Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 26)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 26)
Junoniyat By Areej Shah
یہ ٹیسٹ ہیں آپ لوگوں کے۔۔یہ ٹیسٹ کیے ہیں آپ نے شرم آتی ہے مجھے چیک کرتے ہوئے
مجھے سمجھ نہیں آرہا میں ان تین مہینوں سے آپ لوگوں کو کیا پڑھا رہا ہوں ۔۔۔۔؟
یہ کیا ہے اس طرح سے آپ لوگوں نے پیپرز دینے ہیں۔۔۔۔؟ اس طرح سے اپنا نام بنانا ہے۔۔۔۔؟
اگر آپ نے یہی سب کچھ کرنا ہے تو اپنے ماں باپ کا پیسہ برباد کرنا بند کریں اور گھر جا کر بیٹھ جائے
وہ غصے سے ان سب کے ٹیسٹ وہاں ٹیبل پر پھینکتا ہوا کلاس میں داخل ہوتے ہی شروع ہو گیا تھا ۔
حرم مشکل ٹیسٹ کی وجہ سے تھوڑی بہت پریشان تو تھی لیکن اس کا ٹیسٹ اتنا غلط ہونے والا ہے اس بات کا احساس اسے ہرگز بھی نہیں تھا اسے تو یہی لگتا تھا کہ اس کاٹیسٹ ٹھیک ٹھاک ہوگیا ہے
وہ سب کے ٹیسٹ ایک کرکے دیتا ہوا اب حرم کو آنے کا اشارہ کر چکا تھا وہ جلدی سے اپنی سیٹ سے اٹھ کر اس کے پاس جا کر رکی تھی
سب کی بےعزتی ہونے والی تھی تو یقینا وہ بھی کوئی آسمان سے اتری تھوڑی تھی آج تو اس کی بھی اچھی خاصی کلاس لگنے والی تھی
لیکن اسے یقین تھا وہ زیادہ بےعزتی نہیں کریں گے کیونکہ وہ لائک بچوں کی کلاس میں کم انسلٹ کرتے تھے
شادی انجوائے ہو گئی تو اب ذرا پڑھائی پر بھی دھیان دیں یہ حال ہے آپ کا آئے دن آپ کی چھٹیاں ہوتی ہیں اگر آپ نے نہیں پڑھنا تو خدارا میری کلاس سے پہلے ہی نکل جایا کرے
مجھے سخت کوفت ہوتی ہے ایسے لوگوں سے جن کو آتاجاتا کچھ بھی نہیں لیکن خود کو لائک ظاہر کرنے کا شوق رہتا ہے ۔
میری شکل کیا دیکھ رہی ہیں اٹھائے اسے اور جائیں اپنی سیٹ پہ کل یہ ٹیسٹ دوبارہ ہوگا اور اس دفعہ اگر کوئی غلطی ہوئی تو میری کلاس میں آپ کی کوئی جگہ نہیں ہوگی
مس صوفیہ اگر آپ کو یہ پڑھائی چھوڑ کر کوئی فیشن انسٹیٹیوٹ جوائن کرنا ہے تو شوق سے کر سکتی ہیں کیونکہ پڑھائی آپ کے بس سے باہر ہے وہ حرم کو چھوڑ کے اس کے پچھلی سیٹ پر بیٹھی لڑکی کی طرف متوجہ ہو گیا تھا جو اس کی ڈانٹ سن رہی تھی
اپنی اتنی ساری بےعزتی پر نازمین اور حرم کو تو رونا آ رہا تھا جب کہ باقی سب تو ان چیزوں کی عادی تھی اسی لئے ان لوگوں نے زیادہ اثر نہیں لیا تھا ۔
سب کو تھوڑا بہت اور ڈانٹ کر وہ کلاس سے باہر نکل گیا تھا سب نے ہی اندازہ لگا لیا تھا کہ آج سر یشام کافی زیادہ غصے میں تھے
پچھلے کچھ دنوں سے وہ کافی کم غصہ دکھا رہے تھے لیکن آج ان کا غصہ آسمانوں کو چھو رہا تھا
یقینا وہ ان لوگوں کی پرفارمنس پر سخت خفا تھے وہ اتنی محنت کرتے تھے ان سٹوڈنٹس پر اور اس کے بعد بھی اگر ٹیسٹ ایسا ہو تو ان کی پریشانی تو بنتی ہی تھی
اپنی کلاس ختم کرکے وہ کلاس سے باہر چلا گیا تھا جبکہ وہ سب لڑکیاں پریشانی سے وہیں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ اب اس ٹیسٹ کا کیا حل کرے گا
°°°°°°°
یار میرا ٹیسٹ ٹھیک ٹھاک ہوا تھا جتنا میں نے پڑھائی کی تھی اس کے مطابق میں نےٹھیک سے ہی لکھ لیا تھا لیکن پتہ نہیں یہ سارا غلط کیسے ہو گیا سوال کچھ اور تھے اور میں جواب کچھ اور لکھتی رہی
یار میرے ساتھ بھی بالکل ویسا ہی ہوا ہے سر نے سوال کچھ اور لکھا تھا اور اس کا جواب میں کچھ اور لکھتی رہیں ایک جیسے دو ٹوپکس میں وہ اکثر کنفیوز ہو جاتی تھی
سر کو اتنی گندی امید تو ہم سے ہرگز نہیں رہی ہوگی نازمین شرمندہ سی بیٹھی اپنا ٹیسٹ دیکھ رہی تھی
ہاں یار ہم نے بہت برا کیا ہے سرہم سے کتنے پر امید تھے اور ہم نے کیا کر دیا ۔اور یار ایک ہی دن میں یہ سارا تیار کیسے ہو گا اور کل دوبارہ سے ٹیسٹ ہم کیسے کریں گے
وہ پریشانی سے کہنے لگی تھی
یاد آیا سر نےکچھ نوٹس کا بتایا تھاسرکےپاس نہ کچھ نوٹس ہیں جو انہوں نےکاپی کے لیے کہا تھا لیکن میں اکیلی تھی تو کر نہیں سکیں سوچا جب تم آ جاؤگی تب کروں گی ۔
تو سر نے کہا تھا کہ بعد میں مجھ سے لے لینا وہ نوٹس اسی ٹوپک کے حوالے سے تھے ہوسکتا ہے اس میں ہمیں کوئی مدد مل جائے سر سے مانگ لاؤ۔وہ میشہ کو دیکھتے ہوئے بولی تو میشہ آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھنے لگی جیسے وہ اسے کوئی ناممکن کام کرنے کے لئے کہہ رہی ہوں
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے مجھے کیوں شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے کے لیے کہہ رہی ہوخود جاو ویسے بھی تو مجھےتو سر کچھ بھی نہیں کہتے میں تو نالائق بچی ہوں مجھےتو اور ڈانٹ پڑے گی میشہ نے بے بسی سے کہا
نہیں نہیں میں نہیں جانے والی سر نے پہلے ہی اتنی بےعزتی کی ہے کلاس میں اب وہاں سارے اسٹاف کے سامنے بےعزتی کریں گے ۔
وہ فورا نفی میں سر ہلانے لگی اور اب وہ دونوں حرم کو دیکھ رہی تھی
میں نہیں۔ میں نہیں جانے والی جس کو جانا ہے جا کے لے آؤ میں تو ویسے بھی اپنی آپو سے تیار کر لوں گی مجھے کوئی نوٹس نہیں چاہیےحرم فوراً انکار کرتے ہوئے بولی تو ان دونوں نے اس کا ہاتھ تھام لیا
دیکھو یار تمہاری شکل بہت معصوم ہے تمہیں سر کچھ نہیں کہیں گے اور ویسے بھی تم ایسے رونی شکل بنا کر رکھتی ہوتو سرتمہاری کم بےعزتی کرتے ہیں
پلیز جا کر لے آؤ نا نوٹس اگر نوٹس نہ ملے تو پتہ نہیں کیا ہوگا کل وہ دونوں اسے مناتے ہوئے کہہ رہی تھی جب کہ حرم کو اپنے بچاؤ کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا
تم لوگوں کو میں ہی ملی ہوں کیا بلی کا بکرا بنانے کے لئے وہ بے بس سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی جبکہ اس کے اٹھنے پر ان دونوں کی بھی امید جاگ گئی وہ دونوں ایسے سٹاف روم تک چھوڑنے آئی تھی ڈر تھا کہ کہیں وہ وہ نوٹس مانگنے کےبہانے کہیں بھاگ نہ جائے
°°°°°°
سر کیا میں اندرا سکتی ہوں۔۔۔۔؟
وہ سٹاف روم کے دروازے پر کھڑی اجازت مانگ رہی تھی اندر صرف یشام سر تھے
جب کہ وہ جو اپنے ہاتھ میں موجود اس کی کی چین کوگہری نظروں سے دیکھ رہا تھا اس کی جانب دیکھتے ہوئے ہاں میں سر ہلا گیا
سر آپ کے پاس کچھ نوٹس ہیں آپ نے کہا تھا کہ انہیں کاپی کر لیں تو ہمارے لیے کافی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں وہ بہت اٹک اٹک کر اس کے سامنے بول رہی تھی
کمرے میں داخل ہوتا صیام ایک نظر اسے دیکھ کر یشام کی جانب دیکھنے لگا ۔
اس نے جلدی سے کاغذ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیے تھے بنا کوئی بات کیےوہ اپنا دھیان سامنے رکھے لیپ ٹاپ پر لگانے کی کوشش کر رہا تھا شاید وہ اسے نظر انداز کر رہا تھاصیام کو اس کا انداز بالکل پسند نہیں آیا تھا
آپ سے ایک بات پوچھوں حرم ۔۔؟ وہ مجھے ہیلپ چاہے تھی آپ برا تو نہیں منائیں گی صیام کی طرف سے اسے کسی سوال کی امید تو ہرگز نہیں تھی لیکن پھر بھی اس کے پوچھنے پر اس نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا تھا
جی سر میں کیوں بُرا مناؤں گی بولیں میں آپ کی کیا ہیلپ کر سکتی ہوں اس نے مسکراتے ہوئے کہا تھا یشام گہری نظروں اس کی معصوم سی مسکراہٹ کو دیکھ رہا تھا
فرص کریں کہ آپ کے سر یشام اگر کسی بہت بڑی مصیبت میں پھنس جائے تو کیا ان کا ساتھ دینا چاہیں گی میرا مطلب ہے۔اگر صرف آپ سریشام کو اس پریشانی سے نکال سکیں تو کیا آپ ان کو اس پریشانی سے نکالیں گی وہ بالکل سیریس انداز میں پوچھ رہا تھا حرم کو اس کا سوال عیجب سا لگا
افکورس سر کیوں نہیں اگر سر مجھ سے مدد مانگیں گے کہ تو میں ان کی مدد کیوں نہیں کروں گی ۔اس نے جلدی سے جواب دیا تھا
وعدہ ۔۔۔وعدہ کریں آپ کہ اگر آپ کے سر آپ سے کچھ مانگے تو آپ ضرور دیں گی انکار نہیں کریں گی وہ امید سے اس کی طرف دیکھنے لگا
حرم نے ہچکچاتے ہوئے ایک نظر سامنے بیٹھے یشام کی طرف دیکھا پھر مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا۔تو صیام مسکرا کر یشام کو دیکھنے لگا
حرم نوٹس لے کر کمرے سے باہر نکل گئی تو یشام صیام کو نظراندازکرگیا
میں کہتا ہوں نا وہ اندھیروں میں تیرے لیے روشنی کی کرن بن کر آئی ہے ۔ایک دفعہ اپنی سوچوں سے نکل کر تو دیکھ محبت سے خوبصورت دنیا میں کچھ بھی نہیں
صیام ٹیبل پر رکھے پیپرز اٹھا کر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا تھا ۔جب کہ وہ سر جھٹک کر اپنا کام کرنے لگا
°°′°°°
ریدم پریشانی سے اپنی کیٹی کو ڈھونڈ رہی تھی نہ جانے اس کی کیٹی کہاں چلی گئی تھی وہ تو اس کے بنا کمرے سے باہر نہیں نکلتی تھی تو ایسا کیسے ممکن تھا
کہ وہ اس طرح اچانک ہی باہر چلے جائے وہ ہر جگہ اسے ڈھونڈ رہی تھی پھر تھک ہار کر باہر کی طرف آگئی شام کا اندھیرا آہستہ آہستہ پھیل رہا تھا اور اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا
سنو لڑکی تمہارے پاس ایک چھوٹی سی بلی ہوا کرتی تھی نا میں نے تھوڑی دیر پہلے اس بلی کو اس پہاڑی کے قریب جاتے ہوئے دیکھا ہے اتنی چھوٹی سی پیاری سی بلی دیکھ کر میں اس کے پیچھے چلی گئی تھی
اور پھر میں نے اسے تمہارے ساتھ بھی دیکھا تھا اسی لئے مجھے لگا شاید تم اس طرف گئی ہوگئی لیکن ابھی واپسی پر میں نے اس بلی کو اس پہاڑی سے نیچے جاتے ہوئے دیکھا ہے اسی لئے سوچا تمہیں بتا دوں
ماریہ کو اچانک اپنے سامنے دیکھ کر پہلے تو پریشان ہوئی تھی پھر اس کے بات سن کر جیسے اس کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی ۔
ماریا نے اس کے دوست کو دھوکا دیا تھا اور کچھ ہی دنوں میں ذکی اس کا بہت ہی اچھا دوست بن چکا تھا ایسے میں وہ شاید ہی اسے منہ لگانا ہرگز پسند نہ کرتی
لیکن وہ تو اسے کچھ اور ہی بتا رہی تھی اس کے بات سن کر وہ پریشانی سے باہر کی جانب بھاگ گئی تھی
اور اسے بھاگتے دیکھ باہر ہوٹل سے نکلتے زکی نے بھی تیز قدم اس کے پیچھے اٹھائے تھے جب ماریہ اس کے راستے میں آ گئی
وہ کسی کی منگیتر ہے اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے تو بہت برے لگ رہے ہو اس نے زکی کو دیکھتے ہوئے کہا تھا وہ اس کا ایکس بوائے فرینڈ تھا اور احسن اسے چھوڑ کر جا چکا تھا اس نے اس سے پیچ اپ کرنے کے بعد وہاں رکنا مناسب نہ سمجھا تھا اس لیے وہ وہاں سے چلا گیا تھا
لیکن زکی کو وہ یہاں گھومتے پھرتے کافی دفعہ دیکھ چکی تھی اسے یہی لگا تھا کہ وہ اب تک اس پر نظر رکھے ہوئے ہے تو سوچا کیوں نہ زکی کے ساتھ ہی تھوڑا سا وقت اور گزار لیا جائے
شائزم نے تو اس دن کے بعد اس سے بات تک نا کی تھی ایسے میں وہ کسی نہ کسی کو تو اپنے حسن کے جال میں پھنسا کر فائدہ حاصل کرنے ہی والی تھی تو اب وہ کیوں نہ زکی ہی ہوتا
تم نے اس سے کیا کہا ہے اور وہ اس پہاڑی کی طرف کیوں گئی ہے تمہیں پتا ہے وہ جگہ کتنی ڈینجرس ہے وہ اسے گھورتے ہوئے بولا تو ماریہ نے چہرے پر مسکنی طاری کرلی
تمہیں کیا لگتا ہے میں تمہاری دوست کی دشمن ہوں میں نے اس کی بلی کو اس پہاڑی سے نیچے جاتے ہوئے دیکھا ہے تو سوچا کہ میں اسے بتا دیتی ہوں لیکن یہاں تو تم مجھے ہی سنا رہے ہو
ماریہ نحوست سے کہتے منہ بنا کر وہاں سے اندر چلی گئی جبکہ اس کی میں اس کے پیچھے جانے سے بہتر یہ سمجھا تھا کہ وہ چاچا کو اس بارے میں بتا دے
جبکہ ماریہ جو سوچ رہی تھی وہ اس کے پیچھے جائے گا اسے واپس ہوٹل کی طرف جاتے دیکھ پرسکون ہو گئی تھی
وہ اب تک اس ریجیکشن کو قبول نہیں کر پائی تھی جو شائزم نے اس لڑکی کی وجہ سے اسے دیا تھا وہ اس سے بدلہ نہ لے ایسا تو ممکن ہی نہیں تھا
°°°°°
اور آہستہ آہستہ پہاڑی سے نیچے کی طرف اترنے لگی تھی اسے صرف اور صرف اپنی کیٹی کی فکر ہو رہی تھی اتنے اندھیرے میں وہ پہاڑی سے نیچے کی طرف چلی گئی تھی
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کہاں جائے یہ پہاڑ حد درجہ خطرناک اور بلندی پر تھا اور یہاں پربے حد خطرناک جانور بھی موجود تھے
رات کے وقت ہوٹل سے باہر جانا اس ہوٹل کی مینیجمنٹ نے سختی سے منع کر رکھا تھا یہ جگہ جتنی خوبصورت تھی اتنی ہی خطرناک بھی تھی
وہ چلتے چلتے نہ جانے کس طرف آ گئی تھی وہ بار بار اپنی بلی کو آواز دے رہی تھی لیکن اسے ابھی تک اپنی بلی کی کوئی خبر نہیں لگی تھی ۔اندھیرے کے ساتھ ساتھ اس کی پریشانی میں بھی اضافہ ہوتا چلا جا رہا تھا
°°°°′
کیا ہوا آپ لوگ یہاں کیوں کھڑے رہے ہیں سب خیریت تو ہے نا وہ اپنے ٹائیگر کے ساتھ واک کر کے واپس آیا تو ڈرائیور اور ذکی کو وہاں کھڑے دیکھا
یہ دونوں ریدم کے ساتھ نظر آتے تھے تو اس نے پوچھ لیا ابھی تک تو ریدم نے اس کے کتے کو احترام سر نہیں بلایا تھا
اور وہ فی الحال اسے بخشنے کا کوئی ارادہ بھی نہیں رکھتا تھا اس لئے وہ اکثر اس سے مخاطب ہوتا تھا لیکن وہ اتنی جلدی ماریی سے بریک اپ کرنے کی وجہ سے سیدھے طریقے سے بات نہیں کرتی تھی
لیکن ماریہ کے ساتھ گزارا کرنا اس کے لیے بے حد مشکل ہو گیا تھا اسی لیے وہ اپنی جان چھڑا کر اب ریلیکس تھا ۔
وہ میری دوست ریدم اپنی بلی کی تلاش میں اس پہاڑی سے نیچے کی طرف چلی گئی ہے جبکہ اس کی بلی یہاں انکل کے پاس تھی
اور اب وہ بھی نہیں مل رہی ہمیں پتا ہی نہیں چل رہا کہ وہ نیچے کس طرف گئی ہے زکی پریشانی سے کہنے لگا تھا اندھیرا خطرناک حد تک پھلنےلگا تھا
تم لوگ یہاں کھڑے تماشہ کیا دیکھ رہے ہو اسے ڈھونڈنے کے لئے جاؤ بلکہ ہٹو یہاں سے میں اسے ڈھونڈنے کے لئے جاتا ہوں اورڈرائیو چاچا آپ دادا جان کو فون کر کے ابھی بتائیں
کہ ان کی لاڈلی نے ایک اور کارنامہ سر انجام دے دیا ہے اور ٹائیگر کو اشارہ کرتے ہوئے نیچے کی طرف جانے لگا جبکہ چچا پریشانی سے اپنے بجتے ہوئے فون کو دیکھنے لگے تھے
اگر وہ فون پر ریدم کے نانا جان کو یہ بتا دیں کہ ان کی نواسی گم ہوگئی ہے تو کیا ہوتا خیر جو بھی تو بتانا بہت ضروری تھا۔
°°°°°°
یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا تم نے ان دونوں کو اس کا خطرناک جنگل میں جانے کیسے دیا ۔
دادا جان بےحد پریشانی سے کہنے لگے تھے جب کہ ڈرائیور چاچا انہیں ریلیکس کرنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے دادا جان کا پی ہائی ہونے لگا تھا جب زریام کمرے میں داخل ہوا
دادا جان آپ ٹھیک ہیں نہ کس سے بات کر رہے ہیں آپ وہ ان کے چہرے پر پسینہ دیکھتے ہوئے فون ان کے ہاتھوں سے لے چکا تھا
ہیلو کون بات کر رہا ہے اس نے فون کان سے لگایا ہی تھا کہ اگلے ہی لمحے فون کاٹ ہوگیا
دادا جان آپ ٹھیک تو ہے نا وہ ان کے پاس بیٹھ کر ان سے پوچھنے لگا تھا جب کہ فون اس نے وہیں سائیڈ پر رکھ دیا تھا نہ جانے کون تھا فون پر اور نہ جانے کیا بات کر رہا تھا لیکن دادا جان کی حالت نے اسے پریشان کر دیا تھا
شائزم کو فون کرو جلدی فون کرو اور پریشانی سے اس سے کہنے لگے تو اسے فورا اپنا موبائل فون نکالا تھا
°°°°°°
وہ۔ تیزی سے جنگل سے نیچے کی طرف جا رہا تھا جتنا جلدی ہو سکے وہ اس لڑکی تک پہنچانا چاہتا تھا کیونکہ بہت تھوڑے ہی عرصے میں وہ یہ بات بہت اچھی لحاظ سے سمجھ گیا تھا کہ وہ انجان لڑکی دادا جان کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے
ٹائیگر آگے کی طرف جاتے ہوئے اونچی اونچی آواز میں بھونکنے لگا تھا ۔یقینا اسے کوئی سراغ مل گیا تھا وہ اس کے پیچھے جانے لگا جب اچانک اس کا فون بجنے لگا تھا اسنے جلدی سے فون نکالتے ہوئے اپنے آپ کو نارمل کیا ۔
السلام علیکم کیسے ہیں آپ بگ بی آپ کو یاد آہی گیا کہ آپ ایک بھائی بھی ہے ۔۔وہ ناراضگی جتاتے ہوئے کہنے لگا جبکہ اس کی آواز سن کر دوسری طرف موجود دونوں انسان ریلیکس ہو گئے تھے
کہاں ہو تم اور میں نے تمہیں کہا تھا اس کا خیال رکھنا وہ جنگل میں ۔۔۔۔۔۔اپنے بھائی کے بجائے اسے دادا جان کی آواز سنائی دی
دادا جان میں اس کا خیال رکھ رہا ہوں لیکن عجیب طرح کی دوست ہے آپ کی بلی کے چکر میں پہاڑی سے نیچے اتر گئی ہے اور بلی اوپر چاچا کے پاس ہے ۔
خیر فکر نہ کریں میں اسے ڈھونڈ لوں گا وہ ان کو پریشانی سے نکال رہا تھا جبکہ ذریام ان کی بات سن کر انہیں نے دیکھنے لگا تھا شاید وہ اسے کچھ بتاتے ۔وہ اس سے بات کر کے ریلکس ہوچکےتھے
فون بند ہو چکا تھا جب کہ زریام جاننا چاہتا تھا کہ کس کے بارے میں بات کر رہے ہیں
وہ میرے لیے بہت ہی عزیز ہے زریام ابھی مجھ سے کچھ بھی نہ پوچھو بس میں اسے کچھ بھی نہیں ہونے دے سکتا وہ میرے لئے بہت خاص ہے ۔
وہ بات ختم کرتے ہوئے بولے تو ذریام نے ہاں میں سر ہلا دیا
ٹھیک ہے دادا جان جب آپ مناسب سمجھیں تو بتا دیجیے گا اور عمایا گھومنے کے لیے جا رہے ہیں کل صبح وہ انہیں دیکھتے ہوئے بتانے لگا تو داداجان کے چہرے پر سختی آگئی
تم اس لڑکی کو حد سے زیادہ اہمیت دے رہے ہو وہ لڑکی ہمارے پوتے کی قاتل ہے ہمارے خون کی قاتل ہے اور تم اسے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دادا جان میں نے نکاح کے وقت ہی کہہ دیا تھا کہ آپ کے لیے وہ جو بھی ہو لیکن میرے لئے وہ میری بیوی ہے اور اب مزید اس پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتا میں اپنی ایک نئی زندگی شروع کر چکا ہوں اور الحمدللہ میں بہت خوش ہوں
اور ہمارا پوتا اس کا خون اس کا کیا ہوگا کہ ہمارے پوتے کا خون ضائع ہوگیا اگر یہ لڑکی تمہاری بیوی بن چکی ہے تو ہمارے پوتے کے خون کا کیا ہوگا ہم اس لڑکی کو ونی کر کے لائے تھے کیونکہ ہمیں اس کا بھائی نہیں ملا تھا اس لیے نہیں کہ تم اسے اپنی عزت بنا لو
دادا جان میں آپ کی ہر بات سمجھ رہا ہوں آپ کا غصہ جائز ہے لیکن قاتل وہ نہیں اس کا بھائی ہے ہم سزا دیں گے،،اس کے بھائی کو سزا دیں گے۔
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ بہت جلد سلاخوں کے پیچھے ہوگا لیکن عمایہ کو میں اپنی بیوی قبول کر چکا ہوں اور اس کے بارے میں کچھ بھی برا سوچنے سے پہلے یاد رکھیے گا
کہ آپ اپنے پوتے کیلئے بُرا سوچ رہے ہیں وہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا تھا جب کہ دادا جان کے چہرے پر پریشانی آ گئی تھی ۔آنے والا وقت نہ جانے انہیں کیا دکھانے والا تھا۔
°°°°°°°
