65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 44)

Junoniyat By Areej Shah

آؤ حرم اندر آؤ یہ تمہارا گھر ہے مطلب آج سے یہ ہمارا گھر ہے ۔

یہ میں نے خود اپنی محنت سے بنایا ہے دن رات ایک کر کے میں نے اس گھر کی ایک ایک چیز خریدی ہے ۔

میں نے اپنی زندگی میں جو کچھ کمایا ہے سارا اس گھر پہ لگایا تھا

مجھے اپنا گھر خریدنے کا بہت شوق تھا مانا کہ بہت چھوٹا سا ہے تمہاری حویلی کے مقابلے میں تو بہت ہی چھوٹا ہے لیکن میری حق حلال کی کمائی ہے ۔

جیسا بھی ہے تم اسے قبول کر لو

وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے ایک بہت لمبی بلڈنگ میں لے کر آیا تھا اور پھر وہ دونوں لفٹ کے سہارے تقریبا کوئی اٹھارویں مالے پر پہنچے تھے

اور اس مالے میں بھی اسے تین سے چار فلیٹ نظر آئے تھے ان میں سے ایک فلیٹ اس کا تھا ۔

اچھا ہے ۔واش روم کونسی سائیڈ پے ہے وہ جو کب سے ہر طرف نظریں گھما رہی تھی اچانک سے بولی تو یشام کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی

اس کے چہرے پر دنیا جہان کی معصومیت تھی اسے لگا تھا وہ پھر سے اپنی بھرپور نفرت کا اظہار کرے گی لیکن اس کا سوال الگ تھا

اس طرف آؤ میں تمہیں دکھاتا ہوں وہ مسکراتے ہوئے اسے ایک کونے کی طرف بنے واش روم کی طرف لے کر گیا ۔

ایک واش روم یہاں ہیں اور ایک ہمارے روم کے اندر تم فریش ہو کر آ جاؤ پھر میں تمہیں سارا گھر دکھاتا ہوں ۔

وہ اسے یہ سب کچھ بتاتے ہوئے کافی خوش نظر آ رہا تھا حرم بنا کچھ بھی بولے اس کے پیچھے پیچھے واش روم تک آئی اور پھر اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا ہے وہ دروازہ بند کر چکی تھی

°°°°°°

حرم جان کون سے کاموں میں لگ گئی ہو باہر آ جاؤ میں نے تمہاری چائے بھی بنا دی ہے۔

وہ اسے واش روم تک چھوڑ کر خود کچن میں اس کے لئے چائے بنانے آ گیا تھا

وہ لمبے سفر سے واپس آئی تھی تو یقیناً تھکاوٹ محسوس ہو رہی تھی اور اب چائے بنا کر جب وہ باہر لے کر آیا تو دیکھا کہ حرم ابھی تک نہیں نکلی ۔

اس نے دروازے پر دستک دی تھی

جب اگلے ہی لمحے وہ دروازہ کھول کر باہر نکل آئی اس کا منہ سوجا ہوا تھا یقیناً اس کی یہ حرکت اسے پسند نہیں آئی تھی

واش روم میں انسان کن کاموں کے لئے جاتا ہے کیا آپ کو نہیں پتا میں کیا جب بھی واش روم جاؤں گی آپ ایسے ہی دروازہ ناک کرنے لگ جائیں گے

وہ غصے سے گھورتے ہوئے بولی تو یشام نے فورا نفی میں سر ہلایا

سو سوری جان مجھے لگا کہ تمہیں اندر کوئی پریشانی ہو رہی ہے یا کہیں تم اندر بے ہوش تو نہیں ہوگی بس اسی لیے میں چیک کر رہا تھا یشام نے اپنی صفائی پیش کی

میرا نام حرم ہے جان نہیں اس نے غصے سے کر کہا ۔

یس حرم جان میں جانتا ہوں وہ بڑے ہی پیار سے اس کا گال کھنچتے ہوئے بولا ۔

جبکہ اس کے انداز پر وہ بنا کچھ بھی بولے تیزی سے اس کے قریب سے نکل کر سرسری نظر پورے گھر پر دوڑانے لگی

جگہ کافی کم تھی۔باہر دیور کے ساتھ صوفہ تھا جس کے سامنے ایل ای ڈی لگا ہوا تھا اس کے ساتھ ہی فلیٹ کا مین دروازہ تھا ۔

مین دروازے کے سامنے جو کمرہ تھا اس کے مطابق وہ بیڈ روم تھا اور دروازے کے ساتھ جو کمرہ تھا وہ شاید گیسٹ روم تھا اوپن کچن تھا اور ایک چھوٹا سا سٹور روم تھا

اور ان سب کے دروازے باہر کی طرف ہی کھلتے تھے یعنی کہ گھر سے نکلنے کا واحد راستہ بس یہی تھا لیکن سٹورروم کے ساتھ ہی چھوٹی سی بلکنی تھی جس میں تھوڑے سے پودے لگے ہوئے تھے

لیکن بالکل تازہ حالت میں تھے یعنی کے فلیٹ کی چابی اس کے علاوہ کسی اور کے پاس بھی تھی

جو اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر کا خیال رکھتا تھا خیر جو بھی تھا یہ چھوٹا سا گھر کافی صاف ستھرا اور خوبصورت تھا

لیکن بنا اس کی کوئی بھی تعریف کیے حرم وہیں رکھے صوفے پر بیٹھ گئی تھی وہ بہت بےسکونی سے بیٹھی تھی۔جیسے کوئی مہمان بیٹھتا ہے

جب یشام نے اس کے سامنے لا کر چائے کا کپ رکھ دیا اسے چائے کی اشد ضرورت تھی

یہ چائے پیو اور اس روم میں جا کر آرام کرو ۔میں کھانا تیار کرکے تمہیں جگا دوں گا

وہ پیار سے بول رہا تھا ۔وہ اس کے اتنے نرم لہجے کی عادی کبھی بھی نہیں رہی تھی۔

یشام اس کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کررہا تھا۔ وہ اسے کچھ بھی نہیں بول رہی تھی۔ اپنے گھر کےبارے میں یا اپنے گھر والوں کےبارے میں بھی وہ کچھ نہیں کہہ رہی تھی لیکن اس کی خاموشی یشام کو پریشان کر رہی تھی۔

میں پہنوں گی کیا ۔۔۔؟وہ اٹھنے لگا جب اس نے بہت کم آواز میں پوچھا ۔

ابھی تو تمہاری کپڑے نہیں ہیں لیکن تم ایسا کرو کہ آج رات میرے کپڑے پہن لو صبح ہوتے ہی میں تمہیں زبردست سی شاپنگ کروا دوں گا ۔وہ خوشی سے بولا

آپ کے کپڑوں مِیں ،اُن میں تو میں گُم ہوجاوں گی ۔وہ پریشانی سے اس کا کسرتی وجود دیکھ کر بولی۔جس پر وہ مسکرا دیا۔

ڈونٹ وری میں ڈھونڈ لوں گا ۔وہ اٹھ کر اندر چلا گیا اور جب واپس آیا اس کے پاس ایک سفید پاجامہ پینٹ کے ساتھ سُرخ شرٹ تھی ۔

یہ لو ۔۔۔ تم یہ پہنو اور کچھ دیر ریسٹ کرو تب تک میں ڈنر کا انتظام کرتا ہوں ۔

وہ کپڑے اس کے پاس چھوڑ کر کچن کی طرف جانے لگا جب اسے ایک بار پھر سے بے حد کم لیکن معصومیت بھری آواز سنائی دی

دوپٹہ ۔۔۔۔۔۔وہ پلٹ کر اسے دیکھ کر رہ گیا

سوری جان میں تو دوپٹہ نہیں پہنتا ۔اس کی معصوم سی شکل دیکھ کر وہ اس کی پریشانی پر پریشان ہو گیا تھا

وہ تو مجھے بھی پتہ ہے کہ آدمی لوگ دوپٹہ نہیں پہنتے لیکن میں تو دوپٹہ پہنتی ہوں ناں تو میں کیسے اس کے ساتھ دوپٹہ پہنوں گی ۔اس کی بات سن کر وہ دانت پیس کر بولی

جان دوپٹے کے بنا پہن لو یہاں ویسے بھی کون ہے میرے اور تمہارے علاوہ سو ریلیکس وہ کہہ کر کچن کی طرف چلا گیا

جب کہ وہ اس کا ٹراؤزر اور شرٹ ہاتھ میں پکڑی کھڑی رہی پھر سر جھٹک کر واش روم کی جانب چلی گئی

°°°°°

کیا ہوا ہے بھابھی کو بھابھی ٹھیک تو ہیں ناں اچانک اتنے زیادہ چکر کیوں آرہے تھے ڈاکٹر نے کیا کہا ۔

وہ دونوں باہر نکلے تو شائزم انہیں دیکھ کر سوال جواب کرنے لگا ذریام نے اسے تسلی دی لیکن فی الحال اسے کوئی خوشخبری نہ سنائی تھی

جبکہ عمایا خاموشی سے سر جھکا کر ان کے پیچھے پیچھے ہی آ رہی تھی

ذریام کا اتنا لاپروا انداز اسے بالکل پسند نہیں آیا تھا

وہ اس بارے میں کوئی بات ہی نہیں کر رہا تھا

عمایہ تو یہ سوچ رہی تھی کہ اس خوشخبری کے ساتھ وہ خوش ہو جائے گااور اس سے ہوئی غلطی کو بھی نظر انداز کردے گا

لیکن ایسا تو کچھ بھی نہیں ہوا تھا تو اس خبر کو سن کر خوش بھی نہیں ہوا تھا ۔بلکہ اس کے چہرے پر بےرونقی تھی ۔وہ تو اور بھی سنجیدہ ہوگیا تھا ۔اور اس کی یہ سنجیدگی عمایہ کو کچھ غلط ہونےگا احساس دلا رہی تھی

شاید یہ بچہ اس کی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا ۔یا اس سے ہوئی غلطی اس بچے سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔

وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی ذریام کا انداز اس کی سوچ سے بہت مختلف تھا لیکن اس کی لاپرواہی نے اسے تکلیف دی تھی

°°°°°°

کیا ہوا تھا عمایہ میں تو گھبرا گئی تھی بیٹا یہ سن کر کہ تمہاری طبیعت خراب ہوگئی ہے

شائزم نے فون کرکے جب مجھے یہ بتایا کہ تمہاری طبیعت خراب ہوگئی ہے تو میں نے زریام کو بھی فون کیا لیکن اس نے بتایا تھا کہ ڈاکٹر تمہارا چیک کر رہی ہے

میں تو اتنی پریشان ہوگئی تھی کہ جنت کا فون آیا تو میں نے اس کو بھی بتا دیا کہ تمہیں ذریام ہسپتال لے کر گیا ہوا ہے وہ بھی پریشان ہو گئی ہوگی وہ لوگ واپس گھر آئے تو ماما ان کے انتظار میں تھیں۔

اوہو ماما پھوپھیاں تو ایویں ہی بد نام ہیں ڈھنڈورا تو مائیں بھی پیٹ دیتی ہیں شائزم نے شرارت سے کہا جب کہ وہ مسکرا کر اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے زریام کے ہاتھوں سے رپورٹس تھام چکی تھی جو وہ انہیں دے رہا تھا ۔

بہت شرارتی ہوتے جا رہے ہو تم شائز تمہیں تو تمہاری بیوی ہی آ کر لگام ڈالے گی وہ رپورٹس پڑھتے ہوئے بولیں۔

جی جناب ہم تو منتظر ہیں خود کو لگام ڈالوانے کے لئے شائزم شوخ ہوا جب کہ پوری ریورٹس پڑھتے ہوئے وہ کبھی ذریام کے تو کبھی عمایہ کے چہرے کو دیکھ رہی تھیں

یہاں پر خوشی کے آثار نظر نہیں آرہے تھے لیکن ان کاغذوں میں لکھی خوشخبری ان کی آنکھوں میں پانی لے آئی تھی ۔

یہ۔۔۔۔۔می۔ ۔۔ میں دادی بننے والی ہوں وہ خوشی سے اپنی بات مکمل ہی نہیں کر پا رہی تھیں۔

ڈاکٹر کا تو یہی کہنا ہے باقی آپ خود دیکھ لیں زریام لاپرواہ انداز میں کہتا وہی رک کر اس کی میڈیسن چیک کرنے لگا تھا۔

ڈنر ٹھیک سے کیا تھا تم نے ماما جو خوشی سے اسے اپنے سینے سے لگائے کھڑی تھیں وہ اس کے پاس رک کر سوال کرنے لگا ۔

ماما سے الگ ہوکر ایک نظراسے دیکھتے ہوئے اس نے ہاں میں سر ہلایا تھا اس کا اتنا سرد لب و لہجہ اس کی سمجھ سے باہر تھا

جبکہ شائزم جو اپنے چاچا بننے کی خوشی میں اپنی ماں کومبارک باد دیتا خوش ہو رہا تھا اپنے بھائی کا رویہ دیکھ کر پریشان ہو گیا ۔

ٹھیک ہے تو پھر یہ والی میڈیسن کھا لو اور کوئی لاپرواہی مت کرنا دوپہر کی میڈیسنز تمہیں ماما خود دیں گیں اور رات تو میں ویسے بھی گھر آ جاتا ہوں

ماما آپ بھی ایک بار دیکھ لیجئے گا کہ کون سی میڈیسن دوپہر میں دینی ہے صبح والی میں کھلا کر جاؤں گا ۔

وہ انہیں دوائیاں چیک کرواتے ہوئے کہہ رہا تھا اسے اپنے بچے کی پرواہ تھی اسے احساس تھا اپنی ذمہ داری کا لیکن وہ خوش نہیں تھاعمایہ نے اس کے رویے سے یہی اخذ کیا تھا ۔

ماما اس کے لئے دودھ گرم کر کے لائیں پلیز یہ میڈیسن دینی ہے تم چلو روم میں اور اب میں تمہیں ہر وقت بے کار میں کچن میں گھومتے نہ دیکھوں خبردار جو کسی کام کو ہاتھ لگایا ۔

ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ تم کافی کمزور ہو تمہیں اپنا بہت خیال رکھنا پڑے گا ۔اپنا خیال نہیں رکھو گی تو بچہ ہیلدی کیسے رہے گا ۔۔۔

میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو چلو کمرے میں اسے کب سے اپنی طرف دیکھتے پا کر وہ ذرا سختی سے گویا ہوا تو عمایہ ہاں میں سر ہلا کر فوراً ہی سیڑھیوں کی طرف قدم اٹھانے لگی ۔

کمرے میں آنے کے بعد بھی اس کا لب و لہجہ ہی رہا ناراض ناراض سالیکن اس کے باوجود بھی وہ کبھی اس کی دوا اسے دیتا تو کبھی اسے ہدایات دینا شروع کر دیتا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ۔

جبکہ عمایہ جو اس سے بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی۔اپنے بچے کے بارے میں سوال کرنا چاہتی تھی۔

نہیں کر پائی۔۔ اس کےلبوں سے ایک لفظ بھی نہ نکل سکا ۔

وہ خوش تھا یا نہیں وہ نہیں جانتی تھی لیکن اسے اس بات کا احساس تھا کہ وہ بچہ اس کا ہے ۔

اور جس طرح سے وہ اس کی پرواہ کر رہا تھا یقیناً وہ اس بچے کو دنیا میں بھی لانا چاہتا تھا لیکن اس کا روکھا سوکھا سا رویہ اس سے اس کی خوشیاں چھین رہا تھا ۔وہ اس کے سینے لگ سے لگنا چاہتی تھی ۔

اس کو مبارکباد دینا چاہتی تھی ۔لیکن وہ تو جیسے اس سے میلوں دور ہوگیا تھا

°°°°°°

تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا۔۔۔۔۔؟

جب ہم تمہیں پہلے ہی بول چکے ہیں کہ ہم تمہاری اس ضد کو پورا نہیں کر سکتے تو بار بار روز ایک ہی بات کرنے کیوں یہاں آ جاتے ہو تم

ہم تمہاری یہ بات نہیں مان سکتے ذریام چاہے دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے لیکن پھر بھی ہمارا جواب یہی رہے گا کہ ہم اس کو بہو قبول نہیں کریں گے ۔

وہ ماں بننے والی ہے دادا جان وہ میرے بچے کو اس دنیا میں لانے والی ہے میرے وجود کے حصے کو اپنے وجود میں پروان چڑھا رہی ہے آپ اپنی ضد چھوڑ دیں دادا جان مجھے میرا بچہ بہت عزیز ہے ۔

اسے میرے نام کی ضرورت ہے میں پوری دنیا میں اسے اپنی بیوی کے طور پر متعارف کروانا چاہتا ہوں دادا جان ونی کی کوئی اوقات نہیں ہوتی وہ میرے بچے کو جنم دے کر بھی ایک ونی ہی رہے گی

وہ کسی کی نظروں میں معتبر نہیں ہوگی اس کی کوئی عزت نہیں ہوگی کوئی پہچان نہیں ہوگی میرا بچہ ناجائز کہلائے گا دادا جان میں آپ کے سامنے ہاتھ جوڑتا ہوں اپنی ضد چھوڑ دیں۔

پہلی بار وہ کسی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر رہا تھا لیکن دادا جان تو ظالم سفاک بنے اس کی ہر بات کو نظر انداز کر رہے تھے جیسے اس کی تکلیف ان کے لئے کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی ۔

ٹھیک ہے ہم تمہاری بات ماننے کو تیار ہیں لیکن ہماری ایک شرط ہے ہم اس لڑکی کو تمہارا نام دینے کے لیے تیار ہیں

اس کے بچے کو اس خاندان کا وارث قبول کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن تمہیں ہماری ایک بات ماننی پڑے گی

مجھے آپ کی ہر شرط منظور ہے دادا جان آپ جو کہیں گے میں وہ کروں گا بس میری اس بات کو مان لیجئے میں اپنے بچے کو ناجائز نہیں کہلوا سکتا مجھے میرے بچے کو اپنا نام دینا ہے لڑکی کواپنا نام دینا ہے

میں اس لڑکی کے ساتھ کسی طرح کی کوئی ناانصافی نہیں کر سکتا مجھے اس کے ساتھ ایک بہت صاف ستھری زندگی گزارنی ہے میں ان سب ٹینشنوں سے دور ہو جانا چاہتا ہوں

باقر کے قاتل کو تلاش کرنا میرا فرض ہے اور میں اپنا فرض ضرور نبھاؤں گا لیکن ان سب چیزوں میں اس لڑکی کی ذات بے مول ہو رہی ہے وہ بے قصور ہے دادا جان اس کا کوئی قصور نہیں ہے ۔

امید کی کرن نظر آتے ہی وہ ان سے کہنے لگا لیکن دادا جان کی اگلی بات سے اس کے پیروں تلے سے زمین نکل کے لے گئی تھی وہ کچھ بولنے کے قابل ہی نہ بچا

جب کہ وہ اپنی شرط اسے بتا کر سکون سے اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے ۔جیسے انھیں یقین ہو کہ وہ ان کی شرط مان نہیں سکے گا ۔اور اگر وہ دادا جان کی شرط ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ بھی اس کی کسی بات کو ماننے کے پابند نہیں تھے ۔

سوچ سمجھ کر سکون سے ہمیں جواب دو ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے ۔تم اب جا سکتے ہو یہاں سے وہ کہہ کر اپنی کتاب اٹھا چکے تھے جب کہ ذریام کتنی دیر ان کو دیکھتا رہا وہ اتنے سفاک ہو سکتے ہیں کہ اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا ۔

اب دوبارہ ہمارے پاس یہ بات کرنے کے لیے تب ہی آنا جب تم ہماری شرط کو قبول کر لو گے اگر تمہیں ہماری شرط قبول نہیں ہے تو جو ہم چاہتے ہیں وہ ہوگا اس کے باہر نکلتے ہی وہ پیچھے سے بولے تھے جبکہ وہ بھی نہ کچھ بھی بولے اپنی قدم آگے ہی بڑھالےگیا

°°°°°

اس نے کمرے میں قدم رکھا تو وہ فورا اٹھ کر بیٹھ گئی اس کے کپڑے اسے کافی کھلے تھے ۔

آپ یہاں کیوں آئے ہیں اس نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا تھا اس کے لہجے میں لڑکھڑاہٹ تھی ۔

وہ میں اپنا ایپرن لینے آیا تھا ۔جانے سے پہلے میں نے یہاں اپنے بیڈ روم میں رکھ دیا تھا وہ مسکرا کر بولا اور الماری سے ایپرن نکالنے لگا ۔آپ ایک ہی بار ساری چیزیں نکال کر لے جائیں یوں باربار میری نیند خراب ہوتی ہے ۔

وہ اسے دیکھتے ہوئے بولی شاید وہ اسے یہ بتانا چاہتی تھی کہ وہ اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی یااس سے دوری بنا کر رکھنا چاہتی ہے لیکن نہ تو وہ بدتمیز تھی اور نہ ہی منہ پھٹ اور اپنے معصومانہ انداز میں وہ کسی بھی طرح کی سختی لانے میں بھی ناکام ہی ہو رہی تھی

اوکے جان اب میں تمہیں بالکل ڈسٹرب نہیں کروں گا میں ساری چیزیں لے کر جا رہا ہوں ۔وہ مسکراتے ہوئے بولا تھا

آپ سوئیں گے کہاں نہ جانے کیوں اس کے دماغ میں یہ سوال آیا تو اس نے فورا پوچھ لیا

غالبا یہ میرا ہی بیڈروم ہے وہ جیسے اس کی معلومات میں اضافہ کر رہا تھا

تو میرا بیڈروم کونسا ہے مجھے کیوں لے کر آئے ہیں آپ یہاں وہ اسے گھورتے ہوئے بولی ۔وہ اس کے ساتھ کسی طرح کی کوئی بدتمیزی نہیں کر رہی تھی شاید ابھی تک وہ اس کے ٹیچر والے روعب میں تھی ۔

تمہارا بیڈ روم بھی یہی ہے جان تم یہی پر سوؤں گی وہ اسکی ہر بات کا جواب بہت نرمی اور محبت سے رہا تھا

لیکن میں تو اکیلے سوتی ہوں مجھے میرا اپنا بیڈ روم چاہیے میں اکیلی سوؤں گی وہ اٹھ کر کھڑی ہوگئی تھی جبکہ اس کے کھلے کھلے کپڑوں میں اپنا پرانا سکاف کئے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔

کوئی مسئلہ نہیں میں دوسرے روم میں سو جاؤں گا ۔تم یہاں آرام کرو ۔بالکل اکیلی میں تمہیں ڈسٹرب نہیں کروں گا ہاں بس یہاں موجود باقی لوگ تمہیں تنگ نہ کرے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا وہ پرسکون سا کہہ کر کمرے سے نکلنے لگا ۔

باقی لوگ کون ۔۔۔؟اس نے جلدی سے سوال کیا

ارے کوئی نہیں تمہیں نظر نہیں آئیں گے ۔عظمی نام تھا میرے خیال میں اس عورت کا جو مجھ سے پہلے اس گھر میں رہتی تھی اس کی لاش یہاں ملی تھی تو اس کے بعد اس گھر کو جتنے بھی لوگوں نے خریدا وہ ان کو تنگ کرتی رہتی تھی۔اور کبھی کبھار تو مجھے بھی

خیر تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں وہ تمہیں بالکل ڈسٹرب نہیں کرے گی میں تو کافی عرصے سے یہاں رہ رہا ہوں ۔

تو میں کیا اس کی پھوپھو کی بیٹی ہوں جو مجھے بالکل تنگ نہیں کرے گی ۔وہ جلدی سے اس کے پاس آئی تھی

تم کیا ڈرتی ہو ایسی چیزوں سے وہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

نہیں نہیں تو میں تو نہیں ڈرتی میں بہت بہادر ہوں

بس پھر ریلیکس وہ بہادر لوگوں کو کچھ نہیں کہتی وہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا جب کہ وہ اپنی بہادری کو لے کر آہستہ آہستہ ہر طرف دیکھتی بیڈ کے پاس آ گئی

°°°°°