65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 35)

Junoniyat By Areej Shah

وہ کمرے میں آ کر خود ہی اپنا سامان پیک کرنے لگا جبکہ وہ بس پیچھے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔

اس کا بہت بار دل چاہا تھا کہ وہ اس کو بتا دے کہ ارحم یہیں پر ہے لیکن وہ اتنی ہمت خود میں پیدا کر ہی نہیں پائی

اگر اسے پتہ چل جاتا کہ ارحم یہاں پر ہے تو وہ اسے مار دیتا اس کے دماغ میں یہ سوچ تھی اور کوئی بھی بہن اپنے بھائی کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتا کیسے دیکھ سکتی تھی

ارحم کہہ رہا تھا کہ وہ ماں باپ کو وہاں سے نکال دے گا اور اسے اپنے ساتھ لے جائے گا وہ ایسے حیوانوں کے بیچ میں اسے نہیں رہنے دے گا لیکن اس نے اسے بتایا تھا کہ یہ لوگ حیوان نہیں ہیں

بلکہ ذریام تو بہت اچھا انسان ہے اور اسے بہت محبت سے رکھتا ہے وہ نہیں جانتی کے ذریام اس سے محبت کرتا ہے یا نہیں،

لیکن وہ اس کی عزت کرتا ہے اور اس کے لیے زندگی گزارنے کے لئے بس یہی وجہ کافی تھی کہ وہ اس شخص کی نظروں میں عزت کے لائق ہے ۔

اسے یہی لگا تھا کہ ذریام کو ارحم کےبارے میں کبھی بھی پتہ نہیں چلے گا ارحم یہاں سے بھاگنے کو ہرگز تیار نہیں تھا وہ اپنی بہن کو بھی اس گاؤں سے نکالنا چاہتا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ ہم بھاگ جائیں گے

ہم ایسی جگہ چلے جائیں گے جہاں کوئی بھی ہم تک نہیں پہنچ پائے گا وہ گاؤں سے اپنے ماں باپ کو نکالنے کی ساری تیاری کر چکا تھا ۔

لیکن وہ جو اس شخص کی محبت میں پورپور ڈوب چکی تھی اسے چھوڑ کر جانے کا خیال بھی اپنے دماغ میں کیسے آنے دیتی۔۔۔۔۔؟

اس نے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر جانے کے لیے تیار نہیں ہے

اس نے خود ارحم کوواسطے دےکر یہاں سے نکالا تھا اس کی منتیں کی تھی کہ وہ یہاں سے چلا جائے کیونکہ زریام کا غصہ وہ دیکھ چکی تھی وہ کیسے بھی اس کے بھائی کو پکڑنا چاہتا تھا ۔

لیکن وہ اس کے بھائی کی گناہ کی سزا وہ خود کونہیں دے سکتی تھی تو وہ کیوں اسے چھوڑ کر چلی جاتی

وہ اس کے ساتھ ووڈ ہاؤس میں کسی پلاننگ کے تحت نہیں وہاں گئی تھی وہ تو بس اپنے شوہر کے ہم قدم ہوئی تھی لیکن اسے ہرگز پتہ نہ تھا

کے ذریام یہ سوچے گا کہ وہ ایک پلاننگ کے تحت اس کے ساتھ گئی ہے ۔اسے بہت دکھ ہو رہا تھا

اور بار بار وہ صرف زریام کا ہاتھ دیکھ رہی تھی جہاں پر اب سوجن بھی ہو چکی تھی

سفید رنگت پر وہ سرخ نشان جلن کا ہی تھا کوئی بھی پہچان سکتا تھا ۔

وہ اپنا سامان پیک کر چکا تھا اس کی طرف تو دیکھنے کا بھی روادار نہیں تھا

آپ پلیز اپنے ہاتھ پر کچھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ کچھ کہنا ہی چاہتی تھی کہ زریام نےہاتھ اٹھا کر اسے خاموش کروا دیا ۔

°′°°°°°

دادا جان کو ہارٹ اٹیک ہوا تھا یہ بات گھر میں ایک دھماکے سے کم نہیں تھی ہر کوئی پریشان ہو گیا تھا

ایسا کچھ ہونے والا ہے یہ تو کسی نے سوچا تک نہیں تھا دادا جان کی طبیعت بہت خراب تھی

ان کا آپریشن چل رہا تھا ڈاکٹر کے مطابق ان کو بہت بڑا جھٹکا لگا تھا ۔

جس کے نتیجے میں انہیں ہارٹ اٹیک سے گزرنا پڑ رہا تھا ۔خداش یہ تو سمجھ چکا تھا کہ جس تکلیف سے وہ گزر رہے ہیں اس کی وجہ کہیں نہ کہیں ان کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا احمر قربان کاظمی ہے

جس کا نام و نشان تک اس حویلی سے ایک عرصے سے مٹا دیا گیا تھا ۔دادا جان نے اپنی زندگی میں ہی اپنے جوان بیٹوں کو کندھے دیے تھے ۔

ایک نہیں بلکہ دو دو بیٹوں نے بھری جوانی میں ان کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ۔

شاہ خاندان اور کاظمی خاندان کی دشمنی کی اصل وجہ بے شک کوئی نہیں جانتا تھا کیونکہ یہ راز آج بھی دفن تھا لیکن یہ بھی سچ تھا کہ قربان کاظمی کےبیٹے ساگرکاظمی کی موت کے پیچھے کی وجہ کہیں نہ کہیں شاہ خاندان تھا لیکن احمرکاظمی کی موت کی وجہ اب تک کوئی بھی جاننا پایا تھا ۔

اور یہ راز شاید ان کی موت کے ساتھ ہی دفن ہو جانا تھا لیکن اب خداش اس راز کو مزید راز نہیں رہنے دے سکتا تھا وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر اس کا چچا احمر کس طرح سے مرا ۔اور آج اتنے سالوں کے بعد دادا جان کو اپنے اس بیٹے کی یاد کیسے آگئی …

جو ان کے اصولوں کے خلاف تھا جو ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کے اصولوں کو رد کر دیتا تھا جوان کا سب سے باغی بیٹا تھا ۔وہ جتنا لاڈلا تھااتنا ہی اپنی کرنے والا تھا ۔

اور اس نے ہمیشہ اپنی ہی کی تھی

°°°°°°°

تیسرے دن دادا جان کی طبیعت کافی حد تک سنبھل چکی تھی لیکن سب کی پریشانی اب بھی برقرار تھی

شادی میں پورا خاندان موجود تھا ایسے میں رسم آگے پیچھے کرنا یا پھر ڈیٹ بدلنا بہت مشکل ہو گیا تھا جس پر دادا جان نے کہا تھا کہ سب کچھ اسی دن پر ہوگا جس دن طے پایا ہے

لیکن دادا جان کو فلحال ہسپتال سے چھٹی نہیں تھی تو ایسے میں وہ کوئی رسم کرنا ہی نہیں چاہتا تھا وہ اپنے دادا جان کے بغیر اپنی کوئی بھی خوشی کیسے مناتا

لیکن دادا جان کہہ رہے تھے کہ ساری رسمیں تب ہی ہوگی جب وقت مقرر کیا گیا ہے ۔

اور دادا جان کی ضد کےآگے آج تک کہاں کسی کی چلی تھی جو اب چلنی تھی گھر میں ایک بار پھر سے شادی کی تیاریاں ویسے ہی شروع کر دی گئی تھی

مہندی کی رسم جو اس رات نہ ہو سکی آج ادا کی جا رہی تھی جب کہ رخصتی جو تین دن کے بعد تھی وہ اسی دن رکھ لی گئی تھی تاکہ کسی مہمان کو پریشانی نہ اٹھانی پڑے

دیشم تو دادا جان کی حالت کا سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی یہاں ان کی جان پر بنی ہوئی تھی اور گھر والوں کو شادی کی فکر لگی ہوئی تھی اسے تو سب پر غصہ آ رہا تھا

مایوں میں ہونے کی وجہ سے اسے ہسپتال بھی نہ جانے دیا گیا تھا جبکہ مایوں میں تو خداش بھی تھا لیکن وہ گھر ہی واپس نہ آیا یہی تو اس گھر کے اصول تھے مردوں کے لیےالگ عورتوں کے لئے الگ

وہ بے وجہ تو ان کے سامنے آواز نہیں اٹھاتی تھی وہ ہر بار بیکار ضد تو نہیں کرتی تھی لیکن یہ ساری باتیں اس کے علاوہ اور کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا

اور اب تو اسے ہمسفر بھی ایسا دے دیا گیا تھا جو صرف اور صرف اپنی بات کو ہی صحیح سمجھتا تھا

شادی کے بعد تو یقینا وہ کبھی اس سے کچھ پوچھنے یا جاننے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کرے گا اسے ابھی سے اپنی قسمت پر رونا آ رہا تھا

°°°°°°°

کیا بات ہے تم بہت پریشان لگ رہے ہو جب سے کالج سے واپس آئے ہو میں نوٹ کر رہا ہوں کہ تمہیں کوئی پریشانی ہے

کیا حرم کو مس کر رہے ہو۔۔۔۔؟ صیام کافی دیر سے نوٹ کر رہا تھا اسی لئے پوچھا بنا نہ رہ سکا

نہیں میں اسے مس نہیں کرتا صرف کچھ دن ہی کی تو بات ہے اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے میری ہو جائے گی تو پھر ابھی سے مس کر کے کیوں بیکار میں دل کو خجل کرنا میں تو کسی اور بات کو لے کر پریشان ہوں ۔وہ کچن میں داخل ہوتے ہوئے بولا اور توصیام اس کے ساتھ ہی کچن میں آ گیا تھا

نائس لوجک یعنی کے حرم کی پریشانی نہیں ہے بتاؤ کس چیز کو لے کر اتنی سڑی ہوئی شکل بنائی ہے وہ اسے دودھ میں پتی ڈالتے دیکھ پوچھنے لگا تھا

یار میرے دادا ہسپتال میں ہیں زندگی موت کا کوئی بھروسہ نہیں ہے اب تک کوئی خبر نہیں ملی اسی چیز کی پریشانی ہے اس نے بہت سیریس انداز میں کہا تھا جبکہ صیام سے اس کا اپنے دادا کے لئے اتنا پیار ہضم نہ ہوا

تو تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہارے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ تمہارا سب سے بڑا دشمن اپنے انجام تک پہنچ گیا ہے تمہیں اتنا پریشان دیکھ کر کچھ عجیب لگ رہا ہے کہیں دادا کی محبت تو نہیں دل میں جاگی وہ سراسر مذاق اڑانے والے انداز میں بولا تھا ۔

صیام میں مذاق نہیں کر رہا سیریس ہوں میں وہ اسے گھور کر بولا تو صیام فوراً اپنا مذاق چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا

آئی ایم رئیلی سوری یار مجھے نہیں پتہ تھا تو اس معاملے کو لے کر اتنا پریشان ہو گے کیا ہوا ہے تیرےدادا کو اور کون سے ہوسپٹل میں ہیں۔۔؟ وہ فورا معذرت کرتے ہوئے کہنے لگا تو یشام نے اسے دیکھا

اتنی زیادہ انفارمیشن تو نہیں ہے مجھے بس جتنا پتا ہے اتنا تمہیں بتا دیا

تو بھائی جس نے اتنی انفارمیشن دی ہے تجھے کیا وہ یہ نہیں بتائے گا کہ وہ کون سے ہوسپٹل میں ہم ملیں گے نہیں بس خیریت معلوم کر کےآجائیں گے تو پھر ریلکس ہو جائے گا

ارے یار کوئی مجھے کیوں بتائے گا میں خود تو گیا تھا مہندی والی رات پرسوں وہ اسے گھورتے ہوئے بولا

اچھا تو وہاں کیا کسی نے تجھے بتایا تھا صیام سمجھے بنا بولا۔

کوئی مجھے کیوں بتائے گا صیام کیا میرے پاس اپنی آنکھیں نہیں ہیں

مطلب تو نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ان کو ہارٹ اٹیک ہوتے ہوئے پھر تو تجھے ان کی کنڈیشن کا اندازہ ہو گا نا

ہاں مجھے ان کی کنڈیشن کا اندازہ ہے اسی لئے تو پریشان ہوں میں کیسے پتہ کروں کچھ سمجھ نہیں آرہا

ہاں بات تو کافی پریشانی والی ہے لیکن تیرے سامنے ان کو ہارٹ اٹیک ہوا تو کیا تو نے کچھ کیا نہیں ۔۔۔۔؟ پتہ نہیں وہ کیا پوچھنا چاہتا تھا

میں کیا کرسکتا تھا بیٹھ کے دیکھتا رہا وہ مرنےہی والے تھے لیکن اس کا پوتا آگیا۔وہ بد مزا لگنےلگا صیام پریشان سا اسے دیکھنےلگا

میرا تو ارادہ تھا آخری سانس تک بیٹھ کر دیکھتا رہوں لیکن میں وہاں سے چلا آیا تھا تو مجھے پتہ نہیں وہ زندہ ہے یا مر گیا ،کہیں مر ناں گیا ہو…تھوڑی دیر پہلے والی فکر مندی کا مطلب وہ اب سمجھا تھا

انہیں ہارٹ اٹیک کیوں ہوا تھا۔”یشام” وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگا

شاید اسے لگا ہوگا کہ اس کے بیٹے کی روح بدلہ لینے کے لئے اس کے سامنے آ گئی ہے مجھے دیکھ کر یا پھر کچھ اور۔۔۔ سچائی تو برداشت ہوتی نہیں ہے اسے ابھی ایک ہی جھٹکا دیا تھا دل تھام کر بیٹھ گیا۔ وہ بہت بدمزہ ہو رہا تھا شاید وہ قربان شاہ کو اتنی آسان موت دینے کے حق میں نہیں تھا

پھر تو تجھے خوش ہونا چاہیے صیام سینے پہ ہاتھ باندھ کر غصے سے بولا تھا اس کا تو مقصد پورا ہو رہا تھا تو یہ منہ کیوں لٹکایا ہوا تھا اس نے

پتہ ہے کیاصیام پہلے میں بہت خوش تھا جب وہ میرے سامنے مر رہا تھا مجھے لگا دو تین منٹ میں وہ مر جائے گا لیکن جب میں واپس آ رہا تھا میں نے سوچا اتنی آسان موت ایک جھٹکا لگا اور مر گیا

ابھی تو میں نے اسے بہت سارے جھٹکے دینے ہیں ابھی تو میں نے اپنی ماں کی بدنامی کا انتقام لینا ہے ابھی تو میرے باپ کا حساب باقی ہے اتنی جلدی تو بڈھے کو جانے نہیں دوں گا میں۔۔

میرے وجود میں اپنا خون برداشت نہیں ہو رہا تھا نہ اس سے جب اپنی ہی پوتی اس ناجائز کے نکاح میں آئے گی بڈھے کا کیا حال ہوگا۔۔۔۔۔؟

ابھی تو میں نے بہت کچھ دیکھنا ہے اسی لئے تو پریشان ہوں کہ بڈھا کہیں میرے بدلے سے پہلے پہلے اوپر نہ پہنچ جائے

تیرے پاس حرم کا نمبر ہے یا پھر کالج میں کہیں پر اس کے گھر کا نمبر لکھا ہو اخلاقیات نبھاتے ہوئے مجھے اس کے دادا کا حال تو پوچھ لینا چاہیے ناں وہ چہرے پر بڑی معصوم مسکراہٹ لیے بول رہا تھا جبکہ صیام کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اس کا گلہ گھوٹ کر اسے مار ڈالے

°°°°°°

تم لوگ تو پندرہ بیس دن کے بعد واپس آنے والے تھے اتنی جلدی واپسی کیسی ہوگئی۔۔۔۔۔؟

امی ان دونوں کی واپسی پر بے حد خوش تھی ۔زریام کا موڈ تو بہت خراب تھا اس نے راستے میں اس سے کوئی بات نہیں کی تھی

وہ بات کرنے کی بہت کوشش کرتی رہی لیکن زریام کے چہرے پر لگا نو لفٹ کا بورڈ اسے کچھ بولنے ہی نہیں دے رہا تھا ۔

اور واپس آنے کے بعد بھی اس کا موڈ بالکل ویسا ہی تھا وہ پہلے تو سب کے ساتھ نیچے ہی بیٹھ گئی جب کمرے میں آئی تب زریام کہیں جانے کو تیار تھا ۔

اس کا ہاتھ اب تک بے تحاشہ سرخ ہو رہا تھا ۔اور اس کے غصے کو دیکھتے ہوئے وہ بھی اس کے پاس جانے کی ہمت خود میں بالکل نہیں پا رہی تھی

زریام ۔۔۔۔وہ باہر نکلنے لگا تو وہ اس کے رستے میں آ گئی

راستے سے ہٹ جاؤ لڑکی اگر میرا ہاتھ دوسری دفعہ اٹھا ناں تو پہلے سے زیادہ تکلیف دہ ہوگا ۔وہ اسے گھورتے ہوئے بولا تھا

وہ عمایہ سے پھر لڑکی بن گئی تھی ۔وہ جانتی تھی کہ زریام کا تھپڑ شدید ہے لیکن اتنا شدید نہیں تھا کے اسے زیادہ تکلیف سے دوچار کرتا

لیکن اسے وہ تھپڑ تکلیف دے ہی کہاں رہا تھا اسے تو زریام کا رویہ تکلیف دے رہا تھا

وہ کسی قیمت پر اسے معاف کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔

کمرے سے نکل کر یقیناً وہ گھر سے نکل گیا تھا اور وہ کہاں گیا تھا یہ بات وہ ہرگز نہیں جانتی تھی

°°°°°°

دادا جان ہسپتال میں ہی تھے لیکن گھر پر مہندی کی رسم شروع کر دی گئی تھی وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ اپنے پوتے کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی کی رکاوٹ بنے

خوش تو کوئی بھی نہیں تھا لیکن پھر بھی دادا جان کی بات سب لوگ ہی مان رہے تھے مہندی کی رسم بہت ہی سادگی سے اداکی جا رہی تھی کوئی شورشرابہ نہیں کوئی ہلا گلا نہیں

رسم کے فورا بعد ہی خداش ہسپتال چلا گیا تھا جبکہ گاؤں کی کچھ عورتوں نے سادگی سے رسم مکمل کرکے اسے اس کے کمرے میں بھیج دیا ۔

اس کے دونوں ہاتھوں پر مہندی کا گہرا رنگ آیا تھا یہ الگ بات تھی کہ فی الحال یہ دیکھنے کا یا اس چیز کو نوٹ کرنے کا ہوش کسی کو بھی نہیں تھا

بارات کل کے بجائے پرسوں رکھی گئی تھی انہیں یقین تھا کہ پرسوں تک دادا جان کو ہسپتال سے وہ لوگ ڈسچارج کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے

°°°°°°

کیا بات ہے دادا جان کچھ بتائیں تو سہی آپ اتنے اداس کیوں ہیں اور اس دن کیا ہوا تھا کس چیز کو لے کر آپ نے اتنی زیادہ ٹینشن لی ہے کہ آپ کا دل بند ہونے کے در پر آ گیا

وہ مسلسل دو دن سے ان سے یہی سوال کر رہا تھا لیکن وہ اسے کیا جواب دیتے جب کہ وہ اپنی آنکھوں پر یقین نہیں کر پائے تھے

ان کا سب سے لاڈلا چھوٹا بیٹا ان کے سامنے کھڑا تھا وہ اسے ہاتھ لگا سکتے تھے اسے محسوس کر سکتے تھے

ہم تمہیں کیا بتائیں خداش ابھی تو ہم خود ہی اس چیز کو نہیں سمجھ پائے خیر یہ ساری باتیں چھوڑو تم بتاؤ کہ رسم ٹھیک سے ہو گئی نا وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگے تھے

ان سے بولنا بھی مشکل ہو گیا تھا۔کچھ دن پہلے وہ بلکل ٹھیک تھے اور آج ہسپتال میں تھے وقت بدلتے سچ میں وقت نہیں لگتا

سب کچھ ٹھیک سے ہو چکا ہے دادا جان پرسوں کے دن بارات ہوگی تب تک ہم آپ کی اس ہسپتال کی سڑی ہوئی بد بو سے جان چھڑوا لیں گے ۔وہ انہیں خوش کرتے ہوئے بولا انہیں ہسپتال میں رہنا کبھی بھی پسند نہیں تھا اس کے انداز پر وہ مسکرا دیے تھے

تمہاری شادی سکون سے ہو جائے اس کے بعد اس معاملے پر تفصیل سے غور کریں گے وہ بڑبڑائے تھے

کون سے معاملے پر ۔۔۔۔۔وہ انہیں دیکھ کر پوچھنے لگا

فی الحال اس موضوع کو چھوڑو اپنی شادی کے بارے میں بات کرو ہم مزید یہاں نہیں رہنا چاہتے نکالو ہمہیں یہاں سے وہ اسے دیکھتے ہوئے بول رہے تھے جبکہ وہ صرف ان کا ہاتھ تھامتے ہوئے ہاں میں سر ہلا گیا تھا

°°°°°°

مہارانی تو کیا واپس صرف اس کمرے میں رہنے کے لئے آئی ہے اس گھر میں تیری کوئی ذمہ داری ہے تیرا کوئی کام ہے اپنی اوقات مت بھول۔

اگر وہ تجھے اپنے ساتھ کہیں باہر لے گیا تھا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تیری اوقات بدل گئی ہے تو کل بھی ونی تھی اور آج بھی ونی ہے

وہ کمرے میں داخل ہوتی اس کے سر پر سوار ہو کر کہنے لگیں وہ جو پہلے ہی پریشان تھی ان کی باتوں پر مزید پریشان ہوگئی یہ تو اسے یاد ہی نہیں رہا تھا

یہاں اور بہت ساری چیزیں ہیں جو اسے دیکھنی ہیں

مجھے اپنی اوقات یاد ہے آپ کو شکایت نہیں ہوگی وہ اپنی آنکھیں رگڑتے کمرے سے نکل گئی تھی جبکہ چاچی حیرت سے اسے دیکھتی رہی تھی ۔

وہ آج پہلی بار ان کے سامنے بولی بھی تھی تو کیا کہ وہ جانتی ہےکہ اس کی کیا اوقات ہے۔۔؟

انہیں تو لگ رہا تھا کہ ہنی مون سے واپس آنے کے بعد وہ پوری کی پوری بدل چکی ہوگی لیکن یہاں تو الٹا ہی ہو رہا تھا اس میں تو کوئی بھی بدلاو نظر نہیں آیا تھا بلکہ وہ تو پہلے سے زیادہ ملازمہ لگ رہی تھی

پہلے جب انہیں پتہ چلا تھا کہ وہ زریام کے ساتھ ہنی مون پر گئی ہے ان کا غصہ سوا نیزے پر پہنچ گیا تھا

وہ تو اس کے واپس آنے پر اس کی اوقات یاد دلانا چاہتی تھی لیکن اس کے مطابق اسے اپنی اوقات ٹھیک سے یاد تھی۔اسے کچھ بھی یاد کروانے کا موقع نہ ملا

یہ لڑکی انہیں حیران کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی

°°°°°°°°