65.2K
100

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Junoniyat (Episode 38)

Junoniyat By Areej Shah

عمایہ پاگلوں کی طرح سارا دن کام میں لگی رہی تھی

اور پھر اس نے زریام کو منانے کے لیے اس کی پسند کا سارا کھانا بنا لیا تھا

شاید اسی کو دیکھ کر اس کا دل بھی پگھل جائے

وہ شام کو گھر واپس آیا تو عمایہ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا

وہ تو پریشانی سے بے حال ہو رہی تھی ۔کیونکہ وہ اس کی طرف دیکھنا تک گوارا نہیں کر رہا تھا ۔

وہ اس کے سامنے بچھ بچھ کر اس کی من پسند ڈش اس کے سامنے رکھ رہی تھی لیکن اس نے تو بے نیازی کی چادر اوڑ رکھی تھی ۔

وہ اتنا سخت دل بھی ہو سکتا ہے اس نے کبھی نہیں سوچا تھا اس کے سامنے تو وہ ہمیشہ سے ایک الگ منفرد انسان تھا ۔

کھانا کھاتے ہوئے وہ مکمل طور پر اسے اگنور کر رہا تھا۔

جنت اور ماما کے علاوہ تانیہ اور چاچی نے بھی یہ بات نوٹ کرلی تھی اس کے ہاتھ سے کھانا نہ لیتے ہوئے وہ تانیہ کے ہاتھ سے کھانا لے چکا تھا۔

تانیہ کو اشارہ کیا ملا وہ فورا ہی کام پر لگ گئی تھی۔

عمایہ کو اگنور کرنا اس کے لئے کافی اچھا ثابت ہو رہا تھا

عمایہ کے ہاتھ سے کھانا نا لینے کا مطلب یہی تھا کہ وہ اس کے اس سے ناراض ہےاور وہ اس ناراضگی کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتی تھی

لیکن وہ کیوں ناراض تھا اس سے۔۔۔۔! آخران دونوں میں ایسا کیا ہوا تھا کہ بات یہاں تک آ پہنچی تھی ۔

کہ وہ اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتا تھا کچھ توہوا تھا

اور تانیہ کو یہ جاننے کی کچھ زیادہ ہی بے چینی ہورہی تھی صبح صبح زریام نے جنت کو چھوڑنے کے لئے جانا تھا

وہ ایک دن میں تو کبھی بھی واپس نہیں آتا تھا ۔

تویقیناً اسی ناراضگی میں صبح جانے والا تھا اور تانیہ اس ناراضگی کا فائدہ اٹھا سکتی تھی ۔

کھانا کھانے کے فورا بعد وہ نہ صرف زریام کے کمرے میں گئی بلکہ صبح کے لئے ذریام کے کپڑے تیار کرکے رکھ دیئے ۔

اور اس کے ہاتھ سے کھانا نہیں لے رہا تھا تووہ اس کے تیار کردہ کپڑوں کو بھی چھونا پسند نہیں کرے گا ۔اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ ذریام کسی بھی بہانے سے عمایہ کو مخاطب کرے

یہ ناراضگی، ناراضگی ہی رہنی چاہیے وہ فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ دیکھ کر کمرے سے نکل گئی تھی ۔

وہ کمرے کی طرف ہی آ رہا تھا جب کہ وہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس آرکی عمایہ تیزی سے چائے کا کپ لیکر آ رہی تھی

وہ زریام میں نے آپ کے کپڑے تیار کر دیے ہیں صبح آپ کو جنت کو چھوڑنے کے لئے جانا ہے نا ۔۔۔؟

تو میں نے سوچا کہ میں آپ کے کپڑے تیار کر دیتی ہوں عمایہ بیچاری سارا دن کام میں لگی رہی ہے

تھک گئی ہے بیچاری تو میں نے کر دیے ۔وہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی جب کہ عمایہ جو سوچ رہی تھی کہ شاید وہ اسے اپنے کمرے میں دوبارہ آنے سے منع کرے گا بنا کچھ بولے آگے بڑھ گیا

اس کا یہ انداز اسے مزید ڈر میں مبتلا کر رہا تھا

°°°°°

دادا جان کی حالت اب تک ٹھیک نہ ہوئی تھی۔

گھر میں پریشانی بڑھنے لگی تھی۔

تھوڑی دیر پہلے اس نے گھر پر فون کر کے بتا دیا تھا کہ دادا جان کو پھر سے ہارٹ اٹیک ہوا ہے۔ اور حالت کافی زیادہ خراب ہے ۔

ڈاکٹر کے مطابق انہیں کسی بہت بڑی ٹینشن میں ڈالا گیا تھا ۔

انہیں کس کا فون آیا تھا یہ جاننا بہت ضروری ہو گیا تھا۔

اگر یہ سب کچھ ایک فون کال کی وجہ سے ہوا تھا تو یقیناً وہ کوئی دوست نہیں بلکہ دشمن تھا ۔

دادا جان کا کون دشمن ہو سکتا ہے شاہ خاندان کے علاوہ اس کا سارا شک اسی طرف جا رہا تھا

اس نے گھر فون کرکے سامیہ سے کہا تھا کہ دادا جان کے فون پر دیکھیں کہ آخری کال اس کی آئی ہوئی ہے۔

اور وہ یہی چیک کرنے ان کے کمرے میں گئی تھی اور چیک کرنے کے بعد اسے کال کرنے والی تھی

اسی لیے وہ اپنا فون ہاتھ میں لئے ہوئے تھا

اور تھوڑی ہی دیر میں اسے فون آ گیا تھا لیکن دوسری طرف سے اسے جو خبر ملی تھی وہ اس کے پیروں تلے سے زمین نکل چکی تھی

دادا جان کو کس کا فون آیا تھا یہ تو پتہ نہیں چلا تھا۔

لیکن اب جو تھوڑی دیر پہلے سامیہ نے اسے خبر سنائی تھی وہ اسے پاگل کر دینے کے لئے کافی تھی

وہ فورا گھر واپس جانا چاہتا تھا لیکن دادا جان کو اس حالت میں چھوڑ کروہ کہیں نہیں جا سکتا تھا لیکن باقی سب لوگ گھر کے لیے نکل چکے تھے کس نے سوچا تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گا

°°°°°°

ان سب کو دادا جان کی پریشانی لاحق تھی کسی نے دیکھا بھی نہیں کہ کون کون ان کے پاس موجود ہے اور کون کون نہیں۔

وہ سب لوگ باہر ہال میں بیٹھے ہوئے تھے جب دیشم نے اپنا لباس چینج کرتے ہوئے سادہ سا لباس پہنا اور باہر آ گئی۔

اور باہر آتے ہی اس نے سب سے پہلے حرم کو تلاش کرنا چاہتا تھا۔

جو اسے کہیں بھی نہیں ملی اماں کو تو لگا شاید وہ سوچکی ہے انہوں نے دیدم کو کہا کہ وہ اسے جگا لائے اوردادا جان کی حالت کا بتائے

دیدم اسے جگانے کے لیے گئی تو تقریبا پانچ منٹ کے بعد واپس آ کر اس نے جو خبر انہیں سنائی تھی اور سچ میں حویلی کی چھت جیسے ان کے سروں پر گر چکی تھیں

حرم حویلی میں نہیں تھی وہ نہ صرف روم بلکہ واشروم ڈریسنگ روم اس کے علاوہ آگے پیچھے کے سارے کمرے دیکھ کر آئی تھی حرم کہیں پر بھی موجود نہیں تھی

اس خبر نے انہیں بری طرح سے پریشان کردیا تھا ۔

وہ سب لوگ مل کر حرم کو ڈھونڈنے لگے لیکن ہر طرف سے ناکامی ہی ہاتھ آئی تھی۔

حرم پوری حویلی میں کہیں پر بھی موجود نہیں تھی

اس بات کو چھپانے یا پھر دبانے کے بجائے انہوں نے خداش کو فون کرکے فورا یہ بات بتا دی تھی

گھر سے جوان جہاں لڑکی کا اس طرح سے غائب ہو جانا کوئی معمولی بات تو ہرگز نہ تھی ۔

یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ بھی پریشانی سے خداش کو ہسپتال چھوڑ کر حویلی پہنچے تھے انہوں نے خود بھی تسلی کے لیے پوری حویلی کا ایک ایک کمرہ چھان مارا تھا لیکن حرم کہیں پر بھی نہیں تھی

وہ لڑکی ایک کمرے سے دوسرے کمرے تک رات میں اکیلی نہیں جا سکتی تھی تو اس طرح اچانک رات گھر سے غائب ہو جانا کوئی معمولی بات نہ تھی

کل کی صبح ان کے لئے کتنی بری ثابت ہوسکتی تھی وہ صرف سوچ سکتے تھے

ان کے پاس بہت کچھ تھا حرم کو ڈیفنس کرنے کے لئے لیکن کوئی ان کی اس بات کو کیوں مانے گا کہ وہ ڈرپوک ہے اور آدھی رات کو اکیلے گھر سے نہیں نکل سکتی تھی

لوگوں نے کیا کیابات بنانی تھی یہ تو وہ بہت اچھے طریقے سے سمجھتے تھے اس گاؤں میں رہتے انہیں سالوں بیت گئے تھے

یہاں کے ماحول کو ان سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا ان کی بیٹی گھر سے غائب تھی

اور بے شک وہ ان کے لیے سب سے چھوٹی لاڈلی معصوم بچی تھی لیکن دنیا والوں کے لئے کوئی معصوم بچی نہیں بلکہ ایک جوان بالغ لڑکی تھی

ان کے خاندان کی عزت داؤ پر لگ سکتی تھی

وہ خاموشی سے اسے تلاش کرنے لگے تھے چاچا بڑے چاچا اور بابا اپنی اپنی گاڑی میں دور دور تک دیکھ کر واپس آ رہے تھے

وہ تھک چکے تھے اماں کا کہنا تھا کہ ہمیں پولیس میں رپورٹ کروانی چاہیے لیکن یہ چیز بھی ان کے لئے بدنامی کی وجہ بن سکتی تھی

یقینا حرم کا رات بھر گھر سے غائب رہنا ان کے لیے بہت بدنامی کا سبب بن سکتا تھا

اور اگر یہ بات کسی طرح شاہ خاندان کے کانوں میں پڑ گئی تو کیا ہوگا وہ سوچنا بھی نہیں چاہتے تھے

۔کیونکہ آج سے سترہ سال پہلے ہوا واقع تاریخ دوڑا بھی سکتا تھا گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کو یہ گاؤں والے کیا سزا دیتے تھے وہ اس سے انجان تو نہیں تھے

وہ کس کس کو یہ بات ثابت کرتے کہ ان کی بیٹی گھر سے بھاگی نہیں ہے

وہ کس کس پر اپنی بیٹی کی بے گناہی ثابت کرتے وہ جانتے تھے کہ حرم گھر سے بھاگ نہیں سکتی حرم کو گھر سے غائب کیا گیا ہے اسے اغوا کیا گیا ہے لیکن لوگ ان کی اس بات پر یقین کیوں کرتے ۔۔۔۔!

کیا انہوں نے کبھی کسی پر یقین کیا تھا کیا کسی کی بہن بیٹی کے لیے ان کے دل میں ترس آیا تھا جو کوئی ان کی بیٹی کیلئے آواز اٹھاتا

حرم کےساتھ بھلا ایسا کون کر سکتا ہے کیا شاہ خاندان ایسا کر سکتا ہے۔نہیں وہ اتنا نہیں کرسکتے تھے ان کی اپنی بھی بیٹیاں تھیں

شاہ خاندان تو بدلے کی آگ میں جل رہا تھا اس آگ میں جس میں کسی کی بیٹی جلی تھی تو کسی کا بیٹا۔ تلواریں تو دونوں طرف کی پیاسی تھی۔اور یہ واقع شاہ خاندان کے بدلے کی آگ بجھا بھی سکتا تھا

°°°°°

وہ تیز تیز سیڑھیاں اتر رہا تھا جب سامنے سے آنے والی لڑکی اس سے زوردار طریقے سے ٹکرائی تھی۔

وہ تو اس اچانک ہونے والی افتاد پر خود بھی پریشان ہو گیا تھا اگلے ہی لمحے وہ اس کا بازو تھام کر اسے کھینچا تھا ۔

ٹھیک ہیں آپ۔۔۔۔۔۔! وہ اس کو یوں ہی پریشان کھڑے دیکھ کر کہنے لگا تھا وہ پوری طرح سے خود کورکیے ہوئے تھی سوائے آنکھوں کے کچھ بھی نظر نہیں آیا تھا اس نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اپنے آپ کو ریلیکس کیا ۔

شکریہ میں ٹھیک ہوں اگر آپ میرا ہاتھ نہ تھامتے تو میں سیڑھیوں سے نیچے گر جاتی وہ اس سے شکرگزار نگاہوں سے اسےدیکھتے ہوئے بولی تو وہ مسکرا دیا

سچ کہوں تو یہ بالکل بے ساختہ ہوا ہے نہ جانے کیسے آپ کا ہاتھ میرے ہاتھ میں آگیا ہے۔ورنہ آپ گربھی سکتی تھی ۔

احتیاط سے چلیے اور ان سیڑھیوں پر تو زیادہ احتیاط کریں کیونکہ یہ زیر تعمیر ہیں وہ اسے مشورہ دے کر وہاں سے نکل چکا تھا جب کہ مسکرا کر ایک نظر سیڑھیاں دیکھ کر کلاس کی طرف چلی گئی۔

افشین کتنا وقت لگا دیا تم نے آتے ہوئے بس کلاس شروع ہونے والی تھی میں نے سوچا یہ نہ ہو کہ پہلے ہی دن تمہاری کلاس مس ہو جائے

اس کی سہیلی جو کب سے بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی اس کے آتے ہی اسے کہنے لگی۔

ارے یار سیڑھیوں سے گرتے گرتے بچی ہوں میں نے دیکھا ہی نہیں کہ وہ زیر تعمیر تھی

میری تو سانسیں رکنے لگی تھی شکر ہے کہ اس آدمی نے میرا ہاتھ تھام لیا ورنہ میری ایک نہ ایک ہڈی تو لازمی ٹوٹ جاتی آج وہ اس کے پاس بیٹھ کر بتانے لگی

ارے یار دیکھ کر چلا کرو شکر ہے کے گرنے سے تو بچ گئی نا چلو اب اس آدمی کو تھینک یو بول دینا وہ کہہ کر اپنے کام میں مصروف ہو گئی

جبکہ اس نے بھی مزید بات کو بڑھایا نہیں تھا لیکن اچانک ہی اس کا دھیان باہر گیا تھا جہاں اس کے ٹیچر کے ساتھ وہ لڑکا کھڑا نہ جانے کیا باتیں کر رہا تھا ۔

یہی لڑکا ہے جس نے مجھے گرنے سے بچایا اس نے ساتھ بیٹھی اپنی سہیلی سے کہا تھا

ارے یار یہ تو ٹاپر ہے لاسٹ ایئر کا اسٹوڈنٹ ہے بہت لائق ہے پورے بورڈ میں پوزیشن لی تھی ہر ٹیچر کا فیورٹ ہے اس کی سہیلی نے ایک ہی سانس میں تفصیل بتا دی تھی ۔

ہاں بہت اچھا ہے اور خوش اخلاق بھی ہے۔افشین نے دل سے اس کی تعریف کی تھی جو بھی شخص اسے اچھا لگتا تھا وہ اس کی تعریف کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگاتی تھی

°°°°°°

یہ تمہارے آخری سال کے پیپرز ہو جائیں اس کے بعد پڑھائی چھوڑو اور اپنے کام میں لگ جاؤ

کب تک تینوں بھائی سنبھالے تمہاری بھی کچھ ذمہ داری ہے ساگر ۔

مقابلے کو ختم ہوئے تین مہینے سے اوپر کا وقت ہو چکا تھا

اور اب باباجان نارمل ہو چکے تھے ساگر سے وہ اکثر ہی پڑھائی ختم کر کے کام پر دھیان دینے کی بات کرتے تھے

بابا جان بس یہ آخری سال ہے اس کے بعد تو ان شاءاللہ وہی کرنا ہے جو آپ کہیں گے اس نے خوشامند کرتے ہوئے کہا وہ کبھی خوشامدی قسم کا انسان نہیں تھا لیکن بابا کو خوش کرنے کے لئے ایسا ہو جایا کرتا تھا

بابا اس کے گھومنے پھرنے کے دن ہیں ابھی اسے انجوائے کرنے دیجئے ہم سنبھال تو رہے ہیں نہ سب کچھ ثاقب کاظمی اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگے ۔

نہیں بس انجوائے کرنے کے دن تو اس نے پڑھائی میں ضائع کر دیے جو پڑھ لیا اتنا بہت ہے اور اب اسے بھی کام سیکھنا چاہئے بابانے ان کی بات کی مخالفت کی تھی ۔

جی بابا جان جیسا آپ کا حکم راحت کاظمی نے ثاقب کاظمی کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کرتے ہوئے بات ختم کر دی آگے سےوہ کچھ نہیں بولے جبکہ ساگر کاظمی خاموشی سے اپنا کھانا کھانے میں مصروف تھے

°°°°°

کیسا رہا میرے بچے کا پہلا یونیورسٹی کا دن انجوائے کیا ۔۔۔!

کیسے چل رہی ہے تمہاری ۔پڑھائی۔ ۔؟ہر بار کی طرح ہی کیاہم سمجھیں کہ تم یونیورسٹی میں بھی ٹاُپ کروگی۔۔۔۔۔؟

باباجان نے اپنی لاڈلی کو سینے سے لگاتے ہوئے پوچھا تھا جس پر اس نے پورے جوش سے ہاں میں سرہلایا تھا

گاؤں کے سرپنچ کی بیٹی ہوں ان کا نام کیوں ہیں روشن کروں گی دیکھیے گا یہاں بھی ٹاپ کروں گی۔ وہ خوشی سے بولی

بس سر پر چڑھا لیجئے اسے شادی کروائیں اس کی 19 سال کی ہوگئی ہے اور ابھی تک آپ اس کی پڑھائی ختم نہیں ہونے دے رہے

اس عمر میں ، میں دو بچوں کی ماں تھی اماں جان نے پیچھے سے آتے ہوئے دونوں باپ بیٹی کو سنایا تھا جو پوری طرح سے انہیں نظرانداز کرتے ہوئے اپنی ہی باتیں کرتے ہوئے مسکرا رہے تھے

اپنی ماں کی بات پر دھیان مت دو تم اپنی پڑھائی پر دھیان دو اپنے باپ کا نام روشن کرو ۔

جب تک میری بیٹی نہیں چاہے گی تب تک ہم اس کی زندگی کا کوئی فیصلہ نہیں کریں گے وہ اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے محبت سے بولے

جبکہ افشین خدا کا شکریہ ادا کر رہی تھی جسے اس حد تک سمجھنے والے بابا ملے تھے ۔

باباجان نے اسے بس یہی کہا تھا وہ جو چاہے اپنی زندگی کا فیصلہ کر لے ۔لیکن اس کی زندگی کا سب سے اہم فیصلہ یعنی کے اس کی شادی کا فیصلہ وہ خود کریں گے ۔

اور یہ فیصلہ تب ہوگا جب وہ بالکل پر سکون ہو کر اپنی پڑھائی مکمل کرے گی

°°°°°°

اس نے کمرے میں قدم رکھا تو وہ چینجنگ روم میں تھا۔

وہ باہر ہی بیڈ پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرتی رہی۔

تھوڑی دیر کے بعد وہ کمرے میں آیا تو اس کے ہاتھ میں ٹاول تھا وہ اپنے بال سکھاتے ہوئے روز کی طرح آئینے کے سامنے جانے کے بجائے وہیں صوفے پر ٹاول پھینکتا بیڈ پر آ کر لیٹ گیا تھا

زریام پلیز مجھ سے بات کریں مجھ سے اس طرح ناراض مت ہوں۔

میری سانسیں رکنے لگتی ہیں مجھے لگتا ہے میں پاگل ہو جاؤں گی۔

میں جانتی ہوں مجھ سے غلطی ہوئی ہے میں نے بہت غلط کیا ہے مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے مجھے آپ کو بتا دینا چاہیے تھا لیکن میں بہت زیادہ ڈر گئی تھی مجھے لگا کہ آپ انہیں مار دیں گے

میں نہیں جانتی ان سب میں ان کا کتنا قصور ہے انہوں نے کسی کا قتل کیا ہے یا نہیں لیکن اتنا جانتی ہوں کہ میں اپنے بھائی کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتی

میں جانتی ہوں میں نے جو بھی کیا غلط کیا لیکن ۔۔۔۔۔۔وہ اس کے بالکل پاس بیٹھی اس کے سینے پر رکھے ہوئے ہاتھ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے کہنے لگی تو اگلے ہی لمحے اس نے بڑی بے رحمی سے اس کے ہاتھوں کو جھٹک دیا تھا

جب اس نے دوسری دفعہ اس کے ہاتھ کو پکڑنا شروع کیا اس نے اپنے ہاتھ ہی ہٹا لئے وہ ناراض تھا بے حد ناراض تھا وہ اسے منانا چاہتی تھی

اور وہ جانتی تھی کہ کل وہ جنت کو چھوڑنے جائے گا اس کی واپسی جلدی ممکن نہیں تھی اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس سے ناراض ہی جائے

زریام پلیز مجھ سے ناراض مت ہوں۔مجھ سے آپ کی ناراضگی برداشت نہیں ہو رہی ۔

میرا کوئی نہیں ہے آپ کے علاوہ میں کیا کروں گی

ذریام میری زندگی میں سب کچھ آپ ہی ہیں آپ کے علاوہ میرا کوئی وجود نہیں ہے آپ کی یہ ناراضگی مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی ہے وہ اس کے سینے پر اپنا سر رکھ کر زاروقطار رونے لگی تھی

عمایہ پچھے ہٹو یہاں سے اس نے بہت غصے سے کہا تھا لیکن وہ اس کے سینے سے ہٹنے کو تیار ہی نہ تھی وہ اس کے گرد بانہوں کے حصار بنائے اس کے سینے سے لگی آنسو بہا رہی تھی

نہ جانے کیوں اندر ایک یقین تھا وہ اسے خود سے جدا نہیں کرے گا وہ اسے دھتکارے گا نہیں اور اس کا یہ یقین سچ ثابت ہوا تھا

وہ تھوڑی دیر کے بعد لائٹ آف کر چکا تھا لیکن اس کے ہاتھ نے اسے کسی قسم کی کوئی تسلی نہیں دی تھی اس کا سر اس کے سینے پر تھا

لیکن نہ تو اس نے ہمدردی کے کوئی لفظ بولے تھے اور نہ ہی اسے خود سے الگ کیا تھا

بس اپنے پیروں کی مدد سے کمبل اٹھا کر خود پر اور ساتھ اس پر پھیلا دیا تھا اور اس کے لیے اتنا ہی کافی تھا وہ چاہے اس سے کتنا ہی خفا کیوں نہ ہو وہ اسے دھتکارے گا نہیں۔لیکن فی الحال وہ اس کی غلطی معاف کرنے کو بھی تیار نہیں تھا

°°°°°