65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 55)

Junoniyat By Areej Shah

لیں حرم میڈم سارا کام ہو گیا اور کوئی آرڈر ہے تو بتائیں ہم وہ بھی کرنے کی پوری کوشش کریں گے ۔

صیام نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا جو سارا کام ہونے کے بعد کافی خوش نظر آ رہی تھی ۔

نہیں آج کے لیے اتنا کافی ہے اگر اور کام ہوا تو میں آپ کو بتا دوں گی۔سرشوہر آپ کو فون کر لیں گے آج تو سچ مچ آپ نے ہمارا اتنا سارا کام کروایا اس نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا

ایک چھوٹا موٹا معصوم سا تھینک یو مجھے بھی بول دو میں نے بھی اپنی کمر توڑی ہےجان ۔اس کی ساری توجہ صیام کی طرف اس سے برداشت نہ ہوئی تھی ۔اس کا دل چاہا کہ وہ صیام کو ہی غائب کردے جو کب سے صرف اسے اہمیت دے رہی تھی

آپ کو کیا تھینک یو بولوں آپ تو گھر کے آدمی ہیں میرا اکیلے کا گھر خوبصورت تھوڑی ہوا ہے آپ کا بھی تو ہوا ہے آپ کو تو مجھے تھینک کو بولنا چاہیے جس نے اتنا دماغ لڑایا ۔ہے نا صیام سر۔۔۔؟

وہ اسے تھینک یو بولنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی اسی لیے منہ بنا کر بولی ۔

تمہیں اس کو تھینک یو بولنا چاہیے یشام ہم نے تو صرف یہ سامان اٹھا کر ادھر ادھر کیا ہے دماغ تو اس کا ہی تھا نا ۔اور ویسے بھی جسمانی تھکن سے کہیں زیادہ ہوتی ہے دماغ کی تھکن وہ یقینا تم سے زیادہ تھک چکی ہو گی ۔

صیام نے اس کی حالت کا مزہ لیتے ہوئے کہا ۔

صیام سر آپ کی برتھ ڈے کب ہے ۔۔۔؟اس بے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

گڑیا میری برتھ ڈے تو بہت دور ہے ۔جون میں وہ اسے دیکھتے ہوئے بولا ۔

اور شوہر سرآپ کی ۔۔۔؟ اس نے بار بار یشام سر کہنے پر ٹوکا تو اس نے خود ہی اس کا نام بنا لیا تھا ۔جس پر وہ اسے صرف گھور ہی سکا تھا

میری زیادہ دور نہیں ہے لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو کیا مجھے کوئی گفٹ دینا ہے ۔وہ مسکراتے ہوئے اس کے ننھے سے دماغ کے اندر کی بات ہے جانے کی خاطر بولا۔

نہیں نہیں مجھے کوئی گفٹ نہیں دینا اور نہ ہی مجھ سے ایسی کوئی امید رکھیے گا میں تو بچی ہوں ویرو کہتے ہیں بچے گفٹس نہیں دیتے لیتے ہیں۔اور ویسے بھی بچوں سے گفٹ نہیں لینے چاہیے ۔ میں تو ٹریٹ لینے کے لئے کہہ رہی ہوں ۔آپ کب تک مجھے ٹریٹ دیں گے اپنی برتھڈے کی اس نے تفصیل سے بتایا تو صیام کاقہقہ بلند ہوا ۔

کیا چاہیے تمہیں ٹریٹ میں؟ وہ مسکراتے ہوئے پوچھنے لگا ۔اب وہ اسے کچھ دلانےکےلیے اسے اپنے برتھ ڈے کا ویٹ نہیں کروا سکتا تھا

مجھے وہ سب کچھ جو پارٹی میں ہوتا ہے ایک عدد چاکلیٹ کیک مل جائے 2 سے3 آئس کریم اور بس یہی کچھ اس نے اپنی فرمائش نوٹ کروائی تھی ۔

کہیں باہر ڈنر نہ کریں اس نے صیام کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔

نہیں بالکل نہیں میں گھر جا رہا ہوں آل ریڈی بہت لیٹ ہوں صرف حرم کے پیپر دینے آیا تھا ۔تم حرم کو لے جاؤ ۔

صیام نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جبکہ اس کے انداز پر وہ مسکرا دیا تھا ۔وہ۔چاہتا تھا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کےساتھ وقت گزاریں

میں کپڑے چینج کر کے آؤں ۔؟ وہ ابھی ایک دوسرے کی طرف متوجہ تھے جب ایکسائٹڈ سی حرم کی آواز سنائی دی ۔

یشام نے اسے جانے کا اشارہ کیا تو وہ فورا ہی کمرے کی طرف چلی گئی تھی ۔

کتنی معصوم ہے نا یہ ۔۔۔۔صیام نے اس کے جانے پر کہا

معصوم تو بہت ہے لیکن کچھ تو ہے جس کا پردہ ہے ۔سب کچھ اتنی آسانی سے ٹھیک نہیں ہو سکتا صیام کوئی تو راز ہے ۔

میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بہت چالاک ہے یا کوئی پلاننگ کر کے یہاں آئی ہے ۔لیکن کچھ تو ہے جو وہ چھپا رہی ہے اور میں وہ جاننا چاہتا ہوں ۔

وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا تو صیام کا دل چاہا کہ وہ اسے اس دن کے بارے میں ساری بات بتا دے جب حرم نے صیام کے موبائل پر اپنے دادا جان کو فون کیا تھا اس کے موبائل پر کال ریکارڈر لگا تھا جس میں وہ ساری باتیں ریکارڈ تھی

لیکن نہیں وہ اپنے دوست کا گھر بستے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا وہ اس کی زندگی میں خوشیاں دیکھنا چاہتا تھا اسے دکھ دینے کے بارے میں تو وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا اسی لیے خاموشی سے اٹھ گیا

مجھے تو کوئی پردہ نہیں لگتا ایسا لگتا ہے جیسے حرم یہاں آ کر خوش ہے تمہیں ابھی شوہر کے روپ میں نہ سہی لیکن ایک دوست کے روپ میں قبول کر چکی ہے ۔

اور میرا یہی خیال ہے کہ تمہیں اپنے دماغ سے فضول سوچ نکالتے ہوئے اپنی زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے وہ کہہ کر وہاں سے جا چکا تھا جبکہ وہ حرم کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگا

°°°°°°

کون سے رنگ کا ڈریس چاہیے تمہیں ۔۔۔۔۔؟زریام نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا

جو آپ کو پسند ہو اس کا معصوم سا جواب آیا ۔

ہممم۔۔۔وہ ہاں میں سر ہلاتا خود ہی اس کے لیے کپڑے دیکھنے لگا ۔

یہ پیارا لگے گا تم پر سوٹ کرے گا کیا کہتی ہو وہ اسے ایک خوبصورت سی ڈریس دکھاتے ہوئے پوچھنے لگا ۔

جو آپ کو بہتر لگے ۔وہ اس کا بازو تھامتے ہوئے ڈریس دیکھ رہی تھی ۔زریام مسکرایا۔

جوتے کس طرح کے چاہیے ۔اس نے۔پوچھا۔

جو آپ کو اچھے لگیں ویسے۔اس کا جواب معصومیت سے بھرپور تھا ۔ذریام کی مسکراہٹ اور بھی گہری ہو گئی ۔

نائٹی کون سے کلر کی لوں۔۔۔۔؟ اس نے شرارت سے پوچھا۔

جی۔۔۔۔۔ج۔۔۔

چھوڑو تم سے کیوں پوچھ رہا ہوں اپنی مرضی سے لے لیتا ہوں۔جو مجھے پسند آئے کیا کہتی ہو ۔۔۔؟ وہ آنکھوں میں شرارت لیے اسے دیکھ رہا تھا ۔

نہیں۔۔۔میں۔۔۔۔کیسے ۔۔۔۔”

جیسے باقی سب کچھ میری مرضی سے پہنوگی وہ بھی میری مرضی سے پہن لینا ۔

وہ ۔۔تو۔۔می۔۔۔۔ آپ۔۔۔”

لڑکی میرے سامنے “یہ” وہ” مت کیا کرو مجھے بالکل اچھے نہیں لگتے یہ بے معنی الفاظ ۔وہ سختی سے بولا

میں نہیں پہن سکتی بے حیا لباس ۔۔۔اس نے جملہ مکمل کیا

اتنا سب کچھ میری مرضی سے لےرہی ہو ۔جیسے تمہاری اپنی کوئی پسند ہی نہیں تو سوچا یہ بھی دلا دیتا ہوں ۔

نہیں نا وہ تومیں اس لیے آپ کی مرضی سے لےرہی ہوں کیونکہ مجھے آپ کو دکھانا ہے ۔

ہاں تو وہ بھی صرف مجھے ہی پہن کر دکھانا بند کمرے میں وہ اب بھی باز نہ آیا تھا ۔

زریام ۔۔۔میں۔۔۔۔۔” نہیں ۔۔پلیز۔۔۔۔۔”وہ بھی بول رہی تھی کہ ذریام نے اچانک جھک کر اس کے لبوں پر پیار بھری مہر لگائی اور پیچھے ہٹا ۔عمایہ۔کو تو یقین ہی نہیں آیا کہ وہ بیچ مارکیٹ میں ایسی کوئی حرکت کر سکتا ہے ۔

بہت پیاری لگ رہی ہو بہت پیار آ رہا ہے تم پر ۔اس کے منہ کھول کر آگے پیچھے دیکھنے پر وہ بڑی محبت سے بولا ۔

زریام کیا ہوگیا ہے آپ کو ہم بیچ بازار میں کھڑے ہیں۔لوگ کیا کہیں گے ۔اس نے اسے جگہ کا احساس دلانا چاہا ۔

ہاں تو میں اپنی بیوی کو پیار کر رہا ہوں ۔اپنی پرسنل پراپرٹی ذاتی ملکیت پر حق جتا رہا ہوں ۔کوئی کون ہوتا ہے کچھ کہنے والا ۔۔۔؟وہ پرسکون تھا۔

اف اللہ۔۔۔ کتنے بے باک ہیں آپ زریام اگر کسی نے دیکھ لیا ہوتا تو۔۔۔۔۔۔۔”

کسی نے نہیں دیکھا جان من اور کوئی دیکھ لیتا تو کیا وہ اکھاڑلیتا ۔

چلو آؤ دوسرے کاؤنٹر پر چلتے ہیں ۔کچھ اور لیتے ہیں وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ لے جانے لگا وہ اسے صبح صبح ہی اپنے ساتھ شاپنگ پر لے کر آ گیا تھا ۔

اس نے ہزار بار منع کیا کہ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے لیکن وہ اس کی سن ہی کہاں رہا تھا وہ تو صرف اپنی کر رہا تھا .

کیا ہوا تھک گئی ہو کیا کچھ دیر آرام کرنا چاہو گی آؤ تمہیں کچھ کھلاتا ہوں ۔وہ کہہ کر اسے نیچے کی جانب لے جانے لگا جبکہ وہ بنا کچھ بھی بولے اس کے ساتھ آنے لگی تھی وہ کہاں اس کی سنتا تھا کرنی تو اس نے اپنی ہی تھی۔

تو پھر بار بار منع کرنے کی یا اسے روکنے کی ضرورت نہیں تھی ۔وہ جو کہہ رہا تھا بالکل ٹھیک تھا ۔اسی سوچ کے ساتھ وہ اس کے ساتھ نیچے آ رہی تھی جب اچانک اس کا دھیان سامنے کی طرف گیا ۔

اس نے بس ایک نظر اسے دیکھا پھر نگاہ اس انداز میں پھیر لیں جیسے اس نے کسی کو دیکھا ہی نہیں اور دل و جان سے دعا کی کہ ذریام کی نظر اس طرف نہ جائے ۔

تم نے کوئی اچھے اچھے نام سوچے ہمارے ہونے والے بچےکے لیے ۔ویسے ہمارا سوچنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں کیوں کہ دادا جان ابھی تو کچھ بھی نہیں بول رہے لیکن جب بےبی دنیا میں آئے گا نہ تب دیکھنا تم وہ تو ہمیں ہاتھ بھی نہیں لگا دیں گے بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں دادا جان ۔

وہ مزے سے اس سے باتیں کر رہا تھا جبکہ عمایہ بار بار چور نظروں سے داخلی ایریا کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ باہر جا رہا تھا ۔

اب ہم سیدھے گھر چلیں گے ناں وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی ۔

اتنی جلدی کیاہےگھر جانے کی آج گھر سے نکل آئے ہیں تو تھوڑی دیر انجوائے کر لیتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ ابھی تو ہم سمندر پر چلیں گے تھوڑی دیر لہروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کریں گے ۔بلکہ یہ کام تم کرنا میں تمہارے ساتھ چھیڑچھاڑ کروں گا ۔

جی نہیں مجھے کوئی شوق نہیں ہے لہروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا اور آپ ۔۔۔۔

اچھا لہروں کے ساتھ نہیں میرے ساتھ کر لینا ۔وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے آفر دینے لگا ۔

بہت بے شرمی والی باتیں کرتے ہیں آپ زریام وہ اسے گھور کربولی۔

لیکن جان میں نے کونسی بے شرمی والے بات کی ہے ذرا ایکسپلین کرو میں تو لہروں کی بات کر رہا ہوں ۔وہ بالکل معصوم بنا ۔

یہ مطلب تم نے کیا سوچا کہیں تم نے یہ تو نہیں سوچا کہ میں وہاں سمندر پر تمہیں “کس” چھی چھی چھی عمایہ تمہاری سوچ بھی نا ۔۔۔۔۔۔گندی لڑکی وہ شرارت سے بھرپور انداز اپنائے ہوئے تھا

ویسے اگر تمہیں کس چاہے تو ایم ریڈی لیکن یہاں ہوٹل میں اتنے لوگوں کے بیج اچھا تھوڑی لگے گا وہ معصوم۔بنا۔

اچھا تو جب تھوڑی دیر پہلے وہاں مارکیٹ میں آپ مجھے ۔۔۔۔۔

اوکے اوکے بابا ٹھیک ہے میں کس کروں گا تمہیں سمندر پر اٹس اوکے اتنا ہائپر ہونے والی کونسی بات ہے اس میں وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا تو عمایہ کو ڈھیر ساری شرمندگی نے آلیا وہ اسے باتوں میں پھنسا چکا تھا ۔

آپ بہت بُرے ہیں زریام۔۔۔۔وہ بس اتنا ہی کہہ سکی ۔جبکہ اسے اتنا شرماتے دیکھ وہ کھل کر ہنسنا تھا ۔

°°°°°°

دادا جان ٹکٹ بک کروا چکے ہیں ہماری کل شام کو نکلنا ہے سامان پیک کر لینا ۔وہ کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولا ۔

مجھے کہیں نہیں جانا میں پہلے بھی بتا چکی ہوں وہ بدتمیزی سے گویا ہوئی ۔

تم سے کسی نے نہیں پوچھا اور نہ ہی تم سے کوئی پوچھے گا ۔اگر کل شام تک تیار نہیں ہوئی تو میں زبردستی لے جاؤں گا ۔

اور یہ تو تم جانتی ہو کہ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔تمہارے معاملے میں اب مجھے تمہاری بھی اجازت کی ضرورت نہیں ۔

زبردستی کریں گے آپ میرے ساتھ ۔۔۔؟وہ اس کے سامنے آ کر پوچھنے لگی انداز میں واضح بدتمیزی کا عنصر شامل تھا ۔

تمہاری نظروں میں زبردستی کیا ہے دیشم ۔۔۔۔ میں نہیں جانتا میری نظروں میں یہ میرا حق ہے ۔اور تم میرے کسی حق سے پیچھے ہٹنے کا کوئی حق نہیں رکھتی ۔

تیاری کر لو ہمیں کل شام کو یہاں سے نکلنا ہے اب کوئی فضول بحث نہیں ۔میں مزید لڑنے کے موڈ میں نہیں ہوں اور نہ ہی تمہاری سننے کے ۔

آگے بڑھو جو ہوا سب بھول جاؤ یہ اسی طرح سے لکھا تھا اب اپنی زندگی کے بارے میں سوچوں بہت لمبی زندگی پڑی ہے ایک دوسرے کے ساتھ جینے کی لڑیں گے مریں گے

لیکن جو بھی کریں گے ایک ساتھ کریں گے تمہاری طلاق لینے والی خواہش تو میں کبھی بھی پوری نہیں ہونے دوں گا یہ زندگی تمہیں میرے ساتھ ہی برباد کرنی پڑے گی اپنی مرضی سے یا پھر بقول تمہارے میں زبردستی کروں گا ۔

لیکن ہم رہیں گے ساتھ ہمیشہ ہر قدم پر میں ہر وہ راہ بند کر دوں گا جو تمہیں مجھ سے دور لے جائے ۔

بہتر ہے کہ پرانی ساری باتیں بھول کر اپنی نئی زندگی کے بارے میں سوچو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ تم میرے ساتھ بہت خوش رہو گی میں کبھی تم پر کوئی مصیبت نہیں آنے دونگا تمہارے چہرے کی مسکراہٹ کے لیے ہر حد پار کر جاؤں گا ۔

مجھے یقین ہے ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ایک خوبصورت زندگی گزار سکتے ہیں ۔فضول بحث و تکرار میں پڑنے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

میں تم سے وعدہ کرتا ہوں تمہارا ہر خواب پورا کروں گا تمہیں وکیل بننا ہے اپنی پڑھائی مکمل کرنی ہے میں تمہارا ساتھ دوں گا ۔ویسے وکیل بننے کے بعد تم اپنا یہ کیس خود لڑ پاؤگی ہے ناگریٹ آئیڈیا ۔کتنا اچھا شوہر ملا ہے تمہیں جو خود تمہیں جیتنے کے طریقے بتارہا ہے ۔

وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔

آپ کبھی کامیاب نہیں ہونگے خداش کاظمی اس میں اگر آپ نے میرے ساتھ کسی بھی طرح کی زور زبردستی کرنے کی کوشش کی اچھا نہیں ہوگا اگر آپ نے اپنی جھوٹی محبت کا جال بچھا کر مجھے پھنسانے کی کوشش کی تو یاد رکھیے گا میں آپ پر آپ کی زندگی کی ہر سانس تنگ کر دوں گی

مجھے آپ سے ڈر نہیں لگتا اور نہ ہی میں باقیوں کی طرح آپ کی جی حضوری کروں گی ۔

آپ کی کوئی بھی خواہش میرے وجود سے پوری نہیں ہوگی یاد رکھیے گا ۔میرے ساتھ آپ کو زندگی کی کوئی خوشی نہیں ملے گی ۔

میرے ساتھ صرف اپنی زندگی برباد کریں گے آپ اور کچھ ن۔۔۔۔۔۔وہ بول ہی رہی تھی جب خداش نے اچانک اس کے بالوں کو تھامتے ہوئے اسے اپنے قریب کیا اور اس کے نازک گداز لبوں پر اپنے ہونٹ رکھ گیا ۔

انتہائی محبت سے وہ اس کے لبوں سےاپنے تشنہ لبوں کی تشنگی مٹانے لگا لیکن دیشم کی مزاحمت نےاس کی گرفت سخت کر دی تھی ۔وہ جتنا اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کر رہی تھی وہ اتنا ہی اسے خود میں قید کرتا چلا جا رہا تھا ۔

اس کی گرفت میں سختی بڑھنے لگی تو دیشم کی سانس اکھڑنے لگی اسے خود سے دور کرنے کی ہر کوشش میں ناکام ہوتے ہوئے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔

اور یہ وہ واحد حربہ تھا جس سے وہ خداش کو خود سے دور کر سکتی تھی ۔

کیا ہوا بس اتنی ہی ہمت تھی اگر لڑ نہیں سکتی تو مقابلے پر کیوں اترتی ہو تم وہ اس کے لبوں کو آزاد کرتا اس کا آنسوؤں سے تر چہرہ صاف کرتے ہوئے بولا ۔

تمہاری خوشیاں تمہارے غم تمہارے آنسو تمھاری مسکراہٹ ہر چیز عزیز ہے مجھے دیشم میں تمہارے ساتھ بہت خوبصورت زندگی گزارنا چاہتا ہوں ۔اگر تم اپنی مرضی سے میرے ساتھ رہتی ہو تو ٹھیک ہے لیکن اگر تم اپنی مرضی سے میرے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تو بقول تمہارے میں زبردستی کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کروں گا ۔

مجھے بس تمہارا ساتھ چاہیے۔ تمہاری مرضی تم اپنی مرضی سے میرے ساتھ اس نئی زندگی کی شروعات کرتی ہو یا پھر میں تمہیں زبردستی مجبور کرتا ہوں ۔

یقین کرو جسے محبت کرنا آتا ہے وہ زبردستی بھی کر سکتا ہے لیکن میرے لیے تمہاری مرضی اہمیت رکھتی ہے ۔مجھے مجبور مت کرو کہ میں کوئی غلط قدم اٹھاؤں۔میں تمہارے دل کو اپنی محبت سے بھر دینا چاہتا ہوں ۔

تیاری کرو ہم نے کل شام کو یہاں سے نکلنا ہے ۔اور وہاں ہم ایک نئی زندگی کی شروعات کریں گے ۔بالکل سٹارٹنگ سے کوئی گلہ کوئی شکوہ نہیں ۔اک پر سکون زندگی سے شروعات کرتے ہیں ۔

وہ اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے کمرے سے نکل گیا تھا ۔

جبکہ دیشم سر جھٹک کر رہ گئی ۔

جو وہ چاہتا تھا وہ ممکن نہیں تھا وہ کبھی اس کے ساتھ ایک نئی شروعات نہیں کر سکتی تھی اسے اس شخص سے نفرت ہو چکی تھی اور جس سے نفرت کی جائے وہ کبھی محبت کے قابل نہیں ہو سکتا ۔

وہ سب کچھ بھلا کر آگے بڑھنا چاہتا تھا جبکہ حرم کی ذات کو بھولنا اس کے لیے آسان نہیں تھا اور نہ ہی ایک قاتل کے ساتھ ساری زندگی رہنا ۔

°°°°°°°

رات تقریبا ایک بجے کا وقت تھا اسے نیند نہیں آ رہی تھی اسی لیے وہ کوئی کتاب پڑھ رہی تھی جب اسے ایسا محسوس ہوا جیسے بالکنی کی طرف کسی کا سایہ ہو

کون ہے وہاں اس نے جلدی سے باہر کی طرف قدم بڑھائے تھے کوئی تو تھا اس نے کسی کا سایہ دیکھا تھا ۔

میں پوچھتی ہوں کون ہے وہاں وہ بالکنی کا دروازہ کھول کر دیکھنے لگی۔پھر خود باہر جانے کی غلطی کرنے کے بجائے اس نے کسی کو بلانے کے لئے کمرے سے باہر جانا چاہا جب اچانک ہی کسی نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں قید کرتے ہوئے اس کے لبوں پر اپنا ہاتھ مضبوطی سے جما لیا ۔

وہ بری طرح سے مچلنے لگی تھی کوئی نہ صرف اس کے کمرے میں آیا تھا بلکہ اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ کر اسے خاموش ہونے کا اشارہ کر رہا تھا کیا وہ کوئی چور تھا ۔۔۔۔۔؟

وہ سوچنے لگی جب وہ خود ہی اس کے سامنے آگیا اچانک اپنے سامنے اسے دیکھ کر وہ کتنی ہی دیر کچھ بول ہی نہیں پائی جبکہ اسے خاموش دیکھ کر وہ اس کے لبوں سے اپنا ہاتھ ہٹا کر مسکراتے ہوئے سے دیکھ رہا تھا ۔

سرپرائز ۔وہ سامنے کھڑا ہوتا بولا تو ریدم کے چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ ساتھ حیرانگی بھی آ گئی

°°°°°°°°°