65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 2)

Junoniyat By Areej Shah

اس نے نکاح نامہ پر سائن کر دیے تھے اس کا شوہر کون تھا اسے نہیں پتا تھا اور نہ ہی اس نے کبھی حویلی کے مردوں کو دیکھا تھا۔

اس کی زندگی کا فیصلہ ہو چکا تھا جیسے قبول کرنے پر وہ مجبور تھی۔اس کا ہمسفر کون تھا کیسا دکھتا تھا عمر کیا تھی کچھ بھی تو پتا نہیں تھا اسے اس کی زندگی میں اس طرح کا کوئی موڑ آئے اس نے کبھی نہیں سوچا تھا۔

اور اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا اس کی اگلی زندگی کیا تھی اسے کچھ بھی اندازہ نہیں تھا اگر کچھ پتہ تھا تو اتنا کہ اسے اپنے بھائی کے گناہ کی سزا کاٹنی تھی۔

اس کے باپ نے اسے اپنے حصار میں لیا ہوا تھا جبکہ ان کی آنکھوں سے مسلسل آنسو بہہ رہے تھے۔

جیسے وہ جانتے ہوں کہ اس کی زندگی میں آگے کیا ہونے والا ہے اس نے زندگی میں پہلے کبھی اپنے باپ کو اتنا بے بس نہیں دیکھا تھا۔

°°°°°

دیکھو دیشم تمہارے بابا تمہیں پہلے بھی بہت بار کہہ چکے ہیں کہ حویلی کی چار دیواری کے اندر رہنا سیکھو

تم بہت بد لحاظ ہوتی جا رہی ہو تم نہ تو دادا جان کا لحاظ کرتی ہو اور نہ ہی گھر میں کسی اور کا کب تک یہ سب کچھ چلتا رہے گا خبردار جو تم یہ کاغذ لے کر اپنے دادا جان کے کمرے میں گئی

بہتر ہے کہ یہ سب کچھ چھوڑ دو اگر تمہیں یونیورسٹی میں جانے کی اجازت دے دی گئی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم دادا جان کی نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاو۔

تم سے بڑی تھی مشال اور منشا کبھی ان لوگوں نے ایسی فضول ضدیں نہیں پالیں جو تم نے پال رکھی ہیں اماں اسے اچھا خاصا ڈانٹ چکی تھیں۔

جبکہ اس نے بس انہیں اپنے یونیورسٹی کی طرف سے ایک ٹرپ کے پیپر ہی دکھائے تھے۔

جو کہ وہ دادا جان کے پاس لے کر جا رہی تھی کیونکہ اسے دادا جان کی اجازت درکار تھی۔

اماں میں یہ کاغذ لے کر دادا جان کے کمرے میں جاؤں گی اور ان سے اجازت لوں گی ایم سوری مجھے آپ کو یہ دکھانا ہی نہیں چاہیے تھا۔

پتا نہیں آپ یہ جاہلانہ سوچ سے باہر کب نکلیں گیں اماں آجکل ہر لڑکی یونیورسٹی تو کیا باہر ملک تک جاتی ہے پڑھائی کے سلسلے میں لیکن آپ لوگوں کی سوچ اس حویلی سے باہر نہیں نکلتی

اگر مشال آپی اور منشا آپی نے اس حویلی سے باہر قدم نکلنے کی غلطی نہیں کی تو میری نظر میں ان کی یہ کوئی فرمانبرداری نہیں ہے بلکہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے حق میں آواز تک نہ اٹھا سکیں۔

لیکن میں اتنی کمزور نہیں ہوں میں جا رہی ہوں دادا جان کے پاس مجھے اس ٹرپ پر جانا ہے کیونکہ یہ میری ایجوکیشن کے لئے ضروری ہے۔

وہ اپنی بات مکمل کرتی فوراً کمرے سے نکل چکی تھی جب کہ اس کی بد لحاظی پر اماں بس اسے دیکھ کر رہ گئیں جب سے اس نے یونیورسٹی جانا شروع کیا تھا وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتی تھی۔

بد لحاظی کا ٹائٹل تو اسے بچپن سے ہی ملا ہوا تھا کسی کا لحاظ کرنا اس نے کبھی سیکھا ہی نہیں تھا۔

یہ ان کے خاندان کی پہلی لڑکی تھی جس نے یونیورسٹی کا منہ دیکھا تھا ۔ورنہ اس سے پہلے مشال اور منشا نے اپنا ایسا کوئی خواب پورا نہیں کیا تھا

پانچ سال پہلے مشعل کی اس حویلی سے دھوم دھام سے شادی کی گئی تھی اور تین سال پہلے منشا کو بھی اس گھر سے رخصت کر دیا گیا۔

دیدم کا بھی بہت اچھا رشتہ آیا ہوا تھا اور ایسا ہی ایک اچھا رشتہ اس کا بھی منتظر تھا لیکن وہ تو ہر چیز بھول بھلائے بس اپنی پڑھائی کو ہی سوچے جا رہی تھی۔

وہ اپنا ایک خواب لیے آگے بڑھ رہی تھی اسے وکالت کرنی تھی لیکن یہاں اس حویلی میں اس کے خواب کو سپورٹ کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا کوئی بھی نہیں اس کے ماں باپ تک اس کے اس فیصلے کے خلاف تھے۔

کوئی نہیں تھا جو اس کے خواب کو سچ ہوتے دیکھنا چاہتا تھا ہر ماں باپ کی طرح اس کے ماں باپ کی ایک خواہش تھی کہ وہ دلہن بن جائے اور وہ اپنا فرض ادا کر سکے۔

لیکن اس کی ایسی کوئی خواہش نہیں تھی وہ اپنے خواب پورےکرنا چاہتی تھی اپنی زندگی جینا چاہتی تھی اس کی یونیورسٹی تک جانے کے پیچھے کی بڑی وجہ بھی یہی تھی۔

کہ اس کی شادی میں کسی طرح کی کوئی رکاوٹ نہیں تھی،ان لوگوں کے لئے اس کی شادی کوئی مسئلہ نہ تھی ورنہ شاید مشال اور منشا کی طرح سب کا دھیان اس کی شادی کی طرف ہوتا نہ کہ اس کی پڑھائی کی طرف۔۔۔

°°°°

نکاح کے بعد اس رخصت کروا کر وہ حویلی میں لے آئے تھے اب تک اندر سے عورتوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں

جب کہ عمایہ کا روم روم کانپ رہا تھا نہ جانے اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا اس نے اپنی تمام تر ہمت جمع کر کے اندر قدم رکھا تھا۔

لاش کے ساتھ لپٹی روتی ہوئی عورت نے ایک نظر اسے دیکھا جبکہ اس کے پیچھے کھڑے ملازم نے اس عورت کو اشارے سے کچھ بتایا تھا۔

جس پر وہ آنکھوں میں نفرت لئے فورا اس لاش کے قریب سے اٹھتی اس کے پاس آئی تھی اور پھر جو ہوا اس کے لیے وہ تیار نہ تھی۔

°°°°°°

وہ عورت اسے اس کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے فرش پر پھینک چکی تھی

اور پھر دونوں ہاتھوں سے اسے پیٹنا شروع کر دیا۔

وہ کبھی اسے لاتوں سے مارتی تو کبھی منہ پر تھپڑ لگاتی وہ اونچی اونچی آواز میں بین کرتی اس کے بالوں کو جڑ سے اکھاڑ دینا چاہتی تھی۔

ان سب عورتوں کے ساتھ اس کی بھی چیخ و پکار شروع ہوئی جو مرا تھا نہ تو وہ اسے جانتی تھی اور نہ ہی اس سے اسے کوئی مطلب تھا اسے رونا آ رہا تھا اپنی تکلیف پر۔۔۔

اپنے درد پر کوئی اسے گھسیٹ رہا تھا کوئی اسے نوچ رہا تھا ۔کوئی اس کے منہ پر تھپڑوں کی برسات کر رہا تھا کسی کے کی ٹانگیں زور زور سے اسے کمر میں لگ رہی تھی۔

وہ منہ کے بل زمین پر گری تو سر پھٹ گیا خون کی لکیریں زمین پر پانی کی دھار کی طرح بہ نکلی تھی لیکن یہاں کوئی نہیں تھا جو اس پر رحم کھاتا شاید ان لوگوں نے اسے ہی اپنے بیٹے کا قاتل سمجھ لیا تھا۔

°°°°

دادا جان کیا میں کمرے میں آ سکتی ہوں اس نے دروازے پر کھڑے ہوتے ہوئے ان سے اجازت مانگی تھی دادا جان نے ایک نظر اسے دیکھا۔

کہنے کو وہ ان کی سب سے بد لحاظ اور بدتمیز پوتی تھی لیکن پھر بھی وہ اس سے سختی نہیں کرسکتے تھے۔

آئیں کیا کہنا چاہتی ہیں آپ اور یہ کاغذ کس سلسلے میں لے کر آئی ہیں آپ وہ اسے اندر آنے کی اجازت دیتے کاغذ پر نظر ڈال چکے تھے۔

یقینا آج دو ہفتے کے بعد انہیں اپنی شکل اسی کاغذ کے سلسلے میں دکھا رہی تھی۔

ان پیپر پر سائن کرنے ہیں آپ نے مجھے اجازت چاہیے مجھے اپنی یونیورسٹی کے ٹرپ پر جانا ہے جس کی وجہ سے مجھے آپ کے سائن درکار ہیں وہ پیپر رکھتے ان سے کہنے لگی۔

کوئی ضرورت نہیں ہے کہیں بھی جانے کی اگر آپ نے کہیں گھومنے پھرنے جانا ہے تو اپنے بابا سے کہیں وہ آپ کو گھوما لائیں گے۔

اس طرح یونیورسٹی کے ٹرپ میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم اپنے گھر کی بچیوں کے معاملے میں کسی باہر والے پر یقین نہیں کر سکتے۔

آپ جانتے ہیں کہ دشمنوں کی کمی نہیں ہے ہر کوئی ہماری طاق میں بیٹھا ہے بس ہماری طرف سے ایک غلطی کا منتظر ہے وہ اسے سمجھاتے ہوئے کہہ رہے تھے۔

نہیں دادا جان میرا جانا بے حد ضروری ہے یہ میری پڑھائی کے سلسلے میں ہے آپ پلیز سائن کر دیں اور آپ کو پتا تو ہے کہ میں اپنا خیال رکھ سکتی ہوں۔

آپ کو میری سکیورٹی کو لے کر اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اس نے جلدی سے کہا تھا،،،

اندر یہ ڈر بھی تھا کہ کہیں ان کا لاڈلا پوتا تشریف نہ لائے اور اگر وہ آ گیا تو اس کا جانا یہی پر کینسل ہو جائے گا کیونکہ داداجان تو وہی کریں گے جو ان کا لاڈلا چاہتا ہے۔۔۔

اچھا یہ پڑھائی کے سلسلے میں ہے وہ کاغذ اٹھا کر دیکھنے لگے تھے اس نے سکون کا سانس لیا اب جلد ہی اسے اجازت ملنے والی تھی۔۔۔

لیکن اسے زیادہ دیر کے لئے سکون نہ مل سکا ابھی وہ سائن کرنے کے لیے پن اٹھانے ہی والے تھے کہ اچانک وہ دروازے سے اندر داخل ہوا،،

سفید رنگ کے کرتا شلوار پر بھورے رنگ کی شال اور لیے وہ بھاری قدم اٹھاتا دادا جان کے بالکل پاس آ کر رک گیا تھا

دادا جان نے اس کے سلام کا جواب دیا جبکہ دیشم نے ایسی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی تھی، وہ چہرہ پھیر چکی تھی۔

کیونکہ ہمیشہ کی طرح خداش کاظمی کی گہری نظروں کا مرکز وہی تھی۔

مبارک ہو دادا جان آج آپ کی پوتی پورے پندرہ دن کے بعد آپ کے کمرے میں پائی گئی ہے پوچھیں کیا مطلب لے کر آئی ہے یہ مطلبی لڑکی،

وہ دلکشی سےمسکراتے ہوئے دادا جان کی کرسی پر بیٹھ گیا تھا یہ جسارت صرف وہی کرسکتا تھا ورنہ یہ غلطی ان کے بیٹوں نے بھی کبھی نہیں کی تھی لیکن سچ ہے کہ اصل سے سود پیارا ہوتا ہے ۔اور یہ جناب تو دادا جان کے اکلوتے پوتے ہونے کا اعزاز اپنے نام کر چکے تھے جبکہ پوتیوں کی تو انہیں کمی نہ تھی آٹھ پوتیاں اور اکلوتا پوتا عزیز کیسے نہ ہوتا۔

کسی سے نرمی سے بات کرنا تو دور وہ کسی کی طرف نرم نگاہ بھی نہیں ڈالتا تھا اس کے لہجے میں شوخی صرف دیشم کو دیکھ کر ہی آتی تھی۔

اور دادا جان یہ بات بہت اچھے طریقے سے جانتے تھے اس کے انداز پر وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگے۔

یہ لڑکی ان کے پوتے کی دل کی دنیا آباد کرنے والی تھی یہ وہ لڑکی تھی جس کے سامنے ان کا مغرور پوتا اپنا غرور چھوڑ دیتا تھا۔اور اس ناقدری لڑکی کو اس بات کا احساس تک نہ تھا

وہ ان کے اکلوتے پوتے کی پہلی اور آخری خواہش تھی ان کے پوتے خداش کاظمی نے آج تک ان سے کوئی فرمائش نہیں کی تھی اگر کچھ مانگا تھا تو اس لڑکی کو جو انہیں اپنے پوتے کے لیے بالکل پسند نہیں تھی۔

ان کے سارے خاندان میں دیشم جیسی باغی اور بد لحاظ لڑکی کہیں نہیں پائی جاتی تھی ۔

لیکن اس لڑکی کے سامنے خداش کاظمی اپنا آپ بھلا دیتا تھا۔

دیشم ہم سے اجازت مانگنے آئی ہے یہ کوئی یونیورسٹی سے اجازت نامہ آیا ہے اسےٹرپ پر جانا ہے دادا جان جو کاغذ سائن کرنے والے تھے وہ اس کے حوالے کرچکے تھے جیسے فیصلہ کی مرضی پر رکھ دیا ہو۔

لیکن دادا جان کی اس حرکت نے اسے غصہ دلادیا تھا اب انکار تو ہونا ہی تھا کیوں کہ دادا جان نے وہی کرنا تھا جو ان کا لاڈلا پوتا چاہتا تھا اور ان کا پوتا تو اسے کبھی بھی کہیں باہر نہ جانے دیتا

دادا جان اگر آپ اجازت نہیں دینا چاہتے تو ایسے ہی بتا دیتے اس کی ضرورت نہیں تھی وہ کےاس پیپر کھینچ کر کمرے سے باہر نکل گئی تھی

اور اس کی بدتمیزی پر دادا جان ایک بار پھر اسے دیکھ کر رہ گئے یہ لڑکی کسی طرح کا کوئی لحاظ کیوں نہیں رکھتی تھی۔

دن بہ دن اس کی بدتمیزی اور بڑھتی جا رہی ہیں لگتا ہے اس کے باپ سے بات کرنی پڑے گی ۔بہت ہوگئی پڑھائی اس سال اکتیس سال کی ہوجائے گی تو ہم نکاح کر دیں گے اس کا ۔

دادا جان اس کی بدتمیزی پر اچھا خاصہ غصہ ہو گئے تھے جبکہ غصہ تو اس کے انداز پر خداش کو بھی بہت آیا تھا لیکن دادا جان کے سامنے ظاہر کرکے وہ انہیں مزید بد گمان نہیں کرنا چاہتا تھا

دادا جان یہ ساری باتیں ہم بعد میں کریں گے پہلے ذرا محفل کا انتظام کریں آپ کا پوتا پھر سے دشمنوں کو ہرا کر آیا ہے ۔

اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اس کے چہرے پر بلا کا غرور تھا وہ جب بات کرتا تھا اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک اتر آتی تھی اسے ہارنا پسند نہیں تھا اور اسے کوئی ہرا نہیں سکتا تھا

یہ اس کا یقین تھا دادا جان نے فخر سے اسے اپنے سینے سے لگا لیا تھا

ان کا پوتا ان کے غرور کو کبھی ٹوٹنے نہیں دے سکتا تھا جب سے ان کے پوتے نے اس خاندانی دشمنی میں قدم رکھا تھا اب تک شکست کا کبھی سامنا نہیں کیا تھا۔

°°°°°°°

اٹھ لڑکی یہاں تجھے آرام کرنے کے لیے نہیں لایا یہاں آکر کھانا بنا تین سو لوگ آئےہیں مدرسے سے قرآن خوانی کے لئے

ان سب کے لئے کھانا تو بنائے گی اور اگر کسی طرح کی کوئی کمی بیشی ہوئی نہ تو یاد رکھنا وہ حال ہو گا نہ تیرا جو دوبارہ سیدھی کھڑی بھی نہیں ہو پائے گی۔

وہ دو دن سے اسی کمرے میں بند تھی جو شاید سٹور روم تھا ان دو دنوں میں اس نے سب کو روتے چلاتے ہی دیکھا تھا وہ سب لوگ اپنے بیٹے کا دکھ منا رہے تھے۔

اور ساتھ ساتھ اپنے بیٹے کے قتل کا بدلہ بھی اس سے لے رہے تھے اس دن مار کھاتے کھاتے وہ بے ہوش ہوگئی تھی

جب اسے ہوش آیا تو وہ اسی کمرے میں پڑی تھی جو کہ اناج سے بھرا ہوا تھا یہاں پر بڑے بڑے اناج کے تھیلے تھے

جبکہ ایک طرف کچھ پرانا سامان پڑا تھا فرش پر ایک چٹائی تھی جہاں پر وہ دو دن سے رہ رہی تھی۔

اس نے خود اس کمرے سے نکلنے کی غلطی ہرگز نہیں کی تھی وہ سب کی آنکھوں میں اپنے لیے بے تحاشا نفرت دیکھ چکی تھی اصل میں یہ نفرت اس کے بھائی کے لیے تھی لیکن یہ نفرت نبھانی اسے تھی۔

دو دن پہلے جب اسے ہوش آیا تو اس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اس پر یہ رحم کس نے کیا تھا وہ نہیں جانتی تھی لیکن یہاں اس کا کوئی ہمدرد نہیں تھا اس بات کا احساس ہے اسے بہت اچھے طریقے سے تھا۔

ابھی تک اس نے اپنے شوہر کی شکل نہ دیکھی تھی بلکہ وہ تو اس کا نام تک نہیں جانتی تھی بس ایک ملازمہ اس کے سامنے کھانا رکھنے آئی تو کہہ گئی تھی

شاہ خاندان کے سارے مرد اس وقت تیرے بھائی کی تلاش میں گئے ہیں اور جس دن تیرا بھائی مل گیا نہ ٹکڑے ٹکڑے ہوں گے اس کے،،،،

اس پر جو ظلم ہو رہا تھا وہ ایک طرف وہ لوگ اس کے بھائی کو بھی جان سے مار دینا چاہتے تھے۔

اور اس کا شوہر بھی اس کے بھائی کی تلاش میں گیا ہوا تھا اس کا شوہر بھی اسے قتل کرنا چاہتا تھا۔

تب سے لے کر اب تک وہ بس یہ دعا مانگ رہی تھی کہ اس کا بھائی کہیں دور بھاگ جائے ان لوگوں کو کبھی بھی نہ ملے وہ بہن تھی اتنا سب کچھ سہنے کے بعد بھی اس میں اپنے بھائی کے حق میں دعا مانگنے کی ہمت پیدا نہ ہوئی تھی۔

حویلی والوں کی طرف سے یہ اس کے لئے پہلا حکم تھا اسے کھانا بنانا تھا کھانا بنانا اس کے لئے مشکل نہیں تھا یہ کام وہ کرتی آئی تھی۔

لیکن ان لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک چھوٹی سی غلطی بھی اسے بری سے بری حالت میں پہنچا سکتی ہے ابھی تک اس کے پرانے زخم بھی نہیں بھرے تھے وہ اور کس طرح سے سہتی۔۔۔

°°°°°

سات دن گزر چکے تھے کتنےجلدی گزر گئے تھے یہ سات دن اس نے کتنی ملازموں سے یہ بات سنی تھی شاید ان کے لئے یہ سات دن جلدی گزر گئے ہوں گے۔

” لیکن اس کے لئے تو ستر سال سے بھی طویل تھے۔ اور اب بھی اسے یہ زندگی نہ جانے کتنے سالوں تک گزار نی بھی۔اسے خود پر حیرت ہو رہی تھی اتنا سب کچھ برداشت کرنے کے بعد بھی وہ زندہ تھی۔

لیکن سے یقین تھا کہ جلدی ہی وہ ان لوگوں کے ظلم و ستم سہتے سہتے اپنی آنکھیں ہمیشہ کے لئے بند کر دے گی۔

اس کے چہرے پر اس وقت بھی تکلیف سے ہاتھ تک نہیں لگتا تھا اس نے آج کتنے دنوں کے بعد اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا تھا کیا وہ ایسی ہی تھی جیسے سات دن پہلے وہ اس حویلی میں آئی تھی۔

نہیں یہ وہ عمایہ رحمان تو نہیں تھی

۔ہاں یہ وہ لڑکی نہیں تھی یہ تو ونی ہوئی لڑکی تھی۔ جس پر ظلم کرنا ٹھوکریں مارنا ذلیل کرنا ان لوگوں نے اپنا فرض سمجھ لیا تھا۔

سات دن سے تو اسے وہاں نیچے ملازموں کے کمرے میں سلایا جارہا تھا لیکن نہ جانے کیسے آج اس پر رحم کھا کر ان لوگوں نے اس کمرے میں بھیج دیا تھا ۔

پہلے تو اسے اس بات کی وجہ سمجھ میں نہیں آئی پھر تھوڑی دیر پہلے ملازمہ اسے بتا کر گئی تھی کہ اپنی حالت سدھار لو تمہارا شوہر آج گھر پر ہی ہے ۔

مطلب اب اس سے اس کی ذات کا غرور بھی چھینا جانے والا تھا ۔

کیوں تھایہ سب ۔۔۔آخر کیوں بھائیوں کے لئے بہنوں کی ذات بے مول کی جاتی تھی کیوں بیٹوں کے لیے بیٹیاں بلی چڑائی جاتی تھی ۔

پچھلے سات دن سے وہ جو کچھ برداشت کر رہی تھی۔اسے زندگی سے نفرت ہوتی جا رہی تھی اور سب سے زیادہ نفرت اسے اپنے بھائی سے ہو رہی تھی

اگر وہ اسے اس جہنم میں ہی پھینکنے والا تھا تم کیوں بچپن سے اسے اتنا لاڈ پیار دیتا رہا کیوں اس کے لیے سب سے لڑتا رہا ۔رو رو کر اب تو آنسو بھی سوکھ چکے تھے ۔لیکن ان لوگوں کو اس پر رحم نہیں آتا تھا ۔

اتنے تھوڑے سے وقت میں ہی ہار چکی تھی ان سب کا مقابلہ کرنا اس کے بس سے باہر تھا وہ کس کس کی نفرت کو برداشت کرتی یہاں تو ہر کوئی آنکھوں میں چنگاریاں لیے اسے جلانے کو تیار تھا ۔

وہ اپنی ہی سوچوں میں گم نہ جانے کب نیند کی آغوش میں اتر گئی ۔ پھر اپنے وجود پر ایک سخت گرفت محسوس کرتے اس کی آنکھ کھل گئی تھی ۔وہ دوسری سانس لینا مجھے سے بھول گئی تھی مردانہ پرفیوم کی سخت خوشبو نے اس کے حواس شل کر دیے تھے ۔

کمرے کی لائٹ آف بھی تھی کمرا اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اگر روشنی میں بھی ہوتا تو کون سا وہ اس کی شکل دیکھنے کی خواہشمند تھی۔وہ اس کے سخت مردانہ ہاتھ اپنے جسم پر رینگتے محسوس کر رہی تھی۔

جب کہ اس کی گرم سانسوں کا لمس اپنی گردن پر محسوس کرتے ہوئے وہ سختی سے اپنی آنکھیں میچے بیڈ کی چادر کو سختی سے اپنی مٹھیوں میں جکڑ چکی تھی ۔یقینا آج رات کے بعد اسے خود سے نفرت کرنے کی وجہ سے مل جانے والی تھی۔۔۔

°°°°°°