65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 94)

Junoniyat By Areej Shah

اس نے کچن میں آکر سارے برتن دیکھے تھے لیکن کھانے کے لئے کچھ بھی بنا ہوا نہیں تھا اسے بے شک اس انسان سے کوئی ہمدردی نہ تھی لیکن پھر بھی نہ جانے کیوں وہ اس کے لئے کھانا بنانے لگا ۔

کھانا بنانا اس کے لئے ہرگز کوئی مشکل کام نہیں تھا اس نے زیادہ سے زیادہ 25 منٹ کا وقت لیا تھا ۔اتنے کم وقت میں وہ ان کی صحت کے لحاظ سے ان کے لیے ایسا ہی ہلکا پھلکا سب کچھ بنا سکتا تھا ۔

یقینا یہ کھانے کے بعد ان کی میڈیسنس اچھا اثر کر سکتی تھی ۔وہ ایک ذمہ دار انسان تھا اسے اپنی ہر طرح کی ذمہ داری کا احساس تھا ۔اوروہ جانتا تھا کہ اس وقت وہ اس شخص کے ساتھ گھر پر بالکل تنہا ہے ۔اور وہ بیمار شخص اس کے رحم و کرم پر ہے ۔

اس نے کھانا بنانے کے بعد خود ٹیسٹ کیا تھا نمک مرچیں سب کچھ بالکل پرفیکٹ تھا ۔وہ پیشنٹ تھے ان کے لئے ذرا بے احتیاطی خطرناک ثابت ہو سکتی تھی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے کسی کو بھی تکلیف ہو ۔

اور یہ سب کچھ وہ ان کے لئے تو ہر گز نہیں کر رہا تھا ۔اس کے پیچھے کی وجہ تو حرم تھی ۔جس کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا ۔بے شک وہ ان سب سے نفرت کرتا تھا لیکن حرم ان سب سے محبت کرتی تھی ۔اور اس کے لئے صرف حرم کی محبت ہی کافی تھی دنیا کے ہر دکھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ۔

اور وہ لڑکی جو اسے دنیا کی سوچ سے دور لے کر جا سکتی تھی کیا وہ اس کی خوشی کے لیے اتنا بھی نہ کرتا

°°°°°°°

یہ کھانا کھا لیں آپ اس وقت میں دال ہی بنا سکتا تھا آپ کے لئے اور یہ دال کافی ہلکی ہے ۔ہسپتال میں اکثر پیشنٹ کو دی جاتی ہے ۔میرا نہیں خیال کہ یہ آپ کی صحت پر کوئی برا اثر ڈال سکتی ہے ۔آپ یہ کھا لیجیے ۔وہ کھانے کی ٹرے ان کے سامنے رکھتے ہوئے بول رہا تھا

یہ کس نے بنائی ہے کیا کوئی بنا کر گیا تھا دوپہر کا کھانا ۔۔۔۔؟مجھے تو خداش نے کہا تھا کہ دوپہر میں ملازم آئے گا ۔کیا باہر کوئی ملازم آیا ہوا ہے وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگے ۔

وہ اس سے باتیں کرنا چاہتے تھے اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے تھے ۔لیکن یشام کے چہرے کی بیزاری صاف کہہ رہی تھی کہ وہ وہاں سے جانا چاہتا ہے ۔یشام کے چہرے کے سارے تاثرات وہ پڑھ سکتے تھے لیکن وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ ان کی نظروں سے دور جائے

یہ کسی ملازم نے نہیں میں نے بنایا ہے وہ ادھر کچن میں کچھ بھی نہیں تھا جو میں آپ کو کھانے کے لئے دے سکتا اسی لئے جو میں جلدی میں بنا سکا وہ بنا کر لے آیا ہوں آپ کے لئے امید کرتا ہوں کی آپ کو پسند آئے گا ۔

اور اگر پسند نہیں بھی آرہا تو ابھی کھا لیجئے کیونکہ یہاں پر اور کچھ بھی نہیں ہے جو میں آپ کو دے سکوں اور پیشنٹ کے لئے ایسے ہی کھانے ہوتے ہیں ۔

تمہیں کھانا بنانا بھی آتا ہے اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ مریضوں کو کون سا کھانا دیا جاتا ہے انہوں نے مسکراتے ہوئے دلچسپی سے پوچھا ۔

جی بالکل میں ہسپتال میں جاب کرتا رہا ہوں ٹین ایج میں اور کھانا کھانا تو ہر انسان کی ضرورت ہے اسی لئے بنانا بھی سیکھ گیا۔

کیونکہ میں بہت چھوٹی عمر میں ہی سمجھ گیا تھا کہ جو باپ مجھے اپنا نام ٹھیک سے نہ دے سکا وہ مجھے نوکر چاکر تو دینے سے رہا ۔پھر باقی کرم نوازیاں آپ لوگوں کی تھی ۔مجھ سے بات مت کیجئے کاظمی صاحب کیونکہ میری باتیں آپ کو تکلیف دیں گیں۔

اور میں کسی کو تکلیف دے کر اپنی ماں کو خود سے ناراض نہیں کر سکتا ۔اپنے کمرے میں جا رہا ہوں میں خداش کو فون کر دیا ہے ۔وہ کوئی ملازم بھیج دے گا ۔وہ کہہ کر کمرے سے نکل گیا تھا جب کہ دادا جان کچھ بھی نہ بول پائے ۔

یشام کی ناراضگی نہ تو غلط تھی اور نہ ہی بے وجہ ۔لیکن انہوں نے محسوس کیا تھا اس کے لہجے میں ان کے لئے نفرت نہیں تھی ۔

°°°°°°

اب تو اٹھ جاؤ جب سے آئی ہو سو ہی رہی ہو دوپہر کا ایک بج رہا ہے ۔یہ اس کی چوتھی کوشش کی اسے جگانے کی ۔وہ ہربار اسے جگانے کے لیے آتا تو وہ چہرہ پھیر کر دوبارہ سو جاتی ۔سفر لمبا تھا یقینا تھکاوٹ کی وجہ سے وہ ابھی تک اپنی نیند پوری نہیں کر پائی تھی ۔

لیکن اس دفعہ اس نے اپنے شوہر پر رحم کر ہی دیا تھا ۔

کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ کیوں مجھے سکون سے سونے نہیں دے رہے ۔۔۔۔وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی ۔

مجھے یہاں کمرے میں کون لے کر آیا ۔۔۔۔؟ میں تو گاڑی میں تھی نہ اسے اچانک یاد آیا تھا وہ لوگ تو گاڑی پر سفر کر رہے تھے تو وہ یہاں کیسے پہنچا گئی ۔

یہی تو فرق ہے تم میں اور مجھ میں ظالم محبوبہ ۔میں تمہاری طرح نہیں ہوں جو تمہیں اس برفیلے موسم میں گاڑی میں چھوڑ کر خود روم میں آکر آرام کرتا ۔محبت کی ہے جانےمن مرتے دم تک نبھائے گے ۔وہ مزے سے کہتا اس کے قریب آیا تھا

بس بس اب احسان کر ہی دیا ہے تو زیادہ جتانے کی ضرورت نہیں ہے ۔کھانے کے لیے کچھ آرڈر کرو مجھے بھوک لگی ہے ۔

وہ آرڈر مارتی واش روم میں بند ہو گئی تھی ۔ایک پل کے لیے تو وہ خود بھی کنفیوز ہو گیا ۔کہ وہ اس کا شوہر ہے یا ملازم وہ یہاں ہنی مون پر آکر خود کے ساتھ کسی طرح کا ظلم نہیں کروا سکتا ۔

واہ ایک تو میڈم کو گاڑی سے اٹھا کر روم میں لاؤ اپنے سارے کے سارے جذبات کو کنٹرول کر کے ان کو فرہم کرو اور پھر ان کے آرڈر بھی ملاحظہ کرو۔

وہ اونچی اونچی آواز میں اسے سناتا ۔روم سے نکل گیا تھا جب کہ وہ ناک سے مکھی اڑاتی اپنے کام میں مصروف رہی

°°°°°°°

یہ تو آپ نے بہت اچھا سوچا ہے بابا جان مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔اس سے بہتر بھلا اور کیا ہوگا کے آپ کے رہتے ہوئے ہی زریام اور شائزم کو ان کے حصے کی جائیداد تو نہیں دے دی جائے ۔

کل عدالت میں پیشی ہو گی ۔باقر کے قاتل کو سزا سنائی جائے گی ۔اور پھر ان شاءاللہ آپ باقی جو بھی کاغذی کام کرنا چاہتے ہیں آرام سکون سے کر لیجئے گا ۔کیا کہتے ہو چھوٹے انہوں نے ساتھ بیٹھے پرویز کو مخاطب کیا تھا ۔جہنوں نے مسکراتے ہوئے ان کی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔

جی بابا جان جو آپ کا حکم لیکن مجھے زیادہ خوشی تو اس بات کی ہوگی کہ کل میرے بیٹے کے قاتل کو اس کے انجام تک پہنچایا جائے گا

لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ کل ایک امپورٹنٹ میٹنگ کے لئے مجھے جانا پڑ رہا ہے ۔میں کل عدالت میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں آ سکوں گا لیکن آپ مجھے بتاتے رہے گا کہ کیا فیصلہ ہوا ۔

ہاں کیوں نہیں پرویز فکر مت کرو میں تمہیں سب کچھ تفصیل سے بتاؤں گا ۔ان شاءاللہ کل باقر کے قاتل کا عبرتناک انجام ہوگا ۔فصل صاحب نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھا جہاں عمایہ چائے کی ٹرے پکڑی کھڑی تھی ۔

وہ خاموشی سے ٹیبل پر چارکھتی کمرے سے باہر نکل گئی ۔جبکہ وہ لوگ ایک بار پھر اپنی باتوں میں مصروف ہوگئے تھے ۔

°°°°°°°

خداش نے کہا تھا کہ وہ ملازم بھیج دے گا لیکن شام تک کوئی بھی نہ آیا ۔تو وہ خود ہی اٹھ کر واپس نیچے آیا نہ جانے کیوں وہ ان کا احساس کر رہا تھا ۔

اس نے کمرے کا دروازہ کھولا تو وہ بیڈ پر بیٹھے کوئی کتا ب پڑھ رہے تھے ۔

آپ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے اگر ہے تو بتائیے میں دے جاتا ہوں اور آپ اٹھ کر بیٹھے کیوں ہیں۔

میرے خیال میں خداش کل آپ سے اسی بات پر ناراض ہو رہا تھا نہ آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو اتنی دیر بیٹھنا بھی آپ کی صحت کے لیے موثر ثابت ہو سکتا ہے۔

لیٹ جائیے ۔بیکار میں تھکاوٹ ہو جائے گی آپ کو وہ کمرے کے اندر آتے ہوئے ان سے بول رہا تھا

فکر مت کرو بیٹا اس سے بھلا مجھے کیا ہوگا بس تھوڑی دیر بیٹھا ہی تو ہوں لیٹ لیٹ کر تھک گیا تھا

مجھے آپ کی فکر ہرگز نہیں ہے اور مجھے بات بات پر بیٹا مت کیا کریں ۔میں باربار آپ کے کمرے میں اس لیے آ رہا ہوں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کل کو آپ کو کچھ ہو جائے اور یہ الزام میرے سر پر آ جائے جس طرح میرے باپ کی موت کو آپ نے میری ماں کے گلے میں ڈال دیا تھا ۔

میری طرف سے آپ اٹھیں بیٹھیں آئی ریلی ڈونٹ کیئر ۔وہ تلخی سے کہتا دوبارہ کمرے سے نکل گیا تھا ۔جب کے دادا جان کتاب ایک طرف رکھتے ہوئے بیڈ پر واپس لیٹ گئے

°°°°°°

ویسے یہ سب کچھ بہت عجیب نہیں لگ رہا ایک تو میں اتنا جلدی شادی کرنا نہیں چاہتی دوسرا میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی جس نے مجھے اتنی باتیں کہی ہیں اور تیسرا مجھے تم سے ملنے پر مجبور کیا جا رہا ہے ۔

وہ کھانا کھانے ایک ریسٹورینٹ میں پہنچے تو وہاں دیدم کو زبردستی صیام سے بات کرنے کے لئے الگ کیا گیا وہ تو یہی جان کر شاکڈ رہ گئی تھی کہ اس کی شادی اس آدمی کے ساتھ کی جا رہی ہے جو اسے خوب صورت ہی نہیں سمجھتا ۔

میں تمہاری ساری پرابلمز کو سمجھ رہا ہوں لیکن یقین مانو میں نے وہ ساری باتیں خود سے نہیں کہی تھی وہ سب کچھ تو مجھے حرم بتاتی رہی ہے ۔

حرم نے تو مجھے اور بھی بہت ساری الٹی سیدھی باتیں کہی تھیں۔اور تمہیں دیکھنے کے بعد نہ میرے دل میں جو بھی الٹی سیدھی چیزیں آئی تھی غائب ہو چکی ہیں اب تو بس ایک ہی چیز دماغ میں آ رہی ہے شادی کروں گا گھر بساوں ۔

قسم سے اپنے ہی دوست کو دیکھ کر نہ بڑی جلن محسوس ہوتی ہے ۔کتنی مست شادی شدہ زندگی گزار رہا ہے وہ مجھے بھی ایک ایسی ہی زندگی چاہیے ۔

اک پیاری سی بیوی حرم کی طرح چھوٹا سا گھر ۔۔۔۔

میں حرم کی طرح ہرگز نہیں ہوں۔وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولی ۔

مجھے حرم کی طرح لڑکی چاہیے بھی نہیں لڑکی تو تمہاری جیسی ہونی چاہیے ۔ویسے مجھے پتا ہی نہیں ہے کہ یہاں گلاب کے پھول کہاں ملتے ہیں ورنہ اس پھول جیسی لڑکی کو ایک پھول تو ضرور پیش کرتا ۔

مجھے پٹانے کی کوشش کر رہے ہو ۔۔۔؟ میں ڈائیلاگ بازی سے امپریس نہیں ہوتی ۔وہ اس کی کوشش پر پانی پھیرتے ہوئے بولی ۔

ڈائیلاگ بازی تو شادی کے بعد کی جاتی ہے میرے خیال میں اور پٹانے والا مسئلہ تو کہیں ہے ہی نہیں تمہارے گھر والے پہلے ہی پٹ گئے ہیں مجھ سے اور رہی تمہیں پٹانے کے بات تو شادی کے بعد موقع مانگوں گا اگر دیا تو ٹھیک ہے ورنہ کسی بورنگ ٹپیکل کپل طرح اپنی شادی شدہ زندگی شروع کر دیں گے ۔

وہ بڑی مایوسی سے بولا تھا ۔

بہت تیز آدمی ہو تم ۔۔۔پتہ نہیں حرم کو تم کیوں معصوم لگتے ہو ۔

میرے خیال میں پاکستان میں لڑکیاں شوہر کو آپ کہہ کر مخاطب کرتی ہیں ۔وہ واپس ہوٹل کے اندر کی طرف جانے لگے تو اس نے جیسے یاد دلانے والے انداز میں کہا ۔

ہاں مگر شوہر کو۔۔۔۔۔۔” وہ مسکرائی

تو مطلب تم ہاں نہیں کرنے والی اندر جا کر وہ پریشانی سے اسے دیکھنے لگا ۔

زیادہ تیز آدمی مجھے پسند نہیں آتے ۔وہ کہہ کر اندر بھاگ گئی تھی جبکہ صیام نے اپنے دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے شانے کرنے کی کوشش کی تھی مطلب اس کی پہلی ہی محبت ناکام ہونے والی تھی

°°°°°°

السلام علیکم دادا جان کیسے ہیں آپ آپ نے کچھ کھایا اپنا خیال رکھا کہ نہیں ۔۔۔۔۔وہ گھر آتے ہی سب سے پہلے ان کے کمرے میں آیا تھا ۔

وعلیکم اسلام میری جان میں بالکل ٹھیک ہوں ۔ہاں میں نے کھانا کھا لیا تھا ۔یشام نے میرا بہت خیال رکھا تم لوگوں نے تو سب ملازموں کو بھی چھٹی دی تھی ۔

وہ اس کے لئے اپنے ساتھ جگہ بناتے ہوئے کہنے لگے ۔

نہیں تو میں نے تو کسی ملازم کو چھٹی نہیں دی ۔ہاں شاید حرم دی ہوگی میرا فون اسی کے پاس تھا ۔میڈم کا کہنا تھا کہ میں آج کے دن اپنا فون بالکل استعمال نہیں کر سکتا ۔کیونکہ ان کا شکوہ تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتا ۔

خیر اب بتائیں آپ کا دن کیسا گزرا ۔۔۔؟وہ اپنی بات ختم کرتے ہوئے ان سے کہنے لگا ۔

الحمدللہ میرا دن بہت اچھا گزرا یشام نے بہت خیال رکھا میرا تمہیں پتا ہے اس نے دن میں میرے لیے کھانا بھی بنایا ۔بہت کچھ سہا ہے اس نے بہت کچھ برداشت کیا ہے ۔اتنی جلدی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر آگے بڑھنا اس کے لیے آسان نہیں ہے ہمیں وقت لگے گا اسے اپنی طرف لانے میں ۔وہ بیڈ کروان کے ساتھ سر لگائے اس سے کہہ رہے تھے ۔

اور ہم اسے اپنی طرف لے آئیں گے دادا جان آپ پلیز پریشان مت ہوں یقین رکھے خدا پر وہ ہمارے ساتھ ہے ان شاء اللہ بہت جلد یشام اپنا تلخ ماضی بھول کر ہمارے ساتھ ایک اچھی اور خوشگوار زندگی کی شروعات کریگا ۔وہ انہیں یقین دلاتے ہوئے بولا تھا جبکہ اس کے انداز پر انہوں نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا تھا ۔

°°°°°°°

تمہارے ساتھ مسئلہ کیا ہے لڑکی تمہیں سکون نہیں ملتا کیا ۔جہاں بھی خداش کو دیکھا وہی ان کے پیچھے لگ گئی کیا تم چاہتی ہو میں تمہارا سر پھاڑ دوں۔

وہ راہداری سے اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب اچانک دیشم اس کے سامنے آ گئی پہلے تو دیدم گھبرا کر اپنے دل پر ہاتھ رکھ چکی تھی ۔پھر ٹھنڈی آہ بھر کر اسے دیکھنے لگی ۔

اف ڈرا دیا نہ تم نے مجھے حد ہوتی ہے کسی چیز کی اب کیا کر دیا میں نے دیکھو دیشم میری تمہارے شوہر پر کوئی نظر نہیں ہے

لیکن اب اگر کوئی مجھ سے اچھے سے بات کرے گا تو میں اسے اچھے سے ہی جواب دوں گی نہ تمہاری طرح منہ پھاڑ تو ہوں نہیں میں تو سب کو الٹے سیدھے جواب دیتی پھروں گی آخر تہذیب بھی کوئی چیز ہے ۔

اب راستے سے ہٹو میرے مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے وہ کیا ہے نا کہ جلدی سونا ہے میں نہیں چاہتی کہ شادی والے دن میری آنکھوں کے نیچے ڈارک سرکلز آجائیں ۔

تمہیں تو پتہ ہی نہیں ہوگا نا میری شادی کا چلو کوئی بات نہیں میں بتا دیتی ہوں ۔دادا جان اگلے دس دن میں میری شادی کروانے والے ہیں ایکسائٹڈ ۔۔۔۔۔؟وہ کیا ہے نہ یشام بھائی جلدی واپس جانے کی تیاری کر رہے ہیں تو دادا جان چاہتے ہیں کہ اس کے جانے سے پہلے پہلے میری شادی ہو جائے ۔

وہ بڑے مزے سے اس کے سر پر دھماکا کرتی اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی جبکہ دیشم کو کوئی اور نہ ہی ڈر لاحق ہوگئے تھے ۔

دیدم کی شادی خداش کے ساتھ کی جا رہی تھی یہی بات سوچ سوچ کر اس کا دماغ پوری طرح ڈسٹرب ہو گیا تھا اس کے سر میں بےحد درد ہونے لگا وہ سیدھی اپنے کمرے میں آئی تھی خداش سے بات کرنے کے لیے ۔

اسے یقین تھا کہ خداش نے اب تک اپنے اور دیدم کے رشتے کے بارے میں کسی کو بھی کچھ نہیں بتایا تھا تبھی تو یہ بات اتنی زیادہ آگے جارہی تھی اس قصے کو تو وہ کسی بھی حالت میں ختم کرنا چاہتی تھی ۔

دیدم کو تو کیا کسی بھی عورت کو اپنی سوتن کے روپ میں برداشت نہیں کر سکتی تھی

°°°°°°

وہ کمرے میں آئی تو خداش گہری نیند میں تھا شاید وہ واپس آتے ہی سو گیا تھا کل صبح اسے اپنی کسی بے حد ضروری کام کے سلسلے میں کہیں جانا تھا

اس کا دل چاہا کہ وہ اسے ابھی اٹھا کر یہ ساری باتیں بتا دے کے گھر میں اس کی دوسری شادی کی مکمل تیاری کی جا چکی ہے بلکہ اگلے دس دنوں میں اس کی دوسری شادی بھی کروا رہے ہیں ۔

دوپہر میں وہ سب لوگوں کو ریسٹورنٹ میں چھوڑ کر اسے اپنے ساتھ ایک بے حد خوبصورت پارک پر لے کر گیا تھا ۔دیشم کا کہنا تھا کہ اسے بھوک نہیں لگی تو ایسے میں خداش کو موقع مل گیا تھا اس کے ساتھ چند پل گزارنے کا ۔

اور بے شک وہ اس کے ساتھ خوشگوار لمحات گزار کر واپس آئی تھی لیکن واپس آ کر اسے سب کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھی تھی سب لوگ ہی دیدم سےبڑی محبت سے پیش آ رہے تھے ۔

یہ سب لوگ دیدم کو اتنی اہمیت کیوں دے رہے تھے اسے تو سرے سے یہی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی اس نے خداش سے پوچھا تو اس نے کہہ دیا ۔کہ وہ لوگ جلد سے جلد دیدم کی شادی کرنا چاہتے ہیں اسی سلسلے میں اسے اتنی زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے ۔

اس کا دل چاہا کہ وہ اسے جگا دے لیکن وہ کافی زیادہ تھکا ہوا تھا اسی لئے اپنے آپ کو پرسکون کرنے کی ناکام کوشش کرتے بیڈ پر بیٹھ گئی جب اس کا دھیان سامنے الماری کے باہر لگے اس کے کالے کوٹ پر گیا تھا ۔

خداش وکیل تھا اس نے وکالت کی تھی ۔اس کی اس کامیابی سے جیلس ہو کر ہی تو اس نے وکیل بننے کا خواب دیکھا تھا۔اپنی سوچ پر وہ نفی میں سر ہلاتی اس کے سینےپر سر رکھ چکی تھی۔جب خدا ش نے اس کے گرد اپنی باہوں کا حصار بناتے ہوئے اسے تحفظ کا احساس دلایا تھا

°°°°°°°°°°°°