مدد کر سکتی ہوں اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے وہ اپنا کام چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔
میری بیوی بہت بری ہے مجھ سے پیار نہیں کرتی ہر وقت کام کام کام کام ابھی میں کل سے اسے کہہ رہا ہوں کہ ہم نے ڈنر پر باہر جانا ہے لیکن اس کا کام ختم ہی نہیں ہو رہا اب میں پچھلے پندرہ منٹ سے باہر ہارن بجابجا کر اس کو آنے کا کہہ رہا ہوں لیکن محترمہ نخرے کر رہی ہے ۔
وکیل صاحبہ مجھے انصاف چاہیے ۔کوئی تو حل نکالے آخر یہ سب کچھ کب تک چلے گا اس کے دو کارٹون گاڑی میں بیٹھے میرا دماغ کھا رہے تھے میں مجبور ہو کر یہاں آپ کے پاس اپنا دکھ رونے آیا ہوں ۔
کیا مطلب آپ نے ان دونوں کو اپنی گاڑی میں رکھا ہے ابھی گاڑی کا کچومرنکال دیں گے پھر آپ کہیں گے کہ میں ان کو سکھاتی نہیں ہوں ۔وہ جلدی سے اٹھ کر باہر بھاگ گئی تھی خداش بھی اس کا موبائل اور چند ضروری چیزیں اٹھاتا باہر آگیا تھا کیونکہ اب اس کا اسے اندر بھیجنے کا کوئی ارادہ نہ تھا ۔
اب وہ اسے اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ پلے لینڈ لے کر جانے والا تھا جہاں کا وعدہ بھی تھا ۔
ماما آگئی ماما آگئی ۔وہاج گاڑی کے سٹیرنگ کے ساتھ چمٹا ہوا بول رہا تھا جبکہ دوسری سائیڈ پر اس کا شانت شاہاج پیارا سا بیٹا خاموشی سے اپنے بابا کی موبائل پر گیم کھیل رہا تھا ۔
ان دونوں میں گیارہ مہینوں کا فرق تھا ۔لیکن مزاج میں تو زمین اور آسمان تھے ۔
یہ کیا کر رہے ہو آپ وہاج اترو نیچے وہ گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر اسے سٹیرنگ سے الگ کر رہی تھی جو کہ پورا چوکلیٹ سے بھرا ہوا تھا ۔
ماما بابا نے جوتے ۔۔۔۔۔وہ ادھوری بات کرتا اسے اپنے پیروں کی طرف متوجہ کر رہا تھا یقینا ان کو یہاں تیار کرکے لانے والااس کا شوہر ہی تھا۔
وہ اسکول سے سیدھا اپنے گھر لے کر گیا تھا اور انہیں جیسے تیسے تیار کرکے یہاں آیا تھا وہ اس کے پیروں کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگی تھی کیونکہ لیفٹ سائیڈ کا جوتا رائٹ میں اور رائٹ کا لیفٹ میں تھا ۔
بابا کو کچھ نہیں آتا ۔مکمل طور پر موبائل کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بھی شاہاج کا ذہن اسی کی طرف تھا اس نے اپنے باپ کی شان میں قصیدہ پڑھا تھا ۔
ہاں تجھے تو بہت آتا ہے نا تو ہی پہنا دیتا وہ گاڑی کی چابی دیشم کی طرف پھینکتا خود اس کی سائیڈ پر آ کر بیٹھا تھا ۔مطلب خداش یہ بھی چاہتا تھا کہ وہ خود ڈرائیو کرے۔
بیگم ہم آپ کا زیادہ انتظار نہیں کرسکتے وہ جو بڑی مشکل سے اپنے چھوٹے بیٹے کے جوتے سیدھے کرنے کے بعد اس کے ہاتھ دلوا رہی تھی اسے پیچھے سے آواز سنائی دی تھی ۔
جس پر وہ فوراً وہاج کو بیٹھا کر گاڑی اسٹارٹ کر چکی تھی۔
°°°°°°°
یشام یار اتنا پریشان کیوں ہو رہا ہے بچے سب کو ہوتے ہیں اور ڈاکٹر نے کہہ تو دیا ہے کہ۔یہ۔کیس بالکل نارمل ہے تو بےکار میں اتنا پریشان ہو رہا ہے ۔
میرا دماغ خراب مت کر وہ بہت پریشان تھی۔پتا نہیں وہ اندر کس حالت میں ہوگی تو جا یہاں سے وہ اسے گھورتے ہوئے بولا تھا جبکہ اس کی پریشانی کو سمجھتے ہوئے صیام نے پھر سے اپنا منہ بند کر لیا تھا ۔
تھوڑی دیر میں انہیں اندر سے بچے کے رونے کی آواز سنائی دی تھی ۔
لگتا ہے بے بی دنیا میں آگیا صیام کافی دیر کے بعد بولا تھا اور وہ جو کب سے آپریشن تھیٹر کے دروازے سے کسی کے باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا اٹھ کر کھڑا ہوگیا
کانگریچولیشن بیٹی ہوئی ہے۔آپ کی مسز بالکل ٹھیک ہیں تھوڑی دیر میں روم میں شفیٹ کر دیا جائے گا تب آپ ان سے مل سکتے ہیں تب تک اپنی بچی سنبھالے ۔نرس نے سرخ کلر کے خوبصورت کبمل میں ایک چھوٹا سا وجود اس کو پکڑیا تھا ۔
سیم پکڑنا گر جائے گی ۔وہ بوکھلائے انداز میں بولا تھا
پاگل ہوگیا ہے کیا کچھ نہیں ہوتا تو اس کو گرائے گا تھوڑی بس آرام سے پکڑ کر سر کے نیچے ہاتھ رکھ اور اس طرح سے اپنے ساتھ لگا لے وہ بہت سمجھداری سے اسے بتا رہا تھا
جب کہ یشام بے یقینی سے اس کا نازک سا چہرہ دیکھ رہا تھا
نہیں تو پکڑاسے گرجائے گی اس نے فورا بچی اس کے حوالے کر دی تھی ۔
یارکیا ہو گیا ہے باپ بن گیا ہے بالکل بچوں جیسی حرکتیں کر رہا ہے یہاں بیٹھ میں تیری گود میں رکھتا ہوں اسے حسرت بھری نگاہوں سے اپنی بچی کی جانب دیکھتے ہوئے پا کر وہ بڑے پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا تھا جب کہ وہ فورا اس کی بات مان گیا تھا شاید وہ خود بھی اسے اپنی گود میں لینا چاہتا تھا ۔
اب یہ تیری گودی میں جائے گی ۔صیام بڑے ہی پیار سےاسے اس کی گود میں رکھتے ہوئے بولا
جب کہ وہ ایک ہاتھ سے اسے تھامے ہوئے دوسرے ہاتھ سے اس کی ملائم سے گالوں کو چھو رہا تھا ۔
صیام نے اس منظرکو اپنے موبائل میں قید کیا تھا ۔اور اگلے ہی لمحے دیدم کو سنیڈ بھی کر دیا تھا ۔
جو اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کی وجہ سے آج ان کے ساتھ نہیں تھی۔ورنہ اسے بھی یہی پر ہونا تھا تقریبا دو سال سے دادا جان کا لندن کا سارا بزنس یشام ہی سنبھال رہا تھا جبکہ پاکستان کی ساری ذمہ داری خداش نے اپنے کندھوں پر لے لی تھی ۔
دادا جان اسے خود سے دور نہیں بھیجنا چاہتے تھے لیکن نئی کمپنی کھولنے کی وجہ سے وہ تقریبا دو سال سے یہیں پر ہی تھے ۔اور یہیں پر ہی اس نے اپنی فیملی کو بڑھانے کے بارے میں سوچا تھا جب تک حرم کی پڑھائی مکمل نہ ہوجائے وہ اس پر کسی طرح کا کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا تھا ۔
اور اب شادی کے پانچ سال بعد یہ ننھی سی پری اس کی گود میں تھی جسے دیکھتے ہوئے ہی اسے عجیب سے گھبراہٹ ہو رہی تھی ۔وہ سب سے زیادہ حرم کو چاہتا تھا لیکن اب نہ جانے اسے کیوں لگ رہا تھا کہ یہ محبت حرم کی محبت پر حاوی ہونے والی ہے ۔
حرم کو روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے اور محترمہ آپ کو یاد کر
ختم شد
