Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 11)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 11)
Junoniyat By Areej Shah
وہ اپنا بیگ لینے کے لئے سیدھی اوپر آئی تھی ۔
لیکن یہ کیا پرنسپل آفس تو بند ہوچکا تھا تو کیا پرنسپل سر جا چکے تھے اتنا جلدی وہ تو اتنی جلدی کبھی بھی نہیں جاتے تھے۔
اس کا مطلب اس کا بیگ آج ملنا ممکن نہ تھا لیکن نہیں وہ اپنا بیگ چھوڑ نہیں سکتی تھی۔
آج تو سر احمر نے اسائنمیٹ دی تھی جسے وہ کمپلیٹ کرنے والی تھی گھر جاکر تو بیگ کے بنا کیسے کرے گی
وہ اپنی پریشانی لیے واپس جانے لگی تو سامنے ہی اسٹاف روم کا دروازہ کھلا ہوا نظر آیا۔
اسٹاف روم اوپن تھا یقینا اندر کوئی نہ کوئی ٹیچر تھے اس کے پاس کوئی چابی ضرور ہوگی۔
وہ یہی سوچتے ہوئے اسٹاف روم کی طرف بڑھ گئی تھی اسے اپنا بیگ کسی بھی قیمت پر چاہیےتھا۔
اسے نے دروازے پر کھڑے ہو کر اندر دیکھا تھا سر احمر یشام اور سرصیام کے علاوہ اندر کوئی بھی نہیں تھا
سر یشام کو دیکھ کر اسے سارے دن کی اپنی الٹی سیدھی حرکتیں یاد آگئی وہ خود ہی شرمندہ ہو کر دروازے پر دستک دینے لگی۔
ارے حرم آئیں اندر آئیں صیام نے اسے دیکھتے ہوئے اسے اندر آنے کی اجازت دی تھی جبکہ ایک چور نظر اس نے سامنے بیٹھے یشام کو دیکھا تھا
جو اپنے موبائل پر مصروف تھا اس کی طرف دیکھنے کی اس نے بالکل غلطی نہ کی تھی۔
ایم سوری سر میں آپ کو ڈسٹرب کر رہی ہوں وہ اصل میں پیون بھیا نے میرا بیگ پرنسپل سر کے روم میں چھوڑ دیا ہے۔مجھے میرا بیگ چاہے لیکن سر تو جا چکے ہیں۔
میرا بیگ پرنسپل آفس میں ہے اگر آپ مجھے میرا بیگ دلوا سکے تو اس نے انہیں دیکھتے ہوئے مکمل بات بتائی تھی
یہ آپ کا بیگ ہے صیام نے سامنے ٹیبل پر رکھے بیگ کی طرف اشارہ کیا
جی سر یہ میرا ہے وہ لمحے میں خوش ہو گئی تھی مطلب اس کا بیگ پرنسپل میں نہیں بلکہ یہاں تھا۔
اسے یہ جان کر بہت اچھا لگا تھا اس نے فوراً آگے بڑھتے ہوئے یشام کے سامنے سے اپنا بیگ اٹھایا تھا
لیکن بیگ اٹھاتے ہی اسے اپنے بیگ کے ساتھ موجود اپنا کی چین غائب محسوس ہوا وہ کہاں چلا گیا تھا وہ تو کبھی بھی اس کے بیگ سے الگ نہیں ہوا تھا وہ ہمیشہ اس کو اپنے بیگ کے ساتھ لگا کر رکھتی تھی۔
تھوڑی دیر پہلے تو پیون اس کو پرنسپل آفس میں چھوڑ گیا تھا پھر میں نے یہاں رکھ لیا مجھے لگا نہیں تھا کہ آپ گھر جا چکی ہوں گی۔
صیام اسے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا جب کہ وہ اپنے کی چین کے بارے میں کچھ بھی پوچھ نہیں پائی تھی صرف مسکرا کر اس نے باہر کی راہ لی تھی۔
اب وہ اتنا بھی مہنگا کی چین نہ تھا جس کے پیچھے وہ اپنے سر سے بحث کرتی لیکن وہ اس کے لیے بہت خاص تھا
بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ وہ اس کے بیگ کی رونق کو بڑھا دیتا تھا تو غلط نہیں تھا
اس میں ایک خوبصورت جھنکار لگی ہوئی تھی اور ساتھ میں چھوٹا سا پنک کلر کا ٹیڈی بیر تھا
اور یہ اس نے اپنے شوق کی وجہ سے اپنے بیگ کے ساتھ لگایا تھا لیکن افسوس کے آج وہ اس کے بیگ سے بچھڑ گیا تھا
اس نے جاتے جاتے آفس کی زمین کے سارے کونے چیک کر لیے تھے ہوسکتا ہے وہ ٹوٹ کر یہیں کہیں گرا ہو
لیکن نہیں وہ کہیں پر بھی نہیں تھا وہ مایوس ہو کر آفس سے باہر نکل گئی جب صیام نے اسے گھورا
میں نے تجھے منع کیا تھا اس کا کی چین مت اتار اس کے بیگ سے لیکن تو حد کرتا ہے۔
ابھی اتنی معمولی سی چیز کیلئے خود کو چور بنوا لیا وہ اس کے سامنے بیٹھے ہوئے کہنے لگا
تو وہ دلکشی سے مسکراتا اپنے ہاتھ میں چھپایا ہوا کی چین نکال کر سامنے کر چکا تھا
معمولی یہ تمہارے لیے ہوگا میرے لیے بہت خاص ہے یہ میری محبت کی پہلی نشانی ہے ۔اب یہ میرے پاس رہے گا مرتے دم تک وہ مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ میں موجود اس چھوٹی سی جھنکار کو چھنکا رہا تھا
جب اچانک دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی
حرم کو دروازے پر کھڑے دیکھا اس نے فورا اپنا ہاتھ نیچے کیا تھا لیکن وہ دیکھ چکی تھی کہ اس کے ہاتھ میں اس کی کی چین تھی
اس نے اس کا کی چین اتار کر چھپا لیا تھا ایسا کون کرتا ہے حد ہوتی ہے کسی چیز کی اور اب وہ انجان بنتا اپنے موبائل میں مصروف ہوگیا۔
جی بولیں حرم بولے آپ دوبارہ یہاں صیام ایک بار پھر سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا
سر میری پانی کی بوتل وہاں ٹیبل پر رہ گئی وہ اندر داخل ہوتی بوتل کو اٹھا کر پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گئی تھی
اب وہ اپنے سر کو چور تو نہیں کہہ سکتی تھی بے شک وہ اس کے ہاتھ میں اپنی کی چین دیکھ چکی تھی اسے اس پر بہت غصہ آرہا تھا۔
وہ غصے میں واپس ڈیسک پر آ کر بیٹھ گئی جب پیون نے آ کر اسے بتایا کہ اس کا بھائی سے لینے کے لئے آ چکا ہے
وہ جلدی سے اپنا بیگ اٹھاتی باہر نکلنے لگی جب اسے دوسرے فلور پر سر یشام گرل کے پاس کھڑے نظر آئے ان کے ہاتھ میں اس کی کی چین تھی جبکہ دوسرے ہاتھ میں ایک کپ تھا شاید وہ چائے یا کافی پی رہے تھے
لیکن وہ اس چیز کی تفصیل بالکل نہیں جاننا چاہتی تھی اسے تو بس یہ تھا کہ اس کی کی چین ان کے پاس ہے اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ ایک لیڈیز کی چین تھی وہ اسے یوز نہیں کر سکتے تھے تو رکھ کر بھی کیا کرتے
حد ہوتی ہے اگر پسند آیا تھا تو پوچھ کر لے لیتے چوری کرنے کی کیا ضرورت تھی وہ باہر نکلتے ہوئے سوچ رہی تھی پھر خود ہی اپنی سوچ پر توبہ توبہ کی
وہ اپنے ٹیچر کو چور کہہ رہی تھی وہ بھی ایک معمولی سی چیز کے لیے
اور یہ بہت ہی غلط بات تھی
لیکن بے شک وہ چیز بہت معمولی تھی لیکن اس کے لیے بہت خاص تھی اور اگر انہیں چاہیے تھا تو اس سے پوچھ کر بھی لے سکتے تھے
°°°°°°
میں نے تمہیں کہا تھا شام کو تیار رہنا ہم دونوں باہر شاپنگ کے لیے جائیں گے تم یہاں کھڑی کیا کر رہی ہو…..؟
وہ کچن میں ملازمہ کے ساتھ مل کر رات کا کھانا بنا رہی تھی اس کے اچانک آنے پر گھبرا کر اسے دیکھنے لگی
اس کے تو ذہن سے نکل گیا تھا کہ ذریام نے اسے تیار رہنے کے لیے کہا تھا
ایک تو پہلے ہی وہ سب کی نظریں اپنے کپڑوں پر محسوس کر کے اچھی خاصی شرمندہ ہو رہی تھی
ہر کوئی بار بار اسی کو دیکھ رہا تھا اس کے جسم پر موجود یہ نئے کپڑے اس کے لئے ایک سوال بن گیا تھا
اور سب لوگ ہی زریام کے اس قدم پر ہرگز خوش نہیں تھے انہیں اس کا اتنی اہمیت دینا ہرگز پسند نہ آیا تھا کہ وہ اس کے لئے برینڈ سوٹ خرید کر پہنا رہا تھا۔
اور کہاں وہ لوگ اسے گھر کی ایک ملازمہ سے زیادہ اہمیت نہیں دے رہے تھے
اور جو چیز تانیہ کو سب سے زیادہ بری لگی تھی وہ اس سوٹ کا نیلا رنگ تھا زریام کو نیلا رنگ حد سے زیادہ پسند تھا
بلکہ نیلے رنگ کی ہر چیز اسے پسند تھی اور یہ قدرت کا ہی ایک کرشمہ تھا کہ وہ خود بھی نیلی آنکھوں کا مالک تھا
زریام پر نیلا رنگ حد سے زیادہ سوٹ کرتا تھا وہ بہت کم یہ رنگ پہنتا تھا شاید وہ جانتا تھا کہ اس کلرز میں وجاہت کس حد تک بڑھ جاتی ہے
اور پھر وہ اس کے لیے نیلے رنگ کی شاپنگ کر کے اس کو اپنی پسند میں ڈھال رہا تھا یہ بات تانیہ کیسے برداشت کرتی
یہی وجہ تھی کہ عمایہ سے اس نے کافی سختی سے کہا تھا کہ اپنے شوہر کو بعد میں امپریس کر لینا پہلے اپنے کام پورے کرو
رات میں اس کی کچھ دوست آنے والی ہیں تو کھانا بہترین ہونا چاہیے کسی بھی طرح کی غلطی پر اسے بہت کچھ برداشت کرنا پڑے گا
وہ پہلے بھی تین بار اس پر ہاتھ اٹھا چکی تھی تو چوتھی بار اٹھانا اس کے لئے مشکل تو ہرگز نہ تھا۔
عمایہ اس سے کچھ زیادہ ہی ڈرتی تھی اس کی آنکھیں سے اسے خوف آتا تھا اور جس انداز میں وہ اس کے بازو کو وحشیانہ انداز میں پکڑتی تھی اس سے عمایا کو بہت زیادہ تکلیف ہوتی تھی
یہی تو وجہ تھی کہ وہ اس کا کام پورا کر دیتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس کی وحشیانہ سلوک اس کو برداشت کرے
لیکن اس نے نوٹ کیا تھا کہ آج صبح سے ہی اس کا انداز کچھ بدلا بدلا تھا وہ بہت ہی برے طریقے سے پیش آ رہی تھی
ابھی تک اس نے اس پر ہاتھ تو نہیں اٹھایا تھا لیکن اس کا انداز صاف بتا رہا تھا کہ اس کا وجود اسے آج ضرورت سے زیادہ اسے کھل رہا ہے
اس وقت بھی وہ اسی کی سہیلیوں کے لیے کھانا تیار کر رہی تھی کیونکہ اس کا آرڈر تھا کہ کھانا بہترین تیار ہونا چاہئے۔
اور اس کی سہیلیوں کو اس کے ہاتھ کا کھانا بہت زیادہ پسند آنا چاہیے پسند نہ آنے پر کیا ہوگا وہ بہت اچھے طریقے سے جانتی ہے۔
اور یہی وجہ تھی کہ وہ پورا دن لگا کر ان کے لیے کھانا بنا رہی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ کھانے میں کسی بھی طرح کی کوئی کمی رہ جائے
اس مصروفیات کی وجہ سے وہ بالکل اپنے ذہن سے یہ چیز نکال چکی تھی کہ شام کو اسے زریام کے ساتھ ہی باہر جانا ہے اور اس وقت اس کے بالکل پاس کھڑا اس سے غصے سے مخاطب تھا
وہ آج تانیہ باجی کے نہ کچھ مہمان آنے والے ہیں گھر پہ تو ان کی خاطر تواضع کی تیاری کر رہے ہیں ہم بی بی جی کا حکم ہے کہ کسی چیز کی کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے زاہدہ اسے خاموش دیکھ کر بھی بولنے لگی تھی
اپنی بی بی کو کہو کہ اگر اس کے مہمان آ رہے ہیں تو ان کی تیاری بھی وہ خود ہی کرے میری بیوی کو ہر طرف گھسیٹنے کی ضرورت نہیں ہے
اور تم یہاں کھڑی میری شکل کیا دیکھ رہی ہیں جاؤ جا کر فریش ہو کر آؤ ابھی ہم نے جانا ہے
وہ غصے سے کہتا باہر کی طرف اشارہ کر چکا تھا اور عمایہ کو ایسا لگا کہ اگر اس نے اس کی بات نہ مانے تو وہ زندہ زمین میں گاڑ دے گا
وہ اگلے ہی لمحے وہاں سے بھاگ کر کمرے کی طرف چلی گئی تھی
°°°°°°
کہاں جا رہی ہو لڑکی وہ زریام کے حکم پر بڑی سی چادر لیتی باہر نکلی تھی کہ چاچی نے اسے باہر نکلتے ہوئے دیکھ لیا
ان کے پیچھے ان کی خاص ملازمہ زاہدہ کھڑی تھی مطلب کہ وہ کچن میں ہونے والے پورے واقعے کو لفظ بہ لفظ ان کی سماعتوں میں ڈال چکی تھی پھر بھی وہ اس سے پوچھ رہی تھیں
جی وہ انہوں نے کہا ہے کہ باہر جانا ہے اور وہ ناراض ہو رہے ہیں تو میں جارہی ہوں
ان کے سامنے وہ سہمے ہوئے لہجے میں ان لوگوں کو اپنے ہی شوہر کے ساتھ باہر جانے کی وجہ بتا رہی تھی
واہ مطلب اب یہ کام بھی شروع کر دیے ہیں تو نے ایک بات میری کان کھول کر سن لے
ان کا ہاتھ اچانک ہی اس کے بالوں کی چوٹی کو اپنی مضبوط گرفت میں لے چکا تھا عمایہ کی سانسیں اٹکنے لگی تھی
ذریام پر ڈورے ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے تو صرف اور صرف ونی ہے اور اس سے زیادہ تیری کوئی اوقات نہیں ہے تو جتنی اوقات تجھے بتائی گئی ہے اسی میں رہے
اور خبردار جو تو نے زریام کے ساتھ زیادہ فری ہونے کی کوشش کی یا اسے یہ معصومانہ ادائیں دکھائیں وہ میرا ہونے والا داماد ہے اور جلد ہی تو یہاں سے دفع ہو گی اور اس کی شادی میری بیٹی کے ساتھ ہوگی۔
اپنے اس حسن کے جال میں اس کو پھانسنے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ میں تیرا جینا حرام کر دونگی وہ بے دردی سے اس کے بال جھٹکتی ہوئی اسے منہ پر زوردار تھپڑ لگا چکی تھیں ۔
عمایہ گرتے گرتے بچی تھی
صاف کر یہ مگرمچھ کے آنسو اگر تو نے اس کے سامنے آنسو بہائے نہ تو پھر تو دیکھنا میں تیرے ساتھ کیا کرتی ہوں
خبردار جو اسے کچھ بھی بتایا ہمارے بارے میں یا اسے ہمارے خلاف کرنے کوشش کی اگر تیری وجہ سے وہ ہم سے دور ہوا یا اس کے دماغ میں یہ بات آئی کہ ہم تیرے ساتھ کسی طرح کا کوئی ظلم کر رہے ہیں۔
تو پھر دیکھنا میں تیرا کیا حال کرتی ہوں ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ زندہ زمین میں گاڑ دے
کہاں رہ گئی ہو لڑکی کیا سارا دن میں باہر کھڑا رہ کر تمہارا انتظار کروں اسے باہر سے زریام کی آواز سنائی تھی وہ فورا اپنا چہرہ صاف کرتی چادر درست کرتے ہوئے بالوں کو پیچھےکر کے باہر کی طرف بھاگ گئی تھی ۔
°°°°°
امی آپ اسے یہ کیوں کہہ رہی تھیں کہ وہ زریام کو جال میں نہ پھنسائے کیا آپ کو لگتا ہے کہ زریام شاہ کسی کے جال میں پھنس سکتا ہے
اور پھر اسے ہمارے بارے میں کچھ بھی نہ بتانے کا کہا۔اس کے ساتھ وہی سلوک ہو رہا ہے تو ایک ونی کے ساتھ ہوتا ہے تو پھر پریشانی کیسی تانیہ ان کے ساتھ اندر آتے ہوئے پوچھنے لگی تھی
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس کو ضرورت سے زیادہ اہمیت کیوں دے رہی تھیں جب کہ اس کے آنے پر انہوں نے ہی کہا تھا کہ وہ ان کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے
بے وقوف لڑکی زریام کا رجحان نہیں دیکھ رہی تم اس لڑکی کی طرف اس کے لیے کپڑے خرید رہا ہے
سب کے سامنے اسے اپنی بیوی کہہ رہا ہے اسے باہر شاپنگ پر لے کر جا رہا ہے اس کے ساتھ آوٹنگ کر رہا ہے بے وقوف لڑکی وہ تمہارے ہاتھوں سے نکل رہا ہے
بے شک یہ رشتہ زبردستی کا ہے لیکن اس کی معصومیت اور پاکیزگی اسے اس لڑکی کی طرف کھینچ رہی ہے
کیا تمہیں نظر نہیں آرہا کہ زریام اس پر دھیان دے رہا ہے اسے تم سے کوئی لینا دینا نہ پہلے تھا نہ اب ہے
اور اس کے لیے سب سے تمہارے دادا جان سے لڑ رہا ہے کل بغاوت کرنے میں بھی پیچھے نہیں ہٹے گا
بہتر ہے کہ اس لڑکی کو کنٹرول کر لو اگر یہ لڑکی مٹھی میں رہے گی تو زریام کو بھی ہم اپنے کنٹرول سے باہر نہیں جانے دیں گے
اس لڑکی کو دبا کر رکھو اگر ایک بار اس لڑکی کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی نہ کہ اس کا شوہر اس کے ساتھ ہے
تو یہ لڑکی ہمارے سر پر سوار ہو جائے گی اسے اس احساس کمتری سے باہر نہیں نکلنے دینا کہ وہ یہاں پر ونی ہو کر آئی ہے اور ونی کی کیا اوقات ہے
اور اگر یہ ذریام کے ساتھ ایسا ہی تعلق رکھے گی جیسا ہم چاہتے ہیں تو وہ جلد ہی اس سے عاجز آ جائے گا اور اس سے بیزار ہو کر اسے طلاق دے دے گا
فی الحال تو میرے خیال میں وہ اس لڑکی پر ترس کھا رہا ہے۔تمہیں یاد ہے وہ تمہارے دادا جان سے کیسے لگ رہا تھا کہ رہا تھا کہ قتل اس کے بھائی نے کیا ہے اس لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہے تو اسے اس سب میں شامل نہ کیا جائے
یہ تو تمہارے دادا جان کی ضد تھی جس کی وجہ سے ذریام جھک گیا لیکن اب وہ جھکے گا نہیں بلکہ وہ مزید اپنے ساتھ کسی طرح کی کوئی زبردستی نہیں ہونے دے گا اپنی زندگی اپنے اصولوں سے جیتا ہے
ایک بار اپنے دادا جان کے کہنے پر شادی کر لی ہے تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ اسے طلاق بھی دے دے گا مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اس لڑکی کو لیکر سیریس ہو گیا نا تو وہ کبھی سے طلاق لینے کے لیے راضی نہیں ہوگا
کل دیکھ نہیں رہی تھی وہ کس طرح سے اس کے حق میں بول رہا تھا
زریام کے ذہن کو نہ تو ہم کنٹرول کر سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے آپ کو کسی کو کنٹرول کرنے کی اجازت دیتا ہے
لیکن یہ لڑکی فی الحال ہماری مٹھی میں ہے بہتر ہے کہ اس لڑکی کو زریام سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیا جائے اگر یہ لڑکی ہیں اسے اہمیت نہیں دے گی
تو زریام کا انٹرسٹ اپنے آپ اس سے ختم ہوجائے گا کیونکہ کوئی بھی مرد ایسی لڑکی کو ساری زندگی اپنے ساتھ نہیں باندھ سکتا جو اس سے بیزار ہو یا اس سے نفرت کرتی ہو۔
اور تم نے شاید نوٹ نہیں کیا زریام کا لب و لہجہ اس کا انداز اس لڑکی سے اتنا بھی اچھا نہیں ہے وہ صرف زبردستی کے رشتے کو گھسیٹ رہا ہے
شاید وہ اپنی شادی کو کامیاب بنانے کے چکر میں ہے لیکن یہ لڑکی اس کی سوچ کے مطابق بالکل بھی نہیں ہے
تمہیں یاد تو ہو گا زریام نے دادا جان کے سامنے تم سے شادی سے بھی انکار کر دیا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ اس کی بیوی پڑھی لکھی ہو
اسے دبو قسم کی لڑکیاں پسند نہیں ہیں بلکہ اسے وہ لڑکی پسند ہے جو خود مختار ہو اپنے لیے آواز اٹھانا جانتی ہو اپنے لئے لڑنا آتا ہو
اور یہ لڑکی کیسی ہے یہ تم بہت اچھے طریقے سے جانتی ہو یہ لڑکی ذریام کی سوچ تک بھی نہیں جا سکتی
ذریام کو اپنی طرف کرنے کی کوشش کرو ورنہ کیا ہوگا یہ تم بہت اچھے طریقے سے جانتی ہو تمہارے ابا کی یہ خواہش آج کی نہیں بلکہ برسوں پرانی ہے کہ تم ذریام کی دلہن بنو
یہ جگہ تمہاری ہے اور یہ جگہ تم کسی کو نہیں دو گی یہ بات اپنے ذہن میں محفوظ کر لو
اور اس لڑکی کو خود پر حاوی کبھی مت ہونے دینا ورنہ اگر اسے ذریام کا ساتھ مل گیا نہ تو وہ ونی میں آئی لڑکی ہے نہ نوکرانی کی بجائے مہارانی بن جائے گی
اور ہم ہاتھ پہ ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں گے وہ اسے سمجھا رہی تھیں جبکہ تانیہ بہت غور سے ان کی باتیں سن رہی تھی
••••
