Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 10)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 10)
Junoniyat By Areej Shah
نہیں نانا جان اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں کہیں نہیں جانا چاہتی اور ویسے بھی کونسا مجھے بہت ساری چھٹیاں ہیں صرف آٹھ نو دن ہی تو ہیں میں رہ لوں گی آپ اپنا خیال رکھیں
ایسے کیسے بیٹا ہم پورے سال سے پلاننگ کر رہے تھے۔
کہ تمہیں اس دفعہ وادیِ کالام لے کر جاؤں گا۔
اور یہاں پر میری طبیعت اتنی زیادہ خراب ہو گئی ہے۔
کہ مجھے سفر سے بالکل ہی منع کردیا گیا ہے ورنہ دل تو میرا بھی بہت تھا وہاں جا کر گھومنے پھرنے کا۔۔۔
خیر اپنی وجہ سے میں تمہارا پلان ہرگز کینسل نہیں ہونے دوں گا تمھیں جانا پڑے گا گھومنے کے لیے۔۔
اور ڈرائیور چاچا تو ہر وقت تمہارے ساتھ ہوں گے۔
تو ان کے ساتھ چلی جاؤمیری وجہ سے تمہیں اپنا پلان خراب کرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔
وہاں انجوائے کرو اور بہت ساری تصویریں بنا کر مجھے سینڈ کرو
تاکہ تمہارے ساتھ ساتھ میں بھی اس سفر کو انجوائے کر سکوں۔
میری تو اب عمر ہو گئی ہےبیٹا ہو سکتا ہے آگے مجھے بالکل ہی سفر کرنے سے منع کردیا جائے۔
تو کیا تم ہمیشہ میرے ہی انتظار میں بیٹھی رہو گی؟؟؟؟
ہر گز نہیں تمہیں ہر اس جگہ پر جانا ہے جہاں تم جانا چاہتی ہو۔
وہ اسے سمجھا رہے تھے وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی وجہ سے وہ اپنا دل خراب کرے۔
اسے بہت شوق تھا وادیِ کالام دیکھنے کا پچھلے سال بھی وہ وادیِ کالام جانے کے بارے میں ہی سوچ رہے تھے۔
لیکن پھر چھٹیوں کے دن کم ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ دور نہیں جا سکتے تھے
لیکن اس بار نانا جان چاہتے تھے کہ ان کی نواسی ہر جگہ پر جائے جہاں وہ جانا چاہتی ہے۔
اس کا بالکل دل نہیں کر رہا تھا لیکن نانا جان کے بار بار فورس کرنے پر آخر کار وہ راضی ہو گئی تھی۔
ٹھیک ہے ناناجان میں چلی جاؤں گی اور میں وہاں بہت ساری تصویریں بنا کر آپ کو سینڈ کروں گی آپ کو بالکل ایسا فیل ہو گا جیسے آپ میرے ساتھ ہیں
میں آج ہی جانے کی تیاری کرتی ہوں اور ڈرائیور چاچا کو بتا دیتی ہوں وہ انھیں خوش کرنے کے لیے ایکسائٹمنٹ دکھاتے ہوئے بولی۔
تو نانا جان کے چہرے پر سکون سہ مسکراہٹ آ گئی تھی۔
ان کے لئے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ جانے کے لیے راضی ہوگئی ہےوہ دل سے راضی نہیں ہوئی یہ بات تو وہ اس کے انداز سے ہی پتہ لگا چکے تھے۔
نہیں تمہیں ڈرائیو کچھ بھی بتانے کی ضرورت نہیں بس ابھی اسے ہی فون کرنے والا ہوں۔
تم بس اپنی پیکنگ کرو اور گرم کپڑے رکھ لینا وہاں بہت ٹھنڈ ہوتی ہے تمہارے لیے مشکل نہیں ہونی چاہیے۔
اپنا خاص خیال رکھنا یہ نہ ہو کہ وہاں ٹھنڈ میں جا کر بیمار پڑ جاؤں میں اپنی نواسی کو ہرگز بیمار نہیں دیکھنا چاہتا
میں تمہیں چیک بھجوا رہا ہوں کھل کر انجوائے کرنا وہ فون رکھنے سے پہلے اسے ہدایت دیتے ہوئے بولے تھے۔
ابھی اس دن تو آپ نے چیک بھجوایا تھا ابھی میرے پاس کافی سارے پیسے ہیں مزید پیسوں کی ضرورت نہیں ہے
ابھی میں نے ان میں سے کچھ بھی نہیں نہیں وہ انکار کرنے لگی۔
بیٹا ضرورت پڑ سکتی ہے ضروری نہیں کہ تم شاپنگ ہی کرو اور بھی ہزار طرح کی ضروریات نکل سکتی ہیں۔
چلو شاباش اب تم تیاری کرو میں ڈرائیو کو فون کرتا ہوں وہ اسے خدا حافظ کہتے ہوئے فون رکھ چکے تھے
جب کہ دیدم بےدلی سے کپڑے نکالنے لگی تھی۔
اب انکار کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا وہ جانا نہیں چاہتی تھی لیکن نانا جان چاہتے تھے جی وہ اس ٹرپ کو انجوائے کرے تو اسے ہر حال میں انجوائے کرنا تھا۔
°°°°°°°°
بی بی جی یہ سامان ذریام صاحب نے منگوایا ہے۔
تھوڑی دیر پہلے کوئی آدمی دے کر گیا ہے ملازم نے مجھے پکڑا دیا وہ سامان تانیہ کو دکھاتے ہوئے اسے بتانے لگی تھی
تانیہ نے ایک سرسری سی نظر سامان پر ڈالی تھی۔
زریام نے آن لائن شاپنگ کی تھی ایسا تو بہت کم ہوتا تھا۔
وہ آن لائن شاپنگ پر بالکل یقین نہیں رکھتا تھا۔
اور یہ سارا سامان تو لیڈیز لگ رہا تھا یہ سب کچھ اس نے کس کے لئے منگوایا تھا۔
ایک پل کے لئے بھی اس کے دماغ میں عمایہ کی نہ آئی کہ یہ سب کچھ عمایہ کے لئے ہو سکتا ہے ۔
وہ تو بس یہ سوچے جارہی تھی کہ یہ سارا سامان اس نے منگوایا کیوں ہے
رکھو میں یہ اس کے کمرے میں چھوڑ کے آتی ہوں وہ سارا سامان اٹھانے لگی اور پھر اس کے کمرے کی طرف چلی گئی
عمایہ نیچے کچن میں تھی آج کل اس کی زندگی کچن سے شروع ہوکر کچن پر ہی ختم ہو رہی تھی ۔
جب سے اس کی شادی ہوئی تھی تب سے وہ اس سے بالکل بھی مخاطب نہیں ہوا تھا اور نہ ہی پہلے کوئی اتنا خاص ہوتا تھا
ہاں لیکن تب وہ کبھی کبھار اس سے بات کر لیتا تھا لیکن باقر کی موت کے بعد ان دونوں میں بات چیت کا سلسلہ بھی ختم ہو چکا تھا
اور پھر اس کی اچانک شادی نے تو جیسے اس کی زندگی میں قیامت مچا دی تھی
وہ کبھی اس چیز کے لیے تیار نہ تھی لیکن دادا جان نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ لڑکی صرف اور صرف ان کے پوتے کے انتقام کے لئے یہاں لائی جارہی ہے
اس کے علاوہ اس کا کسی سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا اس گھر میں اسے رکھنے کے لیے اسے ونی کے طور پر نکاح کرکے یہاں آنا ہوگا
وہ زریام کو ہرگز ان سب چیزوں میں نہ گھساتے کیونکہ وہ تو ان چیزوں کو مانتا تک نہیں تھا۔
اس کے لیے یہ سب کچھ فضول تھا لیکن یہ ان کی مجبوری تھی کہ اس وقت انہیں ذریام کے علاوہ اور کوئی بھی دستیاب نہیں تھا۔
جس کے لیے وہ یہ فیصلہ کر پاتے اور ذریام کے علاوہ اس گھر میں کون تھا جو وہ ان کی اس طرح کی بات مان لیتا
اس معاملے میں وہ صرف زریام کو ہی آگے کر پائے تھے اسے اپنی پگڑی اور خاندان کے خون کا واسطہ دے کر انہوں نے اسے عمایہ سے نکاح پر تیار کیا تھا
اور پھر نکاح کے بعد وہ اس لڑکی کو یہاں لے آئے تھے ان کا کوئی ارادہ نہ تھا اس لڑکی کو ذریام کے کمرے میں بھیجنے کا۔ ۔
لیکن جس دن وہ واپس آیا اس دن اس نے خود ہی کہہ دیا کہ میری بیوی میرے کمرے میں کیوں نہیں ہے۔۔۔؟
دادا جان نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا تھا وہ بیوی نہیں صرف ونی ہے لیکن زریام نے کہا کہ جب تک وہ اس کے نکاح میں ہے تب تک تو وہ اس کی بیوی ہی ہے۔
اور جہاں تک ونی کا سوال ہے تو وہ اس طرح کی کسی چیز کو نہیں مانتا جس کا ذکر اسلام میں نہیں۔۔۔
دادا جان نے بنا بحث کیے عمایہ کو اس کے کمرے میں پہنچانے کا فیصلہ کرلیا تھا اور اس سلسلے میں تانیہ کےدل میں بغاوت نے سر اٹھایا تھا
اس نے بولنے کی کوشش کی تھی لیکن یہ وہ معاملے تھے جس میں بولنے کی اجازت وہ گھر کی بیٹیوں کو نہیں دے سکتے تھے۔
°°°°°°
اس نے دروازے پر دستک دی تو اسے اندر سے ہی آواز سنائی دی تھی
کون ہے ۔۔۔۔؟
ذریام میں ہوں تانیہ کیا میں اندر آ جاؤں۔ تانیہ کوئی بہت بولڈ قسم کی لڑکی نہیں تھی ۔
اور نہ ہی ذریام نے اسے خود سے اس حد تک فری کیا تھا کہ وہ بنا اجازت اس کے کمرے میں آ پاتی۔
ان دونوں میں ایک کراس لیمٹ تھی جو زریام نے بنائی ہوئی تھی اور اس کو پار کرنے کی اجازت تو نا خود کو دیتا تھا اور نہ ہی اس لڑکی کو۔۔۔
اسے اندر آنے کی اجازت دینے کے بجائے وہ خود اٹھ کر دروازے کے پاس آ گیا تھا
بولو تانیہ خیریت تو ہے وہ دروازے سے جھانکتا اس سے پوچھنے لگا جب کہ اس کے ہاتھ میں شاپنگ بیگز وہ دیکھ چکا تھا۔
یہ سامان آیا ہے نیچے آپ کے نام پر مجھے لگتا ہے کسی نے غلط ایڈریس ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں غلط ایڈریس پر نہیں آیا یہ میں نے منگوایا ہے اس لڑکی کے لیے میرا مطلب میری بیوی کے لئے وہ اس کے ہاتھ سے بیگ لیتے ہوئے کہنے لگا اس کا انداز اسے یہ بتایا گیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کا نام بھی ٹھیک سے نہیں جانتا
اور اسے نام بتانے کی ضرورت بھی نہیں تھی کیونکہ وہ ایک ونی تھی ۔اور اسے یہاں سے چلے جانا تھا وہ یہ سارا سامان اس کے حوالے کرتی بتا کسی بھی طرح کا کوئی سوال پوچھے وہیں سے پلٹ گئی تھی
سکون اتنا ہی کافی تھا کہ جس لڑکی کا وہ نام تک نہیں جانتا اس کے ساتھ وہ اپنے تعلقات کو کس حد تک لے جا سکتا تھا ۔
اور اگر وہ اس لڑکی کے ساتھ کسی طرح کا کوئی تعلق بناتا بھی تھا وہ مرد تھا بنا سکتا تھا اس کی خاندانی بیوی تو تانیہ نے ہی بننا تھا
اس کے دل پر راج تانیہ نے ہی کرنا تھا کون سا وہ اپنے خاندان کے مردوں کو جانتی نہیں تھی
گھر میں بیوی رکھنے کے باوجود باہر کی عورتوں سے تعلق قائم کرنا کون سا اس خاندان میں پہلی بار ہو رہا تھا
اور وہ لڑکی جو چند دن کی مہمان تھی ایک باہر کی عورت تھی جس سے دل تو بہلایا جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ زندگی نہیں کاٹی جا سکتی اپنی ماں اورتائی کی طرح وہ اپنی سوچ کو اسی پست رکھتی تھی
اس کے لیے مرد کا باہر منہ مارنا ایک نارمل بات تھی
۔لیکن وہ اس بات سے بھی انجان نہیں تھی کہ زریام شاہ کا تعلق ایسے مردوں سے نہیں ہے
بلکہ وہ الگ ہے سب سے الگ اسی لئے تو وہ تو اسے اپنے دل کے بہت اونچے تخت پر بیٹھا چکی تھی
لیکن جس ماں نے اس کی پرورش کی تھی اس نے اسے یہ بھی بتایا تھا
کہ یہ ساری باتیں ان کے خاندان میں بہت چھوٹی سمجھی جاتی ہیں جو عورت ان چیزوں کے خلاف آواز اٹھائے اٹھاتی ہے انہیں گوار کہا جاتا ہے
اور تانیہ کوئی گنوار تھوڑی تھی وہ تو ایسے معاملوں میں اپنے دل کو بہت وسیع کر چکی تھی۔۔۔
°°°°°
لوجی بھئی میری گڈی آ گئی اور میں پھر سے جا رہی ہوں تاڑے بھائی کا دیدار تو میرے نصیب میں لکھا ہی نہ ہے ۔میشا اٹھتے ہوئے خالص پٹواری انداز میں بولی تھی ۔
یار میں انہِیں کتنی بار کہہ چکی ہوں کہ جلدی آ جائیں لیکن اب مجھے لگتا ہے کہ وہ بھی تمہارا دیدار نہیں کرنا چاہتے۔۔۔
تمہیں نہ کسی دن میرے گھر آ جانا چاہیےورنہ کوئی چانس نہیں ہے تمہارے وڈیرے دیکھنے کے وہ ہنستے ہوئے اس کے ساتھ گیٹ تک جانے لگی
یار کوئی بات نہیں وڈیرے نہ سہی وڈیری تو دیکھ لی میں نے اور جس طرح تمہاری یہ ہڈیاں نکلی ہیں نہ مجھے تو وڈیروں کے روعب والی کہانیاں جھوٹی لگنے لگی ہیں وہ اس کے بازو کو سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔
دیکھو میری ہمت کا مذاق مت اڑو میں بس تھوڑی سی کمزور ہوں ورنہ میں نے اچھے اچھوں کو مار گرایا ہے۔۔۔
وہ اس کا مذاق اڑا رہی تھی اسی لئے تو وہ غصے میں اسے اپنی ہمت دکھانے لگی لیکن وہ کون سا اس سے ڈرنے والی تھی۔
ہاں جانو میں جانتی ہوں تم بہت بہادر ہو
وہ پیار سے چٹکی کاٹتے بھاگ گئی تھی جب کے حرم اسے گھورتی ہوئی واپس اندر چلی گئی۔
جاتے جاتے اس کا دھیان اپنے بازو پر تھا جو شاید سب کو کمزور لگتا تھا اس نے تو کبھی بھی اس چیز کو نوٹ نہیں کیا تھا
اور اپنے ویرو کو بھی ہمیشہ وہ پنجے میں ہرا دیتی تھی تو وہ کمزور تو ہرگز نہ تھی ۔
لیکن میشا ۔۔۔آجکل وہ ہر بات پر اسے کمزور کہہ رہی تھی کبھی اس کی ہڈیوں کو لے کر شروع ہوجاتی تو کبھی کہتی کہ تم صحت بناؤ کبھی کہتی جوس پیا کرو کبھی کیا تو کبھی کیا وہ تو اس کی باتوں سے اکتا جاتی تھی۔
کیا میں سچ میں کمزور ہوں وہ سوچ رہی تھی پھر اپنی سوچ کو جھٹکا
اب سمجھی میں خود تو پہلوان ہے چاہتی ہے ہر کوئی پہلوان بن جائے موٹو کہیں کی۔
ہائے میں نے اپنا بیگ تو یہاں پر رکھا تھا کہ آگیا ۔
وہ واپس اسی جگہ پر آئی تو اس کا بیگ وہاں سے غائب تھا وہ پریشانی سے سوچنے لگی تھی ابھی میشا کو گیٹ تک چھوڑ جانے سے پہلے اس نے اپنا بیگ یہی بینچ پر رکھا تھا اور اب وہ غائب ہوچکا تھا جب اچانک ہی اس کے پاس پیون آیا
حرم باجی معاف کیجیے گا مجھے لگا آپ اپنی دوست کے ساتھ چلی گئی ہیں آپ کا بیگ یہاں پر دیکھا تو میں پرنسپل کے آفس چھوڑ کر آیا ہوں۔
مجھے لگا آپ اپنی دوست کے ساتھ گھر چلی گئی ہیں اپنا بیگ یہی بھول کر
اوو بھائی یہ آپ نے کیا کیامیں تو صرف وہاں گیٹ تک گئی تھی وہ سر پہ ہاتھ مار کے رہ گئی۔۔
باجی آپ رکے میں ابھی بھاگ کر لا دیتا ہوں آپ کا بیگ وہ مزید خدمات پیش کرنے لگا
ارے ضرورت نہیں ہے بھیا میں خود لے آؤں گی آپ اپنا کام کریں تھینک یو وہ اسے منع کرتی خود ہی پرنسپل آفس کی طرف چلی گئی تھی۔
°°°°°
آپ نے بلایا وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے اسے کہنے لگی
ہاں یہ سب کچھ چیک کرو اس نے بیڈ پر بڑے شاپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
اتنے سارے کپڑے وہ اتنا ڈھیر لگے دیکھ پریشانی سے کہنے لگی تھی۔
میں زندگی میں پہلی بار ایسی لڑکی دیکھ رہا ہوں جو شاپنگ کو زیادہ کہہ رہی ہے خِیر دیکھو ان سب چیزوں کو چیک کرو۔
اگر کچھ اور چاہیے ہو تو بتا دو وہ مصروف انداز میں کہتا اپنے موبائل پر لگا تھا۔
میں کام ختم کر کے آؤں پھر چیک کروں اس نے اجازت طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
لڑکی تمہیں میری بات سمجھ میں کیوں نہیں آتی جو میں کہتا ہوں وہ تم کیوں نہیں کرتی ہو۔۔۔
میں نے کہا یہ سب کچھ چیک کرو اور ابھی چیک کرو وہ ایک بار پھر سے ذرا سخت لہجے میں گویا ہوا۔
اس کے اس طرح سے سختی کرنے پر فورا چیزیں اٹھانے لگی۔
یہی پر چیک کر لو میں نے کون ساتم سے چھین لینا ہے سب کچھ وہ اسے صوفے کی طرف جاتے دیکھ کہنے لگا
اس نے فورا ساری چیزیں واپس بیڈ پر پھیلا دی تھی۔۔
پھر اس کے سامنے ہی سب کو چیک کرتی رہی۔
یہ آدمی لڑکیوں کے بارے میں خاص معلومات رکھتا تھا یا آن لائن شاپنگ میں اسے یہ سب کچھ ریکمنڈ کیا گیا تھا
لیکن شاید ہی اس نے کوئی چیز چھوڑی تھی۔اس میں ہر وہ سامان تھا جو اسے چاہیے تھا۔
وہ سب کچھ دیکھتے ہوئےچور نگاہوں سے اسے بھی دیکھ رہی تھی لیکن اس کا دھیان اس پر نہیں تھا بلکہ وہ اپنے ہی موبائل میں مصروف تھا۔
اس نے شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے ساری چیزیں اٹھانی چاہی۔۔۔
یہ نیلے رنگ والے کپڑے ابھی پہنو یہ مجھے کافی پسند آیا تھا وہ سامان اٹھا رہی تھی جب وہ اچانک بولا اس کا دھیان اب بھی فون کی طرف ہی تھا مطلب وہ اس سے انجان نہیں تھا
ابھی ۔۔۔۔۔اس نے پھر سے بے تکا سوال کیا
نہیں دس سال بعد پہننا حد ہے میں کہہ رہا ہوں ابھی پہنو مطلب صاف ہے کہ ابھی پہن کے آؤ ہر بات کو چار بار کیوں پوچھتی ہو ۔
وہ اسے گھورتے ہوئے بولا
تو عمایہ فوراً ہاں میں سر ہلاتی نیلے رنگ کا جوڑا لیے واش روم میں بند ہو گئی۔۔۔
جبکہ وہ ابھی تک دروازے کو گھور رہا تھا وہ اپنی باتیں دہرانے کا عادی نہیں تھا لیکن یہ لڑکی اس کے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔۔۔
وہ اس سے جتنی نرمی سے پیش آ رہا تھا یہ اتنا ہی تنگ کر رہی تھی وہ کسی لڑکی کے نخرے اٹھانے کا عادی نہ تھا ۔
وہ تھوڑی دیر میں چینج کرکے باہر آئی تو اس نے سر سے پیر تک اس کا معائنہ کیا تھا ۔
یہ رنگ اچھا لگ رہا ہے تم پر باقی بھی وہ چیزیں ہوتی ہیں نہ پہننے والی ہاتھوں میں بینگلز کانوں میں کچھ پیروں میں کچھ اب اس کے لئے الگ سے شاپنگ کرنی پڑے گی خیر شام کو تیار رہنا چلتے ہیں تمہاری باقی کی شاپنگ کرنے۔وہ اسے غور سے دیکھتے ہوئے بولا
ان کی ضرورت نہیں ہے میں یہ سب کچھ نہیں پہنتی اس نے فوراً انکار کیا تھا۔۔۔
میں نے تم سے پوچھا کس چیز کی ضرورت ہے اور کس چیز کی ضرورت نہیں ہے۔وہ غصے سے گھورتے ہوئے بولا تو عمایا نے فوراً نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنا سر جھکا لیا
تو کس نے بولا ہے کہ اپنے نادر مشورے مجھے دو جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو آئی بات ہے سمجھ میں۔۔۔
اس کمرے کے اندر تم میری مرضی کے مطابق رہو گی باہر جاتے ہوئے خود کو سات پردوں میں بھی رکھو تو مجھے اعتراض نہیں۔۔۔
لیکن شوہر کے سامنے رہنے کے کچھ قاعدے قانون ہوتے ہیں اس کا انداز بدلا تھا اس کا ہاتھ اس کے چہرے پر آتی آوارہ لٹوں کو کانوں کے پیچھے اڑسا رہا تھا ۔
بال بہت خوبصورت ہے تمہارے رات کو کھول کر آنا تفصیل سے دیکھوں گا وہ بہت نرمی سے اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتا انگلیوں کو اس کے ہونٹوں کے قریب لایا تھا ۔عمایہ کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی تھی۔۔۔
تم کسی کو بھی پاگل کر دینے کی خاصیت رکھتی ہو لڑکی تمہیں معصوم سمجھنا بے وقوف ہے تمہاری ادائیں قاتلانہ ہیں۔
مجھے اپنے کمرے میں مکمل عورت کا وجود دیکھنا ہے جو میرے نام سے سجتی ہو سنورتی ہو ۔مجھے عورتوں کے وجود میں کبھی دلچسپی نہیں رہی
میں نے خود کو اس فضول دلچسپی سے بہت دور رکھا ہے لیکن اب میں اس نشے کو پورے حق سے وصول کرنا چاہتا ہوں
میں تمہاری روح میں اترنا چاہتا ہوں وہ اس کے کان کے قریب سرگوشی کرتا اس کا رستہ چھوڑ کر باہر نکل گیا تھا جب کہ وہ کتنی ہی دیر اس کے لفظوں میں کھوئی رہی
°°°°°°°°°
