Junoniyat By Areej Shah Readelle50354 Junoniyat (Episode 93)
Rate this Novel
Junoniyat (Episode 93)
Junoniyat By Areej Shah
حرم نے اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا اس سے اس طرح کی کوئی حرکت ہو جائے گی یہ تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا وہ جو کب سے حیران کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اپنی مسکراہٹ دباکر اپنے چہرے پر مزید حیرانگی سجائی
یہ کیا ۔۔۔۔۔۔حرم اس طرح اچانک سے تم ایسا کیسے کر سکتی ہووہ بات کو کھینچنے لگا تھا جب کہ وہ جوسوچ رہی تھی کہ وہ اس بارے میں بات نہیں کرے گا
حیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگی
اب یہ تو غلطی سے ہی ہوا تھا وہ اس پر کیا کہتی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا
میں نے جان بوجھ کر نہیں کیا پتا نہیں کیسے ہو گیا غلطی سے میں تو آپ کے گال پر کس کرنے والی تھی۔
ارے ایسے کیسے ہو گیا غلطی سے کس بھی کیا غلطی سے ہوتا ہے تم بھی انتہا کر رہی ہوایسا بھی کیا ہوتا ہے ۔تمہیں مجھے کس کرنے سے پہلے کم از کم سوچنا تو چاہیے تھا ۔
اس کی پریشانی سے خراب ہوتی حالت دیکھ کر اسے مزہ آ گیا تھا وہ اسے مزید پریشان کرنے لگا ۔
ارے اس میں سوچنے والی کون سی بات ہے آپ نے بھی تو مجھے کیا تھا نا جب ہم انگلینڈ میں تھے ۔اس نے اسے یاد دلایا تھا
ہاں تو وہ تو تم میری بیوی ہو میں تم سے پیار کرتا ہوں میں تو تمہیں ابھی بھی۔کس کر۔سکتا ہوں میں تمہارے ساتھ کچھ بھی کرنے کا مکمل حق رکھتا ہوں لیکن تم اس طرح ۔۔۔۔
واہ جی واہ مطلب آپ شوہرہیں تو کچھ بھی کرنے کا حق رکھتے ہیں اورمیں بیوی ہوں تو کچھ بھی نہیں کر سکتی کان کھول کر سن لیجئے آپ بھی میرے شوہر ہیں اور میں بھی آپ پر پورے حق رکھتی ہوں میں جو چاہے کر سکتی ہوں ایک کس کروں یا ہزار کون ہے مجھے روکنے والا ۔۔۔۔۔؟
آئے بڑے شوہرسر کہیں کے اپنی باری پر یاد نہیں آتی یہ الٹی سیدھی باتیں اسے تو سچ مچ میں غصہ آ گیا تھا ۔
اچھا چلو ٹھیک ہے آئندہ احتیاط کرنا دوبارہ ایسی غلطی نہیں ہونی چاہیے ۔وہ بات کو ختم کرنے کے موڈ میں بولا تھا جبکہ حرم اسے گھور کر رہ گئی ۔
اووو ہیلو کیوں نہیں ہونا چاہیے دوبارہ میں ہزار بار کروں گی کون ہے مجھے روکنے والا جس طرح آپ میرے شوہر ہیں۔ میں بھی آپ کی بیوی ہوں میں کچھ بھی کر سکتی ہوں
اور میں دوبارہ کیا توبارہ بھی کروں گی اور ہاں اب میں جارہی ہوں نیچے فضول باتوں میں میرا وقت خراب کر رہے ہیں ۔
حرم الٹے سیدھے ہاتھ نچاتی اسے اپنی طرف سے بہت تگڑاجواب دے کر کمرے سے باہر نکل گئی تھی جبکہ اس کے جاتے ہی یشام کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ بکھر گئی تھی اور وہ اس کی محبت محسوس کرکے سرشار ہوا تھا
میری معصوم سی لڑاکا بیوی ۔وہ زیر لب بڑبڑاتے ہوئے اس کے واپس آنے کا انتظار کرنے لگاتھا ۔
°°°°°°
زریام آپ کو بالکل بھی بخار نہیں ہے ۔اس نے تیسری چوتھی بار اس کے ماتھے کو چھوا تھا شاید کہیں سے ہلکا پھلکا سا گرم محسوس ہو جائے لیکن اسے بخار بالکل بھی نہیں تھا
وہ پتا نہیں کیوں کب سے اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھا اور خود بیڈ پر الٹا لیٹا ہوا اسے کہہ رہا تھا کہ وہ بیمار ہے اسے سخت بخار ہے
چپ رہو تم بیوی جب میں تمہیں کہہ رہا ہوں کہ میں بیمار ہوں تومیں بیمار ہوں تمہیں کیوں سمجھ میں نہیں آرہا بہت جلدی ہےنیچے جا کر سب کوخوش کرنے کی میری خدمت کرو
شوہر بیمار ہے اور تمہارے سیر سپاٹے ختم نہیں ہو رہے وہ غصہ ہونے لگا تھا
خدایا ذریام مجھے سیرسپاٹے کرنے کا کوئی شوق نہیں ہے مجھے نیچے جا کر کام کرنا ہے آپ سمجھ کیوں نہیں رہے ہیں ۔کیا سوچ رہے ہوں گے سب کے میں نوبجے تک کمرے میں گھسی ہوئی ہوں ۔
تومیں بھی تو نو بجے تک کمرے میں گھسا ہوا ہوں تمہارا شوہر بیچارہ بیمار پڑا ہے اور تم اس کا خیال کرنے کے بجائے پتا نہیں کس کس کے بارے میں سوچ رہی ہووہ اسے شرم دلانے کی کوشش کر رہا تھا ۔
اگر آپ بیمار ہوتے تو میں نہیں جاتی آپ کے پاس سے لیکن آپ کہیں سے بیمار نہیں ہیں ۔
اچھا تو مطلب میں جھوٹ بول رہا ہوں وہ اسے گھورتے ہوئے بولا
میں نے یہ کب بولا کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں میں بس یہ کہہ رہی ہوں کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔وہ گھبرا کر بولی ۔کہیں اب وہ اس بات پر اس سے خفا نہ ہو جائے
سمجھ گیا میں بیوی سب سمجھ گیا بیمار شوہر سے زیادہ تمہیں جانے کی جلدی ہے لوگوں کی باتوں کی پرواہ تو تم یہاں کیوں بیٹھی ہو جاو چلی جاؤ ۔کیا فرق پڑتا ہے یہاں شوہر بخار سے تڑپ تڑپ کر بے ہوش ہو جائے ۔
بخار سے تڑپنے کے لیے بخار ہونا چاہیے عمایہ نے اس کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا جس پر زریام نے اسے گھور کر دیکھا وہ گھبرا کر نظریں جھکا گئی ۔
تمہیں جانا ہے نا تو جاو چلی جاؤبیکار میں میرے منہ لگنے کی ضرورت نہیں ہے میں پہلے ہی بیمار ہوں ۔
یہاں گھر میں کوئی اور بیمار ہوتا تو میڈم بیٹھ کر اتنی خدمتیں کر رہی ہوتی اور یہاں شوہر نیم بے ہوش حالت میں پڑا ہے کسی کو پروا ہی نہیں ۔
نیم بےہوشی کی حالت ایسی نہیں ہوتی عمایہ کی زبان میں کھجلی ہوئی تھی زریام نے ایک بار پھر سے اسے گھورا مطلب وہ اس کی کسی بات کو سچا سمجھنے کو تیار نہیں تھی۔
نکلو ابھی کے ابھی نکلو اس کمرے سے تم اس قابل ہی نہیں ہوکہ میں تم سے اپنی خدمتیں کرواوں۔شام تک یہ خوبصورت شکل مجھے مت دکھانا ۔صرف رات میں دکھانا ۔جاؤ نکلو اس کمرے سے ابھی تو میں تمہارے ساتھ بالکل نہیں رکنا چاہتا وہ اسے کمرے کے دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تھا ۔
اچھا نہ میں خیال رکھ رہی ہوں آپ کا۔آپ کی خدمت کر رہی ہوں آپ ۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ضرورت نہیں ہے احسان عظیم کرنے کی میں یہی بخار میں تڑپ کر نیم بےہوش سے بےہوش بھی جاؤں تو بھی واپس اس کمرے میں نہ آنا گیٹ آؤٹ دفع ہو جاؤ میں اپنے بخار کے ساتھ خود اپنا خیال رکھ سکتا ہوں مجھے بیوی نہیں چاہیے ۔
تم جاکر باقیوں کی خدمت کرو ۔اس کا اشارہ اب بھی کمرے کے دروازے کی طرف تھا ۔
چلیں ٹھیک ہے میں جارہی ہوں آپ غصہ مت ہوں نا اس نے آخر بات ختم کرتے ہوئے اٹھنا چاہا تو زریام کا منہ کھل گیا ۔
مطلب اب تم بیمار شوہر کو اس حالت میں چھوڑ کرنے جا رہی ہو شرم سے ڈوب مرو بیوی وہ کسی بھی حالت میں خوش نہیں ہو رہا تھا عمایہ کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔اس طرح کی سچویشن کو پہلی دفعہ فیس کر رہی تھی
ذریام میں جاؤں کہ نہیں جاؤں گا بات کلیئر کر دیں نا ۔وہ تنگ آکر بولی ۔
یہاں آکر میرا سر دباؤمیری نکمی بیوی ۔وہ اسے کسی بھی قیمت پر خود سے دور نہیں جانے دینا چاہتا تھا آج اسے چھٹی تھی اور وہ بالکل بھی بیمار نہ ہونے کے باوجود بہانے سے بیمار ہو کر اسے اپنے قریب رکھ رہا تھا ۔
وہ اس کے پاس آتے ہوئے اس کے سرہانے کے پاس بیٹھ کر آہستہ آہستہ اس کا سر دبانے لگی بس وہ خوش ہو جائے اس سے۔ جب کہ زریام نے اس کی گود میں اپنا سر رکھتے ہوئے اس کے گرد اپنی باہوں کا حصار بنا لیا تھا ۔
اس طرح سے میں سر نہیں دبا سکتی پیچھے ہٹیں پلیز آپ صرف سردبائیں میرے ساتھ فری نہ ہوں سمجھیں ۔
وہ اس کے غصے کی وجہ سے ہلکی سی ہی مگر اس سے ناراض تو تھی ۔
میں تو ایسے ہی سر دبواتا ہوں فری ہوکر اس کا ہاتھ اس کی کمر پر بے لگام گردش کر رہا تھا ۔
جب باہر سے امی کی آواز آئی ۔
عمایہ بچے کہاں رہ گئی تم وہ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے بولی تو زریام نے اس کی گود سے سر نہیں اٹھایا تھا ۔
کیا ہوا میرا بچہ تم ٹھیک تو ہو اسے اس طرح سے ذریام کا سر دباتے دیکھ وہ پریشانی سے اس کے پاس آئی تھیں۔
امی ان کی طبیعت خراب ہے سر میں درد ہے میں ان کا سر دبا رہی ہوں ۔اس نے شرمندگی سے اس کا سر اپنی گود سے ہٹانا چاہا تھا لیکن وہ آنکھیں بند کیے پرسکون پڑا تھا ۔
ہائے اللّه میرے بچے کی طبیعت خراب ہے عمایہ بیٹا تم اس کا سر دباؤ میں اس کے لئے چائے بنا کر لاتی ہوں ۔کہیں بخار ہی نہ ہو گیا ہو۔امی پریشانی سے کہتی واپس باہر جا چکی تھیں جبکہ زریام نے مسکراتے ہوئے ایک بار پھر سے اس کے گرد اپنی بانہوں کا حصار مضبوط کر لیا تھا ۔
آپ بہت شیطان ہیں زریام ۔اس کا ہاتھ پھر سے اپنی کمر پر محسوس کرتے ہوئے وہ بولی ۔
شرم کرو بیوی شوہر کو شیطان نہیں کہتے اللّه ناراض ہوتا ہے ۔وہ شرارت سے شرم دلاتے بولا جبکہ اس کے شرارتی انداز پر وہ بھی مسکرا دی تھی
°°°°°
اپنا خیال رکھیے گا اور مجھے بہت سارا مس کیجئے گا میں جلدی واپس آ جاؤں گی ہم اندھیرا ہونے سے پہلے لوٹ آئیں گے ۔
وہ ہلکی پھلکی تیاری کے ساتھ اس سے کہہ رہی تھی جو کب سے بیٹھا صرف اسی کو ہی دیکھے جا رہا تھا وہ بے حد حسین لگ رہی تھی ۔
میں نہیں رکھ رہا نا خیال یہ تو تمہارا فرض ہے نا باقی حق تو بڑے اچھے سے جتاتی ہو وہ صبح والی بات یاد کرتے ہوئے بولا ۔جبکہ حرم کے چہرے پر سرخی بکھرگئی۔
جلدی واپس آ کر اپنا فرض نبھاو ۔اس نے شرارت سے کہا تو حرم پیاری سی مسکان کے ساتھ مسکرا دی۔
میرے ساتھ رہ کر آپ بالکل میرے جیسے ہوتے جا رہے ہیں بہت اچھی بات ہے میں آپ کا خود خیال رکھوں گی آپ کو اپنا خیال رکھنے کی ضرورت نہیں ہے بس مجھے مس کیجئے گا ۔
اس نے اس کے پاس آتے ہوئے کہا ۔اور اس کے ساتھ بیٹھ کر اس کے سینے کے ساتھ لگتے ہوئے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے گرد پھیلا کر تھام لیا ۔
میں بہت پیاری ہوں نہ۔۔۔۔؟وہ آنکھیں بند کیے اس سے پوچھ رہی تھی اس کے انداز پر مسکرا دیا ۔
اگر تم تعریف سننے کے موڈ میں ہو تو جانے کا ارادہ کینسل کر دو میں تم سے وعدہ کرتا ہوں میں تمہاری بہت ساری تعریف کروں گا ۔اس کی گرد اپنی باہوں کا حصار تنگ کرتے ہوئے اس نے اس کی گردن پر اپنی گرم سانسوں کا لمس چھوڑا تھا ۔
اور اس کی اس حرکت نے حرم کو کانپنے پر مجبور کر دیا ۔
ارادہ کینسل تو نہیں ہو سکتا آپ ابھی ہلکی پھلکی تعریف کردیں دیکھیں میں کتنی پیاری لگ رہی ہوں۔اس نے بڑی معصومیت سے اس کی توجہ اپنی طرف دلائی تھی جب کہ وہ تو پہلے سے ہی پورا کاپورا ہی اس کے سحر میں قید تھا ۔
چلو کیا یاد کرو گی ۔بہت خوبصورت لگ رہی ہو ۔اب مزید میں تمہاری تعریفیں کل کروں گا ڈیٹ پر اس نے آہستہ سے اس کے چہرے کے گرد میں ہاتھ پھیلاتے ہوئے اس کے ماتھے کو چومااور پھر وہ جو اس کی قید سے آزاد ہونے والی تھی کہ وہ اس کے لبوں پر اپنے لب رکھ کر اس کی راہ فرار بند کر گیا ۔
اب جو حق حاصل ہے کبھی کبھی لےلینا چاہیے ۔تمہیں بھی کھلی چھوٹ ہے اور باقی کے حقوق میں کل وصول کر ہی لوں گا وہ ذہ معنی انداز میں بولا
کون سےحقوق ۔۔۔۔؟اس کے ذومعنی انداز نے حرم کو پوچھنے پر مجبور کر دیا تھا ۔
اب وہ تو میں تمہیں کل ہی بتاؤں گا نا بس یہ سوچ لو کہ اب ہم اس رشتے کو مکمل کرنےوالے ہیں ہمیشہ کے لئے ایک دوسرے کے ہونے والے ہیں ۔اب مزید یہ دوریاں ہم میں نہیں رہیں گے ۔
لیکن ہم میں تو کوئی دوریاں نہیں ہیں ہم تو ایک ہی ہیں نااور ہمارا رشتہ بھی مکمل ہے ۔وہ کنفیوز تھی۔
جاؤ وہ سب لوگ جانے کے لیے تیار ہیں اس کے ماتھے کو چومتے ہوئے اس نے بات ختم کر دی تھی ۔
او میں بھول ہی گئی میں جلدی واپس آ جاؤں گی آپ اپنا خیال بالکل مت رکھیے گا وہ میرا کام ہے بس مجھے مس کیجئے گا اس نے جاتے ہوئے اسی کے انداز میں اس کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کمرے سے باہر بھاگ گئی ۔
جبکہ وہ اس کا نرم سا لمس اپنے ماتھے پر محسوس کرتا مسکرا دیا تھا ۔
°°°°°°°
آپ کو یہاں گھمانے کے لیے کوئی نہیں لے کر آیا آپ کو یہاں دیدم آپی سے ملانے کے لئے لائے ہیں اورآپ یہاں کیمرہ لے کر تصویریں کیوں بنا رہے ہیں ۔
ادھر دیں مجھے کیمرا اور ادھر جائیں سب گھر والوں کے پاس حد ہی ہوگئی میرے پلان کا بیڑا غرق کر رہے ہیں ۔وہ صیام کے ہاتھ سے کیمرہ کھینچتے ہوئے غصے سے بولی تھی۔
زیادہ بہانےلگانے کی ضرورت نہیں ہے بھابھی جی آپ یہاں مجھے دیدم سے ملوانے کے لیے نہیں لائی تھی آپ یہاں یشام اور دادا جان کو ایک دوسرے سے باتیں کرنے کا موقع دینے کے لئے مجھے اور باقی سب گھر والوں کو لے کر آئی ہے اور وہاں بچارے ملازموں کو بھی چھٹی کروا دی ۔
اور بیچارے دادا جان پہلے ہی بیمار تھے اور آپ کو یہ غلط فہمی ہے نہ کہ یشام ان کا خیال رکھے گا تو۔اسے دور کر دو وہ ایسا کچھ بھی نہیں کرنے والا پچھتاؤ گی تم اسی لیے تو میں یہاں آنے سے منع کر رہا تھا لیکن تمہارے دماغ میں جو چلتا ہے تو اسی پر مہر لگا دیتی ہو دیکھ لینا یشام دادا جان کا حال بھی نہیں پوچھے گا
اللّه اللّه جب بھی کیجئے گا منہوس بات ہی کیجئے گا یہاں میں صرف دادا جان کے لیے نہیں آئی مجھے پتا ہے میرے شوہر سر بہت اچھے ہیں وہ دادا جان کا بہت خیال رکھیں گے
اور دادا جان زیادہ بیمار نہیں ہیں بلکہ ہلکاسا بخار ہے ان کو اگر گھر میں ملازم ہوتے تو شاید یشام کمرے سے باہر نہیں نکلتے لیکن مجھے یقین ہے جب انہیں پتہ چلے گا کہ گھرمیں دادا جان اور ان کے علاوہ کوئی نہیں ہے تو وہ دادا جان کا خیال ضرور رکھیں گے
اوردوسری بات یہ سب گھر والے نہ آپ کی شادی دیدم آپو سے کروانے کے لیے بالکل سیریس ہیں وہ بہت اچھی ہے میں مذاق کر رہی تھی کہ وہ بوجنی اور چڑیل ہیں ۔
آپ کہیں شادی سے بھاگنے کا پلان تو نہیں بنا رہے ہیں میری باتیں سن کر اس نے اپنے دل کو زبان دی تھی ۔
اب اس حسینہ کے سحر سے بچ کر نکلنا ممکن نہیں ۔وہ پوری طرح دیدم کے نقوش میں کھویا ہوا بول رہا تھا جو دیشم کو جلیس کرنے کے لئے خداش کے آگے پیچھے گھوم رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ دیشم کی نگاہوں کو خود پر محسوس کر کےخداش کے پیچھے چھپ رہی تھی
°°°°°°°
اسے کافی بھوک لگی ہوئی تھی صبح اس نے ناشتہ نہیں کیا تھا ابھی تک کوئی بھی ملازم کمرے میں کھانا دینے کے لیے نہ آیا تو وہ نیچے چلا آیا لیکن پوری حویلی ویران پڑی تھی ۔
یہ کیا گھرمیں تو کوئی بھی نہیں ہے ملازم شاید آج چھٹی پر ہیں چلو کوئی بات نہیں میں کسی ہوٹل چلا جاتا ہوں ۔
ویسے بھی یہاں گھر پر رہ کر کیا کروں گا ۔۔۔۔۔؟وہ کمرے میں آ کر اپنا جیکٹ پہنتا گھر سے جانے کا ارادہ کر چکا تھا ابھی وہ سیڑھیوں پر ہی پہنچا تھا جب اسے کسی کے کھانسنے کی آواز سنائی دی ۔
کون ہے باہر بیٹا ذرا پانی دے جانا ۔اور یہ دیکھ جاؤ خداش نے کون سی دوائی دینے کے لئے کہا تھا ۔دادا جان کی آواز کو وہ پہچان چکا تھا ۔ان کی کمزور سی آواز اس بات کی گواہ تھی کہ وہ بیمار ہیں۔
وہ ان کے کمرے کے آگے سے گزر کر باہر نکل آیا تھا ۔اس نے باہر آکر ہر طرف دیکھا یہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا عجیب تھےسب لوگ اگر وہ بیمار تھے تو ان لوگوں کو جانا ہی نہیں چاہیے تھا
ایسی بھی کیا باہر نکلنے کی دلچسپی تھی کہ بیمار انسان کو چھوڑ کر چلے گئے اور گھر میں کوئی ملازم تک موجود نہیں تھا عجیب لاپروا لوگ تھے ۔
اسے ان لوگوں کی یہ حرکت بہت بری لگی تھی وہ واپس اندر آیا ۔اور ہلکے سے دروازے کو کھول کر کمرے کی طرف دیکھا وہ بیڈ پر لیٹے ہوئے تھے اسے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں چمک سی آ گئی تھی ۔
یش۔۔۔۔۔۔۔وہ بے حد خوشی سے اٹھ کر بیٹھنے لگے تھے جبکہ وہ کافی اکھڑے ہوئے انداز میں بولا ۔
باہر کوئی بھی نہیں ہے نہ کوئی ملازم ہے نہ ہی کوئی گھر کا فرد میں ہی تھا اور میں بھی جا رہا ہوں اب باہر میں خداش کو فون کر دیتا ہوں وہ کسی ملازم کو بھیج دے گا ۔
اس نے کہہ کر دروازہ بند کرنا چاہاتھا ۔جب اسے ان کی آواز سنائی دی
یش پانی۔۔۔۔۔۔” اس کے ہاتھ رک گئے تھے اس کا دل چاہا کہ وہ کہہ دے کہ ملازم آ کر پانی دے دے گا لیکن وہ اتنا بے مروت نہیں تھا اس کی ماں نے اس کی ایسی پرورش تو نہ کی تھی کہ وہ ایک بیمار انسان کو پانی تک نہ پلاتا ۔
وہ جلدی جلدی قدم اٹھاتا اندر داخل ہوا کچھ فاصلے پر کھڑے پانی کے جگ سے پانی نکالتا ہوا وہ ان کے پاس رکھ چکا تھا جب کہ دادا جان جو اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس دیکھ اپنا ہاتھ اوپر کر چکے تھے گلاس تھامنے کے لیے وہ ہوا میں ہی رہ گیا ۔
اس کا ارادہ باہر نکل جانے کا تھا جب اس کا دھیان سامنے پڑی میڈیسن پر گیا ۔
یہ میڈیسن کھانی ہے شاید آپ نے دوپہر کے کھانے سے پہلے اسے ان کی تھوڑی دیر پہلے والی بات یاد آئی جب وہ پوچھ رہے تھے کہ خداش نے کونسی میڈیسن کھانے کے لئے دی تھی ۔
اس میڈیسن کے بعد کھانا کون دے گا ۔۔۔۔؟ وہ کافی اکھڑے ہوئے انداز میں پوچھ رہا تھا ۔
میں لے لیتا ہوں بیٹا تھوڑی دیر میں ملازم آجائے گا ۔
یہ میڈیسن کھانے کے فورا بعد آپ نے کھانا کھانا ہے لیجئے یہ میڈیسن میں کچن میں دیکھ کر آتا ہوں کچھ کھانے کے لئے ہے کہ نہیں ۔
وہ ایک گولی نکال کر ان کی ہتھیلی پر رکھتا پانی کا گلاس انہیں تھاما کر باہر نکل گیا تھا جب کہ دادا جان سے یہ خوشی سنبھالی نہیں جا رہی تھی کہ ان کا پوتا ان سے باتیں کر رہا ہے
°°°°°°
