Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 23)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 23)
Junoniyat By Areej Shah
اس کے بہت سارے دوست آئے ہوئے تھے وہ سب سے مبارکباد وصول کر رہا تھا اس کے چہرے پر جاندار مسکراہٹ تھی
نکاح ہو چکا تھا اور وہ بہت خوش تھا وہ آج اس کی ہو چکی تھی ۔
اس کی خواہش اس نے تب کی تھی جب وہ محبت کا مطلب بھی نہیں سمجھتا تھا ۔اس سے محبت کر کے اس نے اپنے آپ کو پہچانا تھا۔
اسے اس کی زندگی کی ہر خوشی مل گئی تھی ۔اس کی پہلی خواہش اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اس کی زندگی میں شامل ہو چکی تھی ۔تو وہ بھلا خوش کیسے نہ ہوتا۔۔۔
سب لوگ آہستہ آہستہ جا رہے تھے اپنے سارے دوستوں کو الوداع کہنے کے بعد وہ ایک نظر اسے دیکھنے کا خواہش مند تھا۔
لیکن اس سے زیادہ ضروری فلحال دادا جان سے ملنا تھا جن کی وجہ سے یہ سب کچھ ممکن ہوا تھا ۔
نہ جانے کیسے انہوں نے سب کو راضی کیا تھا وہ جانتا تھا اس رشتے کے لئے کوئی بھی راضی نہیں ہے ۔
کوئی بھی دیشم اور اس کے نکاح کے لئے راضی نہیں تھا پہلے بابا جان منشاء کے خواہش مند تھے ۔جس کا ذکر وہ چاچا جان سے بھی کر چکے تھے
لیکن بعد میں جب اس نے منشا سے شادی کرنے سے صاف انکار کردیا اس کے انکار کی وجہ سے بابا جان کو چاچا جان کے سامنے بہت شرمندگی اٹھانی پڑی تھی اور اس کے فوراً بعد انہوں نے منشاء کی شادی کر دی تھی ۔
اس دن کے بعد سے لے کر تقریبا تین سال سے چاچا جان ان سے کچھ خفاخفا نظر آتے تھے لیکن پچھلے دو تین دن سے جب سے نکاح کے تیاری شروع ہوئی تھی چاچاجان بہت خوش تھے
اس کی اسے اپنا داماد بنانے کے خواہش کیسے پوری ہو چکی تھی اور یہ سب کچھ صرف اور صرف دادا جان کی وجہ سے ہوا تھا۔
سب کو الوداع کرنے کے فورا بعد وہ دادا جان کے کمرے میں آیا تھا کیونکہ وہ سب سے زیادہ تھینک یو تو انہیں کا کرنا چاہتا تھا کیونکہ انہیں کی بدولت تو آج سے اس کی چاہت ملی تھی۔
°°°°°
دادا جان کیا میں کمرے میں آ سکتا ہوں وہ دروازے پر کھڑا ان سے اجازت مانگ رہا تھا جب کہ وہ اسے دیکھ کر مسکرا کر اندر آنے کی اجازت دے چکے تھے۔
مجھے تو لگتا تھا کہ آج تمہیں دادا جان کی یاد ہی نہیں آئے گی آج تو یقیناً خوشی سے تمہارے قدم زمین پر نہیں ٹک رہے ہوں گے
آخر آج تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خوشی جوتمہیں مل گئی ہے وہ اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے مسکراکر اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے کہہ رہے تھے
صرف اور صرف آپ کی بدولت آپ کی وجہ سے مجھے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی مل گئی
تھینک یو تھینک یو سو مچ آئی لو یو دادا جان میں جانتا ہوں آپ کبھی میری کسی خواہش کو رد نہیں کر سکتے خوشی اس کے چہرے سے پھوٹ رہی تھی ۔
ہم تمہاری کبھی کوئی خواہش ٹال نہیں سکتے خداش کیونکہ تم خود ہماری ایک خواہش ہو ہم تم سے بہت پیار کرتے ہیں
ہم تمہیں بتا بھی نہیں سکتے کہ ہم تم سے کتنی محبت کرتے ہیں وہ خوشی سے اپنے سینے سے لگائے اپنی راحت کا سامان کر رہے تھے۔
میں جانتا ہوں داداجان آپ مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں میری ہر خواہش کو پورا کرتے ہیں۔
مجھے بے تحاشا چاہتے ہیں آئی لو یو سو مچ میری اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے میں زندگی بھر آپ کا احسان مند رہوں گا ۔
وہ خوشی سے سرشار لہجے میں بول رہا تھا جب کہ دادا جان اس کا چہرہ دیکھ رہے تھے شکر خدا کا کہ اس نے غلطی نہیں کی تھی جو اس خاندان کے پچھلی نسل کے نوجوان کرچکے تھے ۔
اس نے اس لڑکی کو پسند کیا تھا جو کہ اس خاندان کا حصہ تھی ۔ان کا اپنا خون تھی
اگر خداش کی پسند اس خاندان سے باہر ہوتی یا پھر وہ کسی کو بھی ان کے گھر کی بہو بنا کر لے آتا تو وہ کیا کرتے تھے وہی جو انہوں نے 17 سال پہلے کیا تھا۔
ہاں شاید وہ ایسا کرتے لیکن اب ان میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اس درد کو دوبارہ برداشت کر پاتے ان کے پانچ بیٹے تھے لیکن پوتا صرف ایک تھا
اپنے دو جوان کندھوں کو انہوں نے اپنا کندھا دیا تھا ۔یہ درد آج بھی ان کے سینے میں دفن تھا ۔جسے وہ کبھی بھلا نہیں سکتے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ خداش کی پسند پر سر جھکانے کو تیار ہو چکے تھے۔
بے شک دیشم ان کی پسند میں کہیں شامل نہیں تھی وہ اس لڑکی کو اپنی نسل کا امین بنانے کو ہرگز تیار نہ تھے
لیکن خداش کی ضد نے انہیں مجبور کر دیا تھا انہیں کچھ نہیں چاہئے تھا بس ان کا پوتا خوش تھا یہی ان کی خوشی تھی۔
°°°°°
راحت صاحب بہت پریشان تھے بار بار وہ چہرہ ان کے سامنے آ رہا تھا۔
یہ محض ایک اتفاق ہے اور کچھ بھی نہیں وہ بڑبڑائے تھے۔۔
اس کا سر ٹینشن سے گھوم رہا تھا انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ بات کسی سے شیئر کرے کیسے بتائیں اس کے بارے میں۔۔
کیا یہ ایک اتفاق ہو سکتا ہے وہ اپنی بات میں الجھ رہے تھے
یہ صرف ایک اتفاق ہے اور کچھ بھی نہیں وہ اٹھ کر بیٹھ گئے ۔
لیکن کیسے ایسا کیسے ہو سکتا ہے 17 سال کے بعد وہی چہرہ ان کے سامنے تھا
کسی 17 سال پہلے انہوں نے اپنے ہاتھ سے دفنایا تھا ۔
اور آج 17 سال کے بعد وہ وہی چہرہ ایک بار پھر سے دیکھ رہے تھے ۔اپنی آنکھوں کے سامنے جیتا جاگتا وہ مسکراتا چہرہ لیکن اس کی آنکھوں میں بے تحاشہ نفرت تھی وہ اس نفرت کو پہچان سکتے تھے ۔ایسی نفرت انہوں نے 17 سال پہلے بھی تو دیکھی تھی۔ نہیں کچھ بھی نہیں یہ سب صرف اتفاق ہے وہ ہر سوچ کو اپنے ذہن سے جھٹکتے ہوئے بستر پر لیٹ گئے تھے۔
°°°°°°
یشی کے بابا کو مت لے کر جاو انکل ۔
یشی کے بابا کو مت لے کر جاو انکل پلیز پلیز مت لے کر جاؤ ۔۔ایک چھوٹا سا بچہ روتے ہوئے ان کے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔
ان کی آنکھ کھل گئی ان کی چہرہ پسینے سے شرابور تھا وہ پریشانی سے سر پکڑ کر بیٹھ گئے تھے ان کی بیگم گہری نیند میں تھیں جب کی نیند سکون سب تباہ ہوچکا تھا ۔
ان کے دل میں ایک ڈر بیٹھ گیا تھا وہ اس کی آنکھوں میں نفرت دیکھ کر ڈر گئے تھے
اس کی آنکھیں اس بات کی گواہ تھی کہ وہ کچھ کرنے والا ہے وہ اپنے انتقام میں کوئی بھی حد پار کر دینے والا ہے ۔
نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے یہ صرف ایک غلط فہمی ہے اور کچھ بھی نہیں یہ سب صرف ایک اتفاق ہے ایسا نہیں ہو سکتا ایسا نہیں ہو سکتا وہ خود پر یقین دلاتا رہے تھے
مجھے اس بات کو یہیں ختم کر دینا چاہیے یہ بات کسی کو بھی نہیں بتانی چاہیے بیکار میں ٹینشن لے رہا ہوں میں اور کچھ بھی نہیں مجھے اس بات کو یہیں بھول جانا چاہیے وہ الجھن کا شکار تھے خودی میں ہی الجھ رہے تھے
وہ کافی دیر سے سونے کی کوشش کرتے رہے لیکن پھر بھی نیند نہیں آئی تو نیند کی گولیاں لے لیں بس کیسے بھی انہیں اس ٹینشن سے جان چھڑانی تھی۔
نیند کی گولیوں نے اثر کیا تھا وہ تھوڑی ہی دیر میں ہر چیز بھول بھلا کر گہری نیند میں اتر چکے تھے یہ جانے بغیر کہ آنے والا وقت ان کے لیے کس حد تک خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
°°°°°
وہ گھر واپس آیا تو چہرے پر سکون تھا۔نجانے کیوں آج اسے بہت خوشی ہورہی تھی۔ اور یہ خوشی اسے راحت صاحب سے مل کر نہیں بلکہ ان کے چہرے کی خوشی چھین کر ملی تھی۔
ہاں راحت کاظمی کے چہرے کی مسکراہٹ چھین کر اسے بےسکون کرکے وہ اندر تک سرشار تھا اسے لگ رہا تھا جیسے اس نے اپنے انتقام کی شروعات کردی ہو
وہ جس مقصد کے لیے یہاں آیا تھا اس مقصد کی شروعات ہو چکی تھی ہاں اس نے اپنے انتقام کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا تھا۔
ابھی تو وہ صرف راحت صاحب کے سامنے آیا تھا تو ان کے پسینے چھوٹ گئے تھے ابھی تو بہت کچھ باقی تھا ابھی تو ان کو بہت کچھ برداشت کرنا تھا۔
یہ تو صرف شروعات ہوئی تھی آگے آگے بہت کچھ باقی تھا وہ ان کی ہستی تک ہلا کر رکھ دینے والا تھا۔
اسے دو دن پہلے یہ سب کچھ پتہ چلا تو تھوڑا سا دکھ بھی ہوا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ حرم ان سب چیزوں میں شامل ہو وہ اسے اپنی الگ دنیا میں لے کر جانا چاہتا تھا وہ اس کے ساتھ اپنی دنیا بنانا چاہتا تھا بلکہ وہ اسی کو اپنی دنیا بنا چکا تھا وہ اس کے ساتھ اپنی زندگی کی شروعات کرنا چاہتا تھا
لیکن حرم بھی ان سب چیزوں کا حصہ بن جائے گی یہ بات تو اس کے ذہن میں بھی نا تھے ہاں اسے یہ جان کر تکلیف ہوئی تھی کہ حرم خاندان کا حصہ ہے جس سے وہ بے تحاشا نفرت کرتا ہے
لیکن حرم کے لیے وہ اپنا انتقام ادھورا چھوڑ تو نہیں سکتا تھا وہ اپنے انتقام سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا تھا۔
وہ اپنی منزل کے اتنے پاس آنے کے بعد پیچھے ہٹنے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اب تو اسے اپنے قدم آگے ہی بڑھانے تھے سامنے کوئی بھی کیوں نہ ہو۔بےشک۔۔۔۔ وہ اس کی محبت تھی
لیکن اپنے ماں باپ کےلیے وہ اپنی محبت کو بھلا سکتا تھا وہ محبت کو چھوڑ سکتا تھا لیکن انتقام کو نہیں ۔
ہاں وہ ایک لڑکی کی محبت کی خاطر اپنے ماں باپ کو دھوکا نہیں دے سکتا تھا وہ ایک لڑکی کی خاطر اپنے ماں باپ کو نہیں چھوڑ سکتا تھا جن لوگوں نے اس کے ماں باپ کو دنیا میں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔
ان کی جائز رشتے کو معاشرے میں قبول نہ کیا ان لوگوں کی بیٹی کے ساتھ محبت کا تعلق نبھا کر وہ کیسے خوش رہ سکتا تھا
اسے فلحال اور کچھ نہیں سوچنا تھا صرف سوچنا تھا تو اپنے ماں باپ کو جو ساری زندگی ان لوگوں کی وجہ سے سکون کا سانس نہ لے سکے۔
جو انہیں اپنے جائز رشتے کا یقین دلاتے دلاتے دنیا سے چلے گئے۔
ان لوگوں کی بیٹی کی خاطر وہ اپنے ماں باپ کو نہیں چھوڑ سکتا تھا بے شک وہ پہلی نظر کی محبت کا شکار ہوا تھا بے شک وہ اسے دیوانوں کی طرح چاہنے لگاتھا۔
شاید اس کو بھلا کر وہ جی بھی نہ نا پاتا لیکن اپنے ماں باپ کے انتقام کو کسی لڑکی کی خاطر چھوڑ کر وہ نہیں جا سکتا تھا۔
بہت غرور تھا ان لوگوں کو اپنے خاندان پر تو کیوں نہ وہ پہلا حملہ خاندانی نام پر ہی کرے ۔
کیوں نا وہ پہلے حملے میں ہی ان لوگوں کا مان توڑ دے
ان کے غرور کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے ۔کتنا اچھا لگے گا کتنا سکون ملے گا اسے انکے جھکے ہوئے سر دیکھ کر ۔
تو وہ اس سکون کو حاصل کیوں نا کرے ۔
بہت خوش ہونا تم راحت کاظمی اپنے بیٹے کی شادی پر اور اگر یہ شادی تمہارے لیے تمہاری بربادی بن جائے تو تم کیا کروگے ۔۔
ہاں میں دیکھنا چاہتا ہوں تمہارا ٹوٹا غرور تمہارا بکھرا مان ۔تیار ہو جاؤ آ رہا ہوں میں تمہیں اپنے خاندانی ہونے کا ثبوت دینے ۔۔۔۔۔۔
°°°°°
تو یہ سب دھوکا تھا۔وہ اسے دھوکہ دے رہا تھا اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس جیسی خوب صورت لڑکی کے ساتھ کوئی ایسا کر سکتا ہے۔
اس یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کے ساتھ کوئی ایسا کر سکتا ہے ۔آج تک کسی کی اتنی ہمت نہ ہوئی تھی کہ ماریہ کو دھوکا دے سکے
آج تک وہی لڑکوں کو چھوڑا کرتی تھی جو اسے پسند نہیں آتا تھا وہ اسے ڈاج دے دیتی تھی
لیکن کوئی اسے چھوڑ کر چلا جائے گا یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔
نہیں تم میرے ساتھ ایسا نہیں کر سکتے شائزم شاہ تم میرے ساتھ ایسا کرنے کے بارے میں سوچ بھی کیسے سکتے ہو ۔
میں نے تمہارے لئے احسن کو چھوڑ دیا کہ میں تمہاری دولت پر عیش کر سکوں اور تم میرے ساتھ دھوکا کر رہے تھے تم میرے ساتھ ٹائم پاس کر رہے تھے۔
نہیں تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے اتنی آسانی سے تو میں تمہیں چھوڑوں گی نہیں یہ سب کچھ تم نے اس لڑکی کی وجہ سے کیا نا
اب تم دیکھنا میں اس لڑکی کے ساتھ کیا کرتی ہوں میرے ساتھ دھوکا کر کے خوش تو تم بھی نہیں رہو گے تمہاری خوشیاں نہ چھین لیں تو میرا نام بھی ماریا نہیں
بہت پچھتاو گے تم شائزم شاہ سکون تو میں تمہیں بھی نہیں لینے دوں گی مجھ سے پنگا لے کر بہت بڑی غلطی کی ہے تم نے
وہ بہت کچھ ہو جا رہی تھی اتنی آسانی سے سب کچھ اپنے ہاتھ سے نکلنے نہیں لے سکتی تھی
آخر بہت عرصے بعد اتنا امیر آدمی اس کے ہاتھ لگا تھا
اپنی یہ ہار اس سے قبول نہیں ہو رہی تھی صرف اپنی منگیتر کو جلانے کے لیے وہ ایسے اپنے ساتھ لیے گھوم رہا تھا لیکن اب ماریہ کا دل آگیا تھا اس پر اور وہ آسانی سے چھوڑنے والی تو نہیں تھی
بے شک اسےکچھ بھی کیوں نہ کرنا پڑے اسے کسی طریقے سے اس کی منگیتر کو ہی راستے سے ہٹانا تھا
کیونکہ اب میں شائزم کو چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔
°°°°°°
اور آج اتوار کا دن تھا اور سب لوگ گھر پر ہی تھے دیشم تو نکاح کے بعد سے لے کر اب تک سامنے نہیں آئی
وہ اپنے کمرے میں موجود اپنے ہونے والے پیپرز کی تیاریوں میں مگن تھی ۔جبکہ یہاں خداش کاظمی تھا جو ہر وقت اس کو دیکھنے کے لئے بے چین تھا ۔
اس وقت وہ اس کی بس ایک جھلک دیکھنے کے لئے اتنا بے قرار تھا کہ وہ سب کچھ لٹانے کو تیار بیٹھا تھا بس ایک بار وہ اس کے سامنے آ جائے صبح ناشتے پر دوپہر کے کھانے پر یا پھر رات ڈنر کے وقت بھی وہ نیچے نہیں آ رہی تھی۔
کل چاچی جان بتا رہی تھیں کہ وہ اپنے پیپرز کو لے کر کافی زیادہ پریشان ہے اور ہر وقت اپنی تیاریوں میں لگی رہتی ہے۔
اور پھر دادا جان نے کہہ دیا تھا کہ اسے بالکل تنگ نہ کیا جائے وہ اپنی پڑھائی کر رہی ہے تو کرنے دی جائے
ویسے بھی اس کے پیپرز کے فورا بعد اس کی شادی کر دی جائے گی تو وہ جیسے چاہتی ہے ویسے کر سکتی ہے
اس نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ آگے کے بارے میں دیشم کی پڑھائی کے لئے کیا سوچے ہوئے ہے۔ اس نے دادا جان کو بس اتنا ہی بتایا تھا کہ
وہ اپنی بیوی کا خواب پورا کرنا چاہتا ہے دادا جان کو اندازہ تھا کہ وہ اس کی پڑھائی نہیں چھڑوانے والا لیکن دادا جان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا
وہ اسے مزید پڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے وہ شادی کے فورا بعد اس کی پڑھائی بند کر دینا چاہتے تھے
وہ اسے پوری طرح سے خداش کی بیوی کے روپ میں ڈھلے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے
وہ چاہتے تھے کہ وہ شادی کے بعد اپنا گھر بسائے اپنی آنے والی زندگی کے بارے میں سوچے خداش کے ساتھ ایک نئی خوبصورت زندگی کی شروعات کرے نہ کہ پرانے فتور لے کر نئی زندگی میں قدم رکھے۔
خداش کو بھی وہ صاف اندازہ بھی بتا چکے تھے کہ شادی کے بعد اپنی بیوی کو زیادہ سر پر چڑھانے کی ضرورت نہیں ہے تمہاری محبت اپنی جگہ لیکن وہ لڑکی حد سے زیادہ بدتمیز ہے
اور شادی کے بعد بھی اس کی کوشش یہی ہوگی کہ وہ کسی بھی طریقے سے تمہیں وہ سب کرنے پر مجبور کرے جو ہماری مرضی کے خلاف ہے۔
اور اگر تم اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو اور چاہتے ہو کہ ہم اس میں تمہارا ساتھ دیں تو تمہیں اس کی ہر بےجا ضد کو رد کرنا ہوگا۔
اور وقتی طور پر اس نے ان سے کہہ دیا تھا کہ آپ شادی تو کروا دیں باقی میں خود سب دیکھ لوں گا۔
اور اب وہ کس طرح سے سب دیکھنے والا تھا یہ تو وہی جانتا تھا۔
°°°°°°
وہ زیادہ دیر اپنی بے چینی کو خود تک نہیں رکھ پایا تھا وہ اپنی آنکھوں کو سکون پہنچانے کے لیے آخر ناشتہ کرنے کے فورا بعد ہی اوپر کی طرف چلا گیا تھا حالانکہ اس کا کمرہ نیچے تھا ۔
اوپر تو صرف لڑکیوں کے کمرے تھے لیکن اس وقت وہ کچھ بھی سوچنے سمجھنے کی کنڈیشن میں تھا ہی نہیں۔
ایک تو ملکیت کا احساس اور پھر من چاہی منکوحہ کو دیکھنے کا دل کیوں نہ کرتا۔۔
وہ فی الحال اس سے ملنا نہیں چاہتا تھا اور نہ دادا جان اسے اس چیز کی اجازت دے رہے تھے لیکن اپنے دل کی بے قراری کے ہاتھوں مجبور ہو کر اوپر آ گیا تھا ایک بار اس لمحے کو جینا چاہتا تھا کہ وہ اس کی ہو چکی ہے ۔
وہ اس کی ملکیت ہے اس کی منکوحہ ہے وہ اسے بہت قریب سے دیکھنا چاہتا تھا ۔
وہ اسے چھونا چاہتا تھا اسے محسوس کرنا چاہتا تھا لیکن وہ جانتا تھا کہ بہت زیادہ سوچ رہا ہے
اسے اپنی بے خودی کو کنٹرول میں رکھنا تھا وہ فلحال اسے خود سے خوفزدہ نہیں کر سکتا تھا ۔
اس نے دھڑکتے دل کے ساتھ دروازے پر دستک دی تو اگلے ہی لمحے دروازہ کھل چکا تھا وہ نیلے رنگ کے سادے سے لباس میں اس کے سامنے کھڑی تھی ۔
کیا میں اندر آ سکتا ہوں وہ شوخ سا بولا پوچھنے کی کیا ضرورت ہے اب تمہیں کہیں بھی آ سکتا ہوں وہ دلکشی مسکراتا اسے پیچھے ہٹاتے ہوئے دروازہ بند کر چکا تھا اس کی بے باک نگاہیں اور حق جتاتا انداز اسے ڈرا رہا تھا۔۔۔
°°°°°°
