Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 21)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 21)
Junoniyat By Areej Shah
وہ آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔اس نے آج نیلے رنگ کا خوبصورت جوڑا پہن رکھا تھا کیونکہ جنت نے اسے کہاتھا کہ تھوڑی دیر میں زریام اسے لینے آئے گا تو وہ تیار ہوجائے۔وہ دونوں ڈنر پر جانے والے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ کافی خوش بھی تھی۔
وہ اس کے ساتھ دوسری بار باہر جانے والی تھی اور جب سے وہ زریام کو سمجھنے لگی تھی اس سے باتیں کرنے لگی تھی
اسے اس کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا تھا وہ جو سوچتی تھی سب غلط ثابت ہوا تھا وہ بہت اچھا شخص تھا ۔وہ سب کی طرح تھا ۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اسے پسند کرتا ہے وہ اس سے محبت کرتا ہے یا نہیں لیکن وہ اس کے جذبات کی قدر کرتا تھا۔
اس کے ساتھ جڑے رشتے کو دل سے نبھا رہا تھا اور اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا وہ ان دونوں کے رشتے کی عزت کرتا ان کا رشتہ نکاح کا تھا ونی کا نہیں۔
اور اب تو چاچی اور تانیہ کے جانے کےبعد ایک سکون سا ہو گیا تھا۔اب کوئی اسے کچھ نہیں کہتا تھا دادا جان زیادہ تر کمرے میں رہتے یا پھر شام کو باہر نکل جاتے ۔اس کا سامنا کم ہی ہوتا تھا
دادی کسی کو کچھ نہیں کہتی تھیں وہ ہر وقت اپنی عبادت میں ہی مصروف رہتیں ۔اور شام کو جب زریام آتا اس پر کچھ نہ کچھ پڑھ کر پھونکتیں۔
امی تو سارا سارا دن ہانی کے ساتھ گزار دیتی وہ تو نانی نواسی ایک دوسرے کے لیے کافی تھی۔ان کی ٹیم میں اور کسی کی جگہ نہیں سوائے ہانی کے ماموں کے۔
اور جنت ۔۔وہ تو بس اسے شوہر کے دل میں جانے والے راستوں کی مسافر بناتی رہتی تھی۔وہ کچھ ہی دنوں میں زریام کی پسند ناپسند کے بارے میں سب کچھ جان چکی تھی
دروازے کے کھلنے کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا تو وہ اسی کو دیکھ رہا تھا اپنی شرٹ اتار کر بیڈ پر پھینکتے ہوئے قدم دو قدم آگے آنے لگا۔
وہ اس کے نزدیک آتے ہوئے اس کی کمر میں اپنا بازو حمائل کرتا اسے اپنے قریب کھینچ چکا تھا ۔وہ اس کے چوڑے شانوں کا حصہ بنتی اس کے قریب کھڑی گہری گہری سانس لے رہی تھی۔
میں نے تیار ہونے کو کہا تھا کہ قیامت ڈھانےکے لئے کس نے کہا تھا ۔۔وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتا اس کی تھوڑی انگلیوں میں تھام کر اپنے سامنے کر چکاتھا۔
تم ہائٹ تھوڑی اونچی کر لو یار وہ اس کے لبوں پر جھکتے ہوئے بولا۔
اور بنا اسے کچھ بھی کہنے کا موقع دیے اس کے لبوں کی خوشبو خود میں اتارتا خود کو سیراب کرنے لگا۔
سانسوں کی رکاوٹ کا دورانیہ اب بڑھنے لگاتھا۔عمایہ کو سانس لینے میں مشکل ہونےلگی ۔
تو وہ اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتی اسے خود سے دور کرنے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ ٹس سے مس بھی نہ ہوا بلکہ اس کی کمر کے گرد اپنا حصار مضبوط کرتا ہے اسے مزید اپنے قریب کھینچ گیا
وہ قطرہ قطرہ اس کی سانسوں کو پی رہا تھا نہ جانے کیا تھا آج اس میں کہ اس کی تشنگی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی وہ جتنا اسے قریب کر رہا تھا اس کی طلب اتنی ہی بڑھتی چلی جارہی تھی۔
پھر آخر اسے اس کے نازک گداز لبوں اور اس کی سانسوں کی ڈور پر رحم آ ہی گیا وہ پیچھے ہٹا تو عمایہ اس کے سینے پر سر رکھ کے گہرے گہرے سانس لے لگی وہ کتنی ہی دیر مسکرا کر اسے خود سے لگائے کھڑا رہا۔
رات کو تیار رہنا آج تمہاری خیر نہیں وہی اس کے کان میں سرگوشی کرتا اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کپڑے نکال کر فریش ہونے چلا گیا۔جبکہ وہ کتنی ہی دیر اس کے لمس کو محسوس کرتی خود میں سمٹتی رہی۔
°°°°°°
دیکھو لڑکی شرطیں مت رکھو ۔تمہاری ہر بات مانی گئی ہے تمہیں ہر وہ چیز دی گئی ہے جس کی تم نے خواہش کی اب تم اپنے ماں باپ کو سیکھا رہی ہو کہ کیا کرنا چاہے اور کیا نہیں بابا تو غصہ ہونے لگے اس کی بات سن کر
بابا جان میں شادی سے انکار تو نہیں کر رہی نا آپ لوگ میری زندگی کا جو بھی فیصلہ کریں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
بس مجھے تھوڑا سا وقت چاہیے ۔میں آپ لوگوں کی ہر بات مانوں گی . بس مجھے تھوڑا سا وقت دیں دے پلیز بابا ۔۔۔
بس خاموش ہو جاؤ تمہیں جتنی چھوٹ دے دی اتنی ہی کافی تھی اب فیصلہ ہو چکا ہے نکاح ہو گا اور تمہارے پیپرز کے فورا بعد تمہاری رخصتی ہوگی۔
تم پڑھنا چاہتی تھی ہم نے اس معاملے میں کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں کیا
لیکن اب یاد رکھنا اگر اب میری پرورش پر سوال اٹھا تو تمہیں گولی مار دوں گا بہت ہوگیا تمہاری بد لحاظ اور بدتمیزی کو برداشت کرتے کرتے اب ہم تھک چکے ہیں اب اور نہیں جو ہم کہتے ہیں وہ کرو
جاو جا کر نکاح کی تیاری کرو پرسوں جمعہ کو تمہارا نکاح ہے شکر کرو کہ تمہیں یہ پیپرز دینے کی اجازت دی جا رہی ہے ورنہ ہمارا کوئی ارادہ نہیں تھا
اب اگر تم نے مزید کسی بھی طرح کی کوئی ضد ہے تو شاید تم یہ پیپرز بھی نہ دے سکو اب آگے تمہاری مرضی تم جو کرنا چاہتی ہو۔
وہ اپنا فیصلہ سنا چکے تھے جب کہ وہ اتنی منتیں کرنے کے باوجود بھی خالی ہاتھ کمرے سے باہر نکل آئی تھی
کوئی اس کی بات سننے کو تیار نہ تھا۔پرسوں نکاح تھا اور ہر کسی کو اس کے نکاح کی فکر لگی تھی۔
°°°°°°
جمعہ کو اس کا نکاح تھا ۔کسی کا نام ساری زندگی کےلیے اس کے نام کے ساتھ جڑنےوالا تھا
وہ کون تھا کیسا تھا اسے کچھ بھی پتا نہ تھا اور نہ ہی اعتراض تھاوہ بس اپنے لیے کچھ کرنےکا سوچ رہی تھی
بابا سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوا تھا۔بابا تو اس کی کوئی بات سننے کو تیار نہ تھے.دودن بعد جمعہ تھا ۔بابا نے اسے دادا جان سے بات کرنے سے منع کر دیا تھا ۔اور اماں نے اسے یونی جانے سے منع کردیا تھا
وہ ویسے بھی نہیں جانے والی تھی ۔کیونکہ پیر سے اس کے پیپرز شروع ہورہے تھے ۔اور پیپرز کے فوراً بعد شادی کی تیاریاں شروع ہوجاتی ۔
اس وقت وہ اپنے ذہن سے ہر چیز نکال کرصرف اپنی پڑھائی کا سوچ رہی تھی ۔جو مواقع اسے ملا تھا وہ اسے ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتی تھی۔
نکاح سے کہیں زیادہ ضروری اس کے لیے اس کے خواب تھے۔جو پورے کرنےکا مواقع اسے ملنے والا تھا یا نہیں وہ نہیں جانتی تھی لیکن وہ کوشش نہیں چھوڑ سکتی تھی۔
°°°°°°
میں نے سنا ہے کہ اس لڑکی کو تم نے پٹا لیا مطلب سنا کیا میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا بھی ہے نہیں تم تو اتنے شرافت کے ڈرامے کر رہے تھے
لڑکیوں سے الرجی ہے اور پتہ نہیں کیا کیا ۔اور یہاں تم نے تو پوری کی پوری لڑکی پٹا لی۔
میں تو تمہیں اس صدی کا سب سے شریف انسان سمجھ رہی تھی لیکن تم تو میری آنکھوں میں اپنا مقام کھو چکے ہو
وہ اس کے دائیں بائیں گھومتی بالکل ایسا انداز اپنائے ہوئی تھی جیسے وہ کوئی چوری کرتے ہوئے پکڑا گیا ہو
فضول باتیں کرنا بند کرو تم نے مجھے چیلنج دیا تھا اور میں نے وہ چیلنج پورا کرلیا اب تو تمہیں میرے ٹائیگر کو سر کہہ کر بلانا ہوگا چلو آ جاؤ وہ اس سے کہتا ہوا اپنے کتے کی طرف اشارہ کرنے لگا
ایسی تو کوئی شرط نہیں لگی تھی اور نہ ہی میں تمہاری کسی فضول بات کو ماننے والی ہوں میرا تم سے اور تمہارے کتے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور نہ ہی میں اسے اتنی عزت دوں گی
اگر تم اسے عزت نہیں دو گی تو میں اس لڑکی کو بتا دوں گا کہ یہ سب کچھ میں نے تمہارے کہنے پر کیا اس نے دھمکی دی تھی
اسے اندازہ نہ تھا اس کا تیر سیدھا نشانے پر لگےگا لیکن ایسا ہی ہوا تھا کیونکہ اگر اس لڑکی کو پتہ چل جاتا کہ یہ سب کچھ شرط پے ہوا ہے
تو یقیناً یہ لڑکی زکی کو اس کے دوستوں کے سامنے مزید شرمندہ کرتی ۔
ہاں میں وہی کہہ رہی تھی نہ کہ میں ٹائیگر سر کو اب عزت سے سر کہہ کر پکارا کروں گی لیکن اگر سب ایسا ہی ہوا جیسے میں چاہتی ہوں تو
آگے پیچھے کچھ نہیں جو تم نے کہا کہ میں نے کردیا چیلنج پورا ہوچکا ہے اب بات ختم اب میں مزید اس قصے کو گھسیٹنا نہیں چاہتا۔
نہ ہی وہ لڑکی میرے بس کی ہے اس کی ڈیمانڈ ہی ختم نہیں ہوتی کبھی یہ چیز چاہیے کبھی وہ چیز چاہیے
میں اپنے باپ دادا کی دولت اس میک اپ کی دکان پر خرچنے سے رہا
میں اب اس پر اپنی ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں لگا سکتا اگر تم چاہتی ہو کہ میں مزید اس کے ساتھ اپنا وقت برباد کروں تو اس کے لئے پیسے تمہیں بھرنے ہوں گے وہ جیسے شرط رکھ رہا تھا
میرا دماغ خراب ہے جو میں اس کے لیے پیسے بھروں گی
اتنے پیسے ہیں تمہارے پاس اتنی بڑی گاڑی ہے اتنی مہنگی گھڑی پہن رکھی ہے اور کپڑے دیکھو کیسے بینڈ پہن رکھے ہیں ایک لڑکی سے پیسے مانگتے ہوئے شرم آنی چاہیے
نہیں میرا مطلب ہے کیا میری شکل دیکھ کر تمہیں لگتا ہے کہ میرے پاس اتنے پیسے ہیں نہیں نہ میں بہت معصوم مسکین سی لڑکی ہوں میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔
ہاں تم اتنی معصوم اور مسکین ہو کے تمہارے پاس پیسے نہیں ہے لیکن شرط لگانے کے لئے دماغ ہے مزید میرا وقت برباد مت کرو بتاؤ آگے کیا کرنا ہے
وہ مزید شاید اس کے اوور ایکٹنک نہیں دیکھ سکتا تھا اسی لئے اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا جس پر وہ فوراً سے اسے آگے کا پلان بتانے لگی تھی
جسے وہ جیسے جیسے سنتا جا رہا تھا اس کے چہرے کا رنگ ویسے ویسے بدلتا جا رہا تھا
تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تمہاری یہ فضول بات مانوں گا ۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولا
مت مانو مجھے کیا ہے میں بھی تمہارے ٹائیگر کو سر کہہ کر نہیں بلاؤں گی پھر دیکھ لینا اس نے اپنی طرف سے دھمکی دی تھی لیکن اس کا دھمکی دیتا انداز اسے اتنا اچھا لگا تھا کہ وہ بے اختیار مسکرا دیا۔
اپنے ٹائیگر کو تم سے عزت دلوا کے رہوں گا اس کے لیے اب مجھے کچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے
سنو اب نکلو تمہارے انکل نے دیکھ لیا تو تمہارے لئے مسئلہ بن جائے گا وہ اسے جانے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا تو ریدم فوراً وہاں سے نکلنے لگی۔
لیکن یہ ضرور سوچا تھا کہ اسے کیسے پتہ چلا کہ وہ چاچا کو نہیں بتانا چاہتی اس کے بارے میں کچھ بھی
°°°°°°
صبح سے ہی نکاح کی تیاریاں شروع ہو چکی تھی ہر طرف شور ہنگامہ مچا ہوا تھا
وہ بنا کچھ بولے ان سب کی تیاری دیکھ رہی تھی سامیہ بھی صبح صبح ہی واپس آ چکی تھی۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے پارلر والی اسے دونوں ہاتھوں پر مہندی لگا کر گئی تھی ۔فیشل کے بعد اور بھی بہت کچھ کرنا چاہتی تھی لیکن سامیہ نے کہہ دیا کہ کل نکاح ہے آج نہیں۔
جب کہ اب دیدم بیٹھی اس کی خدمات سے لطف اندوز ھو رھی تھی ۔منتیں تو حرم نے بھی بہت کی تھی کہ اسے بھی صرف مہندی نہیں لگوانی۔
بلکہ اپنا فیشل کروانا ہے۔اور بالوں کی کٹنگ بھی کروانی ہے لیکن سب نے کہہ دیا کہ تم بچی ہو تم کچھ نہیں کروا سکتی۔
اور خود بیٹھی اس کے سامنے دلہنوں کی طرح اپنی تیاریوں میں مگن تھی
حرم کا تو دل ایسا خراب ہوا کہ وہ وہاں سے اٹھ کر باہر چلی گئی تھی
دیشم کے نکاح کا جوڑا آ چکا تھا یہ سب کچھ بہت جلدی جلدی ہو رہا تھا
دادا جان چاہتے تھے کہ نکاح جمعہ کے دن ہو اسی لیے یہ ساری تیاریاں اتنی جلد بازی میں کی گئی تھی
کیا بات ہے دیشم تم تو بہت خوش قسمت ہو یار تمہارا نکاح تو ہم سے بھی پہلے ہونے والا ہے
اور وہ بھی اتنے شاندار بندے کے ساتھ ویسے ماننا پڑے گا بڑا لمبا ہاتھ مارا ہے تم نے ہمیں تو کانوں کان خبر بھی نہیں ہونے دی۔
سامیہ ابھی بول رہی تھی کہ حرم کمرے میں آگئی ۔سب کی اپنی ہی تیاری چل رہی تھی جب کہ حرم اپنی ہی مستی میں مگن تھی
اس کو صرف اپنی چیزوں سے مطلب تھا ایک ایک کرکے تقریبا ساری چیزیں لےکر وہ اپنی تیار کروا چکی تھی ۔اور جو چیزیں اسے نہیں لا کر دی گئی تھی وہ خداش لے آیا تھا اس کے لیے
آخر اس کے اکلوتے بھائی کی شادی تھی وہ اپنی تیاریاں کیوں نہ کرتی جبکہ مشال آج شام تک لندن سے واپس آنے والی تھی لیکن منشا کا آنا ممکن نہ ہوسکا کیونکہ وہ پریگنینٹ تھی ۔
بولے نا آپ مجھے دیکھتے ہی خاموش کیوں ہوگئی کیا میں اتنی پیاری لگ رہی ہوں کہ مجھے دیکھتے ہی سب کی بولتی بند ہوگئی۔
حرم جو اچانک سامیہ کو کچھ بولتے بولتے چپ ہوتے دیکھ چکی تھی اس کے سامنے بیٹھ کر پوچھنے لگی
تمہاری برائی کر رہے تھے اور برائی منہ پر تھوڑی نہ کی جاتی ہے سامیہ کندھے اچکا کر بولی۔
آپ سے تو امید بھی یہی ہے لیکن دیشو آپو ایسا نہیں کر سکتی اسی لئے تو ان کو چنا ہے آپ کو چھوڑ کر حرم دانت دکھاتے ہوئے بولی تو سامیہ کا رنگ پل میں زرد پر گیا تھا جس کو محسوس کیے بنا حرم دیشم سے باتوں میں مگن ہو گئی تھی۔
دیشو آپو آپ پر یہ لہنگا بہت پیارا لگے گا وہ اس کے نکاح والے جوڑے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تو وہ مسکرا دی
خوبصورت لوگوں پر خوبصورت چیز اچھی لگتی ہیں وہ آنکھ دبا کر بولی
اپنی وجہ سے وہ گھر میں کسی کا موڈ خراب نہیں کر سکتی تھی اور حرم کتنی خوش تھی اس کے نکاح کو لے کر تین دن کی چھٹیاں بھی لے لی تھی اس نے اپنے کالج سے
ایسا پہلی بار ہو رہا تھا کہ اگلے ہفتے حرم کی سالگرہ تھی اور وہ اپنی سالگرہ سے زیادہ اس بات کو لے کر ٹینشن ہو رہی تھی کہ دیشم کی شادی ہے۔
ایسے میں وہ کسی کی بھی ایکسائٹمنٹ کو ختم نہیں کر سکتی تھی یہ سب لوگ اس سے محبت کرتے تھے اس سے جڑی خوشیاں ان کے لیے اہمیت رکھتی تھی۔
°°°°°
وہ کلاس روم میں داخل ہوا تو اس کی پہلی نظر حرم کی خالی سیٹ پر پڑی تھی اور دوسری نظر اپنی ٹیبل پر پڑی اپلیکیشن پر
سر یہ حرم کی ایپلیکیشن ہے اس کے بھائی کی شادی ہے
۔کچھ دن تک وہ نہیں آ سکے گی اب اس کی واپسی پیر کو ہو گی ۔میشا تفصیل سے بتا کر بیٹھ گئی تھی جبکہ وہ ہاں میں سر ہلاتا اپنا لیکچر سٹارٹ کر چکا تھا
آج کی کلاس اسے بہت بے رونق لگی تھی حرم کے بنا شاید ہی اسے اس کلاس میں رہنا اچھا لگ رہا تھا وہ جلدی جلدی اپنا لیکچر ختم کر چکا تھا
لڑکیوں سےلیکچر کے بارے میں تھوڑے سوالات کر کے وہ کلاس ختم کرتا کلاس سے باہر نکل آیا تھا۔
حرم کے بھائی کی شادی تھی وہ کافی دن تک نہیں آنے والی تھی اتنے دن وہ اس کے بغیر کیسے رہے گا۔
جمعے کواس کے بھائی کا نکاح تھا تو ہفتے والے دن اسے آ جانا چاہیے تھا اور آج جمعرات کی چھٹی تو بیکار میں کر رہی تھی
اور پھر بیچ میں سنڈے وہ تو ویسے بھی اسے ایک دن دیکھے بنا نہیں رہ سکتا تھا ۔
اپنے بھائی کی شادی انجوائے کر لو حرم بی بی کیونکہ اس کے بعد تمہاری ایک نئی زندگی شروع ہونے والی ہے۔
°°°°°°
کہنے کو اس کا نکاح تھا لیکن ساری تیاری اسی کو کرنے پڑ رہی تھی لیکن خوشی میں اسے یہ سب کچھ بہت نارمل لگ رہا تھا۔
وہ سب کچھ بہت خوشی خوشی کر رہا تھا نکاح کی ساری تیاریاں مکمل ہو چکی تھی حویلی کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا تھا اور اس کی دلہن
نہ جانے اس کی تیاری مکمل ہوئی ہوگی یا نہیں تھوڑی دیر پہلے حرم اس کا موبائل فون لے کر گئی تھی کیونکہ دیشم کی مہندی بہت خوبصورت تھی اورحرم اس کی مہندی کی تصویریں لینا چاہتی تھی
جس کے لیے وہ اس کا فون لے کر گئی تھی اور ابھی تک اس کی واپسی نہیں ہوئی تھی وہ خود بھی کافی بے قراری سے اس کے واپس آنے کا انتظار کر رہا تھا۔
وہ آگے پڑھنا چاہتی تھی اپنے خواب پورا کرنا چاہتی تھی اور وہ بھی تو یہی چاہتا تھا کہ وہ اس کا ایک ایک خواب پورا کرے اس کے سارے خوابوں کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھے
اس نے لاء پڑھا تھا لیکن اپنے خاندان بزنس اور زمینی کاروبار کی وجہ سے وہ اپنی وکالت کو آگے نہ بڑھا سکا
لیکن دیشم اپنے خواب پورے کرنا چاہتی تھی اور وہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس کا یہ خواب پورا ہو وہ وکالت کی ڈگری حاصل کرکے بھی وکالت نہیں کر سکا لیکن دیشم کو وہ اس کے خواب پورے کرنے سے نہیں روک سکتا تھا۔
اسے لگتا تھا کہ شادی کے بعد اس پر پابندیاں عائد ہو جائیں گی گھر سسرال شوہر کی ذمہ داری اس پر ڈال دی جائے گی۔
لیکن ایسا کچھ نہیں ہوگا وہ اسے بتائے گا کہ وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے اتنی محبت کہ وہ اس کی محبت میں اس کے ایک ایک خواب کو پورا کرنا چاہتا ہے۔
دادا جان کی بات مان کر وہ خود بھی آج کل بڑی مشکل میں تھا دادا جان نے کہا تھا کہ جب تک تم دونوں کا نکاح نہیں ہوجاتا تم دیشم سے مخاطب نہیں ہوں گے اسے بالکل منہ نہیں لگاؤ گے
اور وہ یہ سوچ رہا تھا کہ وہ اس کی آواز سنے بنا اس سے بات کیے بنا کیسے رہے گا۔
لیکن اب وہ خود اس سے بات کرتی تھی اسے مخاطب کرتی تھی اور اس کے لئے یہ ساری چیزیں بہت اہمیت رکھتی تھی لیکن اب ان کا رشتہ ہی بدلنے والا تھا۔
وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی ہونے جا رہی تھی اور خداش کاظمی کے لیے اس سے بڑی اور کوئی خوشی نہیں تھی۔
°°°°°°°
