65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 3)

Junoniyat By Areej Shah

اس کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے آپ کو کمرے میں بالکل تنہا پایا اس کا شوہر کہیں بھی نہیں تھا۔

اس نے ٹائم دیکھا تو صبح کے ساڑھے سات بجے تھے رات اس کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا شاید وہ بھی ان کے بدلے کا ایک حصہ تھا۔

وہ نہیں جانتی تھی اس سے کیا کیا چھینا جائے گا لیکن رات اس سے اس کی ذات کا غرور چھینا گیا تھا۔

وہ شخص اس کے اتنے قریب تھا اس کے گرد باہوں کا حصار بنائے وہ اس سے اپنا حق وصول کرتا رہا۔

اور وہ کسی خاموش بے جان شے کی طرح اس کی بانہوں میں پڑی رہی ایک عجیب سا احساس تھا ۔جیسے کوئی اسے تحفظ دے رہا ہو لیکن وہ تحفظ نہیں تھا وہ ایک قید تھی۔

اک بدلہ تھا وہ شخص اس سے اپنے بھائی کی موت کا انتقام لے رہا تھا یا شاید اس کے وجود سے اپنی ضرورت پوری رہا تھا یا شاید وہ صرف اور صرف اس پر اپنی ملکیت ثابت کرنا چاہتا تھا۔

لیکن جو بھی تھا کل رات وہ اس پر یہ بات واضح کر چکا تھا کہ وہ اس کا مالک ہے اور اس کے ساتھ کچھ بھی کرنے کا حق رکھتا ہے۔

کل ساری رات وہ اس کی بانہوں میں پڑی رہی اسکی خوبشو وہ اپنے حواس پر سوار ہوتا محسوس کرتی رہی

لیکن نہ تو اس نے آنکھیں کھولیں اور نہ ہی اس شخص کو دیکھا

اور صبح ہوتے ہی وہ یہاں سے چلا گیا ۔یہ بھی اس کی زندگی کا ایک تلخ ترین حصہ تھا کہ وہ اپنی آبرو تک جس انسان پر نچھاور کر چکی تھی اس کا نام تک وہ نہیں جانتی تھی۔

°°°°°°

او بی بی اور کتنا آرام کرے گی تو اب اٹھ جا چل کر سب کے لئے ناشتہ بنا۔یہ حسین قربتیں صرف چند لمحوں کی ہوتی ہیں ۔

یہ رات ختم ہوچکی ہے تو زیادہ خوش فہمی کی شکار مت رہنا کہ تجھے حق مل گیا ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہے

یہ سب تو زریام صاحب کی مہربانی ہے کہ تجھے کچھ لمحات دے دیے ورنہ دشمنوں کی بیٹی کو کہاں اتنا حق ادا دیا جاتا ہے۔

وہ تو ہمارے ذریام صاحب بہت ہی زیادہ سخی دل کےہیں اور اتنی رات کو وہ کہیں باہر نہیں جاسکتے تھے ورنہ اگر تم نہیں ہوتی تو شاید کسی عورت کو لے آتے

لیکن پھر سوچا ہوگا اگر جائز رشتہ ہے تو باہر والیوں کو کیوں اتنی اہمیت دینی اور پھر پیسہ الگ سے برباد ہوتا ہے۔

خوبصورت ہے تو کسی کا بھی دل آ سکتا ہے اور پھر اپنے شوہر کی خدمت کر کے تو نے تو ثواب ہی کمایا ہے۔

چلو اب خوابوں کی دنیا سے باہر نکل سب انتظار کر رہے ہیں تیرا، تیرے ہاتھوں کا ذائقہ لگ گیا ہے بڑی بی بی کو تیرے ہاتھ کا کھانا پسند ہے انہوں نے کہا ہے کہ ان کا ناشتہ تو ہی بنایا کرے گی

اور ہاں یاد آیا بڑی بی بی کو ڈاکٹر نے مالش کرنے کے لیے تیل دیا ہے ان کے پیروں کی مساج بھی تو ہی کیا کرے گی یہ مت سوچنا کے ذریام صاحب نے اگر تجھے اپنی قربت کے کچھ لمحات بخش دیے ہیں،

تو تیری اہمیت بڑھ گئی ہے تو کل بھی ونی تھی آج بھی ونی ہے اور آنے والے سو سالوں میں بھی ونی ہی رہے گی۔

وہ خاموشی سے اس عورت کو سن رہی تھی جو کہنے کو اس خاندان کی ملازمہ تھی لیکن اس کی زبان صرف اسی کے سامنے چلتی تھی ورنہ باقی سب کے سامنے تو وہ جی حضور جی حضور کرتے نہیں تھک گئی تھی۔

لیکن وہ جانتی تھی کہ اس خاندان میں اس کی اوقات اس عورت سے بھی بہت کم ہے۔

بلکہ وہ اس عورت کے مقابلے کی بھی نہیں ہے اسی لیے بنا کچھ بھی بولے وہ اپنا دوپٹہ سر پر جماتی کمرے سے نکل آئی تھی

یہ تین چار جوڑے وہ اپنے گھر سے لائی تھی اور کل ہی یہ کپڑے اور اس کا باقی کچھ سامان اس کمرے میں شفٹ کر دیا گیا تھا

مطلب کہ اب اسے اس شخص کی ناقابل قبول قربت ہر رات برداشت کرنی تھی

لعنتیں گالیاں ذلت اور بےتحاشا مار کے بعد اب اسے اپنی عزت کا بھی سودا کرنا تھا۔

°°°°°°

السلام علیکم میرا نام میشا ہے تمہارا بھی آج فرسٹ ڈے ہے وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئی تو حرم نے اسے دیکھا

شکر تھا اتنی دیر کے بعد کوئی تو ملا تھا جس سے وہ بات کر سکتی تھی ورنہ کالج کے پہلے ہی دن وہ اتنی زیادہ نروس تھی کہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے کہاں جائے۔

وعلیکم سلام میرا نام حرم کاظمی ہےہاں میرا پہلا دن ہے اور میں بہت زیادہ نروس ہوں۔

میں یہاں آ رہی تھی نہ تو اچانک وہاں سے چار لڑکیاں مجھے کہتی ہیں کہ میری کلاس دوسری طرف ہے

میں وہاں چلی گئی اور وہاں ٹیچر نے مجھے دیکھتے ہی اچھا خاصہ بےعزت کر دیا اور کہا کہ اپنی کلاس میں جاؤ اور مجھے پتا ہی نہیں تھا کہ میری کلاس کدھر ہے۔

پہلے ہی دن میری بےعزتی ہوگئی یہ لوگ کتنے برے ہیں نہ کسی کا احساس تک نہیں کرتے کہ پہلے ہی دن ہم لوگ کتنے پریشان ہوتے ہیں پھر یہ لوگ رینکنگ کرکے ہمیں پریشان کرتے ہیں۔

وہ کافی اداس لگ رہی تھی جب کہ میشا نے اس پیاری سے لڑکی کو دیکھ کر اس کے گال پر چٹکی کاٹی تھی

وہ سچ میں بہت معصوم تھی

یار یہاں کے لوگ ایسے ہی ہیں مجھے بھی صبح صبح ہی بے وقوف بنایا گیا یہ لوگ جب تک ریگنگ نہ کریں انہیں سکون نہیں ملتا خیر تم چھوڑ دو ان سب کو بتاؤ کہاں سے آئی ہو؟

اسے ایزی کرنے کے لئے اس سے باتیں کرنے لگی یہ ان دونوں کا ہی پہلا دن تھا تو اچھا ہی تھا کہ باتیں کرنے کے لیے کوئی تو مل گئی تھی پھر حرم اسے اپنا رزلٹ دکھانے لگی جسے دیکھ کر وہ آنکھیں پھاڑ پھار کا رزلٹ دیکھ پریشان ہوگئی

یا اللہ تم نے کشمیر بورڈ ٹاپ کیا ہے ۔واؤ یار گریٹ تم یہاں اسی کالج میں کیوں آئی ہو تمہں تو کسی باہر ملک میں جا کر اپنی پڑھائی جاری رکھنی چاہیے یار اتنے اچھے مارکس ہیں تمہارے اور کافی امیر بھی لگتی ہو

وہ اس کا رزلٹ دیکھتے ہوئے کافی حیران لگ رہی تھی حرم مسکرائی تھی

تمہیں پتا ہے میری دیشی آپی بھی ایسا ھی کہتی ہیں کہ مجھے یہاں سے نہ سیدھے انگلینڈ جاکر اپنی پڑھائی کرنی چاہیے بالکل اشی ویرو کی طرح

لیکن ایسا نہیں ہو سکتا میں نے جب اشی ویرو سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ اگر وہ خود وہاں انگلینڈ میں ہوتے اور میں بھی ساتھ میں ہوتی تو مسئلہ نہیں تھا

لیکن اب میرے اشی ویرو واپس پاکستان آ چکے ہیں تو اب نہ میں وہاں پر جا کے نہیں پڑھ سکتی لیکن میں یہاں پر پڑھوں گی

ویسے بھی میں نے کونسا کوئی ڈاکٹری کرنی ہے اس نے منہ بنا کر کہا تھا جیسے اپنی خواہش کو اندر ہی اندر دبا گئی ہو۔

یار میں سمجھ سکتی ہوں لڑکیوں کو اس طرح باہر بھیجنا آسان نہیں ہوتا ہے خیر چھوڑو ہم کیا فضول باتیں لے کر بیٹھ گئے چلو آؤ کینٹین چلتے ہیں میں نے سنا ہے کہ یہاں کی کینٹین میں بڑے مزے کی چیز ملتی ہیں۔

وہ زبان لبوں پر پھیرتے ہوئے بولی ۔تو حرم بھی مسکرا کر اٹھ گئی تھی

°°°°°°

وہ دونوں تقریبا بھاگتے ہوئے کلاس تک آئی تھی کیونکہ ابھی پتہ چلا تھا کہ انگلش کی کلاس شروع ہوچکی ہے اور انگلش کا پرفیسرضرورت سے زیادہ سٹرکٹ ہے۔

سر کیا ہم کلاس میں آ سکتے ہیں وہ کلاس کے باہر کھڑی اجازت مانگ رہی تھی جبکہ کلاس دھڑادھڑ سٹوڈنٹس سے بھری ہوئی تھی۔یقینا وہ سچ میں بہت سخت ٹیچر تھا تبھی تو اس کی کلاس کوئی مس نہیں کرتا تھا۔

اردو میں کیوں پوچھ رہی ہے انگریز ہے انگلش میں پوچھ حرم۔۔ میشا نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تھی۔

وہ سچ میں کوئی انگریز ہی لگ رہا تھا یقینا وہ انگریز تھا اور پھر اسے یہاں آنے سے پہلے ہی یہ بات پتہ چل گئی تھی کہ ان کے کچھ ٹیچرز فورن سے انہیں پڑھنے کے لئے آئے ہوئے ہیں یقیناً وہ ان میں سے ایک تھا

نہیں آپ میری کلاس میں تشریف نہیں لا سکتی آپ یہاں سے دفع ہو جائیں اور کل کی کلاس لینے کے لئے وقت پر آ جائیے گا۔

لیٹ آنے والوں کی میری کلاس میں کوئی جگہ نہیں ہے اس نے انگلش میں جواب دیا اور پھر سے اپنے لیکچر میں مصروف ہوگیا۔

حرم تو پہلے ہی دن اپنی اتنی بےعزتی پر شرمندگی سے سر جھکا گئی۔

اور پھر وہ دونوں ہی کلاس کے تھوڑے سے فاصلے پر بیٹھ گئی مطلب پہلے ہی دن ان کی اتنی بےعزتی ہوچکی تھی جس کا ان دونوں نے سوچا بھی نہیں تھا

ساری غلطی تمہاری ہے تمہیں کیا ضرورت تھی کہ ایک دن میں جا کر ایک ایک چیز ٹیسٹ کرنے کی اب ایسا ہی ہوگا

آئندہ کبھی ان کی کلاس لیٹ نہیں کریں گے تمہیں پتا ہے میں اپنے کالج میں ہر ٹیچر کے فیورٹ سٹوڈنٹس میں کبھی بھی کچھ الٹا سیدھا نہیں کیا تم نے پہلے ہی دن مجھے بگاڑ دیا۔

وہ کیا سمجھ رہے ہوں گے کہ ہم اتنے غیر ذمہ دار ہیں کہ اپنی کلاس سے زیادہ ہمیں کینٹین میں کھانے پینے کی فکر لگی ہوئی تھی

یار پہلے ہی دن ہمارا اتنا برا امپریشن پڑا ہے ان سر پر وہ کبھی بھی ہمیں اچھے اسٹوڈنٹس کی لسٹ میں شامل نہیں کریں گے۔

کہتے ہیں نا فرسٹ امپریشن از دا لاسٹ امپریشن یہ بھی بالکل وہی ہوا ہے میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ سر اینڈ تک کبھی یہ دن نہیں بھولیں گے۔

حرم دکھ سے بول رہی تھی جب تھوڑی ہی دیر میں ٹیچر کلاس سے نکل کر باہر کی طرف جانے لگے وہ دونوں اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔

اور ان کے ساتھ ہی دوسری کلاس سے نکلنے والا ایک اور انگریز ٹیچر ان کے ساتھ باہر کی طرف جانے لگا۔

وہ دونوں مسکرا رہے تھے ان کی فر فر انگلش نے میشا کو بہت امپریس کیا تھا

انگریزوں کی اولادیں نہ ہوں تو یار گورے کتنے پیارے ہوتے ہیں نہ پتا تو چلے اس انگریز کا نام کیا ہے جو ہماری کلاس میں پڑھاتا ہے۔

ویسے ہے بڑا ہینڈسم وہ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے بولی تو حرم نے گھور کر اسے دیکھا۔

استغفراللہ بدتمیز وہ ہمارے روحانی باپ ہیں حرم نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا تھا اس طرح کی بدتمیزی اسے ہرگز پسند نہیں تھی۔

چل جانی پھر آجا اپنے روحانی ابے کا نام پوچھ کے آتے ہیں ۔وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ گھسیٹنے لگی

یہ مذاق نہیں ہے میشا میں ٹیچرز پر مذاق برداشت نہیں کرتی اس نے غصے کہا

اچھا یار سوری چل آ جا وہ معذرت کرتی بولی جبکہ حرم نے پہلے ہی اپنا ہاتھ چھڑوا لیا اور پلر کے پیچھے جاچھپی کیونکہ ٹیچرز انہیں دیکھ کر رک گئے تھے۔

سر آج کے لیے بہت معذرت ہم کلاس میں لیٹ ہو گئے کیونکہ ہمارا پہلا دن تھا کیا میں آپ کا نام جان سکتی ہوں اگر آپ کو برا نہ لگے تو،،

وہ بڑے ہیں کانفیڈنس سے جا کر اس سے بات کرتے انگریزی میں سوال جواب کرنے لگی جب کہ اس ٹیچر کے چہرے پر بلاکی سنجیدگی تھی

یشام۔۔۔۔۔۔جواب دوسرے ٹیچر کی طرف سے آیا تھا جس پر وہ مسکرائی

یشام سمتھ یا یشام رابرٹ اس سے تھوڑی دیر پہلے ہی بورڈ سے ٹیچر سمتھ اور ٹیچر رابرٹ پڑھا تھا اسی لئے کنفرم کرنا چاہتی تھی۔

یشام احمر ۔۔۔اس دفعہ جواب اس نے خود دیا تھا جس پر میشا صرف سر ہلا کر واپس پیچھے کی طرف بھاگ گئی تھی

یہ تو یار مسلم نکلا دیکھنے میں تو پکا انگریز لگتا ہے۔

وہ اس کا ہاتھ تھامتی تیزی سے نیچے کی طرف جاتے ہوئے اسے بتا رہی تھی جبکہ حرم تو دور تک خود کو کسی کی نظروں کے حصار میں محسوس کر رہی تھی۔

°°°°°°

اتنی دیر ہو گئی اب تک کیوں نہیں آیا ڈرائیور وہ یونیورسٹی سے باہر نکلی تو اسے ڈرائیور کہیں نظر نہیں آیا اس نے سوچا کہ واپس اندر چلے جانا ہی بہتر ہے ورنہ اتنی دھوپ میں تو وہ جل کر رہ جائے گی ۔

آج حرم کا کالج کا پہلا دن تھا اور وہ بہت خوش تھی کہ جس طرح سے اس نے سب سے لڑ لڑ کر کالج کے بعد یونیورسٹی کی اجازت لی تھی

اسی طرح حرم بھی کامیاب ہوگئی تھی اور ویسے بھی دادا جان کے ساتھ اس کی محبت بھی تو مثالی تھی۔

سب سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے وہ بھی دادا جان کی کافی زیادہ لاڈلی تھی

اور وہ زبردستی ان کی لاڈلی پوتی بھی بنی تھی کیونکہ دادا جان پوتیوں کے معاملے میں کافی سخت تھے۔

لیکن حرم بچپن سے ہی ہر وقت ان کے ساتھ چپکی رہتی ان سے باتیں کرتی ان سے ان کے جوانی کے قصے سنتی یہی وجہ تھی کہ وہ بہت جلد دادا جان کی سب سے لاڈلی اور پیاری پوتی بن گئی تھی۔

ورنہ باقی سب پوتیوں کو پیار نام پر غصہ اور سختی ہی ملی تھی ان کا سارا کا سارا پیار تو صرف خداش کاظمی کے لئے تھا۔

وہ یوں ہی تو نہیں اس سے نفرت کرتی تھی اس سے نفرت کرنے کی اس کے پاس بہت مضبوط وجہ تھی

صرف اس کے مقابلے میں نہیں بلکہ اس پورے خاندان کے مقابلے میں جتنی زیادہ اہمیت خداش کاظمی کو ملی تھی اتنی کسی کو نہیں ملی تھی

اسے دنیا کی سب سے بہترین یونیورسٹی سے تعلیم دلوائی گئی

اسے اس کے ہر شوق کو پورا کرنے کی مکمل آزادی دی گئی

یہاں تک کہ سب کو لگتا تھا کہ دادا جان کی خاندانی دشمنی اور وہ گھوڑے کی فضول قسم لی ریس اب ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی

لیکن دس سال پہلے اچانک ہی خداش کاظمی نے اس ریس میں حصہ لے کر اسے جیت لیا اور پھر دادا جان کی نظروں میں اس کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ گئی۔

نجانے دادا جان کے لیے وہ ریس اتنی اہم کیوں تھی لیکن اس بات کا یقین سب کو تھا کہ خداش کاظمی اس میں کسی طرح کا کوئی انٹرسٹڈ نہیں دکھائے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔

بلکہ اس نے نہ صرف انٹرسٹ دکھا کر یہ ریس جیتی تھی بلکہ ہر سال وہ صرف اس ریس کے لیے انگلینڈ سے پاکستان آتا اور پھر جیت کر واپس چلا جاتا۔

دادا جان کو تو اپنے پوتے کی ہر ادا پسند تھی اس کا بات کرنا چلنا یہاں تک کہ وہ سانس بھی لے تو دادا جان کو اس کا انداز منفرد اور پرفیکٹ لگتا تھا

وہ اپنے سامنے سب کو اس طرح سے ٹریٹ کرتا تھا جیسے کسی کی کوئی اہمیت ہی نہیں وہ سب پر بہت بار یہ واضح کر چکا تھا کہ اس گھر میں جو ویلیو اس کی ہے وہ کسی اور کی نہیں

مشال آپی اور منشا آپی تو اکثر کہتی تھی کہ ان لوگوں کا ہونا نہ ہونا ایک برابر ہے۔

اس گھر میں کسی کا ہونا اہمیت رکھتا ہے تو صرف اور صرف دادا جان کے پوتے کا۔۔۔۔

اسے تو اپنے باپ پر بھی غصہ آتا تھا جو مشال آپی کی پیدائش کے بعد سے لے کر اب تک بس بیٹے کی خواہش پر ہی اپنے آپ کو کوستا رہا

اور ساتھ میں ان بیٹیوں کو بھی کہ اگر ایک بیٹا ہو جاتا تو شاید دادا جان کی نظروں میں ان کی اہمیت بھی بن جاتی

لیکن ایسا نہ ہوسکا تایا جان کے ہاں منشا آپی کی پیدائش کے ڈیڑھ سال بعد وہ پیدا ہوا ۔

اور اس کی پیدائش کے بعد اس خاندان میں کسی لڑکے نے جنم ہی نہیں لیا دادا جان کی تمام تر توجہ کا مرکز وہ اکیلا انسان بن گیا تھا اور پھر اکڑ اور غرور تو دادا جان کی دین تھی

اور کچھ اس کے باپ اور چچا کی بھی کہ تم اس خاندان کے اکلوتے وارث ہو تم شہزادے ہو تم بادشاہ ہو سب کچھ تم ہی ہو

اور تم نے سنبھالنا ہے اس خاندان کو وارث تم نے دینا ہے

تم نے یہ کرنا ہے تم نے وہ کرنا ہے

اور اس سب کی وجہ سے اس کے اندر ایسا غرور آیا تھا کہ وہ خود سچ مچ کا بادشاہ سمجھنے لگا ۔کم از کم اسے تو ایسا ہی لگتا تھا

کیونکہ اس کی بات کوئی ٹال نہیں سکتا تھا اگر کوئی اس کی بات کی نفی کرتا تو شکایت سیدھی دادا جان کے پاس جاتی

اور پھر دادا جان اس کا کیا حال کرتے یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں تھا

اسے سمجھ نہیں آتا تھا کہ آخر اس کے خاندان میں بیٹے کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے۔۔۔

وہ ہمیشہ اپنے آپ کو بے بس اور غیر ضروری محسوس کرتی تھی ہاں یہ بات الگ تھی کہ ان کو بھی بہت پیار ملا تھا لیکن اہمیت صرف اور صرف خداش کاظمی کی تھی۔

اس نے خود اپنے لئے اسٹیپ اٹھایا خود لڑی جھگڑی اور آخر اس نے کالج میں ایڈمیشن لیا گاؤں کے کالج میں ایڈمیشن لینے کے بجائے اس نے سیدھے شہر کے کالج میں ایڈمیشن لیا تھا۔

جو کہ بہت بڑے پیمانے پر تھا اور یہاں کی پڑھائی بھی باقی لوکل کالج سے بہت اچھی تھی حالانکہ اس کا ارادہ بھی باہر جاکر پڑھنے کا تھا۔

کیونکہ وہ بہت ہی شاندار نمبروں سے پاس ہوئی تھی لیکن پھر اسے اس بات کا احساس دلایا گیا کہ وہ خداش کاظمی نہیں ہے۔

بلکہ وہ دیشم کاظمی ہے ۔خاندان کی بیٹی ہے اسے ایک حد میں رہنا ہے وہ اپنے لئے لڑ جھگڑ کر یونیورسٹی میں آئی تھی

تبھی تو اسے باغی کہا جاتا تھا اسے بدلحاظ کہا جاتا تھا کیونکہ وہ اپنے لیے لڑنا جانتی تھی۔

شاید اب حرم بھی اس والی لسٹ میں آنے والی تھی آخر اس لسٹ میں ایک اور نام کا اضافہ ہونے والا تھا کیونکہ حرم نے شہر کے کالج میں ہی ایڈمیشن لے چکی تھی۔

جس بات کی اسے بہت خوشی تھی کچھ حد تک اس نے اس کی حوصلہ افزائی کی تھی کہ اسے ہر حال میں آگے پڑھائی جاری رکھنی چاہیے کیونکہ اس نے ایف ایس سی میں اپنے بورڈ میں ٹاپ کیا تھا۔

اور جب اس نے دادا جان کو رزلٹ دکھاتے ہوئے اپنی فرمائش کا اظہار کیا تو اس نے اپنے لاڈلے پیارے دشی ویرو(خداش کاظمی) کا سہارا لیا تھا

اور وہ اپنی لاڈلی بہن کی کوئی بھی بات کس طرح سے ٹالتا۔وہ تو اس کی جان تھی ۔اس کا رونا دھونا کام آ گیا تھا

اس نے حرم کی سفارش دادا جان سے کر دی تھی اس وعدے کے ساتھ کہ وہ خود اسے لے جائے گا اور خود چھوڑنے بھی جائے گا۔

صبح تو وہ ہی انہیں چھوڑنے کے لئے آیا تھا لیکن وہ اپنی ذمہ داری نبھا نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ ضرورت سے زیادہ مصروف رہتا تھا۔

جس کی وجہ سے دادا جان کا اکڑو پوتا اب تک انہیں لینے کے لئے نہیں آیا تھا

حرم کا کالج زیادہ دور نہیں تھا بلکہ یہی سے تھوڑے سے فاصلے پر تھا اگر پانچ منٹ کا فاصلہ کہا جائے تو غلط نہیں تھا۔

صبح وہ انہیں چھوڑ کر گیا تھا اور اب تک کسی کے آنے کی کوئی امید نہ تھی

حرم کا کالج ٹائم آف ہوئے تقریبا آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا جب کہ وہ بھی اپنی آخری کلاس لے کر تقریبا ایک گھنٹہ سے اس کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی

°°°°°°