Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 82)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 82)
Junoniyat By Areej Shah
میں یہ گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی یہ میرے مرحوم شوہر کا گھر ہے جس پر میں پورا حق رکھتی ہوں میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی میں ان کی بیوہ ہوں۔
تمہارے حق کی ایسی کی تیسی تمہیں تو ایک سیکنڈ اور ہم یہاں اس گھر میں نہیں رہنے دیں گے ۔اور کتنے رنگ دکھانے ہیں تم نے اپنے ارے وہ بیچارہ تمہارے لئے لڑتے لڑتے مر گیا اور تم نے اپنے گندے کام نہ چھوڑے ۔
کیا لگتا ہے تمہیں اتنا کچھ کرنے کے بعد بھی ہم تمہیں اس گھر میں رہنے دیں گے ۔ان کا انداز طنزیہ تھا
کیا کیا ہے میں نے آج جواب دیں مجھے آخر کس بات کا طنز کیا جارہا ہے کس چیز کا طعنہ مارا جارہا ہے مجھے بتائیں کیا قصور ہے میرا کون سے چیز آپ کے دل میں چبھ رہی میرے بارے میں ۔
آخر کون سی ایسی غلطی کی ہے میں نے جس کے لئے آپ مجھ سے اتنی نفرت کرتے ہیں آپ لوگ مجھے بدکردار کہتے ہیں لیکن شاید آپ لوگ یہ نہیں جانتے کہ آپ کے بھائی کو شادی کے لیے میں نے نہیں کہا تھا بلکہ وہ خود میرے پیچھے پیچھے آتے تھے
میں نے ان سے شادی سے انکار کر دیا تھا کیونکہ میں تو بس اس مذہب میں آ کر خوش تھی کہ مجھے ایک صحیح راہ مل گئی ہے شادی کے لیے انہوں نے مجھے فورس کیا تھا ۔مجھ پر دباؤ ڈالا گیا تھا مجھے مجبور کیا گیا تھا ۔
اور اس شخص کی محبت کے سامنے میں ہار گئی لیکن آپ لوگوں نے تو میرے کردار کو تار تار کر دیا آپ لوگوں نے میرے معصوم بچے کو ناجائز قرار دیا ۔
میں نہیں جانتی کہ کب کس وقت آپ لوگوں نے میرے کردار میں کوئی جھول دیکھا ہے لیکن میں آپ لوگوں کے کہنے پر کبھی اپنے گھر کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی شاید میں آپ کی فضول باتوں کا بھی جواب نہ دیتی لیکن اب بات میرے بچے کے آخری آسرے پر آ گئی ہے ۔
اور میں آپ کے تو کیا کسی کے بھی کہنے پر یہ گھر چھوڑ کر نہیں جانے والی ۔یہ میرے شوہر کا گھر ہے میں یہاں ہی رہ رہی ہوں پچھلے 12 سال سے مجھے ان کی جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہئے لیکن آپ لوگ مجھ سے میری چھت تو نہیں چھین سکتے ۔
بس ہمارے سامنے کے ڈرامے بازیاں کرنا بند کر دو تمہیں کیا لگتا ہے کہ ہم تمہاری باتوں میں آجائیں گے کیا کیا ہے تم نے اور تمہارا کردار کس طرح کا ہے اگر یہ بتانے کے لئے ہمیں عدالت جانا پڑا نہ تو بھی جائیں گے ۔
ہم پر ہمارے بھائی پر یا اس کے اس گھر تمہارا اور تمہارے اس بچے کا کوئی حق نہیں ہے اگر تم نہیں چاہتی کہ ہم تمہیں اور تمہارے اس ناجائز گند کو دھکے مار کر یہاں سے نکالیں بہتر ہے کہ اپنا رستہ ناپو کیونکہ حاصل تو تمہیں کچھ بھی نہیں ہوگا ۔
وہ اپنی بات مکمل کرتے ہوئے باہر کی راہ لے چکے تھے جبکہ راحیل وہیں کھڑا مسکرا رہا تھا ۔
ارے ارے ارے کنیز مجھے تم پر بہت ترس آ رہا ہے کتنے ظالم لوگ ہیں تمہیں گھر سے نکال رہے ہیں میں سمجھ سکتا ہوں لیکن تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہونا میں تمہیں سہارا دوں گا تمہیں بھی اور تمہارے بیٹے کو بھی لیکن کے لئے میری ایک چھوٹی سی شرط ہے تمہیں ۔۔۔۔۔۔
راحیل صاحب خدا کے لئے اپنی زبان سے کچھ بھی ادا کرنے سے پہلے یاد رکھئے گا کہ میں آپ کے مرحوم ماموں زاد کی بیوہ ہوں۔ اس نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تھا ۔
بڑی سمجھ دار ہو تم کنیز فاطمہ ابھی تو میں نے اپنی بات کی ہی نہیں اور تم میری بات کی گہرائی تک بھی پہنچ گئی اچھی بات ہے بہت اچھی بات ہے لیکن میری آفر محدود مدت کے لیے نہیں ہے تمہارے سہارے کی قیمت صرف ایک رات ۔۔۔۔۔۔۔
چٹاخ۔ ۔۔۔۔وہ کافی دیر کھڑی خودپرضبط کرتی رہی تھی ۔لیکن پھر اس کی برداشت سے باہر ہوگیا
کوشش کیجئے گا کے دوبارہ یہاں تشریف نہ لائیں ۔ورنہ مجھے مجبورا پولیس کا سہارا لینا پڑے گا ۔وہ اسے باہر کا رستہ دکھاتے ہوئے بولی ۔تو راحیل فورا ہی غصے سے وہاں سے نکل گیا تھا اپنے منہ پر پڑنے والے اس تمانچے کو شاید وہ زندگی بھر یاد رکھنے والا تھا
°°°°°°
وہ جتنا جلدی ہو سکے سب سے جان چھڑا کر کمرے میں آیا تھا اس کی بے تابیاں عروج پر تھی
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بس اپنی ریدم کے پاس پہنچ جائے اور اسے اپنی بے پناہ محبتوں کا یقین دلائے
پہلے تو ذریام نے اسے خوب پھنسا کر رکھا ہے اسے خوب تنگ کیا لیکن پھر آخر کار اسے اپنے معصوم بھائی پر ترس آ ہی گیا ۔یا یہ کہنا ٹھیک رہے گا کہ اسے اپنی بیوی کی یاد ستانے لگی اور اسے چھوڑ کر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔
اور آخر کار وہ بھی اپنے کمرے میں آگیا لیکن اس کی خوشیوں کو مٹی میں ملاتے ہوئے ریدم اس کے آنےسے پہلےہی اپنے کپڑے چینج کر کے بڑے ہی مزے سے بلینکیٹ لے کر بیڈ پر گہری نیند سو رہی تھی ۔اچھی امید تو وہ اس سے رکھ ہی نہیں سکتا تھا لیکن وہ اس معصوم کے جذبات کے ساتھ ایسا بھی نہیں کر سکتی تھی
شاید وہ اسے تنگ کرنے کے لیے ایسا کر رہی تھی ۔ہاں یقیناً وہ اسے تنگ کرنے کے لیے ہی ایسا کر رہی تھی ورنہ وہ اتنی بے رحم تو ہو ہی نہیں سکتی تھی اس سوچ کے ساتھ بیڈ کے پاس آیا تھا ۔
ریدم ریدم اٹھ جا شیرنی کیوں ستا رہی ہے مجھے وہ اس کے سر پر سے بلینکیٹ کھینچتے ہوئے بولا تھا لیکن سامنے اسے گہری نیند میں پا کر اسے گھورنے لگا ۔
ریدم۔۔۔۔۔۔اس نے سختی سے اسے پکارا تھا لیکن جواب نا آیا۔ مطلب وہ گہری نیند سو رہی تھی ۔
ریدم تم اپنے محبوب شوہر کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی مانا کہ میں محبوب شوہر ثابت نہیں ہوا تمہارے لیے ظالم ثابت ہوا ہوں تمہارے حق میں لیکن یار میں سارا مداوا کروں گا میں جانتا ہوں میں نے تمہارے ساتھ بدسلوکی کی ہے اور تمہارے ساتھ زبردستی کر کے تمہارے ساتھ ظلم کیا ہے لیکن میں کیا کروں تمہاری ان باتوں نے مجھے بہت زیادہ ڈسٹرب کر دیا تھا میں ایسا کرنے کے لئے مجبور ہوگیا تھا پلیز مجھے معاف کر دو ۔وہ بےحد مدہم آواز میں بول رہا تھا ۔
جو ریدم کے کانوں میں تو کیا ہی جاتی اس کے اپنےکانوں میں بھی کم ہی سنائی دے رہی تھی اف معافی مانگنا بہت مشکل تھا اس بات کا احساس اسے آج ہوا تھا ۔
وہ کافی دیر اس کے چہرے کو دیکھتا رہا بند آنکھیں دھلا دھلایا چہرہ اس کی ساری بے قراریوں کو عروج پر لے گیا تھا لیکن وہ جیسے آج اس کے ہاتھ آنے کا کوئی ارادہ ہی نہیں رکھتی تھی اس کے جذبات کا بیڑا غرق کر کے وہ مزے کی نیند لے رہی تھی شاید اسے اس کے کرتوتوں کی سزا دے رہی تھی ۔
اور شاید اس نے قسم بھی کھا رکھی تھی کہ وہ آسانی سے بخشنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ۔
آخر کا تھک ہار کر وہ خود ہی اس کے بیڈ کے قریب سے اٹھ کھڑا ہوا اور چینج کرنے چلا گیا اس کی واپسی تقریبا دس منٹ کے بعد ہوئی تو وہ اسے اسی طرح سے سوتی ہوئی ملی
وہ جو اس کے دل میں تھوڑا سا شک تھا کہ شاید وہ جاگ رہی ہے صرف اسے تنگ کرنے کے لیے سونے کا ڈرامہ کر رہی ہوگی وہ غلط فہمی بھی دور ہو چکی تھی
وہ اس کے جذبات کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکال چکی تھی اور اس کے حق پر فاتحہ پڑھ کے اب مزے سے سو رہی تھی ۔
تمہیں اس چیز کے لیے میں کبھی معاف نہیں کروں گا جانتا ہوں میں تمہارے ساتھ بہت ظلم کیا ہے مزید میں تمہیں خود سے نفرت کرنے کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتا کرنا ورنہ شائزم شاہ اپنا حق چھوڑنے والوں میں سے ہرگز نہیں ہے لیکن یہ تم نے مجھ پر سچ میں بہت بڑا ظلم کیا ہے ریدم اس کا احساس میں تمہیں ضرور دلاؤں گا جاؤ کیا یاد کرو گی کرلو اپنی نیند پوری
اب اتنا بھی ظالم نہیں ہے تمہارے سر کا سائیں کہ تمہاری نیند کی بھی پروا نہ کرے ۔لیکن اس کا انتقام میں ضرور لونگا آج نہیں تو کل سہی ۔اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے اس نے بڑی شدت سے بھرپور انداز میں گستاخی کی تھی وہ جو گہری نیند سو رہی تھی
ذرا سا کسمسائی لیکن اس کی نیند نہ ٹوٹی یقینا بہت تھک چکی تھی آج شادی کے ان ہنگاموں میں اسی لیے اتنی گہری نیند سو رہی تھی وہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس اپنی جگہ بناتا اس کے نازک خوشبو سے سجے وجود کو اپنی بانہوں میں قید کرتا آنکھیں موند گیا تھا
°°°°°°
زریام تیزی سے قدم اٹھاتا کمرے میں داخل ہوا تھا جب اسے الماری میں سر دیے پایا اس سے پہلے کہ وہ اپنی چینجنگ کے لیے کوئی کپڑے نکالتی وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچ چکا تھا ۔
کالے رنگ کی خوبصورت ساڑھی میں اس وقت اس کا نازک دل کش سراپا اس کی پرشوق نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا وہ کب سے بے تابی سے کمرے میں آنے کا انتظار کر رہا تھا اور آخر کار وہ ہی گیا تھا اپنی جان کے پاس
آج اگر میرا انتظار کیے بنا تم چینج کر لیتی تو قسم سے بہت برا حال کرتا تمہارا اس کی کمر میں بازو حمائل کرتے وہ اسے اپنے بے حد نزدیک کر چکا تھا ۔
اور آپ کو لگتا ہے کہ میں ایسا کچھ کرتی ۔۔۔۔؟اس کی گلے میں بازو ڈالتے ہوئے اس نے بڑے ہی دلفریب انداز میں پوچھا تھا وہ تو اس کے انداز پر قربان ہونے کو تیار ہو گیا ۔
اب اتنی بھی ظالم نہیں ہو تم کیا اپنے معصوم شوہر کے ساتھ اتنا ظالمانہ سلوک کرتی اس کے رخسار کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے اس نے بڑی ہی محبت سے اس کی بیوٹی بون کو چوما تھا ۔
جبکہ اس کے انداز پر وہ شرماتے ہوئے اس کے سینے پر اپنا سر رکھ کر کے خود کو اس کے سپرد کر چکی تھی اس کی نازک سے وجود کو اپنی بانہوں میں قید کرتا وہ اسے بیڈ پر اٹھا لایا تھا ۔
اب زریام شاہ تھا اور اس کی بے پناہ محبتوں کو محسوس کرتی عمایہ زریام شاہ جو اس کی تھی اور صرف اسی سے تھی
°°°°°°
کیا مطلب ہے آپ لوگوں کا میں ان کی بیوی نہیں یہ بات ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں ان کے نکاح میں تھی بیوہ ہوں ان کی اور ان کے جانے کے بعد اس گھر پر میرا حق ہے میرے بچے کا حق ہے میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گی ۔
آج کچھ لوگ اس کے گھر آکر اسے یہ گھر چھوڑنے کی آخری وارننگ دے رہے تھے لیگل نوٹس جاری کر دیے گئے تھے ۔
اگر آپ ان کی بیوی ہیں تو اس بات کو ثابت کریں اس طرح سے آپ یہ سب کچھ نہیں کر سکتی کیا ثبوت ہے آپ کے پاس کہ آپ احمر کاظمی کی بیوی تھیں۔
نکاح نامہ کہاں ہے وہ مولانا کہاں ہے جس نے آپ لوگوں کا نکاح پڑھوایا اور سب سے اہم بات اس نکاح کے گواہان کہاں ہیں ۔
گواہان کو تو میں نہیں جانتی لیکن مولانا کا تین سال پہلے انتقال ہو گیا ہے اور نکاح نامہ میرے پاس موجود ہے وہ کہتے ہوئے اٹھ کر الماری کی طرف آئی تھی ۔
تھوڑی دیر میں وہ پوری الماری کو کھنگال چکی تھی لیکن اس میں سے کوئی نکاح نامہ بر آمد نہ ہوا اسے یاد تھا اس نے یہیں پر سارے کاغذات رکھے تھے یہاں تک کہ یہیں پر یشام کے برتھ سرٹیفکیٹ بھی تھے ۔
لیکن اس وقت یہاں پر کوئی بھی چیز موجود نہ تھی ۔یہاں پر تو یشام کے سکول کے کاغذات بھی یہاں موجود نہیں تھے یہ سب کچھ کہاں چلا گیا تھا ۔
میں نے یہیں پر رکھے تھے اور شاید میں نے کہیں اور رکھ دیے ہوں گے میں ڈھونڈ کر لاتی ہوں آپ بیٹھیے ۔ وہ کہتے ہوئے پورا گھر دیکھنے لگی تھی لیکن نہ تو کسی کاغذ نے اس کے گھر سے ملنا تھا اور نہ ہی یہاں سے کچھ ملا تھا ۔
کچھ ہوگا تو ملے گا نہ سر یہاں پر کچھ ہے ہی نہیں کوئی نکاح ہوا ہی نہیں یہ بچہ احمر کا نہیں بلکہ نا جانے کس کا ہے احمر کے علاوہ اور بھی بہت سارے مردوں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔
بند کرو اپنی بکواس خبردار جو تم نے میرا نام کسی دوسرے کے ساتھ جوڑا اگر تمہیں یہاں میں اپنے گھر میں برداشت کر رہی ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم جو منہ میں آئے وہ بولتے چلے جاؤ یہ تربیت دی ہے تمہارے والدین نے تمہیں ایک پاک دامن عورت پر اس طرح کی گھٹیا الزام لگاؤ ۔
یہ تو غیر ہے لیکن آپ تو جانتے ہیں کیا آپ کو اس بچے میں اپنے خون کی کشش محسوس نہیں ہوتی کم از کم آپ تو اس کی گھٹیا چالوں میں آنا بند کریں۔ روز محشر آپ کو بھی اپنے بھائی کو بھی دکھانا ہوگا وہ راحت صاحب کے سامنے کھڑی بول رہی تھی ۔
تم ہمیں ان باتوں میں پھنسا نہیں سکتی لڑکی ہم تمہاری حقیقت سے بہت اچھے طریقے سے واقف ہیں۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ احمر کی موت تمہارے گھٹیا کاموں کی وجہ سے ہوئی ہے وہ بے چارہ جان گیا تھا کہ تمہارےکس کس کے ساتھ تعلقات ہیں ۔
وہ بےچارہ تویہ ہی برداشت نہیں کر سکا اسی لئے آج وہ ہمارے بیچ نہیں ہے وہ بہت نفرت سے اس کے منہ پر دھاڑے تھے ۔
جب کہ ان کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر اس نے راحیل کی طرف دیکھا تھا یہ سارے اسی کے الفاظ تھے اسی کی پلاننگ تھی یہ سب کچھ اسی نے کیا تھا نہ جانے کیوں اس کا دل چیخ چیخ کر اس بات کی گواہی دے رہا تھا ۔
°°°°°°°
تم آج بھی یہی پر رہنے والی ہووہ کمرے میں آیا تو اسے دیکھ کر کہنے لگا آج بھی گھر مہمانوں سے بھرا تھا کہ وہ آج بھی یہیں رہنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔
کیوں کیا آپ اب اس کمرے میں اپنی دوسری بیوی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اس کا انداز طنریہ تھا ۔
اگر میں ایسی کوئی خواہش کروں تو میرا نہیں خیال کہ وہ ناجائز ہوگی وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے اس کے نازک سراپے کو اپنی نگاہوں کے حصار میں لے کر بولا تھا ۔
اس کی بے باک نگاہیں اسے بری طرح سے ڈسٹرب کر رہی تھی وہ آئینے کے سامنے کھڑی اپنے بالوں کو ٹھیک کرنے میں مصروف تھی ۔
ہاں بالکل آپ جو چاہے خواہش کر سکتے ہیں ۔میں بھلا کون ہوتی ہوں اعتراض کرنے والی مجھے تو اب جلد ہی آپ آزاد کر دیں گے اور میں ہمیشہ کے لئے اس کمرے سے چلی جاؤں گی ۔
وہ برش وہی پر پٹختے ہوئے الماری سے کپڑے نکالنے لگی ۔
اس میں چیزیں پٹخنے والی کونسی بات ہے اگر تمہیں وہ برش پسند نہیں ہے تو آرام سے وہیں رکھ تو دیدم یوز کر لیا کرےگی ۔وہ اپنا تکیہ ٹھیک کرتے ہوئے سنجیدہ انداز میں بولا جبکہ وہ اسے گھور کر رہ گئی مطلب اور اس کے یوز کی چیزیں بھی دیدم کو دینے کا بھی ارادہ رکھتا تھا ۔
ہاں کیوں نہیں میں اپنا سارا سامان نہ اس کو دے دیتی ہوں ویسے بھی اپنا شوہر تو میں اس کو دے ہی رہی ہوں تویہ ساری چیزیں بھی دینے سے میرا نہیں خیال کہ میرے خزانوں میں کوئی کمی آئے گی میری ساری چیزیں آپ اس کے حوالے کردیں ۔وہ خاصی تپی ہوئی تھی ۔
پتہ نہیں تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے پہلے مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی تو ہر وقت منہ پر بارہ بجے رہتے تھے اب تمہاری مرضی سے تمہاری پسند کا کام کرنے جا رہا ہوں پھر بھی تم وہی سب کچھ کرے جا رہی ہو ۔
مجھے سمجھ میں نہیں آتا آخر تم چاہتی کیا ہو ۔۔۔۔۔! اب تو تمہیں خوش ہونا چاہیے جو کچھ تم چاہتی تھی وہی ہو رہا ہے ۔
میں تمہاری پسند کا کام کرنے جا رہا ہوں اور ۔۔۔۔۔۔
میں نے کب کہا کہ مجھے آپ سے طلاق چاہیے میں یہاں آپ سے معافی مانگ رہی ہوں اپنی غلطیوں کی معذرت کر رہی ہوں اور آپ بار بار طلاق کی رٹ لگائے جارہے ہیں میرے سامنے مجھے تو لگ رہا ہے کہ آپ کو خود ہی مجھ سے جان چھڑانے کا شوق ہے اور کچھ بھی نہیں ۔
وہ جیسے پھٹ پڑی تھی جبکہ خداش پرسکون سا اسے دیکھ رہا تھا ۔
خداش ایم سوری میں جانتی ہوں میں نے بہت غلط الفاظ استعمال کیے ہیں آپ کے سامنے بہت غلط بول گئی ہوں میں حرم کے بارے میں نہیں جانتی تھی لیکن میں جانتی ہوں کہ حرم کے موضوع سے ہٹ کر بھی میں نے آپ کی ذات کو بہت ٹھیس پہنچائی ہے لیکن ۔وہ دیدم ۔۔۔۔۔
یہی تو تمہارے ساتھ مسئلہ ہے دیشم تم رات کو کچھ اور صبح کچھ اور ہوتی ہو تم خود ہی نہیں جانتی کہ تم کیا چاہتی ہو ۔
اگر حرم کے مسئلے سے ہٹ کر بات کی جائے نہ تو تب بھی تم مجھے کبھی اپنے ہمسفر کے روپ میں چاہتی ہی نہیں تھی
تم ہمیشہ سے مجھ سے نفرت کرتی ہو وہ بھی بے وجہ تمہارے پاس مجھ سے نفرت کرنے کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے ۔لیکن پھر بھی تمہیں مجھ سے نفرت ہے
لیکن میں اپنے دل کا کیا کرتا جو صرف اور صرف تمہیں چاہتا ہے اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے اپنا دل تمہارے سامنے کھول کر رکھ دیا تمہیں اپنی محبت کا حقدار بنا دیا تمہیں اس دل کی ملکیت سونپ دی ۔اور تم نے کیا کیا مجھے ہوس پرست کہامیری محبت کو اتنے گھٹیا طریقے سے ذلیل کیا ۔
اگر میں تمہیں سب کچھ بھول کر معاف کر دوں اور اپنی سچی محبت کی توہین کا کیا کروں۔۔۔۔۔؟
اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتاؤ کہ تم معافی کی حقدار ہو ۔۔۔۔؟ اس کے بعد اب تم دیدم کے بارے میں کچھ مت کہنا اب تو گھرمیں شادی کی بات بھی چلنا شروع ہو چکی ہے اور میں وہی کروں گا جو اس گھر کے بڑے چاہتے ہیں بس اتنا کہہ کر وہ کپڑے لیے واش روم میں گھس گیا تھا ۔
جبکہ دیشم جو صرف اس سے ایک اور موقع مانگ رہی تھی اپنے آپ میں ہی شرمندہ ہو کر رہ گئی ۔
اس نے غلط کیا تھا۔لیکن اس سے زیادہ غلط تھا یہ تھا کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی کوئی بھی اس کے شوہر کی زندگی میں آ رہا تھا اور وہ کچھ بھی نہیں کر رہی تھی ۔
ساری غلطی اس کی اپنی ہی تھی وہ کسی دوسری کو اپنے اور اپنے شوہر کے بیچ میں آنے کی اجازت دی ہی کیسے رہی تھی ۔
°°°°°°
