65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 1)

Junoniyat By Areej Shah

شاہ صاحب مجھ پر ظلم نہ کریں یہ ظلم نہ کریں شاہ صاحب میں مر جاؤں گی یہ ظلم ہے وہ لڑکی چلا رہی تھی جب کہ وہاں موجود کوئی بھی شخص اس پر رحم نہیں کر رہا تھا یہ پیار محبت چاہت یہاں کے لوگوں کے اصول نہیں تھے یہاں پر تو صرف دہشت تھی

یہ لڑکی ہمارے اصولوں کے خلاف گئی ہے اور ہمارے اصولوں کے خلاف جانے والے کا وہی انجام ہوگا جو اب تک ہوتا آیا ہے۔

گھر سے بھاگنے والی لڑکی کا بس ایک ہی انجام ہے کہ اسے قاری کر دیا جائے

اور ہم اسے کاری کرتے ہیں فیصلہ ہو چکا تھا اور فیصلہ ہوتے ہی وہاں موجود ہزاروں لوگوں نے ہاتھوں میں پکڑے پتھر اس پر برسانے شروع کر دیے۔

یہاں پر کوئی نہیں تھا جو اس پر رحم کھاتا اس کے آنسو دیکھتا اس کی تکلیف دیکھتا اس کا بہتا ہوا خون دیکھتا اگر کسی کو نظر آرہا تھا تو صرف اور صرف شاہ صاحب کا حکم جو کہ سنا دیا گیا تھا۔

یہ لڑکی محبت کی سزا کاٹ رہی تھی تھوڑی دیر پہلے اس کے محبوب شوہر کو بھی آگ لگا کر قتل کر دیا گیا تھا یہ وہ لوگ تھے جن کی لاش کو دفنانا تک یہ لوگ اپنی توہین سمجھتے تھے۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کے اصولوں کے خلاف جانے والوں کو مسلمان نہیں کہتے تھے ان پر قبر حرام کر دیتے تھے

اور اس معصوم سی لڑکی کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے اپنی زندگی جینے کی خواہش کی تھی اس نے اپنی محبت کے لیے ایک قدم اٹھایا تھا اور یہ اس کا آخری قدم ثابت ہوا تھا۔

°°°°°

کہو پروین کیا خبر لائی ہو سب کچھ ٹھیک تو ہے نا ۔۔۔؟پروین نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا وہ بھاگتی ہوئی اس کے پاس آئی تھی۔

کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے بی بی جی آپ کی اور شاہ صاحب کی محبت کی داستان پورے گاؤں میں پھیلائی جا رہی ہے شاہ صاحب کو بےعزت کیا جارہا ہے یہاں تک کہ آپ پر یہ الزام تک لگا دیا گیا ہے کہ آپ نے ان کے خاندان کی عزت کو مٹّی میں ملانے کی کوشش کی ہے دشمن کے بیٹے سے دل لگا کے

اور تو اور مجھے تو حویلی والوں نے اندر گھسنے بھی نہیں دیا کہہ دیا کہ جن لوگوں کا تعلق اس حویلی سے ہے وہ اس حویلی میں قدم بھی نہیں رکھ سکتے۔

لیکن پھر بھی میں اپنی جان پر کھیل کر شاہ صاحب کا پیغام آپ کے لیے لے کر آئی ہوں۔

پروین شاہ صاحب تو ٹھیک ہیں نہ انہیں میری وجہ سے بہت کچھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے وہ اسےکسی پیر کی طرح بیڈ پر بٹھاتے خود کسی مرید کی طرح اس کے پیروں میں بیٹھ گئی تھی۔

نہ جانے کیسے اتنے دشمنوں میں اس کے محبوب کا پیغام وہ اس کے لئےلے کر آئی تھی۔

بی بی پیغام یہ رہا وہ ایک کاغذ اس کے حوالے کرتے ہوئے رازدارانہ انداز میں بولی اس نے فورا کاغذ لے کر پڑھنا شروع کر دیا تھا۔

°°°°°

آج پھر مقابلہ ہونے والا ہے،سننے میں آیا ہے کہ بڑی حویلیوں کے وارث آج گھوڑے کی ریس کی لڑائی لڑیں گے دیکھتے ہیں کون جیتا ہے دونوں ایک دوسرے پر بھاری ہیں۔

گاؤں میں بہت بڑا میلہ لگایا گیا تھا اور ایسے میلوں میں جو سب سے زیادہ چیز دیکھنے کے لائق تھی وہ تو بڑی حویلی کے بیچ کی دشمنی اگر دیکھا جائے تو ان کی دشمنی کی بڑی وجہ کوئی بھی نہیں تھی بس ایک دوسرے سے ان میلوں میں مقابلہ کرتے کرتے وہ کب خاندانی دشمن بن گئے انہیں خود بھی پتہ نہ چلا تھا۔

یہ لڑائیاں سالوں سے چلتی آ رہی تھی ان دونوں خاندانوں میں پہلے کسی طرح کا کوئی لینا دینا نہ تھا جب یہ لڑنی شروع ہوئی یہ کہانی تقریباً 50 سال پہلے کی تھی جب ان کے بڑے بزرگ یہاں آ کر بس گئے تھے اور انہوں نے ہی اس گاؤں میں میلہ کروانا شروع کیا تھا

اس میلے میں ہوئی ایک عام سے لڑائی نے اس لڑائی کو بڑھا دیا ایک عام سی گھوڑے کی دوڑ کا مقابلہ ان کی خاندانی دشمنی میں تبدیل ہو گیا اور یہ دشمنی آج بھی برقرار تھی۔

آج بھی گھوڑے کا بہت بڑا مقابلہ ہے اس گاؤں میں کیا جانے والا تھا اور دونوں ہی طرف کے فریق اس مقابلے میں جان لگانے کو تیار تھے کیونکہ یہ عزت کا مقابلہ تھا پگڑی کا مقابلہ تھا

اس مقابلے میں جو جیتا اسے بڑی ہی عزت سے ہارنے والا فریق پگڑی پہنا کر خود سے بہتر ہونے کی اعزازی سند دیتا تھا۔

اور پھر جب تک اگلا مقابلہ نہ ہوتا تب تک پہلے فریق کو اس بات کے طعنے دیے جاتے کہ وہ دوسرے فریق سے کمزور ثابت ہوا ہے اس نے اسے ہرا دیا ہے یہی طعنے بازی ان کی دشمنی کی اصل وجہ تھی۔

جو ان دونوں میں نفرت کا رشتہ قائم کر چکی تھی ان دونوں حویلیوں میں یہ نفرت کب کیسے کس وقت پیدا ہوئی کوئی نہیں جانتا تھا لیکن اس ایک عام سے مقابلے نے اس دشمنی کو پچاس سال سے برقرار رکھا ہوا تھا اور آج میں یہاں پر ایک ایسا ہی مقابلہ کیا جا رہا تھا

جس کے لئے سب گاؤں والے بہت زیادہ متجسس تھے کہ آخر اس سال کون جیتے گا۔

اس سال میں وہ اپنے اپنے گھوڑوں کو بہت ہی اچھے طریقے سے تیار کرچکے تھے لیکن کون جانتا تھا اس دفعہ دشمنی کی وجہ صرف گھوڑے کی دوڑ نہیں بلکہ ایک اور بڑی وجہ ہے جو اس دشمنی کو مزید ہوا دے گئی ہے۔

°°°°°

بڑی پہاڑی کے پیچھے تمہارا انتظار کروں گا اگر مجھ سے سچی محبت کرتی ہو تو آجانا آج ہم یہ گاؤں چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے جائیں گے۔

یہاں کے رسم و رواج ہماری محبت کے آڑے نہیں آ سکتے اگر تم نے مجھ سے کبھی بھی سچی محبت کی ہے تو آج آجاؤ ہمیشہ کے لئے میرے پاس یاد رکھنا کہ اگر آج تم نا آئی تو تم مجھے ہمیشہ کے لئے کھو دو گی۔

ہماری محبت کی داستان یہیں ختم ہو جائے گی لیکن میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا یہ یاد رکھنا کیونکہ مجھے اس راستے پر لانےوالی تم تھی۔

میں نہیں لڑ سکتا اس خاندان سے نہیں لڑ سکتا ان جاہل لوگوں سے ہاں لیکن تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں یہاں سے بہت دور لے جاؤں گا اتنا دور کہ یہ لوگ کبھی بھی ہم تک نہیں پہنچ پائیں گے اگر مجھ سے محبت کرتی ہو تو مجھ پر یقین کر کے چلی آؤ میں تمہارا منتظر رہوں گا۔

وہ نہ جانے کتنی دفعہ یہ پیغام پڑھ چکی تھی بار بار وہی الفاظ پڑھ پڑھ کر اس کی سوچ اسے وہ قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی تھی جو وہ کبھی نہیں اٹھانا چاہتی تھی ایک طرف اس کا محبوب تھا تو دوسری طرف اس کا خاندان اس کی برادری اس کی عزت اس کے باپ کی پگڑی۔

وہ کیسے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلی جاتی لیکن وہ جانتی تھی یہ لوگ انہیں کبھی بھی ایک نہیں ہونے دیں گے وہ کبھی بھی ایک دوسرے کو پا نہیں سکیں گے اپنی محبت کے لیے اسے ایک نہ ایک دن تو بڑا قدم اٹھانا ہی تھا۔

نجانے کتنی محبت کی کہانیاں ان چاردیواریوں میں جنم لے کر ختم ہو چکی تھی ان مردوں کو کبھی توفیق نہ ہوئی تھی کہ وہ اپنی بہن بیٹیوں کی آرزو پوچھ لیتے ان کے لئے ان کا حکم ہی سب کچھ ہے اور پھر اس حکم کو ماننے کے لیے انہیں مجبور کرنے والی ان کی مائیں تھیں۔

دو دن پہلے اسے بھی پتہ چل چکا تھا کہ جلد ہی اسے کسی کی دلہن بنا دیا جائے گا اور اس کی ماں نے کہا تھا بہتر ہے کہ شاہ حویلی والوں جو تعلقات وہ جوڑے ہوئے ہے ان کا گلا یہیں پر گھونٹ دے ورنہ انجام سے وہ بے خبر نہیں ہے۔

اور یہ پہلی بار تو نہیں ہو رہا تھا نا اس کی بہنیں اس کی پھوپھو اس کی ماں کس سے ان کی مرضی پوچھی گئی تھی کسی سے بھی نہیں اس خاندان میں وہی ہوتا آیا تھا جو اس خاندان کے مرد چاہتے تھے کبھی کسی عورت سے اجازت مانگنا تو دور کی بات ہے انہیں شادی سے پہلے دوسرے کی تصویر تک نہیں دکھائی جاتی تھی۔

وہ نہیں گزار سکتی تھی ایک ایسی زندگی جو اسے دو پل کا سکون نہ دے سکے وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ آج رات یہاں سے ہمیشہ کے لیے چلی جانے والی تھی ان لوگوں کی عزت کی خاطر کتنی عورتیں اپنی زندگی داؤ پر لگا چکی تھی کتنی عورتیں اپنا آپ بھلا چکی تھی وہ اپنا آپ بھلانے کو تیار نہ تھی۔

اسے نہیں ہونا تھا ان رسموں پر قربان اسے اپنی زندگی جینی تھی اسے اپنے محبوب کے ساتھ اپنی مرضی سے اپنی چاہت سے رہنا تھا وہ نہیں رہ سکتی تھی اس ماحول میں اسے آزاد ہونا تھا۔

°°°°°°

وہ پوری طرح سے نشے میں دھت تھا۔ اس وقت وہ چارپائی پر لیٹا اپنے قریب رکھی شراب کی بوتل کو باربار لبوں سے لگا رہا تھا جب اچانک ہی اس کے چار پانچ دوستوں وہاں ڈیرے پر آگئے۔

ارے یار باقر تو اتنا زیادہ پریشان کیوں ہیں ایک ریس ہی تو تھی اِس کی وجہ سے تو یہاں آ کر لیٹ گیا ہے ارے یار ہمارا گھوڑا ہی بیکار تھا اس کو ٹھیک سے تیار ہی نہیں کیا گیا تھا۔

اگر اس کو ٹھیک سے تیار کیا جاتا تو وہ کبھی بھی نہیں ہارتا لیکن اب چھوڑ نہ توتو دل پرہی لے کر بیٹھ گیا ہے۔ کھیل میں ہار جیت ہوتی رہتی ہے آج تیرا دن نہیں تھا اس کے دوستوں نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے سے سمجھانا چاہا تھا۔

بکواس بند کرو میں آج ہارا ہوں تو صرف اور صرف اس خداش کی وجہ سے وہ کمینہ مجھے کہتا ہے بچے اگلی دفعہ پھر سے سیکھ کر آنا تمہیں تو ٹھیک سے گھوڑے کی رسی تھامنی بھی نہیں آتی اس نے مجھے ہزاروں لوگوں کے بیچ ذلیل کیا ہے اور میں اس ذلت کو برداشت نہیں کر سکتا میں اسے جان سے مار ڈالوں گا۔

وہ غصےسےبےقابو ہوتا اٹھ کھڑا ہوا تھا

بس کر باقر اتنا بھی دماغ پر لینے کی ضرورت نہیں ہے کھیل ہی تھا نہ ختم ہو گیا میں تو اب تک سمجھ نہیں پارہاکہ اس ذرا سی چیز کو تم لوگ اتنا سر پر سوار کیوں کر لیتے ہیں امیروں کے عجیب چونچلے ہیں ارحم تھوڑی دیر کے لئے بھول گیا تھا کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہا ہے۔

دیکھ میرے دوست میری بات سن ہمیں یہاں آنا ہی نہیں چاہیے تھا اور ویسے بھی تجھے فی الحال یہ گھوڑوں کی ریس کا کچھ خاص ایکسپیرینس بھی نہیں تھا اور وہ خداش کاظمی دس سال سے جیتتا رہا ہے ابھی تک اس کے مقابلے کا کوئی جوان تمہارے خاندان میں پیدا نہیں ہوا۔

ذریام شاہ کو تو ان سب فضول چیزوں میں کوئی انٹرسٹ ہی نہیں ہے کتنی بار کہہ چکا ہے کہ وہ ان فضولیات میں اپنا وقت برباد نہیں کرتا اسے اور بھی بہت سارے کام ہیں اور ایک تو ہے جو اپنے دماغ پر لے کر بیٹھ گیا ہے ان سب چیزوں کو،

تو ناں اس بات کو قبول کرلے کہ تو خداش کاظمی سے مقابلہ نہیں کر سکتا وہ تجھ سے ہزار درجہ بہتر ہے وہ شاید مزید اس کی جی حضوری نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لئے اسے اس کے ہارنے کی اصل وجہ بتانے لگا۔

میرے سامنے یہ سب بکواس کرنے کے لئے، کیا خداش نے تیرا منہ نوٹوں سے بھر دیا ہے؟؟ وہ اس کا گریبان پکڑے غصے سے بول رہا تھا۔

معاف کرنا دوست میں دوستی میں غداری نہیں کرتا لیکن اپنے دوست کو سچ ضرور بتاوں گا تجھے اپنی ہار قبول کرنی چاہیے جب تو اپنی ہر قبول نہیں کرے گا نا تب تک تیرے اندر جیت کی خواہش پیدا نہیں ہوگی۔

اس دنیا میں انسان کی سب سے بڑی غلطی خود کو سب سے بہتر سمجھنا ہے وہ اسے سمجھا رہا تھا جبکہ وہ غصے میں آپے سے باہر ہو رہا تھا اس وقت وہ نشے میں تھا اور ایسے میں اس کے غصے کو ہوا دینا بہت غلط ثابت ہو سکتا تھا اس نے اگلے ہی لمحے اپنی جیب سے پستول نکال لی تھی جو شاید وہ خداش کاظمی کو قتل کرنے کے لئے اپنے ساتھ لایا تھا۔

یہ کیا بچپنا ہے باقر تیرا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا کبھی کبھی تو بہت عجیب طرح کی حرکتیں کرتا ہے تو یہ پستول جیب میں لے کر کیوں گھوم رہا ہے وہ اب تک اس سے بہت ہی نارملی بات کر رہا تھا جیسے یہ سب کچھ اس کے لیے بہت نارمل ہو۔

اس نے اس کے ہاتھ سے پستول لینے کی کوشش کی تھی لیکن وہ تو غصے سے پاگل ہو رہا تھا اگلے ہی لمحے وہ اپنی پستول سے گولی آزاد کر چکا تھا جو سیدھی اس کے بازو میں لگی تھی

وہ پانچوں بوکھلا گئے تھے وہ سب مل کر باقر کے ہاتھ سے پشتول لینے کی کوشش کرنے لگ گئے تھے جبکہ اپنے درد پر کنٹرول کرتا ارحم بھی اس کے ہاتھ سے پستول لینے کی کوشش کرنے لگا تھا کیونکہ وہ نشے میں تھا اور کوئی بھی غلطی کر سکتا تھا کھینچا تانی میں اچانک ایک بار پھر سے گولی کی آواز بلند ہوئی تھی پستول ارحم کے ہاتھوں میں تھی اور گولی باقر کا سینہ چیڑ چکی تھی۔

یہ کیا کیا تونے ارحم تو نے کیا کر دیا تھا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا شاہ خاندان کے وارث کا قتل کر دیا یہ تو نے کیا کردیا تھوڑی دیر بعد باقر کا جسم بے جان ہوچکا تھا وہیں زمین پر پڑا وہ دنیا جہان سے بیگانہ ہو چکا تھا وہ سب لوگ پریشان ہو گئے تھے۔

ارحم بھاگ جا ۔۔۔۔وہ سب باقر کو دیکھ رہے تھے جب ان میں سے ایک لڑکا بولا شاید وہ جانتا تھا اس کے قتل کا الزام ارحم پر ہی آئے گا۔

ابے تیرا دماغ خراب نہیں ہو گیا اس نے کسی عام آدمی کا قتل نہیں کیا ہے اس نے شاہ خاندان کے لڑکے کا قتل کیا ہے وہ لوگ اسے دنیا کے آخری کونے سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے یہ کبھی بھاگ نہیں پائے گا یہ بات یاد رکھنا دوسرے لڑکے نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا۔

دیکھو ارحم نے جان بوجھ کر نہیں مارا وہ تو صرف اپنا بچاو کر رہا تھا غلطی اس کی نہیں ہے وہ اپنے ساتھ پستول لایا تھا نا، تو بھاگ جا ارحم یہاں سے ہم لوگ بھی کہہ دیں گے کہ ہمیں کچھ بھی نہیں پتا بس نکل یہاں سے ورنہ زندگی حرام کر دیں گے یہ لوگ۔

نجانے کیسے اس لڑکے کے دل میں اس کے لیے ہمدردی جاگ گئی تھی وہ جانتا تھا ارحم کی پوری زندگی برباد ہونے میں وقت نہیں لگے گا اور اس وقت ارحم کو بھی یہاں سے بھاگنے سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں لگ رہا تھا۔

°°°°°°

حویلی میں کہرام مچ کچکا تھا ابھی کل ہی تو وہ گھوڑے کی ریس میں حصہ لے کر خداش کاظمی کا مقابلہ کر رہا تھا۔ اور آج وہ ایک لاش کی صورت ان کی حویلی کے بیچوں بیچ پڑا تھا۔

جبکہ حویلی کے باہر بہت بڑے پیمانے میں جرگہ بٹھایا گیا تھا پورا گاوں اس وقت وہاں موجود تھا ارحم کا پورا خاندان وہاں گرفتار کر لیا گیا تھا ارحم کے بوڑھے والدین اوراس کی لاڈلی بہن سب لوگ وہاں جمع تھے۔

شاہ صاحب ہم آپ کا بیٹا آپ کو واپس نہیں دے سکتے لیکن ہمیں یقین ہے ہمارا بچہ کسی کا قتل نہیں کر سکتا ہمارا بیٹا تو آپ کے بیٹے کا دوست تھا وہ ایسا نہیں کر سکتا وہ کہیں بھاگ کر نہیں گیا ہوگا یقین ہے وہ واپس آ جائے گا آپ تھوڑے دن کا وقت دے دیں اس کاا باپ وہاں وہ لوگوں کے منتیں کر رہا تھا۔

تمہارے بیٹے نے وقت دیا تھا میرے بیٹے کو ارے اسے گولی مار کر قتل کر دیا گیا کیا دشمنی تھی اسے باقر سے،

تمہارے بیٹے کو اپنے ساتھ لے کر چلتا تھا اسے دوست دوست کہتا تھا کیسا دوست تھا تیرا بیٹا اپنے ہی دوست کو جان سے مار گیا مجھے میرے بیٹے کےلیے انصاف چاہیے بس خون کے بدلے خون،

ڈھونڈو اس لڑکے کو اور اس کی لاش کو یہاں لے کر آؤ صرف اس کی لاش کو نہیں بلکہ اس نے پورے خاندان کی لاش کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا چاہتا ہوں میں۔

جب تک ان کا بیٹا نہ مرے تب تک میرے بیٹے کے روح کو سکون نہیں ملے گا وہ بے حد غصے سے بول رہے تھے۔

آرام سے فیصل شاہ ہم آپ کا دکھ سمجھ سکتے ہیں آپ کا بیٹا مرا ہے آپ کی تکلیف ہمارے سامنے ہے لیکن اس طرح سے کسی کے بیٹے کے قتل کے بات کرنا بھی غلط ہے۔ ہمارے پاس اس کا بس ایک ہی حل ہےموقع واردات سے ارحم نے بھاگ کر اس جرم میں قصوروار ہونے کا ثبوت دیا ہے جب تک ارحم واپس نہیں آ جاتاتم ان کی بیٹی کو ونی کر لو ۔

اگر تم انتقام لینا ہی چاہتے ہو تو اتنے سالوں سے جس طرح سے انتقام لیا جا رہا ہے اسی طرح سے انتقام لے لو رحمان کی بیٹی عمایہ کے ساتھ اپنے خاندان کے کسی بھی لڑکے کا نکاح کر لو۔

بہت سکون سے فیصلہ کیا گیا تھا جیسے کسی کی زندگی کا فیصلہ نہ کیا جا رہا ہوں بلکہ کسی بھیڑ بکری کا فیصلہ سنایا گیا ہو وہ خاموشی سے اپنے لیے کیا جانے والایہ فیصلہ سن رہی تھی کیا ہو رہا تھا یہاں کیوں ہو رہا تھا ان غریبوں کو کون پوچھتا تھا۔

اس کے بھی خواب تھے وہ بھی جینا چاہتی تھی ۔اس کے بھائی نے اس کو کبھی گھر سے باہر نہیں نکلنے دیا تھا اس کا اکلوتا بھائی اس کے لاڈ اٹھاتے نہیں تھکتا تھا اور یہاں اس کے لیے آج وہ قربان ہونے جا رہی تھی کتنی آسانی سے اس کی زندگی کا فیصلہ کردیا گیا تھا۔

اس گاؤں میں ہمیشہ سے انہیں دو حویلی والوں کی سنی جاتی تھی کب کیا کیسے ہوتا ہے کبھی عام عوام سے نہیں پوچھا جاتا تھا۔

گاؤں میں کب کیا خریدا جائے گا اس بات کا فیصلہ بھی شاہی خاندان کے لوگ کرتے تھے گاؤں میں کتنا اناج آئے گا اس کا فیصلہ شاہ حویلی والے لوگ کرتے تھے

بے شک وہ جاہلوں جیسے زندگی گزار رہے تھے یہاں کوئی بھی اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتا تھا اس کا بھائی شاہ حویلی والوں کے خلاف تھا وہ دونوں حویلی کے لوگوں کوپسند نہیں کرتا تھا لیکن نہ جانے کب اس کی دوستی باقر سے ہوگی اور آج وہی دوستی اسے لے ڈوبی تھی نشے میں باقر نے اپنا غصہ اپنے دوستوں پر نکالا تھا لیکن اپنی ہی غلطی کی وجہ سے وہ مارا گیا۔

لیکن جاتے جاتے وہ کتنے لوگوں کی زندگیاں تباہ کر رہا تھا اس بات کا شاید اسے کبھی احساس بھی نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ اب تو وہ منوں مٹی تلے دفنایا جارہا تھا لیکن اسے دفنانے سے پہلے ان لوگوں کو انتقام چاہیے تھا۔

اسی لئے تو وہ اپنے بیٹےکے قاتل کی بہن کو نہ جانے کس کے ساتھ نکاح کرکے اس حویلی میں قید کرنے جا رہے تھے اس کے ماں باپ تڑپ کر رو رہے تھے ہر کوئی اس پر ترس کھا رہا تھا لیکن اگر کسی کو ترس نہ آیا تھا تو ان شاہ خاندان والوں کو۔۔۔۔۔

°°°°°°°